متعصب بھیڑ کے ذریعہ ہندوستان کا قتل: سید محمد اشرف کچھوچھوی

لکھنئو

آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے صدر و بانی حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے جھارکھنڈ کے رام گڑھ کے باجر ٹانڈ گائوں میں علیم الدین عرف اصغر علی کی بھیڑ کے ذریعہ گائے کے گوشت کے شک میں پیٹ پیٹ کر قتل کو ہندستان کا قتل بتایا ہے ۔
حضرت نے کہا کہ اس طرح کے حادثات روز ہو رہے ہیں جو سماج کو تقسیم کر رہےہیں۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہندوستان صرف زمین کے کسی حصے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ اس زمین پر رہنے والے ہمارے اس سماج کا نام ہے جو محبت و اخوت کے لئے مشہور ہے۔ اب اس میں نفرتوں کو جس طرح گھولا جا رہا ہے وہ ملک کے لئے بے حد خطرناک ہے ۔
حضرت نے کہا ایسا لگتا ہے کہ بھیڑ ملک کو برباد کرنے پر تلی ہے ۔ ایک طرف وزیر اعظم گجرات میں محبت کا سبق پڑھا رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف مذہب کے نام پر ایک ہندوستانی مقیم کو بھیڑ پیٹ پیٹ کر مار رہی ہوتی ہے ۔ اس وقت بھیڑ کا قانون چل رہا ہے جس میں بھیڑ اپنے حساب سے الزام لگاتی ہے اور پھر بنا ثبوت و گواہ کے ملزم بنا کر سزا بھی خود ہی دے دیتی ہے ۔
بے روزگار نوجوانوں کی ٹولی کو مذہبی تعصب کی افیم پلائی جا رہی ہے جو اس پیارے ہندوستان کے لئے خطرناک ہے اور اس سے زیادہ خطرناک ہے سرکاروں کا خاموش رہنا ۔ اگر خاموشی نہیں ٹوٹی تو یہ متعصب بھیڑ ہندوستان کا قتل کر دے گی۔
حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ ملک کے امن کی حفاظت کے لئے کی جا رہی ہر چھوٹی بڑی کوشش کا ہم استقبال کرتے ہیں اور ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں۔ آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ ملک میں امن و امان کے لئے اپنی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

حضرت نے اس پاگل بھیڑ کو کنٹرول کرنے کا حل بتاتے ہوئے کہا کہ اگر سرکار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرتی ہے تو یہ قتل و غارت کا خونی کھیل خود بخود ختم ہو جائے گا۔