پھر سی غلامی کی راہ پر گامزن ملک: عبدالمعید ازہری

کل ہم انگریزوں کے غلام تھے ۔ آج ہماری غیر اخلاقی رواداری ، نفرت و تشدد، مذہب کے نام پر انتہا پسندی،بد عنوان سیاست اور مجبور اور کمزور قانون ہمیں غلامی کی زنجیریں پہنا رہا ہے ۔نفرت و تشدد کی اس آگ میں صرف اور صرف انسان جل رہا ہے ۔ انسانیت دم توڑ رہی ہے ۔مذہب اپنی کتابوں میں سسک رہا ہے ۔مذہبی رہنما اپنی عبادت گاہوں میں قید ہو گئے ہیں۔بد عنوان سیاست کا ننگا ناچ امن و آشتی ، اخوت و محبت کے چہرے پر تیزاب ڈال رہا ہے ۔اس تاریک راہ میں ہمیں امید ہے تو بس اتنی کہ ہر فرعون کے لئے کو ئی موسیٰ ضرور ہے اور ہر یزید کیلئے کو ئی حسین۔آج انہیں دونوں کرداروں کی ضرورت ہے ۔ہر یزید کا تخت پلٹے گا اور ہر فرعون غرقآب ہوگا کیونکہ ہر ظلم کی ایک حد ہے ،ہر زیادتی کی ایک سیما ہے۔ انسان کی فطرت اگر چہ صبر اور ضبط ہے لیکن اس کی بھی ایک مدت ہے ۔جیسے نیند کی ایک مدت ہے ۔اس سے زیادہ نہیں سو سکتا۔اگرکسی دوا کا سہارا لیا ہے، تو اس کا بھی ایک وقت ہے لیکن اس کے بعدبہر حال اسے بیدار ہونا ہے۔ یہ بھی ایک سچ ہے کہ انسان اگر حساب پر آ جائے تو حساب کا بھی حساب کتاب ہو جاتا ہے کیونکہ انسان اس بڑے حساب کرنے والے کا ایک مظہر ہے۔ اس انسان میں بھی اسی کا نور ہے۔تو انسان جب نیند یا بے ہوشی کے بعد بیدار ہوتا ہے، تو اس کی بیداری بھی عجیب ہوتی ہے۔یہ بیداری ایک تاریخ لکھتی ہے۔ وہ سارا حساب لیتی ہے۔ وہ دریا کو پیاسا اور سمندر کو بے سہارا کر دیتی ہے۔وہ تاریخ کی طرح ہے کہ اگرچہ خاموش ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بے حس ہے۔وہ اپنا پورا کام کرتی ہے۔جب وقت آتا ہے، تو آئینہ کی طرح سب کچھ سامنے رکھ دیتی ہے۔
انسان کی فطر ت جہاں ایک طرف محبت اور ہمدردی ہے وہیں دوسری طرف غصہ اور لڑائی بھی ہے۔ بسا اوقات ایک لکیر بھی کھنچ جاتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ لکیر زیادہ دیر تک نہیں رہتی۔ ایک دن مٹتی ہے ۔ گنگا جمنا کے بیچ کا فرق ختم ہوتا ہے ۔ پھر سمندر کی لہروں کی مانند ایک انقلابی موج اٹھتی ہے جو اپنی رفتار سے ساری برائیوں کو ختم کر دیتی ہے ۔
در اصل صبرو ضبط کا یہ وقفہ ایک موقعہ ہے۔غلطیوں کو آسانی سے ختم کرنے کے لئے کہ اگریہ غلطیاں انسانی فطرت کے تحت ہوئی ہیں تو ابھی ختم کر لو۔ ورنہ جب پانی سر سے اوپر ہوگا اور حساب پر بات آئیگی تو ایک انقلاب آئے گا ۔ اس کو برداشت کرنے کی سکت کسی بھی مجرم یا ظالم میں نہیں ہوگی ۔اسی لئے انسا ن صبر کرتا ہے۔ برداشت کرتا ہے لیکن کچھ لوگ اسے انسان کی کمزوری سمجھ بیٹھتے ہیں ۔
تو موقعہ ہے سمجھ جاؤ انسا ن کے صبر و تحمل ، ضبط و استقامت کا امتحان نہ لو ۔ اس کی باندھ ٹوٹی تو سنامی ہوگی اور اس کی رفتار کو پکڑ نہیں پاؤگے۔
((انسانیت سے بڑھ کر کوئی دھرم نہیں ہو سکتا۔دھرم خود مانو شدھی کرن کے لئے ہوتا ہے۔وہ ذاتی اور پرسنل ہوتا ہے ۔اگر کوئی دھرم یا مذہب مانو ہت کے خلاف ہے تو وہ دھرم نہیں ہو سکتا ۔ جو بھی دھرم کی آڑ میں انسانیت کے خلاف اور مانوتا کے وپریت سیاست کرے وہ سچا دھرم بھکت نہیں ہو سکتا۔ ایسی وچار دھارا رکھنے والا کبھی دیش کا نہیں ہو سکتا ۔ہمارا نہیں ہو سکتا۔))
ہندوستان کی تاریخ رہی ہے اس ملک نے ساری دنیا کو تہذیب اور کلچر سکھایا ہے۔ انسانی ہمدردی آپسی بھائی چارگی کا درس دیا ہے ۔ وطن عزیز کے قیمتی باشندوں نے پوری دنیا کو سکھایا کہ یہ دیکھو الگ نام ، الگ مذہب ، الگ دھرم ، الگ سماج، الگ ذات ،اور الگ برادری کے لوگ ایسے ایک ساتھ رہتے ہیں۔اور یہ روایت اب سے کچھ برس پہلے تک قائم تھی ۔لیکن اب اس میں بھید بھاؤ اور خلش کا گھن لگ گیا ہے ۔اس میل ملاپ اور ملک کی ترقی کی نیا میں نفرت اور بدعنوانی کا سوراخ ہو گیا ہے۔یہ اس ملک کی قابلیت پر سوال ہے ۔ اس کی رہنمائی پر سوال ہے ۔ جس ملک نے ایک سے ایک قد آور اور مثالی لیڈر اور رہنما پیدا کئے ہوں آج اسی ملک کی لیڈر شپ پر سوال ہے ۔ جس ملک کا مقام اس ملک میں بسنے والے ہر مذہب و ملت کی آپسی محبت اور بھائی چارگی کی بنیاد پر بلند سے بلند تر ہونا چاہئے تھا آج نیچے ہوتا جا رہا ہے۔آج اس ملک کی حفاظت کے ذمہ داروں اور اس کو چلانے والوں میں یہ احساس بھی نہ رہا کہ دیکھ سکیں کہ اس ملک کی کیا حالت ہو گئی ہے ۔روتا ہے یہ ملک اپنے پرستاروں پر کہ مجاہدین آزادی نے کم سے کم ایسے ملک کا سپنا تو نہیں دیکھا ہوگا ۔اس ملک کی ترقی اس کی قابلیت اور اہلیت پر ایک بڑا سوال کھڑا ہے ،حد تو یہ ہے کہ اب تو وہ نام جو کبھی عزت کی علامت تھے اب بدنام ہوکر گالی بن گئے ہیں ۔ نیتا ایک ایسا لفظ ہے جوبڑے فخر سے لیا جاتا تھا لیکن اب ایک طنز کی گالی بن کر رہ گیا ہے،ایک بڑا سوال ہے کہ ایسا کیا ہوا۔ اس ملک میں اور وہ کون سی ایسی نئی مصیبت آئی کہ ہم ا س میں ایسے پھنسے کہ نکلنے کے راستے بند ہو گئے اور ہم نے ملک کو اس حال میں پہونچا دیا ۔
اس بڑے سوال کا جواب آپ کو دینا ہے کیونکہ جن ذمہ داروں سے یہ سوال ہے اس میں آپ کا نام بھی شامل ہے اور تاریخ رہی ہے کہ آپ نے جواب دیا ہے۔ اور قرارا جواب دیا ہے ۔آج پھر اس ملک کو اس جواب کی ضرورت ہے۔آج ضرورت ہے۔آج یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ آخر ایک کسان جو اپنے خون کو پسینہ کی طرح بہاتا ہے۔پاؤں تلے کا پسینہ سر سے بہہ کر بنجر زمین کو گیلہ کرتا ہے۔ اتنی محنت کرنے کے بعد بھی وہ کسان بھوک سے خود کشی کر لیتا ہے۔جس ملک کی ترقی اس کے کسان اور اس کی محنت سے ہو آخر روہی بھکمری کا شکا ر کیوں ۔ظلم و زیادتی کے شکنجہ میں جکڑا ہوا کیوں ہے؟کوئی بھی اناج ہو، اس کو اس کی صحیح قیمت نہیں ملتی۔ حد تو یہ ہے کہ ایک طرف یہ کسان اپنی مجبوری اور بے چاری کی وجہ سے جب اناج بیچتا ہے، تو اس کو اس کی ضرورت پر قیمت نہیں ملتی۔ضرورت کے لئے اسے اپنا حق گوانا پڑتا ہے۔ اس کے بعد وہ اسی اناج کو اس سے دس گنا دام میں خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔پہلے وہ مجبور کیا جاتا ہے پھر اس کے بعد مظلوم کیا جاتا ہے ایسا کیوں ؟نعرہ ہے ملک ترقی کر رہا ہے ۔ ہاں ترقی ہو رہی ہے لیکن ترقی وہ کر رہا ہے جو پہلے سے ترقی یافتہ ہے اور رہا بے چارہ غریب تو غریب کا غریب رہا۔ اس کی غریبی میں ترقی ضرور ہوئی ہے۔ایک تو اس غریب اور کسان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا کوئی معقول انتظام نہیں اور اگر سواسکیموں کا اعلان کر کے ایک کام کیا بھی تو بڑی مشکل سے غریب تک پہونچتا ہے۔ اس تک پہونچتے پہونچتے وہ کسی ضرورت کی نہیں رہ پاتی۔ سرکاری غریبوں کی فہرست میں ایسے ایسے غریبوں کے نام ہیں جن کے گھر میں کئی غریب مزدوری کر کے اپنے پریوار چلاتے ہیں۔واہ رے ہندوستان کے ایسے غریب اور ایسی غریبی اور ایسے لوگوں کو غریب تسلیم کرنے والے غریب شناس!آج اگر دیکھا جائے تو راشن کارڈ ان کے نا م زیادہ بنے ہوتے ہیں جن کے گھر میں اناج اور تیل کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی جتنی اسی کے پڑوس میں رہنے والے ایک مزدور کو ہوتی ہے ۔
آخر میں عام آدمی ہی کیوں پستا ہے ؟کیا مظلوم ہونا اس کی غلطی یا اس کا جرم ہے؟یا پھر ایک عام آدمی ہونا ہی اس کی غلطی ہے۔ پھر تو پیدا ہونا ہی اس کی سب سے بڑی بھول ہے۔اگر ایسا نہیں تو پھر ایسا کیوں؟
ایک تو عام آدمی کے لئے کوئی سہولت نہیں اور اگر کسی طر ح سے کوئی انتظام کر دیا گیا تو اس تک پہونچنا مشکل اور اس تک کٹ چھٹ کر پہونچی بھی تو اسے اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ ایسا کیوں؟
ایک عام آدمی کو کیا چاہئے ؟انفرادی زندگی میں کھانے کے لئے سکون سے دو وقت کی روٹی ،بدن ڈھکنے کے لئے دو چند کپڑے اور سر ڈھکنے کے لئے ایک چھت۔ اور اجتماعی زندگی میں سبھی کو چاہئے انصاف اور اس کی حفاظت۔ جو ملک کا ذمہ دار اس ملک میں بسنے والوں کی حفاظت نہ کر سکے وہ کیا حکومت کرے گا اور کیا رہنمائی کرے گا ؟جن رہنماؤں کی فکر انسان کو قتل کر کے جانوروں کی حفاظت ہو ان سے انسانیت کی امیدکرنا خود کو دھوکہ دینے کے سواء کچھ نہیں۔
آج کل ہر سیاسی نیتا عام آدمی ہے۔ جو عام آدمی کی زندگی سے واقف نہیں۔ ان کی ضروریات کا اسے علم نہیں۔ وہ توشاید سارے گاؤ ں کے ناموں سے واقف نہ ہو۔ وہ جو ہوا میں اڑ کر آئے۔ ہوا میں باتیں کرے اور ہوا ہو جائے۔ پھر ضرورت پڑے تو پانچ سال بعد آئے ۔ ہوا بازی کرے اور پھر ہو جائے۔ وہ کیا عام انسا ن کے مسائل حل کرے گا۔اب ہمارے مسائل اس کے ہاتھ میں ہوں جو عام آدمی میں رہا ہو۔ اس کے درد کو محسوس کیا ہو۔عام آدمی میں بیٹھا ہو اور عام آدمی ہو۔
ایک عام آدمی کی عام طور پر روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ تین جگہ ضرورت پڑتی ہے اور وہ اس جگہ اپنے ضرور ت پوری کرنے جا تا ہے۔اگر آپس میں کوئی واد وواد ہوگیا تو اس کے حل کے لئے آدمی تھانہ پہنچتا ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ وہاں اسے انصاف ملے گا۔کیونکہ اس کو تھانہ کی ضرورت ہی اس لئے پڑی کہ اس کے ساتھ کچھ زیادتی ہوئی ہے اور جس نے کی اسکے ساتھ زیادتی ہے اس سے وہ ایسے عام طریقے سے نہیں نپٹ سکتا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شاید اسے تھانہ جانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ بہر حال وہ بڑی امید لیکر وہاں پہونچتا ہے۔ اس کے بعد اگر مسئلہ اور سنجیدہ ہوتا ہے تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔دوسری بڑی ضرورت اسپتال کی ہے اور یہ اتنی بڑی ضرورت ہے کہ ایک ضرورت مند انسان کے منہ سے ڈاکٹر کو بھگوان کا درجہ دیتے سنا گیاہے۔ اتنی زیادہ امید ہوتی ہے اور اس سے بھی زیاوہ ہو تا ہے بھروسہ۔اس کے بعد اسکول بجلی پانی وغیرہ۔ آج کے ترقیاتی دور میں ایک اور ضرورت اور امید کا راستہ ایک عام آدمی کو نظر آیاہے وہ ہے میڈیا ۔ جس کے ذریعہ وہ اپنی بات اور حق کی آواز دوسرے لوگوں کو پہونچا سکے، اسی وجہ سے اس کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ۔
اب ہمارے سامنے بڑا سوال یہ ہے کہ ایک عام انسا ن کے لئے تشکیل شدہ یہ سہولیات کس قدر کا م کر رہی ہیں یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ ہمیں ہر شعبہ اور اس کے نظام کو دیکھنا ہے۔ جیسا کہ پہلے یہ بات کہی جا چکی ہے کہ کچھ بھی مٹتا نہیں ہے۔ سب سامنے آتا ہے ۔ اب اسے دیکھنا اور طے کرنا ہے کہ اب اس ملک کی باگ ڈور کن ہاتھوں میں ہو۔عدل کے نام پر ظلم اور وکاس کے نام پر وناش کی سیاست کر نے والے ہاتھوں میں یا مجبوری کا بہانہ بناکر اس ظلم و زیادتی پر پردہ ڈالنے والوں کے کندھوں پر؟ یا پھرآج کے انسانوں کو ایسی مسیحائی نصیب ہوگی جو انسانیت کی طاقت دکھائے تو بڑے بڑے بت گر جائیں ۔ جو سیاست کے مہا رتھیوں کو سیاست کا پاٹھ پڑھائے ۔، مجبوری کا ڈھونگ رچ کر ذمہ داری سے بھاگ اس ملک کو کھوکھلہ کرنے والی سیاست کو لگام لگائے اور کچھ ہی دنوں میں وہ کر دکھائے جو جو پچھلی کئی دہائیوں میں نہیں ہوا تھا ۔
کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ ان تھانوں کہ حالت کیا اور کیوں ہے؟وقت و حالت کے کسی مارے ہوئے سے اس کی داستان سنئے۔
اب تو یہ عام قصہ یا لطیفہ بن گیا ہے کہ تھانہ میں تو جیسے کسی مظلوم کی رپورٹ درج نہیں ہوگی۔بلکہ الٹا وہ اس بات کا مجرم ہوگا کہ اس نے اپنے اس حق کا استعمال کیوں کیا ۔وہ جن پر ہم بھروسہ کرتے ہیں ۔جن کو ہماری حفاظت کے لئے بٹھایا گیا ہے۔ وہ کچھ تو خود ہی خوف زدہ ہیں اورکچھ دوسروں کو کئے رہتے ہیں ۔
عدالتوں کا بھی حال کچھ الگ نہیں ہے۔ ایک مظلوم کو انصاف ملتے ملتے اس کی عمر ختم ہو جاتی ہے۔ایک تو اس نے عدالت کا دروازہ ہی اس لئے کھٹکھٹایا کہ وہ اپنے مد مقابل سے سیدھے لڑ نہیں سکتا ۔ یہاں آکر اس نے انتظار کی ایک اور لڑائی مو ل لے لی۔
اسپتال بھی اپنی بے بسی پر رو رہے ہیں۔ وہ خود مریض ہو چکے ہیں۔ دوسروں کا علاج بھلا کیسے کرے گا؟
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری خلش اتنی نہ بڑھ جائے کہ اس کا اثر ہمارے ملک کی جمہوریت پر پڑنے لگے۔آج جو ماحول ہے یا جو لڑائی ہے وہ کسی مذہب کے خلاف کسی مذہب کی نہیں ہے،بلکہ ایک انسان دوسرے انسان کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہے ۔آج کی غیر انسانی سیاست اسے مذہب اور عقیدت کا نام دیکر اس میں نفرت تشدد کا تیل ڈال کر آگ کو اور بھڑکا رہے ہیں۔حالات نازک ہیں ۔ ہم پھر سے غلام ہوتے جارہے ہیں۔ اس غلامی سے آزادی کیلئے ہمیں پھر سے مل کر لڑنا ہوگا ۔ ورنہ یہ آگ دھیرے دھیرے پورے ملک کو جلاکر راکھ کر دیگی ۔آج ہماری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر مذہبی رہنماؤں کی ۔ جومذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بھی ہیں۔ جنہونے اپنے کلچر اور تہذیب سے پورے ہندوستان میں ایک چھاپ چھوڑی ہے۔ یہ ملک صوفی سنتوں کا ملک ہے۔ یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کی داستانیں صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں سنائی جاتی ہیں۔تو ایک بار ہمیں مل کر پھر بتانا ہے کہ یہ وہی ملک ہے اور وہ روایت آج بھی ہے۔ ہمیں اپنے وطن عزیز اور اس کی ہزاوں سال کی تہذیب جان کی طرح پیاری ہے۔ہم اس کی پاس داری ہر حال میں کریں گے۔ہم کسی بھی قیمت پر اس ملک کی امن و شانتی کی فضا میں نفرت کا زہر نہیں بھرنے دیں گے۔اور جو اس طرح کی کشش کرے گا وہ اس ملک کا وفا دار نہیں ہو سکتا اور اس ملک کا وفادار نہیں وہ ہمارا وفادار کب ہوگا۔
***
Abdul Moid Azhari (Amethi) Mob:09582859385 Email: abdulmoid07@gmail.com

हर घर पर तिरंगा लहराएँ और मुल्क की तरक्की व अमन की दुआ करें : सय्यद सलमान चिश्ती

अजमेर (31 जुलाई)
हर घर पर तिरंगा लगायें और मुल्क की तरक्की और अमन कि दुआ करें यह बात आल इंडिया उलेमा मशाइख बोर्ड के संयुक्त सचिव हज़रत सलमान चिश्ती ने कही .उन्होंने कहा कि 15 अगस्त आ रहा है जो हमारे देश की आज़ादी का पर्व है इस त्यौहार में सबको बढ़ चढ़ कर शरीक होना है और हमे अपने उन स्वतंत्रता सेनानियों को याद करना है जिनकी कोशिशों और कुर्बानियों की वजह से हमे यह आज़ादी मिली है अब इस आज़ादी को बरकरार रखना हमारा फ़र्ज़ है और हमारी ज़िम्मेदारी. यह बात हज़रत सलमान चिश्ती ने 31 जुलाई को चिश्तिया मंजिल में आल इंडिया उलेमा मशाइख बोर्ड द्वारा आयोजित प्रेस कांफ्रेंस में कही
बोर्ड के संरक्षक हज़रत सय्यद मोहम्मद मेहँदी मिंयाँ चिश्ती ने बताया कि आल इंडिया उलेमा मशाइख बोर्ड ने एलान किया है कि चाँद की 12 तारीख को हर महीने दुरूद डे मनाया जायेगा और दुनिया में अमन कि ख़ास दुआ की जायेगी लिहाज़ा अजमेर शरीफ में भी चाँद के हर 12 तारीख को दुरूद डे मनाया जायेगा क्योंकि यह वक़्त की ज़रूरत है कि जो हमारा खुदा और रसूल से ताल्लुक कम हुआ है उसे वापिस मज़बूत किया जाये और फिर दुनिया में शांति स्थापना के लिए दुआ की जाये . .
सय्यद शाहिद मिंयाँ चिश्ती ने कहा कि हमारा काम हज़रत ख्वाजा गरीब नवाज़ रहमतुल्लाहअलहि के पैगाम को आम करना है और वह पैगाम है “मोहब्बत सबके लिए नफरत किसी से नहीं “यही हमारा मिशन है और इसी में दुनिया की भलाई है ..
दरगाह अजमेर शरीफ पर छठी शरीफ के मौके पर आयोजित प्रेस कांफ्रेंस में बोर्ड के संरक्षक हज़रत सय्यद मोहम्मद मेहँदी मियां चिश्ती बोर्ड के संयुक्त सचिव सय्यद सलमान चिश्ती ,अजमेर शाखा के संरक्षक हज़रत सय्यद शाहिद मिंयाँ चिश्ती, चित्तौड़गढ़ शाखा के अध्यक्ष सलीम अशरफी आल इंडिया उलेमा मशाइख बोर्ड के दिल्ली कार्यालय के ज़िम्मेदार मुख़्तार अशरफ मौजूद रहे .

हर महीने की 12 (चाँद)तारीख को मनेगा दुरूद डे, आल इंडिया उलेमा मशाइख बोर्ड का एलान !!

आल इंडिया उलमा मशाइख बोर्ड के संस्थापक अध्यक्ष हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने एलान किया है कि हर महीने चाँद की 12 तारिख को हर घर ,मस्जिद मदरसे हर जगह दुरूद कि महफ़िल सजाई जाये और इस तारीख को ख़ास तौर से दुरूद का एहतमाम किया जाये और इस तारीख को दुरूद डे के तौर पर मनाया जाये और अल्लाह से दुनिया में अमन की दुआ कि जाये .
हज़रत किछौछवी ने कहा कि इस नफरत के दौर में अपना अपने रब से रिश्ता मज़बूत करना बहुत ज़रूरी है और इसका सबसे बेहतरीन तरीका दुरूद पढना है लोगों को इसे अमल में लाना होगा हालाँकि रोज़ ही दुरूद पढ़ा जाता है लेकिन ख़ास दिन का एहतmam इसलिए ज़रूरी है कि लोग इकट्टा होकर दुरूद पढ़ें और रब से मुलाक़ और दुनिया में अमन की दुआ करें .
उन्होंने कहा जिस तरह के हालात हैं उसमे अब इसके सिवा कोई चारा नहीं कि हम मोहब्बतों को आम करें और इसके लिए दिलों का नर्म होना ज़रूरी है जिसका बेहतरीन जरिया दुरूद है हर तरफ दरिन्दे नज़र आ रहे हैं जो इंसानी खून के प्यासे हैं और बेगुनाहों को क़त्ल कर रहे हैं दुनिया नफरत को नफरत से मिटाने की कोशिश में है जो संभव ही नहीं है .
हजरत ने कहा कि आल इंडिया उलेमा मशाइख बोर्ड की हर शाखा में दुरूद डे मनाया जायेगा और हम सभी से अपील करते हैं कि सब इस बेहतरीन अमल में शामिल हों और अपनी अपनी बस्ती मोहल्ले में इसका आयोजन करें.

वक्फ के लुटेरे कौम के सबसे बड़े दुश्मन : सय्यद मोहम्मद अशरफ

मोगा /पंजाब:23जुलाई
आल इंडिया उलमा मशाइख बोर्ड के संस्थापक अध्यक्ष हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने कहा कि वक्फ की जाईदादों पर अवैध कब्ज़े कर उन्हें बेचने वाले मुस्लिम कौम के सबसे बड़े दुश्मन हैं, कौम को इनके खिलाफ मजबूती से खडा होना होगा.

उन्होंने मुज़फ्फरनगर में वक्फ की ज़मीन को लेकर हुए बवाल को गंभीरता से लेते हुए कहा कि अब यह लगभग रोज़ की कहानी हो गयी है, कुछ खबरे अपनी गंभीरता को लेकर बड़ी हो जाती हैं तो मीडिया की सुर्खियाँ बन जाती हैं लेकिन वक्फ की ज़मीनों पर अवैध कब्ज़े तो रोज़ हो रहे हैं और धीरे धीरे वक्फ सिकुड़ते चले जा रहे हैं .

हज़रत ने कहा कि मुसलामानों के लिए वक्फ ज़मीनों की हिफाज़त बड़ा मुद्दा है, जिस तरफ हमारा ध्यान नहीं है. आल इंडिया उलमा मशाइख बोर्ड यह लड़ाई लड़ रहा है, हर तरफ या तो गलत लोग वक्फ बोर्ड पर काबिज़ हैं या ज़मीनों के कारोबारी, सरकारों का रवय्या भी निराशाजनक है अब हमे एकजुट होकर अपने इस सरमाये को बचाना होगा, हज़रत ने बिहार सरकार से मुज़फ्फरनगर की घटना की निष्पक्ष जाँच कर दोषियों के विरूद्ध उचित कार्यवाही करने की मांग की है साथ ही यह भी कहा कि सरकार वक्फ की ज़मीनों से अवैध कब्ज़े हटवाए और वक्फ पर काबिज़ उन लोगों को भी हटाए जिनका वक्फ से कोई ताल्लुक नहीं है.

हज़रत किछौछवी ने बस्ती निज़ामुद्दीन नई दिल्ली स्थित मस्जिद फिर्दौसिया का ज़िक्र करते हुए कहा कि वक्फ में दर्ज इस मस्जिद को लेकर DDA अपना रुख साफ़ नहीं कर रहा जबकि न्यायालय की इस पर रोक लगाई हुई है यह सैकड़ों साल पुरानी मस्जिद है इसे कोई नुक्सान नहीं पहुंचा सकता. आल इंडिया उलमा मशाइख बोर्ड मांग करता है कि उपराज्यपाल महोदय इस सम्बन्ध में स्पष्ट आदेश जारी कर इस संशय पर विराम लगायें .
यूनुस मोहानी

देश के बिगड़ते हालात पर गंभीरता से विचार करने की ज़रूरत: अब्दुल मोईद अज़हरी

एम एस ओ के अध्यक्ष और माहनामा एहसास राजस्थान के एडिटर मुफ्ती खालिद अय्यूब मिस्बाही की आल इंडिया उलमा मशाईख़ बोर्ड के प्रतिनिधि से मुलाक़ात
नई दिल्ली (22 जुलाई)
जिस तरह से देश अशांति और सांप्रदायिकता की तरफ बढ़ता जा रहा है, इसके मौजूदा हालात देखते हुए भविष्य की तिथियाँ बड़े अंधेरे में नज़र आ रही हैं। देश के विशेष वर्ग मुस्लिम और दलितों को निशाना बनाने वाली भीड़ देश के क़ानून और न्यायपालिका को नकारते हुए देश की सदियों पुरानी संस्कृति में दरार डाल कर कुछ देश विरोधी तत्वों के इशारे पर बेगुनाहों का खून और उनको भयभीत करने पर तुले हुए हैं। देश के प्रधानमंत्री के बयान को भी खारिज कर देने वाली भीड़ क़ानून को अपने हाथों में लेकर उसके संविधान को चुनौती देने की कोशिश कर रही है। ऐसे नाजुक हालात में मुसलमानों का धैर्य देश और उसकी संस्कृति और शांति से जुड़े रहने का संदेश देता है! मुसलमानों के इस किरदार ने उन्हें राष्ट्र विरोधी तत्वों के नापाक सपनों को साकार नहीं होने दिया जिससे वे देश में फिर इंसानों का खून पानी की तरह बहाने की कोशिश कर रहे हैं। इन विचारों को ऑल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड युवा जनरल सक्रेटरी अब्दुल मोईद अज़हरी ने आज खुसरो पार्क क़ब्रिस्तान में मौजूद मस्जिद और दरगाह फिरदौसी पर विवाद को लेकर आल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड के सदर कार्यालय में बैठक करने आए एम एस ओ अध्यक्ष मौलाना खालिद अय्यूब मिस्बाही से एक बैठक में व्यक्त किये। उन्होंने कहा कि मस्जिद पर किसी भी तरह की अवैध कार्रवाई के खिलाफ क़दम उठाया जाएगा और बोर्ड मुमकिन कोशिश कर रहा है।
मौलाना खालिद अय्यूब मिसबाह ने कहा कि जिस तरह से मस्जिद और मदरसा के खिलाफ और वक्फ बोर्ड में धांधली की परंपरा देश में ज़ोर पकड़ती जा रही है वह किसी भी रूप में देश को विकास की ओर ले जाने वाले नहीं हैं। उन्होंने कहा कि बिना धर्म और राष्ट्र भेदभाव के जनता की संपत्ति और औक़ाफ़ की संपत्ति असल हक़दार के बौद्धिक, आर्थिक, राजनीतिक और सामाजिक मजबूती में इस्तेमाल होनी चाहिए। लेकिन जिस तरह से वक्फ बोर्ड की मनमानी और भ्रष्टाचार इस संपत्ति और उसके असल हक़दार का शोषण कर रहा है। उसके इरादे साफ नजर आ रहे हैं। सरकारों की चुप्पी भी संदेह पैदा कर रही है।

आल इंडिया उलमा व मशाईख़ बोर्ड ने श्री रामनाथ कोविंद को दी जीत की बधाई !

नई दिल्ली :(20 जुलाई)
आल इंडिया उलमा व मशाईख़ बोर्ड के संस्थापक अध्यक्ष हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने भारत के 14वें राष्ट्रपति के तौर पर श्री रामनाथ कोविंद के निर्वाचित होने पर बधाई दी है. हज़रत ने कहा कि भारत गणराज्य के 14वें राष्ट्रपति के रूप में चुने जाने पर आल इन्डिया उलमा मशाइख बोर्ड श्री रामनाथ कोविंद को शुभकामनायें देता है और उम्मीद करता है कि आपके नेतृत्व में भारत समृद्धि की नई ऊँचाइयों को छुएगा ,देश में फैल रही नकारात्मकता पर विराम लगेगा और देश वापस जगतगुरु कहलायेगा.

हज़रत ने कहा कि हम कामना करते हैं कि भारत आपके नेतृत्व में विश्व समुदाय में अग्रणी स्थान प्राप्त करे और भारत का सम्मान दिन दूना रात चौगुना बढ़े, गरीबी का मूल नाश हो और बेरोज़गारी समाप्त हो तथा हर प्रकार की हिंसा पर रोक लगे और भारत भूमि शांति भूमि के रूप में विश्व पटल पर नज़र आये.

हिंसा रोकने के लिए बयान नहीं युवाओं को रोज़गार दे सरकार – सय्यद मोहम्मद अशरफ

डीसा गुजरात :(18 जुलाई)
आल इंडिया उलमा मशाइख बोर्ड के संस्थापक अध्यक्ष हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने गुजरात में एक जलसे को संबोधित करते हुए कहा कि सियासत जान ले लेती है, चुनावी मौसम में हमे होशियार रहना होगा, किसी भी क़ीमत पर बहकावे में आकर अमन को खराब नहीं होने देना है.
हज़रत अपने एकदिवसीय दौरे पर गुजरात आये हुए थे, गुजरात के हालात पर चर्चा के दौरान उन्होंने कहा कि घिनौनी राजनीत का दौर है अब लोग असल मुद्दों से भटकाना चाहेंगे, कोई भी राजनेता विकास ,स्वास्थ्य या आपके रोज़गार की बात नहीं करेगा, सब बात कर रहे हैं जाति,धर्म की अब हमें समझना होगा कि हम क्या चाहतें हैं.
उन्होंने आये दिन भीड़ द्वारा की जा रही हिंसा पर चिंता व्यक्त करते हुए कहा कि यह भीड़ बेरोज़गारों की वही टोली है जो अपने मुद्दे से भटक गयी है और हिंसा में अपना भविष्य तलाश कर रही है, दरअसल हमारे बेरोजगार युवा राजनीत का ईधन बन गए हैं, समाज के बुद्धजीवी वर्ग को आगे आना होगा इस गुमराह टोली को रास्ते पर लाने के लिए.
हज़रत ने प्रधानमंत्री जी को सलाह देते हुए कहा कि हिंसक टोलियों पर कड़े बयान देना समस्या का हल नहीं है, युवा वर्ग को रोज़गार देना इस समस्या का हल है, अब देश में हर हाथ को काम देने की बात की जानी चाहिए सिर्फ बात न हो उसे अमली जामा पहनाया जाए, स्वरोजगार स्थापित करने के लिए सरकार योजना बनाये. उन्होंने कहा कि हर साल बेरोज़गार युवाओं की संख्या बढ़ रही है, युवा शक्ति हताशा का शिकार है और उसकी उर्जा को नफरत फैलाने वाले गलत इस्तेमाल कर रहे हैं. हताश और कुंठित युवा खुद आसानी से देश के दुश्मनों के चंगुल में फँस जाता है और समाज के लिए समस्या पैदा करता है इसे रोकना होगा.
उन्होंने ने लोगों से कहा कि हम सब को खुद प्रयास कर नफरतों को रोकना होगा, इसके लिए हज़रत ख्वाजा गरीब नवाज़ रहमतुल्लाहअलैहि की तालीम “ मोहब्बत सबके लिए, नफरत किसी से नहीं ” पर अमल करना होगा.

दुरूद से गूंजी रूऐ ज़मीन, हुई अमन की दुआ

15जुलाई दिन शनिवार तुर्की के राष्ट्रपति रजब तय्यब अर्दुगान के आह्वाहन पर पूरी दुनिया में बाद नमाज़े इशा तेज़ आवाज़ में मोह्सिने इंसानियत सल्लल्लाहू अलैहि वसल्लम पर दुरूद की महफिलें सजी, भारत में भी आल इंडिया उलमा व मशाइख बोर्ड ने इसका एलान किया था, इसके बाद पूरे भारत में लगभग सभी बड़े मुस्लिम संगठनों ने भी इसका समर्थन किया और पूरे देश में एक साथ महफिले दुरूद और दुआ ए अमन की गई, आल इंडिया उलमा व मशाइख बोर्ड के राष्ट्रीय कार्यालय के साथ ही दरगाह महबूबे इलाही हज़रत निजामुद्दीन औलिया रह्मतुल्लाही अलैहि के परिसर में महफिले दुरूद का आयोजन किया गया जिसमें बोर्ड के राष्ट्रीय महासचिव सय्यद हसन जामी, ख्वाजा सय्यद फरीद निजामी सहित बोर्ड के तमाम मुसलमानों ने शिरकत की, वहीँ बोर्ड के राष्ट्रीय कार्यकारणी सदस्य सय्यद अम्मार अहमद अहमदी (नय्यर मियां) की सरपरस्ती में खानक़ाहे साबरिया में महफिले दुरूद का आयोजन हुआ और देश और दुनिया में अमन की दुआ की गयी! आल इंडिया उलमा व मशाइख बोर्ड (यूथ)के राष्ट्रीय अध्यक्ष हज़रत सय्यद आलमगीर अशरफ के नेतृत्व में गुजरात मोडसा में महफिले दुरूद का आयोजन हुआ !

मकनपुर शरीफ में सजी महफिले दुरूद!
आल इंडिया उलमा व मशाइख बोर्ड के नेशनल काउंसिल सदस्य सय्यदी मियां व उत्तर प्रदेश के प्रदेश अध्यक्ष सय्यद शादान शिकोह मदारी की सरपरस्ती में महफिले दुरूद सजी इसमें बोर्ड के सभी पदाधिकारियों सहित बड़ी संख्या में दरगाह हज़रत मदारुल आलमीन मकनपुर शरीफ में लोगों ने शिरकत की और दुरूद का विर्द किया, उसके बाद दुआए अमन की गयी इस मौके पर खुशबु का ख़ास एहतमाम किया गया!

लखनऊ में भी सजी दुरूद की महफ़िल
लखनऊ :आल इंडिया उलमा व मशाइख बोर्ड के प्रदेश कार्यालय में बोर्ड के प्रदेश सचिव हज़रत सय्यद हम्माद अशरफ किछौछवी की सरपरस्ती में महफिले दुरूद सजी इसमें मौलाना आले रसूल, अहसान अशरफी, रमजान अशरफी सहित बड़ी संख्या में लोग शामिल हुए वही मस्जिदों में भी इसका आयोजन हुआ, मोहम्मदी मस्जिद कैम्पबेल रोड में बड़ी तादाद में लोग आये और दुरूद के बाद दुआ की गयी, अबरार नगर में आल इंडिया उलमा व मशाइख बोर्ड के लखनऊ शाखा के अध्यक्ष मौलाना इश्तियाक कादरी की सरपरस्ती में महफिले दुरूद सजी!
झारखण्ड,गुजरात,राजस्थान,पंजाब, हरियाणा,छत्तीसगढ़,मध्यप्रदेश, महाराष्ट्र,दिल्ली, उत्तर प्रदेश, आंध्र प्रदेश, कर्नाटक, केरल,तमिलनाडु ,असम,गोवा,बिहार,पश्चिम बंगाल,जम्मू कश्मीर,सहित हर जगह महफिले दुरूद का आयोजन हुआ!

ملک کا بدلتا مزاج اور انسان کی بے بسی

مذہب کی حفاظت اور دھرم کی رکشا نے بغاوت، نفرت اور دعوی خدائی کا راستہ اختیار کر کے انسانی خون سے اپنی عبارتیں لکھ کر اس صدی کو مذہب و دھرم سے خالی سماج کا ایک شرم ناک اشارہ دیا ہے۔جمہور سماج کی خاموشی نے بے بس اور دم توڑتی انسانیت کو نا اہلی کے سیاسی تابوت میں کیل ٹھونکنے کا کام کیا ہے۔
عبد المعید ازہری

ہندوستان بدل رہا ہے ۔ بڑی تیزی سے تبدیلی اختیا ر کر رہا ہے ۔بیسویں صدی کی آخری دہائی جاتے جاتے آنے والے دنوں کا اشارہ دیتے ہوئے گئی ۔انسانی خون اور مذہبی تقدس کی پامالی سیاست کا موضوع بن گیا اور اس کے لئے مذہب کا متعصبانہ استعمال اس خونی سیاست کو طول دیتا چلا گیا ۔اکیسویں صدی کی کتاب کے دوسرے ہی صفحۃ پر ایک ایسی تحریر رقم ہوئی جو اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب پر ایک بد نما داغ بن گئی ۔پوری دنیا جس قومی یکجہتی کے لئے ملک ہندوستان پر رشک کرتی تھی اس سیاسی نااہلی اور فرقہ واریت نے اس تہذیب و روایت کو سامان تضحیک بنا دیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ صدی پورے سو سال کا خاکہ لیکر آئی ہے ۔ یکے بعد دیگرے ہونے والے حادثات ایک دوسرے سے ملے معلوم پڑتے ہیں۔ نہ صرف ملک ہندوستان میں ہونے والے فسادات بلکہ پوری دنیا میں جس طرح کا مذہب مخالف ماحول بناہوا ہے اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب سوچی سمجھی سازش کے تحت ہو رہا ہے ۔ ایک عام انسانی دماغ اس کی جڑوں تک پہنچنے سے قاصر نظر آ رہا ہے ۔ کچھ لوگ پہنچ کر یا تو اپنے آپ کو اس گیم پلان کا حصہ بنا لیتے ہیں یا پھر پہلو تہی سے کام لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
سیاسی اقتدار کی بھوک نے ایک انسان کو بھیڑیا بنا دیا ہے۔وہ دوسرے ابن آدم کو اپنی خوراک بنا رہا ہے ۔نا اہلو ں کی سیاست نے انسان کو مذہبی تشدد کے بعد برادرانہ نسل کشی پر آمادہ کر دیا ۔فرقہ وارانہ فساد اور دہشت گردانہ واقعات دونوں نے ہی بنی نوع انساں کو دو پاٹوں کے بیچ پیش کر رکھ دیا ۔ پوری ایک نسل اس جانی اور فکر ی اذیت دیکھتے اور برداشت کرتے گزر گئی ۔ایک عجیب سی بے بسی ، مایوسی اور خوف و ہراس کا احساس پیدا ہو گیا ہے ۔ ذہن و فکر مسلسل مفلوج ہوتے جا رہے ہیں۔۲۰۱۱ نے اس مذہب مخالف ہوا کو خاص مذہب کا راستہ بتا دیا اور پوری دنیا میں دہشت و وحشت کے لئے ایک ہی مذہب بدنام ہونے لگا ۔ آج کی صورت حال یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا سے لیکر الیکٹرانک میڈیا تک تحریر و تقریر سے لیکر فلموں تک مسلمان کی ایک ہی پہچان ہے ۔ داڑھی ٹوپی کے ساتھ بندوق کا نیا فیشن مارکٹ میں آیا ۔ راتوں راٹ ہٹ بھی ہو گیا ۔ مفت میں اس نشر عام بھی کیا گیا۔ آج کی صورت حال سے اندازہ لگا ئیں کہ اس کی مقبولیٹ کی شرح کیا ہوگی۔
ایسا نہیں کہ حقیقت لوگوں کو حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔زبان میں گویائی نہیں ۔ قلم میں روشنائی نہیں۔گجرات سے لیکر اکشر دھام تک ،آسام سے لیکر مظفر نگر تک ،ہاشم پورہ سے لیکر مالے گاؤں تک ، گودھرا سے لیکر تاج ہوٹل تک ،اعظم گڑھ سے لیکر دادری تک اور ہریانہ سے لیکر متھرا تک اور بجنور، راجستھان سے لے کر جھارکھنڈ، بنگال اور کشمیر تک ہونے والے حادثات میں اگر مرنے والوں کے جرم کا حساب کیا جائے تو شاید ہی کچھ لوگ ایسے نکلیں گے جو اپنے جرم کی پاداش میں ہلاک ہوئے ہوں۔سوال یہ ہے کہ ان بے قصوروں کے خون سے ہندوستان کی کون سی تاریخ لکھی جا رہی ہے ۔۱۸۵۷ سے لیکر ۱۹۴۷ تک کے عرصہ میں بھی ہندوستان کی سرزمین سرخ ہوئی ہے لیکن اس لال سیاہی نے ہندوستانی کی آزادی کی داستان لکھی ہے ۔ پانی سے بھی کم قیمت پر بہتے ہوئے خون سے آج کسانوں کی خودکشی اور غریبوں پر مہنگائی کی مار کے قصے لکھے جا رہے ہیں۔
کبھی رزرویشن کے نام پر ہزاراوں کروڑ کا نقصان اور عزت و عصمت کی پامالی مفت میں ہوتی ہے تو کبھی گؤ رکشا کے نام پر کسی کو ننگا کر کے انسانیت کی توہین کی جاتی ہے۔ کبھی افواہوں کی رسی سے پھانسی دے دی جاتی ہے ۔خوف و ہراس ، لاچاری و بے بسی رگوں میں خون کے ساتھ حرارت کی طر ح گھر کر گئی ہے۔کھبی آ ر ایس ایس ، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد اور نہ جانے کون کون سی تنظیمیں کھلے عام بندوق و بارود کا مظاہرہ کرتے ہیں کھبی داعش، طالبان، القاعدہ جیسی دہشت گرد تنطیمیں غیر انسانی مذہب مخالف اعمال و فکار کا مظاہرہ کر کے نہ صرف انسانیت کی توہین کرتے ہیں بلکہ مذہب کو بھی بدنام کرتے ہیں۔نہ یہ دھرم کے رکشک ہیں اور نہ ہی وہ مذہب کے ٹھیکیدار ہیں ۔سب اپنی اپنی ڈفلی اپنی اپنے مفاد کی تال ٹھونک رہے ہیں۔اپنی سیاسی نا اہلی کو چھپانے کیلئے مذہبی تعصب کی آگ میں سماجی چولہے پر اقتدار کی روٹی سینکی جا رہی ہے ۔
مذہب کے نام نہاد ٹھیکے دار اور دھرم کے ریاکار رکشک جس مذہب کی تعلیم آج دے رہے ہیں اس کا اصل مذہب اور اس کی گراں قدر انسان دوستی کی تعلیم سے دور کا بھی رشتہ نہیں۔جس سیاست کو آج وقت کی اہم ضرورت گرادانہ جا رہا ہے اس کی نہ تو کل حاجت تھی اور نہ ہی کل پڑنے والی ہے ۔دولت کی ہوس نے انسانی سماج پر ایسا کاری بم گرایا ہے کہ نسلیں گمراہ پیدا ہو رہی ہیں۔ انسانی سماج سے منسوب و متعلق ہر طبقہ راہ راست سے روگرداں نظر آ رہا ہے ۔ ایسے میں کھلی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہے ۔ بولتی زبان گونگی اور چلتے قدم اپاہج ہو جاتے ہیں۔ جب اس کی جڑوں تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو اس کے تار ایک دوسرے سے ایسے ملے ہوئے نظر آتے ہیں بس چکر آجائے ۔ ہر طبقہ کے آغاز و انتہاکا سرا ایک ہی محور پر آکر ٹک جاتا ہے ۔ ہم سوچ نہیں پاتے کہ یہ جائے ابتدا ہے یا مقام انتہا ہے ۔ پھر ایک معمہ سامنے آتا ہے کہ پہلے مرغی یا پہلے انڈا۔مذہب کی ٹھیکیداری پر روئیں یا دھرم کی رکشا پر آنسو بہائیں۔سب کچھ کھلی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ سب خاموش ہیں۔ شاید کسی مسیحاکا انتظار ہے یا پھر شکتی مان، اسپائیڈر مین اور حاتم تائی جیسے افسانوی کرداروں کا، معلوم نہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ کسی کو کچھ نظر نہیں آتا ۔ ذرا سی توجہ کے بعد مسئلہ سمجھ میں آجاتا ہے ۔ لیکن کوئی تدبیر نہیں سوجھتی ۔ہر پہلو پر غور و خوض کرنے کے بعد ذہن ایک ایسے جال میں پھنس جاتاہے، جہاں سے نکلنا ممکن نظر نہیں آتا ۔ذہن پر زیادہ زور دینے کے بعد آنکھے کھل جاتی ہیں۔ پھر دیر رات تک نیند نہیں آتی ۔کئی گھنٹے اس ملال میں گزر جاتے ہیں کہ ایسے خواب کیوںآتے ہیں۔ان سب چکروں میں پھنش کر زندگی خراب نہیں کرنی ہے ۔ لیکن انہیں خبر نہیں ہوتی ہیکہ یہ خواب انہیں آنے والے وقت سے آگاہ کر رہے ہیں۔ جس طرح گزرتی ہوئی نسل نے ان تمام چیزوں کو اپنی ذمہ داری نہ مانتے ہوئے برداشت کیا ۔ مظالم برداشت کرنا ہمارا حق ٹھہرا دیا ۔ذلت و بے بسی ہمار ا مقدر بنا دیا ۔ ایسے ہی ہم بھی اپنی آنے والی نسلوں کیلئے دلیلیں چھوڑ کر جانے والے ہیں۔دنیامیں ایک انسان ظلم کرنے کیلئے آیا ہے اور دوسرا اسے برداشت کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے ۔
کہیں سے تو شروع کرنا ہوگا۔ کسی ایک ہی کو مورد الزام ٹھہرا کر بھی کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ اور پوری دنیا کویکسر تبدیل بھی نہیں کیا جا سکتا۔لیکن انفرادی ذمہ داری تو نبھائی جا سکتی ہے۔جرم و ظلم کو بس ظلم و جرم ہی سمجھ کر ایک انسانی سماج پھر سے تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔*****
Abdul Moid Azhari (Amethi) Email: abdulmoid07@gmail.com, Contact:

Terrorists’ motive is fanning the fire of hatred; attacks on Amarnath pilgrims strongly condemnable: Syed Mohammad Ashraf Kichchawchvi

Indians like Salim Sheikh, who risked his own life to save the people, will never let the hate-mongers succeed in their dirty game of terror in the name of religion!

Mumbai: All India Ulama and Mshaikh Board’s founder and president Hazrat Maulana Syed Mohammad Ashraf Kichchawchvi has condemned the terror attacks on the Amarnath pilgrims, saying that the cowards are killing humanity.

Syed Mohammad Ashraf added saying: “Terrorists attacked the whole country by onslaughts on the Amarnath pilgrims. It is a part of the deep conspiracy to sabotage the national cohesion and unity! The government should deal with it with urgency and efficiency!”

He said that terrorists have constantly been conspiring to spoil the peace of the country and to break our social affinity.
He continued: we appeal to people to act patiently and diligently in such trying times. We should remember that by promoting hatred, we will help the terrorists in their ultimate goals and ulterior motives.
He also said that in this difficult time we have to respond to those who spread hate, with an aim to save our country at all costs.

Syed Mohammad Ashraf Kichchawchvi hailed the bus driver, Salim Sheikh while referring to his courageous struggle to save the lives of 50 people among the Amarnath pilgrims.

He said that the brave Indians like Salim Sheikh, who risked his own life to save the people, will never let the hate-mongers succeed in their dirty game of terror in the name of religion.

The government will have to pay attention to this so that there will be no such incidents in future, neither the mobs could take law in their hands anywhere in the country.

Even if we love the country, we also have the responsibility to uphold its peace, otherwise, we are just showing off our patriotism or love for our country. We should try our level best to prevent the situation from escalating into becoming a reason for communal and religious strife. According to the teachings of Islam, the most important work in such a situation is to run a vigorous campaign for establishing communications, contacts and connections with our non-Muslim brothers and sisters. We should remove their misunderstandings and apprise them of the true teachings of Islam and enlighten them of its pristine message.We should raise our voice against oppression and injustice hand in hand with our non-Muslim brothers and sisters.