HomeActivitiesZonal Activities

जमीअत उलमा का दावा सिर्फ एक प्रोपेगंडा : मौलाना अब्दुल वह्हाब क़ादरी मिस्बाही, जामिया अशरफिया मुबारकपुर

4th December,Lucknow, Seminar: Sufism and Humanity   جمعیۃ علماء کا دعویٰ محض ایک پروپیگنڈہ مولاناعبدالوہاب قادری مصباحی جامعہ اشرفیہ مبارکپور ہندوس

آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ کی کارکردگی کا جائزہ
Deoband rector denies Wahabi link and Saudi funding – The Times of India
World Sufi Forum to spread Islamic message of peace, PM Modi to attend event in Delhi -Indian Express

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

جمعیۃ علماء کا دعویٰ محض ایک پروپیگنڈہ
مولاناعبدالوہاب قادری مصباحی
جامعہ اشرفیہ مبارکپور
ہندوستان کی راجدھانی محبوب الہی کی نگری دہلی میں ’’ورلڈ صوفی فورم‘‘کے ذریعہ جب علمائے حق اور اسلاف کے جانشینوں نے دلائل حقہ و براہین قاطعہ سے اسلام وسنیت سے منحرف جماعتوں اسلاف بیزار تنظیموں اور دہشت گرد تحریکوں پر زور دار حملہ کیا ،ان کے عقائد و نظریات اور افکار وخیالات کو باطل و غلط قرار دیا ان کے طریقۂ کار کی پر زور مذمت کی اور دنیا کے سامنے ان کا اصلی چہرہ پیش کیا تو اس سے بدحواس ہو کر دیوبندی جماعت کی سب سے بڑی ٹھیکیدار تنظیم جمیعۃ علماء ہند نے اپنی عزت و آبرو بچانے اور اپنے متبعین کے درمیان پرانی عظمت کو بحال کرنے کے لئے صوفی سنی چشتی ہونے کا دعویٰ کیا اور۱۳؍نومبر2016کواپنا شجرہ ارادت شائع کرکے اور اجمیر شریف میں کانفرنس منعقد کرکے یہ اعلان کیا کہ ہمارا تعلق وہابیت اور سلفیت سے نہیں بلکہ سنیت اور خانقاہیت سے ہے۔
کتنی حیرت واستعجاب کی بات ہے کہ جمعےۃ علماء ایک طرف چشتی اور خانقاہی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے دوسری طرف طریقۂ اسلاف سے منحرف ،تصوف بیزار شخص مولوی رشید احمد گنگوہی سے اپنا رشتہ جوڑتی ہے جس کے اقوال بزرگان چشت اہل بہشت کے طریقۂ کار کے بالکل مخالف ہیں۔چنانچہ وہ اعراس کے تعلق سے کہتا ہے کہ کسی عرس اور مولود میں شریک ہونا درست نہیں اور کوئی سا عرس اور مولود درست نہیں۔(فتاویٰ رشیدیہ ص ۱۳۴)عرس کا التزام کرے یا نہ کرے بدعت اور نادرست ہے۔تعین تاریخ سے قبروں پر اجتماع کرنا گناہ ہے خواہ اور لغویات ہوں یا نہ ہوں۔(فتاویٰ رشیدیہ ص۱۳۴)
جمیعۃ علماء ہند کے چشتی ہونے کا دعویٰ اس وقت صحیح ہوتا جب وہ اپنا شجرۂ چشتیت مولوی رشید احمد گنگوہی کے ساتھ شائع نہ کرتے بلکہ اس کی ذات اور اس کے قبیح و شنیع اقوال کی پر زور مذمت کرتے اور ان سے بیزاری کا اعلان کرتے لیکن افسوس جمیعۃ علماء ہند نے ایسا کچھ بھی نہیں بلکہ مولوی رشید احمد گنگوہی کے جانشین ہونے کا اعلان کیا۔
قارئین!آپ غور کریں۔جب مولوی رشید کے مذہب کے مطابق اعراس کا التزام اورعرس میں شرکت بدعت و گناہ ہے تو پھر جمیعۃ علماء ہندمولوی رشید کی جانشین ہونے کے باوجود اجمیر شریف کے عرس میں بقول رشید احمدگنگوہی بدعتیوں کے بدعتی کام میں اعانت و مدد کیوں کرتی ہے۔تاریخ متعین کرکے اجمیر شریف میں کانفرنس کیوں کرتی ہے کیا مولوی رشید کے فتوے کی رو سے جمیعۃ علماء ہند بدعتی نہ ہوئی؟ اور بدعتیوں کی اعانت و مدد کرکے گناہ کاارتکاب نہ کیا؟کیا جمیعۃ مولوی رشید احمد کے اس فتوی کو نہیں جانتی ہے؟ضرور جانتی ہے پھر بھی اس طرح کے کام کرتی ہے تو اس کے اس عمل سے یہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس طرح کے امور انجام دینا محض سیدھے سادھے سنی مسلمانوں کو وہابیت کے دام فریب میں پھنسانا اور ان کے ایمان وآخرت کو برباد کرنا ہے۔حیف صد حیف نعوذ باللہ من ذلک ۔
جمیعۃ علماء ہند نے مولوی رشید احمد کو شیخ المشائخ الحاج امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ کا جانشین و خلیفہ بتایا ہے۔جانشین وخلیفہ اپنے پیرکا پیروکار اور ان کے فرامین وارشاد پرسختی سے عمل پیرا ہوتا ہے مگر مولوی رشید نے ان کے اقوال پر عمل کرنے کے بجائے ان کے عقائد و نظریات سے اختلاف ہی نہیں بلکہ ان کی فیصلہ کن کتاب’’ہفت مسئلہ‘‘کو نذر آتش بھی کر دیا ہے۔اس کا پورا واقعہ یہ ہے کہ سہارن پور اور اس کے اطراف وجوانب کے چند مولویوں نے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مجلس خیر کے تعلق سے چند دیوبندی مولویوں سے استفتا کیا اس کے جواب میں جناب گنگوہی صاحب نے لکھا کہ ’’ایسی مجلس ناجائز ہے اور اس میں شریک ہونا گناہ ہے اور خطاب جناب فخر عالم علیہ السلام کو کرنا اگر حاضر وناظر جان کر کرے کفر ہے ایسی مجلس میں جانا اور شریک ہوناناجائز ہے اور فاتحہ بھی خلاف سنت ہے یہ رسوم بھی کہ یہ سنت ہنود کی رسم ہے۔اس زمانہ میں یہ میلاد و فاتحہ کے خلاف پہلا فتویٰ تھا جو چار ورقی تھا اور ۱۳۰۲ ؁ھ میں مطبع ہاشمی میرٹھ سے شائع ہوا ۔پھر دوسرا فتویٰ مطبع ہاشمی میرٹھ ہی سے چھپا جو چوبیس صفحہ پر مشتمل تھا ان فتوؤں نے مسلمانوں میں کافی اختلاف وانتشار کا بیج بویا اور عوام اہل سنت کو طرح طرح کے شکوک وشبہات میں مبتلا کر دیا ان ہی اختلاف و انتشار کو دور کرنے کے لئے شیخ المشائخ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ کے خلیفہ صادق حضرت مولانا عبدالسمیع بے دل سہارنپوری علیہ الرحمہ نے انوار ساطعہ در بیان مولود وفاتحہ تصنیف فرمائی جب یہ کتاب چھپ کر منظر عام پر آئی مولوی رشید احمد تک پہونچی تو اس نے اس کے جواب میں البراہین القاطعہ علی ظلام الانوار الساطعہ المقلب بالدلائل والواضحۃ علی کراھۃ المروج من المولود الفاتحہ تحریر کی۔اس کتاب میں گنگوہی صاحب اس قدر آپے سے باہر ہو گئے کہ نہ صرف میلاد فاتحہ و عرس کو بدعت و ناجائز لکھا بلکہ ا نہیں کنیہاکے جنم ،ہندؤں کے سوانگ سے بھی تشبیہہ دے دی۔اور میلاد کرنے والے مسلمانوں کو کفار وہنودسے بدتر قرار دیا(براہین قاطعہ)بلکہ بد حواسی میں یہ بھی لکھ مارا کہ (۱)اللہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے۔براہین قاطعہ ص ۱۰۔
(۲)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام انسانوں کی طرح ایک بشر ہیں۔ایضاً(ص ۱۲)(۳)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم شیطان اور ملک الموت سے کہیں کم ہے شیطن اور ملک الموت کے علم کا وسیع ہونا نصوص قطعیہ اور دلائل یقینیہ سے ثابت ہے جب کہ فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت علم کا ثبوت کسی نص قطعی اور دلیل یقینی سے نہیں اس لئے آپ کے لئے وسیع علم ماننا شرک ہے۔ایضاً(ص۱۲۲)
(۴)سرکار کو اپنے خاتمہ کا حال معلوم نہیں اور انہیں دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں ۔ایضا(ص۱۲۱)
(۵)فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اردو علمائے مدرسہ دیوبند سے سیکھی۔ایضا (ص۶۳)معاذ اللہ
جب یہ اختلاف کافی حد تک بڑھ گیا تو اپنے خلفاء کے درمیان مسلکی اختلاف کی اطلاع پاکر ان کے تصفیہ کے لئے حاجی صاحب نے ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘نام سے ایک مختصر سی کتاب لکھی جو مولود شریف،فاتحہ،عرس وسماع،ندائے غیر اللہ،جماعت ثانیہ،امکان نظیر امکان کذب الہی جیسے مضامین پرمشتمل ہے جب یہ کتاب مولوی رشید احمد کے پاس پہنچی تو ا سنے اسے نذر آتش کر ا دیا چنانچہ خواجہ حسن نظامی کہتے ہیں ۔نذر آتش کرنے کی یہ خدمت میرے والد گرامی حضرت خواجہ علی حسن نظامی کے سپرد ہوئی جو اس وقت گنگوہ میں حضرت مولانا رشید احمد کے یہاں زیر تعلیم تھے ۔لیکن خواجہ صاحب نے جلانے سے پہلے اس کو پڑھا اور جب ان کو وہ کتاب اچھی معلوم ہوئی تو انہوں نے استاذ کے حکم کی تعمیل میں آدھی کتاب تو میں نے جلا دی اور�آدھی بچا کر رکھ لی ۔اس کے کچھ عرصہ بعد مولانا اشرف علی تھانوی مولانا گنگوہی سے ملنے آئے اور ان سے پوچھا کہ میں کچھ کتابیں تقسیم کرنے کے لئے آپ کے پاس بھیجی تھیں ان کا کیا ہوا ؟مولانا گنگوہی نے اس کا جواب ’’خاموشی‘‘سے دیا ۔لیکن کسی حاضر الوقت نے کہا کہ علی حسن (والدخواجہ حسن نظامی )کو حکم ہو اتھا کہ انہیں جلا دو ۔مولانا تھانوی نے میاں علی حسن سے پوچھا کہ کیا واقعی تم نے کتابیں جلا دیں؟انہوں نے جواب دیا کہ استاذ کا حکم ماننا ضروری تھا اس لئے میں نے آدھی کتابیں جلا دیں اور آدھی میرے پاس موجو دہیں۔حضرت خواجہ صاحب بیان کرتے تھے کہ مولانا تھانوی اس سے اتنے خوش ہوئے کہ آم کھا رہے تھے فوراًدو آم اٹھا کر مجھے انعام میں دے دئے ۔(ماہ نامہ منادی دہلی جلد ۳۹،شمارہ۱۲ص۲۲ بحوالہ تقدیس الوکیل )
قارئین!پوری تحریر پڑھنے کے بعد آپ خود فیصلہ کریں کہ جو شخص شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم و الوہیت میں توہین وگستاخی کرے ،اپنے پیرومرشد کی کتاب جلا دے تو وہ کیا سنی صوفی چشتی ہو سکتا ہے؟کیا وہ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ اور شیخ المشائخ کا جانشین ہو سکتا ہے۔نہیں ہر گز نہیں ۔تو پھر محمود مدنی اور مولوی عثمان منصوری پوری کے صوفی ،سنی ،چشتی ہونے کا دعویٰ کیسے صحیح و درست ہو سکتا ہے؟یہ تو ایک محض دھوکہ اور فریب ہے۔الامان والحفیظ۔

 

COMMENTS

WORDPRESS: 0
DISQUS: 0