हलाल रिज़्क़, इंसाफ और मोहब्बत से बचेगी दुनिया : सय्यद मोहम्मद अशरफ

उलमा व मशाइख बोर्ड अध्यक्ष की कोरोना वायरस से सावधान रहने की अपील!

15 मार्च रविवार,सुनौली
आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड के राष्ट्रीय अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफी फ़ोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने कल सुनौली नेपाल बार्डर पर एक धर्म सभा को संबोधित करते हुए मौजूदा समय में दुनिया पा कोरोंना वायरस के खतरे पर बात करते हुए कहा कि “हलाल रिज्क,इंसाफ और मोहब्बत से बचेगी दुनिया”!
हज़रत ने कहा कि हमारे पैदा करने वाले रब ने हमें बता दिया कि हम क्या खा सकते हैं और क्या नहीं जब हम उससे मुंह मोड़ेंगे तो इस तरह की मुसीबत में गिरफ्तार हो जाएंगे,सिर्फ खान पान से ही नहीं बल्कि इंसाफ न करने पर भी ऐसी स्थिति उत्पन्न होगी दुनिया तरह तरह की मुसीबत में फंसती जा रही है तरक्की के नाम पर रोज इंसानियत को नेस्तनाबूद करने वाले हथियारों को बनाया जा रहा है जिस हथियार से दुनिया को सबसे ज़्यादा नुक़सान पहुंच सकता है जिससे सबसे ज़्यादा जाने जा सकती है उसे सबसे बेहतर हथियार माना जा रहा है और उस मुल्क को सबसे ज़्यादा विकसित राष्ट्र माना जा रहा है,जबकि होना तो यह चाहिए था कि सबसे ज़्यादा विकसित मुल्क उसे मना जाए जहां इंसान की जिंदगी को सबसे ज़्यादा बेहतर करने पर काम हो,जहां इंसाफ का निज़ाम कायम हो,और सबसे अच्छा हथियार वह हो जिससे सबसे काम इंसानी जानो का नुकसान हो।
उन्होंने कहा कि दुनिया आज कोविड19 की वजह चीन के लोगों के गलत खान पान को मान रही है चमगादड़ को इसका मुख्य कारण माना जा रहा है लेकिन इसी खतरे को आज से 1500 साल पहले हमारे नबी ने बता दिया था और सबको यह बता दिया कि क्या खाया जा सकता है और क्या नहीं अगर नबी की बात पर अमल हो तो मुमकिन नहीं कि इस तरह की बीमारी फैले,सिर्फ इतना ही नहीं इस बीमारी से बचने के जो उपाय डॉक्टर बता रहे थे यह तो सब प्यारे नबी की सुन्नत हैं खांसी अाए तो मुंह ढंक लो छींक अाए तो मुंह ढंक लो हाथ धो वज़ू करो जिससे नांक और मुंह में को गंदगी है साफ हो जाए ।
मुसलमानों को कोरोंना से नहीं अपने रब से डरना चाहिए और अपने रसूल की सुन्नत पर अमल करना चाहिए आप अपने आप इस खतरनाक बीमारी से बच जाएंगे साफ सफाई का ख्याल रखें हाथो को साफ रखें ।
हलाल रिज्क बीमारियों से बचाता है ,वहीं इंसाफ से अमन कायम होता है और अमन होने से तरक्की होती है ,हुकूमत को इंसाफ का निज़ाम कायम करना चाहिए जिस तरह के हालात से मुल्क दो चार है इसमें इंसाफ के जरिए लोगों में भरोसा कायम किया जाना चाहिए और नफरतों को मिटा कर मोहब्बत का वातावरण बनाया जाना चाहिए क्योंकि यदि नफरत नहीं रुकी तो कोरोंना से अधिक घातक साबित होगी और इस वायरस की एक ही वैक्सीन है वह है मोहब्बत।

Yunus Mohani

نئی نسل کو بچانے کے لیےخاندان کی ہر بیٹی کو تعلیم یافتہ بنایا جائے : سید محمد اشرف

عرس اعلی حضرت اشرفی میاں کچھوچھہ شریف کے سالانہ پرگرام میں حضور اشرف ملت کا فرمان
ہر سال کی طرح امسال بھی عالم اسلام کی عظیم ہستی،مجدد سلسلہ اشرفیہ،اعلیٰ حضرت سیدمحمد علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی قدس سرہ کا سالانہ عرس پاک نہایت تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوا جس میں محفل عید میلاد النبی سے خطاب فرماتے ہوئے حضرت اشرف ملت نے کہا کہ اگر امت مسلمہ اپنی آنے والی نسلوں کو بچانا چاہتی ہے تو اسے اپنے گھر کی کم سے کم ایک بچی کو دینی تعلیم وتربیت سے آراستہ کرنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ بعض خلاف اولی مسائل کا سہا را لے کر خواتین کو مکمل طور پر معاشرتی دھارے سے کاٹ کر علاحدہ کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کو دینی مسائل سیکھنے کا موقع کم سے کم ملتا ہے۔اور ہر بچی مدرسہ میں جاکر تعلیم بھی حاصل نہیں کر سکتی ہے اس لیے صنف نازک کو ایساماحول فراہم کرنا ہی ہو گا جس سے وہ دین ومذہب کی سمجھ حاصل کرسکے۔مزارات پر عورتوں کی حاضری تمام فتا وی کے باوجود نہیں رک سکی، لہٰذا اب اس کو روکنے پر قوت صرف کرنے کی بجائے اسے بار آور بنا یا جائے،اوراعراس میں ان کی حاضری کوانھیں دین کی تعلیم وتر بیت سے جو ڑنے کا ایک حسین موقع بنا دیا جائے۔آخر مفتیان کرام عورتوں کے لیے نسواں اجتماعات منعقد کرہی رہے ہیں تو اجتماع کی نیت سے عرس میں جانا کیونکر ممنوع ہو سکتا ہے۔انھوں نے عورتوں کی فعال کا رکردگی کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کے ظالمانہ کالا قانون سی اے اے، این آر سی، اور این پی آر، کی مخالفت کا پرچم جس طبقے نے بلند کیاہے اور قوم وملت کی عزت وآبرو بچائی ہے،اور یہ نتیجہ ہے ان کے دنیا وی تعلیم سے جڑنے کا،اب اگروہی طبقہ دینی تعلیم سے بھی جڑ گیا تو اندازہ کرسکتے ہیں کہ کیسا عظیم الشاان انقلاب آسکتا ہے۔
پروگرام کا آغاز تلاوت کلا م پاک سے ہوا،اس کے بعد محمدثاقب سلمہ متعلم جامعہ اشرفیہ مختا رالعلوم ٹانڈہ اور دیگر مداحان رسالت نے نعت ومنقبت کا نذرانہ پیش کیا۔اس کے بعدمفکر اسلام حضرت مولانا حبیب الرحمن علوی مداری سدھارتھ نگری ایکزیکٹوممبر بورڈ نے اشرف ملت کی قائدانہ صلاحیت کے موضوع پر پرمغز خطاب فرمایا۔اور کہا کہ قائد کے بغٖیر بڑی سے بڑی فوج بھی ناکام ہو جاتی ہے۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر واحسان ہے کہ امت مسلمہ کا یہ مسئلہ حضرت اشرف ملت کے منظر عام پر آنے کے بعد حل ہو چکا ہے،قومی وملی مسائل پر اشرف ملت کی نگاہ بہت باریک ہے،اس لیے پوری قوم کو قائد تلاش کرنے کی بجائے ان کی قیادت پر متفق ہو جاناچاہیے۔اور آل انڈیا علما ومشائخ بور ڈ اس کے لیے سب سے موزوں پلیٹ فارم ہے۔جو پچھلی ایک دہائی سے قوم وملت کی ترجمانی کر رہاہے۔علامہ مداری نے کہا کہ جو لوگ بورڈ کی بے بنیادافوہوں کی وجہ سے مخالفت کررہے ہیں ان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے،اور قوم وملت کے سرمایے کو برباد ہو نے سے بچا ناچاہیے۔یہ ایک سنہرا موقع ہے اس سے فائد ہ اٹھا نا چاہیے۔
اس کے بعد امیرا لقلم حضرت علامہ ومولانا مفتی صوفی مقبول احمد سالک مصباحی بانی ومہتمم جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی،نئی دہلی نے اطاعت امیر کے موضوع پر شاندار خظاب فرمایا اور کہا کہ امت مسلمہ کے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف اطاعت امیر میں ہے۔۴۱سو سالوں سے امت مسلمہ جو انارکی وبے چینی اور افتراق وانتشار کا شکا رہے اس کی بنیا دی وجہ امیر کی عدم اطاعت ہے۔اگر روز اول سے ہی امیر وقت کی اطاعت کی گئی ہو تی تو نہ قتل عثمان غنی کا بلوہ پیش آتا اور نہ حضرت مولاعلی،حضرت امام حسن کی مظلومانہ شہادت پیش آتی۔اور نہ ہی آ نے والے وقت میں معرکہ کرب وبلا کا سانحہ پیش آتا،جس کا درد آج تک بھلایا نہ جاسکا۔مولانا سالک مصباحی نے کہا کہ آج بھی نہ عالم اسلام کا کوئی متفقہ قائد ہے اور نہ مسلمانان ہند کا ہی کوئی رہبر ورہنما ہے،شتر بے مہار کی طرح ہر قبیلہ اور مسلک جد اجد اراستے پر گامزن ہے۔جس کی وجہ سے پچھلے ستر سالوں میں مسلمان ستر بار اجتماعی قتل عام کا شکار ہو چکا ہے۔اورابھی حال میں دہلی میں ہونے والی تباہی کا درد ناک منظر سب کے سامنے ہے۔ مولانا مصباحی نے کہا کہ اب نہ کوئی نیا نبی آنے والا ہے اور نہ وحی الٰہی نازل ہونے والی ہے،اب ہمیں ہی کچھ کرنا ہوگا۔اور وقت بہت مختصر رہ گیا ہے،دشمن ہمارے صفایا کی پوری تیاری کرچکا ہے۔یکے بعد دیگرے سب کا نمبر آنے والاہے۔
مجاہد اسلام مولانا سید محمد عالم گیر اشرف اشرفی الجیلانی بانی سنی سینٹر ناگپورنے کہا کہ منافق اگر صحیح بات بھی کہے تو نہ سنا جائے جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہوا۔اور منافقین کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ منافقین سخت جھوٹے ہیں۔وجہ اس کی روح کلمہ سے منافقین کی ناواقفیت ہے۔اور روح کلمہ سے مراد ذات مصطفیٰ اور خاندان مصطفی ہے۔دور رسالت میں ذات مصطفٰی کے منکرین تھے اور اس کے بعد خاندان مصطفیٰ کے منکرین کی کثرت ہے۔اور یہ دونوں کے دونوں روح کلمہ سے ناواقف ہو نے کی وجہ سے مردود ومبغوض ہیں۔اور افسوس کہ آج بھی یہ دونوں ہمارے درمیان موجود ہیں۔اور ملت کے لیے ناسور ہیں۔مجاہد اسلام نے اس بات پر زور دیا کہ سادات کرام کی تعظیم وتوقیر کی تحریک کو آگے بڑھا یا جائے،اور سماج میں ان کے تئیں احترام وتکریم کے جذبات کو فروغ دیا جائے۔سادات اگرچہ کسی کی تعظیم وتوقیر کے محتاج نہیں ہیں مگر ان کی تعظیم وتوقیر سے مسلمانوں میں طاقت وقوت پیدا ہوتی ہے۔
عرس کا یہ پروگرام سہ روزہ تقریبات پر مشتمل رہا۔جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
۹/رجب المرجب،۱۴۴۱ھ مطابق ۵/مارچ ۰۲۰۲ ء بروز جمعرات ۴۲/واں عرس سرکار کلاں مخدوم المشائخ حضرت سید شاہ محمد مختا راشرف الاشرفی الجیلانی قدس سرہ العزیز
پروگرام: (۱)بعد نماز عصر: رسم پرچم کشائی وترانہ اشرفی،(۲)بعد نماز عشا: تقاریر علمائے کرام
۰۱/رجب المرجب،۱۴۴۱ھ مطابق ۶/مارچ ۰۲۰۲ ء بروز جمعہ۸/واں عرس شیخ اعظم محمد اظہا راشرف الاشرفی الجیلانی قدس سرہ العزیز بانی جامع اشرف وسجادہ نشین آستانہ عالیہ اشرفیہ حسنیہ سرکارکلاں درگاہ کچھوچھہ شریف و عرس عالم ربانی،ضلع امبیڈکر نگر،یو پی
پروگرام: (۱)بعد نمازفجر: قرآن خوانی،(۲)صبح ۹/بجے دن تا ۱/بجے دن: نعت ومنقبت ومحفل سماع،وقل شریف،(۳)بعد نماز عشا: تقاریر علمائے کرام
۱۱/رجب المرجب،۱۴۴۱ھ مطابق ۷/مارچ ۰۲۰۲ ء بروزہفتہ عرس اعلی حضرت شیخ لمشائخ سید شاہ ابو احمد المدعو محمد علی حسین الاشرفی الجیلانی،رضی اللہ تعالی عنہ
پروگرام: (۱)بعد نمازفجر: قرآن خوانی،(۲)صبح ۹/بجے دن تا ۱/بجے دن : نعت ومنقبت ومحفل سماع،وقل شریف مع فاتحہ ودعا (۳) بعد نماز ظہر: تقسیم لنگر
پروگرام کی سیادت وسرپرستی شیخ الہند حضور اشرف ملت ابوالنواز حضرت سید محمد اشرف الاشرفی الجیلانی،بانی وصدر آل انڈیا علما ومشائخ بور ڈ وچیر مین ورلڈ صوفی فورم،نئی دہلی نے فرمائی۔نظامت کے فرائض راقم السطورمحمد عرفان اشرفی خطیب وامام غوثیہ مسجد ڈالی گنج کراسنگ لکھنؤ نے انجام دی۔جب کہ نگرانی وترتیب کا فریضہ آل انڈیا علما ومشائخ بور ڈ کے قومی ترجمان امیر القلم مولانا مقبول احمد سالک مصباحی دہلوی نے انجام دیا۔پروگرام میں قرب وجوار کے عوام اہل سنت،سنی صوفی مسلمان،اورعلما ومشائخ کے علاوہ دورو دراز کے مریدین ومتوسلین اور علما ومشائخ نے بھی شرکت کی۔مولانا برکت حسین مصباحی پرنسپل،اور قاری مہتاب عالم استاذ جامعہ کاملیہ مفتاح العلوم،حافظ کاشف علی گو رکھپوری،قدیر جویلری کولھوئی بازار،مہراج گنج یوپی،مولانا مفتی تاج الدین اشرفی پرنسپل جامعہ اشرفیہ مختار العلوم ٹانڈہ،حضرت شیخ سرفراز احمد اشرفی خلیفہ حضور اشرف ملت (ہالینڈ)حضرت پیر محمد علی نقش بندی میرٹھ اورمولانا ابن علی اشرفی دوارکا (نئی دہلی) مولانا عظیم اشرف سنبھلی وغیرہ نے اپنی شرکت سے پروگرام کوکامیاب بنایا۔
جس دن خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکار کلاں میں عرس کا اختتام ہوتا ہے اسی دن خانقاہ شیخ اعظم سرکار کلاں میں عرس کا آغاز ہوتا ہے تاکہ کسی طرح کی تکرار اور مریدین کے لیے زحمت کا ذریعہ نہ بنے۔اور خانقاہ شیخ اعظم کا عرس بھی سہ روزہ ہوتا ہے،جیسا کہ اشتہار سے ظاہر ہے۔امسال آخری قل شریف میں خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکار کلاں کے صاحب سجادہ حضرت سید محمود اشرف اشرفی الجیلانی بھی رونق افروز ہوئے جس سے عرس اشرفی کا رنگ دوبالا ہوگیا۔اور دونوں برادران کو ایک جگہ ایک مجلس میں دیکھ کر زائرین اور خانوادہ کے افراد کے چہرے کھل اٹھے،۔حضور قائد ملت نے کرم نوازی فرماتے ہوئے آخری قل شریف میں دعا بھی فرمائی۔حضور قائد ملت کے ساتھ ساتھ آپ کے نور نظر ولی عہد،بھی جلوہ افروزرہے۔مزیدبرآں حضرت سید احسن میاں اشرفی جیلانی چیف ایڈیٹر مجلہ سرکارکلاں،حضور اشرف ملت کے برادر اصغر حضرت سید حماد اشرف اشرفی جیلانی،حضرت سید حسن میاں اشرفی جیلانی،حضرت سید راشد میاں اشرفی جیلانی حضرت سید عسکری میاں اشرفی جیلانی جانشین محدث اعظم،دامت برکاتہم وغیرہ کی آمد آمد نے پروگرام کو عرش نشین بناد یا۔
پروگرام کے اختتام پرتمام افراد خانہ، علماومشائخ، زائرین وحاضرین اور جامع اشرف کے تمام طلبہ واساتذہ کی لنگر عام سے ضیافت کی گئی۔اور یہ مبارک سلسلہ الحمد للہ تینوں دن جاری وساری رہتا ہے۔ ہر سال کی طرح امسال بھی ملک کے مختلف صوبوں اور علاقوں کے عقیدت منداں اور رضاکاران شریک ہوئے اورخانقاہ میں منعقد ہونے والی تمام تقریبات کو بحسن وخوبی انجام دیا۔خصوصیت کے ساتھ مختار العلوم کے طلبہ،اساتذہ،بہار وبنگال، راجستھان اور سنبھل ومراد آباد کے زائرین کی جان توڑ کوششیں بڑی قیمتی ہو تی ہیں۔اللہ تعالی ان تمام حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔اور بالخصوص غوث العالم،تارک السلطنت سلطان سید اشرف جہاں گیر سمنانی قدس رضی اللہ تعالی عنہ کے فیوض وبرکات سے مالامال فرمائے۔آمین

वतन पे जान लुटाने वालों का हम सब पर क़र्ज़ : सय्यद मोहम्मद अशरफ

कोलकाता में 16 फरवरी को सूफी कांफ्रेंस आयोजित

14 फरवरी,2020 कोलकाता,

आल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड के अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफी फ़ोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने पिछले साल आज ही के दिन हुए पुलवामा अटैक में वतन पर अपनी जान लुटा देने वाले भारत के वीर जवानों को श्रद्धांजलि देते हुए कहा कि वतन पर जान लुटाने वालो का हम सब पर कर्ज है।

उन्होंने कहा कि जब हमारे जवान मुश्किल से मुश्किल मौसम और हालात से जूझते हुए हमारी सरहदों की हिफ़ाज़त करते हैं तब हम अपने घरों में चैन की नींद सोते हैं, हमारी हर सुकून भरी नींद पर इनका अहसान है, हमें यह नहीं भूलना चाहिए। सभी देशवासियों को मिलकर उनके परिवारों की हर तरह की मदद करनी चाहिए ताकि जो अपना सबकुछ हमारे वतन के लिए न्योछावर कर गए उनके परिवार एक बेहतर जिंदगी गुजार सकें।
हज़रत ने कहा कि हमें हर वक़्त अपने जवानों की कुर्बानी याद रहनी चाहिए, इससे भ्रष्टाचार भी कम होगा और समाज में आपसी भाईचारा भी बढ़ेगा, उन्होंने पूरे देश का आह्वाहन करते हुए कहा कि आइए हम सब देश के प्रति अपनी प्रतिबद्धता को दर्शाते हुए यह संकल्प लें कि अब इन वीर सपूतों के सम्मान में हम देश को दीमक की तरह खोखला कर रहे भ्रष्टाचार के विरूद्ध खड़े होंगे और अपने अपने स्तर पर जहां भी संभव होगा इसे रोकने का प्रयास करेंगे, यही इन वीरों के प्रति हमारी असली श्रद्धांजलि होगी।
वह यहां कोलकाता में आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड द्वारा 16 फरवरी रविवार को आयोजित होने वाली सूफी कॉन्फ्रेंस के लिए आए हुए हैं, इस कॉन्फ्रेंस में देश की बड़ी विख्यात ख़ानक़ाहों के सज्जादानशीन प्रतिनिधि, उलमा और बुद्धिजीवी शिरकत कर रहे हैं और कोलकाता की धरती पर आयोजित होने वाली यह अपनी तरह की पहली कॉन्फ्रेंस है जिसमें बड़ी तादाद में लोगों के जुटने की बात हो रही है।

Yunus Mohani

डर के माहौल में शिक्षा संभव नहीं और बिना शिक्षा विकास : सय्यद मोहम्मद अशरफ

जेएनयू केम्पस में नाक़ाबपोश गुंडों का हमला देश के भविष्य पर हमला
6 जनवरी मुम्बई,
आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड के अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफी फ़ोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने कल जवाहरलाल नेहरु विश्वविद्यालय के कैम्पस में हुई हिंसा की कड़ी निन्दा करते हुए कहा कि जो भी यूनिवर्सिटी कैम्पस में घुस कर इस तरह की हिंसा कर रहे थे फौरन उनकी गिरफ्तारी होनी चाहिए क्योंकि डर के माहौल में शिक्षा संभव नहीं है और शिक्षा के बिना विकास संभव नहीं।
हज़रत ने कहा कि यह वाकई हैरत में डालने वाली बात है कि इतने हथियारबंद लोग विश्विद्यालय में कैसे प्रवेश कर गये और लोकल सुरक्षा कर्मी उन्हें रोकते नहीं हैं, आखिर यह किस तरह का माहौल बन रहा है, अगर ऐसा ही चलता रहा तो लोग अपने बच्चों को कैसे पढ़ने के लिए भेजेंगे, इस तरह कैसे भारत पढ़ेगा और आगे बढ़ेगा।
उन्होंने कहा कि इस मामले में राजनीत नहीं होनी चाहिए यह भारत के भविष्य का सवाल है, सभी लोगों को एकजुट होकर इस तरह की घटनाओं को रोकने का प्रयास करना होगा यदि ऐसा नहीं हुआ तो देश का विकास बाधित होगा। जिन बच्चों को चोट आई है हम उनके जल्द स्वस्थ्य होने की दुआ करते हैं और छात्र छात्राओं को विश्वास दिलाना चाहते हैं कि देश के सभी अमन पसंद लोग आपके साथ खड़े हैं, आपको भयभीत होने की जरूरत नहीं है।
सभी विश्विद्यालयों के छात्र छात्राओं से हम यह अपील भी करते हैं कि किसी भी तरह की हिंसा का विरोध कीजिए और अगर आपके बीच कोई ऐसा करने की कोशिश करता है तो उसे रोक दीजिए, आप देश का भविष्य हैं और हम सब आपके साथ हैं। देश की कानून व्यवस्था पर भरोसा रखिए, मतभेद होना चाहिए मनभेद नहीं यही तरक्की की राह है, किसी के बहकावे में न आएँ न ही अफवाहों पर ध्यान दें।

यूनुस मोहानी

ननकाना साहिब गुरुद्वारे पर हमला नबी की तालीम के सख्त खिलाफ : सय्यद मोहम्मद अशरफ

4 जनवरी (2020)शनिवार,मुम्बई
आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड के अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफी फ़ोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने ननकाना साहिब गुरुद्वारे को घेर कर पत्थरबाजी की घटना की निन्दा करते हुए कहा है कि यह काम नबी की तालीम के सख्त खिलाफ है,उन्होंने कहा कि जब पैगम्बर ए इस्लाम सल्लाल्लाहू अलैहि वसल्लम ने मदीना स्टेट बनाया तो वहां के अल्पसंख्यकों के अधिकार रखे और उनकी इबादतगाहों तथा उनकी जान माल की हिफ़ाज़त का वादा किया।
उन्होंने कहा, पाकिस्तान की सरकार इस मामले में फौरन दखल दे और हर कीमत पर ऐसा करने वालों के खिलाफ सख्त कार्यवाही की जाए तथा गुरुद्वारे की पवित्रता को बरकरार रखा जाए। चूंकि ननकाना साहिब में सिख भाइयों के प्रथम गुरु गुरु नानक देव जी का जन्म हुआ इसलिए इस जगह से उनकी अकीदत है,जिसका सम्मान किया जाना चाहिए।
हज़रत ने पाकिस्तान के लोगों से अपील करते हुए कहा कि नबी की तालीम पर अमल करें क्योंकि इस तरह अगर कोई करता है तो यह सीधा उस पैग़म्बरे अमन की तालीम की अव्हेलना है लिहाज़ा सब बाहर निकलकर सिख भाइयों की मदद के लिए आएँ।
उन्होंने कहा कि भारत का हर मुसलमान सिख भाइयों के साथ है और हम इस तरह के कृत्य को बर्दाश्त नहीं करते, इसकी कड़ी निन्दा करते हैं क्योंकि किसी को किसी की धार्मिक भावनाओं को आहत करने का अधिकार इस्लाम नहीं देता है, इस्लाम की तालीम हर जगह ज़ुल्म और ज़ालिम के खिलाफ मजलूम के साथ खड़े होना है।

By: यूनुस मोहानी

ज़रूरतमंदों की मदद भी आंदोलन का हिस्सा: शाह हसन जामी

29 दिसंबर,नई दिल्ली।
आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड ने हर साल की तरह इस साल भी एक निर्देश अपनी सभी शाखाओं में जारी कर कहा है कि लोगों की मदद की जाए बिना उनकी जात और धर्म पूछे, इस भयानक सर्दी में यूं लोगों तक गर्म कपड़े कम्बल जैसी ज़रूरी चीज़ें पहुंचाई जाऍ जिनके पास अपना बदन ढकने के लिए गर्म कपड़े नहीं है।
इसी क्रम में बोर्ड के राष्ट्रीय महासचिव शाह हसन जामी के द्वारा दिल्ली के श्रम विहार, कालिंदी कुंज इलाके में यह काम शुरू किया गया, यहाँ झुग्गी झोंपड़ी में रहने वाले वह लोग हैं जिनके पास इस भयानक सर्दी से बचाव करने के लिए ओढ़ने का साधन नहीं है।

बोर्ड के कार्यालय प्रभारी हुसैन शेरानी ने सुश्री ऐमन और मौलाना अज़ीम अशरफ के साथ मिलकर कंबल बांटे ।
जिससे काफी लोगों को राहत मिली साथ ही यह संदेश भी दिया गया कि हम लोगों के लिए आसानियां पैदा करने वाले बने न कि मुसीबत।

जामिया में पुलिसिया दमन भारत के भविष्य पर हमला :सय्यद मोहम्मद अशरफ

15 दिसंबर, नई दिल्ली
आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड के अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफी फ़ोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने जामिया मिलिया इस्लामिया विश्वविद्यालय के अंदर घुस कर जामिया के छात्र छात्राओं पर पुलिस के लाठीचार्ज की कड़ी निन्दा की है।
हज़रत ने कड़े शब्दों में कहा कि यह भारत के भविष्य पर हमला है केंद्र सरकार को फौरन स्थिति को संभालना चाहिए, देश में जिस तरह का माहौल पनप रहा है वह बेहतर नहीं है लोगों में चिंता और भय है सरकार को इसे दूर करना चाहिए, हज़रत ने छात्रों से भी शांति की अपील करते हुए कहा कि कानून को किसी भी हाल में हाथ में न लें शांति और संयम बनाए रखे।
हज़रत ने दिल्ली पुलिस की इस बर्बर कार्यवाही को निकम्मापन करार दिया,उन्होंने कहा कि अगर बिना इजाज़त विश्विद्यालय में पुलिस घुसी है तो इसकी जांच होनी चाहिए और दोषियों पर कड़ी कार्यवाही की जानी चाहिए, विश्विद्यालय पढ़ने की जगह है पुलिसिया तांडव की नहीं इसके लिए सरकार को फौरन क़दम उठाने चाहिए। बच्चों के साथ कोई गलत बर्ताव नहीं किया जाए और उन्हें सकुशल उनके घर भेजा जाय।

By: Yunu Mohani

आल इंडिया उलमा व मशाइख बोर्ड का CAB और NRC के विरोध दिल्ली में प्रदर्शन

लक्ष्मी नगर,नई दिल्ली 13/12/2019

देश के सभी अमन वाले शेहरियों की जानिब से गुस्से का इज़हार करने के लिए NRC और CAB के ख़िलाफ़ ज़बरदस्त मुज़ाहरा पेश कर राजधानी दिल्ली का लक्ष्मी नगर इलाक़ा भी गवाह बना, नमाज़ ए जुमा के बाद इलाके के हज़ारों लोग NRC और CAB के खिलाफ इकट्ठे हुए।

जुलूस में आल इंडिया उलमा व मशाइख बोर्ड दिल्ली शाखा के महासचिव सय्यद शादाब हुसैन रिज़वी ने कहा कि किसी भी बुरे काम को रोकना हर मुसलमान का फर्ज़ है और ईमान का हिस्सा है और मुसलमानों पर वाजिब है कि वह देश के संविधान की हिफाज़त करे। उन्होंने और कहा कि यह समय सारे शिकवे भूलाकर तमाम अमन वाले और सेक्युलर लोगों को एक साथ आने का है क्योंकि इन दोनों बिलों के परिणाम सिर्फ मुसलानों को ही नहीं बल्कि देश के विभिन्न वर्गों को दूरगामी नुकसान देंगे।

लोगों के आह्वान पर जनाब मौहम्मद शादाब खान लोगों से मुख़ातिब हुए, मौहम्मद शादाब ने कहा कि एक तरफ देश को तानाशाही की तरफ ले जाया जा रहा है, दूसरी तरफ अमन वाले लोग सो रहे हैं, पहले तीन तलाक के मामले में अहले हदीस और वहाबी चुप रहे कि यह हनफियों का मामला है, फिर 370 पर तमाम मुसलमान चुप रहे कि यह कश्मीरियों का मामला है तो कभी अमन के नाम पर बाबरी मस्जिद मामले में मुसलमानों को चुप रखा गया, कभी दहशतगर्द कहा गया फिर भी मुसलमान चुप रहा, लेकिन अब यह मामला सिर्फ लोकत्रंत्र का नही बल्कि मुसलमानों की इज़्ज़त-आबरू का है। कार्यक्रम को सफल बनाने में जनाब वक़ार चौधरी, जनाब रईसुद्दीन सैफी, मौहम्मद अज़हर, साद अहमद, अनीसुल हक़, साकिब सैफी ने बढ़ चढ़ कर हिस्सा लिया।

By: Husian Sherani

موجودہ مشکل حالات میں سیرت عبد القادر جیلانی ؓ امید کی ایک کرن


آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ کے زیر اہتمام منعقد یوم عبد القادر جیلانی میں علماءکا اظہار خیال
مولانا مقبول احمد سالک مصباحی نے کہا کہ تصوف حالات کے دھارے میں بہنے اور کمزوری وبزدلی کی کمزور تاویلات کانام نہیں،تصوف درحقیقت اللہ کے ماسوا کسی بھی شئی سے نہ ڈرنے کا کانام ہے،صوفی کی آنکھوں میں اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوتا،خواہ ارباب اقتدار کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو،حضرت شیخ عبد القادر جیلانی اپنے کردار وعمل سے امت محمدیہ کو یہی پیغام دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ حضرت غوث اعظم کی اکیانوے سالہ زندگی اس پر شاہد عدل ہے کہ آپ کسی بھی سلطان وشہنشاہ کے سامنے کبھی نہیں جھکے،بلکہ اسے اپنی خداد دعوتی کردار وعمل سے مرعوب ومسخر کردیا۔قادری سلسلہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے مریدین وخلفانے بیت المقدس کی آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے،اس سے اس سلسلہ کی ڈائنامک خصوصیت کا پتہ چلتا ہے۔اور یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اصؒ مجاہد فی سبیل اللہ صوفیا اور اولیا اللہ ہی ہیں جو نفس امارہ اور شیطانی طاقتوں کے خلاف جہاد کرتے رہتے ہیں۔

مولانا رئیس ازہری (اسلامی اسکالر)نے کہا کہ اگر آج مسلمانوں کو اپنی زندگی کامیاب بنانی ہے تو اسے سرکار غوث اعظمؓ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ آپ نے تعلیمات سرکار غوث اعظم ؓ کی جھلکیاں پیش کیں کہ توحید پر جمے رہو، توحید کے رنگ میں رنگے رہو، توحید کی رسی مضبوطی سے پکڑے رہو کیونکہ توحید ہی سرمایہ نجات ہے۔آپ نے مزید کہا کہ اولیاء کرام کی مجلسوں میں شرکت کرنے سے تزکیہ نفس ہوتا ہے۔

مولانا مختار اشرف اسلامی اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ قرآن پاک نے سچوں کے ساتھ رہنے کا حکم کیوں دیا ہے؟اس کانکتہ یہ ہے کہ علم کوئی بھی شخص حاصل کرکے علامہ بن سکتا ہے،مگر ضروری نہیں کہ وہ سچا بھی ہو۔صحبت سچوں کی ہی اکسیر ہے، سرزمین ہند میں سچوں کے امام حضرت خواجہ معین الدین چشتی ہیں،ان سے قطب الدین جڑے تو بختیا ر کاکی ہوگئے،فریدالدین ان سے جڑے تو گنج شکر ہوگئے،ان سے نظام الدین جڑ ے تو محبوب الہی ہو گئے،سید اشرف کسی سچے کی صحبت میں بیٹھے تو مخدوم سمناں ہوگئے اور یہ سلسلہ خیرو برکت اسی طرح رواں دواں رہا۔انھوں نے کہا کہ آج ملک میں مسلمانوں کے خلاف جو ماحول بن رہا ہے تو یہ ہماری دعوتی کوتاہیوں کی وجہ سے ہے،در اصل فتوی تصوف پر غالب آگیا،حکمت پرعلم غالب آگیا،صوفیا پس منظر میں چلے گئے،سماج پر ظاہر پرست علما غالب آگئے اور سب کچھ بدل کر رکھ دیا،ضرورت اس بات کی ہے کہ فتوی پر دعوت کو غالب کیا جائے،اور صوفیا کے طریقہ دعوت کو عام کیاجائے۔

سید شاداب حسین رضوی رکن دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی اورجنرل سکریٹری آل انڈیا علما ومشائخ بور ڈ نے کہا کہ موجودہ حالات اگر چہ مشکل ہیں مگر ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ انتہائی دانش مندی اور صبر ورضاسے اس کا سامنا کرنا ہے،بالخصوص جذباتی نعروں سے احتراز کرنا ہے،قانونی چارہ جوئی اور عوامی رائے عامہ کی بیداری،اور مسائل کی گہرائی تک جانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ حالات بد سے بدتر ہوسکتے ہیں مگر مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا۔

مولانا عظیم اشرف نے کہا کہ مسلمانوں کی افتا دطبع یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی سے مسائل کا حل چاہتا ہے جب کہ یہ ناممکن ہے،حل مسائل کے لیے قرآن پاک نے ہمیں جو گائیڈ لائن دیا ہے اس کی اتباع ضروری ہے،قرآن نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ سربلندی اور کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان اللہ سے ڈرتا رہے اور سچوں کے ساتھ رہے،انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات کی تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان اپنے حالات خوبدلیں،بد اعمالیوں،بالخصوص کبیرہ گناہوں سے بچیں،صوفیا کرام خاص کر حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کی سیرت طیبہ کو اپنے لیے مشعل راہ بنائیں۔
محمد حسین شیرانی نے میٹنگ کا ایجنڈا رکھا جس پر ممبران نے کھل کر اپنی رائے کا اظہا رکیا۔میٹنگ میں خاص کر موجودہ حالات کے تناظر میں مسلمانوں کا رویہ کیا ہو،اس پر بھی غور وخوض ہوا۔
علما ودانشوران نے ان خیالات کا اظہار آل انڈیا علما ومشائخ بور ڈ کی مرکزی آفس میں منعقدہ ماہانہ مشاورتی نشست میں کیا۔نشست کا آغازتلاوت کلام پاک سے مولانا آصف رضانے کیا۔بعدہ سید محمد ریحان (جامعہ ملیہ اسلامیہ)اور حافظ قمر الدین (نیا سویرا نیوز پورٹل)نے نعت پاک پیش کی۔
اس موقعہ سے حاضرین کی ضیافت کا اہتمام بھی کیاگیا۔حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی گیارہویں کی مناسبت سے ایصال ثواب کا اہتمام بھی کیاگیا۔صلاۃ وسلام اور مولانا سالک مصباحی کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔
شرکاء میں جناب ایڈووکیٹ تہذیب الرحمن،مولانا مظفر ازہری،مولانا محمد قاسم، ماسٹر شبر خصالی،عظمت علی،محمد اشرف امان الرحمن وغیرہ موجود رہے۔

By: Maulana Maqbool Ahmad Salik Misbahi

محبت رسول امتیوں پر فرض: سید سلمان چشتی

انڈیا اسلامک کلچر سینٹر میں جلسہ سیرۃ النبی ﷺ
نئی دہلی،03دسمبر(پریس ریلیز)گزشتہ رات انڈیا اسلامک کلچر سینٹر کی جانب سے جلسہ سیرۃ النبی ﷺ کا انعقاد کیا گیا جس میں آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ جوائنٹ سکریٹری سید سلمان چشتی نے سیرت رسول ﷺ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محبت رسول امتیوں پر فرض ہے جسے ہندوستان میں صوفیا ئے کرام نے عملی جامہ پہنا کر دکھایا اور سر زمین ہند پر رسول اکرم کا پیغام امن،محبت،اخوت و انسانیت، حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے عام کیا۔ سید سلمان چشتی نے کہا کہ خدمت خلق امت محمدیہ کو رسول اللہ سے ملی امانت ہے جسے ہندوستان میں صوفیا ئے کرام نے سنبھال کر رکھا اور اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خدمت خلق کا جذبہ اپنے آنے والی نسلوں تک پہنچائیں۔
انہوں نے خواتین کے حقوق کے بابت فرمایا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو ذلت وپستی کے گڑھوں سے نکالا جب کہ وہ اس کی انتہا کو پہنچ چکی تھی، اس کے وجود کو گو ارا کرنے سے بھی انکار کیا جارہا تھا تو رحمۃ للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا۔ اور اس زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی وملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے، اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپیں۔آپ نے کہا کہ آج کے اس پر فتن دور میں ہمیں سیرت رسول پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے جس سے اپنی دنیا و آخرت سنوار سکیں۔

By: Husain Sherani