ظلم کے خلاف خاموش رہے تو ملک کا نقصان: سید محمد اشرف

آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے صدر و بانی حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے جھارکھنڈ میں ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کو کچھ تعصب پسندوں کے ذریعہ لگاتار نشانہ بنائے جانے پر کہا ہے کہ اب سبھی امن پسند ہندوستانیوں کو متحد ہو کر نفرت کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی نہیں تو ہمارا ملک خطرے میں ہے ۔
حضرت نے کہا کہ جس طرح ٹرین میں ایک نوجوان کو بے رحمی سے قتل کیا گیا اور بھیڑ تماشائی بنی رہی،ایک بھی آواز ظلم کے خلاف نہیں اٹھی یہ خطرناک ہے، اس سے نفرت کو مزید ہوا ملتی ہے جب ظلم کے خلاف سب خاموش رہتے ہیں ۔
حضرت نے مزید کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سماج کو تقسیم ہونے سے روکے، گنگا جمنی تہذیب اگر ختم ہو تی ہے تو نقصان کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کا نہیں بلکہ ہندوستان کا نقصان ہے جس کی بھر پائی تقریبا نا ممکن ہوگی ۔
حضرت کچھوچھوی نے کہا کہ سماج میں جس طرح زہر گھولا جا رہا ہے، اس سے جہاں دہشت گردی اور نکسل وادی کو بل ملتا ہے تو وہیں ظلم کے خلاف ہماری لڑائی کمزور بھی ہوتی ہے لہذا ضروری ہیکہ لوگوں میں بھائی چارگی کو مزید تقویت بخشنے کے لئے قانون اور حکومت بھی کوشش کرے۔
ہندوستان ہم سب کا ہے، یہ زمین ہم سب کی ہے، اس کی حفاظت کی ذمہ داری ہم سب کی ہے۔ ہم کسی بھی صورت میں ملک کو بکھرنے نہیں دے سکتے ۔
حضرت نے کہا کہ جس طرح کے حالات بنے ہوئے ہیں، دلت بنام اگڑا کی لڑائی چل رہی ہے، مسلم، سکھ اور عیسائی تعصب پسندوں کے نشانے پر ہیں، ہندوتوا کے نام پر گھناؤنا کھیل کھیلنے والے ہندوتوا کو بھی نہیں سمجھتے، واسودیو کٹمبکم کی ذمین کو رن استھلی بنانے پر تلے کچھ بے روزگار بہکے ہوئے نوجوان ان بدمعاشوں کے بہکاوے میں ہیں جو غیر ملکی سازش کے تحت ملک توڑنے کا کام کر رہے ہیں ۔
حضرت نے تمام محبت پسندوں سے ظلم کے خلاف متحد ہو نے کی اپیل کی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر اس وقت خاموش رہے اور نفرت کے خلاف محبت کے گلاب لے کر نہیں نکلے تو بربادی کے ذمہ دار ہم سب ہوں گے ۔