حسینیت نام ہے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا:سید محمداشرف کچھوچھوی

کلیرشریف۔ہریدوار۔2نومبر

حسینیت نام ہے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا۔امام حسین علیہ السلام نے ظلم کی علامت یزید کے خلاف اپنے چھ ماہ کے بیٹے حضرت علی اصغرسے لیکراپنے جوان بیٹے حضرت علی اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہما تک کوقربان کردیا اورآخر میں خود بھی جام شہادت نوش فرمایا لیکن ظلم کی حمایت نہیں کی۔ امام حسین علیہ السلام سے محبت کرنے والے ہردورمیں ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں اورمظلوموں کے زخموں پرمرہم لگانے کاکام کرتے رہے ہیں۔ ظلم کے خلاف صبروشکر کی تعلیم دنیا قیامت تک امام حسین علیہ السلام سے سیکھتی رہے گی۔ ان خیالات کااظہار حضرت مولانا سید محمداشرف کچھوچھوی بانی وصدر آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ نے سلیم پور کلیر شریف میں ایک جلسہ بنام تاجدار کربلا کانفرنس کوخطاب کرتے ہوئے کیا۔
حضرت نے مزید کہاکہ ظالم کتنابھی طاقتورکیوں نہ ہو اس کی شکست یقینی ہے لیکن اس سے ڈر کراس کی حمایت کرناخلاف اسلام ہے۔ظلم صرف کسی کومار دینا ہی نہیں ہے بلکہ کسی کے حقوق کی پامالی بھی ظلم ہے۔نفرت ظلم ہے اورمحبت اسے مٹانے کاہتھیار لہذا محبت پھیلائیے اورنفرتوں کاخاتمہ کیجئے۔حسین والوں کایہی پیغام ہے کہ محبت سب کے لئے اورنفرت کسی سے نہیں۔
جلسہ کاآغازقاری غلام مرسلین سنبھلی کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ جناب ذوالفقار و سید انس نے نعت ومنقبت کے نذرانے پیش کئے۔ جلسہ کی صدارت قاری عاصم صابری نے کی اورنظامت کے فرائض قاری عرفان اشرفی نے انجام دئے۔دہلی سے آئے مولانا اشتیاق القادری نے صوفیاء و اولیا کی تعلیمات و روش کو اپناکر اسی پر عمل پیرا ہونے اور اسے عام کرنے پر زور دیا وہیں قاری مشرف اشرفی سنبھلی نے واقعات کربلا پر روشنی ڈالی۔
جلسہ کااختتام صلوٰۃ وسلام اورملک میں امن و امان کی دعاپرہوا۔جلسہ میں د پیر طریقت سید حسنین سیکری شریف،حکیم سید واصف میاں سہارنپوری ،حافط مہتاب قادری،محمدرفیع کے علاوہ کثیر تعدادمیں عوام موجود رہے۔