HomeStatementsPress Release

پیرس میں ہوا دہشت گرادانہ حملہ قابل مذمت : سید محمد اشرف

Press Release 14th Nov 2015 AIUMB Head Office اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے دہشت گردانہ حملوں اور حملہ آوروں کے شہہ دینے والوں کے خلاف مضبوط لائحہ عمل بنایا

नफरतें कभी जीत नहीं सकती – सय्यद सलमान चिश्ती
جمیعتہ علمائے ہند کی قلابازی قابل مذمت حنفی اور چشتی کہلانے کے پیچھے عوام اور حکام کو دھوکا دینے کی نیت
Syed Babar Ashraf removed from the post of General Secretary of AIUMB

Press Release
14th Nov 2015
AIUMB Head Office

اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے دہشت گردانہ حملوں اور حملہ آوروں کے شہہ دینے والوں کے خلاف مضبوط لائحہ عمل بنایا جائے 12045528_1164201050275883_5202335244369338822_o
پریس رلیز (نئی دہلی)14نومبر
فرانس کی راجدھانی پیرس میں آج مسلسل بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ یہ حرکت قابل مذمت ہے اور اسکے خلاف پوری دنیا کو متحد ہونا چاہئے ۔اگر چہ فرانس کے صدر نے بیان جاری کیا ہے کہ ان حملہ آروں کے خلاف نرمی کا رویہ نہیں اختیارکیا جائے گا۔امریکہ ،برتانیہ کے علاوہ اقوام متحدہ نے بھی سخت ناراضگی جتائی ہے ۔ بڑا سوال یہ ہے کہ کیا فقط ناراضگی کے اظہار بھر سے یہ حالات سنبھل جائیں گے ؟ آل انڈیا علما ء و مشایخ بورڈ کے صدر و بانی سید محمد اشر ف نے آج نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی ہم اس خطرناک مسئلے سے نمٹنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے دہشت گردانہ حملوں کے معاملے میں دو رخی رویہ چھوڑنا ہوگا ۔اگر یہ حملے یوروپین اور امریکن ممالک میں ہوتے ہیں تو وہ دہشت گرادانہ حملے ہیں اس کے علاوہ ممالک میں ان کو دوسرے نظرئے سے دیکھا جاتا ہے ۔حضرت مولانا نے کہا کہ دوسرے ممالک کے ساتھ ہمارے ملک کو بھی دہشت گردی کی ایک اصطلاح قائم کر لینی چاہئے ۔ اس کو کسی مذہب یا برادری سے نہ جوڑ کر محض دہشت گردی اور انتہا پسندی کی نظر سے ہی دیکھنا چاہئے ۔مولانا نے کہا کہ ملک کے حالا ت ایسے بنتے جا رہے ہیں جہاں اس طرح کے حادثوں کے امکانات قوی ہو جاتے ہیں۔ابھی کچھ دنوں قبل ہندوستان سے کچھ نوجوانوں کے دہشت گرد گروہ میں شامل ہونے کی خبریں بھی آئی ہیں ۔ اس کے علاوہ فرقہ وارانہ فسادات ایسے حادثات کے لئے مزید مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ابھی بھی وقت ہے ہمیں احتیاطی اقدامات اٹھا لینے ہونگے۔مولانا نے بڑی سنجیدگی سے اس بات کا واضح اشارہ دیا ہے کہ چونکہ یہ ملک کے امن اور اسکے وقار کا سوال ہے تو بلا تفریق مذہب ملت تمام مشتبہ اداروں پر نظر رکھنی چاہئے ۔ بورڈ کے صدر و بانی نے بیا ن کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے ایک ہی راستہ ہے جس وکالت آل انڈیا علماء و مشائخ بور ڈ پچھلی ایک دہائی سے،اخبار میں بیان دیکر ، بڑی بڑی کانفرنسیں منعقد کرکے اور عوامی جلسوں کے کے ذریعہ کر تا آ رہا ہے ۔ ابھی دو روز قبل ملک کے وزیر اعظم نے اپنے برطانیہ کے دورے میں انتہا پسندی کے خلا ف اسی روایت کو عام کرنے کی بات کہی ۔ صوفی روایت ہی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ختم کر سکتی ہے ۔ صوفی روایت چونکہ ہر مذہب اور برادری کو شامل ہے اورہر مذہب میں اس کی روایت موجود ہے ۔اسلئے انتہا پسند کسی مذہب یا ملک کے ساتھ خاص نہیں۔ اس سے پوری انسانیت پریشان ہے ۔ لہٰذا متحد ہو کر اس کے خلاف لائحہ عمل تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

 

COMMENTS

WORDPRESS: 0
DISQUS: 0