علما و مشائخ بورڈ کے قومی صدر سید محمد اشرف کچھوچھوی کا وزیر اعظم سے مطالبہ : عصمت دری کی سزا صرف موت ہو

14 اپریل ، نئی دہلی:
آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے قومی صدرمولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے بیان جاری کیا کہ: ”ہندوستان میں جنسی تشدد ایکٹ میں 12 سال سے کم عمر کی بچیوں کے ساتھ عصمت دری کے لئے موت کی سزا کاایک قانون لازمی ہے،کیونکہ ہندوستان میں بہت سے ایسے شرمناک واقعات ہوئے ہیں جہاں زیادہ تر متاثرہ لڑکیاں نہایت کم سن تھیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کوبڑھتی ہو ئی عصمت دری کے جرم کو روکنے کے لئے ”نیا قانون”لانا چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا: ”وزیر اعظم نے ملک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کوئی بھی مجرم بخشا نہیں جائے گا اور” ہماری بیٹیوں کو ضرور انصاف ملے گا ” ۔اب ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا مکمل انصاف دیا جائے گا۔اور یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب عصمت دری کے مجرموں کو موت کے لئے پھانسی دی جائے ۔
AIUMB کے قومی سکریٹری شاہ حسن جامی نے کہا، ”عصمت دری کے مجرموں کو ‘سزائے موت’ سے کم کوئی سزا دیا جانا سراسر ناانصافی ہوگی۔جو لوگ جانوروں کی طرح کئے گئے اس وحشی اور غیر انسانی ظلم کے مرتکب ہیں، ان کے لئے پھانسی کی دردناک سزاہی مناسب ہے۔
اس سانحے کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ورلڈ صوفی فورم کے ترجمان اور میڈیا کوآرڈینیٹر غلام رسول دہلوی نے کہا: ”آصفہ کی شرمسارعصمت دری اوربے رحم قتل ایک ہندوستانی بیٹی کے ساتھ کئے گئے خوفناک جرم کے طور پر دیکھا جانا چاہئے، اس درندگی سے ہمارا کلیجہ منہ کو آگیاہے اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں۔ذہنی دردوکرب سے پوراجسم کانپ اٹھاہے، لیکن ہمیں چاہئے کہ محتاط رہیں!اسے ملک میں ہندو مسلم فرقہ واریت کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہئے۔اگر کوئی مسلم، ہندو، دلت یا کسی دوسرے مذہب، عقیدہ یا ذات کیبچی اس حیوانیت کا شکار ہو، تب بھی جرم اتنا ہی سنگین اور قابل مذمت رہے گا”۔
انہوں نے کہا: ”کٹھوا کی 8 سالہ مسلم بچی اور اناؤ کی 18 سالہ ہندو لڑکی دونوں ہی غیر انسانی فطرت اور ظالمانہ سرشت رکھنے والے درندوں کی شکار ہوئی ہیں، جو کسی بھی مذہب کے پیروکار نہیں، بلکہ ہوس کے پجاری ہیں ۔وہ کسی بھی مہذب سماج کا حصہ نہیں، ہمیں ان کے بھارتی ہونے پر خود کو شرمندہ ہونا چاہئے۔”
اس سلسلے میں سینئر صحافی اور بورڈ کے آفس سکریٹری اورجناب یونس موہانی نے ایک چبھتا ہوا سوال اٹھایاکہ: ” کیا یہ ‘نیو انڈیا’آزاداور ترقی پسند لوگوں کا بنایا ہواہے، جو طویل عرصے سے اپنے معاشرے میں ایسے گھناؤنے جرائم کو دیکھ رہے ہیں اور اب یہ تقریباً روزانہ کا معمول بن گیاہے؟” انہوں نے کہاکہ ’’ہمیں سمجھ نہیںآتا ہے کہ مجرم کو گرفتار کرنے کے بجائے پولیس شکایت کنندہ کو ہی پہلے اس سنگین کیس میں نے کیوں گرفتار کرلیتی ہے” ۔