جمیعتہ علمائے ہند کی قلابازی قابل مذمت حنفی اور چشتی کہلانے کے پیچھے عوام اور حکام کو دھوکا دینے کی نیت

[نئی دہلی 11 نومبر[ پریس ریلیز
whatsapp-image-2016-11-15-at-11-49-12-am
آل انڈیا علما و مشا خ بورڈ نے جمیعتہ علمائے ہند کی قلابازی پر ایک بار حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ اس تنظیم کے ایک صدی تک غیر مقلد ہونے اور صوفی روایتوں کو شرک و بدعت قرار دے کر صوفی روایتوں کی بے حرمتی کے بعد کس مجبوری نے اسے حنفی اور چشتی ہونے کا دعوی کرنے پر مجبور کیا۔
بورڈ ے صدر اور بانی سید محمد اشرف کچھوچھوی نے یہاں ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سوال کیا کہ جمیعتہ علمائے ہند کس سے دھوکا کر رہی ہے۔ اس عوام کے ساتھ جسے اپنی تحریروں، تقریروں، مقالوں اور کتابوں کے ذریعہ بھٹکاتے رہنے کے بعد اچانک قپنی فکر بدل کر مخمصہ میں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے یا حکام کو نوجوانوں میں شدت پسندانہ جذبات کیلئے وہابی/سلفی فکر کو ذمہ دار سمجھنیلگے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ بورڈ نے جب سے وہابیوں کو بے نقاب کیا ہے انہوں نے اپنا چولہ بدلنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ اب حنفی ار چشٹی ہونے کا ڈھونگ کر رہے ہیں جس کی حقیقت ہندوستانی مسلمانوں پر کھلی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجمیر اجلاس جمیعتہ علمائے ہند کی اپنی ابتک کی تاریخ کی نفی کی کوشش کی ہے۔ صوفی ازم سے اپنی وابستگی کا اعلان کرنے کے ساتھ جمیعتہ کو اپنے تمام سابقہ ’’ کارناموں ‘‘ سے تائب ہونا پڑے گا۔ راجستھان یونٹ کے سکریٹری اور جمیعتہ کے جنرل سکریٹری کا اچانک صوفی پریم کسی گہری چال کی شکل میں آیا ہے مگر ہمدوستانی مسلمان ان ہھکنڈوں سے بخوبی واقف ہے اور وہابیوں کے صوفی مکھوٹا سے گمراہ نہیں ہوگا۔