तसव्वुफ और चिश्तियत के नाम पर धोखा : ग़यासुद्दीन अहमद आरिफ मिस्बाही

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

تصوف اور چشتیت کے نام پر دھوکہ
غیاث الدین احمد عارفؔ مصباحیؔ
 
جب سے دہلی کی سر زمین پر آل انڈیا علما مشائخ بورڈ نے صوفی کانفرنس کا انعقاد کیا اور اس کے ذریعہ پوری دنیا اور بالخصوص حکومت ہندکو یہ باورکرایاکہ دنیا میں فتنہ وفسادبرپا کرنے والے ،آتنک ودہشت پھیلانے والے ہم نہیں اور نہ ہی اسلام اس کی اجازت دیتا ہے بلکہ یہ دہشت گردی اسلام کا لیبل لگاکر وہابی جماعت اور ان سے وابستہ تنظیمیں انجام دے رہی ہیں ،تب سے ہندوستان ہی نہیں پاکستان میں بھی بسنے والے وہابی فکر کے حامل دیوبندی جماعت کے افراد خود کو سنی صوفی کہلانے اور باور کرانے کے لیے جی جان سے لگ گئے ہیں کیوں کہ صوفی کانفرنس کے بعد میڈیا کی زبان بھی بدل گئی پہلے “اسلامی آتنک واد کہا جاتا تھا اور اب وہابی آتنک واد کہا جانے لگا ہے۔آپ کو معلوم ہے کہ کل تک جو مزاروں پر جانے پر شرک وکفر کا فتویٰ لگاتے تھے آج مزاروں کے چکر لگارہے ہیں،صرف یہی نہیں بلکہ خود کو چشتی ،صوفی کہلانے کا ڈھونگ بھی رچ رہے ہیں تاکہ ان سے دہشت گردی کا لیبل ہٹ جائے لیکن یہ اس وقت تک ناممکن ہے جب تک وہ اپنے سابقہ عقائد،اعمال وکردار سے علی الاعلان توبہ ورجوع اور اپنے گُرو گھنٹالوں سے دست بردادر نہ ہوجائیں ۔
آئیے ہم ان کے چند فاسد عقائد پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں ،جس سے یہ واضح ہوجائے گا کہ یہ نہ حنفی ہیں نہ صوفی بلکہ حنفیت وصوفیت کے لبادہ میں وہابیت کی ترویج واشاعت کررہے ہیں ۔
آج جب دنیا نے یہ تسلیم کرلیا کہ خانقاہوں سے وابستہ افراد ہی اصل اہل سنت وجماعت ہیں تو ان کے پیٹ میں مروڑ ہونے لگی اور مزاروں ،خانقاہوں کا چکر لگانے لگے ۔ کل تک یہ کیا کہا کرتے تھے ؟ ذرا دیکھیں :
اِن کے بڑے عالم شاہ اسمٰعیل دہلوی صاحب کے نزدیک زیارت کے لیے دور درازملکوں سے سفر کرنا بدعت قبیحہ ، شعار کفر، اور باعث غضب الہی ہے اور عام مومنین کو اس سے عظیم نقصان پہنچتا ہے۔ صراط مستقیم میں لکھتے ہیں:
دور دراز کے ملکوں سے سفر کی بڑی بڑی مصیبتیں اٹھاکر ، اور رات دن کی تکلیفیں اور دُکھ جھیل کر اولیا ء اللہ کی قبروں کی زیارت کے واسطے آنا انہیں بدعات (قبیحہ ) میں سے ہے۔۔۔۔ اور یہ سفر ان کو شرک کے ظلمات ، اور اللہ تعالیٰ کے غضب کی وادی میں پہنچاتے ہیں۔
یعنی جناب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ:
زیارت کے واسطے سفر کرنا بدعت اور ناجائز ہے۔۔۔۔۔۔ سفر زیارت زائرین کو شرک کی تاریکی میں پہنچادیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زائرین اللہ عزوجل کے غضب کی وادی میں پہنچ جاتے ہیں۔۔۔۔۔عام مسلمانوں کو بڑا بھاری نقصان ہوتا ہے۔۔۔۔۔ ۔ یعنی شاہ صاحب کے نظریہ کے مطابق اولیاے کرام کی قبروں کی زیارت کرنے والوں کا دین باقی رہتا ہے نہ ایمان، کیوں کہ سفر کی وجہ سے یہ عمل مشرکانہ ہوجاتا ہے۔

کمالات اشرفیہ کے مُرَتِّب اِس کے صفحہ ۲۵۲پر اشرف علی تھانوی صاحب کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : ایک انگریز نے لکھا ہے کہ ہندوستان میں سب سے زیادہ حیرت انگیز بات میں نے یہ دیکھی کہ اجمیر میں ایک مردہ کو دیکھا کہ اجمیر میں پڑا ہوا سارے ہندوستان پر سلطنت کررہا ہے ۔
انگریز کا قول نقل کرنے بعد مرتب اپنے گُرو اشرف علی تھانوی کا قول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انھوں نے کہا :
واقعی خواجہ صاحب کے ساتھ لوگوں بالخصوص ریاست کے امراء کو بہت عقیدت ہے (اس پر) خواجہ عزیز الحسن نے عرض کیا کہ جب فائدہ ہوتا ہوگا تبھی تو عقیدت ہے (تھانوی صاحب نے) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جیسا حسن ظن ہوویسا ہی معاملہ فرماتے ہیں ۔اس طرح تو بت پرستوں کو بت پرستی میں بھی فائدہ ہوتا ہے ،یہ کوئی دلیل تھوڑا ہی ہے ۔ دلیل شریعت ہے۔
دیکھا آپ نے کل تک یہ خواجہ غریب نواز کے آستانے کا رشتہ بتوں سے جوڑتے تھے مگر آج یہ خود اسی بت پرستی پر کیوں مجبور ہیں ؑ ۔ع۔کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔
پہلے یہ مزاروں پر جانے والوں کوقبوری اور مشرک کہتے تھے ۔ دیکھیں ۔دیوبندی جماعت کے مشہور عالم مولوی منظور نعمانی صاحب ماہنامہ الفرقان لکھنو(جمادی الاولیٰ۱۳۷۲ ؁ھ) کے صفحہ ۳۰پر اپنے اداریہ میں لکھتے ہیں :
’’آپ مسلمان کہلانے والے قبوریوں اور تعزیہ پرستوں کو دیکھ لیجیے ۔شیطان نے ان مشرکانہ اعمال کو ان کے دلوں میں ایسا اُتار دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں قرآن وحدیث کی کوئی بات سننے کے روادار نہیں ۔ میں تو انھیں لوگوں کو دیکھ کر اگلی امتوں کے شرک کو سمجھتا ہوں اگر مسلمانوں میں یہ لوگ نہ ہوتے تو واقعہ یہ ہے کہ میرے لیے اگلی امتوں کے شرک کو سمجھنا بڑا مشکل ہوتا ‘‘
آئیے لگے ہاتھوں یہ بھی پڑھ لیجیے ۔۔۔ دارلعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر یہ فتویٰ موجود ہے ۔کسی شخص نے سوال کیا ہے کہ:
میں اجمیر شریف کی زیارت کو جانا چاہتا ہوں ۔کسی بزرگ کی درگاہ کی زیارت میں نیت کیا ہونی چاہیے ؟ کیا درگاہ پر پھول اور شیرینی چڑھانا جائز ہے؟
اس کے جواب میں دیوبند کے مفتی صاحب لکھتے ہیں : آپ کو اجمیر یا اس کے قریب کسی شہر میں کوئی کام ہو تو اس کی نیت سے سفر کریں ۔براہ راست کسی بزرگ کی قبر کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا جائز ہے مگر بہتر نہیں ہے۔کسی اور کام سے تشریف لے جائیں پھر اجمیر بھی چلے جائیں ۔ آگے لکھتے ہیں : قبر پر پھول چڑھانایا شیرینی یا چادر وغیرہ چڑھانا جائز نہیں ،یہ سب خرافات وبدعات میں سے ہے ۔شریعت اسلامیہ میں اس کی کوئی اصل نہیں ۔(سوال وجواب نمبر۸۴۷)
دارالعلوم دیوبند کی اسی سائٹ پر ایک سوال کیا گیا ہے کہ : کیا قبروں پر پھول چڑھانا بدعت ہے ؟ کچھ علما ء کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا سنت ہے ؟براہ کرم ،قرآن وسنت کے حوالے سے میرے شبہات دور فرمائیں ۔
جواب میں لکھا گیا ہے کہ : قبروں پر پھول چڑھانا نہ قرآن کی کسی آیت سے ثابت ہے نہ حضور ﷺسے ،نہ صحابہ سے اور نہ تابعین سے اس لیے یہ ناجائز وبدعت ہے ۔( سوال وجواب نمبر۱۴۱۸ )
دیکھا آپ نے یہ اِن کا عقیدۂ فاسدہ ،جسے ہم بیان کرتے ہیں تو ان کو بہت تکلیف ہوتی ہے اور اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ اس کے بعد بھی ہم پرالزام لگاتے ہیں کہ ہم انھیں وہابی کہتے ہیں ،جناب ہم نہیں کہتے بلکہ یہ آپ کا اپنا اقرار ہے ،آپ کا عمل ہے جیساکہ خود آپ کے عالم جنھیں آپ غوث کا درجہ دیتے ہیںیعنی رشید احمد گنگوہوی صاحب فتاویٰ رشیدیہ کی پہلی جلد میں ابن عبدالوہاب نجدی کی تعریف وتوصیف میں لکھتے ہیں :
محمد بن عبد الوہاب کے مقتدیوں کو وہابی کہتے ہیں ان کے عقائد عمدہ تھے ۔
اسی طرح اشرف السوانح کی پہلی جلد کے صفحہ ۴۵پر لکھا گیا ہے کہ: جب ان کے پاس کچھ عورتیں نیاز کے لیے مٹھائی لے کر آئیں تو انھوں نے کہا :
بھائی یہاں وہابی رہتے ہیں یہاں فاتحہ نیاز کے لیے کچھ مت لایا کرو۔
یہ تو محض نمونہ ہے اس طرح کے خرافات سے ان کی کتابیں ،سائٹیں ،شوشل گروپس بھرے پڑے ہیں ،مگر اصل سوال یہ ہے کہ مزارات پر حاضری کو دن رات شرک وبدعت کہنے والوں کے سامنے آخر کون سی مجبوری آن پڑی جو اَب خودہی مزاروں کے چکر کاٹنے لگے تو سُن لیں یہ اُن کی نئی چال ہے ،مکاری اور دھوکہ ہے،بھولے بھالے سنیوں کو اپنی جال میں پھنسانے کے لیے وہ پہلے بھی ایسا کرتے رہے ہیں ،آج بھی انھوں نے وہی کیا ہے ،موقع دیکھ کر اس سے دست بردار ہوجائیں گے اور جب پھر ضرورت پڑے گی صوفیت کا لبادہ اوڑھ کر یہی کام کریں گے ۔
ہم کہتے ہیں کہ اگر واقعی آپ نے تصوف کا راستہ اپنا لیا ہے اور آپ اصلاً حنفی صوفی ہیں تو کیوں نہیں اپنے سابقہ وموجودہ علماء کے عقائد سے توبہ ورجوع کا اعلان کردیتے ؟ اور اُن سے کھلے عام برأت کا اظہار کردیتے ؟ جب آپ یہ کہہ ہی رہے ہیں کہ بریلوی ہمارے بھائی ہیں ۔ تو آیئے ہم تو صوفیا کے افکار واعمال پر کاربند رہنے والے اہل سنت وجماعت ہیں ،ہمارا مشن ہی خلق خدا سے محبت اور ان کی خدمت ہے ،ہم امت میں اتحاد کے خواہاں ہیں مگر شرط وہی ہے کہ آپ کو گستاخانہ عقائد سے توبہ ورجوع کرنا ہی ہوگا ۔