मानवतावाद की कल्पना और सूफीमत : मुफ्ती मोहम्मद हबीबुर रहमान अल्वी मदारी

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

تصور انسانیت پروری اور صوفی ازم 
مفتی محمد حبیب الرحمن علوی مداری 
ترجمان خانقاہ مداریہ مکن پور شریف 
وخادم افتاء جامعہ عزیزیہ اہلسنت ضیاء الاسلام دائرۃ الاشرف جھہراؤں ضلع سدھارتھ نگر
حضورسیدالرسل دانائے سبل سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ذات بابرکات ہی شریعت وطریقت معرفت وحقیقت کا مصدر ومنبع ہے۔اسی لئے جملہ متلاشیان رضائے الہی کے لئے بذریعۂ قرآن حکم رحمن ہوا۔’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ‘‘یعنی رسول گرامی وقارعلیہ السلام کی زندگی میں تمہارے لئے بہتر نمونۂ عمل ہے۔چنانچہ حاملین دین مصطفوی میں جس گروہ جماعت نے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی کامل اتباع کی آسان لفظوں میں ہم اس گروہ و جماعت کو صوفیائے کرام کا نام دے سکتے ہیں۔اس مقدس جماعت کے علاوہ روئے زمین پر میرے مطالعہ کی روشنی میں کوئی دوسری جماعت اس طرح سے وجود میں نہیں آئی کہ جس نے مکمل طور پر اتباع رسول گرامی وقار سے اپنے آپ کو مشرف وممتاز کیا ہو۔
مناسب لگتا ہے کہ اپنی بات کو اکابرین امت کے اقوال سے مبرہن کروں۔امام غزالی اپنی کتاب المنقزمن الظلال میں فرماتے ہیں:
’’مکمل یقین واعتماد کے ساتھ مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ صوفیاء کرام ہی اللہ کے راستے پر چلنے والے ہیں ان کی سیرت تمام سیرتوں سے بہتر ہے ۔ان کا طریقہ تمام طریقوں سے سیدھا ہے ان کا اخلاق تمام لوگوں کے اخلاق سے زیادہ پاک ہے بلکہ اگر تمام عقلاء کی عقل کو جمع کیا جائے اور تمام حکماء کی حکمت کو اکٹھا کیا جائے ،علماء کے علم کو یکجا کیا جائے تاکہ صوفیائے عظام کے طریقہ کے متبادل کوئی طریقہ تلاش کیا جا سکے۔جو ان سے بہتر ہو تو لم یجدوا الیہ سبیلا یعنی اس طرح ہو ہی نہیں سکتا ۔کیونکہ ان کی تمام حرکات وسکنات ظاہری ہوں یا باطنی نور نبوت سے منور ہیں اور پورہ کرۂ ارض پر نور نبوت کے علاوہ کوئی ایسا نور نہیں جس سے روشنی حاصل کی جا سکی۔‘‘
حضور سیدنا ذوالنون مصری فرماتے ہیں’’ھم قوم آثروااللہ عزو جل علی کل شئی ‘‘یعنی صوفیاء وہ ہیں جو ہر چیز سے زیادہ اللہ کی رضا کو ترجیح دیتے ہیں۔صوفیاء کرام کے تعلق سے حضرت شیخ شبلی فرماتے ہیں کہ ’’منقطع عن الخلق ومتصل بالحق‘‘یعنی صوفی مخلوق سے آزاد اور خدا سے مربوط ہوتا ہے۔
حضرت ابو علی قزوینی ارشادفرماتے ہیں کہ التصوف ھو الاخلاق المرضیۃ‘‘یعنی تصوف پسندیدہ اخلاق کے اختیار کرنے کا نام ہے۔
حضرت سیدنا ابوالحسن نوری فرماتے ہیں ’’التصوف ترک کل حظ للنفس‘‘یعنی تصوف تمام لذات انسانی کو ترک کردینے کا نام ہے۔
مذکورہ بالا اکابرین امت اساطین اسلام کے اقوال وارشادات کی روشنی میں اہل تصوف کے بابت ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جو شخصیت تمام اخلاق رذیلہ قبیحہ سے دور ہو کر لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ کو اپنا آئیڈیل بنا چکی ہو ’’قد افلح من تزکیٰ ‘‘کا مفہوم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں عملی طور پر داخل کر چکی ہو۔
حدیث رسول مقبول ’’الخلق عیال اللہ ‘‘کا صحیح مفہوم سمجھ کر اس کے رواج ونفاذ کا داعی بن گئی ہو ’’قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العٰلمین کے مفہوم ومقتضیٰ کو اپنی زندگی میں داخل کر چکی ہو ’’انک لعلیٰ خلق عظیم ‘‘کو صحیح طریقے سے سمجھ چکی ہو وہی مرد کامل صوفی ہے۔
صوفی قول رسول اتصفوا بصفات اللہ وتخلقواباخلاق اللہ کو ہر وقت پیش نگاہ رکھتا ہے۔
قرآن عظیم کی آیات مبارکہ کے جملہ مفاہیم و مطالب سے صوفی کو واقفیت وآگاہی ہوتی ہے ۔احادیث رسول کے تمام تقاضوں سے صوفی کو کلی طور پر آشنائی ہوتی ہے۔سیرت نبوی کا ہر پہلو ہمیشہ صوفیائے کرام کو مستحضر رہتا ہے۔یہی وجوہات ہیں کہ صوفی سب کو سمجھ لیتا ہے۔مگر صوفی کو سب نہیں سمجھ پاتے۔
دین بر حق کی توسیع وتبلیغ ایک صوفی جس احسن پیرائے سے کرتا ہے وہ دوسروں سے متوقع ہی نہیں ہو سکتی ۔یہی وجہ ہے کہ مذہب اسلام کی اشاعت میں سب سے زیادہ حصہ صوفیائے کرام کا رہا ہے۔اور آج بھی یہی جماعت صحیح معنوں میں تبلیغ وارشادکا کام باندازاحسن انجام دے رہی ہے۔جس کی زندہ مثال خود یہ بورڈ ہے۔جس کی سرپرستی حضور اشرف ملت اور دیگرمشائخ عظام فرمارہے ہیں۔
صوفیائے کرام نے پوری انسانی برادری کی تقسیم صرف دو خانوں میں فرمائی ہے۔
(۱) امت اجابت
(۲) امت دعوت
امت دعوت کے زمرے میں جتنی بھی اقوام اور اہل مذاہب آتے ہیں ان تک پیغام دین حنیف پہونچانا صوفیاء کا نصب العین رہا ہے اور یہ بالکل طے شدہ امر ہے کہ کسی بھی دعوت کی دائمی قبولیت فقط حسن اخلاق سے ہی متصور ہے۔بنا بریں صوفیائے اہل صفا انسانی برادری میں کسی بھی بھید بھاؤ کے قائل نہیں رہے۔اور بلا تفریق اپنا فیضان ہر مذہب وملت کے ماننے والوں میں تقسیم کیا اور آج بھی ان کا سلسلۂ فیض رسانی اسی شان و بان کے ساتھ ان کے مزارات مقدسہ سے بھی جاری و ساری ہے۔بزرگان دین کی خانقاہیں اس دور نفور میں بھی بلا تفریق مذاہب تمام قسم کے انسانوں کے لئے قبلۂ حاجات ہیں۔
الخلق عیال اللہ کے پیش نظر صوفیائے کرام کا موقف یہ ہے کہ تخلیق وتربیت فیض وعطا میں جس طرح اللہ تعالیٰ عاصی و مطیع کا فرق نہیں رکھتا تو تم بھی یہ فرق نہ رکھو ۔چنانچہ اس پہلو سے مذہب اسلام کی وہ شبیہہ سامنے آتی ہے کہ جس کی مخالفت کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا ہمارے اندازے کے مطابق اگر اس نقطۂ نظر سے عالمی پیمانے پر دعوت اسلام کو پیش کیا جائے تو دوسری قومیں غیر معمولی طور پر مذہب اسلام سے متاثر ہوں گی ۔صوفیاء کی دعوت کو بغور دیکھیں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ پہلے دلوں سے الحاد کو کھرچتے ہیں پھر شرک کو مٹاتے ہیں پھر کفر کا صفایا کرتے ہیں پھر کہیں جاکر احکام ظاہری کی دعوت دیتے ہیں اور پھر ایک دن وہ بھی آتا ہے کہ تمام باطنی کدورتوں کو صاف کر کے انسان کو ملکوتی صفات کا پیکر بنادیتے ہیں ۔اورمذکورہ تمام باتیں حضور شارع علیہ السلام کی مکی اور مدنی زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد اسوۂ نبوی میں بحرف جلی ہمیں بھی نظر آتی ہیں۔
آج جس شدت کے ساتھ دعوت وارشاد کا فقدان محسوس کیا جا رہا ہے اور نفرتیں عداوتیں سر چڑھتی جا رہی ہیں تو اس میں کہیں نا کہیں ہم سے بھی چوک ہو رہی ہے ۔ہم نے اسلام کی کشادگی کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے اور فتویٰ بازوں کے فتوؤں کو ہی کل اسلام سمجھ لیا ہے ۔حالانکہ اصل اسلام کا سر چشمہ ذات نبوی ہے اور اس ذات کامل نے ہمیں وہ اسلام پیش کیا ہے کہ جس میں ایک کتے کے ساتھ بھی حسن سلوک کو موجب رحمت ومغفرت بتایا گیا ہے۔حقوق انسانی کی جو تاکید مذہب اسلام نے کی ہے وہ اپنی مثال فقط آپ ہے۔نمونے کے طور پر آپ ملاحظہ کریں کہ مذہب اسلام نے غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کو ضروری قرار دیا ہے،چنانچہ اس ضمن میں یہ واقعہ کافی دلچسپ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر کے یہاں بکری ذبح ہوئی تو آپ نے گھر والوں میں سے ایک سے دریافت کیا کہ ہمارے فلاں یہودی پڑوسی کو اس میں سے کچھ بھیجا ہے؟اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جبرئیل مجھے پڑوس کے سلسلے میں اس قدر تاکید کرتے تھے کہ مجھے خیال ہوتا تھا کہ وہ اسے وارث نہ بنادیں۔(ابو داؤد،کتاب الادب ،باب فی حق الجوار )
حضرت سیدنا با یزیدبسطامی کے حوالے سے یہ واقعہ بھی منقول ہے کہ آپ کا ایک پڑوسی مجوسی تھا جس کے یہاں ایک چھوٹا سا شیر خواربچہ تھا ایک بار وہ سفر میں گیارات میں اندھیرے کی وجہ سے اس کا بچہ روتا تھا آپ روزآنہ اس کے گھر چراغ رکھ آتے جس کی روشنی میں بچہ کھیلتا رہتا ۔جب وہ مجوسی سفر سے گھر واپس آیا تو اس کی بیوی نے شیخ کا حسن سلوک بیان کیا مجوسی نے کہا افسوس شیخ کی روشنی میرے گھر آئے اور ہم تاریکی میں رہیں وہ مجوسی اسی وقت آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہو گیا۔(تذکرۃ الاولیاء شیخ فرید الدین عطار)
مذکورہ بالا واقعات سے مذہب اسلام میں انسانیت پروری و آدمیت نوازی کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔
ان واقعات سے ہٹکر ہم جب ہندوستان کی تمام درگاہوں کاجائزہ لیتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات بھی کھل کر آجاتی ہے کہ تمام خانقاہوں میں صوفیائے کرام نے مخلوق الہیہ کی پرورش کے لئے لنگر خانے قائم فرمائے اور اس میں بلا تفریق مذہب وملت ہر انسان کو کھانے کی ا جازت دی اورخانقاہوں میں برادران وطن کا خیال کرتے ہوئے گوشت اور مچھلی پکانے پر پابندی بھی عائد کر دی گئی تاکہ ہر مسلم و غیر مسلم بلا تکلف خانقاہ کے لنگر سے اپنی بھوک مٹا سکے۔
حضرات!آج پھر ضرورت ہے کہ صوفیائے کرام کے نقش قدم پر چل کرمذہب مقدس کی ترویج واشاعت کی جائے اور اسلام کے اندر پیدا کی گئی تنگیوں کا خاتمہ کرکے پھر اسکی صحیح وسعت سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔تاکہ امن وامان ،محبت ورواداری کی ماحول سازی میں بھر پور طریقے سے تعاون مل سکے۔