اجمیر میں جمعیت علمائے ہند کا اجلاس اور دیوبندی بریلوی اتحاد: دیکھئے اس بحر کی تہ سے اچھلتا کیا ہے!!! :غلام رسول دہلوی

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

آئیں:

پہلی چیز یہ کہ ہندوستانی مسلم کمیونٹی کے اندر فرقہ وارانہ تقسیم سے لڑنے کا مطالبہ کرنے والی تنظیم جمعیت علمائے ہند  ہے- اور دوسری چیز یہ ہے کہ دلت مسلم اتحاد کے لیے بھی آواز بلند کرنے والی تنظیم یہی ہے۔

کانفرنس میں مسلم کمیونٹی کو متاثر کرنے والے مذہبی اور سیاسی مسائل سے متعلق دیگر قرارداد بھی منظور کیے گئے۔ لیکن مذکورہ بالا دو ایجنڈوں کو نیشنل میڈیا کے اندر خوب مقبولیت اور ہمدردی بھی حاصل ہوئی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مقاصد اپنے آپ میں انتہائی اہم ہیں، لیکن جب باریک بینی کے ساتھ جانچ کی جاۓ تو جمعیت کے پاس ان مقاصد کو پورا کرنے کے لئے کوئی نظریاتی اور سیاسی دلیل ہے ہی نہیں۔

فرقہ وارانہ اتحاد کی مانگ ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ امت مسلمہ داخلی طور پر شیعہ اور سنی مذہبی تفرقوں کا شکار ہے۔ ان سب پر مستزاد دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث جیسی مسلکی تقسیمیں بھی ہیں۔ تاہم، یہ سب محض فروعی اختلافات نہیں ہیں، بلکہ برصغیر ہند میں ان کی نظریاتی جڑوں کی تاریخ تقریبا 150 سالہ پرانی ہے۔

غور طلب یہ ہے کہ ہندوستان میں امت مسلمہ کے اندر فرقہ بندی کی یہ روایت خود علماء دیوبند نے شروع کی ہے- انہوں نے اپنی مختلف مطبوعات اور خطبات کے ذریعے اپنے اس نظریہ کی اشاعت کی کہ ‘بریلوی عقائد’ کے حامل کامل مسلمان نہیں ہیں۔ ان کی دلیل کی بنیاد مزارات پر حاضری دینے کی سنی صوفی روایت پر ہے جسے کم از کم ہندوستانی کی سرزمین پر دیوبندی نظریہ سازوں نے ‘شرک و بدعت’ سے تعبیر کیا-انہوں نے مزارات پر حاضری کو اپنے اس دعوے کا “ثبوت” قرار دیا کہ بریلویوں پر ہندو اثر و رسوخ کا غلبہ ہے۔

تصوف کے گہرے فلسفہ کو بااثر دیوبندیوں نے قبر پرستی کا نام دے دیا۔ یہاں تک کہ ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان پیدائش اور موت کے موقع پر ادا کی جانے والی بظاہر غیر مضرت رساں روایتی رسومات کو بھی اسلامی ثقافت کے دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی؛ جو کہ اس عقیدے کی بنیاد پر ہر ہندوستانی رسوم و روایت کو مسترد کرنے کا ایک آسان ہتھکنڈہ ہے کہ عربی روایات ہندوستانی رسوم و روایات کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر اور ارفع و اعلیٰ ہیں۔

اب دیوبندیوں کی مرکزی سیاسی تنظیم جمعیت علماء ہند انہی بریلویوں کے ساتھ مشترکہ اقدار کا اشتراک کرنا چاہتی ہے جنہیں انہوں نے ماضی قریب میں ہی ناقص مسلمان قرار دیا تھا۔ اب دیکھئے اس بحر کی تہ سے اچھلتا کیا ہے!!!!!!!!

کیا آج مولوی توقیر رضا خان صاحب کی قیادت میں بریلوی حضرات یہ بھول جائیں گے کہ خود ان کے اپنے نظریہ سازوں نے ایک صدی قبل ان کے بارے میں کیا لکھا ہے؟ در حقیقت دونوں فرقوں کے درمیان خلاء کو پر کرنے میں ان کی حالیہ کوشش ایک فریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔

دیوبند کے ذاتی دورے کرکے کون سا جماعتی اتحاد ممکن ہو سکے گا؟ بہر حال یہ سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا یہ دونوں فرقے ایک دوسرے کے بارے میں اپنے فقہی و دینی و مسلکی موقف پر نظرثانی کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اور کیا وہ اپنے ان اکابر علماء کے خلاف جانے کے لیے تیار ہیں جنہوں نے ایک دوسرے کے خلاف کتابیں لکھی ہیں اور تقریریں کی ہیں؟

حاصل کلام یہ ہے کہ کیا کسی دیوبندی کے لیے مولوی اشرف علی تھانوی کے اس دعوی کو غلط قرار دینا ممکن ہو گا کہ بریلوی سچے مسلمان نہیں ہیں؟ اور کیا ایک بریلوی کھل کر یہ کہہ سکتا ہے کہ دیوبندیوں کے خلاف امام احمد رضا خان اور مولانا ارشد القادری کی تحریریں اب افادیت بخش نہیں رہیں اور ان کے فتاویٰ اور فیصلے غلط تھے؟؟؟؟؟؟

ایک پلیٹ فارم پر مجتمع ہونا اور دنیا کے سامنے یہ اعلان کرنا کہ ہندوستانی مسلم کمیونٹی متحد ہے، بظاہر ایک خوشگوار مظہر لگتا ہے۔ لیکن جیسا کہ انگریزی کا مشہور مقولہ ہے:

“Appearance is always deceptive”

دکھاوا ہمیشہ پر فریب ہوتا ہے- عوام کو اس طرح کے دھوکے میں ڈال کر قوم مسلم کو متحد کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟؟؟؟ اتحاد اس وقت یقینی ہوگا جب ایک دوسرے کے خلاف دونوں فرقے اپنی اپنی تاریخی اور نظریاتی غلطیوں کا اعلان کرکے نہ صرف بارگاہ ایزدی میں بلکہ عوام الناس کے سامنے بھی تائب ہوں۔

اور تاریخی  تجربے شاہد ہیں کہ ایسا کرنا نہایت مشکل ہوگا، کیوں کہ دیوبند اور بریلی کے اختلافات محض کچھ رسمی اختلافات نہیں ہیں۔ بلکہ ان کا تعلق ان بنیادی عقائد سے ہے جو ایک ایک سچے مسلمان کے لئے از حد اہم اور بنیادی ہیں۔ ان اختلافات کا تعلق خود پیغمبر اسلام کی ذات با برکات کی عظمت کی تفہیم کے ساتھ مربوط ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اختلافات کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی طور پر خود مسلمان ہونے کے طریقوں میں اختلافات ہیں- اس لیے کہ ہر مومن مسلمان اپنا ماڈل اور نمونہ حیات خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے۔ لہٰذا،امت مسلمہ کے ایک بڑے طبقے کو مشرک سمجھنے والے ان فرقوں کے لیے کیا یہ ممکن ہو گا کہ وہ متحد ہو جائیں اور اپنے ماضی اور حال کے اختلافات کو بھلا دیں؟

قطع نظر ان اختلافات کے یہ دونوں فرقے ادارہ جاتی تنظیم کی حیثیت بھی رکھتے ہیں- مطلب یہ کہ وہ مساجد اور مدارس کا ایک منظم نظام بھی چلاتے ہیں۔ لہٰذا، اگر وہ اپنے اختلافات کے بارے میں کچھ کرنے کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں سب سے پہلے اس کی شروعات مدارس سے کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ مدارس کے ذریعہ ہی ان بنیادی اختلافات کو طالب علموں اور عام مسلمانوں کے ذہنوں میں اتارا جاتا ہے۔ اس ضمن میں ان کتابوں کو درسیات اسلامی خارج کرنا وقت کا جبری تقاضا ہے جن میں سواد اعظم کو ایک گمراہ فرقہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

کیا بریلوی اور دیوبندی علماء کے لیے یہ ممکن ہو گا کہ وہ متحد ہو کر ایک ایسا اسلامی نصاب تیار کریں جو دیوبندیوں اور بریلویوں دونوں کے مدارس کے لئے عام ہو؟ جب تک دونوں کی فکر میں یہ بنیادی تبدیلی (Shift Paradigm) پیدا نہیں ہوگی، تب تک ان دونوں فرقوں کا قریب آنا صرف ایک دکھاوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

مضمون نگار نے معروف اسلامی ادارہ جامعہ امجدیہ رضویہ  (مئو، یوپی ) سے عالم و فاضل، الجامعۃ اسلامیہ، فیض آباد، یوپی سے قرآنیات میں تحقیق اور الازہر انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز بدایوں سے علوم الحدیث میں سرٹیفیکیٹ حاصل  کیا ہے۔ مزید برآں جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے  عربی (آنرس) میں گریجویشن، اور وہیں سے تقابل ادیان ومذاہب میں ایم. اے کرنے کے بعد اب وہیں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں-