HomePress ReleaseArticles

ایشیا پیسی فک استنبول کانفرنس

آل انڈیا علما ء ومشائخ بورڈ کے بانی اور صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھو چھوی نے ’’اسلامی تحریکات اور ایشیا پیسی فک پر ان کے مضر اثرات‘‘ کے موضوع پر

Sufi leader urges PM to create Sufi corridor and rectify historical blunders against Muslims:India Today
MUSLIM CLERGY URGED TO EXPOSE IS IDEOLOGIES-Hindustan Times (Lucknow)
देश के संविधान का सम्मान हमारा कर्तव्य : सय्यद मोहम्मद अशरफ

آل انڈیا علما ء ومشائخ بورڈ کے بانی اور صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھو چھوی نے ’’اسلامی تحریکات اور ایشیا پیسی فک پر ان کے مضر اثرات‘‘ کے موضوع پر ترکی کے شہر استنبول میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی ۔ اس سہ روزہ کانفرنس کی تاریخیں 13سے 16اکتوبر 2015تک کی تھیں جن میں شرکت کے لئے صدر بورڈ حضرت مولانا کچھوچھوی 12اکتوبر کو روانہ ہو گئے ۔
یہ ایک بین الاقوامی اجتماع تھا جس میں آل انڈیا علما ء ومشائخ بورڈ کے بانی اور صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھو چھوی نے ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی کی ۔ انہوں نے دنیا کے موجودہ حالات پر اپنی بر جستہ تقریر کا آغاز یہ بتا تے ہو ئے کیا کہ اسلام کے نام پر کچھ لوگ کچھ کر رہے ہیں اور ان کی قیادت کر نے والا بھی کوئی عالم ہے ۔ حضرت مولانا کی تقریر کا لہجہ ہمہ گیر اور مصالحتی تھا ۔کسی بین الاقوامی فارم میں اپنے ملک کی نما ئندگی ایک خاص قسم کی ہنر مندی اور علمیت کا تقاضہ کرتی ہے جس کا اظہار صدر بورڈ نے عقلمندی کے ساتھ کیا ۔ انہوں نے اپنی تقریر اردو کے ایک حرف ع سے شروع کی اور بتا یا کہ علم اور عشق دونوں الفاظ جس پہلے حرف سے شروع ہو تے ہیں وہ ع ہے ۔ اور ایک لفظ عین ہے جس کے معنیٰ آنکھ کے ہیں ۔کسی کی بصیرت اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس کی دونوں آ نکھیں کام نہ کرتی ہوں ،اسی طرح کسی شخصیت کی تکمیل کے لئے علم اور عشق دونوں کی ضرورت ہے ۔ کوئی بھی شخص علم اور عشق میں سے کسی ایک چیز سے محروم ہے تو وہ چوٹ لگاتا ہے ۔کچھ تحریکیں چل رہی ہیں جن کی قیادت کرنے والا بھی عالم ہے ۔ یہ عالم ایسا ہے جس کے پاس علم ہے ۔ لیکن عشق یعنی عشق رسول ﷺ نہیں ہے ۔ 12045528_1164201050275883_5202335244369338822_o
صدر بورڈ نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی 15فیصد ہے ۔ بلا شبہ واقعات ہوتے ہیں لیکن ان کے باوجود آئین کے تحت ہندوستان میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے اور ہندوستانی مسلمان ایک بڑی حد تک اس آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر کا ر بند ہیں۔ ہندوستان میں اسلام سمندر کے راستے کیرالہ میں آیا ۔ وہاں سے پھیلنا شروع کیا لیکن ہندوستان کے قلب میں اسلام کی تبلیغ کا کام خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا جنہوں نے اپنی تبلیغ کا مرکز راجستھان کے اجمیر میں بنایا تھا ۔ خواجہ غریب نواز نے عوام سے رابطہ قائم کرنے ،علم بانٹنے ،امن ،ہم آہنگی ،اتحاد ،بقائے باہم اور محبت کا پیغام پھیلایا ۔ ان کے حسن اخلاق اور ان کی تعلیمات نے 90لاکھ افراد کو اسلام کی طرف راغب کیا ۔ آل انڈیا علما ء ومشائخ بورڈ کے بانی اور صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھو چھوی نے اس پس منظر میں مسلم معاشرے میں سماجی درجہ بندی کی ایک نئی تعریف پیش کی اور کمال ہوشیاری کے ساتھ انہوں نے سٹلر ،پراسپکٹس اور پایو نیر کا مفروضہ پیش کیا ۔سماجی درجہ بندی کی اس نئی تعریف میں سٹلر (عام آدمی)وہ ہیں جو زندگی کی روز مرہ کی ضرورتوں کی تکمیل میں الجھے رہتے ہیں ۔ مسلمانوں کا یہ طبقہ بہت بڑی اکثریت میں ہے ۔ 80فیصد تک ۔ اس طبقے کی تمام توجہ روٹی ،کپڑا ،مکان کے حصول پر لگی ہو تی ہے اور اس کا سارا وقت اور توانائی اسی میں صرف ہو جا تی ہے ۔ یہ لوگ مزدور ہو تے ہیں ، کسان ہوتے ہیں ، چھوٹے کاروباری ہو تے ہیں ، مڈل کلاس اسی میں ہوتا ہے ، اپر مڈل کلاس اسی میں ہوتا ہے لیکن کئی نسلوں کی محنت ،مشقت کے بعد اسی طبقے میں سے کچھ لو گ ترقی کر کے سرمایہ دار ، ماہر ین تعلیم ،تاجر اور صنعت کار بن جا تے ہیں ۔ یہ ترقی یافتہ طبقہ ہے جسے آل انڈیا علما ء ومشائخ بورڈ کے بانی اور صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھو چھوی نے پراسپکٹس کا نام دیا اور بتا یا کہ یہ آبادی میں 20فیصد ہیں ۔ یہ طبقہ اور سے اور کے لئے ہلکان رہتا ہے ۔ اس طبقے کا پایو نیر سے کوئی تعلق نہیں رہ گیا جب کہ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ ابھی تین صدیوں پہلے تک پا یو نیر ہی اصل رہبر ہوا کرتا تھا ۔شاہان اور سلاطین پا یو نیر کی بات مانتے تھے ، اس کا احترام کرتے تھے اور پایو نیر انہیں سٹلروں پر مشتمل عوام کی فلاح و بہبود یقینی بنانے کے لئے پراسپکٹس کو تحریک دیتا تھا ۔ اس طرح سے خدمت خلق کا سلسلہ جا ری تھا ۔ اور پا یو نیر پراسپکٹس اور سٹلر کے درمیان باہمی رشتہ بنا ہوا تھا ۔ یہ نظام چور چور کر دیا گیا ۔ لوگ پا یو نیر سے آزاد ہو گئے ۔ اس آزادی نے آزاد لیڈر پیدا کئے اور آزاد تحریکیں بھی پیدا کر دیں اور یہ تحریکات ایشیا پیسی فک خطہ سمیت پوری دنیا میں تباہی پھیلا رہی ہیں ۔
ایشیا پیسی فک بھی ان تحریکات کے مضر اثرات سے اتنا ہی نقصان اٹھا رہا ہے جتنا دنیا کے بعض دوسرے علاقے ۔ کہیں وہا بی ازم ہے ،کہیں سلفی ازم ہے ۔ اسلام کا اصل پیغام امن کا ہے ۔ لیکن اسلام کے کچھ پیرو کاروں نے تشدد کا راستہ اختیار کر لیا ہے ۔ کیونکہ ادھر کی تین صدیوں میں اس نظام سے پا یو نیر کا ربط منقطع ہو گیا ۔سترہوں صدی تک اسلام انسانیت کی خدمت کر رہا تھا ۔ مسلمانوں نے الجبرا کی دریافت کی ۔ علم نجوم میں کمال حاصل کیا ۔ وہ موجد بھی تھے اور معلم بھی ۔ لیکن سترہویں صدی کے بعد کے دور میں حالات بگڑتے چلے گئے ۔ ساری علمی اور عملی سرمایہ کاری کسی دوسرے شعبے میں کی گئی ۔ اور اس کے نتیجے میں ایسی تحریکات شروع ہو ئیں جنہیں آج تشدد اور تباہی کی فکر کے طور پر جانا جا تا ہے ۔
آل انڈیا علما ء ومشائخ بورڈ کے بانی اور صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھو چھوی نے اپنی تقریر ان لفظوں پر ختم کی کہ مجھے یقین ہے کہ اسلامی معاشروں میں قدروں کے حقیقی نظام کو بحال کیا جا ئے تو تینوں طبقات کے درمیان ایک کار گر ربط قائم ہو جا ئے گا ۔
کانفرنس کے بعد آل انڈیا علما ء ومشائخ بورڈ کے بانی اور صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھو چھوی نے ترکی کے صدر طیب اردگان ،نائب وزیر اعظم عبد اللہ لطیف سیند اور وزیر مذہبی امور دنا یت اسری بسکن لیگی سے ملاقات بھی کی ۔ ہندوستانی مسلمانوں کے نمائندے اور ایک محترم اور معززمقرر کی حیثیت سے یہ حضرت کا ترکی کا دوسرا تھا ۔پہلا دورہ بھی بین الاقوامی کانفرنس سے متعلق ہی تھا جس میں افغانستان میں امن کی بحالی کے موضوع پر بات ہو ئی تھی ۔

12046690_1164200950275893_460695913707446385_n
اپنے قیام ترکی کے دوران بورڈ کے صدر حضرت مولانا نے استنبول اور کونیا کے علماء اور مشائخ سے ملا قات کی ۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے شام سے جو وفد آ یا تھا اس کی اور بلقان کے صوفیوں کی بھی حضرت مولانا سے ملاقاتیں ہو ئیں ۔ وہ نقشبندی ،شاذلی اور رفاعی سلسلے کے علماء اور مشائخ سے بھی ملے ۔ترکی میں ہندوستانی نسل کے دو بزرگوں کی درگاہوں پر بھی حاضری دی ۔ دونوں کا تعلق اتر پردیش کے شہر الہ آباد سے ہے اور دونوں ہی چشتی سلسلے کے بزرگ ہیں ۔ ترکی کے لوگ ان میں سے ایک صوفی بزرگ کو خاموش پیر کے نام سے یاد کر تے ہیں اور دوسرے کو حضرت طاؤ س ہندی کے نام سے ۔ خاموش پیر مولانا روم کی مثنوی پڑھتے اور اس کی تشریح کر تے تھے ۔ ہندوستانی نسل کے ان دونوں صوفیا ء کی درگاہوں پر حاضری کے بعد آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کے صدر نے مقامی میو نسپل کارپوریشن کے حکام ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ ان دونوں ہندوستانی صوفیاء کی درگاہوں کے انتظام و انصرام میں بہتری لا ئیں اور وہاں زیادہ سے زیادہ بنیادی سہولتیں فراہم کریں ۔ میو نسپل حکام نے انہیں یقین دلایا کہ دونوں درگاہوں کا وہ معمول سے زیادہ خیال رکھیں گے ۔ قیام ترکی کے دوران کانفرنس سے بچے ہو ئے وقت میں بورڈ کے صدر نے مقامی حکا م سے رابطہ قائم کر کے مذہبی مقامات کے انتظام کی تکنیکی باریکیوں کے بارے میں واقفیت حاصل کی ۔ اس کانفرنس میں افغانستان ، ملیشیا ، انڈونیشیا، چین ،کمبوڈیا ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، پاکستان ، بورنیو ، مالدیپ ،برو نئی، نیپال ،بنگلہ دیش ، سری لنکا سنگا پور ، جاپان ، ویت نام اور ساؤ تھ کو ریا سمیت 37ملکوں سے شرکت کے لئے 125مندو بین آ ئے تھے۔

COMMENTS

WORDPRESS: 0
DISQUS: 0