موجودہ مشکل حالات میں سیرت عبد القادر جیلانی ؓ امید کی ایک کرن


آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ کے زیر اہتمام منعقد یوم عبد القادر جیلانی میں علماءکا اظہار خیال
مولانا مقبول احمد سالک مصباحی نے کہا کہ تصوف حالات کے دھارے میں بہنے اور کمزوری وبزدلی کی کمزور تاویلات کانام نہیں،تصوف درحقیقت اللہ کے ماسوا کسی بھی شئی سے نہ ڈرنے کا کانام ہے،صوفی کی آنکھوں میں اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوتا،خواہ ارباب اقتدار کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو،حضرت شیخ عبد القادر جیلانی اپنے کردار وعمل سے امت محمدیہ کو یہی پیغام دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ حضرت غوث اعظم کی اکیانوے سالہ زندگی اس پر شاہد عدل ہے کہ آپ کسی بھی سلطان وشہنشاہ کے سامنے کبھی نہیں جھکے،بلکہ اسے اپنی خداد دعوتی کردار وعمل سے مرعوب ومسخر کردیا۔قادری سلسلہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے مریدین وخلفانے بیت المقدس کی آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے،اس سے اس سلسلہ کی ڈائنامک خصوصیت کا پتہ چلتا ہے۔اور یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اصؒ مجاہد فی سبیل اللہ صوفیا اور اولیا اللہ ہی ہیں جو نفس امارہ اور شیطانی طاقتوں کے خلاف جہاد کرتے رہتے ہیں۔

مولانا رئیس ازہری (اسلامی اسکالر)نے کہا کہ اگر آج مسلمانوں کو اپنی زندگی کامیاب بنانی ہے تو اسے سرکار غوث اعظمؓ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ آپ نے تعلیمات سرکار غوث اعظم ؓ کی جھلکیاں پیش کیں کہ توحید پر جمے رہو، توحید کے رنگ میں رنگے رہو، توحید کی رسی مضبوطی سے پکڑے رہو کیونکہ توحید ہی سرمایہ نجات ہے۔آپ نے مزید کہا کہ اولیاء کرام کی مجلسوں میں شرکت کرنے سے تزکیہ نفس ہوتا ہے۔

مولانا مختار اشرف اسلامی اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ قرآن پاک نے سچوں کے ساتھ رہنے کا حکم کیوں دیا ہے؟اس کانکتہ یہ ہے کہ علم کوئی بھی شخص حاصل کرکے علامہ بن سکتا ہے،مگر ضروری نہیں کہ وہ سچا بھی ہو۔صحبت سچوں کی ہی اکسیر ہے، سرزمین ہند میں سچوں کے امام حضرت خواجہ معین الدین چشتی ہیں،ان سے قطب الدین جڑے تو بختیا ر کاکی ہوگئے،فریدالدین ان سے جڑے تو گنج شکر ہوگئے،ان سے نظام الدین جڑ ے تو محبوب الہی ہو گئے،سید اشرف کسی سچے کی صحبت میں بیٹھے تو مخدوم سمناں ہوگئے اور یہ سلسلہ خیرو برکت اسی طرح رواں دواں رہا۔انھوں نے کہا کہ آج ملک میں مسلمانوں کے خلاف جو ماحول بن رہا ہے تو یہ ہماری دعوتی کوتاہیوں کی وجہ سے ہے،در اصل فتوی تصوف پر غالب آگیا،حکمت پرعلم غالب آگیا،صوفیا پس منظر میں چلے گئے،سماج پر ظاہر پرست علما غالب آگئے اور سب کچھ بدل کر رکھ دیا،ضرورت اس بات کی ہے کہ فتوی پر دعوت کو غالب کیا جائے،اور صوفیا کے طریقہ دعوت کو عام کیاجائے۔

سید شاداب حسین رضوی رکن دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی اورجنرل سکریٹری آل انڈیا علما ومشائخ بور ڈ نے کہا کہ موجودہ حالات اگر چہ مشکل ہیں مگر ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ انتہائی دانش مندی اور صبر ورضاسے اس کا سامنا کرنا ہے،بالخصوص جذباتی نعروں سے احتراز کرنا ہے،قانونی چارہ جوئی اور عوامی رائے عامہ کی بیداری،اور مسائل کی گہرائی تک جانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ حالات بد سے بدتر ہوسکتے ہیں مگر مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا۔

مولانا عظیم اشرف نے کہا کہ مسلمانوں کی افتا دطبع یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی سے مسائل کا حل چاہتا ہے جب کہ یہ ناممکن ہے،حل مسائل کے لیے قرآن پاک نے ہمیں جو گائیڈ لائن دیا ہے اس کی اتباع ضروری ہے،قرآن نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ سربلندی اور کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان اللہ سے ڈرتا رہے اور سچوں کے ساتھ رہے،انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات کی تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے حالات خوبدلیں،بد اعمالیوں،بالخصوص کبیرہ گناہوں سے بچیں،صوفیا کرام خاص کر حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کی سیرت طیبہ کو اپنے لیے مشعل راہ بنائیں۔
محمد حسین شیرانی نے میٹنگ کا ایجنڈا رکھا جس پر ممبران نے کھل کر اپنی رائے کا اظہا رکیا۔میٹنگ میں خاص کر موجودہ حالات کے تناظر میں مسلمانوں کا رویہ کیا ہو،اس پر بھی غور وخوض ہوا۔
علما ودانشوران نے ان خیالات کا اظہار آل انڈیا علما ومشائخ بور ڈ کی مرکزی آفس میں منعقدہ ماہانہ مشاورتی نشست میں کیا۔نشست کا آغازتلاوت کلام پاک سے مولانا آصف رضانے کیا۔بعدہ سید محمد ریحان (جامعہ ملیہ اسلامیہ)اور حافظ قمر الدین (نیا سویرا نیوز پورٹل)نے نعت پاک پیش کی۔
اس موقعہ سے حاضرین کی ضیافت کا اہتمام بھی کیاگیا۔حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی گیارہویں کی مناسبت سے ایصال ثواب کا اہتمام بھی کیاگیا۔صلاۃ وسلام اور مولانا سالک مصباحی کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔
شرکاء میں جناب ایڈووکیٹ تہذیب الرحمن،مولانا مظفر ازہری،مولانا محمد قاسم، ماسٹر شبر خصالی،عظمت علی،محمد اشرف امان الرحمن وغیرہ موجود رہے۔

By: Maulana Maqbool Ahmad Salik Misbahi