ملک کا بدلتا مزاج اور انسان کی بے بسی

مذہب کی حفاظت اور دھرم کی رکشا نے بغاوت، نفرت اور دعوی خدائی کا راستہ اختیار کر کے انسانی خون سے اپنی عبارتیں لکھ کر اس صدی کو مذہب و دھرم سے خالی سماج کا ایک شرم ناک اشارہ دیا ہے۔جمہور سماج کی خاموشی نے بے بس اور دم توڑتی انسانیت کو نا اہلی کے سیاسی تابوت میں کیل ٹھونکنے کا کام کیا ہے۔
عبد المعید ازہری

ہندوستان بدل رہا ہے ۔ بڑی تیزی سے تبدیلی اختیا ر کر رہا ہے ۔بیسویں صدی کی آخری دہائی جاتے جاتے آنے والے دنوں کا اشارہ دیتے ہوئے گئی ۔انسانی خون اور مذہبی تقدس کی پامالی سیاست کا موضوع بن گیا اور اس کے لئے مذہب کا متعصبانہ استعمال اس خونی سیاست کو طول دیتا چلا گیا ۔اکیسویں صدی کی کتاب کے دوسرے ہی صفحۃ پر ایک ایسی تحریر رقم ہوئی جو اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب پر ایک بد نما داغ بن گئی ۔پوری دنیا جس قومی یکجہتی کے لئے ملک ہندوستان پر رشک کرتی تھی اس سیاسی نااہلی اور فرقہ واریت نے اس تہذیب و روایت کو سامان تضحیک بنا دیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ صدی پورے سو سال کا خاکہ لیکر آئی ہے ۔ یکے بعد دیگرے ہونے والے حادثات ایک دوسرے سے ملے معلوم پڑتے ہیں۔ نہ صرف ملک ہندوستان میں ہونے والے فسادات بلکہ پوری دنیا میں جس طرح کا مذہب مخالف ماحول بناہوا ہے اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب سوچی سمجھی سازش کے تحت ہو رہا ہے ۔ ایک عام انسانی دماغ اس کی جڑوں تک پہنچنے سے قاصر نظر آ رہا ہے ۔ کچھ لوگ پہنچ کر یا تو اپنے آپ کو اس گیم پلان کا حصہ بنا لیتے ہیں یا پھر پہلو تہی سے کام لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
سیاسی اقتدار کی بھوک نے ایک انسان کو بھیڑیا بنا دیا ہے۔وہ دوسرے ابن آدم کو اپنی خوراک بنا رہا ہے ۔نا اہلو ں کی سیاست نے انسان کو مذہبی تشدد کے بعد برادرانہ نسل کشی پر آمادہ کر دیا ۔فرقہ وارانہ فساد اور دہشت گردانہ واقعات دونوں نے ہی بنی نوع انساں کو دو پاٹوں کے بیچ پیش کر رکھ دیا ۔ پوری ایک نسل اس جانی اور فکر ی اذیت دیکھتے اور برداشت کرتے گزر گئی ۔ایک عجیب سی بے بسی ، مایوسی اور خوف و ہراس کا احساس پیدا ہو گیا ہے ۔ ذہن و فکر مسلسل مفلوج ہوتے جا رہے ہیں۔۲۰۱۱ نے اس مذہب مخالف ہوا کو خاص مذہب کا راستہ بتا دیا اور پوری دنیا میں دہشت و وحشت کے لئے ایک ہی مذہب بدنام ہونے لگا ۔ آج کی صورت حال یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا سے لیکر الیکٹرانک میڈیا تک تحریر و تقریر سے لیکر فلموں تک مسلمان کی ایک ہی پہچان ہے ۔ داڑھی ٹوپی کے ساتھ بندوق کا نیا فیشن مارکٹ میں آیا ۔ راتوں راٹ ہٹ بھی ہو گیا ۔ مفت میں اس نشر عام بھی کیا گیا۔ آج کی صورت حال سے اندازہ لگا ئیں کہ اس کی مقبولیٹ کی شرح کیا ہوگی۔
ایسا نہیں کہ حقیقت لوگوں کو حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔زبان میں گویائی نہیں ۔ قلم میں روشنائی نہیں۔گجرات سے لیکر اکشر دھام تک ،آسام سے لیکر مظفر نگر تک ،ہاشم پورہ سے لیکر مالے گاؤں تک ، گودھرا سے لیکر تاج ہوٹل تک ،اعظم گڑھ سے لیکر دادری تک اور ہریانہ سے لیکر متھرا تک اور بجنور، راجستھان سے لے کر جھارکھنڈ، بنگال اور کشمیر تک ہونے والے حادثات میں اگر مرنے والوں کے جرم کا حساب کیا جائے تو شاید ہی کچھ لوگ ایسے نکلیں گے جو اپنے جرم کی پاداش میں ہلاک ہوئے ہوں۔سوال یہ ہے کہ ان بے قصوروں کے خون سے ہندوستان کی کون سی تاریخ لکھی جا رہی ہے ۔۱۸۵۷ سے لیکر ۱۹۴۷ تک کے عرصہ میں بھی ہندوستان کی سرزمین سرخ ہوئی ہے لیکن اس لال سیاہی نے ہندوستانی کی آزادی کی داستان لکھی ہے ۔ پانی سے بھی کم قیمت پر بہتے ہوئے خون سے آج کسانوں کی خودکشی اور غریبوں پر مہنگائی کی مار کے قصے لکھے جا رہے ہیں۔
کبھی رزرویشن کے نام پر ہزاراوں کروڑ کا نقصان اور عزت و عصمت کی پامالی مفت میں ہوتی ہے تو کبھی گؤ رکشا کے نام پر کسی کو ننگا کر کے انسانیت کی توہین کی جاتی ہے۔ کبھی افواہوں کی رسی سے پھانسی دے دی جاتی ہے ۔خوف و ہراس ، لاچاری و بے بسی رگوں میں خون کے ساتھ حرارت کی طر ح گھر کر گئی ہے۔کھبی آ ر ایس ایس ، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد اور نہ جانے کون کون سی تنظیمیں کھلے عام بندوق و بارود کا مظاہرہ کرتے ہیں کھبی داعش، طالبان، القاعدہ جیسی دہشت گرد تنطیمیں غیر انسانی مذہب مخالف اعمال و فکار کا مظاہرہ کر کے نہ صرف انسانیت کی توہین کرتے ہیں بلکہ مذہب کو بھی بدنام کرتے ہیں۔نہ یہ دھرم کے رکشک ہیں اور نہ ہی وہ مذہب کے ٹھیکیدار ہیں ۔سب اپنی اپنی ڈفلی اپنی اپنے مفاد کی تال ٹھونک رہے ہیں۔اپنی سیاسی نا اہلی کو چھپانے کیلئے مذہبی تعصب کی آگ میں سماجی چولہے پر اقتدار کی روٹی سینکی جا رہی ہے ۔
مذہب کے نام نہاد ٹھیکے دار اور دھرم کے ریاکار رکشک جس مذہب کی تعلیم آج دے رہے ہیں اس کا اصل مذہب اور اس کی گراں قدر انسان دوستی کی تعلیم سے دور کا بھی رشتہ نہیں۔جس سیاست کو آج وقت کی اہم ضرورت گرادانہ جا رہا ہے اس کی نہ تو کل حاجت تھی اور نہ ہی کل پڑنے والی ہے ۔دولت کی ہوس نے انسانی سماج پر ایسا کاری بم گرایا ہے کہ نسلیں گمراہ پیدا ہو رہی ہیں۔ انسانی سماج سے منسوب و متعلق ہر طبقہ راہ راست سے روگرداں نظر آ رہا ہے ۔ ایسے میں کھلی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہے ۔ بولتی زبان گونگی اور چلتے قدم اپاہج ہو جاتے ہیں۔ جب اس کی جڑوں تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو اس کے تار ایک دوسرے سے ایسے ملے ہوئے نظر آتے ہیں بس چکر آجائے ۔ ہر طبقہ کے آغاز و انتہاکا سرا ایک ہی محور پر آکر ٹک جاتا ہے ۔ ہم سوچ نہیں پاتے کہ یہ جائے ابتدا ہے یا مقام انتہا ہے ۔ پھر ایک معمہ سامنے آتا ہے کہ پہلے مرغی یا پہلے انڈا۔مذہب کی ٹھیکیداری پر روئیں یا دھرم کی رکشا پر آنسو بہائیں۔سب کچھ کھلی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ سب خاموش ہیں۔ شاید کسی مسیحاکا انتظار ہے یا پھر شکتی مان، اسپائیڈر مین اور حاتم تائی جیسے افسانوی کرداروں کا، معلوم نہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ کسی کو کچھ نظر نہیں آتا ۔ ذرا سی توجہ کے بعد مسئلہ سمجھ میں آجاتا ہے ۔ لیکن کوئی تدبیر نہیں سوجھتی ۔ہر پہلو پر غور و خوض کرنے کے بعد ذہن ایک ایسے جال میں پھنس جاتاہے، جہاں سے نکلنا ممکن نظر نہیں آتا ۔ذہن پر زیادہ زور دینے کے بعد آنکھے کھل جاتی ہیں۔ پھر دیر رات تک نیند نہیں آتی ۔کئی گھنٹے اس ملال میں گزر جاتے ہیں کہ ایسے خواب کیوںآتے ہیں۔ان سب چکروں میں پھنش کر زندگی خراب نہیں کرنی ہے ۔ لیکن انہیں خبر نہیں ہوتی ہیکہ یہ خواب انہیں آنے والے وقت سے آگاہ کر رہے ہیں۔ جس طرح گزرتی ہوئی نسل نے ان تمام چیزوں کو اپنی ذمہ داری نہ مانتے ہوئے برداشت کیا ۔ مظالم برداشت کرنا ہمارا حق ٹھہرا دیا ۔ذلت و بے بسی ہمار ا مقدر بنا دیا ۔ ایسے ہی ہم بھی اپنی آنے والی نسلوں کیلئے دلیلیں چھوڑ کر جانے والے ہیں۔دنیامیں ایک انسان ظلم کرنے کیلئے آیا ہے اور دوسرا اسے برداشت کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے ۔
کہیں سے تو شروع کرنا ہوگا۔ کسی ایک ہی کو مورد الزام ٹھہرا کر بھی کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ اور پوری دنیا کویکسر تبدیل بھی نہیں کیا جا سکتا۔لیکن انفرادی ذمہ داری تو نبھائی جا سکتی ہے۔جرم و ظلم کو بس ظلم و جرم ہی سمجھ کر ایک انسانی سماج پھر سے تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔*****
Abdul Moid Azhari (Amethi) Email: abdulmoid07@gmail.com, Contact: