آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کے صوبائی دفتر،لکھنؤ میں اہم میٹنگ منعقد

لکھنؤ۔5نومبر پریس رلیز

آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کے صوبائی دفتر لکھنؤ میں سید حماداشرف کچھوچھوی (جنرل سکریٹری یوپی) کی صدارت میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں میرٹھ،رائے بریلی،سلطانپور،امیٹھی،بریلی ،سدھارتھ نگر سمیت یوپی کے مختلف اضلاع کے ذمہ داروں نے شرکت کی۔میٹنگ کاآغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔جمال اشرف اورتوفیق رضانے نعت ومنقبت کے نذرانے پیش کئے۔
میٹنگ کوخطاب کرتے ہوئے ہوئے مولانا اشتیاق احمدنے کہاکہ صوفیائے کرام نے ہمیشہ بلاتفریق مذہب وملت خدمت خلق اورآپسی بھائی چارہ کا درس دیاہے۔صوفیائے کرام کی انہی تعلیمات کوعام کرنا اورسنی صوفی مسلمانوں میں حب وطن اورآپسی بھائی چارہ کے جذبے کوبیدارکرنااوران کے حقوق کی حصولیابی کے لئے جدوجہد کرنا ہی بورڈ کانصب العین رہاہے۔
مولانا قیصر رضاعلوی نے دور حاضر کے اہم مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے ہمیشہ ملک اور سماج کے ترقی کی بات کر کے وطن سے محبت کی انوکھی مثال قائم کی ہے۔آج جبکہ قوم مسلم غیر ضروری مسائل میں الجھ کر اپنی ترقی پر توجہ مرکوز نہیں کر پارہی ہے ایسی حالت میں ضروری تھا کہ بورڈ صوفیائے کرام کی تعلیمات کے مطابق ان کی اصلاح کے لئے لائحہ عمل طے کرے اور معاشرے میں اخلاقی اور تعلیمی بیداری کی مہم بھی شروع کر ے۔
مولانامقبول احمدسالک مصباحی نے کہا کہ بورڈ کے بانی وصدر نے یہ عندیہ ظاہر کیا ہے کہ بورڈقوم مسلم کے موجودہ مسائل پرایک عظیم الشان سیمینار منعقدکریگا جس میں ملک بھر سے سجادگان،علماء کرام و دانشوران اپنے مقالات پیش کریں گے اور اظہار خیال کریں گے، جوکہ لائق تحسین ہے۔انہوں نے لوگوں سے بورڈ کے ساتھ کھڑے ہونے کی تلقین کی جس سے اہل سنت و جماعت کو تقویت مل سکے۔مولانا کی اس بات سے شرکاء نے اتفاق کیا اوراپنے پورے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
حافظ مبین احمدنے بورڈ کومضبوط کرنے کے لئے یوپی کے تقریباًسبھی اضلاع میں یونٹوں کے قیام اورممبرسازی پرزوردیا ۔
میٹنگ کوحضرت سید احمدشطاری،مولانا انواراحمدشیری،حافظ مبین احمد نے بھی خطاب کیا۔میٹنگ کے آخر میں آل رسول احمدآفس انچارج لکھنؤ نے شرکاء کاشکریہ اداکیا۔
میٹنگ کااختتام صلوٰۃ وسلام اور قاری محمداحمدبقائی صاحب کی ملک وملت کی خوشحالی کی دعاپرہوا۔میٹنگ میں مولان منعم رضا،اما م گل حسن،سید احسان علی،اعجاز خان،رمضان علی،اسعداشرفی،نگارعالم،محمدشبیرخان،متین احمد،محمداحسان اللہ کے علاوہ کثیرتعداد میں لوگ موجودرہے۔