सूफीमत और मानवता: मौलाना फय्याज़ अहमद मिस्बाही शरावस्ती

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity


صوفی ازم اور انسانیت 
مولانا فیاض احمد مصباحی شراوستی
آل انڈیاعلماء و مشائخ بورڈ کی طرف سے منعقد بنام “صوفی ازم اور انسانیت ” سیمنار اپنی نوعیت کا پہلا سیمنار ہے جو ڈوبتی ہوئی انسانیت کی کشتی کو بچانے کے لیے صوفی ازم کی تعلیمات اور ہدایات کو پیش کر رہا ہے تاکہ موجودہ دور میں صوفیاء کرام کی تعلیمات اور ان کے اعمال کی روشنی میں ایک انسان دوسرے انسان کو پہچان سکے اور عالمی بحران کا خاتمہ ہو سکے ہم بورڈ کے سبھی اراکین کو سب سے پہلے مبارکبادی پیش کرتے ہیں !
ناظرین کرام ! محسن انسانیت حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کے وہ روشن پہلو جن کا زیادہ تر تعلق آپ کے اخلاق و کر دار اور تزکیہ نفس و تصفیہ قلب سے ہے انہیں کو ہی احسان و سلوک اور تصوف و طریقت کہا جا تا ہے اور اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جن کے اولین نمونہ اصحاب صفہ تھے، جنہوں نے بہت سی دینوی چیزوں سے بے نیاز ہو کر مسجد نبوی کے ایک مخصوص حصے میں مصروف عبادت و ریاضت ہو کر اپنے شب و روزگزار نے کو ہی اپنامطمح نظر بنالیا تھا یوں تو سبھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہر اعتبار سے سیرت نبوی کے پاکیزہ نفس و پا کیزہ قلب اور جامع شریعت و سنت تھے، اور ہر شعبہ زندگی میں ان کی یہ ساری مصروفیات تھیں، جب کہ اصحاب صفہ ہر طرف سے یکسو ہو کر مسجد نبوی میں خلوت گزیں ہو گئے تھے تصوف و طریقت کا مقصود اصلی معرفت نفس کے ساتھ معرفت الٰہی ہے، اور اس معرفت الٰہی خدا شناسی اور خد ارسی کیلئے علم کی شکل میں کتاب الٰہی اور عمل کی شکل میں ذات نبوی یہ دو ایسے نور ہیں جن کی رہنمائی میں ہی صراط مستقیم پر گامزن ہوکر خدا ئے سبوح و قدوس کی بارگا ہ تک رسائی ہو سکتی ہے اور اس کا قرب حاصل کیا جاسکتاہے۔ اسلامی تصوف کا امتیاز یہ ہے کہ یہ دنیا میں رہ کر دنیا سے بے نیازی کا حکم دیتا ہے اہل و عیال سے رشتہ اخوت و محبت قائم رکھتے ہو ئے ان کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے اسی طرح علم حاصل کر نے کی بطور خاص تاکید کر تا ہے اور کسب معاش و وزق حلال و اکل حلال و صدق مقال کی ہدایت دیتا ہے ان ساری صورتوں میں حکم الٰہی کی تکمیل اور رضا ئے الٰہی کی طلب اس کا اصل مقصد ہو تا ہے، یہی و جہ ہے کہ اسلامی تصوف کے حاملین خلق خدا کے درمیان رہتے ہو ئے بھی ان سے مستغنی اور خلاق عالم کی طرف متوجہ اور اس کے فضل و احسان کے طالب ہو تے ہیں۔
جسم کے ظاہری اعمال کے متعلق قرآن وسنت سے ماخوذ گہرے علم کو اصطلاح میں’’فقہ‘‘ کہتے ہیں اور دل کے باطنی اعمال کے متعلق قرآن وسنت سے ماخوذ گہرے علم کو اصطلاح میں’’تصوف‘‘ کہتے ہیں۔تصوف کے متعلق احادیث، کتاب الزھد، کتاب الرقاق، کتاب الاخلاق میں ان ابواب کے تحت ملتی ہیں:الکبر، السوء الظن، الظلم، البخل، الحرص، التحقیر والتکلف، الحسد، الریاء وغیرہ برے اخلاق ہیں۔ اورالاخلاص، الصدق، الصبر، الشکر، الرضاء، القناع، حسن الخق، الحیاء ، التواضع ، الحلم، الخوف، الفراس وغیرہ اچھے اخلاق ہیں۔لیکن صوفیاء کی اصطلاح میں اس کے معنی ہیں: اپنے اندر کا تزکیہ اور تصفیہ کرنا، یعنی اپنے نفس کو نفسانی کدورتوں ا وررذائلِ اخلاق سے پاک وصاف کرنا اور فضائلِ اخلاق سے مزین کرنااور صوفیاء ایسے لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنے ظاہر سے زیادہ اپنے اندر کے تزکیہ اور تصفیہ کی طرف توجہ دیتے ہیں اور دوسروں کو اسی کی دعوت دیتے ہیں اور لفظ صوفیاء ایسے لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اپنے اندرکے تزکیہ وتطہیر کی طرف توجہ دیتے ہیں ور اب یہ لفظ ایسے ہی لوگوں کے لیے لقب کی صورت اختیار کر چکا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں ایسے لوگوں کا اکثر لباس صوف یعنی اون ہی ہوتا تھا اس وجہ سے ان پر یہ نام پڑ گیااگرچہ بعد میں ان کا یہ لباس نہ رہا اور حدیث شریف کی کتابوں میں ایک حدیث ’’حدیثِ جبرئیل‘‘ کے نام سے مشہور ہے،اس میں ہے کہ ایک دن جبریل علیہ السلام انسانی شکل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ سوالات کیے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ:احسان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ: احسان یہ ہے کہ تم خدا کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر ایسی کیفیت نہ پیدا ہو کہ تم خدا کو دیکھ نہیں پا رہے ہو تو کم سے کم یہ یقین کرلوکہ وہ دیکھ رہا ہے اور بندہ کے دل میں اسی احسان کی کیفیت پیدا کرنے کا صوفیاء کی زبان میں دوسرا نام تصوف یا سلوک ہے۔ تصوف در اصل بندہ کے دل میں یہی یقین اور اخلاص پیدا کرتا ہے۔ تصوف مذہب سے الگ کوئی چیز نہیں، بلکہ مذہب کی روح ہے۔ جس طرح جسم روح کے بغیر مردہ لاش ہے، اسی طرح اللہ کی عبادت بغیر اخلاص کے بے قدر وقیمت ہے۔ تصوف بندہ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی محبت پیدا کرتا ہے۔ اور خدا کی محبت بندہ کو مجبور کرتی ہے کہ وہ خلقِ خدا کے ساتھ محبت کرے، کیوں کہ صوفی کی نظر میں خلقِ خدا، خدا کا عیال ہے۔ اور کسی کے عیال کے ساتھ بھلائی عیال دار کے ساتھ بھلائی شمار ہوتی ہے خدا کی ذات کی محبت بندہ کو خدا کی نافرمانی سے روکتی ہے اور بندگانِ خدا کی محبت بندہ کو ان کے حقوق غصب کرنے سے روکتی ہے۔ اس لیے صوفیاء حضرات کی زندگی حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پوری طرح ادا کرتے ہوئے گذرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو چیز انسان کو اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بنائے اور اس کے بندوں کا خیرخواہ بنائے اسکی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لوگ عام طور پر جب صوفی ازم اور تصوف پربات کرتے ہیں تو ان کے پیش نظر کچھ صوفیاء اور بزرگ ہوتے ہیں جوا پنی ذات میں بہت صالح، خدا ترس اورمتقی ہوتے ہیں ،خالق کی یاد میں مشغول رہنے والے اور مخلوق کے لیے سراسر رحمت صفت ان بزرگوں کے بارے میں لوگ بالعموم محبت اور حسنِ ظن کا تعلق رکھتے ہیں تاہم جب ہم علم تصوف کے بارے میں کوئی گفتگو کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر یہ بزرگ نہیں ہوتے ، بلکہ تصوف کی وہ روایت ہوتی ہے جسے قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھنا بہرحال ہماری ذمہ داری ہے۔
صوفی ازم انسان کا شعور ہر دور میں اس سوال کا جواب تلاش کرتا رہا ہے کہ اِس کائنات اور اِس کے بنانے والے سے کیا تعلق ہے ؟ اس سوال کا ایک مکمل جواب اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی دن سے اس شکل میں انسانوں کو دے دیا تھا کہ ان کے باپ اور پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو ایک نبی بنا کر بھیجا گیا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس رہنمائی کی یاد دہانی کے لیے ہر قوم اور ہر زمانے میں نبی اور رسول آتے رہے۔ اس رہنمائی میں اللہ تعالیٰ کی ذات ، صفات اور ان سے تعلق کی درست نوعیت کو بالکل کھول کر بیان کیا گیا تھا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان انبیاء کرام علیہم السلام کی اس رہنمائی کو فراموش کرتا گیا فراموشی اور غفلت کی اس فضا میں انسان نے اپنے طور پر اْن سوالات کی کھوج شروع کر دی جن کے جواب کے لیے یہ رہنمائی عطا کی گئی اس کھوج کی ایک شکل فلسفیانہ افکار کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ ان فلسفیانہ افکار نے مختلف شکلیں اختیار کیں ان میں ایک شکل وہ تھی جو مذہب سے بہت زیادہ متاثر تھی اور اس میں حقائق کی تلاش عقل کے بجائے باطن کی آوازاور وجدان کی بنیاد پر کی جاتی تھی۔ عقل اور وحی کے بجائے باطنی تجربے ، روحانیت اور وجدان کی بنیاد پر خدا سے تعلق کی یہ تحریک دنیا کے کم و بیش تمام مذاہب میں موجود رہی ہے۔بعض مذاہب مثلاً بدھ مت کی بنیاد ہی داخلی تجربے اور وجدان پر مبنی اس عالمی تحریک پر رکھی گئی ہے جبکہ بعض مذاہب میں جن میں یہودیت اور مسیحیت جیسے ابراہیمی مذاہب شامل ہیں اس کی ایک مستقل روایت موجود رہی ہے اسلام جب عرب سے نکل کر عجم پہنچا تو نومسلموں کے قبول اسلام کے ساتھ ساتھ یہ عالمی روایت، مسلم معاشرے میں خاموشی سے سرائیت ہونے لگا تھا تواس وقت مشائخ عظام، علماء کرام اور صوفیاء کرام اس روایت کو صوفی ازم یا تصوف میں داخل ہونے سے بچایا اس تفصیل سے یہ بات واضح ہے کہ تصوف ایک اسلامی تصور ہے اور ایک عالمی تحریک ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے انسانوں کی بھلائی کے بارے میں مکمل طور کوشاں رہتی ہے اور اسلام کے ظہورکے بعد جب دیگر مذاہب کے لوگوں کی بہت بڑ ی تعداد مسلمان ہوئی تو ان کے ساتھ تصوف کی یہ تحریک مسلمانوں کا دائرہ کار وسیع تر ہوتا گیا اور مسلمانوں کے بڑ ے بڑ ے اہل علم اس سے متاثر ہوئے اوراسے قرآن و حدیث سے مزین کئے تاہم یہ بات اپنی جگہ مبنی بر حقیقت ہے کہ ائمہ اہل تصوف جب خالص علمی انداز میں اپنے نظریات بیان کرنا شروع کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ ان نظریات کا تعلق اسلام سے مکمل طور پر ہے ،صوفیاء حضرات اپنی تعلیمات میں سب سے زیادہ جس چیز پر زور دیتے ہیں وہ عشق ومحبتِ خداوندی ہے ،کیوں کہ محبت ہی ایک ایسی چیزہے جو محب کو اپنے محبوب کی اطاعت پر مجبور کرتی ہے اوراس کی نا فرمانی سے روکتی ہے اور محب کے دل میں محبوب کی رضا کی خاطر ہر مصیبت وتکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی قوت وصلاحیت پیدا کرتی ہے،اور محبت ہی وہ چیزہے جو محب کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ایسا عمل کرے جس سے محبوب راضی ہو اور ہر اس عمل وکردارسے باز رہے جس سے محبوب ناراض ہو ،چنانچہ صوفیا حضرات اگر زہد، تقویٰ،عبادت،ریاضت اور مجاہدے کرتے ہیں تو ان کا مقصد صرف اورصرف خداکی رضا حاصل کرنا ہوتا ہے۔وہ جنت کی لالچ یا جہنم کے خوف سے خدائی بندگی نہیں کرتے چنانچہ حضرت رابعہ بصریہ اپنی ایک دعا میں فرماتی ہیں:’’خدایا! اگر میں تیری بندگی جنت کے لیے کرتی ہوں تو مجھے اس سے محروم رکھنا ،اگر میں جہنم کے خوف سے تیری عبادت کرتی ہوں تو مجھے اس میں جھونک دینا ،لیکن اگر میں تیری بندگی تجھے پانے کے لیے کرتی ہوں تو مجھے اپنے آپ سے محروم نہ رکھنا ‘‘(مقالات الاولیاء )
شیخ شبلی تو یہاں تک فرماتے ہیں: ’’الصوفی لا یریٰ فی الدارین مع اللہ غیراللہ‘‘ ( کشف المحجوب) صوفی دونوں جہانوں میں اللہ تعالیٰ کی ہستی کے علاوہ اور کسی چیز کو نہیں دیکھتا۔ ‘‘امام ربانی فرماتے ہیں :’’ مقربین بارگاہ الہٰی یعنی صوفیاء حضرات اگر بہشت چاہتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ ان کا مقصد نفس کی لذت ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ خدا کی رضا کی جگہ ہے ، اگر وہ دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ اس میں رنج والم ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ خدا کے ناراضگی کی جگہ ہے ، ورنہ ان کے لیے انعام اور رنج والم دونوں برابر ہیں۔ ان کا اصل مقصود رضائے الہٰی ہے،
صوفیاء حضرات کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کیے بغیر معرفتِ خداوندی اور نجات کا حصول نا ممکن ہے۔ چنانچہ امام ربانی شیخ احمد سرہندی ایک مکتوب میں لکھتے ہیں : ’’اس نعمتِ عظمیٰ یعنی معرفت خداوندی تک پہنچنا سیدالاولین والآخرین کی اتباع سے وابستہ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کیے بغیر فلاح ونجات ناممکن ہے۔ ‘‘محال است سعدی کہ راہ صفاتواں رفت جز درپئے مصطفٰے) شیخ احمد سرہندی : مکتوبات ، مکتوب 78 ،ج اول ، ص279(’’اے سعدی!یہ ناممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کیے بغیر خداکی معرفت اور تصفیہ قلب حاصل ہو سکے ‘‘۔یہی بات قرآن مجید میں اللہ تعالی اس طرح ارشادفرماتاہے۔ ترجمہ:آپ ان کو بتادیجیے کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو ، نتیجے میں ا للہ تعالی تم سے محبت کرے گا اس لیے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت خود خدا کی اطاعت ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالی ٰ ہے۔ ترجمہ’’جس شخص نے خدا کے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی۔ ‘‘کیوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ بولتے ہیں وہ وحی الہٰی ہی ہوتا ہے ، چناں چہ ارشاد باری ہے۔ترجمہ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی خواہشات سے نہیں بولتے ، وہ جو کچھ تمہیں دین کے بارے میں دے رہے ہیں وہ وحی الہی ہے، جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘اس لیے ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا ترجمہ:جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں رک جاؤ۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کا اس وقت تک ایمان کامل ہی نہیں ہو سکتا وہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر چیزسے زیادہ محبت نہ کرے اور اپنی ساری خواہشات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے تابع نہ بنادے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔تم میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے والدین اولاد اورسب لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب نہ رکھے۔ ‘’’ تم میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہشات میرے لائے ہوئے طریقے کے مطابق نہ ہوں ‘‘صوفیاء حضرات جتنے مجاہدے، ریاضات اور عبادات کرتے ہیں یا ان کا اپنے معتقدین کو درس دیتے ہیں ان کا اصل مقصد نفس کا تزکیہ اور تطہیر ہے چنانچہ ایک صوفی بزرگ فرماتے ہیں کہ اے دوست! چاہے ایک حرف’’الف‘‘ ہی پڑھ لو، لیکن اپنے اندر کو پاک و صاف کرلو ، اگر اندر کا تزکیہ و تطہیر نہیں کرتے تو زیادہ پڑھنے اور ورق گردانی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن و سنت کیا کہتے ہیں ؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک دعا نقل کی ہے ۔ترجمہ: اے ہمارے پروردگار !میری اولاد میں ان میں سے ہی ایک رسول بھیج ، جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے اندر کا تزکیہ کرے۔ ‘‘ابراہیم علیہ ا لسلام کی دعا سے ظاہر ہے کہ کسی نبی کی بعثت تلاوت آیات اور تعلیم کتاب وحکمت کا اصل مقصد لوگوں کے اندر کا تزکیہ ہے۔ غور کیا جائے تو واضح ہوگا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اصل مقصد تزکیہ ہی تھا کیوں کہ تلاوتِ آیات و تعلیمِ کتاب وحکمت کا اصل مقصد تو تزکیہ ہی ہے، کیوں کہ اگر تعلیم سے تزکیہ قلب و تطہیر نفس حاصل نہ ہو تو تعلیم و تعلم ، درس و تدریس سب فضول ہے ایک اور مقام پر ارشاد باری ہے ۔ترجمہ’’بے شک وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور وہ ناکام ونا مراد ہو گیا جس نے اپنے نفس کو مٹی آلود کر دیا‘‘۔تصوف جن رذائلِ اخلاق سے اپنے اندر کو پاک کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔وہ یہ ہیں۔ بد نیتی ،نا شکری، جھوٹ ، وعدہ خلافی ، خیانت ، بد دیانتی ، غیبت وچغلی ، بہتان ، بد گوئی و بدگمانی ، خوشامد و چاپلوسی ، بخل و حرص ، ظلم ، فخر ، ریا و نمود و حرام خوری و غیرہ۔اور جن چیزوں سے اپنے اندر کوسنوارنے کی تعلیم دیتا ہے، وہ یہ ہیں:اخلاصِ نیت، و رع و تقویٰ ، دیانت وامانت ، عفت و عصمت ، رحم وکرم ، عدل و انصاف ، عفو ودرگذر ، حلم و بردباری ،تواضع و خاکساری ، سخاوت و ایثار، خوش کلامی وخودداری ، استقامت و استغنا وغیرہ جیساکہ حضرت ابو القاسم قشیری کی کتاب رسالہ قشیریہ اورشیخ علی ہجویری کی کتاب کشف المحجوب اور ابو نصر کی کتاب کتاب اللمع سے ظاہر ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن و سنت کا بیشترحصہ ان ہی رذائلِ اخلاق سے بچنے اور فضائلِ اخلاق سے اپنے
آپ کو مزین کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور اگر صرف ارکانِ اربعہ چار اہم عبادات ، نماز ، روزہ ،زکوٰۃ ، و حج پر غورکیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن وسنت نے ان کا مقصد ہی تزکیہ نفس و تطہیرِ قلب بتایا ہے۔۔جس کا صوفیا درس دیتے ہیں اور صوفیائے کرام کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنے اور پرائے، نیک اور بد ، موافق اور مخالف سب کے ساتھ برداشت، رواداری اور حسن سلوک کا رویہ رکھتے ہیں اور اپنے معتقدین کو بھی اسی چیزکا درس دیتے ہیں، چنانچہ حضرت بصری کے بارے میں منقول ہے کہ : ’’ انہیں کچھ لوگوں نے بتایاکہ فلاں شخص آپ کی عیب جوئی کر رہا ہے ،تو آپ نے بجائے اس پر غصہ کرنے یا انتقام لینے کے بطور تحفہ اس کو تازہ کھجوریں بھیج دیں ‘‘۔
جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور جاہلانہ رویے سے پیش آتے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ نرمی کرنے ، درگذر کرنے ، رواداری سے پیش آنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ۔ترجمہ’’ عفو و درگذر سے کام لو ، اچھائی کا حکم دیتے رہو اور ان کی جاہلانہ باتوں سے روگردانی کرتے رہو۔ ‘‘۔
سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:’’قیامت کے بازار میں کوئی اسباب اس قدر قیمتی نہ ہوگا جس قدر دلوں کو راحت پہنچانا‘‘۔اور ان حضرات کے ہاں خلق آزاری سے بڑھ کر کوئی جرم نہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلقِ خدا کی خدمت پرابھارنے کے لیے مختلف طریقوں سے ترغیب دیتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا: بیواؤں اوریتیموں کی مدد کرنے والا خدا کے ہاں ایسا ہے جیسے مجاھد فی سبیل اللہ اور یہ بھی فرمایاکہ اس کو وہ اجر ملے گا جو ساری رات جاگ کر عبادت کرتا ہو اور جو ہمیشہ روزے رکھتا ہو۔‘‘مذکورہ بحث سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تصوف اور صوفیاء حضرات کی تعلیم در اصل قرآن و سنت کا نچوڑ اور اس کی عملی صورت ہے اور انسانیت کے لیے ضامن ہے.