میانمار میں انسانی حقوق کی پامالی ، مسلم ممالک اور ہندوستانی مسلمان : ایک محاسبہ

روہنگیا مسلمان آخر مسلم ممالک اور بالخصوص خلیجی ممالک میں کیوں پناہ نہیں حاصل نہیں کرسکے؟
غلام رسول دہلوی
روہنگیا بحران میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ایک کربناک المیہ ہے ۔ میانمار میں انسانیت ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ خواتین اور بچوں کا قتل عام کیا گیا اور معصوم نوجوان اور بزرگوں کو ایک منظم طریقے سے نشانہ بنایا گیا ۔ اس نازک موڑ پر، روہنگیا مہاجرین کو ملک بدر کرنے کے حکومت ہند کے موقف نے بے شمار مسائل کھڑے کر دئے ہیں اور اسے سپریم کورٹ اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے تحقیقاتی سوالات کا سامنا ہے۔ ان کی ملک بدری کے اس منصوبہ نے ہندوستانی مسلم رہنماؤں، دانشوروں اور خاص طور پر ان علماء کے درمیان ایک تناؤ کا ماحول پیدا کر دیا ہے جو روہنگیا مسلمانوں کے لئے ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہیں۔ ان کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ جس ملک نے اپنی ابتداء سے ہی مہاجرین کا استقبال کیا ہے وہ وہ ان 40 ہزار روہنگیا مہاجرین کو کس طرح ملک بدر کر سکتا ہے جو اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ ستائی ہوئی اقلیت ہیں!
یقیناً 40 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کا حکومت ہند کا منصوبہ ہمارے وطن عزیز کے تاریخی، تہذیبی ،تکثیریت پسند اقدار کے خلاف ہوگا۔سری لنکا، افغانستان اور تبت سمیت کئی پڑوسی ممالک سے آنے والے مجروح اور کمزور لوگوں کی مدد کرنے کی ہندوستان کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کے پاس ماضی کے واقعات کے پیش نظر جائز سیکورٹی خدشات ہیں اور وسائل کی کمی کا بھی سامنا ہے ،لیکن ہم یہ بھی نہیں بھول سکتے کہ ہندوستان میں تہذیب و ثقافت اور جمہوریت کی ایک قدیم روایت رہی ہے اور ہم نے دنیا کی تمام خطّوں سے آنے والی مظلوم اقلیتوں کی ہمیشہ مدد کی ہے اور ان کا خیر مقدم کیا۔ اور یہی بات ہمارے ملک کو خوبصورت بناتی ہے۔ ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنا ہمارا سنسکار رہا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کی مدد مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسانی بنیادوں پر کی جانی چاہئے۔ جو لوگ انسانیت کے بجائے مذہب کی بنیاد پر پناہ گزینوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بھی اپنے اپنے مفادات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس لئے ہندوستان کو اپنے پناہ گزین قانون میں مذہبی معیار کو ترک کر دینا چاہئے۔ حکومت ہند نے شہریت کے عمل کو آسان بنانے کے لئے 1955 کی شہریت کے قانون میں ترمیم کی تجویز پیش کی تھی۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس نئے بل سے صرف عیسائیت، ہندازم، جین ازم، زرتشت ازم اور سکھ ازم کو ہی فائدہ حاصل ہوگا جنہیں اپنے پیدائشی ملکوں میں اقلیتی مذہب سمجھا جاتا ہے۔ اس بل سے بے گھر مسلم افراد کو خارج کردیا گیا ہے۔ لہذا، بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو ملک نکالنے کی حکومت کی تازہ ترین تجویز اسی بل کا حصہ ہے۔
اگر چہ ہندوستان نے ایسے کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے مہاجرین کو پناہ دینا اس کا فر ض ہو ، لیکن اس ملک نے ہمیشہ تنازعات اور آفتوں سے پریشان پناہ گزینوں کو پناہ دیا ہے، خواہ وہ شام کے عیسائی ہوں، مالابار کے یہودی ہوں یا ایران کے پارسی ہوں۔ لہذا، روہنگیا مسلمانوں کو اس ملک سے نکالنا اس کی اس انسانی روایت سے انحراف ہوگا جس پر ہندوستان کئی دہائیوں سے قائم رہا ہے۔
انسانی حقوق ناقابل تقسیم ہیں اسی لئے انسانی حقوق کو کسی ایک یا چند مذاہب و اقوام کے لئے خاص نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا، اگر ہندوستان روہنگیا مسلمانوں کو میانمار روانہ کر دیتا ہے تو یہ ایک کربناک تاریخی المیہ ہو گا۔ یہ ایسے ہی ہوگا جس طرح کیوبا اور امریکہ نے ہٹلر کے مظالم سے بھاگنے والے 900 سے زائد یہودیوں پر مشتمل سمندری جہاز کو 13 مئی 1939 کو موت کے منھ میں ڈال دیا تھا (جن میں سے کم از کم 250 لوگوں کو نازی جرمنی فوج نےموت کے گھاٹ اتار دیا تھا) ۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آخر مسلم ممالک روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دینے کے لئے کیوں آگے نہیں آ رہے ہیں؟ شام کے پناہ گزینوں کو جرمنی اور دوسرے یوروپین ممالک نے پناہ دی ہے۔ تاہم ، بعض مسلم ممالک انہیں مالی مدد تو پہنچا رہے ہیں لیکن پناہ گزین کی حیثیت نہیں دے رہے ہیں۔ یہ واقعی عالمی مسلم برادری کے لئے ایک’ اجتماعی ذلت’ کی بات ہے کہ اسلامی ممالک روہنگیا پناہ گزینوں سے اپنا منھ موڑ رہے ہیں۔انہوں نے شام، عراق، لیبیا، صومالیا اور دیگر جنگ زدہ مسلم ممالک کے انتہائی مصیبت زدہ مسلم پناہ گزینوں کو بھی پناہ فراہم نہیں کیا ہے۔“Left Out In The Cold” کے عنوان سے انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل گلف کوآپریشن کونسل کی 2014 کی ایک رپورٹ کے مطابق ، سعودی عرب، بحرین، کویت، قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات جیسے دولت مند ممالک نے بھی سرکاری طور پر ایک بھی شامی پناہ گزین کو نہیں اپنایا ہے۔
وہ مسلم ممالک جن کا شمار امیر ترین اسلامی ملکوں میں ہوتا ہے ، وہ مسلم تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو بڑے پیمانے پر مالی امداد اور عطیہ فراہم کرتے ہیں۔ حال ہی میں ترکی نے بھی میانمار میں تشدد سے راہ فرار اختیار کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کی امداد کے لئے 10 ہزار ٹن فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن وہ پناہ گزینوں کو اپنے وطن میں پناہ نہیں دیتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی باضابطہ طور پر مہاجریت کے قانونی تصور کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔
بیشتر ہندوستانی مسلمان یہ محسوس کرتے ہیں کہ تمام روہنگیا مہاجروں کو ملک سے نکالنے کا حکومت کا اقدام “اخلاقی طور پر انتہائی ناپسندیدہ” ہے۔ہندوستان نے ہمیشہ پوری دنیا سے بے گھر مہاجرین کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے بانی و صدرسید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ حکومت ہند کو ان معصوم مہاجرین کو پناہ فراہم کرنا چاہئے جو اپنی زندگی اور وقار کی حفاظت کے لئے ہندوستان کی طرف امید کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ جس طرح ہمارے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش نے انسانی بنیادوں پر روہنگیا متاثرین کے لیے نئے دروازے کھولے ہیں اسی طرح ہندوستان کو بھی ان مہاجرین کی مدد کے لیے آگے آنا چاہئے۔
جماعت اسلامی ہند کے صدر مولانا سید جلال الدین عمری نے روہنگیا مسلمانوں کی ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ، او آئی سی اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں سے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے اپنے ہم وطنوں کو قتل سے روکنے، ان کی شہریت بحال کرنے، ان پر تمام قسم کی پابندیوں کو ہٹانے اور ان کی سماجی اور اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے برمی حکومت پر دباؤ بنائیں۔
اسی طرح، جمعیت علمائے ہند نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے تئیں اپنا رویہ تبدیل کرنے کے لئے ایک آخری معیاد مقرر کرنے کی خاطر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کے لئے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے ہندوستان میں پناہ کی تلاش کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کے تئیں حکومت ہند کو روایتی انسانی بنیادوں پر اپنے رویہ سے منحرف نہ ہونے پر بھی زور دیا ہے۔ وسیع پیمانے پر ہندوستانی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق جمعیت علمائے ہند نے حکومت ہند سے کہا ہے کہ “اس سلسلے میں ہندوستان کو یورپی یونین سمیت ترقی یافتہ ممالک کی پیروی کرنی چاہئے”۔
آل انڈیا علماء مشائخ بورڈ ، جمعیت علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند جیسی ہندوستانی مسلم تنظیموں نے حکومت ہند، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن سے بجا طور پر میانمار کے راکھین کے علاقے میں ظلم و ستم کا شکار روہنگیا مسلمانوں کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔ لیکن کیا انہوں نے اس سلسلے میں عالمی ‘مسلم برادری’ سے بھی موثر اقدامات کرنے کے لئے کوئی اپیل کی ہے؟ کیا انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ روہنگیا پناہ گزین مسلم ممالک اور بالخصوص خلیجی ممالک میں کیوں پناہ نہیں حاصل نہیں کرسکے؟
روہنگیا مہاجرین کا بحران واضح طور پر انسانی حقوق کا ایک مسئلہ ہے۔ لیکن یہ ایک انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ جب نام نہاد اسلامی ممالک کے اندر حکومتوں یا دہشت گرد تنظیموں کی ایماء پر اسی طرح کی یا اس سے زیادہ درد ناک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ سامنے آتا ہے تو ہندوستان میں یہ اسلامی تنظیمیں صدائے احتجاج بلند نہیں کرتی ہیں۔ لہذا، یہ سوال اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ کیا انسانی حقوق صرف غیر اسلامی ممالک میں رہنے والی مسلم اقلیتوں کے لئے ہیں؟ کیا علماء اور اسلامی رہنما اس وقت کبھی صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں جب مسلم ممالک میں غیر مسلم اقلیات کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے، ان کی لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے ، “اسلامی ریاست” کے قیام کے نام پر ان کی منفی ذہن سازی کی جاتی ہے اور نکاح الجہاد کے نام پر ان کا استحصال کیا جاتا ہے؟
ہندوستانی مسلمانوں کو یہ محسوس کرنا ہوگا کہ ہماری انسانی اور مذہبی ذمہ داری ہے کہ ہم مسلم ممالک اور خاص طور پر پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک میں جو کہ اسلامی ہونے کا دعوی کرتے ہیں غیر مسلم اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف بھی صدائے احتجاج بلند کریں ۔ ایک انتہائی اہم اور ضروری سوال یہ ہے کہ جب پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملیشیا، سعودی عرب اور مصر جیسے نام نہاد اسلامی ممالک اور مسلم دنیا کے دیگر حصوں میں مذہبی اقلیتوں کے حقوں کو مکمل طور پر پامال کیا جاتا ہے تو ہندوستان کے مسلم رہنما خاموش تماشائی کیوں بنے رہتے ہیں؟

18th Century Ulema: The Unsung Heroes of the First Indian Independence War In 1857: By Ghulam Rasool Dehlvi

By Ghulam Rasool Dehlvi
29 August 2017
On this Independence Day, we need to also remember the freedom strugglers who have been forgotten almost completely. The first Indian freedom movement of 1857 should particularly be recalled in this context. While 70 percent of the soldiers came from the Hindu or Sikh community, the Ulema and Muslim leaders like Maulana Fazle Haq Khairabadi, Maulana Ahmed Shah, Bahadur Shah Zafar, Khan Bahadur Khan, Begum Hazrat Mahal, Firoz Shah and Azimullah Khan were the most prominent characters in the annals of the revolt. Remarkably, Nana Sahib, Rani Laxmi Bai and Tantya Tope declared Bahadur Shah Zafar, a Muslim King, India’s first independent ruler on May 11, 1857. Similarly, Ram Kunwar Singh, Raja Nahir Singh, Rao Tula Ram exerted herculean efforts and sacrifices to uphold the 1857 revolt.

During the 1857 revolt, India’s top Ulema declared the rebellion for freedom as “Wajib-e-Deeni” (religious obligation). They issued an anti-British fatwa while actively participating in the blood-spattered insurgents. Among the most forgotten Ulema and Maulvis who valiantly campaigned for an independent India were: Maulana Sadruddin Azurda Dehlvi, Maulana Ahmadullah Shah Madrasi, Maulana Fazle Haq Khairabadi, Maulana Kifayat Ali Moradabadi, Maulana Rahmatullah Kairanvi, Imam Bakhsh Sahbai Dehlvi and Maulana Wazir Khan Akbarabadi. These Ulema were imbued in an Indian strain of Islam with a pluralistic and nationalistic ideology originally underpinned by the Sufi mentors such as Mirza Mazhar Jaan-e-Jaanan (1195-1781), Shah Abdul Aziz Dehlvi (1239-1824), Qazi Sana’ullah of Panipat (1225-1810), Shah Rafiuddin Dehlvi (1233-1818) and Mufti Sharfuddin Rampuri (1268-1852). Their exhortation of nationalism called Hubb-ul-Watani (love for the country) was the driving force behind the Ulema’s fierce struggles and sacrifices in the Independence movements from 1857 to 1947. I suffice to reproduce three prominent examples from the Indian Ulema’s traditions and accounts.

Maulana Fazle Haq Khairadabadi (1797–20 August 1861)

A leading revolutionary in the 1857 revolt was Maulana Fazle Haq Khairadabadi, son of Allama Fazle Imam Farooqi, the Grand Mufti of Delhi in the 18th century and a disciple of the noted Sufi master, Shah Abdul Qadir (1230/1815). He rendered various services to the country but the anti-British fatwa known as “Tahqeeq al-Fatwa fi Ibtal al-Taghwa” (fatwa in refutation of the devil) was his most remarkable contribution to India’s first freedom struggle.

Vivek Iyer noted in his book “Ghalib, Gandhi and the Gita” that Khairabadi was a celebrated poet, philosopher and social scientist, but was most remembered as a freedom struggler of the 1857 Indian rebellion. He took up service with the government in 1815 but resigned from the job in 1831 and spent most of his time in an intellectual activism for the country’s freedom. He penned down a comprehensive historical account of the 1857 revolt in Arabic titled “al-Thaura al-Hindiya” (Indian rebellion). After his resignation from the services of the British government, Khairabadi got an opportunity to serve the Nawab of Jhajjar. He was also close to Bahadur Shah Zafar. When the 1857 revolt broke out, he travelled from Alwar to Delhi several times to hold meetings with Bahadur Shah Zafar. Munshi Zakaullah notes in his famous research work in Urdu “Taarikh-e-‘Urooj-e-Saltanat-e-Englishiah (History of the British government’s rise in India):

“When General Bakht Khan, along with his fourteen thousand soldiers, came for Bareilly to Delhi, Maulana Khairabadi delivered a Friday sermon before hundreds of Ulema in Delhi’s Jama Masjid. He put fourth an Islamic decree (Istifta) on the freedom fight for the country with the signatures of Mufti Sadruddin Azurda, Maulvi Abdul Qadir, Qazi Faizullah Dehlvi, Maulana Faiz Ahmed Badayuni, Dr. Wazir Khan Akbarabadi, Syed Mubaraksha Rampuri”.

No sooner did this fatwa against the British was declared and widely disseminated, the revolt intensified throughout the country. Some ninety thousand soldiers gathered in Delhi. Quoting from the “Akhbar-e-Dehli” of Chunni Lal, a contemporary Urdu researcher Khushtar Noorani writes: Maulana Khairabadi continued to hold gatherings delivering sermons on the significance of the jihad against the British to rescue the country which was Darul Islam (abode of Islam) in his view”.

In January 30, 1859, Khairabadi was arrested by the British authorities and a case was filed against him for ‘taking a leadership role in the rebellion’, as C. Anderson records in “The Indian Uprising of 1857-8: prisons, prisoners, and rebellion”. He was tried in the court and was sentenced to imprisonment at Kalapani (Cellular Jail) on Andaman Island with confiscation of his property by the Judicial Commissioner, Awadh Court. During the court proceedings, Maulana himself defended his case and categorically stated in the court that he had issued the anti-British fatwa with his free will, not by compulsion. He reached Andaman on 8 October 1859. Sir William Wilson Hunter, a Scottish historian and a compiler and a member of the Indian Civil Service, writes: “Fazl-e-Haq was an alim (Islamic scholar) who was sentenced to imprisonment in the Kaala Paani and whose library was confiscated and brought to Calcutta by the English government”. (Hamare Hindustani Musalamaan, [Urdu] Page: 203, Delhi).

Mufti Sadruddin Azurda Dehlvi (1804 -1868)

One of the most notable revolutionaries of the 1857 revolt in Delhi was Mufti Sadruddin ‘Azurdah’. An intellectual, spiritually inclined literary figure from the Kashmiri origin, Azurdah was a disciple of the renowned and authoritative classical scholar of Islam Maulana Fazl-e-Imam Faruqi (1244/1829) of Khairabad located in Sitapur (Uttar Pradesh).

Notably, Azurdah was Delhi’s Grand Mufti, an excellent Urdu poet and a bosom friend of Mirza Ghalib. His proactive engagement with the revolt of freedom in 1857 resulted in the loss and devastation of all his poetry during the riots. The only known collection of his poetry is the “Surviving Poetic work of Azurdah” compiled by A’bdur Rahman Parwaz from various Tazkiras (memoirs). One of the architects of modern Muslim mindset in India, Sir Syed Ahmed Khan mentioned Azurda in his book “Asaar-us-Sanadid” (the remnants of ancient heroes) as a “well-versed Muslim scholar of his age”.

When the Ulema of Delhi declared Jihad against the British, the fatwa was signed by Azurdah as published in the famous Urdu daily Akhbaar-uz-Zafar dated July 26, 1857. The newspaper is preserved in Delhi’s National Archives. Azurdah is also reported to have been the mediator between the English and Mughal elites in the early days of the British ascendancy in Delhi. He held meetings and consultations with Bahadur Shah Zafar in the Red Fort during the Mutiny to help the Indian revolutionaries further their cause. When the British curbed the 1857 revolt, a case for rebellion was filed against Azurdah. He was tried in the court and suffered a painful imprisonment. Consequently, a large part of his property was confiscated. The British authorities destroyed almost 3 Lakh books collected in Azurdah’s personnel library.

Remarkably, Azurda trained many Ulema and scholars like Maulana Ahmadullah Shah Madrasi and sent them to Agra in 1846 where they established a council of Ulema (Majlis-e-Ulema) to systematically campaign for the rebellion against the British colonialism.

Maulana Ahmaddullah Shah Madrasi (1787-1858)

In his well-researched work in Urdu, Taarikh-e-Jang-e-Azadi-e-Hind 1857 (page: 205), Syed Khurshid Mustafa Rizvi writes: “Ahmaddullah Shah prominently figures the list of ulema who prepared the whole country for the 1857 Revolt….He visited different parts of the country and instigated the people for the Revolt.”

Ahmaddullah Shah was a spiritually inclined Alim or Islamic scholar. He got fascinated towards a mystical lifestyle from his youth. Therefore, he left his home and travelled far and wide, from Hyderabad and Madras to England, Egypt, Hijaz, Turkey, Iran and Afghanistan. Back in India, he spent most of his life in mysticism and even in Chillahkashi (Sufi practice of mystical seclusion for 40 continuous days) at Bikaner and Sambher.

He attained the spiritual disciplehood of his Pir-o-Murshid (Sufi master) Mir Qurban Ali Shah in Jaipur where he was granted the Ijazat-O-Khilafat (spiritual succession and authorization). From Jaipur, he travelled to Tonk where he held the Mahfil-e-Sima (gathering for mystical music) which was criticized by the conformist Ulema. Dismayed by their objection, he left for Gwalior where he met another Sufi mystic Mehrab Shah Qalandar. Having granted him the Ijazat-o-Khilafat, Shah Qalandar exhorted him to work for India’s freedom movement. Therefore, he left Gwalior for Delhi in 1846.

In Delhi, he met Mufti Sadruddin Azurda who directed him to go to Agra which he thought was the best place for a better and successful preparation for the campaign against the British oppression. In Agra, he consolidated ties with the leading Ulema who cooperated him in the formation of Majlis-e-Ulema (Council of Ulema) to campaign against the British regime.

In the famous book, “The Indian mutiny of 1857” edited by Colonel Malleson, Maulana is mentioned as follows: “If a patriot is a man who plots and fights for the independence, wrongfully destroyed, for his native country, then most certainly, the Maulvi (Ahmadullah) was a true patriot”.

The British historian Malleson has described Maulana in these words: “The Maulvi was a very remarkable man…. In person, he was tall, lean and muscular with large deep set eyes, beetle brows, a high aquiline nose, and lantern jaws….. The British considered him a worthy enemy and a great warrior”.

Malleson further writes that “no doubt, the leader behind this conspiracy (1857) which had spread all over India was the Maulvi (Ahmadullah)…….. I think that he the brain behind the revolt”. During his journeys, Maulana introduced a novel scheme which is known as the ‘Chapati scheme’. He devised the circulation of Chapatis from hand to hand to disseminate the message amongst the rural population of the North India that a great uprising would take place. The English historian G.W. Forest heaps high praises on the Maulana for being a ‘practicing alim’, a ‘Sufi soldier’ and commander with great military skills (Kaye’s and Malleson’s History of the Indian mutiny of 1857-8).

In his article, “Maulvi Ahmedullah: The Unsung Hero of the Revolt” published in Radiance Viewsweekly, Mohd. Asim Khan depicts a portrait of how valiantly Maulana fought against the British: “Maulvi Ahmedullah Shah was a rare combination of both a writer and a warrior. He used his sword valiantly, and his pen effortlessly for awakening and mobilising the people against the foreign subjugation…..He wrote revolutionary pamphlets and started distributing them. It was too much for the imperialists and they ordered his arrest. He was tried for sedition and sentenced to be hanged”.

The British officers declared a reward of Rs. 50,000 for capturing Maulana alive. The proclamation reads: “It is hereby notified that a reward of Rs.50, 000 will be paid to any person who shall deliver alive, at any British Military post or camp, the rebel Moulvee Ahmed Molah Shah, commonly called “the Moulvee”. It is further notified that, in addition to this reward, a free pardon will be given to any mutineer or deserter, or to any rebel, other than those named in the Government Proclamation No. 476 of the lst instant, who may so deliver up the said Moulvee”.

Noted Urdu historian of Karachi, Prof. Mohammad Ayyub Qadri writes: “The martyrdom of Maulana Ahmadullah put an end to the [first] war of independence, not only in Ruhelkhand But in the entire country” (Jang-e-Azadi-e-Hind 1857, P. 303).

The author is a scholar of classical Islamic studies, cultural analyst and researcher in media and communication studies and regular columnist with New Age Islam.

پھر سی غلامی کی راہ پر گامزن ملک: عبدالمعید ازہری

کل ہم انگریزوں کے غلام تھے ۔ آج ہماری غیر اخلاقی رواداری ، نفرت و تشدد، مذہب کے نام پر انتہا پسندی،بد عنوان سیاست اور مجبور اور کمزور قانون ہمیں غلامی کی زنجیریں پہنا رہا ہے ۔نفرت و تشدد کی اس آگ میں صرف اور صرف انسان جل رہا ہے ۔ انسانیت دم توڑ رہی ہے ۔مذہب اپنی کتابوں میں سسک رہا ہے ۔مذہبی رہنما اپنی عبادت گاہوں میں قید ہو گئے ہیں۔بد عنوان سیاست کا ننگا ناچ امن و آشتی ، اخوت و محبت کے چہرے پر تیزاب ڈال رہا ہے ۔اس تاریک راہ میں ہمیں امید ہے تو بس اتنی کہ ہر فرعون کے لئے کو ئی موسیٰ ضرور ہے اور ہر یزید کیلئے کو ئی حسین۔آج انہیں دونوں کرداروں کی ضرورت ہے ۔ہر یزید کا تخت پلٹے گا اور ہر فرعون غرقآب ہوگا کیونکہ ہر ظلم کی ایک حد ہے ،ہر زیادتی کی ایک سیما ہے۔ انسان کی فطرت اگر چہ صبر اور ضبط ہے لیکن اس کی بھی ایک مدت ہے ۔جیسے نیند کی ایک مدت ہے ۔اس سے زیادہ نہیں سو سکتا۔اگرکسی دوا کا سہارا لیا ہے، تو اس کا بھی ایک وقت ہے لیکن اس کے بعدبہر حال اسے بیدار ہونا ہے۔ یہ بھی ایک سچ ہے کہ انسان اگر حساب پر آ جائے تو حساب کا بھی حساب کتاب ہو جاتا ہے کیونکہ انسان اس بڑے حساب کرنے والے کا ایک مظہر ہے۔ اس انسان میں بھی اسی کا نور ہے۔تو انسان جب نیند یا بے ہوشی کے بعد بیدار ہوتا ہے، تو اس کی بیداری بھی عجیب ہوتی ہے۔یہ بیداری ایک تاریخ لکھتی ہے۔ وہ سارا حساب لیتی ہے۔ وہ دریا کو پیاسا اور سمندر کو بے سہارا کر دیتی ہے۔وہ تاریخ کی طرح ہے کہ اگرچہ خاموش ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بے حس ہے۔وہ اپنا پورا کام کرتی ہے۔جب وقت آتا ہے، تو آئینہ کی طرح سب کچھ سامنے رکھ دیتی ہے۔
انسان کی فطر ت جہاں ایک طرف محبت اور ہمدردی ہے وہیں دوسری طرف غصہ اور لڑائی بھی ہے۔ بسا اوقات ایک لکیر بھی کھنچ جاتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ لکیر زیادہ دیر تک نہیں رہتی۔ ایک دن مٹتی ہے ۔ گنگا جمنا کے بیچ کا فرق ختم ہوتا ہے ۔ پھر سمندر کی لہروں کی مانند ایک انقلابی موج اٹھتی ہے جو اپنی رفتار سے ساری برائیوں کو ختم کر دیتی ہے ۔
در اصل صبرو ضبط کا یہ وقفہ ایک موقعہ ہے۔غلطیوں کو آسانی سے ختم کرنے کے لئے کہ اگریہ غلطیاں انسانی فطرت کے تحت ہوئی ہیں تو ابھی ختم کر لو۔ ورنہ جب پانی سر سے اوپر ہوگا اور حساب پر بات آئیگی تو ایک انقلاب آئے گا ۔ اس کو برداشت کرنے کی سکت کسی بھی مجرم یا ظالم میں نہیں ہوگی ۔اسی لئے انسا ن صبر کرتا ہے۔ برداشت کرتا ہے لیکن کچھ لوگ اسے انسان کی کمزوری سمجھ بیٹھتے ہیں ۔
تو موقعہ ہے سمجھ جاؤ انسا ن کے صبر و تحمل ، ضبط و استقامت کا امتحان نہ لو ۔ اس کی باندھ ٹوٹی تو سنامی ہوگی اور اس کی رفتار کو پکڑ نہیں پاؤگے۔
((انسانیت سے بڑھ کر کوئی دھرم نہیں ہو سکتا۔دھرم خود مانو شدھی کرن کے لئے ہوتا ہے۔وہ ذاتی اور پرسنل ہوتا ہے ۔اگر کوئی دھرم یا مذہب مانو ہت کے خلاف ہے تو وہ دھرم نہیں ہو سکتا ۔ جو بھی دھرم کی آڑ میں انسانیت کے خلاف اور مانوتا کے وپریت سیاست کرے وہ سچا دھرم بھکت نہیں ہو سکتا۔ ایسی وچار دھارا رکھنے والا کبھی دیش کا نہیں ہو سکتا ۔ہمارا نہیں ہو سکتا۔))
ہندوستان کی تاریخ رہی ہے اس ملک نے ساری دنیا کو تہذیب اور کلچر سکھایا ہے۔ انسانی ہمدردی آپسی بھائی چارگی کا درس دیا ہے ۔ وطن عزیز کے قیمتی باشندوں نے پوری دنیا کو سکھایا کہ یہ دیکھو الگ نام ، الگ مذہب ، الگ دھرم ، الگ سماج، الگ ذات ،اور الگ برادری کے لوگ ایسے ایک ساتھ رہتے ہیں۔اور یہ روایت اب سے کچھ برس پہلے تک قائم تھی ۔لیکن اب اس میں بھید بھاؤ اور خلش کا گھن لگ گیا ہے ۔اس میل ملاپ اور ملک کی ترقی کی نیا میں نفرت اور بدعنوانی کا سوراخ ہو گیا ہے۔یہ اس ملک کی قابلیت پر سوال ہے ۔ اس کی رہنمائی پر سوال ہے ۔ جس ملک نے ایک سے ایک قد آور اور مثالی لیڈر اور رہنما پیدا کئے ہوں آج اسی ملک کی لیڈر شپ پر سوال ہے ۔ جس ملک کا مقام اس ملک میں بسنے والے ہر مذہب و ملت کی آپسی محبت اور بھائی چارگی کی بنیاد پر بلند سے بلند تر ہونا چاہئے تھا آج نیچے ہوتا جا رہا ہے۔آج اس ملک کی حفاظت کے ذمہ داروں اور اس کو چلانے والوں میں یہ احساس بھی نہ رہا کہ دیکھ سکیں کہ اس ملک کی کیا حالت ہو گئی ہے ۔روتا ہے یہ ملک اپنے پرستاروں پر کہ مجاہدین آزادی نے کم سے کم ایسے ملک کا سپنا تو نہیں دیکھا ہوگا ۔اس ملک کی ترقی اس کی قابلیت اور اہلیت پر ایک بڑا سوال کھڑا ہے ،حد تو یہ ہے کہ اب تو وہ نام جو کبھی عزت کی علامت تھے اب بدنام ہوکر گالی بن گئے ہیں ۔ نیتا ایک ایسا لفظ ہے جوبڑے فخر سے لیا جاتا تھا لیکن اب ایک طنز کی گالی بن کر رہ گیا ہے،ایک بڑا سوال ہے کہ ایسا کیا ہوا۔ اس ملک میں اور وہ کون سی ایسی نئی مصیبت آئی کہ ہم ا س میں ایسے پھنسے کہ نکلنے کے راستے بند ہو گئے اور ہم نے ملک کو اس حال میں پہونچا دیا ۔
اس بڑے سوال کا جواب آپ کو دینا ہے کیونکہ جن ذمہ داروں سے یہ سوال ہے اس میں آپ کا نام بھی شامل ہے اور تاریخ رہی ہے کہ آپ نے جواب دیا ہے۔ اور قرارا جواب دیا ہے ۔آج پھر اس ملک کو اس جواب کی ضرورت ہے۔آج ضرورت ہے۔آج یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ آخر ایک کسان جو اپنے خون کو پسینہ کی طرح بہاتا ہے۔پاؤں تلے کا پسینہ سر سے بہہ کر بنجر زمین کو گیلہ کرتا ہے۔ اتنی محنت کرنے کے بعد بھی وہ کسان بھوک سے خود کشی کر لیتا ہے۔جس ملک کی ترقی اس کے کسان اور اس کی محنت سے ہو آخر روہی بھکمری کا شکا ر کیوں ۔ظلم و زیادتی کے شکنجہ میں جکڑا ہوا کیوں ہے؟کوئی بھی اناج ہو، اس کو اس کی صحیح قیمت نہیں ملتی۔ حد تو یہ ہے کہ ایک طرف یہ کسان اپنی مجبوری اور بے چاری کی وجہ سے جب اناج بیچتا ہے، تو اس کو اس کی ضرورت پر قیمت نہیں ملتی۔ضرورت کے لئے اسے اپنا حق گوانا پڑتا ہے۔ اس کے بعد وہ اسی اناج کو اس سے دس گنا دام میں خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔پہلے وہ مجبور کیا جاتا ہے پھر اس کے بعد مظلوم کیا جاتا ہے ایسا کیوں ؟نعرہ ہے ملک ترقی کر رہا ہے ۔ ہاں ترقی ہو رہی ہے لیکن ترقی وہ کر رہا ہے جو پہلے سے ترقی یافتہ ہے اور رہا بے چارہ غریب تو غریب کا غریب رہا۔ اس کی غریبی میں ترقی ضرور ہوئی ہے۔ایک تو اس غریب اور کسان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا کوئی معقول انتظام نہیں اور اگر سواسکیموں کا اعلان کر کے ایک کام کیا بھی تو بڑی مشکل سے غریب تک پہونچتا ہے۔ اس تک پہونچتے پہونچتے وہ کسی ضرورت کی نہیں رہ پاتی۔ سرکاری غریبوں کی فہرست میں ایسے ایسے غریبوں کے نام ہیں جن کے گھر میں کئی غریب مزدوری کر کے اپنے پریوار چلاتے ہیں۔واہ رے ہندوستان کے ایسے غریب اور ایسی غریبی اور ایسے لوگوں کو غریب تسلیم کرنے والے غریب شناس!آج اگر دیکھا جائے تو راشن کارڈ ان کے نا م زیادہ بنے ہوتے ہیں جن کے گھر میں اناج اور تیل کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی جتنی اسی کے پڑوس میں رہنے والے ایک مزدور کو ہوتی ہے ۔
آخر میں عام آدمی ہی کیوں پستا ہے ؟کیا مظلوم ہونا اس کی غلطی یا اس کا جرم ہے؟یا پھر ایک عام آدمی ہونا ہی اس کی غلطی ہے۔ پھر تو پیدا ہونا ہی اس کی سب سے بڑی بھول ہے۔اگر ایسا نہیں تو پھر ایسا کیوں؟
ایک تو عام آدمی کے لئے کوئی سہولت نہیں اور اگر کسی طر ح سے کوئی انتظام کر دیا گیا تو اس تک پہونچنا مشکل اور اس تک کٹ چھٹ کر پہونچی بھی تو اسے اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ ایسا کیوں؟
ایک عام آدمی کو کیا چاہئے ؟انفرادی زندگی میں کھانے کے لئے سکون سے دو وقت کی روٹی ،بدن ڈھکنے کے لئے دو چند کپڑے اور سر ڈھکنے کے لئے ایک چھت۔ اور اجتماعی زندگی میں سبھی کو چاہئے انصاف اور اس کی حفاظت۔ جو ملک کا ذمہ دار اس ملک میں بسنے والوں کی حفاظت نہ کر سکے وہ کیا حکومت کرے گا اور کیا رہنمائی کرے گا ؟جن رہنماؤں کی فکر انسان کو قتل کر کے جانوروں کی حفاظت ہو ان سے انسانیت کی امیدکرنا خود کو دھوکہ دینے کے سواء کچھ نہیں۔
آج کل ہر سیاسی نیتا عام آدمی ہے۔ جو عام آدمی کی زندگی سے واقف نہیں۔ ان کی ضروریات کا اسے علم نہیں۔ وہ توشاید سارے گاؤ ں کے ناموں سے واقف نہ ہو۔ وہ جو ہوا میں اڑ کر آئے۔ ہوا میں باتیں کرے اور ہوا ہو جائے۔ پھر ضرورت پڑے تو پانچ سال بعد آئے ۔ ہوا بازی کرے اور پھر ہو جائے۔ وہ کیا عام انسا ن کے مسائل حل کرے گا۔اب ہمارے مسائل اس کے ہاتھ میں ہوں جو عام آدمی میں رہا ہو۔ اس کے درد کو محسوس کیا ہو۔عام آدمی میں بیٹھا ہو اور عام آدمی ہو۔
ایک عام آدمی کی عام طور پر روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ تین جگہ ضرورت پڑتی ہے اور وہ اس جگہ اپنے ضرور ت پوری کرنے جا تا ہے۔اگر آپس میں کوئی واد وواد ہوگیا تو اس کے حل کے لئے آدمی تھانہ پہنچتا ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ وہاں اسے انصاف ملے گا۔کیونکہ اس کو تھانہ کی ضرورت ہی اس لئے پڑی کہ اس کے ساتھ کچھ زیادتی ہوئی ہے اور جس نے کی اسکے ساتھ زیادتی ہے اس سے وہ ایسے عام طریقے سے نہیں نپٹ سکتا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شاید اسے تھانہ جانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ بہر حال وہ بڑی امید لیکر وہاں پہونچتا ہے۔ اس کے بعد اگر مسئلہ اور سنجیدہ ہوتا ہے تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔دوسری بڑی ضرورت اسپتال کی ہے اور یہ اتنی بڑی ضرورت ہے کہ ایک ضرورت مند انسان کے منہ سے ڈاکٹر کو بھگوان کا درجہ دیتے سنا گیاہے۔ اتنی زیادہ امید ہوتی ہے اور اس سے بھی زیاوہ ہو تا ہے بھروسہ۔اس کے بعد اسکول بجلی پانی وغیرہ۔ آج کے ترقیاتی دور میں ایک اور ضرورت اور امید کا راستہ ایک عام آدمی کو نظر آیاہے وہ ہے میڈیا ۔ جس کے ذریعہ وہ اپنی بات اور حق کی آواز دوسرے لوگوں کو پہونچا سکے، اسی وجہ سے اس کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ۔
اب ہمارے سامنے بڑا سوال یہ ہے کہ ایک عام انسا ن کے لئے تشکیل شدہ یہ سہولیات کس قدر کا م کر رہی ہیں یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ ہمیں ہر شعبہ اور اس کے نظام کو دیکھنا ہے۔ جیسا کہ پہلے یہ بات کہی جا چکی ہے کہ کچھ بھی مٹتا نہیں ہے۔ سب سامنے آتا ہے ۔ اب اسے دیکھنا اور طے کرنا ہے کہ اب اس ملک کی باگ ڈور کن ہاتھوں میں ہو۔عدل کے نام پر ظلم اور وکاس کے نام پر وناش کی سیاست کر نے والے ہاتھوں میں یا مجبوری کا بہانہ بناکر اس ظلم و زیادتی پر پردہ ڈالنے والوں کے کندھوں پر؟ یا پھرآج کے انسانوں کو ایسی مسیحائی نصیب ہوگی جو انسانیت کی طاقت دکھائے تو بڑے بڑے بت گر جائیں ۔ جو سیاست کے مہا رتھیوں کو سیاست کا پاٹھ پڑھائے ۔، مجبوری کا ڈھونگ رچ کر ذمہ داری سے بھاگ اس ملک کو کھوکھلہ کرنے والی سیاست کو لگام لگائے اور کچھ ہی دنوں میں وہ کر دکھائے جو جو پچھلی کئی دہائیوں میں نہیں ہوا تھا ۔
کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ ان تھانوں کہ حالت کیا اور کیوں ہے؟وقت و حالت کے کسی مارے ہوئے سے اس کی داستان سنئے۔
اب تو یہ عام قصہ یا لطیفہ بن گیا ہے کہ تھانہ میں تو جیسے کسی مظلوم کی رپورٹ درج نہیں ہوگی۔بلکہ الٹا وہ اس بات کا مجرم ہوگا کہ اس نے اپنے اس حق کا استعمال کیوں کیا ۔وہ جن پر ہم بھروسہ کرتے ہیں ۔جن کو ہماری حفاظت کے لئے بٹھایا گیا ہے۔ وہ کچھ تو خود ہی خوف زدہ ہیں اورکچھ دوسروں کو کئے رہتے ہیں ۔
عدالتوں کا بھی حال کچھ الگ نہیں ہے۔ ایک مظلوم کو انصاف ملتے ملتے اس کی عمر ختم ہو جاتی ہے۔ایک تو اس نے عدالت کا دروازہ ہی اس لئے کھٹکھٹایا کہ وہ اپنے مد مقابل سے سیدھے لڑ نہیں سکتا ۔ یہاں آکر اس نے انتظار کی ایک اور لڑائی مو ل لے لی۔
اسپتال بھی اپنی بے بسی پر رو رہے ہیں۔ وہ خود مریض ہو چکے ہیں۔ دوسروں کا علاج بھلا کیسے کرے گا؟
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری خلش اتنی نہ بڑھ جائے کہ اس کا اثر ہمارے ملک کی جمہوریت پر پڑنے لگے۔آج جو ماحول ہے یا جو لڑائی ہے وہ کسی مذہب کے خلاف کسی مذہب کی نہیں ہے،بلکہ ایک انسان دوسرے انسان کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہے ۔آج کی غیر انسانی سیاست اسے مذہب اور عقیدت کا نام دیکر اس میں نفرت تشدد کا تیل ڈال کر آگ کو اور بھڑکا رہے ہیں۔حالات نازک ہیں ۔ ہم پھر سے غلام ہوتے جارہے ہیں۔ اس غلامی سے آزادی کیلئے ہمیں پھر سے مل کر لڑنا ہوگا ۔ ورنہ یہ آگ دھیرے دھیرے پورے ملک کو جلاکر راکھ کر دیگی ۔آج ہماری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر مذہبی رہنماؤں کی ۔ جومذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بھی ہیں۔ جنہونے اپنے کلچر اور تہذیب سے پورے ہندوستان میں ایک چھاپ چھوڑی ہے۔ یہ ملک صوفی سنتوں کا ملک ہے۔ یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کی داستانیں صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں سنائی جاتی ہیں۔تو ایک بار ہمیں مل کر پھر بتانا ہے کہ یہ وہی ملک ہے اور وہ روایت آج بھی ہے۔ ہمیں اپنے وطن عزیز اور اس کی ہزاوں سال کی تہذیب جان کی طرح پیاری ہے۔ہم اس کی پاس داری ہر حال میں کریں گے۔ہم کسی بھی قیمت پر اس ملک کی امن و شانتی کی فضا میں نفرت کا زہر نہیں بھرنے دیں گے۔اور جو اس طرح کی کشش کرے گا وہ اس ملک کا وفا دار نہیں ہو سکتا اور اس ملک کا وفادار نہیں وہ ہمارا وفادار کب ہوگا۔
***
Abdul Moid Azhari (Amethi) Mob:09582859385 Email: abdulmoid07@gmail.com

ملک کا بدلتا مزاج اور انسان کی بے بسی

مذہب کی حفاظت اور دھرم کی رکشا نے بغاوت، نفرت اور دعوی خدائی کا راستہ اختیار کر کے انسانی خون سے اپنی عبارتیں لکھ کر اس صدی کو مذہب و دھرم سے خالی سماج کا ایک شرم ناک اشارہ دیا ہے۔جمہور سماج کی خاموشی نے بے بس اور دم توڑتی انسانیت کو نا اہلی کے سیاسی تابوت میں کیل ٹھونکنے کا کام کیا ہے۔
عبد المعید ازہری

ہندوستان بدل رہا ہے ۔ بڑی تیزی سے تبدیلی اختیا ر کر رہا ہے ۔بیسویں صدی کی آخری دہائی جاتے جاتے آنے والے دنوں کا اشارہ دیتے ہوئے گئی ۔انسانی خون اور مذہبی تقدس کی پامالی سیاست کا موضوع بن گیا اور اس کے لئے مذہب کا متعصبانہ استعمال اس خونی سیاست کو طول دیتا چلا گیا ۔اکیسویں صدی کی کتاب کے دوسرے ہی صفحۃ پر ایک ایسی تحریر رقم ہوئی جو اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب پر ایک بد نما داغ بن گئی ۔پوری دنیا جس قومی یکجہتی کے لئے ملک ہندوستان پر رشک کرتی تھی اس سیاسی نااہلی اور فرقہ واریت نے اس تہذیب و روایت کو سامان تضحیک بنا دیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ صدی پورے سو سال کا خاکہ لیکر آئی ہے ۔ یکے بعد دیگرے ہونے والے حادثات ایک دوسرے سے ملے معلوم پڑتے ہیں۔ نہ صرف ملک ہندوستان میں ہونے والے فسادات بلکہ پوری دنیا میں جس طرح کا مذہب مخالف ماحول بناہوا ہے اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب سوچی سمجھی سازش کے تحت ہو رہا ہے ۔ ایک عام انسانی دماغ اس کی جڑوں تک پہنچنے سے قاصر نظر آ رہا ہے ۔ کچھ لوگ پہنچ کر یا تو اپنے آپ کو اس گیم پلان کا حصہ بنا لیتے ہیں یا پھر پہلو تہی سے کام لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
سیاسی اقتدار کی بھوک نے ایک انسان کو بھیڑیا بنا دیا ہے۔وہ دوسرے ابن آدم کو اپنی خوراک بنا رہا ہے ۔نا اہلو ں کی سیاست نے انسان کو مذہبی تشدد کے بعد برادرانہ نسل کشی پر آمادہ کر دیا ۔فرقہ وارانہ فساد اور دہشت گردانہ واقعات دونوں نے ہی بنی نوع انساں کو دو پاٹوں کے بیچ پیش کر رکھ دیا ۔ پوری ایک نسل اس جانی اور فکر ی اذیت دیکھتے اور برداشت کرتے گزر گئی ۔ایک عجیب سی بے بسی ، مایوسی اور خوف و ہراس کا احساس پیدا ہو گیا ہے ۔ ذہن و فکر مسلسل مفلوج ہوتے جا رہے ہیں۔۲۰۱۱ نے اس مذہب مخالف ہوا کو خاص مذہب کا راستہ بتا دیا اور پوری دنیا میں دہشت و وحشت کے لئے ایک ہی مذہب بدنام ہونے لگا ۔ آج کی صورت حال یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا سے لیکر الیکٹرانک میڈیا تک تحریر و تقریر سے لیکر فلموں تک مسلمان کی ایک ہی پہچان ہے ۔ داڑھی ٹوپی کے ساتھ بندوق کا نیا فیشن مارکٹ میں آیا ۔ راتوں راٹ ہٹ بھی ہو گیا ۔ مفت میں اس نشر عام بھی کیا گیا۔ آج کی صورت حال سے اندازہ لگا ئیں کہ اس کی مقبولیٹ کی شرح کیا ہوگی۔
ایسا نہیں کہ حقیقت لوگوں کو حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔زبان میں گویائی نہیں ۔ قلم میں روشنائی نہیں۔گجرات سے لیکر اکشر دھام تک ،آسام سے لیکر مظفر نگر تک ،ہاشم پورہ سے لیکر مالے گاؤں تک ، گودھرا سے لیکر تاج ہوٹل تک ،اعظم گڑھ سے لیکر دادری تک اور ہریانہ سے لیکر متھرا تک اور بجنور، راجستھان سے لے کر جھارکھنڈ، بنگال اور کشمیر تک ہونے والے حادثات میں اگر مرنے والوں کے جرم کا حساب کیا جائے تو شاید ہی کچھ لوگ ایسے نکلیں گے جو اپنے جرم کی پاداش میں ہلاک ہوئے ہوں۔سوال یہ ہے کہ ان بے قصوروں کے خون سے ہندوستان کی کون سی تاریخ لکھی جا رہی ہے ۔۱۸۵۷ سے لیکر ۱۹۴۷ تک کے عرصہ میں بھی ہندوستان کی سرزمین سرخ ہوئی ہے لیکن اس لال سیاہی نے ہندوستانی کی آزادی کی داستان لکھی ہے ۔ پانی سے بھی کم قیمت پر بہتے ہوئے خون سے آج کسانوں کی خودکشی اور غریبوں پر مہنگائی کی مار کے قصے لکھے جا رہے ہیں۔
کبھی رزرویشن کے نام پر ہزاراوں کروڑ کا نقصان اور عزت و عصمت کی پامالی مفت میں ہوتی ہے تو کبھی گؤ رکشا کے نام پر کسی کو ننگا کر کے انسانیت کی توہین کی جاتی ہے۔ کبھی افواہوں کی رسی سے پھانسی دے دی جاتی ہے ۔خوف و ہراس ، لاچاری و بے بسی رگوں میں خون کے ساتھ حرارت کی طر ح گھر کر گئی ہے۔کھبی آ ر ایس ایس ، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد اور نہ جانے کون کون سی تنظیمیں کھلے عام بندوق و بارود کا مظاہرہ کرتے ہیں کھبی داعش، طالبان، القاعدہ جیسی دہشت گرد تنطیمیں غیر انسانی مذہب مخالف اعمال و فکار کا مظاہرہ کر کے نہ صرف انسانیت کی توہین کرتے ہیں بلکہ مذہب کو بھی بدنام کرتے ہیں۔نہ یہ دھرم کے رکشک ہیں اور نہ ہی وہ مذہب کے ٹھیکیدار ہیں ۔سب اپنی اپنی ڈفلی اپنی اپنے مفاد کی تال ٹھونک رہے ہیں۔اپنی سیاسی نا اہلی کو چھپانے کیلئے مذہبی تعصب کی آگ میں سماجی چولہے پر اقتدار کی روٹی سینکی جا رہی ہے ۔
مذہب کے نام نہاد ٹھیکے دار اور دھرم کے ریاکار رکشک جس مذہب کی تعلیم آج دے رہے ہیں اس کا اصل مذہب اور اس کی گراں قدر انسان دوستی کی تعلیم سے دور کا بھی رشتہ نہیں۔جس سیاست کو آج وقت کی اہم ضرورت گرادانہ جا رہا ہے اس کی نہ تو کل حاجت تھی اور نہ ہی کل پڑنے والی ہے ۔دولت کی ہوس نے انسانی سماج پر ایسا کاری بم گرایا ہے کہ نسلیں گمراہ پیدا ہو رہی ہیں۔ انسانی سماج سے منسوب و متعلق ہر طبقہ راہ راست سے روگرداں نظر آ رہا ہے ۔ ایسے میں کھلی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہے ۔ بولتی زبان گونگی اور چلتے قدم اپاہج ہو جاتے ہیں۔ جب اس کی جڑوں تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو اس کے تار ایک دوسرے سے ایسے ملے ہوئے نظر آتے ہیں بس چکر آجائے ۔ ہر طبقہ کے آغاز و انتہاکا سرا ایک ہی محور پر آکر ٹک جاتا ہے ۔ ہم سوچ نہیں پاتے کہ یہ جائے ابتدا ہے یا مقام انتہا ہے ۔ پھر ایک معمہ سامنے آتا ہے کہ پہلے مرغی یا پہلے انڈا۔مذہب کی ٹھیکیداری پر روئیں یا دھرم کی رکشا پر آنسو بہائیں۔سب کچھ کھلی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ سب خاموش ہیں۔ شاید کسی مسیحاکا انتظار ہے یا پھر شکتی مان، اسپائیڈر مین اور حاتم تائی جیسے افسانوی کرداروں کا، معلوم نہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ کسی کو کچھ نظر نہیں آتا ۔ ذرا سی توجہ کے بعد مسئلہ سمجھ میں آجاتا ہے ۔ لیکن کوئی تدبیر نہیں سوجھتی ۔ہر پہلو پر غور و خوض کرنے کے بعد ذہن ایک ایسے جال میں پھنس جاتاہے، جہاں سے نکلنا ممکن نظر نہیں آتا ۔ذہن پر زیادہ زور دینے کے بعد آنکھے کھل جاتی ہیں۔ پھر دیر رات تک نیند نہیں آتی ۔کئی گھنٹے اس ملال میں گزر جاتے ہیں کہ ایسے خواب کیوںآتے ہیں۔ان سب چکروں میں پھنش کر زندگی خراب نہیں کرنی ہے ۔ لیکن انہیں خبر نہیں ہوتی ہیکہ یہ خواب انہیں آنے والے وقت سے آگاہ کر رہے ہیں۔ جس طرح گزرتی ہوئی نسل نے ان تمام چیزوں کو اپنی ذمہ داری نہ مانتے ہوئے برداشت کیا ۔ مظالم برداشت کرنا ہمارا حق ٹھہرا دیا ۔ذلت و بے بسی ہمار ا مقدر بنا دیا ۔ ایسے ہی ہم بھی اپنی آنے والی نسلوں کیلئے دلیلیں چھوڑ کر جانے والے ہیں۔دنیامیں ایک انسان ظلم کرنے کیلئے آیا ہے اور دوسرا اسے برداشت کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے ۔
کہیں سے تو شروع کرنا ہوگا۔ کسی ایک ہی کو مورد الزام ٹھہرا کر بھی کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ اور پوری دنیا کویکسر تبدیل بھی نہیں کیا جا سکتا۔لیکن انفرادی ذمہ داری تو نبھائی جا سکتی ہے۔جرم و ظلم کو بس ظلم و جرم ہی سمجھ کر ایک انسانی سماج پھر سے تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔*****
Abdul Moid Azhari (Amethi) Email: abdulmoid07@gmail.com, Contact:

Mystic Mantra: Wahdat — A nuanced notion of love

By: Ghulam Rasool Dehlvi
Makhdoom Ashraf’s spiritual theories presented in his oral transmission known as “Lataif-e-Ashrafi” are our guiding light today.

Indian Sufi saints of Persian origin have richly contributed to the beautiful mystical traditions in India. Their essential message included brotherhood (ukhuwat-e-insani), inclusivity (shumuliat) and a wide embrace of religious pluralism and multiculturalism. This was the key behind the vast popularity of the Sufi sages in the country.

One such Indian sage who came from Persia was Makhdoom Ashraf Jahangir Simnani whose shrine is in Uttar Pradesh. A disciple of the 13th century Bengali Sufi sheikh Hazrat Alaul Haq Pandavi and a practitioner of Ibn-e-Arabi’s philosophy of Wahdat al-Wajud (unity of the existence), Makhdoom Ashraf is highly venerated in north India. He founded the branch of the Chishti Sufi order — Ashrafi Silsila — with vital contribution of his distinguished mureed (disciple), Syed Shah Abdur Razzaq Noor Ayn.

Makhdoom Ashraf’s spiritual theories presented in his oral transmission known as “Lataif-e-Ashrafi” are our guiding light today. His discourse seeks to deepen our understanding about the basic tenets of Islam, such as wahdat and al-Tawheed (oneness of God). He introduced wahdat as a deeply nuanced and wider notion of love. “Wahdat means annihilation of the lover in the characteristics of his/her beloved”.

Explaining the essential belief in al-Tawheed (the fundamental tenet of Islam) as an all-inclusive and comprehensive Islamic doctrine, Makhdoom Ashraf has dwelled on different degrees of tawheed:

1. Wahdat-e imani (oneness in belief): It is an act of the servants of God, confirming by heart and verbally acknowledging His uniqueness.

2. Wahdat-e ilmi (oneness in knowledge): Makhdoom Ashraf stated: “This second degree of wahdat is attained within oneself, through inner spiritual knowledge. This is also called ilm ul-yaqeen (confirmed knowledge). It urges one to believe that there is no existence other than the Almighty. All other personas, virtues and actions are nothing in comparison to His persona, virtues and actions. In this degree of wahdat, one is supposed to acknowledge the growth of each person as a manifestation of the divine persona of God.”

3. Wahdat-e hali (oneness in spiritual condition): Makhdoom Ashraf explained: “It implies that the condition of wahdat is the most essential virtue of the spiritual practitioners. All darkness of the existence is lost in the light of wahdat. In this state, one should be overwhelmed by the light of wahdat in such a way as the stars lose their light in the sun.”

Finally Makhdoom Ashraf avers: “Wahdat is an ocean and the muwahhid (the believer) is a drop in it with no power of its own”.

The Notion of Fasting In Islam and Other Religions

Fasting has been a universal religious practice in many religions and within both Eastern and Western societies. From the earliest times, abstinence from eating food or drinking water has been observed for a variety of purposes, some of them being spiritual purification, repentance, mourning, sacrifice, atonement of sins and enhancement of knowledge and power. Today, fasting is also used as a treatment in Naturopathy as well as Ayurveda. Modern medical sciences have proved multiple health benefits gained from fasting. But here we are to talk about the forms and objectives of fasting in world religions:

Fasting in Hinduism:

Fasting is one of the fundamental practices of Hinduism. Hindu devotees are exhorted to fast every once, twice, or thrice a week for the sake of Gods or Goddesses. On their fast days, they also engage in prayer and meditation especially during the nights. The core essence of Hindu fasting is the denial of the physical needs of the body for the sake of spiritual gains. One is encouraged to undergo bodily sufferings and endure hunger and hardship, so his sins would lessen. It is like punishing oneself. So, instead of God punishing him, he punishes himself. Hindus believe this would lessen some of his sins and he would have more good times in his life. According to Hindu scriptures, fasting helps build a personal attachment with the Almighty God by establishing a harmonious relationship between the body and the soul. They say that fasting deters one from indulging in mundane affairs and worldly desires allowing time for spiritual attainment and paying the way to get closer to God. Vedic scriptures enjoin observing a complete fast on the day of Ekadashi. Everyone from the age of eight to eighty, irrespective of caste, gender, or any material consideration, is supposed to abstain from both food and water on this day.

Fasting in Judaism

Fasting in Judaism has myriad objectives. It is seen as both inner-directed and outer-directed in Biblical and rabbinic scriptures. By their act of fasting, Jews invoke God to act graciously towards Israel. While collective fasts are observed to arouse the compassion of the Lord for the whole Jewish community, personal fasts are performed as atonement for individual sins. Jewish bride and groom fast on their wedding day to begin their married life in a state of purity and sanctity, as the act of fasting atones for the previous sins of the couple.

We find comparatively few regular fast-days in Jewish calendar. Yom Kippur (the Day of Atonement), is the most important fast-day for the Jews, as it has been motioned in the Mosaic Law:

“On the tenth day of the appointed month in early autumn, you must deny yourselves. Neither native-born Israelites nor foreigners living among you may do any kind of work. This is a permanent law for you. 30On that day offerings of purification will be made for you, and you will be purified in the Lord’s presence from all your sins. 31It will be a Sabbath day of complete rest for you, and you must deny yourselves” (Leviticus 16:29-31).

Yom Kippur is believed to be the most significant and serious day in the Jewish calendar, which is observed for repenting and grieving for the sins committed in the past as well as praying for forgiveness.

In Judaism, one purpose of fasting is to lower the volume on physical pursuits in order to focus more acutely on our spiritual selves.

Fasting in Christianity

Unger’s Bible Dictionary explains that the word fast in the Bible is from the Hebrew word sum, meaning “to cover” the mouth, or from the Greek word nesteuo, meaning “to abstain.” It means to go without eating and drinking (Esther 4:16). The form of fast prescribed by Jesus Christ was quite similar to the Jewish fast. Therefore, it must have been complete abstinence from food and drink, as it is obvious from the following Sermon on the Mount, in which Jesus Christ instructed his earliest disciples to observe fast:

“And when you fast, don’t make it obvious, as the hypocrites do, for they try to look miserable and dishevelled so people will admire them for their fasting. I tell you the truth that is the only reward they will ever get. 17But when you fast, comb your hair and wash your face. 18Then no one will notice that you are fasting, except your Father, who knows what you do in private. And your Father, who sees everything, will reward you” (Matthew 6:16).

Although the true form of fasting in Christianity is complete abstinence from food and drink, many Christians today don’t observe it. They drink water or juice, eat certain foods and skip certain meals during the fast, or just avoid eating meat for a few days. But some Christians abstain from both food and drink.

In Catholicism, fasting is considered an exercise that helps strengthen spiritually. By giving up something that isn’t sinful helps Catholics control their fleshly desires and maintain bonds with the poor. Lent, a forty-day period of fasting is observed by Roman Catholic, Anglican, and certain other churches in emulation of Jesus Christ’s example of his fast in the deserts of Judea. The Good Friday fast commemorates the day Christ suffered. Recently, Evangelical fasts have become increasingly popular, with people fasting for spiritual nourishment, solidarity with impoverished people. In some Christian societies, fasting is also observed to advance a political or social-justice agenda. As for Protestants, they consider fasting, usually accompanied by prayer, to be an important part of their personal spiritual experience.

Fasting in Islam

Fasting is the one of the five pillars of Islam. It is mandatory for every Muslim male and female to observe fasts during the month of Ramadan. The form of Islamic fasting is to completely abandon food, drink and sexual intercourse from daybreak to sunset. The fasting person should be adult (one who has reached puberty), sane, healthy, and not travelling, as the Qur’an points out:

The month of Ramadan [is that] in which the Qur’an was revealed the Qur’an, a guidance for the people and clear proofs of guidance and criterion. So whoever sights [the new moon of] the month, let him fast it; and whoever is ill or on a journey – then an equal number of other days. Allah intends for you ease and does not intend for you hardship and [wants] for you to complete the period and to glorify Allah for that [to] which He has guided you; and perhaps you will be grateful. (2:185)

The chief objective of Islamic fasting, as enunciated in the Quranic injunctions and Prophetic traditions, is al-Taqwa; meaning righteousness and God-consciousness. The Quran is very clear in its fundamental objective of enjoining fasts upon Muslims. It says: “O ye who believe! Fasting is prescribed to you as it was prescribed to those before you, that ye may become righteous (achieve Taqwa).” (2:183).

So, the essence of fasting in Ramadan is Taqwa, or righteousness, which Muslims are required to observe throughout the whole blessed month of Ramadan and onward.

The Islamic notion of fasting is comparatively broader and more result-oriented. Islam introduced a radical shift in the meaning, form and spirit of the fast. It made the fast more natural and effective. Before Islam, fasting was seen as a symbol of sadness, mourning, atonement for the sins, a reminder of disasters as well as self – mortification, but Islam radicalized such doom and gloom notions of fasting, into an enlightened concept of righteousness and God-consciousness.

اسلام اور دیگر مذاہب میں روزہ کا تصور

روزہ بہت سے مذاہب میں اور مشرقی اور مغربی دونوں معاشروں میں ایک آفاقی مذہبی معمول رہا ہے۔ قدیم ترین زمانے سے ہی کھانے یا پینے سے پرہیز کرنے پر مختلف مقاصد کے تحت عمل کیا جا رہا ہے، ان میں سے کچھ روحانی طہارت، توبہ، سوگ، قربانی، گناہوں کا کفارہ اور علم اور طاقت میں اضافہ کرنا ہے۔ آج روزہ فطری معالجہ اور آیور وید میں ایک علاج کے طور پر بھی رکھا جاتا ہے۔ جدید میڈیکل سائنسز نے روزےسے صحت کے بڑے فوائد ثابت کئے ہیں۔ لیکن یہاں ہمیں دنیا کے مذاہب میں روزے کی شکل اور اس کے مقاصد کے بارے میں بات کرنی ہے :
ہندو مت میں روزہ :
روزہ ہندو مذہب کے بنیادی معمولات میں سے ایک ہے۔ ہندو مذہب کے پیرو کاروں کو دیوی اور دیوتاؤں کی خاطر ہفتے میں ایک، دو یا تین مرتبہ زوزہ کا حکم دیا گیا ہے ۔ اپنے روزے کے ایام میں وہ عبادت اور مراقبہ میں مشغول ہوتے ہیں خاص طور پر راتوں میں ۔ ہندو مذہب میں روزے کا بنیادی مقصد روحانی فوائد کی خاطر جسمانی ضروریات سے باز رہنا ہے۔ انہیں جسمانی تکالیف سے گزرنے اور بھوک اور مصیبتوں کو برداشت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، تاکہ ان کے گناہ کم ہوں ۔ یہ خود کو سزا دینے کی طرح ہے۔ لہذا خدا کے ذریعہ سزا پانے کے بجائے وہ خود کو سزا دیتے ہیں ۔ ہندوؤں کا یہ مانناہے کہ اس سے ان کے گناہ کم ہوں گے اور اس سے زندگی میں اور زیادہ اچھا حالات ہوں گے ۔ ہندو صحیفوں کے مطابق، روزہ جسم اور روح کے درمیان ایک پرامن تعلق کے قیام کے ذریعہ خدا تعالی کے ساتھ ایک ذاتی تعلق استوار کرنے میں معاون ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روزہ اکتساب روحانیت کا موقع فراہم کر کے اور خدا کی قریب حاصل کرنے کے راستے دکھا کر انسان کو دنیاوی معاملات اور خواہشات میں ملوث ہونے سے باز رکھتا ہے ۔ ویدک صحیفے ایکادشی کے دن ایک مکمل روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہیں ۔ ذات، جنس، یا کسی بھی مادی حیثیت سے قطع نظر آٹھ سال سے اسی برس تک کے تمام لوگوں کواس دن کھانا اور پانی دونوں سے پرہیز کرنا ہے۔
یہودیت میں روزہ :
یہودیت میں روزہ کے بے شمار مقاصد ہیں۔ اور بائبل اور عبرانی صحیفوں میں اسے اندرونی ہدایت اور بیرونی ہدایت دونوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ روزے کے ذریعہ ، یہودی خدا سے اسرائیل کی طرف نظر رحمت کی دعا کرتے ہیں ۔ اجتماعی روزے پوری یہودی کمیونٹی کے لئے خداکی رحمت کو متوجہ کرنے کے لئے رکھے جاتے ہیں ، جبکہ ذاتی روزے انفرادی گناہوں کے لئے کفارہ کے طور پر رکھے جاتے ہیں۔ یہودی دولہا اور دلہن پاکیزگی اور تقدس کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی شروع کرنے کے لئے اپنی شادی کے دن روزہ رکھتے ہیں اس لئے کہ روزہ اس جوڑے کے سارے پچھلے گناہ کا کفارہ ہوتا ہے ۔
ہم یہودی کیلنڈر میں نسبتا چند باقاعدہ روزے کے ایام پاتے ہیں ۔ یوم کبور (کفارہ کا دن) یہودیوں کے لئے سب سے اہم روزے کا دن ہے جیسا کہ یہ شریعت موسوی کے قانون میں مذکور ہے :
“ابتدائی موسم خزاں میں مقررہ مہینے کے دسویں دن تمہیں اپنی ذات سے پہلو تہی کرنی چاہیے۔ نہ ہی کوئی اسرائیلی اور نہ ہی تمہارے درمیان رہنے والا غیر ملکی کوئی بھی کام کر سکتا ہے ۔ یہ تمہارے لئے ایک مستقل قانون ہے۔ 30 تمہیں اس دن طہارت عطا کی جائے گی ، اور تم خدا کی بارگاہ میں تمام گناہوں سے پاک کردئے جاؤ گے ۔31 یوم سبت تمہارے لئے مکمل آرام کا دن ہو گا اس دن تم خود سے پہلو تہی کر لوگے (احبار 31 16:29) ” ۔
یوم کبور یہودی کیلنڈر میں سب سے اہم اور سنگین دن خیال کیا جاتا ہے، جو کہ ماضی میں کئے گئے گناہوں کی توبہ اور اس پر نادم ہونے اور معافی کی دعا کرنے کے لئے بھی منایا جاتا ہے۔
یہودیت میں روزے ایک مقصد اپنی روحانیت پر سختی کے ساتھ توجہ مرکوز کرنے کے لئے جسمانی سرگرمیوں کو کم کرنا ہے۔
عیسائیت میں روزہ :
انگریزی کی بائبل ڈکشنری سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بائبل میں لفظ روزہ (fast) عبرانی زبان کے لفظ سم (sum) سے نکلا ہے جس کا مطلب منہ کو ‘ڈھکنا’ ہے یا یونانی لفظ (nesteuo) سے ہے جس کا مطلب ‘‘پرہیز کرنا’’ ہے اس کا مطلب کھائے پیئے بغیر رہنا ہے (آستر 4:16) ۔ حضرت یسوع مسیح کے ذریعہ بیان کی گئی روزے کی شکل یہودیوں کے ہی روزے کی طرح ہے ۔ لہذا، ضرور یہ، کھانے پینے سے مکمل پرہیز ہوگا جیسا کہ یہ پہاڑ پر مندرجہ ذیل وعظ سے واضح ہے جس میں یسوع مسیح نے اپنے قدیم ترین شاگردوں کو روزہ رکھنے کی ہدایت دی :
“اور جب بھی تم روزہ رکھو تو اسے ظاہر نہ کرو جیسا کہ منافق کرتے ہیں، اس لئے کہ وہ شکستہ حال اور پریشان دکھنے کی کوشش کر تے ہیں تاکہ لوگ روزہ رکھنے کے لئے ان کی تعریف کریں ۔ میں تمہیں سچائی بتا تا ہوں کہ صرف وہ اجر ہی ہے جو انہیں ملے گا ۔ 17جب تم روزہ رکھو تو کنگھی کرو اور اپنا چہرہ دھوؤ ۔ 18 اس لئے کہ کوئی یہ نہیں جان سکے گا کہ تم روزے سے ہو ، سوائے تمہارے خدا کہ جو کہ ان تمام باتوں کو جانتا ہے جو تم خفیہ طور پر کرتے ہو۔ اور تمہارا خدا جو سب کچھ دیکھتا ہے تمہیں اس کااجروثواب دے گا (متی 6:16) ” ۔
تاہم عیسائیت میں روزہ رکھنے کی اصلی شکل کھانے پینے سے مکمل پرہیز ہے، لیکن بہت سے عیسائی آج اس پر عمل نہیں کرتے ۔ وہ پانی یا جوس پیتے ہیں مخصوص کھانے کھاتے ہیں اور روزہ کے دوران کچھ خاص کھانوں سے پرہیز کرتے ہیں ، یا صرف کچھ دنوں تک گوشت کھانے سے پر ہیز کرتے ہیں ۔ لیکن بعض عیسائی کھانے پینے دونوں سے پرہیز کرتے ہیں ۔
کیتھولک عیسائیت میں روزے کو ایک ایسا معمول سمجھا جاتا جو روحانی طور پر مضبوطی فراہم کرتا ہے ۔ ایسی چیز کو چھوڑ کر جو کہ گناہ نہیں ہے کیتھولک اپنی شہوانی خواہشات پر قابو پاتے اور غریبوں کے ساتھ رشتوں کو برقرار رکھتے ہیں ۔ یہودیہ کے ریگستان میں یسوع مسیح کی مثال کی ہمسری میں رومن کیتھولک انگریز اور بعض دیگر گرجا گھر کے ذریعہ روزے چالیس دن کا روزہ رکھا جاتا ہے۔ گڈ فرائیڈے کا روزہ اس دن کی یاد میں منایا جاتا ہے جب عیسیٰ مسیح کو ایذا دی گئی ۔ حال ہی میں، انجیلی روزے تیزی سے مقبول ہوئے ہیں جنہیں لوگ روحانی تغذیہ اور غریبوں کے ساتھ اتحاد کے لئے رکھ رہے ہیں ۔ کچھ عیسائی معاشروں میں روزے ایک سیاسی یا سماجی انصاف کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے رکھے جاتے ہیں ۔ جہاں تک پروٹسٹنٹ کا تعلق ہے، وہ ذاتی روحانی تجربے کا ایک اہم حصہ بننے کے لئے عام طور پر روزے کو نماز کے ساتھ شمار کرتے ہیں ۔
اسلام میں روزہ
روزہ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں روزے رکھنا ہر مسلمان مرد اور خواتین پر فرض ہے۔ اسلامی روزے کی شکل صبح سے لے کر غروب آفتاب تک مکمل طور پر کھانے پینے پر اور جنسی تعلقات کو ترک کرنا ہے۔ روزہ دار بالغ سمجھدار صحت مند اور مقیم ہونا چاہئے جیسا کہ قرآن فرماتا ہے :
‘‘(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کر واور اس کا شکر کرو’’۔ (2:185)
اسلامی روزے کا اہم مقصد جیسا کہ قرآنی احکامات اور احادیث میں بیان کیا گیا ہے تقوی اور نیکی ہے۔ قرآن مجید مسلمانوں کو روزے رکھنے کا حکم دینے کے اپنے بنیادی مقصد میں انتہائی واضح ہے قرآن فرماتا ہے : “مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔ “(2:183)۔
لہذا رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کا مقصد تقویٰ یا نیکی ہے جسے رمضان المبارک پورے مہینے میں مسلمانوں کو ادا کرنا ضروری ہے ۔
روزے کا اسلامی تصور نسبتا زیادہ وسیع اور نتیجہ خیز ہے۔ اسلام نے روزہ کے معنی، شکل اور اس کی معنویت میں ایک بنیادی تبدیلی کو متعارف کرایا ہے ۔ اس نے روزہ کو اور زیادہ فطری اور مؤثر بنا دیا ہے ۔ اسلام سے قبل، روزہ کو سوگ، اداسی، گناہوں کا کفارہ، ایک آفت کی یاد دہانی کرانے والا اور یہاں تک کہ نفس کشی کی بھی ایک علامت کے طور پر دیکھا گیا تھا، لیکن اسلام نے روزہ کے اتنے ابتر تصور کو تقویٰ اور نیکی کے روشن خیال تصور میں بدل دیا ۔

Shab-e-Barat (Laylatul Bara’at): Is it Incompatible With True Islam?

By Ghulam Rasool Dehlvi

Every moment, second, minute, hour, day or night that is spent in the submission and obedience to Allah, the Almighty and His beloved Prophet (peace be upon him) is exceedingly meaningful and highly valuable. But there are some specific days, nights and months, which have their own weight due to extra importance attached to them. Among those nights, is Shab-e-Bar’at that is the best of all nights after Laylat ul Quadr or Shab-e-Bara’at in the estimation of Allah.

How and Why Muslims Celebrate Shab-e-Bara’at?

Therefore, devoted Muslims of India, Pakistan, Bangladesh and Afghanistan celebrate the Shab-e-Bar’at on the 15th day of Sha’aban. Although this night is not celebrated in the Arab countries, Shab-e-Bar’at also known as Laylat ul Quadr or Laylat ul Nisf min Sha’aban is a traditional Islamic festival in the South Asia.

This year, Shab-e-Bar’at will be celebrated on the 24th of June, 2013. The celebration generally includes worshipping Allah throughout the night, asking for His forgiveness, reciting the Quran and making a great deal of supplication to Allah, the Almighty. Since the night is believed to be full of divine bounties and spiritual blessings, Muslims customarily clean and decorate their houses with chains of lights and candles. Symbolizing the especial grace of God bestowed on this night, the clusters of decorated houses look very beautiful in the shimmering lights. As lightening is a clear sign of rejoicing divine bounties, it is done as an expression of gratitude to Allah, the Almighty who bestows uncountable rewards and blessings on His worshippers especially on this night. It is also a kind of salute to Him, as it is established by scores of authentic Islamic sources that on this night God writes the destiny of all living creatures for the upcoming year. Muslims with a good festive spirit add to their delights by arranging sweets and sending them to their relatives and friends. Some people organize delicious feasts and invite others to their houses to eat together. Thus, they endeavour, on this night, to adopt the noble Islamic behavioural beauty of “Sila Rahmi” (Maintaining bonds of kinship) in their daily lives. Islam has given it paramount importance as the Prophet is reported to have said:

“Whoever believes in Allah and the Last Day, should maintain the bonds of kinship” (Bukhari)

Among the most prevalent customs to celebrate this night are giving in charity, distributing clothes, foods and other commodities of daily use to the poor and needy. Thus the observance of this night sets good examples of Islamic righteousness mentioned as “Birr” in the Quran, which carries huge weight in the estimation of Allah and earns His immense pleasure. This concept of ‘Birr’ is beautifully illustrated in the Holy Quran:

It is not Birr (righteousness) that you turn your faces (in prayer) towards East or West; but it is righteousness to believe in God and the Last day, and the Angels and the Book, and the Messengers; to spend of your wealth – in spite of your love for it – for your kin, for orphans, for the needy, for the wayfarer, for those who ask, and for the ransom of slaves; to be steadfast in prayer and practice regular charity; to fulfill the contracts which you have made; and to be firm and patient, in pain and adversity and throughout all periods of panic. Such are the people of truth, the God – minded (Qur’an, 2:177).

So, this is how the night of mid Sha’ban is celebrated by mainstream Muslims especially in India, Pakistan, Bangladesh, Indonesia, and Malaysia. Keeping in view the above norms, the core essence of celebrating Shab-e-Bar’at can be summed up in three fundamentals of Islamic worship: Ibaadat (Worshipping God), Sila Rahmi (Maintaining bonds of Kinship) and Birr (acts of righteousness). All the above-mentioned ways of celebrating the night exhort us, in one way or the other, to fulfil our duties towards both our Lord and fellow human beings. While the sleepless night spent in various forms of worship is a gratitude to God, giving in charity, helping the needy, sending sweets to friends and relatives, inviting others to the feasts and things like these are, obviously, effective means to maintain bonds of kinship and attain righteousness. These are the clear objectives of celebrating Shab-e-Bar’at as intended by millions of South-Asian Muslims today.

Wahabi View on this Celebration:

But what can we do when our Wahabi zealots and Salafi puritans declare everything we do as shirk (heresy) and Bida’ah (innovation)? They reject our religious congregations and Islamic celebrations outright even if they are observed with complete regard to the Qur’an and Hadith. The same holds true to the celebration of Laylat ul Quadr (known as Shab-e-Barat in the Indian subcontinent). Despite its having been authenticated and scrutinized by scores of Sahih Hadiths approved by their own imams such as Sheikh Al-Bani, a renowned scholar of Hadith, Wahabis are hell bent on classing it as Bida’ah. Their argument is; since it is not observed in Wahabi-influenced Arab, so it should be banned in all parts of the world. But mainstream Muslims, particularly Indian Muslims are not too naive to tolerate the Wahabi Arabisation of their religion and culture!

Recently, we caught up with an article titled as: Shab-e-Bar’at: Haqiqat Kya hai? (Shab-e-Bar’at: What is the reality?) By Muhammad Asif Iqbal, New Delhi, published and circulated in several Urdu newspapers of India including Jadeed Khabar and Sahafat, published from New Delhi. The crux of the argument in this article is that the celebration of Shab-e-Bara’at has no basis or authority in Islam and it is nothing more than an innovation which was started after the demise of the Prophet (peace be upon him). The writer says in the second Para of this article:

“The reality is that Muslim Ummah today has given this night the status of a celebration associating with it a number of specific customs and rites that they observe with strong faith and gaiety. Just as Muharram (the first Islamic month) has been made a number one celebration, similarly the night of mid Shaban is observed as a number two celebration. But in fact, it is a false and man-made celebration. Neither it is mentioned in the Quran nor does Hadith approve of it. Similarly, we don’t find any mention of it in the history of Sahaba (Prophet’s Companions) or any approval by our clergy of earliest Islamic period. Obviously, Islam is not a religion of celebrations.” (Page no.3, Daily Jadeed Khabar, New Delhi, Friday 21, June, 2013)

He goes on to the extent of declaring it a custom of Iranian fire worshippers (known as Baramikah). In a bid to prove his point, he concocts a baseless story that goes like this: “the celebration of Shab-e-Bar’at was first invented by the Iranian fire worshippers who entered Islam in the 132th year of al-Hijrah, when Banu Abbas made alliance with Iranians and other Ajamis (non-Arabs) hatching a conspiracy to take over the Umayyad caliphate that was backed by Arab militants. Though the Iranians had embraced Islam, but their inbuilt love for the fire could not evade. Therefore, they sought to keep worshipping fire by innovating a custom of lightening the mosques. When Banu Abbas took over the Umayyad caliphate, they allied with the newly converted non-Arab Muslims. As a result, many Iranians reached the big posts of the government. Baramikah were given such high positions in the Islamic state that Khalid Barmaki was made a minister. When he died in 163 AH, the Caliph Haroon al-Rashid appointed his son Yahya as the minister of Baramikah. Since Baramikah were fire worshippers in their early days, their minister Yahya invented a weird custom of lightening sacred fire in the era of Caliph Haroon al-Rashid. Associating some good deeds with the mid night of Shaban, he innovated the custom of lightening on this night. The objective behind his lightening was to evoke love and respect for the fire in the hearts of people. It was he who innovated the Bida’ah of lightening in mosques so that his people could worship the fire. Thus, the custom of firing and lightening in Islam was started 150 years after its advent. With the passage of time, it continued with various forms and changes. Today, the new shape of this custom is before our eyes.” (Page no.3, Daily Jadeed Khabar, New Delhi, Friday 21, June, 2013)

Refutation:

The Holy Qur’an States: “Indeed, We sent it down during a blessed night. Indeed, We were to warn [mankind].” (44:3)

Although the majority of the Qur’an exegetes consider the “blessed night” in the above verses to refer to the Night of Decree which is considered to be in the month of Ramadan, some commentaries also mention that this “blessed night” may be that of mid-Sha`ban. This view is based on the scores of Ahadith about the great merits of the latter. Consequently, a great number of the Quranic exegetes and scholars of Hadith have unanimously agreed upon the observance of this night. The famous scholar of Islam, juristic expert and the approved exegete of the Quran Imam Suyuti writes: “As for the night of mid-Sha`ban, it has great merit and it is desirable (Mustahab) to spend part of it in supererogatory worship.” [Haqiqat al-sunna wa al-bida’t aw al-Amr bi al-Ittiba` wa al-Nahi `an al-Ibtida Page No. 58]

Authentic Ahadith about the merits of Shab-e-Bara’at

Usually the Wahhabis/Salafis/Ahle Hadith are seen claiming that all Hadiths about the merits of Shab-e-Bar’at are “Daeef” (Weak). First of all, the Hadith of Ibn Habban is termed as “SAHIH” by classical scholars of this technical Islamic science. Even if any follower of such groups does not believe in the classical scholars of Hadith, here is a compelling evidence from the Salafi/Wahhabi so-called Mujaddid of the last century and a reputed scholar of Hadith, Nasir ud Din Albani. He declared Hadiths of 15th Shabaan as “Sahih” (authentic). See: (Silsilat ul-Ahadith-as Sahiha, Nasir ud din Albani, Volume No. 3, Page No. 135)

Among the Hadiths stressing the importance of 15th Sha`ban (Laylat al-Quadr) is the following:

(1) Narrated by Aisha (r.a), I missed Allah’s Messenger during the night and found him in al-Baqui’. He said: Were you afraid that Allah and His Messenger would deal unjustly with you? I said: Allah’s Messenger, I thought that you had gone to some of your other wives. He (the Prophet) said: Verily Allah, the Exalted and Glorious, comes down to the heaven of the world in “the middle night of Sha’ban” and forgives sins even more abundant than the hair of the goats of Kalb. [Sunan Tirmidhi Volume 001, Hadith Number 670, Ibn Maja Volume 002, Hadith Number1379]

(2) Narrated by Abu Musa al-Ash’ari, Allah’s Messenger said, Allah, the Exalted and Glorious looks down on “the middle night of Sha’ban” and forgives all His creation, except a polytheist or one who is mushahin(one bent on hatred). [Sunan Ibn Maja Volume 002, Hadith Number 1380]

(3)  Narrated by Abdullah Ibn Amr Ibn al-‘As Allah’s Messenger said, Allah, the Exalted and Glorious looks down on “the middle night of Sha’ban” and forgives all His creation except two people, the Mushahin (one bent on hatred) and the murderer. [Musnad Ahmad Volume 003, Hadith Number 6353]

(4) It is reported by Abu Thalaba that the Prophet (peace be upon him) said: On the 15th night of Shabaan, Allah looks over at his creation and forgives all the believers except for the one who begrudges and hates. He leaves them in their enmity. [Bayhqi, Tafsir ad-Dar al-Manthur under the Verse 44:3]

(5) It is reported by Muaz bin Jabbal that the Prophet (peace be upon him) said: Allah looks at His creation in “the night of mid-Sha`ban” and He forgives all His creation except for a Mushrik (idolater) or a Mushahin (one bent on hatred). [Ibn Hibban, Sahih, ed. Shu`ayb Arna’ut Volume 012: Hadith Number 5665]

(6) Narrated by A’isha: She said: The Prophet (peace be upon him) stood up in prayer during part of the night and made his prostration so lengthy that I thought his soul had been taken back. When I saw this I got up and went to move his big toe, whereupon he moved, so I drew back. When he raised his head from prostration and finished praying, he (pbuh) said: “O A’isha, O fair little one (Humayra’)! Did you think that the Prophet had broken his agreement with you?” She replied: “No, by Allah, O Messenger of Allah, but I thought that your soul had been taken back because you stayed in prostration for so long.” He said: “Do you know what night this is?” She said: “Allah and His Prophet know best.” He said: “This is the night of mid-Sha`ban! Verily Allah the Glorious and Majestic look at His servants on “the night of mid-Sha`ban, and He forgives those who ask forgiveness, and He bestows mercy on those who ask mercy, and He gives a delay to the people of envy and spite in their state.”

[Bayhaqi in Shu`ab al-Iman Volume 003: Hadith Number 3835]

(7 IImran bin Husain (ra) reported, Allah’s Messenger (peace be upon him) having said to him or to someone else: Did you fast in the “Middle of Sha’ban?” He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: If you did not observe fast, then you should observe fast for two days. [Muslim Book 006, Number 2607]

  Scholarly Opinions

The virtue of the night of mid Shaban has been established right from the Prophet (peace be upon him) himself and has come from multiple channels of transmission from Abdullah bin Amr, Muadh, Abu Hurairah, Abu Thulabah, Awf bin Malik, Abu Bakr, Abu Musa, Aishah (May Allah be pleased with all of them) each of the narrations strengthening each other.

Imam Shafi’i writes:

“Verily, Dua is accepted on five nights: the night of Juma’, the night of Eid Al-Adha, the night of Eid Al-Fitr, the first night of Rajab, and the 15th night of Shabaan”. [Al-Umm, Volume 001, Page No. 231]

Imam Shurunbulali Hanafi writes:

“It is desirable to revive the last ten nights of Ramadan, two nights of Eidain (Eid ul-Fitr and Eid ul-Adha), ten nights of Zil Hijjah, and the 15th night of Sha`ban.” [Noorul Eidhah Page No. 63]

Shaikh Abu-Ishaq Ibrahim Al-Hanbali writes:

“It is desirable to revive the time (with Salat and Ibadah) between the two E’sha’s (Maghrib and E’sha) because of the Ahadith. Many scholars say: Similarly with the night of Ashura, the first night of Rajab, and the 15th night of Sha`ban”. [Al-Mubdi Volume 002, Page No. 27]

Sheikh Mansoor Bahoti Hanbali writes:

“As for the 15th night of Sha`ban, it is a night of virtue. Some of the Salaf prayed the whole night, although establishing congregational prayers (on this night) is good innovation. And the reward of Ibadah on “the 15th night of Sha`ban” is the same as the reward of Ibadah on the night of E’id. [Kash-shaful Qina, Volume 001: Page No. 444]

Sheikh Mubarakpuri (Salafi scholar) writes:

“You should know that a sufficient number of Ahadith have been narrated confirming “the virtues of the 15th night of Sha`ban”. All these Ahadith prove that it has a basis.

After relating many Ahadith about the importance of this night, he says:

“The sum of all these Ahadith is strong evidence against the one “who thinks there is no proof” of the virtue of the 15th night of Sha`ban” and Allah knows best. [Tuhfat ul Ahwadhi Volume 003: Page. 365-367]

Ibn-Taimiyyah when asked about the 15th night of Sha’ban replied:

‘‘As for the 15th night of Shabaan, there are many narrations and Athar (quotes from the Sahabah) regarding its virtue. It has been reported of the Salaf that they prayed in this night. Therefore, praying alone on this night, having precedence in the Salaf, is sufficient evidence and something of this kind surely cannot be denied”.

At another occasion, Ibn-Taimiyyah was asked the same question and he replied:

“If one prays on this night alone or in a select company of people as many groups amongst the Salaf did, “then it is good”. [Fatawa Ibn Taimiyyah Volume 23, Page 131-132]

Conclusion:

To sum up, the virtues of the blessed night of mid Sha’aban are established by a Qur’anic verse, scores of authentic Ahadith and a group of the Salaf (سلف “predecessor” is an early Muslim of the first three generations of proponents of the religion). So, it is highly recommended to celebrate this night and stay up on it, and the Wahabi view declaring it Bid’ah (innovation) is a “Reprehensible” (Munkar) opinion.

Seminar: “Sufism and Humanity” in Lucknow:4th December

4th December,Lucknow

The All India Ulama & Mashaikh Board, the apex body of the Sufi Sunni Muslims in India, held a national seminar:  “Sufism and Humanity”on 4th December in Vishweshvaraiyah Auditorium in Lucknow.

dsc_6231 dsc_6099

Sufi Sunni ulema and intellectuals with various backgrounds spelled-out their opinions on the current ongoings. Several Indian Sufi clerics, who run some of the largest Sunni Islamic seminaries in India, seemed worried about the growing phenomenon of pseudo-Sufism or “neo-Sufism” dressed in diametrically different political forms.

 

The national seminar on Sufism was held in the wake of the recently organised 33rd annual conference of the Jamat Ulama-e-Hind in the largest Sufi shrine in the country, Ajmer Dargah — perhaps for the first time in the Indian history. AIUMB averred that the Ajmer Dargah was dragged into a well-worked-out political campaign by Jamiat-Ulama-i-Hind (JUH), an avowed supporter of the Congress party. The key members of the JUH whose ideologues have clearly and categorically declared Sufism as “anti-Islamic”, chose to hold their 33rd annual conference in the prime Sufi Dargah in India, Ajmer Sharif in Rajasthan. “It was an out-and-out political attempt to woo the mainstream Indian Muslims anchored in age-old Sufi traditions”, said the various participants and speakers at the Sufi seminar in Lucknow.

 

It is noteworthy that the JUH had castigated the Sufi practitioners as “pseudo-Sufis” in the past. Therefore, the Sufi Ulema asked as to “how would the JUH like to brand itself now when it has held its 33rd largest annual conference in Ajmer using the prime Sufi shrine in India for its own political ends”?

 

The Lucknow Sufi seminar’s key participants — 30-40 Khankaah’s representatives present, 200 Ulema’s Attended and in total the auditorium was filled with 1000 person .They exhibited great zeal in strengthening the foundations of Sufism to combat all the forms of violent extremism. 15 Selected Papers were presented by Sufi Scholars.It was widely covered in the Newspapers,Specially Urdu. Few Papers gave special 4 pages in all the editions of there Newspapers.

 

Remarkably, while the Lucknow Sufi seminar stressed on composite nationalism (muttahida qaumiyat), inclusive democracy (jumhuriat) and pluralism (qaumi yakjehati) in its final-day declaration, the annual conclave of the JUH in Ajmer promoted the religionist and sectarian narratives.

 

Hazrat Maulana Syed Mohammad Ashraf, founder and president of AIUMB inaugurated the seminar and spoke at length about the misdeeds of Wahhabi/ Salafi elements that are tormenting social fabric in the country and  creating an atmosphere of  confrontation.

He also said that  AIUMB has succeeded in exposing all the Wahhabi/ Salafi elements in India and to such an extent that they are now in the process of recreating their  new identity card. He said that all of a sudden  in a long history of 100 years , Jamiate Ulema e Hind has woken up to claim Hanafi and Chishty tag to save its  reputation which has well been tainted by thier  proclaimations, practices and  presentations.

The books written by Wahhabis in these 10 decades bear testimony of their adherance to wahhaabi ideology and  their strong will to propagate the ideology through speeches, books , curriculum and teaching  and preaching.

Now they are at a loss to remain attached with the tag and want to misguide the people and the government by claiming  to be Sufis. Hazrat Khawaja Moinuddin Chishty was under attack for 100 years and now the great saint of all times has gathered the attention and respect of all those that took pride in hurting Dargah culture for decades.

The seminar was  organised at Vishweshwaraiah auditorium and was well attended function. people from all shades of life and far flung areas  from different parts of country came to attend the seminar. A memorandum was also shared with the administration on the same.

It was also stressed in the Lucknow conclave that Sufism belies all the notions which Salafism stands for. Traversing from Central Asia to the Indian subcontinent, Sufism incorporates harmonious local practices like music and qawwali which are rejected by the radicals in Islam.

Not long ago, in March 2016, World Sufi Forum was slated as the first-ever mega Sufi event of counter-extremism with more than 200 international dignitaries from 20 countries. Though seen as the first and last event as such, it, however, seems to have begun an unending onslaught on the particular ideology which the Sufi forum believes is a grave threat to the country’s pluralistic ethos.

 

आतंकवाद के विरुद्ध आन्दोलन का नाम हुसैनियत है

15 Oct
Syed Alamghir Ashraf

इस्लाम मानवता का धर्म है। इस्लाम शब्द ही से इस धर्म का उद्देश्य और उस का अर्थ समझ में आ जाता है। इस्लाम एक इन्सान के  निजी एवं व्यक्तिगत जीवन से लेकर उसके पारिवारिक, सामाजिक धार्मिक, राष्ट्रीय एवं अंतर्राष्ट्रीय जीवन जीने का तरीका सिखाता है। पूरे विश्व में शांति की स्थापना करने हेतु पैगम्बर मुहम्मद SAW साहब ने फ़रमाया की पड़ोसियों का ख़याल रखो। वो पड़ोसी चाहे जिस धर्म या समुदाय से सम्बन्ध रखते हो। अपने आप को किसी धर्म या समुदाय से सम्बंधित करने वाले ढोंगी हर जगह पाए जाते हैं। वो सम्बंधित धर्म और समुदाय को नुकसान पहुन्चाते हैं। उस धर्म का अपमान करते हैं। इस्लाम धर्म से अपने आप को सम्बंधित कर इस्लामी शिक्षाओं का उल्लंघन और उसे अपमानित करने वाला इस्लामी इतिहास में सब से बड़ा आतंकी और अत्याचारी व्यक्ति यज़ीद है। जिस ने पैग़म्बर SAW साहब के परिवार को शहीद किया और औरतों और बच्चों पर ज़ुल्म किया। अब अगर इस्लाम धर्म को यज़ीद की विचारधारा से देखा जाये तो उस में ज़ुल्म, अत्याचार, हिंसा और अन्याय मिलेगा। अगर इस्लाम को हुसैन के कर्मों और उनकी सोच के आधार पर देखा जाये तो इस्लाम में न्याय, शांति, प्रेम, अहिंसा सब्र और सौहार्द मिलेगा। यह एक वास्तविकता है कि अधर्म का अंत होता होता और सत्य अजर और अमर होता है। यही वजह है कि यज़ीद के अत्याचारों का सूर्य शाम के अंधेरों में डूब गया लेकिन हुसैन के सत्य की किरने आज भी हर सवेरे में चमकती हैं। आज हुसैन अ.स. सिर्फ हज़रत अली अ.स. के बेटे और हज़रात मुहम्मद SAW के नवासे नहीं रहे बल्कि क़यामत तक के लिए सत्य और असत्य, सच और झूट, धर्म और अधर्म के बीच फ़र्क और विभाजक का नाम हुसैन है। अत्याचार और अन्याय के विरुद्ध उठने वाली हर आवाज़ का नाम हुसैन है। ज़ुल्म और ज़्यादती के विरुद्ध खड़ा होने वाला हर व्यक्ति हुसैनी है। आल इण्डिया उलमा व मशाईख बोर्ड इसी हुसैनी मिशन को जन जन तक पहुँचाने का काम कर रही है। इस्लाम के नाम पर फैलाई जा रही दहशतगर्दी और उस पर हो रही घिनावनी राजनीति के विरुद्ध तमाम खानकाहों, दरगाहों और आस्तानों की सामूहिक आवाज़ बन कर आल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड देश भर में गग्रुकता अभियान चला रहा है। साम्प्रदायिकता के विरुद्ध आपसी सौहार्द को बहल करने का कार्य कर रहा है। इस संगठन को विश्वास है की सूफियों और सूफीवाद में यकीन और आस्था रखने वाले लोग इस अभियान का हिस्सा बनेंगे और देश के कोने कोने में नफरत के विरुद्ध प्रेम के दीपक हर भारतीय के दिल में रोशन करेंगे। आतंकवाद और कट्टरवाद के हर रंग को मुंह तोड़ जवाब देंगे। यह देश हमारा है। हुसैन अ.स. हमारे है। उनका मिशन हमारा है। हज़रात इमाम हुसैन अ.स. ने फ़रमाया ज़ुल्म और अत्याचार के विरुद्ध जितनी देर से खड़े होगे बलिदान उतना ज्यादा देना होगा। कर्बला में हजारों यज़ीदी फ़ौज के सामने तनहा हुसैन ने ज़ालिम यज़ीद के सामने सीना तान कर यह पैगाम दिया कि ज़ुल्म सहना भी ज़ुल्म है। अकेले पर और कमजोरी की परवाह किये बगैर बुराई के खिलाफ खड़े हो जाओ। सत्य कभी कमज़ोर और तन्हा नहीं होता। आज अधर्मी और असत्य का साथी ज़ालिम यज़ीद का नाम लेने वाला कोई नहीं। कर्बला के बाद किसी माँ ने अपने बच्चे का नाम यज़ीद नहीं रखा। सत्य और धर्म की खुदाई आवाज़ बनकर हुसैन आज भी हर नेक इन्सान के दिल में बसे हैं। जब से इन्सान बेदार और जागरूक हुआ है हर कौम पुकारती है कि हमारे हैं हुसैन।

आज कुछ आतंकवादी अपने आप को मुसलमान कहते हैं और अपनी दहशत के कारोबार को इस्लाम की सेवा कहते हैं। इस्लाम के इन दुश्मनों और उस जैसी विचाधारा रखने वाले हर व्यक्ति को यह समझना होगा की इस्लाम यज़ीदी विचाधारा का नाम नहीं है इस्लाम हो हुसैन आचरण और विचारधारा का नाम है। आज के इस युग में यज़ीदी विचारधारा को वहाबी विचाधारा से जाना जाता है। जो कल यज़ीदी थे आज वही वहाबी हैं। कल भी पैगाबर ए इस्लाम के परिवार वालों ने इस विचारधारा का विरोध किया था और आज भी वो परिवार इस विचारधारा का विरोध कर रहा है। इस परिवार की सामूहिक आवाज़ का नाम आल इण्डिया उलमा व मशाईख बोर्ड है।

उलमा, मशाईख और विद्वानों का यह संगठन पिछले एक दशक से आतंकवाद और कट्टरवाद के विरुद्ध एक लम्बी लड़ाई लड़ रहा है। इस के लिए कई महासभाए और महासम्मेलन का आयोजन भी किया। इसी साल मार्च में अंतर्राष्ट्रीय सूफी सम्मेलन के नाम से एक बड़े सम्मेलन का आयोजन दिल्ली में 4 दिनों तक किया गया। इसी कड़ी को आगे बढ़ाते हुए यह संगठन आगामी 4 दिसंबर को एक सुन्नी कांफ्रेंस लखनऊ में करने जा रहा है जिस में देश भर की सूफी सज्जादा और विद्वानों को आमंत्रित किया गया है। चूँकि यह सम्मेलन देश में कट्टरता और साम्प्रदायिकता के विरुद्ध एक आन्दोलन है इस लिए यह हर भारतीय का कार्यक्रम है। इस में हर भारतीय को भाग लेना चाहिए। मीडिया बंधुओं से मुख्य रूप से निवेदन है की इस अभियान का हिस्सा बने और अपन सहयोग दें।