تصوف وصوفی اورحضرت مخد وم اشرف جہانگیر سمنانی

صوفی 
حضرت عبد الرزاق نورالعین نے حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ سے درخواست کی کہ تصوف کے نا م کا اطلا ق اس کی کیفیت اور صوفی نام کا کس طرح آغاز ہوا اور اس کی تعریف کے سلسلہ میں کچھ ارشاد فرما ئیں ، حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ نے ارشاد فرما یا کہ (رسالہ) قشیریہ میں اس طرح ہے :
’’اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرما ئے، تم کو معلوم ہو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو حضرات بزرگ شمار ہو تے ہیں ان کو کو ئی نام نہیں دیا گیا یعنی وہ کسی علمی نام سے موسوم نہیں کیے گئے ، اس لئے رسول اکرم ﷺ کی محبت سے بڑھ کر کو ئی فضیلت نہیں تھی اس لئے ان اصحاب کو صحابہ کہا گیا (صحابہ افضل نام سے موسوم کیے گئے)اور ان کے بعد کے زمانہ والوں کا جنہوں نے صحابۂ کرام سے فیض صحبت حاصل کیا تھا ، ان کے لئے تابعین کانام رکھا گیا کہ ان کے لئے یہی سب سے بڑی اور بزرگ علا مت تھی ۔ ان کے بعد جو حضرات گزرے ان کو تبع تابعین سے موسوم کیا گیا ، اس کے بعد اپنے مراتب کے اعتبار سے مختلف طبقات میں بٹ گئے ۔ تبع تابعین کے بعد جو لوگ خواص شمار کیے جا تے تھے اوردینی امور میں کا فی اہتمام کر تے تھے، ان کو زاہدوں اور عابدوں کے نام سے موسوم کیا جا نے لگا ۔ان حضرات کے بعد بہت سی نئی نئی باتیں ظہور میں آ ئیں اور بہت سے مدعی پیدا ہو گئے اور گروہوں میں بٹ گئے اور ہر فریق یہ دعویٰ کر نے لگا کہ وہ زہّا د میں ہے ۔ پس اہل سنت والجماعت سے جو حضرات خواص تھے وہ ان سے الگ تھلگ ہو گئے، وہ اپنے اوقات اللہ کی یاد میں صرف کرتے تھے ، اپنے دلوں کی نگرانی کر تے تاکہ غفلت کی راہوں پر قدم نہ پڑے ، انہوں نے لفظ ’’تصوف ‘‘کو اپنے لئے مخصوص کر لیا ۔ اور یہ نام دوسری صدی ہجری سے قبل ہی مشہور ہو گیا۔ ‘‘(اور یہ خواص اہل سنت والجماعت صوفی کہلا نے لگے۔)
صوفی کا لقب
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ نے فرما یا کہ اس گروہ میں سب سے پہلے صوفی کے لقب سے جس بزرگ کو موسوم ملقب کیا گیا وہ ابوالہاشم صوفی ہیں ۔ آ پ سے پہلے جو بزرگ گزرے ہیں وہ اپنے زہد سے موصوف تھے اور توکل و عبادت اور طریق محبت میں مشہور و معروف تھے ۔ا ن میں سے کسی کو بھی صوفی نہیں کہا گیا، ان حضرات کو زاہد ، عابد ، متوکل کہا جا تا ہے ۔ حضرت سفیان ثوری قدس سرہٗ سے نقل فرما یا کہ وہ فرما تے تھے کہ اگر ابوالہاشم صوفی نہ ہوتے تو ہم ’’ریا‘‘ کی باریکیوں کو نہ سمجھ پا تے ، وہ یہ بھی فرما یا کر تے کہ جب تک ہم نے ابوالہاشم صوفی کو نہیں دیکھا تھا ہم کو معلوم نہیں تھا کہ صوفی کو ن ہو تا ہے ۔
پہلی خانقاہ
پہلی خانقاہ جو صوفیوں کے لئے بنا ئی گئی وہ شام کی ایک پہاڑی پر بنا ئی گئی تھی ۔ خانقاہ کی تعمیر کا سبب یہ ہوا کہ ایک عیسائی امیر شکار کے لئے گیا ہوا تھا ، راستہ میں اس نے دو افراد کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے سے ملے ،بغل گیر ہو ئے پھر اسی جگہ بیٹھ گئے اور کھانے پینے کا جو سامان ان کے پاس تھا ،ان دونوں نے نکا ل کر سامنے رکھا اور دونوں نے مل کر کھا یا ۔اس کے بعد وہ دونوں اپنے اپنے راستہ پر روانہ ہو گئے ۔ عیسائی امیر کو ان کا یہ طریقہ بہت پسند آیا ، ان میں سے ایک فر د کو بلا کر دریافت کیا کہ وہ دوسرا شخص کو ن تھا ؟ انہوں نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں ! کہا، تمہارا اس سے رشتہ کیا تھا ؟ انہوں نے کہاکہ کچھ بھی نہیں ۔ امیر نے کہا کہ وہ آیا کہاں سے تھا؟ تو انہوں نے کہا مجھے یہ بھی معلوم نہیں ۔ اس امیر نے کہا ،یہ محبت کیسی تھی جو تم نے آپس میں کی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا یہ دستور اور طریقہ ہے ۔ امیر نے کہا کہ تمہارے پاس کو ئی ایسی جگہ بھی ہے جہاں تم سب لو گ جمع ہو تے ہو ۔ درویش نے کہا نہیں ہمارے پاس کو ئی جگہ نہیں ۔ امیر نے کہا کہ اگر تم کہو تو میں تمہارے لئے جگہ کا انتظام کر دوں جہاں تم سب یکجا ہو سکو ۔ درویش نے کہا کہ آپ کو اختیار ہے ، پس حاکم نے شام میں رَملہ کے مقام پر ایک خانقاہ بنوادی ۔
صوفیہ کو صوفیہ کیوں کہا ں جا تا ہے ؟
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہنے شرح’’ تعرف ‘‘سے یہ قول نقل فرما یا کہ اس میں آ یا ہے کہ : جب پوچھا گیا کہ صوفیہ کو صوفیہ کیوں کہا جا تا ہے تو انہوں نے فرما یا کہ صوفی کو اس وجہ سے صوفی کہا جا تا ہے کہ ان کا ظاہر و باطن پا ک ہو تا ہے ،اس کا ہر باطنی راز اور ہر ظاہری اثر درست و راست ہو تا ہے ۔ یعنی ان کا ظاہر و باطن روشن ہو تا ہے ۔ باطن کی پاکیزگی یہ ہے کہ حق کے سوا ہر چیز سے انہوں نے اپنے باطن کو الگ کر لیا ہے (غیر حق سے باطن کو پاک کر لیا ہے )نہ غیر خدا سے امید رکھتے ہیں اور نہ غیر خدا سے کچھ سوال کر تے ہیں اور جو چیز ان کو حق تعالیٰ سے باز رکھے اور مشغول کر ے ،اس سے قطع تعلق کر تے ہیں اور آثار ظاہر کی پاکیزگی ہے کہ ان میں ریا نہیں ہوتا ، عجب و غرور سے پاک ہو تے ہیں اور غرض و طمع سے کو ئی تعلق نہیں ہو تا ۔ خدمت زیادہ کر تے ہیں ، اتنا ہی زیادہ اپنے آپ کو قصور وار سمجھتے ہیں ۔ بعض حضرات نے صوفی کی تعریف اس طرح کی ہے کہ صوفی وہ ہے جس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو بزرگی و کرامت کی نیست عطا کی گئی ہو ۔
حضرت عبدالعین نورالعین نے صوفی کی تعریف دریافت کی ، آپ نے حضرت معزسے نقل کیا کہ صوفی تو ’نیست‘ ہو تا ہے اور اگر’ ہست‘ ہے تو صو فی نہیں اور وہ یوں ہے کہ اس نے کہا حالانکہ وہ اس کی طاقت سے نہ تھا ،خبر نہیں کہ اس نے کہاں سے اور کس سے سنا تھا ۔ سبحا ن اللہ اس سے زیادہ عجیب امر کس نے دیکھا کہ جہاں میں نہیں ہے اور اگر ہے تو کسی لباس میں پوشیدہ ہے اور وہ کہتا ہے کہ وہ مع اس جسم کے میرے دل میں گم ہے اور دل وجان میں ہے اور وہ اس سے ہمیشہ زندہ ہے ۔
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ فرما تے تھے کہ کسی نے شیخ ابوالحسن خرقانی سے پوچھا کہ صوفی کون ہے ؟فرما یا صوفی سجادہ و مرقع سے صوفی نہیں ہو تا ، رسم و رواج سے صوفی نہیں ہوتا صوفی وہ ہے کہ نیست ہو بلکہ اس کا دن ایسا ہو کہ اس کو آفتاب کی حاجت نہ ہو ، رات ایسی ہو کہ چاند اور تاروں کی ضرورت نہ ہو، ایسا نیست ہو کہ اس کو ہستی کی حاجت نہ ہو ۔صوفی ہو نے کے لئے شرط ہے کہ رات دن حق تعالیٰ کی یاد میں بیدار ہو اور صوفی کی بیداری کے لئے شرط ہے کہ جب یادِ حق کر ے تو اس کا سر سے پا ؤں تک حق تعالیٰ کی یا د سے با خبر رہے نہ یہ کہ صرف لباس بدل ڈالے اور صوفی ہو جا ئے ۔
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ فرما تے تھے کہ حضرت شیخ عبدالرزاق کا شی کی خدمت میں یہ فقیر اور حضرت میر سید علی ہمدا نی اور مشائخ زمانہ کا ایک گروہ سب بیٹھے ہوئے تھے کہ تصوف کے معنیٰ اور اہل عرفان کی با ت نکلی ۔ مجلس شریف و محفل لطیف کے حاضرین سے ہر ایک نے القاءِ وقت اور اپنی رسائی کے موافق معانی تصوف وارباب تعریف کو بتکلف کلام درربار اور گو یا ئی گوہر نثار سے بیا ن فرما یا ۔ کسی نے کہا تصوف بالکل ادب ہے اور کسی نے کہا تصوف بالکل فضول کو ترک کر دینا ہے ۔ کسی نے کہاتصوف اب نام سے نہ کہ حقیقت اور پہلے حقیقت تھا نہ کہ نام ہی نام ۔ رویم سے تصوف کے بارے میں سوال کیا گیا تو کہا کہ صوفی وہ ہے کہ نہ کسی چیز کا ما لک ہونہ کسی کو مالک بنا ئے ۔یہ بھی کہا کہ تصوف کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرما یا کہ وہ بالکل ادب ہی ادب ہے ۔ جب سب بزرگوں نے باری باری معانی کے موتیوں کو رشتۂ بیان میں پِرو دیا، حضرت عبدالرزاق کا شی نے صاحب فتوحات سے نقل کیا کہ فر مایا ’’تصوف خلق کا حق سبحانہ وتعالیٰ میں گم ہو جا نا ہے، فر ما یا تصوف خار ج ہو نا ہے اور داخل ہو نا ہے یعنی تم سے نکلنا اور تم میں داخل ہو نا۔ ‘‘
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ نے شیخ عبدالرزاق کا شی سے پوچھا کہ حضرت شیخ اکبر نے صوفی کے بیان میں کیا فرما یا ہے ؟فرما یا صوفی وہ ہے جس کا نہ کو ئی نا م ہے نہ رسم ہے اور نہ وصف ہے اور اس کی نشا نیاں مٹ چکی ہیں ۔ فر ما یا صوفی وہ ہے جس میں کو ئی وصف قابل بیا ن نہیں پا یا جا تا اور نہ ان کا پہچا ننا خلق پر مشتبہ ہے ۔ فرما یا جس نے دنیا کو اہل دنیا کے لئے اور آخرت کو اس کے طالب کے لئے اور انانیت و غرور کو شیطانوں کے لئے چھوڑ دیا اور جہل کی تاریکی اور علم کی روشنی کے درمیان سے نکالا اور شرکِ خفی سے بچا اور ما سوا اللہ سے نظر ہٹا لیا تو اس کے باطن قلب نے جمال صدیقیت کے نور کو عرش پر حاصل کیا اور یہ پہلی صفت صوفی ہے ۔
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ نے فرما یا کہ بعض اکابر مشائخ نے تفصیلی طور پر اور بہت سے بزرگوں نے تاویل کے ساتھ معانی بیا ن فر ما ئے ہیں لیکن مجھے ان تمام تعریفوں میں حضرت سیدالطائفہ جنید بغدادی قدس سرہٗ کا مقالہ بہت پسند آ یا ہے ۔ انہوں نے ارشاد فر ما یا ہے : التصوف کلہ ادبٌ(تصوف تمام تر ادب ہے)اس لئے کہ تصوف کے تمام مجموعی معانی بلکہ ابتدا سے انتہا ء تک تصوف کا جو کچھ مقصود و مطلوب ہے اور جو کچھ اصحاب و ارباب تنبیہ کے لئے ہے وہ سب کچھ اس میں موجود ہے ۔ اس طائفہ علیہ کے اکثر احوال اور صوفیہ کرام کے مقامات موجود ہیں ۔ مثلاً اولاً اِس جملہ میں یا اِس تعریف میں وحدانیت کا اقرار ہے اور فردانیت کی اطلاع موجود ہے ۔ درویشوں کی خدمت کے تمام لوازم آداب میں داخل ہیں ۔ تمام عبادات و معاملات جیسے نماز ، روزہ اور اس طرح کے دوسرے امور سب کچھ ادب ہے ۔ سلوک میں جس قدر مختلف اذکار و اشغال ہیں اور جلسہ ہا ئے متنوعہ، مراقبہ ، مشاہدہ اور تمام دوسرے امور جو اِس گروہ کے لئے مخصوص ہیں وہ حقیقت میں ادب ہی میں داخل ہیں ۔
سبحان اللہ ، سبحان اللہ اس ادب سے بالا تر اور کون سا ادب ہو سکتا ہے کہ صوفی دوست کی عظمت و کبر یا ئی اور اس کی بزرگی کے ملاحظہ کے بعد’’ ہمہ اوست‘‘ کا نعرہ بلند کرتا ہے اور سالک کو مراقبہ وحدت اور کثرت میں مشاہدہ وجہ خاص سے فناء الفناء حاصل ہوتا ہے اور حقیقی بقاء البقاء سے مل جا تا ہے ۔
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ حضرت پیر ہروی قد س سرہٗ سے نقل فرما تے تھے کہ وہ کہتے ہیں ’’تصوف اور تصرف نہیں ہو تے ، تصوف اور تصرف جمع نہیں ہو تے اور دنیا کا افسوس کرنا اور اس کی قیمت رکھنا انسان کو تصوف کے دائرہ سے نکال دیتا ہے ، بالکل اس طرح جیسے خمیر سے با ل نکا ل لیتے ہیں ۔ صوفیوں کی نظر میں دنیا کی کو ئی قیمت نہیں ہے اور اس کے لئے وہ غمگین نہیں ہو تے ، اگر تم دنیا کو ایک لقمہ بنا کر صوفی کے منہ میں ڈال دو تو یہ اسراف نہیں بلکہ اسراف یہ ہے کہ اس کو حق تعالیٰ کی رضا جو ئی میں خرچ نہ کرو ۔ حق تعالیٰ تم سے ترک دنیا اس قدر نہیں چا ہتا جتنا کہ وہ دنیا کی دوستی اور محبت کو تمہارے دل سے مٹانا چاہتا ہے یعنی تم دنیا کی محبت کو ترک کردو! دنیا تو تمہارے لئے ایک مٹی کا ڈھیلا ہے اور تم کو اس سے غیرت ہے ۔
شیخ ابوالوفاء خوارزمی نے حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ سے دریا فت کیا کہ ان حضرات (فقراء)کو صوفی کس اعتبار سے کہا جا تا ہے ؟حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ نے ارشاد فرما یا کہ دو اعتبار سے ان کو صوفی کہا جا تا ہے :صفاء اسرار کی وجہ سے یا اِس لئے کہ وہ صف میں اول ہو تے ہیں ۔ باعتبار اِن دونوں معنیٰ کے صوفی ان کو سب نے کہا ہے۔ اکثر لوگ تو اس لحاظ سے ان کو صوفی کہتے ہیں کہ انہوں نے صوف کا لباس اختیار کر لیا ہے (صوف کے لباس پہنتے ہیں)اور صوف پیغمبروں( علیھم السلام ) کا لباس ہے۔
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ نے فرما یا کہ اصحاب تصوف کی نسبت صفا وارباب صفت سے نہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ صوفیوں کے اخلاق اصحاب صفہ سے لے گئے ہیں ۔ صفہ مدینہ منورہ میں اس جگہ کا نام ہے جس کو قبا کہا جا تا ہے ۔ مدینہ منورہ سے یہاں کا فاصلہ فرسنگ کا ہے ۔ وہ درویش جو رسولِ اکرم ﷺ کے اصحاب تھے ، یہاں رہتے تھے ۔ یہ حضرات دنیا اور اصحاب دنیا سے الگ تھلگ رہا کر تے تھے ۔
اصحاب صفہ اور صوفی
حدیث شریف میں ہے کہ ایک وقت ایسا بھی گذرا ہے کہ اصحاب صفہ جن کی تعداد چالیس افراد تھی، صرف ایک ایک خرما (کھجور)کھا کر وقت گزارا کرتے تھے اور ان کے پاس پہننے کے لئے بہت کم کپڑے تھے ، اکثر برہنہ رہتے تھے اور یہ حضرات خود کو ریت میں چھپا لیا کرتے تھے ۔جب نماز کا وقت آتا تو سب کے لئے صرف ایک جوڑے کپڑے تھے ۔ ایک فرد یہ کپڑے پہن کر نماز ادا کرتا ،باقی ریت سے جسم ڈھانکے رہتے ۔ یہ شخص جب نماز ادا کر لیتا تو یہ کپڑے دوسرا شخص پہن لیتا اور نماز ادا کرتا ، اس طرح یکے بعد دیگرے سب اسی ایک لباس سے نماز ادا کرتے ۔ مذہب تصوف کی اصل اسی سے ہے۔ یعنی دنیا سے اعراض کرنا ، مخلوق سے خصومت نہ کرنا، جو کچھ مل جا ئے اس پر قناعت کرنا اور جو ،نہ ملے اس کی طلب و جستجو نہ کرنا ، توکل پر زندگی بسر کرنا اور اختیار اللہ تعالیٰ کے حوالہ کرنا اور قضائے الٰہی پر راضی رہنا ۔ اہل وطن اور دوستوں سے الگ تھلگ رہنا ۔ یہ تمام صفتیں اہل صفہ کی تھیں اور بعینہٖ یہی تمام صفات اصحاب تصوف کی ہیں اور صوفیہ کا اصل طریقہ یہی تھا ۔ ابتدائے زمانہ سے یہ تمام صفات تبا ہ ہو گئیں جس طرح اور بہت سی خرابیاں دوسرے معاملات میں پیدا ہو ئیں ۔
اصل زہد میں طعن نہیں بلکہ طعن تو اس شخص کے بارے میں ہے جومذہب کے خلاف کرتا ہے ۔ مثلاً اگر کو ئی سودا گر خیا نت و بد دیا نتی کر تے تو اس سے اصل تجا رت پر حرف نہیں آ تا بلکہ قصور سارا تاجر کا ہے (نہ کہ تجا رت کا )یا کو ئی غازی میدانِ جنگ سے بھا گ جا ئے تو اس سے جہاد پر حرف نہیں آ تا ، کوئی عالم دنیا کا طلب گار بن جا ئے تو اصل شریعت تباہ نہیں ہو سکتی ، بادشاہ ظلم و ستم پر کمر باندھے تو بادشاہت کا قصور نہیں ۔ ہر زمانہ میں ہر گروہ ایک دوسرے کے لا ئق ہو اہے(بہر روزگارے ہر گروہے در خودیک بدیگر باشند)صوفیہ بھی اصل میں اسی طریقت کے حامل گزرے ہیں ۔
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ سے ایک عزیز نے دریافت کیا کہ صوفیوں کے لئے دست بد(زوال)کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرما یا کہ پیر ہروی فرما تے ہیں :حال محال اور کلام میں باطل اشارات۔

(حوالہ :لطائف اشرفی ،لطیفہ۴)