सूफीमत और प्यार व सहिष्णुता का आँदोलन: सय्यद मोहम्मद ज़फर मुजीब मदारी ,वली अहद: खानकाह मदारिया मकनपुर शरीफ

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

صوفی ازم اور تحریک محبت ورواداری

ازقلم سید محمد ظفر مجیب مداری
ولیعہدخانقاہ مداریہ مکن پور شریف
تاریخ اس بات پر شاہد ہے ہے کہ دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے لیکر آج تک آپسی محبت وراداری کا پیغامبر وہ طبقہ رہاہے جس نے رسالت مآب علیہ السلام کے اقوال واحوال وافعال وخیال کی صحیح معرفت حاصل کی اور واضح رہے کہ یہ معرفت صرف عشق کامل سے حاصل ہوتی ہے اور اس کے لئے مشیت خود منتظم ہوتی ہے۔
ہر چند کہ دور رسول میں عام طورپر تصوف وصوفیت کا کوئی باقاعدہ شعبہ نہیں تھا لیکن تصوف ہر صحابی میں جھلکتا تھا اور بعض پر تو متصوفانہ رنگ خوب خوب چڑھا ہوا تھا۔جس کی تفصیل اکابرین امت نے اپنے ملفوظات ومکتوبات میں جا بجا پیش فرمائی ہے۔یاایھاالناس اتقوربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منھا زوجھا وبث منھما رجالا کثیرا ونساء ‘‘مذکورہ بالا آیت کریمہ ہر وقت صوفیانہ روش کے افراد کے پیش نظر ہوتی ہے ۔حدیث رسول’’خلق اللہ آدم علی سورۃ‘‘کے مفہوم ومعانی کی گہرائیوں تک صوفیاء کی پہونچ اپنے آپ میں بے مثال ہے۔صوفیاء رسالت مآب علیہ السلام کی حیات شریف کا ہر واقعہ و گوشہ چاہے وہ مکی زندگی کا ہو یا مدنی زندگی کا۔ابتدا کا ہو یا دور آخر کاتمام ادوار اور ہر گوشے پرنظررکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی صفت بندہ پروری وخلاقیت و رزاقیت پرنظر رکھتے ہیں ۔پیارے رسول کی شان رحمۃ اللعٰلمین ادائے رحمت نوازی صفت کرم فرمائی کو بنظر غائردیکھتے ہیں۔یہی تمام اسباب ہیں جنکی وجہ سے صوفی ہمیشہ امن وامان کا داعی ہوتا ہے۔محبت ورواداری کا محرک ہوتاہے۔آپسی بھائی چارہ مروت و حسن اخلاق کا پیغام عام کرتا رہتا ہے۔فیض رسانی نفع بخشی میں مسلم و غیر مسلم کا فرق نہیں کرتا سکھ اور عیسائی کے درمیان کچھ امتیاز نہیں کرتا وہ پوری مخلوق کو اللہ کا کنبہ ’’الخلق عیال اللہ‘‘سمجھ کرسب کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے۔
آج کے اس پرآشوب دور میں جبکہ انسان ہی انسانیت کے دشمن ہو چکے ہیں پر امن ملک و معاشرے نفرت کے منھ میں جھونکے جا رہے ہیں انسان کش تحریکیں اور تنظیمیں چل رہی ہیں بھائی بھائی کا دشمن ہوتا جا رہا ہے ،فرقہ وارانہ فسادات کے باعث بستیاں اجاڑی جا رہی ہیں،بے قصور افراد موت کے گھاٹ اتاردئے جا رہے ہیں ۔چنانچہ ایسے حالات میں اب شدیدضرورت ہے کہ صوفی ازم کو عام کر دیا جائے اور تمام صلح پسند طبائع کے لوگ آگے بڑھ کر صوفی ازم کو عام کرنے میں اپنا تعاون دیں۔کیونکہ دہشت گردی،آتنک واد فرقہ پرستی کا مؤثرعلاج صوفی ازم کے علاوہ اور کہیں نہیں ہے۔آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ قابل مبارک بادہے کہ جوسسکتی ہوئی انسانیت کا درد محسوس کرتے ہوئے انسانیت سوز دور میں صوفی ازم کو عام کرنے کی شاندار کوشش کر رہا ہے۔خانقاہ مداریہ مکن پور شریف کا ولیعہد ہونے کی حیثیت سے تمام وابستگان اہل سنت سے پرخلوص گزارش کرتا ہوں کہ حضرت اشرف ملت علامہ سید محمد اشرف کچھوچھوی مدظلہ العالی کے قدم بہ قدم چل کر اس تحریک کو کامیابیوں سے ہمکنار کریں بالخصوص سلسلۂ مداریہ کے تمام مشائخ عظام پیران کرام و علمائے عظام سے ملتجی ہوں کہ اس بورڈ کو ہر ممکن تعاون دینے کے لئے ہمیشہ تیار رہیں۔

सूफीमत और मानवता: मौलाना फय्याज़ अहमद मिस्बाही शरावस्ती

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity


صوفی ازم اور انسانیت 
مولانا فیاض احمد مصباحی شراوستی
آل انڈیاعلماء و مشائخ بورڈ کی طرف سے منعقد بنام “صوفی ازم اور انسانیت ” سیمنار اپنی نوعیت کا پہلا سیمنار ہے جو ڈوبتی ہوئی انسانیت کی کشتی کو بچانے کے لیے صوفی ازم کی تعلیمات اور ہدایات کو پیش کر رہا ہے تاکہ موجودہ دور میں صوفیاء کرام کی تعلیمات اور ان کے اعمال کی روشنی میں ایک انسان دوسرے انسان کو پہچان سکے اور عالمی بحران کا خاتمہ ہو سکے ہم بورڈ کے سبھی اراکین کو سب سے پہلے مبارکبادی پیش کرتے ہیں !
ناظرین کرام ! محسن انسانیت حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کے وہ روشن پہلو جن کا زیادہ تر تعلق آپ کے اخلاق و کر دار اور تزکیہ نفس و تصفیہ قلب سے ہے انہیں کو ہی احسان و سلوک اور تصوف و طریقت کہا جا تا ہے اور اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جن کے اولین نمونہ اصحاب صفہ تھے، جنہوں نے بہت سی دینوی چیزوں سے بے نیاز ہو کر مسجد نبوی کے ایک مخصوص حصے میں مصروف عبادت و ریاضت ہو کر اپنے شب و روزگزار نے کو ہی اپنامطمح نظر بنالیا تھا یوں تو سبھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہر اعتبار سے سیرت نبوی کے پاکیزہ نفس و پا کیزہ قلب اور جامع شریعت و سنت تھے، اور ہر شعبہ زندگی میں ان کی یہ ساری مصروفیات تھیں، جب کہ اصحاب صفہ ہر طرف سے یکسو ہو کر مسجد نبوی میں خلوت گزیں ہو گئے تھے تصوف و طریقت کا مقصود اصلی معرفت نفس کے ساتھ معرفت الٰہی ہے، اور اس معرفت الٰہی خدا شناسی اور خد ارسی کیلئے علم کی شکل میں کتاب الٰہی اور عمل کی شکل میں ذات نبوی یہ دو ایسے نور ہیں جن کی رہنمائی میں ہی صراط مستقیم پر گامزن ہوکر خدا ئے سبوح و قدوس کی بارگا ہ تک رسائی ہو سکتی ہے اور اس کا قرب حاصل کیا جاسکتاہے۔ اسلامی تصوف کا امتیاز یہ ہے کہ یہ دنیا میں رہ کر دنیا سے بے نیازی کا حکم دیتا ہے اہل و عیال سے رشتہ اخوت و محبت قائم رکھتے ہو ئے ان کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے اسی طرح علم حاصل کر نے کی بطور خاص تاکید کر تا ہے اور کسب معاش و وزق حلال و اکل حلال و صدق مقال کی ہدایت دیتا ہے ان ساری صورتوں میں حکم الٰہی کی تکمیل اور رضا ئے الٰہی کی طلب اس کا اصل مقصد ہو تا ہے، یہی و جہ ہے کہ اسلامی تصوف کے حاملین خلق خدا کے درمیان رہتے ہو ئے بھی ان سے مستغنی اور خلاق عالم کی طرف متوجہ اور اس کے فضل و احسان کے طالب ہو تے ہیں۔
جسم کے ظاہری اعمال کے متعلق قرآن وسنت سے ماخوذ گہرے علم کو اصطلاح میں’’فقہ‘‘ کہتے ہیں اور دل کے باطنی اعمال کے متعلق قرآن وسنت سے ماخوذ گہرے علم کو اصطلاح میں’’تصوف‘‘ کہتے ہیں۔تصوف کے متعلق احادیث، کتاب الزھد، کتاب الرقاق، کتاب الاخلاق میں ان ابواب کے تحت ملتی ہیں:الکبر، السوء الظن، الظلم، البخل، الحرص، التحقیر والتکلف، الحسد، الریاء وغیرہ برے اخلاق ہیں۔ اورالاخلاص، الصدق، الصبر، الشکر، الرضاء، القناع، حسن الخق، الحیاء ، التواضع ، الحلم، الخوف، الفراس وغیرہ اچھے اخلاق ہیں۔لیکن صوفیاء کی اصطلاح میں اس کے معنی ہیں: اپنے اندر کا تزکیہ اور تصفیہ کرنا، یعنی اپنے نفس کو نفسانی کدورتوں ا وررذائلِ اخلاق سے پاک وصاف کرنا اور فضائلِ اخلاق سے مزین کرنااور صوفیاء ایسے لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنے ظاہر سے زیادہ اپنے اندر کے تزکیہ اور تصفیہ کی طرف توجہ دیتے ہیں اور دوسروں کو اسی کی دعوت دیتے ہیں اور لفظ صوفیاء ایسے لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اپنے اندرکے تزکیہ وتطہیر کی طرف توجہ دیتے ہیں ور اب یہ لفظ ایسے ہی لوگوں کے لیے لقب کی صورت اختیار کر چکا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں ایسے لوگوں کا اکثر لباس صوف یعنی اون ہی ہوتا تھا اس وجہ سے ان پر یہ نام پڑ گیااگرچہ بعد میں ان کا یہ لباس نہ رہا اور حدیث شریف کی کتابوں میں ایک حدیث ’’حدیثِ جبرئیل‘‘ کے نام سے مشہور ہے،اس میں ہے کہ ایک دن جبریل علیہ السلام انسانی شکل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ سوالات کیے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ:احسان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ: احسان یہ ہے کہ تم خدا کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر ایسی کیفیت نہ پیدا ہو کہ تم خدا کو دیکھ نہیں پا رہے ہو تو کم سے کم یہ یقین کرلوکہ وہ دیکھ رہا ہے اور بندہ کے دل میں اسی احسان کی کیفیت پیدا کرنے کا صوفیاء کی زبان میں دوسرا نام تصوف یا سلوک ہے۔ تصوف در اصل بندہ کے دل میں یہی یقین اور اخلاص پیدا کرتا ہے۔ تصوف مذہب سے الگ کوئی چیز نہیں، بلکہ مذہب کی روح ہے۔ جس طرح جسم روح کے بغیر مردہ لاش ہے، اسی طرح اللہ کی عبادت بغیر اخلاص کے بے قدر وقیمت ہے۔ تصوف بندہ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی محبت پیدا کرتا ہے۔ اور خدا کی محبت بندہ کو مجبور کرتی ہے کہ وہ خلقِ خدا کے ساتھ محبت کرے، کیوں کہ صوفی کی نظر میں خلقِ خدا، خدا کا عیال ہے۔ اور کسی کے عیال کے ساتھ بھلائی عیال دار کے ساتھ بھلائی شمار ہوتی ہے خدا کی ذات کی محبت بندہ کو خدا کی نافرمانی سے روکتی ہے اور بندگانِ خدا کی محبت بندہ کو ان کے حقوق غصب کرنے سے روکتی ہے۔ اس لیے صوفیاء حضرات کی زندگی حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پوری طرح ادا کرتے ہوئے گذرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو چیز انسان کو اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بنائے اور اس کے بندوں کا خیرخواہ بنائے اسکی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لوگ عام طور پر جب صوفی ازم اور تصوف پربات کرتے ہیں تو ان کے پیش نظر کچھ صوفیاء اور بزرگ ہوتے ہیں جوا پنی ذات میں بہت صالح، خدا ترس اورمتقی ہوتے ہیں ،خالق کی یاد میں مشغول رہنے والے اور مخلوق کے لیے سراسر رحمت صفت ان بزرگوں کے بارے میں لوگ بالعموم محبت اور حسنِ ظن کا تعلق رکھتے ہیں تاہم جب ہم علم تصوف کے بارے میں کوئی گفتگو کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر یہ بزرگ نہیں ہوتے ، بلکہ تصوف کی وہ روایت ہوتی ہے جسے قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھنا بہرحال ہماری ذمہ داری ہے۔
صوفی ازم انسان کا شعور ہر دور میں اس سوال کا جواب تلاش کرتا رہا ہے کہ اِس کائنات اور اِس کے بنانے والے سے کیا تعلق ہے ؟ اس سوال کا ایک مکمل جواب اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی دن سے اس شکل میں انسانوں کو دے دیا تھا کہ ان کے باپ اور پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو ایک نبی بنا کر بھیجا گیا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس رہنمائی کی یاد دہانی کے لیے ہر قوم اور ہر زمانے میں نبی اور رسول آتے رہے۔ اس رہنمائی میں اللہ تعالیٰ کی ذات ، صفات اور ان سے تعلق کی درست نوعیت کو بالکل کھول کر بیان کیا گیا تھا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان انبیاء کرام علیہم السلام کی اس رہنمائی کو فراموش کرتا گیا فراموشی اور غفلت کی اس فضا میں انسان نے اپنے طور پر اْن سوالات کی کھوج شروع کر دی جن کے جواب کے لیے یہ رہنمائی عطا کی گئی اس کھوج کی ایک شکل فلسفیانہ افکار کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ ان فلسفیانہ افکار نے مختلف شکلیں اختیار کیں ان میں ایک شکل وہ تھی جو مذہب سے بہت زیادہ متاثر تھی اور اس میں حقائق کی تلاش عقل کے بجائے باطن کی آوازاور وجدان کی بنیاد پر کی جاتی تھی۔ عقل اور وحی کے بجائے باطنی تجربے ، روحانیت اور وجدان کی بنیاد پر خدا سے تعلق کی یہ تحریک دنیا کے کم و بیش تمام مذاہب میں موجود رہی ہے۔بعض مذاہب مثلاً بدھ مت کی بنیاد ہی داخلی تجربے اور وجدان پر مبنی اس عالمی تحریک پر رکھی گئی ہے جبکہ بعض مذاہب میں جن میں یہودیت اور مسیحیت جیسے ابراہیمی مذاہب شامل ہیں اس کی ایک مستقل روایت موجود رہی ہے اسلام جب عرب سے نکل کر عجم پہنچا تو نومسلموں کے قبول اسلام کے ساتھ ساتھ یہ عالمی روایت، مسلم معاشرے میں خاموشی سے سرائیت ہونے لگا تھا تواس وقت مشائخ عظام، علماء کرام اور صوفیاء کرام اس روایت کو صوفی ازم یا تصوف میں داخل ہونے سے بچایا اس تفصیل سے یہ بات واضح ہے کہ تصوف ایک اسلامی تصور ہے اور ایک عالمی تحریک ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے انسانوں کی بھلائی کے بارے میں مکمل طور کوشاں رہتی ہے اور اسلام کے ظہورکے بعد جب دیگر مذاہب کے لوگوں کی بہت بڑ ی تعداد مسلمان ہوئی تو ان کے ساتھ تصوف کی یہ تحریک مسلمانوں کا دائرہ کار وسیع تر ہوتا گیا اور مسلمانوں کے بڑ ے بڑ ے اہل علم اس سے متاثر ہوئے اوراسے قرآن و حدیث سے مزین کئے تاہم یہ بات اپنی جگہ مبنی بر حقیقت ہے کہ ائمہ اہل تصوف جب خالص علمی انداز میں اپنے نظریات بیان کرنا شروع کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ ان نظریات کا تعلق اسلام سے مکمل طور پر ہے ،صوفیاء حضرات اپنی تعلیمات میں سب سے زیادہ جس چیز پر زور دیتے ہیں وہ عشق ومحبتِ خداوندی ہے ،کیوں کہ محبت ہی ایک ایسی چیزہے جو محب کو اپنے محبوب کی اطاعت پر مجبور کرتی ہے اوراس کی نا فرمانی سے روکتی ہے اور محب کے دل میں محبوب کی رضا کی خاطر ہر مصیبت وتکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی قوت وصلاحیت پیدا کرتی ہے،اور محبت ہی وہ چیزہے جو محب کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ایسا عمل کرے جس سے محبوب راضی ہو اور ہر اس عمل وکردارسے باز رہے جس سے محبوب ناراض ہو ،چنانچہ صوفیا حضرات اگر زہد، تقویٰ،عبادت،ریاضت اور مجاہدے کرتے ہیں تو ان کا مقصد صرف اورصرف خداکی رضا حاصل کرنا ہوتا ہے۔وہ جنت کی لالچ یا جہنم کے خوف سے خدائی بندگی نہیں کرتے چنانچہ حضرت رابعہ بصریہ اپنی ایک دعا میں فرماتی ہیں:’’خدایا! اگر میں تیری بندگی جنت کے لیے کرتی ہوں تو مجھے اس سے محروم رکھنا ،اگر میں جہنم کے خوف سے تیری عبادت کرتی ہوں تو مجھے اس میں جھونک دینا ،لیکن اگر میں تیری بندگی تجھے پانے کے لیے کرتی ہوں تو مجھے اپنے آپ سے محروم نہ رکھنا ‘‘(مقالات الاولیاء )
شیخ شبلی تو یہاں تک فرماتے ہیں: ’’الصوفی لا یریٰ فی الدارین مع اللہ غیراللہ‘‘ ( کشف المحجوب) صوفی دونوں جہانوں میں اللہ تعالیٰ کی ہستی کے علاوہ اور کسی چیز کو نہیں دیکھتا۔ ‘‘امام ربانی فرماتے ہیں :’’ مقربین بارگاہ الہٰی یعنی صوفیاء حضرات اگر بہشت چاہتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ ان کا مقصد نفس کی لذت ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ خدا کی رضا کی جگہ ہے ، اگر وہ دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ اس میں رنج والم ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ خدا کے ناراضگی کی جگہ ہے ، ورنہ ان کے لیے انعام اور رنج والم دونوں برابر ہیں۔ ان کا اصل مقصود رضائے الہٰی ہے،
صوفیاء حضرات کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کیے بغیر معرفتِ خداوندی اور نجات کا حصول نا ممکن ہے۔ چنانچہ امام ربانی شیخ احمد سرہندی ایک مکتوب میں لکھتے ہیں : ’’اس نعمتِ عظمیٰ یعنی معرفت خداوندی تک پہنچنا سیدالاولین والآخرین کی اتباع سے وابستہ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کیے بغیر فلاح ونجات ناممکن ہے۔ ‘‘محال است سعدی کہ راہ صفاتواں رفت جز درپئے مصطفٰے) شیخ احمد سرہندی : مکتوبات ، مکتوب 78 ،ج اول ، ص279(’’اے سعدی!یہ ناممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کیے بغیر خداکی معرفت اور تصفیہ قلب حاصل ہو سکے ‘‘۔یہی بات قرآن مجید میں اللہ تعالی اس طرح ارشادفرماتاہے۔ ترجمہ:آپ ان کو بتادیجیے کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو ، نتیجے میں ا للہ تعالی تم سے محبت کرے گا اس لیے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت خود خدا کی اطاعت ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالی ٰ ہے۔ ترجمہ’’جس شخص نے خدا کے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی۔ ‘‘کیوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ بولتے ہیں وہ وحی الہٰی ہی ہوتا ہے ، چناں چہ ارشاد باری ہے۔ترجمہ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی خواہشات سے نہیں بولتے ، وہ جو کچھ تمہیں دین کے بارے میں دے رہے ہیں وہ وحی الہی ہے، جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘اس لیے ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا ترجمہ:جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں رک جاؤ۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کا اس وقت تک ایمان کامل ہی نہیں ہو سکتا وہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر چیزسے زیادہ محبت نہ کرے اور اپنی ساری خواہشات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے تابع نہ بنادے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔تم میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے والدین اولاد اورسب لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب نہ رکھے۔ ‘’’ تم میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہشات میرے لائے ہوئے طریقے کے مطابق نہ ہوں ‘‘صوفیاء حضرات جتنے مجاہدے، ریاضات اور عبادات کرتے ہیں یا ان کا اپنے معتقدین کو درس دیتے ہیں ان کا اصل مقصد نفس کا تزکیہ اور تطہیر ہے چنانچہ ایک صوفی بزرگ فرماتے ہیں کہ اے دوست! چاہے ایک حرف’’الف‘‘ ہی پڑھ لو، لیکن اپنے اندر کو پاک و صاف کرلو ، اگر اندر کا تزکیہ و تطہیر نہیں کرتے تو زیادہ پڑھنے اور ورق گردانی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن و سنت کیا کہتے ہیں ؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک دعا نقل کی ہے ۔ترجمہ: اے ہمارے پروردگار !میری اولاد میں ان میں سے ہی ایک رسول بھیج ، جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے اندر کا تزکیہ کرے۔ ‘‘ابراہیم علیہ ا لسلام کی دعا سے ظاہر ہے کہ کسی نبی کی بعثت تلاوت آیات اور تعلیم کتاب وحکمت کا اصل مقصد لوگوں کے اندر کا تزکیہ ہے۔ غور کیا جائے تو واضح ہوگا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اصل مقصد تزکیہ ہی تھا کیوں کہ تلاوتِ آیات و تعلیمِ کتاب وحکمت کا اصل مقصد تو تزکیہ ہی ہے، کیوں کہ اگر تعلیم سے تزکیہ قلب و تطہیر نفس حاصل نہ ہو تو تعلیم و تعلم ، درس و تدریس سب فضول ہے ایک اور مقام پر ارشاد باری ہے ۔ترجمہ’’بے شک وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور وہ ناکام ونا مراد ہو گیا جس نے اپنے نفس کو مٹی آلود کر دیا‘‘۔تصوف جن رذائلِ اخلاق سے اپنے اندر کو پاک کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔وہ یہ ہیں۔ بد نیتی ،نا شکری، جھوٹ ، وعدہ خلافی ، خیانت ، بد دیانتی ، غیبت وچغلی ، بہتان ، بد گوئی و بدگمانی ، خوشامد و چاپلوسی ، بخل و حرص ، ظلم ، فخر ، ریا و نمود و حرام خوری و غیرہ۔اور جن چیزوں سے اپنے اندر کوسنوارنے کی تعلیم دیتا ہے، وہ یہ ہیں:اخلاصِ نیت، و رع و تقویٰ ، دیانت وامانت ، عفت و عصمت ، رحم وکرم ، عدل و انصاف ، عفو ودرگذر ، حلم و بردباری ،تواضع و خاکساری ، سخاوت و ایثار، خوش کلامی وخودداری ، استقامت و استغنا وغیرہ جیساکہ حضرت ابو القاسم قشیری کی کتاب رسالہ قشیریہ اورشیخ علی ہجویری کی کتاب کشف المحجوب اور ابو نصر کی کتاب کتاب اللمع سے ظاہر ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن و سنت کا بیشترحصہ ان ہی رذائلِ اخلاق سے بچنے اور فضائلِ اخلاق سے اپنے
آپ کو مزین کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور اگر صرف ارکانِ اربعہ چار اہم عبادات ، نماز ، روزہ ،زکوٰۃ ، و حج پر غورکیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن وسنت نے ان کا مقصد ہی تزکیہ نفس و تطہیرِ قلب بتایا ہے۔۔جس کا صوفیا درس دیتے ہیں اور صوفیائے کرام کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنے اور پرائے، نیک اور بد ، موافق اور مخالف سب کے ساتھ برداشت، رواداری اور حسن سلوک کا رویہ رکھتے ہیں اور اپنے معتقدین کو بھی اسی چیزکا درس دیتے ہیں، چنانچہ حضرت بصری کے بارے میں منقول ہے کہ : ’’ انہیں کچھ لوگوں نے بتایاکہ فلاں شخص آپ کی عیب جوئی کر رہا ہے ،تو آپ نے بجائے اس پر غصہ کرنے یا انتقام لینے کے بطور تحفہ اس کو تازہ کھجوریں بھیج دیں ‘‘۔
جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور جاہلانہ رویے سے پیش آتے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ نرمی کرنے ، درگذر کرنے ، رواداری سے پیش آنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ۔ترجمہ’’ عفو و درگذر سے کام لو ، اچھائی کا حکم دیتے رہو اور ان کی جاہلانہ باتوں سے روگردانی کرتے رہو۔ ‘‘۔
سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:’’قیامت کے بازار میں کوئی اسباب اس قدر قیمتی نہ ہوگا جس قدر دلوں کو راحت پہنچانا‘‘۔اور ان حضرات کے ہاں خلق آزاری سے بڑھ کر کوئی جرم نہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلقِ خدا کی خدمت پرابھارنے کے لیے مختلف طریقوں سے ترغیب دیتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا: بیواؤں اوریتیموں کی مدد کرنے والا خدا کے ہاں ایسا ہے جیسے مجاھد فی سبیل اللہ اور یہ بھی فرمایاکہ اس کو وہ اجر ملے گا جو ساری رات جاگ کر عبادت کرتا ہو اور جو ہمیشہ روزے رکھتا ہو۔‘‘مذکورہ بحث سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تصوف اور صوفیاء حضرات کی تعلیم در اصل قرآن و سنت کا نچوڑ اور اس کی عملی صورت ہے اور انسانیت کے لیے ضامن ہے.

रहमत तासव्वुफाना मिज़ाज रखती है :फरीदुद्दीन बस्तवी , अल जामियातुन निज़ामिया शकरोली, सनोली, महराज गंज, यूपी

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 رحمت تصوفانہ مزاج رکھتی ہے
فرید الدین بستوی
الجامعۃ النظامیہ شکرولی ،سنولی ،مہراج گنج یو پی
مذہب اسلام کی آمد سے قبل انسانیت جس جاں کنی کے عالم میں تھی وہ مورخ کی نوک قلم سے آج بھی تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ بچیوں کا زندہ درگور کیاجانا،اولاد م آدم کا غلامی کی بیڑیوں میں مقید ہونا،نسلا بعد نسل جنگوں کاچلنا،نوخیزبچیوں کوجبراً دریائے نیل کی آوارہ لہروں کے حوالے کرنا،بیواؤں کاستی ہونا،شمال سے لیکر جنوب تک شرق سے غرب تک ہرچہار جانب ظلم وجفا کابازارگرم تھا ۔قومی یکجہتی ،بھائی چارگی،اخوت ومحبت کادوردور تک نام ونشان نہ تھا ۔ایسے ماحول میں مذہب اسلام نے اپنی تصوفانہ تعلیمات کے ذریعہ کرۂ ارض پرایسا انقلاب بپاکیا کہ پوری دنیا اخوت ومحبت کاپیکر بن گئی۔ کلھم عیال اللہ کے سانچے میں ڈھل گئی۔ لافضیلۃ لعربی علی العجمی ولالعجمی علی العربی کا دستور مرتب ہوگیا۔بچیاں ذلت کے بجائے عظمت کامیناربن گئیں۔دریائے نیل کی رفتار پرہمیشگی کی مہر لگ گئی،غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئیں،بیوائیں چتاسے اٹھ کر شہنشاہی کاتاج زریں بن گئیں،انسانیت سوزی کا خاتمہ ہوگیا۔انسانیت سازی کی فضا ہموار ہوئی اورپوری دنیا میں اسلامی تصوفانہ تعلیمات سے آراستہ صوفیائے کرام نے انسانیت کی بکھری ہوئی زلفوں کوسرکی چوٹی کی مانند گوندھ دیا۔
۱؂ اسلام کی تصوفانہ تعلیمات پر جب ایک مؤرخ اپنا قلم اٹھا تا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصوفانہ زندگی اس کی نگاہوں کے سامنے ہو تی ہے ، میدان طائف کا وہ واقعہ جو رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیا جا سکتا ، پتھروں کو زندگی دینے والے مصطفی پر پتھروں کے دیش میں پتھروں کی بارش ہو رہی ہے ، جسم لہو لہان ہے ،پیر ہن چاک ہو رہے ہیں ، ملک جبال عرض کر رہا ہے ، پانی کا فرشتہ عرض کر رہا ہے ، ہواؤں پر قدرت رکھنے والا فرشتہ التجا کر رہا ہے : یا رسول اللہ اجازت دیں اس قوم کو تباہ کر دوں جو آپ کو لہو لہان کر رہی ہے ، جسم اطہر کو زخمی کر رہی ہے۔ارشادہوتاہے نہیں ،نہیں اے فرشتوں! ایسا نہ کرنا ، میں ایسی اجازت نہیں دے سکتا ، میں پوری دنیا کے لئے رحمت بن کر آیا ہوں ، رحمت تصوفانہ مزاج رکھتی ہے ، زخم تو کھاتی ہے ،زخم دیتی نہیں ۔اے فرشتوں! میں رب کی بارگاہ میں دعا گو ہوں’ ’اللھم اھد قومی فانھم لا یعلمون‘‘ اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے دے ، وہ تمہیں نہیں جا نتی ، تیرے رسول کو نہیں پہچانتی ، تیرے قرآن کو نہیں سمجھتی۔
۲؂ نبی کا یہ کردار پوری دنیا کے لئے انسانیت کا پیغام تھا ، صوفیائے کرام نے انہیں تعلیمات کی بدولت لوگوں کے دلوں میں شمع اسلام کو روشن کیا ۔
۱؂ نبی کا پیغام تشدد سے انحراف تھا ، ظلم و جفا سے دوری تھی ، قتل و غارت گری سے کنارہ کشی تھی ، وحدت انسانیت کی تعلیم تھی ، قومی یکجہتی کا درس تھا ۔
دین اسلام کی تبلیغ تصوفانہ کردار سے ہو ئی، تلواروں سے سرحدیں تو فتح ہو ئیں ، اسلحوں سے ملک زیر نگیں ہو ئے مگر دلوں کو فتح کرنے کا سلیقہ تصوف سے ملا ’’ اسلام کا فروغ بادشاہی ازم سے نہیں بلکہ صوفی ازم سے ہوا ‘‘ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں تو مٹ گئیں ، تلواروں کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا مگر دلوں کی حکمرانی آج بھی باقی ہے ، آج بھی خانقاہوں میںآرام فرمانے والے اصفیا ء دلوں پر حکومت کر رہے ہیں ۔ اور انسانیت نوازی کا پیغام دے رہے ہیں ، قومی یکجہتی کا نظام دے رہے ہیں ، بلا تفریق رنگ و نسل حاجت روائی کر رہے ہیں ۔
تصوف و تشدد دو متضاد چیزیں ہیں جہاں تصوف ہو گا وہاں تشدد نہیں اور جہاں تشدد ہوگا وہاں تصوف نہیں ہو سکتا ۔ آج مختلف ذرائع کے ذریعہ ایک متشدد قوم خود کو تصوف کا پیرو کار کہہ رہی ہے اور اپنے نام نہاد اکابرین کو حامئ تصوف بتا کر پیش کر رہی ہے ۔ اگر خطۂ نجد سے لے کر دیوبند تک ان کے متشددانہ کردار کی عکاسی کی جا ئے تو ان کے قول و فعل میں مشرق و مغرب کا بُعْد نظر آ ئے گا ۔
خطہ عرب میں سترہویں صدی سے لے کر آج تک ہو نے والی خونریزیاں نجدی تعلیمات کا نتیجہ ہیں اور وطن عزیز میں انگریزوں کے دور حکومت سے لے کر اب تک جو فسادات رونما ہو ئے بالواسطہ نجدی پیروکاروں کی وجہ سے ہو ئے ۔ جو قوم خانقاہوں کے خلاف کتابچے نکالتی رہی ہو، صوفیاء کے مزارات کو بت کدہ کہتی رہی ہو، مزارات پر جا نے والوں کو بت پرست کہتی رہی ہو، ان کا خانقاہوں سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا ، مزاروں سے کوئی واسطہ نہیں ہو سکتا ۔
دیوبندیت ایک موقع پرست تنظیم کا نام ہے ، خطۂ عرب سے لے کر ہند تک انگریزوں نے وہابی مشن کے ذریعہ اپنی حکومت کا سکہ بٹھا یا ۔ ملت واحدہ کو مختلف خانوں میں بانٹا ۔ محمد بن عبدالوہاب اور آل سعود کے ذریعہ سنت کے حامی ترکوں کے اقتدار کو ختم کیا اور چند نام نہاد عالموں کے ذریعہ محمد بن عبدالوہاب کی مشرکانہ ، کافرانہ ، گستاخانہ تعلیمات کو دیارِہند میں رواج دے کر ہندوستان سے مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ کیا اور مسلمانوں کی منظم تنظیم جو آزادئ ہند کے لئے کوشاں تھی ان کے درمیان انتشار کا بیج بو یا ، نتیجتاً خطۂ عرب میں ابن وہاب اور آ ل سعود کو ظاہری اقتدار ملا اور پس پست انگریزوں کا اقتدار جو کل بھی تھا اور آج بھی ہے اور ہندوستان میں دیوبندی جماعت جو ابن وہاب کی پیرو کار ہے وہ انگریزوں کی وظیفہ خوار ہو ئی ۔
آزادئ ہند کے بعد دیوبندی جماعت کے علماء نے کانگریسی حکمرانوں سے روابط قائم کئے ، ہندوستان کے مختلف خطوں میں کانگریس کے دور حکومت میں مسلم کش فسادات ہو تے رہے اور یہ موقع پرست تنظیم مسجدوں پر قبضہ کرتی رہی ،اوقاف پر قبضہ کرتی رہی ، اقلیتی امور پر اپنی اجارہ داری قائم کرتی رہی ، بچی تھیں خانقاہیں، ان پر بھی چند نام نہاد سیاسی رہنماؤں کے ذریعہ اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی فراق میں نظر آ رہی ہیں ۔
وقت کا تقاضہ ہے، احقا ق حق اور ابطال باطل ہو ، متشدد قوم کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو ، تشدد و تصوف کے فرق کو واضح کیا جا ئے ۔ وہابیت اور صوفیت کے درمیان خطۂ امتیاز کھینچا جا ئے۔

चिश्तिया सिलसिले की ख़िदमतों पर एक नज़र :सय्यद मोहम्मद सय्यदुल अनवार मदारी, सज्जादा नशीन मकनपुर शरीफ

 4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

خانوادۂ چشتیہ کی خدمات پر ایک نظر
سیدمحمدسیدالانوارمداری
سجادہ نشین مکن پورشریف

 

تصوف کے چودہ خانوادوں میں سے تصوف کا خانوادۂ چشتیہ بر صغیر پاک وہند کابہت مقبول و معروف سلسلہ ہے۔جو وسعت اور قبول عام اس سلسلہ کو کو نصیب ہوا وہ سب پر عیاں ہے۔شمال ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کے قیام سے لیکردور حاضر تک ہندوستانی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداداس خانوادۂ کی مختلف شاخوں سے وابستہ رہی ہے۔جس دور میں اس خانوادۂ کی مسندارشادپرحضرت خواجہ معین الدین چشتی ،حضرت قطب الدین بختیار کاکی ،حضرت فرید الدین مسعودگنج شکر،حضرت نظام الدین اولیاء اور حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی حضرت مخدوم سیداشرف جہانگیر،حضرت شاہ مینا جیسے مشائخ تصوف رونق افروز تھے۔اور اس گروہ کی مقبولیت اور اس کے اثرات کی ہمہ گیری اپنے کمال پر تھی خوش قسمتی سے اس دور کے بارے میں ہمارے پاس مستند تاریخی اور صوفی کا ماخذ کااچھا خاصہ ذخیرہ موجودہے۔
یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ چشتی صوفی مفکرین اور دانشوروں نے اس خانوادہ کے بنیادی مباحث اس کے دائر�ۂ کار اس کی مرکزی فکراور طریقۂ تعلیم واصول ومبادیات پرمستقل کتابیں تصنیف کی ہیں۔اور مسائل پربڑے عالمانہ انداز میں بھر پور روشنی ڈالی ہے۔اس طرح سے اس خانوادہ سے متعلق کسی گوشہ کو تشنہ نہیں چھوڑا۔خانوادہ چشت نے بر صغیر ہندو پاک میں اسلام کی توسیع و اشاعت کے لئے کتنی کوششیں کی ہیں وہ سب پر ظاہر ہیں ۔سلسلہ تصوف میں خانوادۂ چشتیہ کی خدمات جلیلہ کااگر ہم ذکر کریں تو بالخصوص اہل ہند کی رہنمائی اور پیشوائی میں اس کا اپنا ایک کردار ہے۔اس کی باقاعدہ بناعطائے رسول حضرت خواجہ معین الدین چشتی سے پڑی۔تزکیہ نفس اور طہارت قلوب اور اسلامی اعتدالی نظریہ خوب خوب واضح طور پرعملی جامہ اختیار کرکے بلا تفریق مذاہب اور رنگ ونسل تعلیمات دین اسلام کو عام کیااور اس گلشن اسلام کی خوب آبیاری کی۔آج بھی غیر منقسم ہندوستان کی یہ زمین اور یہاں کی تہذیب اس خانوادہ کی مرہون کرم ہے۔
یہ بات کسی کو سمجھانے اور بتانے کی ضرورت نہیں ہے جہاں ہمارے اصحاب سلسلۂ عالیہ مداریہ نے دعوت اسلام اورتبلیغ دین محمدیﷺفرماکرلوگوں کوکثرت سے اسلام میں داخل فرمایاوہیں اس خانوادۂ چشت کے مشائخ عظام نے باشندگان ہند کواسلامی تعلیمات اور اصول بندگی سے بھر پور آشنائی ہی نہیں بلکہ باضابطہ عظیم اور بزرگ علم کے ذریعہ اہل اسلام کووہ روشن و تابناک اور ہر خطرہ سے خالی رہگزر عطا کی۔جسے اصطلاحاًشرع مطہرہ نے صراط مستقیم سے تعبیر کیا ہے۔وہ بزرگ اور عظیم علم کوئی اور نہیں بلکہ وہ تصوف ہی ہے۔جس کا سہارا لیکرسبھی خانقاہوں نے تبلیغ اسلام فرمائی ۔چونکہ تصوف ہر قسم کی شدت سے دور ونفور رہنے کاپیغام دیتاہے۔اسی لئے بزرگان دین نے اس کا سہارا لیااور اس کے لئے بے شمارلوگوں کوداخل اسلام فرمایا۔
بصد افسوس کہنا پڑتا ہے کہ بعض ناعاقبت اندیش تفہیم دین خالص سے ناواقف اور عین اسلامی روح سے ناآگاہی کے سبب تصوف کو جانے کیا کیا نام دیکر بدنام کرتے ہیں۔آج جو بظاہرعصبیت سے خودکوموصوف کرکے سب سے بڑااپنے آپ کو توحید پرستی کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں۔ان کے پیشواؤں نے بھی تصوف کے اس خانوادہ چشتیہ کے حصول کا دعویٰ کرکے اور اپنے کو صوفی ظاہر کرکے عوام تک اپنے فرسودہ عقائدغیر مقلدانہ روش ونظریات کوبین المسلمین افتراق وانتشارپیدا کردینے والے خیالات کوبڑی خاموشی سے داخل کر دیا۔اور اس عظیم خانوادہ کانام بدنام کرنے میں اپنی پوری قوت صرف کی۔مگر جسے خدا رکھے اسے کون چکھے۔
الغرض!بزرگان دین کے کرم سے اور ان کی نگاہ فیض کایہ اثر ہے کہ آج بھی یہ خانوادہ عین اسلامی اور دینی راستہ پر چل کر لوگوں میں تبلیغ کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔تاریخ ماضی اس کی گواہ ہے۔اور کوشش احوال اور آج کی جدو جہد سے روشن اور واضح ہے ۔حالات حاضرہ میں سب سے بڑا عالمی خطرہ یہ ہے کہ اسلامی اصولوں کوشدت پسند عناصرجس نقطۂ نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اس سے ارباب اہل نظرواقف تو ہیں مگر کیا کریں اور کیانہ کریں کہ تشویس اور فکر میں ہیں۔
اس خانوادۂ عظیم اورسلسلہ عالیہ چشتیہ کے بزرگ شمع اشرفیہ ہاتھ میں لیکر خانوادۂ اشرفیہ کے چشم وچراغ نے اس درد کو محسوس کیا کہ ہم ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح رہنمائی نہیں ہو رہی ہے۔قوم بدحالی کا شکار ہے۔ہمارے نوجوان اور ذی اثربلکہ پوری قوم مسلم کے افراد پرطرح طرح کے الزامات عائد کرکے انہیں ستایا جا رہاہے۔امن و آشتی مفقود ہے۔
اور دائرۂ اسلام کو تنگ کیا جا رہا ہے۔قوم مسلم کو ذلیل و رسوا کرنے کی کوئی بھی صورت و شکل ہواسے اپناکراس کا استحصال کیا جا رہاہے۔دہشت گردی کا نام دیکراس قوم کا بے دریغ قتل عام ہو رہا ہے۔ایسے حالات میں ایسی تنظیم کی بنیاد رکھی ہے جو اسلاف کرام کی عطا کردہ و زمین ہے جسے خانقاہی نظام سمجھتے ہیں ۔اس کو عام کرنے کے لئے حضرت اشرف ملت نے تمام خانقاہوں کو آواز دی ہے۔سچ ہے سب کچھ بدل سکتا ہے مگر فطرت نہیں بدلتی حضرت خواجہ غریب نواز اورتارک السلطنت غوث العالم سید مخدوم اشرف جہانگیرسمنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روش و طریقہ جس کے خون میں شامل ہوجو مبلغین اسلام کا جانشین ہواسے یہ درد نہ ہوگاتو پھر اس کرب کوکون محسوس کرے گا۔اس خاندان و خانوادہ سے یہی امید تھی۔اور تمام خانقاہی حضرات کے دل کی خواہش آنجناب کے بدست پوری ہوتے دیکھ رہا ہوں ۔جو اس خانوادہ کی سابقہ روایات پرمبنی ہے۔قابل صد مبارکباد اور لائق تحسین کوشش اور سعی بلیغ ہے۔خاندان جعفریہ مداریہ نے جس ملک میں بڑی محنت و مشقت برداشت کرکے شجر اسلام کا پودا لگایا اور ہندوستانی قوم کومسلمان بنایا اور دولت ایمان و اسلام عطا کی اور جس قوم کی بھر پور اصلاح اس کی نشر واشاعت میں اس خانوادۂ چشتیہ نے اہم رول ادا کیا ہے۔ہم تمام وابستگان سلسلۂ عالیہ مداریہ اس خانوادہ کے داعی بے باک حضرت اشرف ملت قبلہ کے ساتھ ہیں ۔اور لوگوں سے اپیل و گزارش کرتے ہیں کہ اس عظیم خانواد�ۂ چشت کی خدمات کو آگے بڑھائیں اور سب قدم سے قدم ملاکرسب کو امن آشتی ہم آہنگی اور اسلامی روشن خیالی اور اسلام کے پاکیزہ نظام کو عام کریں ۔اوراپنی آواز کوساری دنیا میں پہونچائیں ۔تاکہ ساری دنیا کی سمجھ میں آجائے کہ اسلام دین فطرت ہے۔اور اسلام کیا چاہتا ہے؟

जमीअत उलमा का दावा सिर्फ एक प्रोपेगंडा : मौलाना अब्दुल वह्हाब क़ादरी मिस्बाही, जामिया अशरफिया मुबारकपुर

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

جمعیۃ علماء کا دعویٰ محض ایک پروپیگنڈہ
مولاناعبدالوہاب قادری مصباحی
جامعہ اشرفیہ مبارکپور
ہندوستان کی راجدھانی محبوب الہی کی نگری دہلی میں ’’ورلڈ صوفی فورم‘‘کے ذریعہ جب علمائے حق اور اسلاف کے جانشینوں نے دلائل حقہ و براہین قاطعہ سے اسلام وسنیت سے منحرف جماعتوں اسلاف بیزار تنظیموں اور دہشت گرد تحریکوں پر زور دار حملہ کیا ،ان کے عقائد و نظریات اور افکار وخیالات کو باطل و غلط قرار دیا ان کے طریقۂ کار کی پر زور مذمت کی اور دنیا کے سامنے ان کا اصلی چہرہ پیش کیا تو اس سے بدحواس ہو کر دیوبندی جماعت کی سب سے بڑی ٹھیکیدار تنظیم جمیعۃ علماء ہند نے اپنی عزت و آبرو بچانے اور اپنے متبعین کے درمیان پرانی عظمت کو بحال کرنے کے لئے صوفی سنی چشتی ہونے کا دعویٰ کیا اور۱۳؍نومبر2016کواپنا شجرہ ارادت شائع کرکے اور اجمیر شریف میں کانفرنس منعقد کرکے یہ اعلان کیا کہ ہمارا تعلق وہابیت اور سلفیت سے نہیں بلکہ سنیت اور خانقاہیت سے ہے۔
کتنی حیرت واستعجاب کی بات ہے کہ جمعےۃ علماء ایک طرف چشتی اور خانقاہی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے دوسری طرف طریقۂ اسلاف سے منحرف ،تصوف بیزار شخص مولوی رشید احمد گنگوہی سے اپنا رشتہ جوڑتی ہے جس کے اقوال بزرگان چشت اہل بہشت کے طریقۂ کار کے بالکل مخالف ہیں۔چنانچہ وہ اعراس کے تعلق سے کہتا ہے کہ کسی عرس اور مولود میں شریک ہونا درست نہیں اور کوئی سا عرس اور مولود درست نہیں۔(فتاویٰ رشیدیہ ص ۱۳۴)عرس کا التزام کرے یا نہ کرے بدعت اور نادرست ہے۔تعین تاریخ سے قبروں پر اجتماع کرنا گناہ ہے خواہ اور لغویات ہوں یا نہ ہوں۔(فتاویٰ رشیدیہ ص۱۳۴)
جمیعۃ علماء ہند کے چشتی ہونے کا دعویٰ اس وقت صحیح ہوتا جب وہ اپنا شجرۂ چشتیت مولوی رشید احمد گنگوہی کے ساتھ شائع نہ کرتے بلکہ اس کی ذات اور اس کے قبیح و شنیع اقوال کی پر زور مذمت کرتے اور ان سے بیزاری کا اعلان کرتے لیکن افسوس جمیعۃ علماء ہند نے ایسا کچھ بھی نہیں بلکہ مولوی رشید احمد گنگوہی کے جانشین ہونے کا اعلان کیا۔
قارئین!آپ غور کریں۔جب مولوی رشید کے مذہب کے مطابق اعراس کا التزام اورعرس میں شرکت بدعت و گناہ ہے تو پھر جمیعۃ علماء ہندمولوی رشید کی جانشین ہونے کے باوجود اجمیر شریف کے عرس میں بقول رشید احمدگنگوہی بدعتیوں کے بدعتی کام میں اعانت و مدد کیوں کرتی ہے۔تاریخ متعین کرکے اجمیر شریف میں کانفرنس کیوں کرتی ہے کیا مولوی رشید کے فتوے کی رو سے جمیعۃ علماء ہند بدعتی نہ ہوئی؟ اور بدعتیوں کی اعانت و مدد کرکے گناہ کاارتکاب نہ کیا؟کیا جمیعۃ مولوی رشید احمد کے اس فتوی کو نہیں جانتی ہے؟ضرور جانتی ہے پھر بھی اس طرح کے کام کرتی ہے تو اس کے اس عمل سے یہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس طرح کے امور انجام دینا محض سیدھے سادھے سنی مسلمانوں کو وہابیت کے دام فریب میں پھنسانا اور ان کے ایمان وآخرت کو برباد کرنا ہے۔حیف صد حیف نعوذ باللہ من ذلک ۔
جمیعۃ علماء ہند نے مولوی رشید احمد کو شیخ المشائخ الحاج امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ کا جانشین و خلیفہ بتایا ہے۔جانشین وخلیفہ اپنے پیرکا پیروکار اور ان کے فرامین وارشاد پرسختی سے عمل پیرا ہوتا ہے مگر مولوی رشید نے ان کے اقوال پر عمل کرنے کے بجائے ان کے عقائد و نظریات سے اختلاف ہی نہیں بلکہ ان کی فیصلہ کن کتاب’’ہفت مسئلہ‘‘کو نذر آتش بھی کر دیا ہے۔اس کا پورا واقعہ یہ ہے کہ سہارن پور اور اس کے اطراف وجوانب کے چند مولویوں نے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مجلس خیر کے تعلق سے چند دیوبندی مولویوں سے استفتا کیا اس کے جواب میں جناب گنگوہی صاحب نے لکھا کہ ’’ایسی مجلس ناجائز ہے اور اس میں شریک ہونا گناہ ہے اور خطاب جناب فخر عالم علیہ السلام کو کرنا اگر حاضر وناظر جان کر کرے کفر ہے ایسی مجلس میں جانا اور شریک ہوناناجائز ہے اور فاتحہ بھی خلاف سنت ہے یہ رسوم بھی کہ یہ سنت ہنود کی رسم ہے۔اس زمانہ میں یہ میلاد و فاتحہ کے خلاف پہلا فتویٰ تھا جو چار ورقی تھا اور ۱۳۰۲ ؁ھ میں مطبع ہاشمی میرٹھ سے شائع ہوا ۔پھر دوسرا فتویٰ مطبع ہاشمی میرٹھ ہی سے چھپا جو چوبیس صفحہ پر مشتمل تھا ان فتوؤں نے مسلمانوں میں کافی اختلاف وانتشار کا بیج بویا اور عوام اہل سنت کو طرح طرح کے شکوک وشبہات میں مبتلا کر دیا ان ہی اختلاف و انتشار کو دور کرنے کے لئے شیخ المشائخ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ کے خلیفہ صادق حضرت مولانا عبدالسمیع بے دل سہارنپوری علیہ الرحمہ نے انوار ساطعہ در بیان مولود وفاتحہ تصنیف فرمائی جب یہ کتاب چھپ کر منظر عام پر آئی مولوی رشید احمد تک پہونچی تو اس نے اس کے جواب میں البراہین القاطعہ علی ظلام الانوار الساطعہ المقلب بالدلائل والواضحۃ علی کراھۃ المروج من المولود الفاتحہ تحریر کی۔اس کتاب میں گنگوہی صاحب اس قدر آپے سے باہر ہو گئے کہ نہ صرف میلاد فاتحہ و عرس کو بدعت و ناجائز لکھا بلکہ ا نہیں کنیہاکے جنم ،ہندؤں کے سوانگ سے بھی تشبیہہ دے دی۔اور میلاد کرنے والے مسلمانوں کو کفار وہنودسے بدتر قرار دیا(براہین قاطعہ)بلکہ بد حواسی میں یہ بھی لکھ مارا کہ (۱)اللہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے۔براہین قاطعہ ص ۱۰۔
(۲)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام انسانوں کی طرح ایک بشر ہیں۔ایضاً(ص ۱۲)(۳)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم شیطان اور ملک الموت سے کہیں کم ہے شیطن اور ملک الموت کے علم کا وسیع ہونا نصوص قطعیہ اور دلائل یقینیہ سے ثابت ہے جب کہ فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت علم کا ثبوت کسی نص قطعی اور دلیل یقینی سے نہیں اس لئے آپ کے لئے وسیع علم ماننا شرک ہے۔ایضاً(ص۱۲۲)
(۴)سرکار کو اپنے خاتمہ کا حال معلوم نہیں اور انہیں دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں ۔ایضا(ص۱۲۱)
(۵)فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اردو علمائے مدرسہ دیوبند سے سیکھی۔ایضا (ص۶۳)معاذ اللہ
جب یہ اختلاف کافی حد تک بڑھ گیا تو اپنے خلفاء کے درمیان مسلکی اختلاف کی اطلاع پاکر ان کے تصفیہ کے لئے حاجی صاحب نے ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘نام سے ایک مختصر سی کتاب لکھی جو مولود شریف،فاتحہ،عرس وسماع،ندائے غیر اللہ،جماعت ثانیہ،امکان نظیر امکان کذب الہی جیسے مضامین پرمشتمل ہے جب یہ کتاب مولوی رشید احمد کے پاس پہنچی تو ا سنے اسے نذر آتش کر ا دیا چنانچہ خواجہ حسن نظامی کہتے ہیں ۔نذر آتش کرنے کی یہ خدمت میرے والد گرامی حضرت خواجہ علی حسن نظامی کے سپرد ہوئی جو اس وقت گنگوہ میں حضرت مولانا رشید احمد کے یہاں زیر تعلیم تھے ۔لیکن خواجہ صاحب نے جلانے سے پہلے اس کو پڑھا اور جب ان کو وہ کتاب اچھی معلوم ہوئی تو انہوں نے استاذ کے حکم کی تعمیل میں آدھی کتاب تو میں نے جلا دی اور�آدھی بچا کر رکھ لی ۔اس کے کچھ عرصہ بعد مولانا اشرف علی تھانوی مولانا گنگوہی سے ملنے آئے اور ان سے پوچھا کہ میں کچھ کتابیں تقسیم کرنے کے لئے آپ کے پاس بھیجی تھیں ان کا کیا ہوا ؟مولانا گنگوہی نے اس کا جواب ’’خاموشی‘‘سے دیا ۔لیکن کسی حاضر الوقت نے کہا کہ علی حسن (والدخواجہ حسن نظامی )کو حکم ہو اتھا کہ انہیں جلا دو ۔مولانا تھانوی نے میاں علی حسن سے پوچھا کہ کیا واقعی تم نے کتابیں جلا دیں؟انہوں نے جواب دیا کہ استاذ کا حکم ماننا ضروری تھا اس لئے میں نے آدھی کتابیں جلا دیں اور آدھی میرے پاس موجو دہیں۔حضرت خواجہ صاحب بیان کرتے تھے کہ مولانا تھانوی اس سے اتنے خوش ہوئے کہ آم کھا رہے تھے فوراًدو آم اٹھا کر مجھے انعام میں دے دئے ۔(ماہ نامہ منادی دہلی جلد ۳۹،شمارہ۱۲ص۲۲ بحوالہ تقدیس الوکیل )
قارئین!پوری تحریر پڑھنے کے بعد آپ خود فیصلہ کریں کہ جو شخص شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم و الوہیت میں توہین وگستاخی کرے ،اپنے پیرومرشد کی کتاب جلا دے تو وہ کیا سنی صوفی چشتی ہو سکتا ہے؟کیا وہ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ اور شیخ المشائخ کا جانشین ہو سکتا ہے۔نہیں ہر گز نہیں ۔تو پھر محمود مدنی اور مولوی عثمان منصوری پوری کے صوفی ،سنی ،چشتی ہونے کا دعویٰ کیسے صحیح و درست ہو سکتا ہے؟یہ تو ایک محض دھوکہ اور فریب ہے۔الامان والحفیظ۔

 

मानवता के अस्तित्व और रक्षा, और उसके हल का एक ज़रिआ तसव्वुफ और खानक़ाहों में है : नुरुल हुदा मिस्बाही, गोरखपुर सज्जादा नशीन खानकाह बरकातिया अज़ीज़िया गोरखपुर : प्रतिनिधि रोज़नामा राष्ट्रिय सहारा गोरखपुर

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

انسانیت کی بقا و تحفظ اوراس کے حل کا واحد ذریعہ تصوف اور خانقاہوں میں ہے
نورالہدیٰ مصباحی گورکھ پوری
سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ عزیزیہ آراضی چلبلوا، بھٹہٹ گورکھ پور
نمائندہ روزنامہ راشٹریہ سہارا گورکھ پور

اس ترقی یافتہ دور میں انسان علم و ہنر کے مراحل سے گزر کر خود کو تمام صلاحیتوں کاجامع سمجھنے لگا ہے۔ وہ اس فانی دنیا میں اس قدر مگن اور غرق ہے کہ اسے اپنی بے وقعتی کا بالکل احساس نہیں۔ حالانکہ اس کی حاصل کی ہوئی ترقی کا ہر ستون ہر لمحہ کمزور ہوکر اس کے ناقص علم کی بظاہر پر شکوہ عمارت کو ڈگمگاتا رہتا ہے۔ ترقی کی آڑ میں پوشیدہ تنزلی ، علم کے دھوکا میں جہل اور اختیارات کے فریب کی جڑ میں کمزوری اکثر وبیشتر اس ہلتی عمارت سے کسی ستون کو منہدم بھی کردیتے ہیں، جس کی بے شمار مثالیں ہمیں آئے دن ہر سطح اور ہر شعبہ میں نظر آتی ہیں۔
آج ٹکنالوجی کے جن مراحل کو ترقی کی شان سمجھا جارہا ہے، وہ کبھی نہ کبھی اپنی اصل ظاہر کرتے ہوئے انسان کے لیے رحمت کی جگہ زحمت بن جاتے ہیں۔ تمام عالم میدان حشر کا نمونہ بنتا جا رہا ہے، جہاں160ہر نفس اپنی ذات میں160گم اور مطلب و مفاد پرستی میں سراپا غرق ہورہا ہے، انسانیت ہر وقت ایک انجانے خوف اور ایٹمی جنگ کے مہلک اثرات سے لرزاں ہے۔اس کرب ناک دور میں کیا کوئی ایسی شئی ہے جو انسان کو اسے ذہنی اور قلبی سکون عطا کرسکتی ہے؟ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ اعتراف کرنا پڑیگا کہ جب بھی اس قسم کے ناگفتہ بہ حالات پیدا ہوئے ہیں، تو ہمیشہ تصوف اور حقیقی ارباب تصوف نے آگے بڑھ کر ان کا مقابلہ کیا ہے۔ تصوف ایسا علم ہے جس کے ذریعے نفوس کے تزکیہ ، اخلاق کی صفائی اور ظاہرو باطن کی تعمیر کے احوال کو جانا جاتا ہے، تاکہ ابدی خوش بختی حاصل ہوسکے۔
تصوف اسلام کا پہلا دور ان نفوس قدسیہ پر مشتمل ہے جنہیں صحابہ کہا جاتا ہے۔ اور جنھوں نے بارگاہ نبوی سے تطہیر قلب و تزکیہ نفس کے اصول و آداب سیکھے۔ ایثار و قربانی کے جذبۂ صادقہ سے حصہ خاص پایا، جو د و سخا کا اصول پایا۔ خوف و خشیت الٰہی سے قلب و جگر کو گرمانے والے طریقے سیکھے۔ نفس کے ساتھ جہاد اور اعمال و اخلاق حسنہ کی تعلیم حاصل کی۔ تصوف کے اندر زہد کو بڑا اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ صوفیائے کرام نے زہد و ورع کو تصوف کے شعبوں میں160بطور خاص ذکر فرمایا ہے۔ علما و اصفیا فرماتے ہیں کہ دل کو دینا کی خواہش و محبت سے خالی کرکے اسے اللہ کی محبت و معرفت سے آباد کرنے کا نام زہد ہے۔ زہد کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ انسان دنیا کو ناقابل اعتنا سمجھے۔ قرآن و احادیث میں جابجا دنیا کی محبت کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ علیہ دنیا کے بارے میں ایک حدیث نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے دنیا کو پسند کیا اس نے آخرت کا نقصان کیا۔ اور جس نے آخرت کو پسند کیا اس نے دنیا کا نقصان کیا تو اس چیز کو اختیار کرو، جس کا نفع پائدار اور دائمی ہے، اس کو چھوڑو جو صرف چند دن ہے۔
تصوف ابن آدم کی سرشت کا گراں قدر راز سربستہ ہے، جس کا حصول مادیت اور ظاہری چکا چوند کو شکست دینے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ وہ کوئی سائنس ،فلسفہ نہیں ہے جس کی تعبیریں اور مفہوم زمانہ کے نشیب و فراز کے ساتھ بدلتے رہیں۔ محسن انسانیت حضور اکرم کے عہد مبارک میں160بھی اس کی وہی تعریف تھی جو آج ہے، تصوف کا راستہ اختیار کرنے والے قرآن و سنت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ قرآن کریم میں160بے شمار واقعات نبیوں و رسولوں کے زہد و تقویٰ اور تسلیم و رضا کے ذریعہ قائم کردہ تصوف کے سلسلے کی نشا ند ہی کرتے ہیں، قرآن مجید نے خواتین کو بھی تصوف کے راستے کا راہی بنایا ہے۔ بے آب و گیاہ وادی میں حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی تنہائی میں160توکل کی دولت اور اس کی بدولت ایک ابدی چشمے کا پھوٹنا اور قیامت تک اس فیض باری کا جاری رہنا، انبیاے کرام علیہم السلام کی مقدس ذاتوں کے علاوہ بھی قرآن مجید نے تصوف کے سلسلے کو جاری رکھا۔ سورہ کہف میں160نماز والوں کا معاملہ۔ عہد نبوی کے بعد تصوف کا سلسلہ صحابہ کرام و تابعین و تبع تابعین کے ذریعہ آگے بڑھتا رہا۔ یہ سلسلہ ہر زمانہ میں160موجود رہا، اور موجود رہیگا۔ تصوف کا گہرا تعلق تفکر سے بھی ہے۔ قرآن مقدس جہاں ایک طرف ذکر و دعا کی ترغیب دیتا ہے وہیں160 اور فکر اور تدبر کی بھی ترغیت فراہم کرتا ہے۔ سنت نبوی کی سب سے پہلی مثال غار حرا میں ملتی ہے، جو اسلام کی سب سے پہلی خانقاہ تھی۔
دنیا آج بھی جس افراتفری ، شخصی بغض و عناد ، خود غرضی و مفاد پرستی اور ہر ممکنہ بد عملی کا شکار اور برائیوں میں گرفتار ہے اس میں160اگر اسے کوئی چیز درکار ہے تووہ ہے رحمت و عافیت۔آقا نے آنے والے زمانہ کے سلسلے میں160فرمایاتھا کہ عن قریب ایسے فتنے بپا ہوں گے جن میں160بیٹھنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا، چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ جو ان فتنوں کی طرف جھانکیگا وہ اس کی طرف آئیں گے۔ لہذا جو شخص بھی کوئی پناہ گاہ کے تصور کو ہی نمایاں نہیں160کرتا بلکہ خانقاہوں کا وجود صرف پناہ گاہ کی تصور کو ہی نمایاں نہیں کرتا بلکہ ٹھہرنے، قیام کرنے غور و فکر کرنے کی بھی ترغیب دیتا ہے۔ خانقاہی نظام میں خوش خلقی و تواضع۔ ایثار و قربانی کا مزاج بنتا ہے اخلاص و بے نفسی اور اخلاقی اقدار کو اپنی شخصیت کا لا ینفک حصہ بنانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، مقصد حیات سے ناواقف اس راز سے آگاہ ہوئے ہیں۔ اور خالق و مخلوق کے رشتے سے آشنا ہوتے ہیں۔ وہ ظاہر و باطن میں یکسانیت پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔ حضرات صوفیہ کے یہاں صبر و شکر اور ایثار کی جیسی مثالیں ملتی ہیں، ان کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر یہ بات طے ہوچکی ہے کہ صالح و صحت مند معاشرہ کی تشکیل و تعمیر۔ اور امن عالم، آپسی میل محبت کے لیے صوفیاے کرام ان کی تعلیمات و خدمات و افکار کی خصوصیت کیساتھ ترویج و اشاعت کی جائے۔ حدیث شریف میں ہے کہ تمام مخلوق اللہ تبارک و تعالیٰ کا کنبہ ہے۔ اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس مخلوق کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔ لہذا تصوف سے ہی تفریق و انتشار کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ تاریخ اس کی گواہ بھی ہے۔ حجر اسود نصب کرنے والا واقعہ اس کا واضح ثبوت پیش کرتا ہے۔ یہ واقعہ مراصل اسلام نیز تصوف کے روحانی پیغام کا علم بردار ہے۔ اگر ذرا سی حکمت عملی سے کام لیا جائے۔ تو اس واقعہ کی روشنی میں آج بھی بہت سے اختلافی مسائل کے حل نکل سکتے ہیں۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج کچھ لوگ تصوف اور چشتیت کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح عوام کو اپنے دام فریب میں پھنسانے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں160جو برسوں سے مزارات اور بزرگان دین پر طعن و تشنیع کی بوچھار کرتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ تصوف اور صوفی ازم کے نام پر پوری دنیا میں گھوم گھوم کر اپنی دوکان چمکانے والے نام نہادوں کو جب آل انڈیا علمامشایخ بورڈ کے قومی صدر پیر طریقت انٹرنیشل اسلامی اسکالر علامہ سید محمد اشرف کچھوچھوی نے بینقاب کرتے ہوئے جب ان اصل تعارف کرایا تو لوگ حیرت و استعجاب کے عالم میں پڑ گئے اور پھر ان لوگوں کے لیے لمبی چوڑی دنیا تنگ ہوتی ہوئی نظر آنے لگی۔ اپنا دائرہ سمٹتا ہوا دیکھ کر طرح طرح کے پلان بنائے جانے لگے۔ حضرت علامہ سید محمد اشرف کچھوچھوی نے راقم الحروف سے دوران گفتگو بتایا کہ آج بھی اگر خلوص و للہیت کے ساتھ سنت رسول کے آئینہ میں160کام کیا جائے۔ تو دین کا بڑا کام ہوسکتا ہے۔ تصوف اپنی ہمہ گیر اور افادیت کی وجہ سے آج مغربی دنیا کا بھی مقبول و محبوب موضوع بن چکا ہے۔ بر صغیر ہند و پاک سے زیادہ اہل مغرب اس کی اہمیت کو محسوس کرکے اپنی اپنی سطح پر اس کی اشاعت و ترویج میں کوشاں ہیں کیوں کہ ہر ایک کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ انسانیت کی بقا و سلامتی ہے۔ اور اس کے حل کا واحد ذریعہ تصوف اور خانقاہوں کا وجود ہے۔

 

मानवता के अस्तित्व में नैतिकता का किरदार, तसव्वुफ की शिक्षाओं के विशेष संदर्भ में डाक्टर सईद बिन मखाशिन सहेयक प्रोफेसर, अरबी विभाग मौलाना आज़ाद नेशनल उर्दू यूनिवर्सिटी

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

 

 

انسانیت کی بقا میں اخلاقیات کا کردار،تعلیمات تصوف کے خصوصی تناظر میں
ڈاکٹر سعید بن مخاشن
اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبہ عربی
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی

الحمد للہ الذی خلق الانسان وزینہ بمحاسن الاخلاق والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد المبعوث لتکمیل مکارم الاخلاق وعلی آلہ وصحبہ الذین اھتدوا بھدیہ الی معارج الاخلاق
انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ انسانیت نے سب سے پہلے اخلاقیات کا لفظ ،معنی اور مفہوم انبیاء کرام علیہم السلام کی افعال مقدسہ اور اقوال مبارکہ سے جانا،یہی وہ نفوس قدسیہ ہیں جنھوں نے انسانیت کواخلاقیات کے مزین لباس اور مرصع اکلیل سے زینت بخشی.اور اپنی قوموں کے سامنے بداخلاقی کے تیز وتندآندھیوں کے باوجود اخلاقیات کے چراغوں کو روشن کیاجس کے فیضان نور سے بد اخلاقیوں کی ظلمتیں رفتہ رفتہ کافور ہوتی گئیں اور انسانی افراد پر مشتمل ایک صالح معاشرہ کی تشکیل عمل میں آئی.
تعلیمات تصوف کا مرکز ومحورتزکیہ نفس اور اسکا عملی مظہر اخلاق کریمانہ ہے جوکہ انسانیت کی بقا کیلئے لازم وملزوم کا درجہ رکھتے ہیں ۔ درحقیقت تزکیہ نفس ہی سرورکائنات ﷺ کی بعثت کا مقصد ہے ۔اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم یتلو علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ(آل عمران:۱۶۴) بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایاکہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اسکی آیتیں تلاوت کرتے ہیں اور ان کا تزکیہ کرتے ہیں اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے ہے.
اس آیت میں تزکیہ کے ساتھ تلاوت آیات اور تعلیم کتاب وحکمت کا جو ذکر آیا ہے وہ تزکیہ کے وسائل اور ذرائع ہیں،جیساکہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی بعثت کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق۔مجھے اخلاق کریمانہ کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے۔
راہ ہدایت سے بھٹکی ہوئی انسانیت کو دوبارہ جادہ حق پر گامزن کرنے کیلئے انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کا سلسلہ حضوراحمد مجتبی محمد مصطفی علیہ التحیۃ والثناپر مکمل ہوگیا.اب جب کبھی مسلمانوں کے ایمانی حرارت میں اضمحلال ،دینی جذبہ میں پژمردگی ،اعمال میں کوتاہی اوراخلاقی اقدارمیں انحطاط طاری ہوتا ہے دنیا نظریں اٹھاکر ان نفوس عالیہ کے آمد کی منتظر رہتی ہے جو تمام عالم کو اخلاق کریمانہ کے بھولے ہوئے اسباق دوبارہ یاد دلا کر ان کے سروں پر عز وشرف کے تاج رکھتے ہے،جن کی ایک نظر عنایت سے دلوں کے حال بدل جاتے ہیں اورکیمیا اثر صحبت سے ایمانی حرارت پیدا ہوجاتی ہے،یہی وہ نفوس عالیہ ہیں جنھیں آپ اور ہم اولیاء اللہ اور صوفیاء کرام کے نام سے یاد کرتے ہیں، جن کے علم وفضل اور رشدوہدایت کا سورج دنیا کے ہر خطہ میں طلوع ہوتا ہے اور ان کی تعلیمات اور فرمودات کے انوار سے دنیا کے تمام علاقے منور اور فیضان سے تمام خطے عرصہ دراز سے سیراب ہوتے آرہے ہیں،جن کی صحبت با فیض دلوں میں اسلامی اوامر اور احکامات جاگزیں کردیتی ہیں او ران کی مجلس میں حاضر ہونے والاہر شخص اسلامی اخلاق وکردا ر کا عملی نمونہ بن کر انسانیت کی صلاح ،فلاح اور بقا کا ضامن بن جاتاہے.
تعریف:صوفیاء کرام کے تعلیمات ،فرمودات اور نگارشات کی روشنی میں اگر اخلاقیات کی تعریف او رارکان کا جائزہ لیا جائے تو اس بات میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا کہ آج کی سسکتی ہوئی انسانیت کیلئے تصوف اور تعلیمات ہی محفوظ پناہ گاہ ہے ،جہاں انسانیت نہ صرف اپنے وجود کی حفاظت کرسکتی ہے بلکہ اس کی ترقی اور عروج بھی اسکا مقدر بن جاتی ہے.
غرض وغایت:
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اخلاق کی غرض وغایت حصول سعادت قرار دیتے ہیں جو انسانیت کی بقا اور ترقی کیلئے لازم وملزول کی حیثیت رکھتی ہے،آپ ؒ رقم طراز ہیں:
’’یہ واضح رہے کہ انسان میں ایک بہت بڑا کمال ودیعت ہے، جس کا تقاضہ اس کی صورت نوعیہ کرتی ہے ۔یعنی انسان جس ہیئت وصورت کی وجہ سے انسان کہلاتا ہے اس کا تقاضہ ہے کہ ا س میں یہ ’’عظیم الشان کمال‘‘موجود ہو جس سے تمام مخلوق الہی محروم ہے اور اسی کا نام سعادت حقیقی ہے.(حجۃ اللہ البالغۃ ، بحث سعادت، ص ۵۰)
دین اسلام ’’خلق‘‘ ہی کا دوسرا نا م ہے۔اور تصوف کی حقیقت بھی ’’خلق‘‘کے علاوہ او رکچھ نہیں ہے۔حضرت محمد بن علی بن اما م حسین بن علی رضی اللہ عنھم فرماتے ہیں:’’التصوف خلق، فمن زاد علیک فی الخلق زاد علیک فی التصوف‘‘(حضرت سید علی بن عثمان ہجویری: کشف المحجوب، مترجم :غلام معین الدین نعیمی اشرفی،لاہور، دعا پبلی کیشنز، ۲۰۱۲،ص۵۵)تصوف اخلاق کریمانہ کا نام ہے پس جو شخص جس قدر اخلاق حسنہ کا مالک ہے اسی قدر تصوف میں بھی بلند درجہ کا حامل ہے .
حضرت مرتعشؓفرماتے ہیں:’’التصوف حسن الخلق‘‘تصوت اخلاق حمیدہ کا نام ہے۔(کشف المحجوب،ص۵۸)حضرت ابو علی قزوینی ؒ فرماتے ہیں:’’التصوف ھوالاخلاق الرضیۃ‘‘پسندیدہ اور محمودہ افعال واخلاق کا نام تصوف ہے(حوالہ سابق)
اسکے علاوہ خلق حسن کے بارہ میں علماء اخلاق کے مختلف اقوال پائے جاتے ہیں:
(۱)حسن خلق کی حقیقت، جودو کرم کی بہتات، ایذادہی سے پرہیز اور ایذاوتکالیف کی برداشت میں مضمر ہے.
(۲)حسن عمل پر ثبات، اور بد عملی سے پرہیز ، حسن اخلاق کا مصدر ہیں .
(۳)رذائل سے پاک اور فضائل سے مزین رہنے کا نام حسن خلق ہے۔
حسن اخلاق کے ارکان:
حسن اخلاق اور اخلاق فاضلہ کے چار ارکان ہیں:صبر، عفت، شجاعت اور عدل.(مدارج السالکین، ج۲ ص۱۷۶)
خلاقیات شریعت کی نظر میں:
اسلام ،جوساری انسانیت کیلئے ایک آفاقی اور عملی مذہب ہونے کے ساتھ ساتھ فطرت سلیمہ اور عقل کریم کے عین مطابق ہے،جس کے دینی او ردنیوی قوانین ہر گوشہ میں کامل و مکمل ہیں اسی طرح اس گوشہ اخلاقیات میں بھی ایک بے نظیر او بلندقانون کا پیغامبر ہے.اللہ کے رسول دﷺ نے اپنی بعثت کا سب سے بڑا مقصد ومرکز ’’اخلاق‘‘ کے’’عروج کامل‘‘ ہی کو بتا یا ہے۔انی بعثت لاتمم مکارم الاخلاق:میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ اخلاق کریمانہ کو ان کی آخری بلندیوں تک پہنچاؤں. اور قرآن عزیز نے آپ کے لئے سب سے بڑا شرف اسی کو قرار دیا ہے ۔انک لعلی خلق عظیم: بلاشبہ آپ عظیم الشان اخلاق کریمانہ کے حامل ہیں.
علاوہ ازیں اللہ کے رسول ﷺ نے نہ صرف حسن خلق کے فضائل بیان کئے ہیں بلکہ اس عظیم صفت سے متصف ہونے والے بندوں کے لئے خوشخبری بھی سنائی ہے:
قال رسول اللہ ﷺ خالق الناس بخلق حسن(ترمذی)لوگوں سے حسن اخلاق کا معاملہ کرو۔قال: ان من اخیرکم احسنکم خلقا(بخاری)آپﷺ نے فرمایا : تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جوحسن اخلاق کا مالک ہو۔عن ابی الدرداء ان النبی ﷺ قال ما من شیء اثقل فی میزان المؤمن یوم القیامۃ من خلق حسن ،وان اللہ لیبغض الفاحش البذی(ترمذی) نبی اکرمﷺ نے فرمایا مسلمان کے لئے قیامت کے روز میزان عدل میں خلق حسن سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہ ہوگی۔ او راللہ تعالی بدگو بد خلق کو سخت ناپسند کرتا ہے.
قال رسول اللہﷺ انی بعثت لاتمم مکارم الاخلاق(طبرانی)آپ ﷺ نے فرمایا :میر ی بعثت کا مقصد یہ ہی کہ میں محاسن اخلاق کی تکمیل کروں.
اس قدر مختصر الفاظ میں ایسی بلند حقیقت کا اظہار کیاگیا ہے کہ رہرو راہ طریقت اور صاحب خلق حسن کے لئے اس سے زیادہ بہتر راہنمائی ناممکن ہے اس لئے کہ ’’حسن خلق‘‘جبکہ ایسی حقیقت کانام ہے جو حقوق و فرائض کی صحیح نگہداشت کرتی ہے او رانہیں کے مقتضاء کے مطابق اعمال کی کفیل بنتی ہے تو جب کوئی شخص ان حقوق وفرائض کی ادا سے محروم یا قاصر رہے گا جو اس پر خدائے تعالی کی ذات سے متعلق ہیں اور اپنے اور خداکے درمیان مخلوق خدا کو لے آئیگا تو بلاشبہ وہ اس معاملہ میں’’حسن خلق ‘‘سے محروم یا قاصر سمجھا جائیگا.اسی طرح اگر وہ مخلوق خدا کے معاملات کے درمیان اپنے نفس کو آگے لے آیااو راس کو ترجیح دینے لگاتو پھروہ اس دوسرے معاملہ میں بھی ’’حسن خلق‘‘سے درماندہ اور عاجز نظر آئیگااور کسی طرح اس صفت عالیہ سے متصف نہ ہوسکے گا.(اخلاق اور فلسفہ اخلاق، ص ۵۳۰)
اخلاقیات اور انسانیت کی بقا:
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے انسانیت کی بقا ایک صالح معاشرہ پر موقوف ہے اور اسلام نے ہمیشہ ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کا حکم فرمایاہے او راسکی اساس تقوی او راخلاقیات پر قائم کی ہے،کیونکہ انسانیت کی بقا،منکرات اور رذائل سے پاک معاشرہ ہی میں پنہاں ہے ۔اسی لئے اسلام نے جہاں ظاہر ی آلودگیوں سے پاک رہنے کا حکم دیا ہے وہی باطنی آلائشوں سے بھی پاکی کی دعوت دی ہے ۔اور جب تک کوئی معاشرہ اخلاقیات کے زیور کو نہیں اپناتا اور برائی و منکر ات سے احترازنہیں کرتا تب تک ایک صالح معاشرہ کی تشکیل نہ صرف مشکل بلکہ محال ہوتی ہے ۔صالح معاشرہ کی تشکیل اور مکارم اخلاق کی تکمیل کا دراومدار رذائل غضبیہ و معایب شہویہ کو ترک کرنے اور فضائل کے اکتساب پر موقوف ہے ۔صوفیہ کی تعلیمات او ران کا کردار ظاہری و باطنی گناہوں کو چھوڑنے کا عملی پیام ہے ۔اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :وذروا ظاھر الاثم وباطنہ(سورۃ الانعام:۱۲۰)ظاہری و باطنی گناہوں کو چھوڑدو . ولا تقربوا الفواحش ماظھر منھا ومابطن(سورۃ الانعام:۱۵۱) ظاہری اور باطنی فحش کے قریب مت جاؤ۔کیونکہ اللہ تعالی نے بندوں کو ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے انعامات سے نوازا ہے ، ارشاد ربانی ہے : واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ(سورۃ لقمان:۲۰)اس نے تمہیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا ہے۔یہ ظاہری اور باطنی نعمتیں اس بات کا تقاضہ کرتی ہیں کہ انسان ظاہر کے ساتھ باطن کو، جسم کے ساتھ قلب و روح کو بھی مزکی او رمصفی بنائے ،تزکیہ نفس تمام ظاہری اور باطنی گوشوں سے بحث کرتاہے او راس کامنشا خوب سے خوب تر کی تلاش اور جستجوہے او ر جسے یہ حاصل ہوجائے وہی فلاح پاتاہے ،اللہ تعالی کافرمان ہے: قد افلح من تزکی وذکراسم ربہ فصلی(سورۃ الاعلی:۱۴،۱۵)کامیاب ہوگیا وہ شخص جسے تزکیہ حاصل ہوا اور اپنے رب کا نام لیااور نماز پڑھا۔دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: قد افلح من زکاھا وقد خاب من دساھا(سورۃ الشمس: ۹،۱۰) وہ شخص مراد کو پہنچا جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور وہ نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا.حضرات صوفیاء کرام کی مبارک زندگیوں کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہیکہ ان کی زندگی اور تعلیمات اور فرمودات ،دینی اوامر کی آئینہ دار، اسلامی تعلیمات کی علمبردار اور انسانیت کی صلاح اور فلاح کی ضامن ہوتی ہے

 

भारत देश में उम्मत की जुदाई पर एतिहासिक दस्तावेज़ : मोहम्मद मोहसिन निज़ामी,शैखुल हदीस जामिया बरकातीया हज़रत सूफी निज़ामुद्दीन, ज़िला संत कबीर नगर

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
نحمدہٗ ونصلی ونسلم علیٰ حبیبہٖ الکریم
دیارِ ہند میں افتراق امت پر تاریخی دستاویز
متلاشیان جادۂ مستقیم کے لیے حق وصداقت پر مبنی ایک سنجیدہ تحریر
محمدمحسن نظامی
شیخ الحدیث جامعہ برکاتیہ حضرت صوفی نظام الدین لہرولی بازارپوسٹ ہٹواضلع سنت کبیرنگر
چیف ایڈیٹرسہ ماہی پیام نظامی لہرولی بازار

سن توجہاں میں ہے تیرافسانہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہتی ہے خلق خداتجھ کو غائبانہ کیا

صحابی رسول عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشادفرمایا بے شک بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائیگی سارے فرقے جہنمی ہیں مگر ایک فرقہ توصحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ یہ فرقہ ناجیہ تہتر میں ایک کون ہے نبی غیب داں نے ارشاد فر مایا جس مذہب پر میں ہوں اورمیرے صحابہ ہیں ۔مسند امام احمد ابن حنبل اور سنن ابوداؤد کی روایت حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ و ہ جنتی فرقہ جماعت ہے ’ھی الجماعۃ ‘اس حدیث پاک کی روشنی میں دورِ صحابہ سے لے کر آج تک جوفرقہ ناجی اور جنتی ہے وہ اہل سنت وجماعت سے موسوم ہوتاہے ۔اس حدیث کے ذیل میں شیخ ابراہیم عزیز ی جامع صغیر کی شرح میں فرماتے ہیں کہ یہ پیشین گوئی ہمارے نبی ﷺ کا عظیم معجزہ ہے کہ آپ نے جس غیب کی خبر دی تھی ز مانے نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ان تہتر فرقوں میں بہتر گم راہ ہوئے اور ایک جادۂ حق پر قائم رہا وہ فرقہ ناجیہ اہل سنت وجماعت ہے۔
فرقہ ناجیہ اہل سنت وجماعت ہے
لفظ اہل سنت وجماعت کااستعمال صدراول میں ہی شروع ہوگیا تھا۔حضرت امام مسلم اپنی صحیح کے مقدمہ میں مشہور تابعی امام محمد بن سیرین سے باسناد خود ایک روایت کرتے ہیں کہ ترجمہ:’’پہلے اسناد کے تعلق سے تفتیش نہیں ہوتی تھی لیکن جب فتنہ برپاہوگیا تو روایت کرتے وقت کہتے ہمیں اپنے راویوں کے بارے میں بتاؤ اگر اہل سنت و جماعت سے دیکھتے تو قبول کرلیتے اوربدمذہب دیکھتے تو اس کی روایت قبول نہیں کرتے ‘‘(ترجمہ مقدمہ صحیح مسلم)
اب اس سلسلے میں مشائخ کرام اور علمائے کبار کے نظریات ملاحظہ فرمائیے:غوث الثقلین ،قطب الکونین،حضور غوث اعظم محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ تہتر فرقوں والی حدیث پاک نقل فرمانے کے بعد فرماتے ہیں ’فاماالفرقۃ الناجیۃ فھی اھل السنۃ والجماعۃ‘فرقہ ناجیہ اہل سنت وجماعت ہے ۔(غنیۃ الطالبین ؍حجۃ اللہ علی العالمین ص:۳۹۷)
حجۃ الاسلام امام محمد الغزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ہرشخص کوچاہئے کہ اعتقاداہل سنت کو اپنے دل میں جمائے کہ یہی اس کی سعادت کا تخم ہوگا۔(کیمیائے سعادت ص:۵۸)امام ابومنصور عبدالقاہر بن طاہر التیمی اس افتراق امت والی حدیث کے مطابق تہتر فرقوں کی تفصیل اور ان کے باطل عقائد رقم کرنے کے بعد فیصلہ کن انداز میں لکھتے ہیں(ترجمہ)پھر اس کے بعد افتراق امت کا ظہور ہوااور ہوتے ہوتے بہتر گم راہ فرقوں کی تعداد مکمل ہوگئی اور تہتر واں گروہ اہل سنت وجماعت ہے اور یہی جنتی فرقہ ہے (حجۃ اللہ علی العالمین ص:۳۹۷)
علامہ سید طحطاوی قدس سرہٗ فرماتے ہیں (ترجمہ)اے اسلامی بھائیو!تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اس جنتی گروہ کے نقش قدم پر چلو جسے اہل سنت وجماعت کہاجاتاہے (المنحۃ الوھبیہ)
حضرت سیدی عبدالعزیز دباغ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :(ترجمہ) اس بندے پر ولایت ومعرفت کادرواز ہ نہیں کھل سکتاجومسلک اہل سنت وجماعت پر نہ ہو۔ اور اللہ کاکوئی ولی عقائد اہل سنت کے خلاف نہیں (الابریز ص:۲۴)
سوادِ اعظم اہلِ سنت وجماعت کی پیروی لازمی ہے
رسول گرامی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا تم سوادِ اعظم کی پیروی کروجو اس سے جداہوا وہ جہنم میں گیا ،حضرت ملاعلی قاری علیہ الرحمہ شرح مشکوۃ میں لفظ سوادِ اعظم کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’السوادالاعظم یعبربہ عن الجماعۃ الکثیرہ والمراد ماعلیہ اکثر المسلمین ‘سواد اعظم بڑی جماعت سے عبارت ہے اس سے مراد اکثر مسلمانوں کا مسلک ہے ۔امام عبدالوہاب شعرانی قدس سرہٗ فرماتے ہیں (ترجمہ) سواد اعظم سے مراد اہل سنت وجماعت ہیں سواد اعظم صحیح معنی میں کون ہیں اس سلسلے میں اہل سنت کے عظیم المرتبت محدث امام المحدثین شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہٗ نے اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں بڑی عمدہ گفتگو کی ہے انھوں نے فرمایا کہ اس سے پہلے جتنی بھی اہم کتابیں تفسیر وفقہ ،حدیث اور کلام میں اکٹھا کرلی جائیں اور ان کی روشنی میں تحقیق کرکے نتیجہ نکالا جائے تو یہ اہل سنت ہی سواد اعظم ہیں اوریہی ’مااناعلیہ واصحابی ‘ کا مصداق ہیں تفسیر وحدیث فقہ وکلام کی صدیوں قدیم کتب سے یہی ثابت ہے ۔
مسلک اہل سنت وجماعت کی تیرہویں چودہویں صدی ہجری کی نمائندہ شخصیات
تیرہویں صدی ہجری کی نمائندہ شخصیات کی اجمالی فہرست:علامہ عبدالعلی فرنگی محلی(ولادت :۱۱۴۴/وصال۱۲۳۵)شاہ اجمل الہ آبادی (۱۱۶۰ھ/۱۲۳۶) شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (۱۱۵۹/۱۲۳۹)شاہ غلام علی نقشبدی دہلوی(۱۱۵۸ھ/۱۲۴۰ھ)شاہ ابوسعید مجددی رام پوری (۱۱۹۶ھ/۱۲۳۶ھ)شاہ آل احمد اچھے میاں برکاتی مارہروی (۱۱۶۰ھ/۱۲۶۲ھ)شاہ احمد سعید مجددی رام پوری (۱۲۱۷ھ/۱۲۷۷ھ)علامہ فضل حق خیرآبادی(۱۲۱۲ھ/۱۲۷۸) علامہ فضل رسول بدایونی (۱۲۱۳ھ/۱۲۸۹ھ) سیدشاہ آل رسول احمدی مارہروی وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
چودہویں صدی ہجری کی نمائندہ شخصیات
مولانا عبدالحی فرنگی محلی لکھنوی (۱۲۶۴ھ/۱۳۰۴) مفتی ارشاد حسین رام پوری (۱۲۴۸ھ/۱۳۱۱ھ) مولانا فضل الرحمن گنج مرادآبادی (۱۲۰۸ھ/۱۳۱۳ھ)مولانا غلام دستگیر قصوری لاہوری (۱۳۱۵ھ)مولانا عبدالقادربدایونی (۱۲۵۳ھ/۱۳۱۹ھ)مولانا ہدایت اللہ رام پوری ثم جونپوری (۱۳۲۶ھ) مولانا خیرالدین دہلوی (۱۳۲۶ھ) امام احمد رضا خان فاضل بریلوی (۱۲۷۲ھ/۱۳۴۰)شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی (۱۲۶۶ھ/۱۳۵۵ھ) شاہ مہر علی گولڑوی پنچابی (۱۲۷۴ھ/۱۳۵۶ھ)مولانا وصی احمد محدث سورتی (۱۳۳۴ھ)وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین ۔
مذکورہ بالاشخصیات تیرہویں وچودہویں صدی ہجری میں سوادِ اعظم مسلک اہل سنت وجماعت کی وہ علم وعمل عزیمت واستقامت کی وہ بلند بانگ ہستیاں ہیں جنھوں نے متواتر ومتوارِث معمولاتِ اہل سنت کی ترویج واشاعت فرمائی اور افکار باطلہ ونظریاتِ فاسدہ کی بیخ کنی فرمائی اور اسلام وسنت کے خلاف اٹھنے والی ہرتحریک کا قلع قمع فرمایا۔

برصغیر ہند اپنی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے انفرادی حیثیت کا حامل ملک ہے اس ملک کی گنگاجمنی تہذیب ضرب المثل ہے کثرت میں وحدت یہاں کی امتیازی شان ہے اس ملک میں ظہور اسلام سے لے کر تقریباً پانچ سو برس تک فرزندانِ اسلام عقیدۃً سنی حنفی تھے اور معمولات اہل سنت کے سختی سے پابندتھے بدعقیدگی کا تصور بھی نہ تھا یہ سب صوفیاء کرام اور داعیان اسلام کی مسیحا نفسی اور ان کے اخلاص عمل اور فکر کی پاکیزگی کی برکت تھی ۔
امام ربانی مجددالف ثانی شیخ احمد سرہندی قدس سرہٗ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں حنفی ہی حنفی تھے شافعی اور حنبلی مسلک کے لوگ تلاش کرنے میں بھی نہیں ملتے تھے ۔طوطئی ہند خواجہ امیرخسرو فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی کیا بات ہے یہاں کے دریاؤں اور سمندروں کی مچھلیاں بھی سنی ہیں۔ (رسالہ ردِّ روافض ص:۹)
مشہور غیرمقلد نواب صدیق حسن بھوپالی لکھتاہے کہ خلاصہ حال ہندوستان کے مسلمانوں کا یہ ہے کہ جب سے اسلام یہاں آیا ہے اس وقت سے آج تک یہ لوگ حنفی مذہب پر قائم رہے ہیں اور ہیں ۔(ترجمان وھابیہ ص:۱۰)
دوسری جگہ لکھتاہے کہ حنفیہ ہی سے یہ ملک بھراہے ان کا یہ بھی قول ہے کہ ہند کے مسلمان اکثر حنفی بعض شیعی اور کم تر اہل حدیث (ترجمان وہابیہ ص:۱۵)
ان حوالہ جات کی روشنی میں یہ مسئلہ مبرہن ہوجاتاہے کہ دیارِ ہند کا مسلمان سوادِ اعظم مسلک اہل سنت وجماعت کا پابند اور حنفی المسلک رہا اور سلف صالحین نے جس شاہراہ مستقیم پر گامزن فرمایا تھا اسی کو اپنے لیے حرز جان بنایا لیکن ۔
خیر قرون سے لے کر جمیع مسلمین سوادِ اعظم اہل سنت وجماعت کے معتقدات ومسلمات کے متبع وپیروکاررہے دورِ تبع تابعین کے بعد ائمہ مجتہدین کے مسلک کی پیروی کو مدارنجات سمجھ کر ائمہ اربعہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ ،سیدنا امام مالک ،سیدنا امام شافعی ،سیدنا امام احمد ابن حنبل رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تقلید کو ضروری قراردیا گیا اور جو ان چاروں مسلک سے باہر ہوا باطل پر ہے ،علامہ سید طحطاوی حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں ’وھذہ الطائفۃ الناجیۃ قداجتمعت الیوم فی مذاہب اربعۃ وہم الحنفیوں والمالکیون والشافعیون والحنبلیون رحہم اللہ تعالیٰ من کان خارجا عن ھذ ہ الاربعۃ فی ھذ الزمان فھوا من اھل البدعۃ والنار‘
ہر شخص اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ عالم اسلام کی سب سے بڑی جماعت مقلدین کی ہے اور ان مقلدین میں نوے فیصد حنفیوں کی تعداد رہی ہے اور آج بھی ہے اور جن لوگونے تقلید سے گلوخلاصی کرلی ان کی تعداد انتہائی قلیل ہے ،پھر بھی شیشے کے محل میں بیٹھ کر پہاڑ سے ٹکرانے کا ناپاک جذبہ ان کے سینوں میں اٹکھیلیاں لیتاہے ۔
سوادِ اعظم اہل سنت وجماعت سے ہٹ کر ماضی قریب کا ایک نوزائیدہ فرقہ وہابیہ نجدیہ کا ہے۔تیرہویں صدی ہجری کے آغاز میں سحرائے نجد سے ایک ایسی مذہبی تحریک نے جنم لیا جسے برطانوی استعمارکی سرپرستی وپشت پناہی حاصل تھی اس تحریک نے اپنے بڑھتے ہوئے اثرونفوذ کے ذریعہ متحارب قبائل نجد کو مجتمع کرکے ایک زبردست مذہبی وسیاسی اور عسکری طاقت وقوت پیداکرلی اور حجاز مقدس کی طرف اس کے قدم بڑھنے لگے آل شیخ اور آل سعود کی سازشوں اور متحدہ کوششوں سے ۱۹۳۵ ء میں حرمین طیبین پر اس کا غاصبانہ قبضہ ہوگیا اور بزور شمشیر اپنے مخصوص افکاروخیالات کو نظام حکومت میں داخل کرکے سرزمین حجاز اور پھر عالم اسلام کے لیے قیامت آشوب مشکل پیدا کردی ،علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ صرف وہی مسلمان ہیں اور جو ان کے عقائد سے اختلاف رکھتے ہیں وہ پکے مشرک ہیں ،اسی سبب سے انھوں نے اہل سنت وجماعت سے قتل وقتال کیا اور انھیں اور ان کے علما کے قتل کو جائز سمجھا اس تحریک کی بنیاد شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی نے (متولد۱۱۱۱ھ ) نے رکھی جو آج تک وہابی تحریک کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے۔
عالم اسلام کی یہ بڑی بدنصیبی تھی کہ شیخ نجدی نے سواداعظم اہل سنت وجماعت کے ساتھ ایک نیا محاذ قائم کرکے اسلام کی ایسی تعبیر وتشریح کرنے لگا جو بالکل اجنبی اور غیر مانوس تھی ،اور جزیرۃ العرب میں قتل وغارت گری کا بازار گرم کردیا ، علامہ شیخ احمد صاوی علیہ الرحمہ ایک آیت کریمہ کی تفسیر میں وہابیہ کو خوارِج میں شمار فرمایا ہے ،اور تفسیر جلالین کے حاشیہ میں ان پر نیست ونابود ہو نے کی دعافرمائی ہے (حاشیہ صاوی ص:۳۲۸)
ایسے ہی قاضی شوکانی یمنی کا بھی خیال ہے جو ان کا تابع فرمان نہ ہو وہ دائرہ اسلام سے خارِج ہے ،دیوبندیوں کے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند شیخ نجدی کے حالات تحریر کرنے کے بعد رقم طراز ہیں : الحاصل وہ ایک ظالم وباغی خونخوار فاسق شخص تھا اسی وجہ سے اہل عرب کو خصوصاً اس سے اور اس کے اتباع سے دلی بغض تھا اور ہے اور اس قدر ہے کہ اتنا قوم یہود سے نہ نصاری سے نہ مجوس سے نہ ہنود سے( الثہاب الثاقب ص:۴۲)
نیز یہ بھی تحریر کرتے ہیں کہ شیخ نجدی کا عقیدہ تھا کہ جملہ اہل عالم اور تمام مسلمانان دیار کافرومشرک ہیں اور ان سے قتل وقتال کرنا اور ان کے اموال کو ان سے چھین لینا حلال اور جائز بلکہ واجب ہے ۔(الثہاب الثاقب:۴۲)
محمد ابن عبدالوہاب نجدی نے اپنے باطل افکارونظریات کی ترویج واشاعت کے لیے بادۂ توحید کے متوالوں اور عشق رسول سے سرشارمسلمانوں سے قتل وغارت گری کا سلسلہ شروع کردیا جو شخص اس کا متبع ہوا اس کو مشرک کہتا ہے اور اس سے قتل وغارت گری کو جائز سمجھتاہے ،عرب کے مسلمان سواد اعظم اہل سنت وجماعت کے عقیدہ پر تھے اور اسلاف کی روایات کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھے انبیاء اولیاء سے توسل واستغاثہ کو جائز سمجھتے تھے اور صحابہ کرام کے قبوں کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور شعائر اللہ کی تعظیم کرتے تھے ،شیخ نجدی کے مسلک میں یہ ساری چیزیں غلط اور بدعت تھیں ،اس لیے اس کو مٹانے کے لیے اس نے فوجی طاقت اکٹھاکی اور سب سے پہلا معرکہ ریاض میں ہوا،جس میں کل چارہزار عرب موحدین مارے گئے اور اس کے قول کے مطابق مشرکین مارے گیے امیر الاحساء سے آل سعود کے تعاون سے شیخ نجدی نے جنگ کی احساء میں خون ریز وہلاکت کا بدترین مظاہرہ کیا احساء میں جس قدر مزارات پر گنبد بنے ہوئے تھے ان سب کو گرادیا اور مشاہد کے تمام آثار مٹادیا اسی سال سعود نے حضرت امام حسن حضرت طلحہ ودیگر صحابہ کرام کے مزارات کو منہدم کردیا اوراس سلسلہ میں بے شمار مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کیا ،پھر کربلائے معلی کی طرف چلا اور بھاری لشکر ساتھ لیا ، بلدحسین کے باشندوں پر حملہ کیا اکثر باشندوں کو گھروں اور بازاروں میں تہہ تیغ کیا امام حسین کے مزار پر انوار کے قبہ کو ڈھادیا اور سارامال ومتاع لوٹ لیا قبہ زمرد یاقوت اور جواہر سے آراستہ تھا سب کو لوٹ لیا تقریباً دوہزارباشندے اس جنگ میں مارے گیے ۔(تاریخ نجد وحجاز ص:۶۳؍۷۳)
دیارِ ہند میں اختلاف وافتراق کی شروعات کیسے ہوئی
مشہور نقش بندی عالم مولانا ابوالحسن زیدفاروقی دہلوی وصال ۱۹۹۳ء کی یہ تحریر کافی عبرت انگیز ہے حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کے زمانے سے آج تک ہندوستان کے مسلمان دوفرقوں میں بٹے رہے ،ایک اہل سنت وجماعت دوسرے شیعہ اب مولانا اسماعیل دہلوی کا ظہور ہواوہ شاہ ولی اللہ کے پوتے اور شاہ عبدالعزیز شاہ رفیع الدین شاہ عبدالقادر کے بھتیجے تھے ،ان کا میلان محمد بن عبدالوہاب نجدی کی طرف ہوااور نجدی کارسالہ ردالاشراک ان کی نظر سے گذر ااور اردو میں انھوں نے تقو یۃ الایمان لکھی اس کتاب سے مذہبی آزادخیالی کا دور شروع ہواکوئی غیر مقلد ہواکوئی وہابی بناکو ئی اہل حدیث کہلایا کسے نے اپنے کو سلفی کہا ائمہ مجتہدین کی جو منزلت اور احترام دل میں تھا وہ ختم ہوامعمولی نوشت وخواندکے افراد امام بننے لگے اور افسوس اس بات کا ہے کہ توحید کی حفاظت کے نام پر بارگاہ نبوت کی تعظیم واحترام میں تقصیر ات کا سلسلہ شر وع کردیا گیا ،یہ ساری قباحتیں ماہ ربیع الآخر ۱۲۴۰ھ ۱۸۵۲ء کے بعد سے ظاہر ہونی شروع ہوئیں (مولانا اسماعیل اور تقویۃ الایمان ص:۹ازمولانا زید دہلوی)
مشہور غیر مقلد عالم وحیدالزماں حیدرآبادی نے لکھا ہے کہ مولوی اسماعیل دہلوی نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں محمد بن عبدالوہاب نجدی کی پیروی کی ہے (ہدیۃ المہدی )
مشہور دیوبندی عالم احمد رضا قاسمی بجنوری لکھتے ہیں کہ افسوس کہ اس کتاب کی وجہ سے مسلمانان ہند وپاک جن کی تعداد بیس کرورڑ سے زیادہ ہے اور تقریباً نوے فیصد حنفی المسلک ہیں دوگروہ میں بٹ گیے ایسے اختلافات کی نظیر دنیا اسلام کے کسی بھی خطے میں ایک امام اورایک مسلک کے ماننے والوں میں موجود نہیں ہے ۔(انوارالباری ص:۱۰۷)
مولانا انورشاہ کشمیری لکھتے ہیں کہ ابن عبدالوہاب نجدی ایک بے وقوف کم علم شخص تھا ،کافرکہنے کے حکم میں جلد بازی کرتاتھا۔(فیض الباری ص:۱۷)
شیخ نجدی کے والد متوفی (۱۷۴۰ء ۱۱۵۳ھ ) نہایت صالح العقیدہ بزرگ مشہور عالم دین اور فقیہ تھے وہ شیخ نجدی کوتنقیص رسالت مآثر صحابہ اور تکفیر المسلمین جیسے گمراہ عقائد پر ہمیشہ سرزنش کرتے رہتے اسی طرح ان کے اساتذہ بھی اس کے تخریبی افکار پر اس کو ہمیشہ ملامت کرتے رہتے تھے۔
(تاریخ نجد وحجازص:۳۸)
مصنف تقویۃ الایمان کا اپنی کتاب کے بارے میں تأثر
مولوی اسماعیل دہلوی تقویۃ الایمان کے نتائج واثرات کے حوالے سے اپنے خیالات کااظہار یوں کرتے ہیں :میں نے یہ کتاب لکھی ہے اور میں جانتاہوں کہ اس میں بعض جگہ ذراتیز الفاظ آگیے ہیں ،اور بعض جگہ تشدد ہوگیا ہے ،شرک خفی کو شرک جلی لکھ دیا ہے ،اندیشہ ہے کہ اس کی اشاعت سے شورش ضرور ہوگی ، مگر توقع ہے کہ لڑبھڑ کر خودٹھیک ہوجائیں گے ۔(ارواح ثلثہ ص:۸۱)
ذرااپنے پہلو میں چھپے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ کر انصاف کو آواز دیجیے اور غور کیجیے کہ اس عبارت میں کتنے تیر ونشتر چھپے ہیں اور افتراق بین المسلمین کی کیسی فضا ہموار کی جارہی ہے ۔
اس عبارت پر شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کا یہ درد ناک نوٹ ملاحظہ فرمائے :مولوی اسماعیل دہلوی کی یہ توقع پوری ہوئی اس سے مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا قتال وخوں ریزی ہوئی اور اب تک ہورہی ہے مسلمانوں کا شیرازہ منتشر ہوگیا گھر گھر اختلاف پیداہوابھائی بھائی کا دشمن ہوگیا اور ہورہا ہے رہ گئی یہ توقع کہ ٹھیک ہوجائیں گے ایں خیال است محال است وجنوں ۔(سنی دیوبندی اختلافات کا منصفانہ جائزہ ص:۳۷)
مولانا یٰسین اختر مصباحی لکھتے ہیں کہ ڈھائی سو کتابوں کی لسٹ میری نظر سے گزرچکی ہے جو تقویۃ الایمان کے چھپتے ہی مختلف زبانوں میں مختلف علاقوں سے اس کی تردید میں لکھی گئی ہیں ۔مولانا منورالدین اور تمام علمائے دہلی سے جامع مسجد کا شہرۂ آفاق مناظرہ ہوا جس میں فریق مخالف مولوی اسماعیل دہلوی اور عبدالحی بڈھانوی تھے ان علاوہ ان کے ساتھ کوئی نہیں آیا ،بالآخر لاجواب ہوکر بھاگ گئے(مولانا ابوالکلام آزاد کی کہانی ص:۶)
اسماعیل دہلوی کی موت کے بعد وہابیت دوشاخوں میں بٹ گئی اور ان کے ماننے والے وہابی علما کا دوگروپ بن گیا مگر وہابیت کی پہلی شاخ غیر مقلدیت کو وہ قبول عام حاصل نہ ہواجو مقلد دیوبندیوں کو ہو ا،وہابیت کی دونوں شاخیں محمد بن عبدالوہاب نجدی اور اسماعیل دہلوی کو مانتی ہیں دونوں کے عقائد ایک جیسے ہیں ،دیوبندیوں کے قطب رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں :محمد بن عبدالوہاب نجدی کے مقتدیوں کو وہابی کہا جاتا ہے ان کے عقائد عمدہ تھے ان کے مقتدی اچھے ہیں مگر ہاں جو حد سے بڑھ گیے ان میں فساد آگیا ہے اور عقائد سب کے متفق ہیں ۔(فتاوی رشیدہ جلد ۱ص:۱۱۹)
براہین قاطعہ مصنفہ خلیل احمد انبیٹھوی جب شائع ہوئی تو مولانا غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمہ نے مولوی خلیل احمد انبیٹھوی سے تحریری مناظرہ کیا اور یہ مناظرہ بمقام بھاول پور نواب کی نگرانی میں شو ال ۱۳۰۶ھ میں ہوااس مناظرہ کے حکم اور فیصل والی ریاست بھاول پور کے پیر ومرشدشیخ المشائخ خواجہ غلام فرید چاچڑاں شریف تھے ،مناظرہ میں مولوی خلیل احمد اور ان کے معاونین کو شکست فاش ہوئی اور مناظر ہ کے فیصل نے یہ فیصلہ سنایا کہ انبیٹھوی صاحب مع اپنے معاونین کے وہابی اہل سنت سے خارج ہیں ۔شرم تم مگر نہیں آتی
آج کل دیوبندی علمااور عوام اپنے آپ کو اہل سنت وجماعت کے نام سے متعارف کراتے ہیں تاکہ توہین نبوت ورسالت اور تنقیص شان الوہیت پر مکروفریب کا پردہ ڈال دیا جائے اور عامۃ المسلمین کو باور کرادیا جائے کہ ہم تو اہل سنت وجماعت سے ہیں لیکن علمائے اہل سنت وجماعت نے اس عیاری وفریب کاری کے لبادے کے تارتار کو بکھیر دیا اور کہہ دیا۔
اس کے بعد مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کو ریاست بھاول پور سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا ۔(تقدیس الوکیل عن توہین الرشید والخلیل ص:۱تا۱۷)
یہ چند ضروری باتیں عامۃ المسلمین کے لیے تحریر کردی گئیں ہیں تاکہ اس کو پڑھ کر آنکھوں سے غفلت کے پردے ہٹاکر حق وصداقت کی منزل کو پاسکیں ۔

देवबंद के बदलते हुए उलमा से कुछ सवाल : डाक्टर अनवार अहमद ख़ान बग़दादी

 4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

بدلتے ہوئے علمائے دیوبند سے چند سوالات
ڈاکٹرانوار احمد خان بغدادی

آج کل بعض دیوبندی علما کے بارے میں یہ خبریں موصول ہورہی ہیں کہ وہ اجمیر معلی حضور شیخ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ کے مزار پر انوار پر نہ یہ کہ صرف حاضری کا شرف حاصل کر رہے ہیں بلکہ چادریں چڑھاکر اپنی صوفی اور چشتی ہونے کا ثبوت بھی فراہم کر رہے ہیں، جیسا کہ روزنامہ سہارا اور انقلاب کے صفحات گواہ ہیں۔
علمائے دیوبند کے موقف میں یہ تبدیلی یقیناًبہت اہم ہے، کیوں کہ ان کے اکابرین جس چیز کو شرکت وبدعت کہتے کہتے نہیں تھکتے تھے وہی چیزیں آج صرف جائز ہی نہ ہوئیں بلکہ علمائے دیوبند نے عملی جامہ پہنا کر یہ ثابت بھی کر دیا کہ حالات زمانہ کے ساتھ اب ہم بھی بدل رہے ہیں، اور بھلا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تصوف کے تعلق سے بین الاقوامی منظر نامہ بدل رہا ہو تو دوسری طرف دنیا سے وہابیت کی بساط لپیٹی جا رہی ہو ایسے وقت میں علمائے دیوبند نہ بدلیں؟! جب کہ بدلنا ہی ان کی تاریخ ہے، جیسا کہ ان کے بزرگوں کی تاریخ پر نظر ڈالنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس جماعت کے لوگ کسی صاف موقف سے محروم ہیں یہ کبھی تو تصوف کی راگ الاپتے ہیں، کبھی وہابیت کی دہائی دیتے ہیں، کبھی مزارات پر حاضری دیتے ہیں تو کبھی حاضری دینے والوں کو مشرک وگمراہ بتاتے ہیں۔ غرضیکہ جیسا دیس ویسا بھیس کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے نفاق کی راہ چل بیٹھے ہیں۔یہ لیجئے اک نظر ڈالئے ان کی تاریخ پر۔
اسماعیل دہلوی کے وہابی افکار ونظریات کے بطن سے دو جماعتیں پیدا ہوئیں، ایک جماعت تقلید سے آزاد دوسری جماعت تقلید پرست، پہلی جماعت غیر مقلد کہلاتی ہے اور دوسری جماعت دیوبندیوں کی ہے ، ان دونوں جماعتوں کا قدرے مشترک عام مسلمانوں کو مشرک وگمراہ ثابت کرنا ہے، مزارات کی حاضری بزرگوں سے عقیدت اور تعظیم ان دونوں کے ہی نزدیک شرک وگمرہی ٹھہرتی ہے۔علاوہ ازیں کچھ دیوبندی علما مختلف فیہ مسائل میں رائے زنی کرتے ہوئے ایسے اقوال کا ارتکاب کر گئے کہ ان کے قلم سے نہ ناموس رسالت محفوظ رہا، نہ ہی تصوف اور ارباب تصوف بزرگان دین کی عقیدت واحترام کا پاس وخیال باقی رہا۔
مگر جب امام اہل سنت مصلح قوم وملت مولانا شاہ احمد رضا خان قادری برکاتی علیہ الرحمہ نے ان کے افکار وخیالات کا محاسبہ کیا،‘‘المعتمد المستند ’’اور‘‘ حسام الحرمین’’ جیسی مدلل اور مسکت کتاب لکھ کر علمائے حرمین شریفین سے اس پر تصدیقات لئے اور ان کی وہابی کج فکری کو طشت از بام کیا تو دیوبندی بلبلا اٹھے، کہنے لگے کہ مولانا احمد رضا نے ہماری عبارتوں میں خرد برد کرکے غلط مطلب گڑھ لیا ہے، اور اپنے دفاع میں ان تمام عقائد کا اقرار کر گئے جو بعد میں ان کے لئے وبال جان بن گئے چنانچہ اس جماعت کے ایک سرخیل عالم مولانا خلیل احمد سہارنپوری (ت ۶۴۳۱ھ)نے‘‘المھند علی المفند ’’لکھ کر امام احمد رضا کی کتاب‘‘المعتمد المستند ’’اور‘‘حسام الحرمین’’ کا جواب دینے کی کوشش کی جس میں صوفیہ کے تمام عقائد کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا کہ: (ہم اور ہمارے مشائخ اور ہماری ساری جماعت بحمد اللہ فروعات میں مقلد ہیں،مقتدائے خلق حضرات امام ہمام امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے۔اور اصول واعتقادات میں پیرو ہیں، امام ابو الحسن اشعری اور امام ابو منصور ماتریدی رضی اللہ عنہما کے۔ اور طریقہائے صوفیہ میں ہم کو انتساب حاصل ہے، سلسلہ عالیہ حضرات نقشبندیہ اور طریقہ زکیہ مشائخ چشت اور سلسلہ بہیہ حضرات قادریہ اور طریقہ مرضیہ مشائخ سہروردیہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ)۔(دیکھئے:‘‘المھند علی المفند ’’، ص: ۱۳ و ۲۳)
مگر جب پاکستان کے ایک غیر مقلد عالم ڈاکٹر طالب الرحمن نے اسی‘‘المھند علی المفند’’اور ان کی دوسری کتابوں کو سامنے رکھ کر دیوبندیوں کے صوفیانہ عقائد کو ثابت کرتے ہوئے‘‘الدیوبندیہ ’’نام کی ایک کتاب لکھی جس میں یہ ثابت کیا کہ علمائے دیوبند کے عقائد وہابی ازم سے میل نہیں کھاتے بلکہ ان کے عقائد صوفیانہ ہیں، وہ تو تصور شیخ، فنا فی الشیخ، وحدۃ الوجود، قبور اولیاء سے فیض یابی، دلائل الخیرات اورقصیدہ بردہ پڑھنے کی تلقین، بزرگوں کی روحوں سے فریاد، بزرگوں کے تصرفات وغیرہ جیسے عقائد کے قائل ہیں اور یہ سب باتیں علمائے دیوبند کی اصل مراجع سے ثابت کیا۔(دیکھئے: خلیل احمد سہارنپوری کی کتاب‘‘المھند علی المفند’’ پر ڈاکٹر طالب الرحمن کا مقدمہ تحقیق، ص: ۷ تا ۲۱)۔
اس کتاب (‘‘الدیوبندیہ ’’)کے منظر عام پر آتے ہی دیوبندیوں میں کھلبلی مچ گئی، پیروں تلے زمیں کھسکتی دکھائی دینے لگی کیوں کہ اس کتاب نے جہاں دنیا بھر میں دیوبندیوں کی تضاد بیانی اور نفاق کو طشت از بام کر دیا، وہیں مرکز تبرعات مملکت سعودیہ عربیہ کے اندر دیوبندیوں کی نقاب کشائی کر کے اصل چہرہ بھی پیش کردیا۔ اس لئے اک بار پھر دیوبندیوں نے وہی عبارت دہرائی کہ علمائے دیوبند کی عبارتوں میں خرد برد کرکے غلط الزامات لگائے گئے ہیں یعنی دیوبند کے عقائد اہل تصوف سے میل نہیں کھاتے، بلکہ علمائے دیوبند کو نہ جانے کیوں اتنی تکلیف ہوئی کہ بقول ڈاکٹر طالب الرحمن ان لوگوں نے اپنے مسلک کی صفائی اور وہابی ہونے کے ثبوت میں دو کانفرنسیں کر ڈالیں، ایک پشاور پاکستان میں اور دوسری دہلی انڈیامیں، یہی نہیں بلکہ اس کتاب کے رد میں علمائے دیوبند نے دو کتابیں بھی تصنیف کیں۔ (دیکھئے: خلیل احمد سہارنپوری کی کتاب‘‘المھند علی المفند’’ پر ڈاکٹر طالب الرحمن کا مقدمہ تحقیق، ص: ۵)۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اکابر علمائے اہلسنت نے علمائے دیوبند کا محاسبہ کیا تو دیوبند چیخ پڑا اور دعوی کرنے لگا کہ ہم وہابی نہیں ہیں ہم تو قادری چشتی اہل تصوف ہیں اور جب غیر مقلدین نے ان کے اسی تعلق کو واضح کرتے ہوئے صوفی بدعتی کہا تو پھر چیخ اٹھے، کہنے لگے ہم صوفی نہیں ہیں، آج ایک بار پھرورلڈ صوفی فورم کے بعد جب وہابیت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے تب بزرگان دین خواجہ غریب نواز اور تصوف کی یاد ستانے لگی ہے، آخر کب تک علمائے دیوبند آنکھ مچولی کا یہ کھیل کھیلتے رہیں گے؟!!
حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ نے دیوبندیوں کی تضاد بیانیوں کی تفصیل لکھی تو اس جماعت کے سرخیل بے باک صحافی ماہنامہ تجلی کے مدیر مولانا عامر عثمانی صاحب نے پڑھکر برجستہ لکھا کہ: (ہمارے نزدیک جان چھڑانے کی ایک ہی راہ ہے یہ کہ یا تو‘‘تقویۃ الایمان’’اور‘‘فتاوی رشیدیہ ’’،‘‘فتاوی امدادیہ’’اور‘‘بہشتی زیور ’’اور‘‘حفظ الایمان ’’جیسی کتابوں کو چوراہے پر رکھ کر آگ دے دی جائے اور صاف اعلان کر دیا جائے کہ ان کے مندرجات قرآن وسنت کے خلاف ہیں اور ہم دیوبندیوں کے صحیح عقائد‘‘ارواح ثلاثہ ’’اور‘‘سوانح قاسمی’’اور‘‘اشرف السوانح ’’جیسی کتابوں سے معلوم کرنے چاہئے یا پھر ان موخر الذکر کتابوں کے بارے میں اعلان فرما یا جائے کہ یہ تو محض قصے کہانیوں کی کتابیں ہیں جو رطب ویابس سے بھری ہوئی ہیں اور ہمارے صحیح عقائد وہی ہیں جو اول الذکر کتابوں میں مندرج ہیں)۔ (دیکھئے: علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی کتاب زلزلہ، ص: ۳۲ و ۴۲)۔
اس تاریخ سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ دیوبندی علما فکری ارتباک اور عقائد میں تذبذب اور نفاق کے شکار ہیں، ایک ہی چیز کبھی ان کے نزدیک شرک قرار پاتی ہے تو کبھی وہی چیز باعث خیر وبرکت بن جاتی ہے۔ عام طور پر جو بات صحابہ، تابعین اور متقدمین بزرگان دین کی شان میں مبالغہ پر مبنی دکھائی دیتی ہے وہی بات ان کے مولویوں کی کرامتیں بن جاتی ہیں۔ دنیوی مفاد کے پیش نظر کبھی وہابی ازم کی راہ چل پڑتے ہیں تو کبھی دامن تصوف سے اپنی وابستگی دکھاکر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ان کا تذبذب،ارتباک اور نفاق صاف ظاہر ہونے لگتا ہے۔ اللہ تعالی ہدایت نصیب فرمائے۔ (آمین)
بہر حال خواجہ اجمیری غریب نواز علیہ الرحمہ کے مزار پر انوار پر حاضری دیکر علمائے دیوبند نے اک جرات مندانہ اقدام کیا ہے اپنے مسلک کی دیرینہ روایت کو توڑ کر اک تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے، اگر یہ تبدیلی سیاست سے پاک اور اخلاص پر مبنی ہے تو اس تبدیلی کو اس زمانے کی سب سے بڑی تبدیلی کہا جاسکتا ہے کیوں کہ تصور شیخ، بزرگوں سے عقیدت، مزارات اولیاء کا احترام، حاضری اور چادر وگاگروغیرہ ایسے سلگتے ہوئے مسائل تھے جن پر علمائے دیوبند اورعلمائے اہل سنت ایک صدی سے لڑ رہے ہیں، اس لئے آج ان مواقف میں تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ اب فاصلے سمٹ رہے ہیں۔اب اس سمٹتے ہوئے فاصلوں پر ہمیں سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے بے سود تبصروں سے گریز کرکے ہمیں اس وقت کا انتظار کرنا چاہئے جب علمائے دیوبند جرات واقدام کی مزید بلندیوں کو پار کرتے ہوئے قدیم علمائے دیوبند کے عقائد باطلہ مثلا امکان کذب الہی، خاتمیت مصطفی ﷺ کی افضلیت کا انکار، علم غیب مصطفی ﷺ کی جانوروں اور پاگلوں سے تشبیہ، وغیرہ جیسی خطرناک قسم کی عبارتوں میں بے جا تاویل وتصرف کی بجائے کم از کم مشتبہات امور سے پرہیز کرتے ہوئے ان باطل عقائد سے برات کا اعلان کرکے تاریخ ساز اقدام کریں گے۔
ہمیں امید ہے کہ اگر موجودہ علمائے دیوبند کے نعرہ چشتیت میں اخلاص ہو گا تو قدیم علمائے دیوبند کے مذکورہ بالا بے ہودہ قسم کے باطل عقائد سے برات کا اعلان ضرور کریں گے۔
دو رنگی چھوڑ دے اک رنگ ہوجا

سراسر موم یا پھر سنگ ہوج

सुनहरे बोल : हज़रत सय्यद मखदूम अशरफ जहाँगीर सिम्नानी रहमतुल्लाह तआला अलैहि

 4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

اقوال زریں 
تارک السلطنت حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ایمان و توحید کے بعد بندہ پر سب سے پہلے عقائد حقہ شریعہ کا جاننا فرض ہے۔
علم حاصل کرو کہ زاہد بے علم شیطان کا تابعدار ہوتاہے اور عابد بے فقہ کمہار کے گدھوں کی طرح ہے۔
علم ایک چمکتا ہو اآفتاب ہے اور تمام ہنر اس کی شعائیں ہیں۔
خدا کا دوست جاہل نہیں ہوتا۔
عالم بے عمل ایساہے جیسے بے قلعی کا آئینہ۔
عالم دین اورعالم دنیا میں فرق وہی ہے جو کھرے اورکھوٹے چاندی میں ہوتاہے۔
جاننا شریعت ہے ، جاننے کے مطابق عمل کرنا طریقت ہے اور دونوں کے مقصود ہوتو ان کا حاصل کرنا حقیقت ہے۔
جو شخص بے محل علمی گفتگو کرتا ہے تو اسکے کلام کے نور کا دو حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔
اگر کوئی جان لے کہ اب اسکی زندگی میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گئے تو چاہیئے کہ علم فقہ میں مشغول ہوجائے کیونکہ علوم دین سے ایک مسئلہ جان لینا ہزار رکعت سے افضل ہے۔
کسی کو حقارت سے نہ دیکھو اس لئے کہ بہت سے خداکے دوست اس میں چھپے رہتے ہیں۔
سلوک میں اگربارگاہ نبوی و سرکارمصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری واطاعت کے راستے سے کچھ بھی انحراف ہو تو منزل مقصود تک پہونچنا ممکن نہیں۔
بند وں کے دل میں اللہ کی محبت پیدا کرنا اور ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی دوستی میں مستغرق کرنا مشائخ طریقت کا کام ہے۔
پیر وہ ہونا چاہیئے کہ طالبان طریقت و سلوک کی ایک جماعت نے اس کی تربیت کی پناہ میں اور احباب اس کی درگاہ حمایت میں اپنے مقصود کو پہونچی ہو۔
ولی وہ ہے جس کا دل حق سبحانہ وتعالیٰ سے انس رکھیاور غیرحق سے متواحش اور گریزاں ہو۔
شرط ولی یہ ہے کہ گناہوں سے محفوظ ہو جس طرح نبی کی شرط یہ ہے کہ معصوم ہواور جس کسی پر بھی ازراہ شریعت اعتراض ہو پس وہ مغرور اور فریب خوردہ ہے ولی نہیں ہے۔
ہر بزرگ کی کوئی بات یاد کرلو اگریہ نہ ہوسکے تو ان کے نام ہی یاد کرلو کہ اس سے نفع پاؤگے۔
؂اگر علم کا چراغ ولی کے دل میں نہ ہو تو اسے شر کی خبر نہیں ہوسکتی اور وہ صحرائے ظلمت اور دشت کدورت میں مارا مارا پھرتا رہیگا۔
صالحین کا ذکر اورعارفین کا تذکرہ ایک نور ہیجو ہدایت طلب کرنے والوں پر ضوء4 فگن رہتاہے۔
شیخ طبیب حاذق اور تجربہ کارحکیم کی طرح ہے جو ہر مریض کا علاج اور اس کی دوا اس کے مزاج کے مطابق تجویز کرتاہے۔
جس شخص کا قدم شریعت میں جم جائے گا طریقت کا راستہ خودبخود کھل جائے گا اور جب شریعت کے ساتھ طریقت حاصل ہوجائے گی تو حقیقت کی تجلی خود بخود رونما ہوجائے گی۔
صوفی وہ ہے جو صفات الہیہ سے سوائے صفت وجوب (وجب الوجود) اور قدم موصوف ہو۔
اگر کسی صوفی کو دیکھو اور وہ تمہاری نظر میں نہ جچے تو اس کو ذلیل نہ سمجھوکہ یہ محرومی اورحجاب کی دلیل ہے۔
حسن خلق اس بلند پایہ گروہ یعنی صوفیہ کی خاص خصلت ہے جو انہیں ہی زیب دیتی ہے کہ یہ حق کے زیور اور کلام کے لباس سیروشن ہوتیہیں تمام اقوال وافعال میں صوفی کی نظر چونکہ حق تعالیٰ پر ہوتی ہے۔ اس لئے لازم آتاہے کہ وہ تمام مخلوق سے خوش اخلاق کا برتاؤ کرے۔ اگر شریعت کیمطابق کسی محل پر سختی درکارہے تو سختی کرے ، لیکن باطن کے مطابق اسی وقت اللہ سیمغفرت طلب کرے۔
شیخ کے لئے ضروری ہے کہ وہ مرید کے احوال سے واقف ہو ، ترک دنیا اور تنہائی کے علوم کا عالم ہو تاکہ اس کی خیر خواہی کرسکے اور مرید کو راہ راست دکھا سکے۔ اس کے حال کے مناسب اس کو اس راہ کے خطرات اور فسادات سے آگاہ کرسکے۔ اگر شیخ اس اوصاف مذکورہ سے متصف نہیں ہوگا تو اس کی پیروی کرنا کس طرح جائز ہوسکتاہے۔ اور ان سے کلاہ حاصل کرنا کس طرح روا ہوسکتا ہے۔
مرید کے لئے ایک شیخ کامل ضروری ہے جس کی اقتداء4 کی جائے کیونکہ وہ رفیق سفر ہے اور جا ن لو کہ اس امر کے لئے کسوٹی اور معیار ہے اور وہ قرآن و حدیث و اجماع امت با ایمان ہے تو جو معیار کے موافق ہوا اور کسوٹی سے کھرا اور آمیزش سے صاف نکلا تو وہ ٹھیک ہے اور جو اس کے خلاف ہوا وہ فاسد اور بے کار ہے۔
شیخ کو چاہئے کہ مرید کا بیکار اور غلط کاموں کا مواخدہ کرے۔ خواہ وہ کم ہویا ذیادہ۔ صغیر ہو یا کبیر۔ اس سلسلہ میں مواخذ ہ کو نظر انداز نہ کرے اور تساہل کو روزانہ رکھے۔
پاک غذا ایک بیج کی طرح ہے جو معدہ کی زمین میں بویا جاتا ہیاگر وہ بیج پاک اورحلال غداکا ہے تواس سے اعمال صالحہ کا درخت پیدا ہوگا اور اگر مشتبہ روزی کا بیج بویا گیا ہے تو اس خطرات فاسدہ اور عبادت میں کسائل پیدا ہوگی یعنی عبادت میں سستی اور دل میں وسوسے پیدا ہوں گے اور اگر حرام روزی ہے تو معصیت و نافرمانی کا درخت نشودنما پائے گا۔
مرید کو چاہیئے کہ اس کا مقصود ومراد اپنے پیر کے سوا کوئی نہ ہو اور سارا مقصد اس کا ، ذاتِ شیخ کے سوا کچھ نہ ہو کیو نکہ شیخ کی صورت میں حق تعالیٰ کی تجلیاں ہیاور جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے گمراہ کردے۔یہ اللہ تعالی ٰ کی شان ہے پیر بیچ میں سبب ہونے سے زیادہ کچھ نہیں ہے