مختار اشرف لائبریری بلاتفریق مسلک ومذہب ملک کی چند نامور لائبریریوں میں سے ایک ا ہے: سید محمد اشرف کچھوچھوی

مولانا سید اظہار اشرف کچھوچھوی کے تعلیمی نظریات پر یونیورسٹی سطح پرریسرچ کی ضروورت ہے۔
مولانا مقبول ا حمد سالک مصباحی
سلسلہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف کی عالمی شہرت کی حامل علمی وروحانی شخصیت مولانا مفتی سید شاہ محمد اظہار اشرف اشرفی جیلانی محدث کچھوچھوی رحمتہ اللہ علیہ کی حیات وخدمات پر آپ کے سالانہ عرس کے موقع پر آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ کے لائک پیج پر لائیو سمپوزیم کا انعقاد،جس میں متعدد اہم اسکالر س،علما ومشائخ اور خاص کر حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی صدر آل انڈ یا علما ومشائخ بورڈشریک ہوئے جس سے پروگرام کی اہمیت بڑھ گئی۔پروگرام کے میزبان معروف صحافی اور میڈیااسپیشلسٹ محترم مختار اشرف نے اپنی نپی تلی اور پرفیکٹ میزبانی سے سمپوزیم کو چار چاند لگا دیا۔موص…
مختار اشرف لائبریری بلاتفریق مسلک ومذہب ملک کی چند نامور لائبریریوں میں سے ایک ا ہے۔
سید محمد اشرف کچھوچھوی
مولانا سید اظہار اشرف کچھوچھوی کے تعلیمی نظریات پر یونیورسٹی سطح پرریسرچ کی ضروورت ہے۔
مولانا مقبول ا حمد سالک مصباحی
سلسلہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف کی عالمی شہرت کی حامل علمی وروحانی شخصیت مولانا مفتی سید شاہ محمد اظہار اشرف اشرفی جیلانی محدث کچھوچھوی رحمتہ اللہ علیہ کی حیات وخدمات پر آپ کے سالانہ عرس کے موقع پر آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ کے لائک پیج پر لائیو سمپوزیم کا انعقاد،جس میں متعدد اہم اسکالر س،علما ومشائخ اور خاص کر حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی صدر آل انڈ یا علما ومشائخ بورڈشریک ہوئے جس سے پروگرام کی اہمیت بڑھ گئی۔پروگرام کے میزبان معروف صحافی اور میڈیااسپیشلسٹ محترم مختار اشرف نے اپنی نپی تلی اور پرفیکٹ میزبانی سے سمپوزیم کو چار چاند لگا دیا۔موصوف شیخ اعظم کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر سوالات کیے،مقررین اور شرکائے سیمپوزیم نے اس کے جامع جوابات دیے۔
حضرت مولانا رضی احمد مصباحی،ارریہ،بہار نے خاندانی پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مخدوم العلما حضرت علامہ ومولانا مفتی سید شاہ محمد اظہار اشرف اشرفی جیلانی محدث کچھوچھوی رحمتہ اللہ کا تعلق خاندان رسالت سے تھا جس کو حضور اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کے تحفظ وبقا کی اہم ذمہ د اری سونپی ہے،سرکار کی بارگاہ ناز سے لے کر کچھوچھہ شریف تک حضرتحاجی عبد الرزاق نورالعین کی وساطت سے ایک تسلسل قائم ہے۔کچھوچھہ میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ فیضان رسالت پناہی ہے۔
مفتی شاہنوا زاشرفی جامعی،خطیب وامام جامع مسجد،درگ،چھتیس گڑھ نے کہا کہ مخدوم العلما حضرت علامہ ومولانا مفتی سید شاہ محمد اظہار اشرف اشرفی جیلانی محدث کچھوچھوی رحمتہ اللہ نے شیخ اعظم کی فن حدیث پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ ہر سال آپ ختم بخاری شریف کرایاکرتے تھے۔اور جب بھی مسند حیث پر بیٹھتے تو ایک خاص قسم کا نور آپ کے چہرے پر جلوہ گر ہوتاتھا،جو عام دنوں میں نظر نہیں آتاتھا۔اور ختم بخاری شریف میں آپ کی ہونے والی تقریر کی خصوصیت یہ تھی کہ ہر سال نیا مضمون بیان ہوتا۔کبھی مکرر نہ ہوتا۔اور دوسرے اتنے عام فہم انداز میں بیان کرتے کہ کم پڑھا لکھا اور اناڑی کسان بھی سمجھ جاتا تھا۔طلبہ پر شفقت کا انداز تو بہت ہی نرالا تھا۔نادار طلبہ کی کفالت بھی کرتے۔جب بھی سفر سے آتے طلبہ کو نذرانے پیش کرتے،موسمی پھل کھلاتے۔سہ منی اتنا بنواتے کہ سارے طلبہ شکم شیر ہو کر کھالیتے۔اساتذہ کی ضروریات پر بھی کڑی نظر رہتی۔
معروف سنی صوفی اسکالر حضرت مولانامقبول احمد سالک مصباحی،بانی ومہتمم جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی،نئی دہلی نے خانوادہ اشرفیہ کے تاریخی تسلسل پر کلام کرتے ہوئے کہا کہ خانوادہ اشرفیہ کی نسبت سلطان التارکین،القدوۃ الکبری، اوحدالدین میر کبیر حضرت سید محمد مخدوم اشرف نور بخشی سمنانی،سامانی کے نام پاک کی جانب ہے مگر اس کی رگوں میں حاجی الحرمین حضرت حاجی عبد الرزاق نور العین کا دوڑ رہاہے۔جن کے بارے میں حضرت مخدوم پاک نے فرمایا تھا کہ لوگ اپنی اولاد اپنی پست سے پید اکرتے ہیں،میں عبدالرزاق کو اپنی آنکھوں سے پید اکیاہے۔
سالک دہلوی نے خصوصیت کے ساتھ شیخ اعظم کی تعمیری،تعلیمی اورتربیتی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں شیخ اعظم سرسید ثانی تھے،بس فرق یہ ہے کہ سر سید جد ید تعلیم کے میدان میں جانے گئے اور شیخ اعظم علوم دینیہ کے حوالے سے پہچا نے گئے۔شیخ اعظم کا تعلیمی نظریہ اتنا جدید اور تعمیری ہے کہ اس پر باضابطہ تحقیق کی ضرورت ہے،اور اسے ایک منہج عمل کی شکل میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔اور جہاں تک آپ کی ذاتی قابلیت کی بات ہے تو آپ ایک عظیم محدث،عظیم فقیہ ومفتی،اور نثر نگا ر وشاعر تھے۔آپ کی عظیم علمی یادگار منظوم مثنوی مولانا روم علیہ الرحمہ ہے۔اور یہ غالبا اردو زبان میں اکلوتی کاوش ہے۔آپ کی شاعری انتہائی موثر اور سلیس ہے،لفظ لفظ سے عشق رسالت پھوٹتا ہے۔آپ کی شاعری اور منظوم ترجمہ پرباضابطہ پی ایچ ڈی کی جاسکتی ہے۔مولانا مصباحی نے مجدد تعلیمات اشرفیہ حضور اشرف ملت سے کہا کہ یہ کام اب شروع ہوجاناچاہیے۔
سید معاذ اشرف اشرفی جیلانی،کچھوچھہ شریف بارگاہ شیخ اعظم میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شیخ اعظم نے ہماری رہ نمائی کے لیے اپنے فرزندوں کیاایسی تربیت فرمائی ہے کہ ان کی شکل میں ہمیں اپنا مربی اورسر پرست دکھائی دیتا ہے۔حضرت قائد ملت معلمین ومدرسین کے لیے اور اشرف ملت علما ومشائخ اور نوجوانوں کے لیے ایک سایہ دار درخت کی طرح ہیں۔سلسلہ اشرفیہ ان حضرات کی موجودگی میں کسی مسئلے کا شکار نہیں ہوسکتی۔
آخر میں مجدد تعلیمات اشرفیہ حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی صدر آل انڈ یا علما ومشائخ بورڈ نے اپنے افکار وخیالات سے آگاہ فرمایا،اور پنے مشاہدات وتجربات کی روشنی میں حضور والد گرامی شیخ اعظم قدس سرہ کی حیات وخدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ مختار اشرف لائبریری اس وقت قائم کی جب آپ عمر کی آخری منزل میں پہونچ چکے تھے۔آپ کو یہ اندیشہ کھائے جاتا تھا کہ اگر ہمارے پاس ایک مرکزی لائبریری نہیں رہی تواسلام دشمن طاقتوں نے اسلاف کی کتا بوں خصوصا علم حدیث میں اگر تحریف کر دیا ہمیں یاان میں تبدیلی کردی تو پھر ہم ان کا کسیے مقابلہ کریں گے۔لائبریری کے بارے میں شیخ اعظم کا ایک بڑالارج کنسیپٹ تھا،آپ نے لائبریری کے قیام کے وقت ذہین علما کودارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلما،اورعلی گڑھ یونیورسٹی میں بھیجاتاکہ ان کا طریقہ کار معلوم کریں،اور ان کے بالمقابل لائبریری تعمیر کی جاسکے۔لائبریری سے متصل ایک کمپیوٹر روم بھی بنا یا گیا،تحقیق کے مقصد سے آنے والے اسکالرس اور محققین کے لیے لائبریری سے متصل رہائشی کمرے تعمیر کروائے۔تبرکات اوراسلامی آثار کو محفوظ کرنے کے لیے میوزیم بنوایا،پوری دنیا سے جدید ترین کتا بوں کا کلیکشن جمع کر کے لائبریری کو عالمی معیار کا بنادیا۔مختار اشرف لائبریری کی تعمیر شیخ اعظم کا عظیم علمی کارنامہ ہے۔جسے بلاشبہہبلاتفریق مسلک ومذہب ملک کی چند نامور لائبریریوں میں گنا جاسکتا ہے۔
حضرت اشرف ملت نے کہاکہ حضرت کی شاعری فی البدیہ اور انتہائی زبردست ہوا کرتی تھی۔مثنوی مولانا روم کا منظوم ترجمہ آپ کا عا لمی معیار کا اردو ادبی کارنامہ ہے۔اور یہ کئی جلدوں میں ہے۔عمرکے آخری حصے میں جب آنکھوں کی بینائی متاثر ہوگئی، منظوم ترجمے کو اساتذہ سے املا کروایا کرتے تھے۔آ پ کی شاعری کامجموعہ بھی تین جلدوں میں شایع ہوچکا ہے۔حضرت اشرف ملت نے خصوصیت کے ساتھ سرکار غریب نواز سے اور غوث اعظم سے آپ کی بے پناہ عقیدت کا چرچا کیا۔اور کہا کہ اگر جامع اشرف کابجٹ بارگاہ غوثیت مآب سے منظور ہوا مگر اس کا بجٹ ریلیز کروانے کے لیے باضابطہ اجمیر جایا کرتے تھے۔اور اجمیر سے واپس آکر عرس سرکارکلاں میں اس کی تفصیلات بیان کرتے۔
عصری علوم کے لیے بھی آپ کے ذہن میں بڑی تڑپ تھی،انشاء اللہ اس کا کام الااشرف ٹرسٹ کے ذریعے یہ کام ہوگا۔حضرت نے جو کچھ کیاخالصتا لوجہ اللہ کیا۔چاپلوس ان کے قریب بھی نہیں جاسکتا تھا۔صرف نعرے لگانے والے اور میٹھی میٹھی بات کرنے والوں کا وہاں گزر ہی نہیں تھا۔پورا جاعم اشرف تعمیر کرڈٖالا مگر کیمپسں میں کوئی بورڈ ہی نظر نہیں آتا تھا۔کام کا نظر یہ تھا کہ کام شروع کرنے سے پہلے یقین پدیا کرو،ارادہ کروا تو اس کا آغاز کردو،کوشش جاری رکھو،آخری سانس تک محنت ہونی چاہیے۔پروگرام تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔
رپورٹ: ڈاکٹر سراج احمد مصباحی،
ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ،جامعہ نگر،اوکھلا،نئی دہلی

पैगंबर की शान में किसी भी तरह की गुस्ताखी नाकाबिले बर्दाश्त : सय्यद मोहम्मद अशरफ

29 अक्टूबर, नई दिल्ली
आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड के राष्ट्रीय अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफ़ी फोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने फ्रांस में पैग़म्बरे अमन व शांति हज़रत मुहम्मद मुस्तफा सल्लाल्लाहु अलैहि वसल्लम की शान में की गई गुस्ताखी पर सख्त गुस्से का इजहार करते हुए कहा कि फ्रीडम ऑफ स्पीच,और फ्रीडम ऑफ एक्सप्रेशन के नाम पर यह को गुस्ताखी की जा रही है मुसलमान इसे बर्दाश्त नहीं कर सकते इसके लिए फ्रांस के राष्ट्रपति को माफी मांगनी चाहिए ,और जब तक ऐसा नहीं होता हमें खुलकर और पूरी ताकत से इनका बहिष्कार करना चहिए।
हज़रत ने कहा कि भारत सरकार से मांग करते हैं कि वह भारतीय मुसलमानों की भावनाओ का सम्मान करते हुए फ्रांस पर दबाव बनाये कि वह अपने देश में हो रही इस तरह की गुस्ताखी पर रोक लगाए ,उन्होंने बताया कि बोर्ड ने संयुक्त राष्ट्र मानवाधिकार आयोग को भी इस आशय का पत्र लिखा है कि संयुक्त राष्ट्र ह्यूमन राइट्स चार्टर का सभी को सम्मान करना चाहिए और इसके अनुच्छेद 42 का पालन होना चहिए अतः इसका पालन करते हुए फ्रांस को विश्व समुदाय से माफी मांगनी चाहिए ,साथ ही यह भी मांग की गई है कि ईशनिंदा कानून को पास कर इसका सख्ती से पालन किया जाय ताकि किसी भी तरह की गंदी सोच को पनपने से रोका जा सके।
उन्होंने मुसलमानों सहित सभी अमन पसंद लोगों से अपील की कि शांति व्यवस्था को बनाए रखते हुए फ्रांस का कड़ा विरोध किया जाए और जबतक माफी नहीं आती इनके सामान का बहिष्कार करें।
हज़रत ने सभी को ईदमिलाुन्नबी साल्लल्लाहू अलैहि वसल्लम की मुबारकबाद देते हुए कहा कि इस बार इस जश्न को ऐसे मनाया जाए कि हम सब मिलकर नबी की सुन्नत पर अमल करते हुए अच्छे अखलाक वाले बने और अपने नबी का चर्चा अपने अमल से करें।

खानकाहों से मोहब्बत का संदेश जारी होता है नफरत की हिमायत नहीं: सय्यद मोहम्मदअशरफ

25 अक्टूबर,दिल्ली
आल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड के अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफ़ी फोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने दरगाह ख्वाजा मोइनुद्दीन चिश्ती रहमतुल्लाह अलैहि के खादिम सरवर चिश्ती के पापुलर फ्रंट ऑफ इंडिया की हिमायत करने पर सख्त गुस्से का इजहार करते हुए कहा कि दरगाहे प्रेम और भाईचारे का संदेश देने की जगह है न कि किसी संदिग्ध और कट्टरपंथी सोच वाले संगठन की हिमायत करने की।
उन्होंने साफ शब्दों में कहा कि यह उनकी ज़ाती सोच है इसका आम मुसलमानों की राय से कोई ताल्लुक नहीं है,इसे पूरी तरह खारिज किया जाना चाहिए क्योंकि अगर इस तरह के संदेश दरगाह के प्लेटफॉर्म से कोई शकस देता है इससे समाज में गलत संदेश जाता है इसे सख्ती के साथ रोका जाना चाहिए, पॉपुलर फ्रंट ऑफ इंडिया की गतिविधियां संदिग्ध पाई गई है और जांच चल रही है उसकी विचारधारा सबको पता है कट्टरपंथी विचारों से देश का सौहार्द्य बिगड़ता है जिससे देश का नुकसान है हमें ऐसे विचारों को किसी भी कीमत पर प्रोत्साहन नहीं देना है ,और इन्हें बढ़ने से रोकना है क्योंकि देश के युवाओं को भ्रमित नहीं होने देना है।
हज़रत ने सरवर चिश्ती के बयान पर कहा कि यह नासमझी में दिया गया बयान है उन्हें सोचना चाहिए कि वह जहां बैठ कर यह बात कर रहे हैं उस बारगाह का संदेश क्या है ?अजमेर भारतीय मुसलमानों का मरकज़ है वहां बैठ कर ऐसी फिजूल बात करना गुमराह करने जैसा है।

نفرت پھیلانے والوں سے سختی سے نمٹے سرکار: سید محمد اشرف

اکتوبر18. 2020 ، نئی دہلی، (پریس ریلیز) آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے قومی صدر اورورلڈ صوفی فورم کے چیئرمین حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے ملک میں بڑھتی نفرت اور اس کام میں مصروف ایسی تنظیموں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن کو برقرار رکھنے کے لئے حکومت کو نفرت کے تاجروں کے ساتھ سختی سے نمٹنا ہوگا۔
انہوں نے آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کے قومی کنوینر حضرت عبد الخادر قادری وحید پاشا کو فون کے ذریعے سے انجام بھگتنے و جان سے مارنے کی دھمکی پی ایف آئی / ایس ڈی پی آئی کا ممبر بتانے والے فاضل کی طرف سے دیئے جانے پر غصے کا اظہار کیا ہے۔ اعتماد اخبار میں شائع ہونے والے مضمون جس میں SDPI / PFI کے ذریعہ عوام کو آگاہ کیا گیا تھا اور ان کی سچائی کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو ایسی تنظیم سے دوررہنے کے لئے کہا گیا تھا، جس سے ہندوستان کے امن نظام کی دیکھ بھال میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ پی ایف آئی / ایس ڈی پی آئی ایک ایسی تنظیم ہے جو ایک بنیاد پرست سلفی آئیڈیالوجی سے متاثر ہے جس کا نظریہ دہشت گردی کو فروغ دیتاہے اور آئی ایس آئی ایس جیسی تنظیم سے مماثلت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعہ ہندوستان کی سینکڑوں سال پرانی صوفی روایت پر حملہ کیا جا رہا ہے جس میں محبت ہی محبت ہے۔
اس مضمون پر جس شخص نے خود کو PFI / SDPI کا ممبر قرار دیا ہے اس کی طرف سے جس طرح کا ردعمل دیا گیا ہے وہ اس تنظیم کی ہولناکی کو سمجھانے کے لئے کافی ہے، آخرکس طرح کی تعلیم حاصل کی جا رہی ہے جس سے انسان حیوان بنا جا رہا ہے، احتجاج کا پرتشدد طریقہ فکر کی غلاظت کو بے نقاب کرتا ہے۔حضرت نے کہا کہ جو بھی شخص نفرت پھیلاتا ہے اور کسی مذہب سے اپنے آپ کو جوڑتا ہے اسے کسی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کیا جانا چاہئے، کیونکہ ماب لنچنگ جیسے سنگین جرم ہو یا پھر دہشت گرد کی بزدلانہ حرکت یہ سب ملک کی داخلی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔انہوں نے واضح طور پر نفرت انگیز تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ حضرت نے کہا کہ ملک کی ترقی امن کے بغیر ممکن نہیں اور ایسے بزدلانہ لوگ ملک کے دشمن ہیں جو نفرت کا کاروبار پھیلائے ہوئے ہیں۔

नफरत फैलाने वालों से सख्ती से निपटे सरकार: सय्यद मोहम्मद अशरफ

18 अक्टूबर 2020, नई दिल्ली,प्रेस रिलीज
आल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड के राष्ट्रीय अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफ़ी फोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने देश में बढ़ती नफरत और इस काम में लगी ऐसी संस्थाओं की कड़ी निन्दा करते हुए कहा कि देश में अमन कायम रहे इसके लिए सरकार को नफरत के कारोबारियों से सख्ती से निपटना होगा।
उन्होंने आल इंडिया सूफ़ी सज्जादा नशीन काउंसिल के राष्ट्रीय संयोजक हज़रत अब्दुल खादेर कादरी वहीद पाशा को फोन के माध्यम से अंजाम भुगतने व जान से मारने की धमकी पीएफआई/ एसडीपीआई का सदस्य बताने वाले व्यक्ति फाजिल के द्वारा दिए जाने पर रोष व्यक्त किया है,उर्दू अख़बार एत्माद में प्रकाशित लेख ,’जिसमें एसडीपीआई /पीएफआई के माध्यम से जनता को सचेत किया गया था एवम उनकी सत्यता बयान करते हुए जनता से ऐसे संगठन से दूरी बनाने की बात कही गई थी, जिससे भारत की शांति व्यवस्था बनाए रखने में व्यवधान पैदा होता है।लेख में कहा गया है कि पीएफआई/एसडीपीआई एक कट्टरपंथी सल्फी विचारधारा से प्रेरित संगठन है, जिसकी विचारधारा आतंकवाद को बढ़ावा देती है ,और आईं एस एआई एस जैसे संगठन से मेल खाती है ,इसके द्वारा भारत की सैकड़ों वर्ष पुरानी सूफ़ी परंपरा पर हमला किया जा रहा है जिसमें प्रेम ही प्रेम है ।
इस लेख पर पीएफआई / एसडीपीआई का खुद को सदस्य बताने वाले व्यक्ति द्वारा जिस तरह की प्रतिक्रिया दी गई है वह इस संगठन की भयावयता को बताने के लिए काफी है,आखिर किस तरह की सीख दी जा रही है जिससे इंसान हैवान बना जा रहा है, विरोध का हिंसक तरीका विचार की गन्दगी को सामने रखता है,।
हज़रत ने कहा कि नफरत फैलाने वाला कोई भी हो और खुद को किसी भी धर्म से जोड़ता हो उसे सभ्य समाज में बर्दाश्त नहीं किया जाना चाहिए,क्योंकि मोब्लिंचिंग जैसे घिनौने अपराध हो या फिर आतंकवाद की कायराना घटना यह सब देश की आंतरिक सुरक्षा के लिए खतरा हैं ।
उन्होंने साफ तौर से हर प्रकार की नफरत फैलाने वाली घिनौनी सोच रखने वाले संगठनों पर सख्ती के साथ कार्यवाही करने की मांग की हज़रत ने कहा कि देश की तरक्की शांति के बिना संभव नहीं है और ऐसे कायर लोग देश के दुश्मन हैं जो नफरत का कारोबार फैलाए हुए है।

अदालतों का काम इंसाफ देना नाइंसाफी ज़ुल्म है: सय्यद मोहम्मद अशरफ

2 अक्टूबर ,नई दिल्ली आल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड के अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफ़ी फोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने बाबरी मस्जिद विध्वंस मामले में लखनऊ के सी बी आई कोर्ट के आये फैसले पर दो टूक कहा कि इंसाफ और फैसले में फर्क है इसे समझा जाना चाहिये अगर इंसाफ नहीं होता तो यह ज़ुल्म है जिससे बेयकीनी जन्म लेती है । हज़रत ने मुसलमानों से अपनी बात दोहराई और अपील करते हुए कहा कि सोशल मीडिया पर इस फैसले पर बहस न करें इससे बचें।
उन्होंने कहा कि मुसलमानों को सुलह हुदैबिया को समझना होगा कि पैग़म्बरे अमन ने किस खूबसूरती से इसे अंजाम दिया और जिसका नतीजा फतह हुई जो लोग इसके बारे में नहीं जानते उन्हें चाहिए कि उलमा से इसे सुने समझें और जाने हमारे लिए हर मुसीबत का हल पैगम्बरे अमन की प्यारी सीरत में मौजूद है हमें उसे पढ़ना होगा और उसपर अमल करना होगा यही हमारे लिए निजात का जरिया है हमें यकीन रखना चाहिये कि ज़ुल्म बहुत देर तक कायम नहीं रहता ।
अदालत जो मजलूम को इंसाफ देने के लिए बनी है अगर ऐसे फैसले करेगी तो ज़ालिम की हिमायत होगी जिससे समाज में असंतुलन पैदा होगा और अपराधी बेखौफ हो जायेंगे जिससे शरीफ शहरियों की ज़िन्दगी दुश्वार होगी और मुल्क में अफरा तफरी का माहौल बनेगा यह सोचने का वक्त है कि हम कैसा देश बना रहे हैं जहां अदालत सबूतों के मौजूद होने के बाद भी इस तरह के फैसले दे रही है और पूरे अदालती निज़ाम को कटघरे में खड़ा कर रही है।
हज़रत ने ख़ास तौर से मुस्लिम युवाओं से कहा कि यह सब्र और होशियारी का वक़्त है हमें किसी भी कीमत पर नफरत के कारोबारियों की चाल को कामयाब करने में मदद नहीं करनी है और अगर आप सोशल मीडिया के जरिए इस फैसले पर बात करते हैं तो हम उनके मददगार अनजाने में बन जाते हैं हमें खबर भी नहीं होती कि हम क्या कर रहे हैं और अपनी नासमझी के चलते हम जाल में फांस जाते हैं।
अभी मुल्क में जिस तरह कोरोना का कहर टूटा हुआ है,किसान सड़कों पर हैं नवजवान बेरोजगार हैं ऐसे में हमें इस फिजूल बहस से बचने की जरूरत है और अपने मुल्क की फिज़ा को बेहतर बनाने की कोशिश में जुटे रहना है।अदालतों को अपना काम करना है और हैं सबको अपना ,हमारा काम है मोहब्बत सबके लिए नफरत किसी से नहीं अगर हम अपना काम ईमानदारी से करेंगे तो बदलाव यकीनी है और इसी बदलाव में तरक्की की राह है ,।

अदालत के फैसले पर सोशल मीडिया में न हो बहस : सय्यद मोहम्मद अशरफ

30 सितंबर, नई दिल्ली
आल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड के अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफ़ी फोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने बाबरी मस्जिद विध्वंस मामले में लखनऊ के सी बी आई कोर्ट के आए फैसले पर अपनी प्रतिक्रिया देने से इन्कार करते हुए कहा कि हमारा काम नहीं कि हम अदालतों के फैसले पर टीका टिप्पणी करें यह वकीलों का विषय है उन्होंने सभी से अपील करते हुए कहा कि सोशल मीडिया पर इस फैसले पर बहस न करें इससे बचें।
हज़रत ने ख़ास तौर से मुस्लिम युवाओं से कहा कि यह सब्र और होशियारी का वक़्त है हमें किसी भी कीमत पर नफरत के कारोबारियों की चाल को कामयाब करने में मदद नहीं करनी है और अगर आप सोशल मीडिया के जरिए इस फैसले पर बात करते हैं तो हम उनके मददगार अनजाने में बन जाते हैं, हमें खबर भी नहीं होती कि हम क्या कर रहे हैं और अपनी नासमझी के चलते हम जाल में फांस जाते हैं।
अभी मुल्क में जिस तरह कोरोना का कहर टूटा हुआ है, किसान सड़कों पर हैं, नवजवान बेरोजगार हैं ऐसे में हमें इस बहस से बचने की जरूरत है और अपने मुल्क की फिज़ा को बेहतर बनाने की कोशिश में जुटे रहना है। अदालतों को अपना काम करना है और हम सबको अपना, हमारा काम है मोहब्बत सबके लिए नफरत किसी से नहीं अगर हम अपना काम ईमानदारी से करेंगे तो बदलाव यकीनी है और इसी बदलाव में तरक्की की राह है।

یزید کے نام کا نعرہ لگانے والے انسانیت کے دشمن: سید محمد اشرف

ستمبر،18 کچھوچھہ، امبیڈ کر نگر۔ آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے صدر اورورلڈ صوفی فورم کے چیئرمین حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے خانقاہ اشرفیہ شیخ اعظم سرکار کلاں میں عرس مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک پروگرام میں بولتے ہوئے پاکستان میں یزید زندہ باد جیسے ناروں کے ساتھ نکالی گئی ریلی کی پر زور مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ جولوگ یزید زندہ باد کا نعرہ لگا رہے ہیں وہ اہل بیت کے دشمن یعنی امن کے دشمن اورپوری انسانیت کے دشمن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نہ ہی صحابہ کرام کی شان میں گستاخی برداشت کرسکتے ہیں اور نہ ہی اہل بیت کی شان میں گستاخی،ان کی شان پر ہماری جان قربان ہے، دنیا میں جس طرح کے حالات بن رہے ہیں ایسے میں دشمنوں کے پیسوں پر پلنے والے اس طرح کی باتیں اٹھا رہے ہیں جس سے ہمارے دل کو تکلیف ہو اور لوگ سڑکوں پر آمنے سامنے آجائیں اور اپنے اصل مقصد اتحاد اور امن سے بھٹک جائیں۔
انہوں نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے حالیہ معاہدے کو اس سارے واقعے کی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا،چونکہ اتحادبین المسلمین سے اسلام کے دشمنوں کو خطرہ ہے،انہیں لگتا ہے اگر یہ ایک جگہ ہوئے تو انہیں ترقی سے نہیں روکا جا سکتا ہے، لہٰذا کبھی آصف اشرف جلالی جیسے فتنے باز جناب فاطمہ سلام اللہ علیھاکی شان میں گستاخی کرتا ہے اور اس کے بعد آصف رضا علوی کا حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں گستاخی کرنا اسی کڑی کا ایک حصہ ہے، ایسے لوگوں کو اپنی صفوں سے باہر نکالنا ہوگا یہ امن کے دشمن ہیں اور غیروں کے ہاتھ میں کھیلنے والے بے ضمیر لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ یہ دونوں جو اب تک چھپے ہوئے یزیدی پیروکار خاموش تھے باہر نکل پڑے اور ان دونوں کا نام بھی ایک ہی ہے۔
پاکستان میں جس طرح کا مسلکی ہنگامہ کھڑا ہوا ہے اس سے ہم ہندوستانی مسلمانوں کو ہوشیار رہنا چاہئے اور اپنے ملک میں بدامنی کے ہر ممکن خطرے کو پہلے سے بھانپ کر اس کو اٹھنے نہیں دینا چاہئے جو کچھ بھی اس وقت ہو رہا ے یہ غیر ملکی سازش کا حصہ ہے جس کے ذریعہ ہمیں اپنے اصل مقصد سے بھٹکا کر ترقی سے روکا جا رہا ہے،ہم ایسی ہر سازش کی پرزور مخالفت کرتے ہیں اور ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کرتے ہیں، ہمیں اپنے ملک میں ایسے لوگوں کی سوچ کو پنپنے نہیں دینا ہے تاکہ ہمارے ملک کی فضا خراب نہ ہو۔

यज़ीद के नाम का नारा लगाने वाले इंसानियत के दुश्मन : सय्यद मोहम्मदअशरफ

18 सितंबर, शुक्रवार किछौछा अम्बेकरनगर
आल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड के अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफ़ी फोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने खानकाहे अशरफियां शेखे आज़म सरकारें कलां में उर्स मख़दूम अशरफ जहांगीर सिमनानी रहमतुल्लाह अलैहि के एक कार्यक्रम में बोलते हुए पाकिस्तान में यजीद ज़िंदाबाद जैसे नारो के साथ निकाली गई रैली की पुरजोर निंदा की ,उन्होंने कहा यह लोग जो यजीद ज़िंदाबाद का नारा लगा रहे हैं यह अहलेबैत के दुश्मन हैं यानी अमन के दुश्मन है और पूरी इंसानियत के दुश्मन हैं।
उन्होंने कहा कि हम न तो सहाबा की शान में गुस्ताखी बर्दाश्त कर सकते हैं और न ही अहलेंबैत की गुस्ताखी, उनकी शान पर हमारी जान कुर्बान है,दुनिया में जिस तरह के हालात बन रहे हैं ऐसे में दुश्मनों के पैसों पर पलने वाले इस तरह की बातों को उठा रहे हैं ,जिससे हमारे दिल को तकलीफ हो और लोग सड़कों पर आमने सामने आ जायें और अपने असल मकसद इत्तेहाद और अमन से भटक जायें।
उन्होंने हाल में हुए इजरायल और यूएई समझौते को इस पूरी घटना की वजह करार दिया ,उन्होंने कहा क्योंकि इत्तेहाद बैनुल मुस्लेमीन से इस्लाम के दुश्मनों को खतरा है उन्हें लगता है अगर यह एक जगह हुए तो इन्हें तरक्की से नहीं रोका जा सकता है लिहाज़ा कभी आसिफ अशरफ जलाली जैसे फितनेबाज़ जनाबे फातिमा सलामुल्लाहअलहिया की शान में गुस्ताखी करता है और उसके बाद आसिफ रज़ा अल्वी का जनाबे सिद्दीके अकबर रज़ीअल्लाहुतालाअन्हु की शान में गुस्ताखी करना इसी कड़ी का हिस्सा है इस तरह के लोगों को हमें अपनी सफों से बाहर निकालना होगा यह अमन के दुश्मन हैं और गैरों के हाथ में खेलने वाले बेज़मीर लोग,उन्होंने कहा कि यह भी अजीब इत्तेफाक़ है कि यह दोनो जिनकी वजह से अब तक छिपे हुए यजीदी पैरोकार खामोश थे बाहर निकल पड़े और इन दोनों का नाम भी एक ही है,।
पाकिस्तान में जिस तरह का मसलकी हंगामा खड़ा हुआ है उससे हम भारतीय मुसलमानों को होशियार रहना चाहिए और अपने मुल्क में बदमनी के हर मुमकिन खतरे को पहले से भांप कर उसको उठने नहीं देना चाहिए,जो कुछ भी इस वक़्त हो रहा है यह विदेशी साजिश का हिस्सा है जिसके जरिए हमें अपने असल मकसद से भटका कर तरक्की से रोका जा रहा है हम ऐसी हर साजिश की पुरजोर मुखालफत करते हैं और ऐसे लोगों से होशियार रहने की अपील करते हैं हमें अपने मुल्क में ऐसे लोगों की सोच को पनपने नहीं देना है ताकि हमारे मुल्क की फिज़ा खराब न हो।

کرونا کے خاتمے کی دعاؤں کے ساتھ شروع ہوا عرس مخدومی

ستمبر16 کچھوچھہ، امبیڈکر نگر
عرس حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ علیہ کرونا کے چلتے انتظامی اصولوں کی پابندیوں کے ساتھ شروع ہو گیا ہے جس میں عام زائرین کو آنے سے منع کیا گیا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ عقیدت مند اپنے گھروں میں ہی فاتحہ خوانی کریں اور آس پاس کے غریبوں کی مدد کریں، تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے صرف مقامی لوگ درگاہ شریف آسکتے ہیں۔
اس موقع پر آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے صدر اورورلڈصوفی فورم کے چیئرمین حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے خانقاہ اشرفیہ شیخ اعظم سرکار کلاں میں پرچم کشائی کی رسم ادا کی اور پوری دنیا سے اس خطرناک وائرس کے خاتمے کے لئے دعا کی۔انہوں نے اس موقع پر کہا کہ یہ بڑا دکھ کا موضوع ہے کہ ہم لوگوں کو مخدوم پاک کے آستانے پر آنے سے کچھ وقت کے لئے روک رہے ہیں لیکن لوگوں کو بیماری سے بچانا بھی حضرت مخدوم پاک کا ہی پیغام ہے۔ ہر ولی کو کسی نہ کسی نبی کامعجزہ کرامت کے طور پر ملا ہے۔حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہعلیہ پرتوے عیسیٰ ہیں،یعنی آپ مریضوں کو رب کی عطا کی ہوئی کرامت سے فائدہ پہنچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پورے سال مخدوم پاک کے آستانے پر مریضوں کا ہجوم لگا رہتا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں پریشان حال مخلوق آپ کی بارگاہ سے صحتیابی کی بیش قیمتی دولت سے مالامال ہوتی ہے۔چنانچہ جب پوری دنیا اس بیماری کے چکر میں پھنس گئی ہے کہ لوگ مل بھی نہیں سکتے ہیں تو ہم آپ کی بارگاہ سے اپنے رب کو پکارتے ہیں کہ دنیا کو اس بیماری سے نجات ملے۔
حضرت نے دنیا بھر میں آباد عاشقان مخدوم پاک کو عرس کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سبھی لوگ ضروری احتیاط برتیں اور گھروں میں ذکر کا ورد کرکے اپنے رب کو راضی کریں، یہ وقت سخت ہے لوگوں کی مدد کریں بنا ان کی ذات،مسلک اور مذہب پوچھے۔