HomeActivitiesZonal Activities

चिश्तिया सिलसिले की ख़िदमतों पर एक नज़र :सय्यद मोहम्मद सय्यदुल अनवार मदारी, सज्जादा नशीन मकनपुर शरीफ

 4th December,Lucknow, Seminar: Sufism and Humanity https://www.youtube.com/watch?v=pi9nOUPSjEc خانوادۂ چشتیہ کی خدمات پر ایک نظر سیدمحمدسیدالانوارم

मुल्क के लिए जान देने में मुसलमान कभी पीछे नहीं रहे: प्रो. ख्वाजा मोहम्मद इकरामुद्दीन
Sufi clerics issue call to reject hardline Wahabis – The Times of India
Muslims Must Exhibit Unconditional Love, Peace And Solace in the month of Rabi al-Nur: Hazrat Syed Mohammad Ashraf Kichauchawi

 4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

خانوادۂ چشتیہ کی خدمات پر ایک نظر
سیدمحمدسیدالانوارمداری
سجادہ نشین مکن پورشریف

 

تصوف کے چودہ خانوادوں میں سے تصوف کا خانوادۂ چشتیہ بر صغیر پاک وہند کابہت مقبول و معروف سلسلہ ہے۔جو وسعت اور قبول عام اس سلسلہ کو کو نصیب ہوا وہ سب پر عیاں ہے۔شمال ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کے قیام سے لیکردور حاضر تک ہندوستانی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداداس خانوادۂ کی مختلف شاخوں سے وابستہ رہی ہے۔جس دور میں اس خانوادۂ کی مسندارشادپرحضرت خواجہ معین الدین چشتی ،حضرت قطب الدین بختیار کاکی ،حضرت فرید الدین مسعودگنج شکر،حضرت نظام الدین اولیاء اور حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی حضرت مخدوم سیداشرف جہانگیر،حضرت شاہ مینا جیسے مشائخ تصوف رونق افروز تھے۔اور اس گروہ کی مقبولیت اور اس کے اثرات کی ہمہ گیری اپنے کمال پر تھی خوش قسمتی سے اس دور کے بارے میں ہمارے پاس مستند تاریخی اور صوفی کا ماخذ کااچھا خاصہ ذخیرہ موجودہے۔
یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ چشتی صوفی مفکرین اور دانشوروں نے اس خانوادہ کے بنیادی مباحث اس کے دائر�ۂ کار اس کی مرکزی فکراور طریقۂ تعلیم واصول ومبادیات پرمستقل کتابیں تصنیف کی ہیں۔اور مسائل پربڑے عالمانہ انداز میں بھر پور روشنی ڈالی ہے۔اس طرح سے اس خانوادہ سے متعلق کسی گوشہ کو تشنہ نہیں چھوڑا۔خانوادہ چشت نے بر صغیر ہندو پاک میں اسلام کی توسیع و اشاعت کے لئے کتنی کوششیں کی ہیں وہ سب پر ظاہر ہیں ۔سلسلہ تصوف میں خانوادۂ چشتیہ کی خدمات جلیلہ کااگر ہم ذکر کریں تو بالخصوص اہل ہند کی رہنمائی اور پیشوائی میں اس کا اپنا ایک کردار ہے۔اس کی باقاعدہ بناعطائے رسول حضرت خواجہ معین الدین چشتی سے پڑی۔تزکیہ نفس اور طہارت قلوب اور اسلامی اعتدالی نظریہ خوب خوب واضح طور پرعملی جامہ اختیار کرکے بلا تفریق مذاہب اور رنگ ونسل تعلیمات دین اسلام کو عام کیااور اس گلشن اسلام کی خوب آبیاری کی۔آج بھی غیر منقسم ہندوستان کی یہ زمین اور یہاں کی تہذیب اس خانوادہ کی مرہون کرم ہے۔
یہ بات کسی کو سمجھانے اور بتانے کی ضرورت نہیں ہے جہاں ہمارے اصحاب سلسلۂ عالیہ مداریہ نے دعوت اسلام اورتبلیغ دین محمدیﷺفرماکرلوگوں کوکثرت سے اسلام میں داخل فرمایاوہیں اس خانوادۂ چشت کے مشائخ عظام نے باشندگان ہند کواسلامی تعلیمات اور اصول بندگی سے بھر پور آشنائی ہی نہیں بلکہ باضابطہ عظیم اور بزرگ علم کے ذریعہ اہل اسلام کووہ روشن و تابناک اور ہر خطرہ سے خالی رہگزر عطا کی۔جسے اصطلاحاًشرع مطہرہ نے صراط مستقیم سے تعبیر کیا ہے۔وہ بزرگ اور عظیم علم کوئی اور نہیں بلکہ وہ تصوف ہی ہے۔جس کا سہارا لیکرسبھی خانقاہوں نے تبلیغ اسلام فرمائی ۔چونکہ تصوف ہر قسم کی شدت سے دور ونفور رہنے کاپیغام دیتاہے۔اسی لئے بزرگان دین نے اس کا سہارا لیااور اس کے لئے بے شمارلوگوں کوداخل اسلام فرمایا۔
بصد افسوس کہنا پڑتا ہے کہ بعض ناعاقبت اندیش تفہیم دین خالص سے ناواقف اور عین اسلامی روح سے ناآگاہی کے سبب تصوف کو جانے کیا کیا نام دیکر بدنام کرتے ہیں۔آج جو بظاہرعصبیت سے خودکوموصوف کرکے سب سے بڑااپنے آپ کو توحید پرستی کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں۔ان کے پیشواؤں نے بھی تصوف کے اس خانوادہ چشتیہ کے حصول کا دعویٰ کرکے اور اپنے کو صوفی ظاہر کرکے عوام تک اپنے فرسودہ عقائدغیر مقلدانہ روش ونظریات کوبین المسلمین افتراق وانتشارپیدا کردینے والے خیالات کوبڑی خاموشی سے داخل کر دیا۔اور اس عظیم خانوادہ کانام بدنام کرنے میں اپنی پوری قوت صرف کی۔مگر جسے خدا رکھے اسے کون چکھے۔
الغرض!بزرگان دین کے کرم سے اور ان کی نگاہ فیض کایہ اثر ہے کہ آج بھی یہ خانوادہ عین اسلامی اور دینی راستہ پر چل کر لوگوں میں تبلیغ کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔تاریخ ماضی اس کی گواہ ہے۔اور کوشش احوال اور آج کی جدو جہد سے روشن اور واضح ہے ۔حالات حاضرہ میں سب سے بڑا عالمی خطرہ یہ ہے کہ اسلامی اصولوں کوشدت پسند عناصرجس نقطۂ نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اس سے ارباب اہل نظرواقف تو ہیں مگر کیا کریں اور کیانہ کریں کہ تشویس اور فکر میں ہیں۔
اس خانوادۂ عظیم اورسلسلہ عالیہ چشتیہ کے بزرگ شمع اشرفیہ ہاتھ میں لیکر خانوادۂ اشرفیہ کے چشم وچراغ نے اس درد کو محسوس کیا کہ ہم ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح رہنمائی نہیں ہو رہی ہے۔قوم بدحالی کا شکار ہے۔ہمارے نوجوان اور ذی اثربلکہ پوری قوم مسلم کے افراد پرطرح طرح کے الزامات عائد کرکے انہیں ستایا جا رہاہے۔امن و آشتی مفقود ہے۔
اور دائرۂ اسلام کو تنگ کیا جا رہا ہے۔قوم مسلم کو ذلیل و رسوا کرنے کی کوئی بھی صورت و شکل ہواسے اپناکراس کا استحصال کیا جا رہاہے۔دہشت گردی کا نام دیکراس قوم کا بے دریغ قتل عام ہو رہا ہے۔ایسے حالات میں ایسی تنظیم کی بنیاد رکھی ہے جو اسلاف کرام کی عطا کردہ و زمین ہے جسے خانقاہی نظام سمجھتے ہیں ۔اس کو عام کرنے کے لئے حضرت اشرف ملت نے تمام خانقاہوں کو آواز دی ہے۔سچ ہے سب کچھ بدل سکتا ہے مگر فطرت نہیں بدلتی حضرت خواجہ غریب نواز اورتارک السلطنت غوث العالم سید مخدوم اشرف جہانگیرسمنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روش و طریقہ جس کے خون میں شامل ہوجو مبلغین اسلام کا جانشین ہواسے یہ درد نہ ہوگاتو پھر اس کرب کوکون محسوس کرے گا۔اس خاندان و خانوادہ سے یہی امید تھی۔اور تمام خانقاہی حضرات کے دل کی خواہش آنجناب کے بدست پوری ہوتے دیکھ رہا ہوں ۔جو اس خانوادہ کی سابقہ روایات پرمبنی ہے۔قابل صد مبارکباد اور لائق تحسین کوشش اور سعی بلیغ ہے۔خاندان جعفریہ مداریہ نے جس ملک میں بڑی محنت و مشقت برداشت کرکے شجر اسلام کا پودا لگایا اور ہندوستانی قوم کومسلمان بنایا اور دولت ایمان و اسلام عطا کی اور جس قوم کی بھر پور اصلاح اس کی نشر واشاعت میں اس خانوادۂ چشتیہ نے اہم رول ادا کیا ہے۔ہم تمام وابستگان سلسلۂ عالیہ مداریہ اس خانوادہ کے داعی بے باک حضرت اشرف ملت قبلہ کے ساتھ ہیں ۔اور لوگوں سے اپیل و گزارش کرتے ہیں کہ اس عظیم خانواد�ۂ چشت کی خدمات کو آگے بڑھائیں اور سب قدم سے قدم ملاکرسب کو امن آشتی ہم آہنگی اور اسلامی روشن خیالی اور اسلام کے پاکیزہ نظام کو عام کریں ۔اوراپنی آواز کوساری دنیا میں پہونچائیں ۔تاکہ ساری دنیا کی سمجھ میں آجائے کہ اسلام دین فطرت ہے۔اور اسلام کیا چاہتا ہے؟

COMMENTS

WORDPRESS: 0
DISQUS: 0