कोरोना वायरस से ज़्यादा खतरनाक है नफरत का वायरस : सय्यद मोहम्मद अशरफ

17 मार्च, 2020 महराजगंज
आल इंडिया व मशाइख़ बोर्ड के राष्ट्रीय अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफी फ़ोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने मीडिया से बात करते हुए कहा कि कोरोना वायरस से अधिक खतरनाक नफरत का वायरस है।
उन्होंने कहा कि हम कोरोना से बचने के लिए मास्क तो पहन रहे हैं लेकिन नफरत से बचने के लिए ज़हरीली जुबानों को नहीं रोक रहे हैं,हम वायरस से बचने के लिए बार बार हैंडवाश या साबुन से हाथ धो रहे हैं लेकिन उन हाथों को लोगों की मदद के लिए नहीं बढ़ा रहे, खांसते या छींकते वक़्त बीमारी के डर से मुंह को ढाप रहे हैं लेकिन किसी जरूरतमंद के कपड़ों का इंतजाम नहीं कर रहे।
हज़रत ने कहा कि दुनिया कोरोंना से एकजुट होकर लड़ लेगी इसकी दवा बनाकर इसे हरा भी देगी लेकिन इससे ज़्यादा खतरनाक बीमारी का इलाज होते हुए भी इसे खतम करने को तैयार नहीं है।
जबकि सिर्फ एक मुस्कुराहट इस वायरस से बचा सकता है,एक ख़ामोशी,इंसाफ और लोगों की मदद करने का जज्बा इसका इलाज है अगर सब इस काम में लग जाएं तो इस वायरस को खतम कर इसपे जीत हासिल की जा सकती है।
उन्होंने कहा कि हम कोरोना को सुन्नते रसूल पे अमल कर हरा देंगे क्योंकि डॉक्टर जो बचाव के तरीके बता रहे हैं वह नबी की सुन्नत है इसी तरह हम नफरत के वायरस को भी नबी की सुन्नत पर अमल कर हरा सकते हैं जो सूफिया ने करके दिखाया और संदेश सुनाया कि नफरत किसी से नहीं मोहब्बत सबके लिए।

हलाल रिज़्क़, इंसाफ और मोहब्बत से बचेगी दुनिया : सय्यद मोहम्मद अशरफ

उलमा व मशाइख बोर्ड अध्यक्ष की कोरोना वायरस से सावधान रहने की अपील!

15 मार्च रविवार,सुनौली
आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड के राष्ट्रीय अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफी फ़ोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने कल सुनौली नेपाल बार्डर पर एक धर्म सभा को संबोधित करते हुए मौजूदा समय में दुनिया पा कोरोंना वायरस के खतरे पर बात करते हुए कहा कि “हलाल रिज्क,इंसाफ और मोहब्बत से बचेगी दुनिया”!
हज़रत ने कहा कि हमारे पैदा करने वाले रब ने हमें बता दिया कि हम क्या खा सकते हैं और क्या नहीं जब हम उससे मुंह मोड़ेंगे तो इस तरह की मुसीबत में गिरफ्तार हो जाएंगे,सिर्फ खान पान से ही नहीं बल्कि इंसाफ न करने पर भी ऐसी स्थिति उत्पन्न होगी दुनिया तरह तरह की मुसीबत में फंसती जा रही है तरक्की के नाम पर रोज इंसानियत को नेस्तनाबूद करने वाले हथियारों को बनाया जा रहा है जिस हथियार से दुनिया को सबसे ज़्यादा नुक़सान पहुंच सकता है जिससे सबसे ज़्यादा जाने जा सकती है उसे सबसे बेहतर हथियार माना जा रहा है और उस मुल्क को सबसे ज़्यादा विकसित राष्ट्र माना जा रहा है,जबकि होना तो यह चाहिए था कि सबसे ज़्यादा विकसित मुल्क उसे मना जाए जहां इंसान की जिंदगी को सबसे ज़्यादा बेहतर करने पर काम हो,जहां इंसाफ का निज़ाम कायम हो,और सबसे अच्छा हथियार वह हो जिससे सबसे काम इंसानी जानो का नुकसान हो।
उन्होंने कहा कि दुनिया आज कोविड19 की वजह चीन के लोगों के गलत खान पान को मान रही है चमगादड़ को इसका मुख्य कारण माना जा रहा है लेकिन इसी खतरे को आज से 1500 साल पहले हमारे नबी ने बता दिया था और सबको यह बता दिया कि क्या खाया जा सकता है और क्या नहीं अगर नबी की बात पर अमल हो तो मुमकिन नहीं कि इस तरह की बीमारी फैले,सिर्फ इतना ही नहीं इस बीमारी से बचने के जो उपाय डॉक्टर बता रहे थे यह तो सब प्यारे नबी की सुन्नत हैं खांसी अाए तो मुंह ढंक लो छींक अाए तो मुंह ढंक लो हाथ धो वज़ू करो जिससे नांक और मुंह में को गंदगी है साफ हो जाए ।
मुसलमानों को कोरोंना से नहीं अपने रब से डरना चाहिए और अपने रसूल की सुन्नत पर अमल करना चाहिए आप अपने आप इस खतरनाक बीमारी से बच जाएंगे साफ सफाई का ख्याल रखें हाथो को साफ रखें ।
हलाल रिज्क बीमारियों से बचाता है ,वहीं इंसाफ से अमन कायम होता है और अमन होने से तरक्की होती है ,हुकूमत को इंसाफ का निज़ाम कायम करना चाहिए जिस तरह के हालात से मुल्क दो चार है इसमें इंसाफ के जरिए लोगों में भरोसा कायम किया जाना चाहिए और नफरतों को मिटा कर मोहब्बत का वातावरण बनाया जाना चाहिए क्योंकि यदि नफरत नहीं रुकी तो कोरोंना से अधिक घातक साबित होगी और इस वायरस की एक ही वैक्सीन है वह है मोहब्बत।

Yunus Mohani

نئی نسل کو بچانے کے لیےخاندان کی ہر بیٹی کو تعلیم یافتہ بنایا جائے : سید محمد اشرف

عرس اعلی حضرت اشرفی میاں کچھوچھہ شریف کے سالانہ پرگرام میں حضور اشرف ملت کا فرمان
ہر سال کی طرح امسال بھی عالم اسلام کی عظیم ہستی،مجدد سلسلہ اشرفیہ،اعلیٰ حضرت سیدمحمد علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی قدس سرہ کا سالانہ عرس پاک نہایت تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوا جس میں محفل عید میلاد النبی سے خطاب فرماتے ہوئے حضرت اشرف ملت نے کہا کہ اگر امت مسلمہ اپنی آنے والی نسلوں کو بچانا چاہتی ہے تو اسے اپنے گھر کی کم سے کم ایک بچی کو دینی تعلیم وتربیت سے آراستہ کرنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ بعض خلاف اولی مسائل کا سہا را لے کر خواتین کو مکمل طور پر معاشرتی دھارے سے کاٹ کر علاحدہ کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کو دینی مسائل سیکھنے کا موقع کم سے کم ملتا ہے۔اور ہر بچی مدرسہ میں جاکر تعلیم بھی حاصل نہیں کر سکتی ہے اس لیے صنف نازک کو ایساماحول فراہم کرنا ہی ہو گا جس سے وہ دین ومذہب کی سمجھ حاصل کرسکے۔مزارات پر عورتوں کی حاضری تمام فتا وی کے باوجود نہیں رک سکی، لہٰذا اب اس کو روکنے پر قوت صرف کرنے کی بجائے اسے بار آور بنا یا جائے،اوراعراس میں ان کی حاضری کوانھیں دین کی تعلیم وتر بیت سے جو ڑنے کا ایک حسین موقع بنا دیا جائے۔آخر مفتیان کرام عورتوں کے لیے نسواں اجتماعات منعقد کرہی رہے ہیں تو اجتماع کی نیت سے عرس میں جانا کیونکر ممنوع ہو سکتا ہے۔انھوں نے عورتوں کی فعال کا رکردگی کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کے ظالمانہ کالا قانون سی اے اے، این آر سی، اور این پی آر، کی مخالفت کا پرچم جس طبقے نے بلند کیاہے اور قوم وملت کی عزت وآبرو بچائی ہے،اور یہ نتیجہ ہے ان کے دنیا وی تعلیم سے جڑنے کا،اب اگروہی طبقہ دینی تعلیم سے بھی جڑ گیا تو اندازہ کرسکتے ہیں کہ کیسا عظیم الشاان انقلاب آسکتا ہے۔
پروگرام کا آغاز تلاوت کلا م پاک سے ہوا،اس کے بعد محمدثاقب سلمہ متعلم جامعہ اشرفیہ مختا رالعلوم ٹانڈہ اور دیگر مداحان رسالت نے نعت ومنقبت کا نذرانہ پیش کیا۔اس کے بعدمفکر اسلام حضرت مولانا حبیب الرحمن علوی مداری سدھارتھ نگری ایکزیکٹوممبر بورڈ نے اشرف ملت کی قائدانہ صلاحیت کے موضوع پر پرمغز خطاب فرمایا۔اور کہا کہ قائد کے بغٖیر بڑی سے بڑی فوج بھی ناکام ہو جاتی ہے۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر واحسان ہے کہ امت مسلمہ کا یہ مسئلہ حضرت اشرف ملت کے منظر عام پر آنے کے بعد حل ہو چکا ہے،قومی وملی مسائل پر اشرف ملت کی نگاہ بہت باریک ہے،اس لیے پوری قوم کو قائد تلاش کرنے کی بجائے ان کی قیادت پر متفق ہو جاناچاہیے۔اور آل انڈیا علما ومشائخ بور ڈ اس کے لیے سب سے موزوں پلیٹ فارم ہے۔جو پچھلی ایک دہائی سے قوم وملت کی ترجمانی کر رہاہے۔علامہ مداری نے کہا کہ جو لوگ بورڈ کی بے بنیادافوہوں کی وجہ سے مخالفت کررہے ہیں ان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے،اور قوم وملت کے سرمایے کو برباد ہو نے سے بچا ناچاہیے۔یہ ایک سنہرا موقع ہے اس سے فائد ہ اٹھا نا چاہیے۔
اس کے بعد امیرا لقلم حضرت علامہ ومولانا مفتی صوفی مقبول احمد سالک مصباحی بانی ومہتمم جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی،نئی دہلی نے اطاعت امیر کے موضوع پر شاندار خظاب فرمایا اور کہا کہ امت مسلمہ کے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف اطاعت امیر میں ہے۔۴۱سو سالوں سے امت مسلمہ جو انارکی وبے چینی اور افتراق وانتشار کا شکا رہے اس کی بنیا دی وجہ امیر کی عدم اطاعت ہے۔اگر روز اول سے ہی امیر وقت کی اطاعت کی گئی ہو تی تو نہ قتل عثمان غنی کا بلوہ پیش آتا اور نہ حضرت مولاعلی،حضرت امام حسن کی مظلومانہ شہادت پیش آتی۔اور نہ ہی آ نے والے وقت میں معرکہ کرب وبلا کا سانحہ پیش آتا،جس کا درد آج تک بھلایا نہ جاسکا۔مولانا سالک مصباحی نے کہا کہ آج بھی نہ عالم اسلام کا کوئی متفقہ قائد ہے اور نہ مسلمانان ہند کا ہی کوئی رہبر ورہنما ہے،شتر بے مہار کی طرح ہر قبیلہ اور مسلک جد اجد اراستے پر گامزن ہے۔جس کی وجہ سے پچھلے ستر سالوں میں مسلمان ستر بار اجتماعی قتل عام کا شکار ہو چکا ہے۔اورابھی حال میں دہلی میں ہونے والی تباہی کا درد ناک منظر سب کے سامنے ہے۔ مولانا مصباحی نے کہا کہ اب نہ کوئی نیا نبی آنے والا ہے اور نہ وحی الٰہی نازل ہونے والی ہے،اب ہمیں ہی کچھ کرنا ہوگا۔اور وقت بہت مختصر رہ گیا ہے،دشمن ہمارے صفایا کی پوری تیاری کرچکا ہے۔یکے بعد دیگرے سب کا نمبر آنے والاہے۔
مجاہد اسلام مولانا سید محمد عالم گیر اشرف اشرفی الجیلانی بانی سنی سینٹر ناگپورنے کہا کہ منافق اگر صحیح بات بھی کہے تو نہ سنا جائے جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہوا۔اور منافقین کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ منافقین سخت جھوٹے ہیں۔وجہ اس کی روح کلمہ سے منافقین کی ناواقفیت ہے۔اور روح کلمہ سے مراد ذات مصطفیٰ اور خاندان مصطفی ہے۔دور رسالت میں ذات مصطفٰی کے منکرین تھے اور اس کے بعد خاندان مصطفیٰ کے منکرین کی کثرت ہے۔اور یہ دونوں کے دونوں روح کلمہ سے ناواقف ہو نے کی وجہ سے مردود ومبغوض ہیں۔اور افسوس کہ آج بھی یہ دونوں ہمارے درمیان موجود ہیں۔اور ملت کے لیے ناسور ہیں۔مجاہد اسلام نے اس بات پر زور دیا کہ سادات کرام کی تعظیم وتوقیر کی تحریک کو آگے بڑھا یا جائے،اور سماج میں ان کے تئیں احترام وتکریم کے جذبات کو فروغ دیا جائے۔سادات اگرچہ کسی کی تعظیم وتوقیر کے محتاج نہیں ہیں مگر ان کی تعظیم وتوقیر سے مسلمانوں میں طاقت وقوت پیدا ہوتی ہے۔
عرس کا یہ پروگرام سہ روزہ تقریبات پر مشتمل رہا۔جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
۹/رجب المرجب،۱۴۴۱ھ مطابق ۵/مارچ ۰۲۰۲ ء بروز جمعرات ۴۲/واں عرس سرکار کلاں مخدوم المشائخ حضرت سید شاہ محمد مختا راشرف الاشرفی الجیلانی قدس سرہ العزیز
پروگرام: (۱)بعد نماز عصر: رسم پرچم کشائی وترانہ اشرفی،(۲)بعد نماز عشا: تقاریر علمائے کرام
۰۱/رجب المرجب،۱۴۴۱ھ مطابق ۶/مارچ ۰۲۰۲ ء بروز جمعہ۸/واں عرس شیخ اعظم محمد اظہا راشرف الاشرفی الجیلانی قدس سرہ العزیز بانی جامع اشرف وسجادہ نشین آستانہ عالیہ اشرفیہ حسنیہ سرکارکلاں درگاہ کچھوچھہ شریف و عرس عالم ربانی،ضلع امبیڈکر نگر،یو پی
پروگرام: (۱)بعد نمازفجر: قرآن خوانی،(۲)صبح ۹/بجے دن تا ۱/بجے دن: نعت ومنقبت ومحفل سماع،وقل شریف،(۳)بعد نماز عشا: تقاریر علمائے کرام
۱۱/رجب المرجب،۱۴۴۱ھ مطابق ۷/مارچ ۰۲۰۲ ء بروزہفتہ عرس اعلی حضرت شیخ لمشائخ سید شاہ ابو احمد المدعو محمد علی حسین الاشرفی الجیلانی،رضی اللہ تعالی عنہ
پروگرام: (۱)بعد نمازفجر: قرآن خوانی،(۲)صبح ۹/بجے دن تا ۱/بجے دن : نعت ومنقبت ومحفل سماع،وقل شریف مع فاتحہ ودعا (۳) بعد نماز ظہر: تقسیم لنگر
پروگرام کی سیادت وسرپرستی شیخ الہند حضور اشرف ملت ابوالنواز حضرت سید محمد اشرف الاشرفی الجیلانی،بانی وصدر آل انڈیا علما ومشائخ بور ڈ وچیر مین ورلڈ صوفی فورم،نئی دہلی نے فرمائی۔نظامت کے فرائض راقم السطورمحمد عرفان اشرفی خطیب وامام غوثیہ مسجد ڈالی گنج کراسنگ لکھنؤ نے انجام دی۔جب کہ نگرانی وترتیب کا فریضہ آل انڈیا علما ومشائخ بور ڈ کے قومی ترجمان امیر القلم مولانا مقبول احمد سالک مصباحی دہلوی نے انجام دیا۔پروگرام میں قرب وجوار کے عوام اہل سنت،سنی صوفی مسلمان،اورعلما ومشائخ کے علاوہ دورو دراز کے مریدین ومتوسلین اور علما ومشائخ نے بھی شرکت کی۔مولانا برکت حسین مصباحی پرنسپل،اور قاری مہتاب عالم استاذ جامعہ کاملیہ مفتاح العلوم،حافظ کاشف علی گو رکھپوری،قدیر جویلری کولھوئی بازار،مہراج گنج یوپی،مولانا مفتی تاج الدین اشرفی پرنسپل جامعہ اشرفیہ مختار العلوم ٹانڈہ،حضرت شیخ سرفراز احمد اشرفی خلیفہ حضور اشرف ملت (ہالینڈ)حضرت پیر محمد علی نقش بندی میرٹھ اورمولانا ابن علی اشرفی دوارکا (نئی دہلی) مولانا عظیم اشرف سنبھلی وغیرہ نے اپنی شرکت سے پروگرام کوکامیاب بنایا۔
جس دن خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکار کلاں میں عرس کا اختتام ہوتا ہے اسی دن خانقاہ شیخ اعظم سرکار کلاں میں عرس کا آغاز ہوتا ہے تاکہ کسی طرح کی تکرار اور مریدین کے لیے زحمت کا ذریعہ نہ بنے۔اور خانقاہ شیخ اعظم کا عرس بھی سہ روزہ ہوتا ہے،جیسا کہ اشتہار سے ظاہر ہے۔امسال آخری قل شریف میں خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکار کلاں کے صاحب سجادہ حضرت سید محمود اشرف اشرفی الجیلانی بھی رونق افروز ہوئے جس سے عرس اشرفی کا رنگ دوبالا ہوگیا۔اور دونوں برادران کو ایک جگہ ایک مجلس میں دیکھ کر زائرین اور خانوادہ کے افراد کے چہرے کھل اٹھے،۔حضور قائد ملت نے کرم نوازی فرماتے ہوئے آخری قل شریف میں دعا بھی فرمائی۔حضور قائد ملت کے ساتھ ساتھ آپ کے نور نظر ولی عہد،بھی جلوہ افروزرہے۔مزیدبرآں حضرت سید احسن میاں اشرفی جیلانی چیف ایڈیٹر مجلہ سرکارکلاں،حضور اشرف ملت کے برادر اصغر حضرت سید حماد اشرف اشرفی جیلانی،حضرت سید حسن میاں اشرفی جیلانی،حضرت سید راشد میاں اشرفی جیلانی حضرت سید عسکری میاں اشرفی جیلانی جانشین محدث اعظم،دامت برکاتہم وغیرہ کی آمد آمد نے پروگرام کو عرش نشین بناد یا۔
پروگرام کے اختتام پرتمام افراد خانہ، علماومشائخ، زائرین وحاضرین اور جامع اشرف کے تمام طلبہ واساتذہ کی لنگر عام سے ضیافت کی گئی۔اور یہ مبارک سلسلہ الحمد للہ تینوں دن جاری وساری رہتا ہے۔ ہر سال کی طرح امسال بھی ملک کے مختلف صوبوں اور علاقوں کے عقیدت منداں اور رضاکاران شریک ہوئے اورخانقاہ میں منعقد ہونے والی تمام تقریبات کو بحسن وخوبی انجام دیا۔خصوصیت کے ساتھ مختار العلوم کے طلبہ،اساتذہ،بہار وبنگال، راجستھان اور سنبھل ومراد آباد کے زائرین کی جان توڑ کوششیں بڑی قیمتی ہو تی ہیں۔اللہ تعالی ان تمام حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔اور بالخصوص غوث العالم،تارک السلطنت سلطان سید اشرف جہاں گیر سمنانی قدس رضی اللہ تعالی عنہ کے فیوض وبرکات سے مالامال فرمائے۔آمین

عرس سرکار کلاں و عرس شیخ اعظم کچھوچھہ سے بھی دہلی فسادات سے متاثرہ افراد کی مدد کا مطالبہ

ملک بھر میں عرس سرکار کلاں و عرس شیخ اعظم امن وامان کی دعا کے ساتھ منایا گیا


مارچ7 ، کچھوچھہ (پریس ریلیز) خانقاہ اشرفیہ شیخ اعظم سرکارکلاں کچھوچھہ شریف، امبیڈکر نگرمیں ۴۲/واں عرس کلاں حضرت سید مختار اشرف رحمۃ اللہ علیہ و۸/واں عرس شیخ اعظم حضرت سید محمد اظہار اشرف رحمۃ اللہ علیہ کے موقع پر آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کے قومی صدر اور ورلڈ صوفی فورم کے چیئرمین حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے ایک بار پھر تمام لوگوں سے دہلی فسادات میں تباہ حال لوگوں کی مدد کے لئے آگے آنے کا مطالبہ کیا۔
حضرت یہاں کچھوچھہ شریف میں اپنے دادا سرکار کلاں و اپنے والد گرامی شیخ اعظم کے عرس کے موقع پر عقیدت مندوں سے خطاب کر رہے تھے، انہوں نے اس موقع پر کہا کہ جن کا عرس آج ہم منا رہے ہیں انہوں نے اپنی پوری زندگی لوگوں کی بھلائی اور مدد میں گزاری،ہماری ان سے سچی محبت یہ ہے کہ ہم ان کے عمل کو اپنا عمل بنا لیں اور جہاں تک ممکن ہو مصیبت میں گرفتار لوگوں کی مدد کے لئے اس کام میں شامل ہوں،ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے لئے آگے آئیں۔
لوگ پوری دنیا میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے خوفزدہ ہیں، کسی بھی آفت سے بچنے کے لئے محتاط رہنا اچھی بات ہے، لہٰذا ڈاکٹر آپ کو جو بھی طریقہ بتا رہے ہیں اس پر عمل درآمد ہونا چاہئے، لیکن جوطریقے ہمیں بتائے جا رہے ہیں وہ ہمیں 1500 سال پہلے ہمیں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بتائے۔ہمارے نبی نے کہا کہ کھانسنے اور چھینکنے سے پہلے اپنے منہ کو ڈھکو، وضو کے ذریعہ ہاتھ، ناک، کان سب صاف رکھیں، ہمیں بس اپنے نبی ﷺ کے طریقے پرعمل کرنا ہے ہر مسئلہ ہم سے مکمل طور پر دور ہوجائے گا۔
اس موقع پرحضرت سید احسن میاں،حضرت سید حماد اشرف،سید نواز اشرف،سید ناصر میاں کے علاوہ دیگر موجود رہے اورسجادہ نشین خانقاہ سرکارکلا حضرت سید محمود اشرف کچھوچھوی نے ملک بھر میں امن کی دعا کی۔

AIUMB की दिल्ली दंगों में तबाह लोगों के लिए रिलीफ की अपील ।


अस्सलामु अलैकुम ,
आप हज़रात बखूबी वाक़िफ़ हैं देश के हालात से और दिल्ली में जिस तरह की तबाही हुई उससे भी। कुछ नादान नफरत के नशे में चूर होकर कब इंसानियत के दुश्मन दरिंदे बन गए जिन्होंने बस्ती की बस्ती जला डाली, लोगों की जानें गईं , घर दुकान सब तबाह हो गए, लोग सड़कों पर आ गए। ऐसे में हम सब का दीनी और इंसानी फ़र्ज़ है कि हम इनकी मदद को आगे आएं और इनकी बिखरी ज़िंदगियों को समेटने का काम करें।
पैग़म्बरे इस्लाम हज़रत मुहम्मद मुस्तफा सल्लल्लाहू अलैहि वसल्लम के फरमान के मुताबिक़ मुसीबतज़दा लोगों की मदद बिना उनके धर्म और ज़ात पात को देखे इंसानियत की बुनियाद पर करनी है, सूफियों ने यही तरीक़ा अपनाया कि अपने अख़लाक़ से नफरतों की आग को ठंडा कर दिया, अब समय आ गया है, आपके आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड ने यह फैसला किया है कि हम सब मिलकर दिल्ली दंगों में उजड़े हुए लोगों को हर मुमकिन मदद पहुंचाएंगे ताकि उनकी ज़िंदगी पटरी पर आ सके।
इस अज़ीम कारे खैर में बोर्ड अपने सभी ज़िम्मेदारों से अपील करता है कि वे अपने अपने इलाकों में रिलीफ जमा करें और बोर्ड के ज़रिए दिए गए एकाउंट नंबर में इसे जमा करें ताकि लोगों को राहत पहुंचाई जा सके , जो फसाद में बर्बाद हुए हमारे भाई बहन हैं उनकी ज़िम्मेदारी हमारी है लिहाज़ा बढ़ चढ़ कर इस कारे खैर में हिस्सा लें।
अल्लाह हम सब के इस नेक अमल को अपने हबीब करीम जनाबे मुहम्मदुर रसूलुल्लाह सल्लल्लाहू अलैहि वसल्लम के सदक़े अपनी बारगाह में क़ुबूल फरमाए।
آمین یا رب العالمین. بجاہ سید المرسلین ﷺ
Account Details:
Bank : VIJAYA BANK, KALKAJI, DELHI
A/C : 606301011003687
Name : AL ASHRAF TRUST
Ifsc Code : VIJB0006065

आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड , दिल्ली

अजमेर उर्स से दंगे में तबाह हुए लोगों की हर संभव मदद का संकल्प

आल इंडिया उलमा व माशाइख़ बोर्ड की सभी लोगों से मदद की अपील

1 मार्च 2020,रविवार,
अजमेर आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड ने दरगाह स्थित चिश्ती मंज़िल में एक प्रेस कांफ्रेंस कर देश के सभी लोगों से दिल्ली में दंगों से प्रभावित लोगों की मदद का संकल्प लेते हुए लोगों से संभव मदद की अपील की,बोर्ड के अध्यक्ष हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने प्रेस को बताया कि आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड ने यह फैसला किया है कि दिल्ली में दंगों से जो लोग बर्बाद हुए है उनकी हर संभव मदद कर उनके विश्वास को बहाल किया जाएगा ,लोगों की मदद बिना उनका धर्म या जाति देखे करनी है ।

हज़रत ने कहा कि बोर्ड के अध्यक्ष के नाते मैं व्यक्तिगत रूप से एक लाख रुपए इस काम के लिए पेश कर रहा हूं और बोर्ड के सब प्रदेशों और जिलों की शाखाओं के जिम्मेदारों से भी इस काम में जुट जाने की अपील करता हूं यह मुश्किल वक़्त हैं और यही समय लोगों के साथ खड़े होने का है ताकि उनका देश में और मानवता में विश्वास मजबूत हो।गरीब नवाज़ की बारगाह से उर्स के मुबारक मौके पर यही संदेश है कि आइए लोगों की मदद की जाय जिनके घर दुकानें तबाह हुई हैं उनको दुबारा खड़ा करने में जो मुमकिन मदद हो सके की जाए ,सभी लोगों को उर्स की मुबारकबाद और यही संदेश जो गरीब नवाज़ का संदेश है कि नफरत किसी से नहीं मोहब्बत सब के लिए।
बोर्ड की राष्ट्रीय कार्यकारिणी सदस्य हज़रत अम्मार अहमद अहमदी उर्फ नय्यर मियां ( रुदौली शरीफ) ने कहा कि देश में जिस तरह के हालात पैदा हो रहे हैं और लोगों में एक दूसरे के प्रति जैसी नफरत पनप रही है उसको रोकने का मात्र उपाय सूफिया के तरीके को अपनाने में है वह तरीका यह है कि हम किसी की नफरत का जवाब अपनी मोहब्बत से दे यह वक़्त लोगों को सहारा देने का है सबके विश्वास को बहाल करने का है बोर्ड का यह निर्णय सराहनीय है हम सब इसके साथ है और लोगों से इस मुहिम में जुड़ने की अपील करते हैं ,गरीब नवाज़ के उर्स का यही संदेश कि मजलूम की हर संभव मदद की जाय और लोगों तक पहुंच कर उनकी मदद की जाए।
हज़रत सय्यदी मियां (मकनपुर शरीफ) ने कहा कि सिसकती मानवता को मुहब्बत के ठंडे पानी की जरूरत है हमें लोगों को बताना होगा कि इस प्यारे मुल्क में जहां से मीरे अरब को ठंडी हवा आती हो वहां गंगा के मिजाज़ को समझना होगा जिसके पानी को हिन्दू भाई अकीदत से पीते हैं और जिसमें स्नान कर पाप धो लेते हैं उसी गंगा के पानी से गुरुद्वारे में पवित्र लंगर बनता है और उसी गंगा के पानी से मुसलमान वज़ू कर रब का सजदा करते हैं हमें इससे सीखना होगा यही मिजाज़ सूफिया का है जो सबके लिए मुहब्बत बांटते हैं और नफरत के ज़हर को मिटा देते हैं।उन्होंने कहा कि बोर्ड का यह क़दम सूफिया के तरीकेकार पर अमल करने वाला है लोग मदद को आगे आएं ,सभी को ख़्वाजा का उर्स मुबारक।
बोर्ड के संयुक्त राष्ट्रीय सचिव हज़रत सय्यद सलमान चिश्ती ने कहा कि लोगों को मुहब्बत की जरूरत है और नादानी में नफरत के सौदागर उन्हें बहका रहे हैं हमें आगे आकर लोगों को मुहब्बत का संदेश देना है और गरीब नवाज़ के मिशन को आगे बढ़ाना है,ख़्वाजा का मिशन मोहब्ब्त को आम करना है और नफरत की आग को मुहब्बत के पानी से बुझा देना है,उन्होंने बोर्ड की पहल का समर्थन करते हुए लोगों से अपील की जो जहां भी है और जितनी भी संभव मदद कर सकता है जरूर करे यह वक़्त है जब लोगों को हमारी ज़रूरत है।लोगों को उर्स की बधाई देते हुए उन्होंने कहा कि मज़हब के नाम के झगड़ा करने वाले याद रखें मज़हब नहीं सिखाता आपस में बैर रखना।
सय्यद शहीद मियां चिश्ती ने कहा कि दिल्ली में जिस तरह का मंज़र दिखा वह डराने वाला है लेकिन वहीं लोगों ने जिस तरह इंसानियत का पैगाम दिया उसकी जितनी तारीफ की जाए कम है मुसीबत की इस घड़ी में हम सब सभी पीड़ितों के साथ हैं और दुआ करते हैं कि मुल्क में अमन और शांति रहे जो लोग परेशान हुए है उनकी हर मुमकिन मदद की जाए बोर्ड ने क़दम उठाया है हम सब इसकी हिमायत करते हैं सभी लोगों को ख़्वाजा का उर्स मुबारक हो.

प्रेस कांफ्रेंस में बोर्ड के तमाम ज़िम्मेदार मौजूद रहे इस अवसर पर मदद के लिए अल अशरफ ट्रस्ट का एकाउंट नंबर जारी किया गया जिसके जरिए लोग मदद भेज सकें।

Account Details :

Bank: Vijaya Bank

A/C: 606301011003687

Name: Al Ashraf Trust

Ifsc : VIJB0006065

भारत का अमन बचाना हम सब की सांझी ज़िम्मेदारी : सय्यद अशरफ

25 फरवरी,नई दिल्ली
आल इंडिया उलमा व माशाईख बोर्ड के अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफी फ़ोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने दिल्ली में हो रही हिंसा पर चिंता जाहिर करते हुए लोगों से अमन की अपील की उन्होंने कहा कि भारत के अमन की हिफ़ाज़त हम सब की सांझी ज़िम्मेदारी है।
उन्होंने कहा कि मुल्क में हिंसा फैलाने वाले न सिर्फ देश के बल्कि इंसानियत के दुश्मन हैं ,हिंसा चाहे कोई भी करे उस बर्दाश्त नहीं किया जा सकता सरकार को इस रोकने के लिए फौरन कार्यवाही करनी चाहिए इतना ही नहीं जिस तरह दिल्ली पुलिस ने किरदार पेश किया है उससे चिंता और बढ़ जाती है इसकी भी जांच होनी चहिए।
हज़रत ने लोगों से अफवाहों से बचने का आह्वाहन किया उन्होंने कहा कि हर व्यक्ति अपने स्तर से लोगों से शांति बनाए रखने की अपील करे ,हिन्दू मुस्लिम सिख ईसाई में न बंटे बल्कि इस चुनौती का सामना एक भारतीय बनकर कर अगर हम सब सिर्फ देश के बारे में सोचें तो शांति स्थापित हो जाएगी ,सिर्फ खुद को देशभक्त बताना ही देशभक्ति नहीं है बल्कि इसके लिए आपको योगदान देना होता है,वक़्त आने पर कुर्बानी देनी होती है यह समय एकजुट होकर नफरत को हराने का समय है।
धर्म हिंसा से रोकता है जबकि अधर्म हिंसा की प्रेरणा देता है तो भला कोई रामभक्त हिंसा कैसे कर सकता है और कोई अल्लाह से डरने वाला आग कैसे लगा सकता है इसपर विचार ज़रूरी है कि फिर यह राम का नारा लगाने वाले या आग लगाने वाले कौन लोग हैं जो धर्म का चोला ओढ़कर देश जलाने निकले हैं।
यह देश सांझी संस्कृति का देश है जहां ब्रह्मा की नगरी कहे जाने वाले पुष्कर में खिलने वाला गुलाब गरीब नवाज़ की बारगाह में चढ़ता है अभी अजमेर शरीफ में उर्स में सभी मजहबों के लोग एक साथ अपनी अकीदत के फूल पेश करने जमा होंगे यह मुल्क की खूबसूरती है।आइए हम सब मिलकर इस देश की सुंदरता की हिफ़ाज़त करें ,दिल्ली के लोग किसी के बहकावे में न आएं ।

AIUMB Joint Secretary at 9th Annual International Conference on Tasawwuf/Sufism and World Peace.

Istanbul, Turkey: February 19th, 2020


First time India represented at the 9th Annual International Conference on Tasawwuf/Sufism and World Peace – Istanbul – Turkey.

Haji Syed Salman Chishty, Joint Secretary at All India Ulama & Mashaikh Board (An apex body of Sunni Sufi Muslims in India) represented 800 years old Sufi lineage of the Chishty Sufi Order from Ajmer Sharif and Indian Sub Continent at the Conference.

AIUMB Joint Secretary said He was Proud to raise our Indian Flag and represent All India Ulama & Mashaikh Board (An apex body of Sunni Sufi Muslims) India for the first time at the 9th annual International Summit on Sufism/Tasawwuf org by Intl Academy of Sufi Scholars in Turkey. Thanks to International Institute of Non Aligned Studies, Delhi for facilitating our presence at the summit.

Haji Syed Salman Chishty talked about importance of having Sufi Understanding of the hearts among the peace loving societies across the world and said that Sufism/Tasawwuf is primarily realized by the renditions of the hearts, not by analytics of the mind. Important to reflect on vibrations of the Heart to experience Spiritual longing n Belongings to the Divine Realm, In his remarks.
while He addressed the Round Table Discussion along with Sufi Scholars from over 50 countries mainly from Arab Middle Eastern, North African, Central and South Asia, USA, Balkans, European Union and Russian Federations.

Organised by “International Academy of Sufi Scholars and DarAsalaam Kulliasi”. Leading Islamic scholars, Spiritual leaders, Sufi personalities & diplomats from 50 countries & organisations have taken part.

Introducing AIUMB at the summit he said that All India Ulama & Mashaikh Board (AIUMB) has been established with the basic purpose of popularizing the message of peace of Islam and ensuring peace for the country and community and the humanity. AIUMB is striving to propagate Sunni Sufi culture globally .Mosques, Dargahs, Aastanas, and Khanqahs are such fountain heads of spirituality where worship of God is supplemented with worldly duties of propagating peace, amity, brotherhood and tolerance.

On the closing remarks Haji Syed Salman Chishty extended warm regards and thanks on behalf of India and extended the personal invitation to all Sufi Spiritual leaders to visit India and experience the rich spiritual and cultural heritage of India.

Concluding Prayers for World Peace was done collectively by all eminent Spiritual personalities.

By: Husain Sherani

نفرت کسی سے نہیں۔ محبت سب کے لیے۔سید محمد اشرف کچھوچھوی


خانقاہ شریف قادریہ چشتیہ مدنی پور،مغربی بنگال کا سالانہ عرس شریف اور پہلا عظیم آل انڈیا صوفی کانفرنس
مدنی پور،مغربی بنگال، ۹۱/فروری(پریس ریلیز)
آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ کے صدر اور ورلڈ صوفی فورم کے چیئرمین حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ آج مسائل سے دوچار ہے،ہر طرف نفرت وتعصب کا باز ار گرم ہے،ہماراپیا راملک جسے چشتی بزرگوں نے ہمارے لیے سازگار ابنا دیا تھا۔آج دوبارہ ہمارے حق میں نامناسب ہو گیا ہے،اس کی بنیادی وجہ تصوف کی اصل روح سے ہمارا بھٹکنا اور دورہو جانا ہے۔ہندوستان بہت پیارا ملک ہے،اور یہاں بسنے والی قوم بھی بہت اچھی ہے،مگر ہماری غیر دانشمندانہ حرکتوں نے سب کو ہم سے دور کردیا ہے۔ہمار انعرہ ہے،محبت سب کے لیے،نفرت کسی سے نہیں۔اسی میں ہمارے تمام مسائل کاحل پوشیدہ ہے۔

محقق عصر حضرت علامہ ومولانا پیر سید شمیم الدین احمد منعمی خانقاہ منعمیہ پٹنہ بہارنے کہا کہ تقوی اور خشیت الٰہی ہی معیار تصوف مدار نجات ہے۔تمام انبیا ومرسلین کی آمد وبعثت کا مقصد اولین لوگوں کے دلوں میں اللہ کا ڈراور اس کی محبت پیدا کرنا ہے۔

معروف اسلامی اسکالر مولانا مقبول ا حمد سالک مصباحی قومی ترجمان آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ نے کہا کہ اب اس رشتہ محبت والفت کواور بھی مضبوط کرنا ہے،اور اس کاراستہ آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ ہے،اس کی توسیع وتعارف ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔چناچہ اس موقع سے حاضرین میں تقریبا چار ہزار ممبرشپ فارم تقسیم کیے گئے۔جسے لوگوں نے بخوشی قبول کیا اور ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔

مشہور صوفی اسکالر ومحقق پیر سید فرید احمد نظامی نائب سجادہ نشیں درگا ہ حضرت نظام الدین اولیا،نئی دہلی نے آداب تصوف کے موضوع پر گفتگو فرمائی اور کہا کہ تصوف کا بدعات وخرافات سے تحفظ علمائے امت کی عظیم داری ہے۔آج تصوف اس لیے بد نام ہو رہاہے کیونکہ علم شریعت سے ناواقف اور غیر تربیت یافتہ افراد کاربار کی نیت سے گھس گئے ہیں،اور اس تصوف کو ذریعہ معاش بنا لیا ہے۔ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ دعوت وتبلیغ کاکام فی سبیل اللہ اور ذریعہ معاش کوئی حلال دنیا وی کار وبار ہو۔

پیر سید سیف الدین فردوسی،خانقاہ معزم بہار شریف کہ صوفیا کے نزدیک الخلق عیال اللہ کا ہی تصوف کا پہلا زینہ ہے۔وہ تمام انسانی برادری کو ایک خاندان کی طرح دیکھتے ہیں۔اسی لیے وہ کسی کے درمیان رنگ ونسل کی بنیا دپر کوئی تفریق نہیں کرتے۔ان کے دربار میں آنے والے کا کبھی مذہب نہیں پو چھا جاتا۔ہر آنے والے کی بلا نکیر خد مت کی جاتی ہے۔اور اس کے در دکا مدا وا کیا جاتا ہے۔اور یہی چیز لوگو ں کے دل ودماغ کو خانقاہ کی طرف کھینچتی ہے۔

نائب سجادہ نشین خانقاہ قادریہ چشتیہ مدنی پوری پور پروفیسر اقبال شاہ قادری (صدر آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ مغربی بنگال)نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے تمام حاضرین کاشکریہ ادا کیااور کہا کہ صوفیا اورتمام مشائخ آپس میں بھائی بھائی ہیں،اس لیے دور ودراز سے چل کر علما ومشائخ خانقاہ قادریہ چشتیہ میں تشریف لے آئے۔خانقاہوں کا مقصد اولین خدمت خلق اور اصلاح معاشرہ واصلاح احوال ہے،الحمد للہ یہاں پر یہ دونوں کام عرصہ دراز سے بلاتفریق مذہب وملت جاری وساری ہیں۔

کانفرنس کی سرپرستی پیر طریقت پرفیسر ڈاکٹر حضرت سید منال شاہ القادری الجیلانی،سابق سفیر ہندوستان برائے اوزبکستان وسجادہ نشین دائرہ شریف کولکاتا وخانقاہ شریف قادریہ چشتیہ مدنی پور،مغربی بنگال نے فرمائی۔

حضرت مولانا سید تفہیم الاسلام صاحب پیر زادہ بانسو باٹی میجو حضور دربار شریف،ہگلی،محمد حسین شیرانی آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ نئی دہلی،صوفی نجم الدین مستان،ممبئی اور کثیر تعدا د میں علما ومشائخ اور ہزار ہا ہزار کی تعداد میں شرکت کرکے پروگرام کو کامیاب بنایا۔صلوٰۃ وسلام،ملک میں امن وامان کی دعا کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

آل انڈیا علماءومشائخ بورڈ کا صوفی کانفرنس آج

آل انڈیا علماءومشائخ بورڈ مغربی بنگال یونٹ کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان صوفی کانفرنس مدنا پور بنگال میں منعقد کی جارہی ہے۔
سید اقبال شاہ قادری صدر مشائخ بورڈ یونٹ کلکتہ نے بتایا کہ اس پیمانے کی صوفی کانفرنس پہلی بار مغربی بنگال کی سرزمین پر ہونے جارہی ہے جس میں سجادنشین، علماء اور دانشور ملک بھر کی بہت سے بڑے خانقاہوں کے نمائندوں کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں، جس طرح ملک میں نفرت پھیل رہی ہے اس کی روک تھا م صرف صوفیاء کے افکار کو عام کرنے سے ہوسکتی ہے اسی وجہ سے یہ پروگرام مدناپور کی سرزمین پر منعقد کیا جارہا ہے۔
بنگال صوفیوں کی سرزمین ہے، یہاں عوام میں یہ رنگ نظر آتا ہے، میٹھی بولی اورمیل میلاپ، صوفیاء کی یہی تعلیم ہے کہ کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے،اس طرح زندگی گزاری جائے کہ جہاں اپنی زندگی خوش ہو وہیں دوسرے لوگ نفرت نہ کریں۔تو وگ اس طرح تمہاری محبت میں گرفتار ہوجائیں گے۔
اقبال شاہ قادری نے بتایا کہ اس کانفرنس کے سرپرست حضرت سید مننال شاہ قادری سجادہ نشین دائرہ شریف کولکاتاو خانقاہ شریف قادریہ چشتیہ مدناپور اور بنیادی طور پر بورڈ کے قومی صدر اور ورلڈ صوفی فورم کے چیئرمین حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی، حضرت عمار احمد احمدی عرف نیر میاں سجادہ نشین حضرت شیخ العالم ردولی شریف حضرت سید سلمان چشتی اجمیر شریف، حضرت فریدنظامی درگاہ نظام الدین اولیاء دہلی، حضرت مولانا شمیم الدین منعیمی سجادہ نشین خانقاہ منعینمیہ پٹنہ، حضرت سیف الدین فردوسی سجادہ نشین خانقاہ معزم بہار شریف، حضرت محمد ایوب قادری سجادانشین الجیلانی سینٹراورینٹ کولکاتہ، حضرت سیدتفہیم السلام، پیرزادہ بسوباٹی میجو حضوردربارشریف ہگلی، حضرت سید ابوالبشرپیرزادہ پیاردانگا مدناپور، حضرت محمد مولانا محمد ابوالقاسم پیرزادہ پیر نگردربار شریف ہگلی،حضرت مولاما مقبول سالک مصباحی اور دیگر دانشور اور علماء شرکت کریں گے.