آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ صدر دفتر میں تذکرہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام

پانچویں خلیفہ راشدامن و صلح کے داعی اعظم: مولانا مقبول احمد سالک مصباحی

نئی دہلی۔۹۲/صفر(پریس ریلیز) آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ صدر دفتر میں ہر سال کی طرح اس سال بھی تذکرہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کیا گیا۔عوام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مقبول احمد سالک مصباحی نے کہا کہ حضرت مولیٰ علی ؓ کے بعد ان کے بڑے بیٹے حضرت امام حسن یعنی حضور کے بڑے نواسے خلیفہ بنا ئے گئے۔آپ کا سب سے بڑا کارنامہ صلح ہے، آپ نے ایک نہیں بلکہ دو بار صلح اختیار کی۔آپ کی صلح کو عالم اسلام اور انگریزی مورخ بھی مانتے ہیں اور تمام مسلمان آپ کو امن و صلح کے داعی اعظم تسلیم کرتے ہیں۔ مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ مسلمان وقت گزرنے کے ساتھ اس راستے کو بھولتے چلے گئے اور موقع پاتے ہی ایسے گروہ اور قبیلے اٹھتے رہے جنہوں نے اسلام کے نام پر حکومتوں پر قبضہ کرنے کا شوق پورا کیا اور اس شوق کی قیمت ہزاروں انسانوں کے قتل سے چکانی پڑی تھی۔ آج تک تمام مسلمان امام حسن کا نام بہت احترام سے لیتے ہیں مگر کہیں بھی یہ ذکر نہیں ہوتاہے کہ انہوں نے امن و صلح کو مضبوط کرنے کے لئے کتنی بڑی قربانی دی۔
محفل سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد عظیم اشرف صاحب نے کہا کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی وہ ذات ہے جن کا ادب و احترام تمام اصحاب رسول کرتے تھے، آپ کی وضاحت ہے جس پر خلافت راشدہ کی تکمیل ہوتی ہے، اسی طرح امامت کی بھی تکمیل ہوتی ہے۔محفل کاآغاز حافظ محمد حسین شیرانی نے تلاوت کلام پاک سے کی، حافظ محمد قمر الدین نے منقبت پیش کی۔ محفل کا اختتام فاتحہ،صلوٰۃ وسلام اور ملک میں امن وامان کی دعا کے ساتھ ہوا۔