آثارمٹانے والے عناصر آثار کی حفاظت کرنے والوں سے خوف زدہ ہیں مکہ معظمہ پر حملہ کے بعد سیاسی بیان بازی پر علماو مشائخ بورڈ کے صدر کا ردعمل

9 November 2016
آثارمٹانے والے عناصر آثار کی حفاظت کرنے والوں سے خوف زدہ ہیں۔ملہ معظمہ پر حملہ جس کسی نے بھی کیا ہو وہ مسلمان نہیں ۔ یہ انتہائی قابل مذمت حرکت تھی ۔ لیکن اس حملہ کی آڑ میں مسلکی اختلاف اٹھانے کی کوشش کے پیچھے صرف یہ خوف ہے کہ وسیلہ ، شفاعت ، تعظیم، یا توسل،استغاثہ اور زیارت پر عمل کرنے والے لوگ پوری دنیا میں ایک نہ ہو سکیں۔ان خیالات کا اظہار کل رات تریپورہ کے اگرتلہ سے دہلی واپسی کے بعد میڈیا کارکنوں سے بات کرتے ہوئے یہاں آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ کے صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہی۔
ان سے مکہ مکرمہ پر حالیہ حملہ ،یمن کی ایک تنظیم پر حکومت سعودی عرب کے الزام اور اسی طرح کے سوالات پوچھے گئے جن کے جواب میں سنی صوفی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ کے صدر اور بانی نے کہا کہ ایک انتہا پسند فکر نے پورے عالم اسلام میں اپنی برتری کی خاطر سماجی و سیاسی تحریک سے لے کر تشدد اور دہشت تک تمام ہتھکنڈوں کا استعمال کرنے کا طریقہ اپنا رکھا ہے اور تشدد و تباہی کی ہر واردات کے پیچھے ہاتھ اسی فکر کا ہے جس کی سرپرست سعودی عرب کی حکومت ہے۔انہوں نے شیعہ سنی اختلافات کو بڑھاوا دینے کی حالیہ وارداتوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ شیعہ سنی اختلاف کی بات ہی بے بنیاد ہے۔شیعوں کے ساتھ اختلاف سنیوں کا نہیں، وہابیوں کا ہے۔ شیعہ عید میلاد النبی میں جلوس محمدی نکالتے ہیں اور سنی عزا داری میں شریک ہیں۔یہاں مشترک چیز وسیلہ ہے لیکن وہابیوں کو حنفی اور جعفری ققہ کے ماننے والوں سے جوڑنے والی یہی مشترکہ کڑی غائب ہے۔۔ آثار کو قائم رکھنے اور اسلامی تہذیبی نشانیوں کو برقرار رکھنے کی مشترکہ خواہش سنیوں اور شیعوں دونوں میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہابیوں اور سلفیوں نے سارے اسلامی ممالک میں مستحکم معیشتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی ۔ وہ دیگر ممالک کے علاوہ تیونس میں، لیبیا میں، شام میں، عراق میں ، مالے میں اور اب یمن میں بھی کامیاب ہوئے ۔ صرف ایک ملک مصر ایسا ہے جس کے عوام نے تانا شاہی کے خلاف جدوجہد کے ذریعہ اخوان المسلمین کو اقتدار تک آ نے دیا مگر جیسے ہی اخوان کا سلفی ایجنڈا سامنے آیا عوامی ردعمل شروع کر دیا گیا۔ تحریر اسکوائر پر حسنی مبارک کا تختہ الٹنے کیلئے جتنی بڑی بھیڑ آئی تھی اور محمد مرسی کی حکومت سازی کا سبب بنی تھی اس سے دو گنی بھیڑ مرسی کے خلاف اسی مقام پر آئی اور اس نے لفیت کی نفی کا اعلان کرتے ہوئے مرسی کی کرسی چھین لی۔مصر نے پوری دنیا کو راہ دکھائی کہ اسے اپنا صوفی کردار سماجی تبدیلی اور سیاسی انقلاب کی قر بان پر بھینٹ نہیں چڑھانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ اس وقت اگر دنا کے مسلمانوں کے سامنے اسلامیں کی قیادت کیلئے سعودی عرب اور ایران میں سے کسی ایک کو چننے کا مرحلہ آیا تو 90 فیصد مسلمان ایران کی قیادت کا ساتھ دیں گے کیونکہ آثار کی حفاظت کرنے والے آثار مٹانے والوں سے تعداد میں اتنے ہی زیادہ ہے۔
انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان میں وہابی لابی کو اپنے بے نقاب ہونے کا اندازہ ہ گیا ہے اس لئے وہ لوگ اپنہ سو سال پرانی شناخت ترک کر کے حنفی اور چشتی پہچان کے حوالہ سے سامنے آ رہے ہیں۔ جن صوفیا کے مزارات پر حاضری کو شرک بدعت کہا جا رہا تھام کتابیؓ لکھی جا رہی تھیں، تحریکات چل رہی تھیں ان صوفیا سے منسوب ہو کر عوام اور حکام دونوں کو دھوکہ دینے کی یہ نئی کوشش بھی پہلے سے بے نقاب ہے۔ ہندوستانی مسلمان بخو ی جانتا اور سمجھتا ہے کہ کن حالات سے مجبور ہو کر ان لوگوں نے اجمیر شریف کا رخ کیا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں مولانا نے بھوپال جیل بریک اور انکاؤنٹر کی مذمت کی اور کہا کہ یہ انکاؤنٹر سپریم کورٹ کی نگرانی میں انکوائری کا جائز تقاضا کرتا ہے۔ ایسے واقعات کا تھم جانا لازمی ہے اور اگر ان پ سوالیہ نشان قائم ہو تو حکومت کو اس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے عداتی انکوائری کا ممطالبہ مان لینا چاہئے۔