داعش کی قتل و غارت گری اور ثقافتی تباہی خیزی پر

نئی دہلی 24جون (پریس ریلیز)
ہندوستان میں صوفی سنی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ نے شام اور عراق میں داعش کی قتل و غارت گری اور ثقافتی تباہی خیزی پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام اور اسکی تہذیب اور یادگاروں کے یہ دشمن اسلام کی تما م علامتوں کو مٹانے پر تلے ہیں اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہے اور کچھ اسلامی ممالک بھی اسلامی تاریخ کو آنے والی نسلوں کے سامنے افسانہ بنا نے کے اپنے ایجنڈے کی تکمیل ہوتے دیکھکر مطمئین ہے۔قدیم مقامات اور تاریخی ورثہ کاتحفظ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی ادارے اور محکمہ آثار قدیمہ سمیت قومی محکمے کرتے ہیں لیکن داعش ایک ایسی دہشت گرد تنظیم ہے جو طاقت کے بل پر اسلا می ممالک کے کچھ علاقوں پر قابض ہو کر بعض مملکتوں کے اسلامی آثار دشمن ایجنڈے کو تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔
آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈکے صدر اور بانی حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے آج یہاں ایک بیان میں کہا کہ بورڈ کو یہ جان کر گہرا صدمہ پہنچا ہے کہ داعش کے کرایہ کے سپاہیوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وارثین میں سے ایک محمد بن علی اور ایک بڑی مذہبی شخصیت نذرابوبہاؤالدین کے مزارات کوشام میں بم سے اڑا دیا ۔جہاں یہ لوگ صدر بشار الاسد کے خلاف بعض شہنشاہیتوں کی تیل اور گیس کی دولت سے درپردہ جنگ لڑ رہے ہیں ۔حضرت مولا نا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ شمالی اورمشرقی شام میں جن جن مقامات پر داعش کے دہشت گردوں نے قبضہ کیا ہے وہاں انہوں نے 100سے 200 سال پرانے کم از کم 50مزارات اور مقبروں کو تباہ کیا ہے ۔شام میں ایک صحابی رسول اور محب علی حضرت حجر بن عدی ،حضرت زینب بنت علی اور اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے جرنیل خالد بن ولید کے مزارات کی بے حرمتی اور تباہی کے جاری سلسلے میں یہ نئی تباہی خیزیاں ہوئی ہیں ۔ان لوگوں کی مشکل یہ ہے کہ یہ نہ صرف بزرگان دین ،صحابہ کرام ،اہل بیت اطہار کے دشمن ہیں بلکہ پیغمبروں کے مزارات کی بے حرمتی میں بھی پیچھے نہیں رہے ۔حضرت شیث علیہ السلام اور حضرت یونس علیہ السلام کے مزارات کو بم سے اڑا کر انہوں نے اپنی اسلام دشمنی کی پہچان پختہ کردی ہے۔
حضرت مولا نا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو مسلم ممالک میں حکومتوں کے خلاف بیرونی مالی اور عملی امداد سے سرگرم کرایہ کے سپاہیوں اور دہشت گردوں کی اسلام دشمنی کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی چاہئے کیونکہ وہ اسلامی آثار مٹانے کی ایک بڑی بین الاقوامی سازش کے تحت بے روک ٹوک اپنا کام انجام دے رہے ہیں ہندوستان کی مسلم آبادی میں 80فیصد سے زائد لوگ تعظیم اور زیارت پر عمل پیرا ہیں اور مقدس مقامات اسلامی آثار تاریخی یادگاروں اور مزارات اور مقبروں کے تحفظ کو اسلامی تہذیب کے تحفظ کی ترجیحی کڑی مانتے ہیں اسلئے رمضان کے مقدس مہینے میں اسلامی آثار کی اس بےحرمتی پر رنجیدہ ہیں ۔