वक़्फ़ बोर्ड और DDA का भ्रष्टाचार: अब्दुल मोईद अज़हरी

کی بڑھتی بدعنوانیاں DDA وقف بورڈ اور
عبدالمعید ازہری
آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ یوتھ جنرل سکریٹری
ہندوستان سمیت پوری دنیا جہاں کہیں بھی اسلامی حکومتیں ہیں یا مسلم قوم قدیم زمانے سے آباد ہیں، تقریبا ہر جگہ وقف جائداد کا تصور اور اس کے تئیں نظم و نسق کا نظام موجود ہے۔ اس زمرے میں ہندوستان وقف جائداد کے معاملے میں کئی مسلم ممالک کی اراضی اوقاف سے آگے ہے۔ وقف جائداد کی نگہداشت کے لئے الگ الگ ممالک میں الگ الگ نظام قائم ہیں۔ کہیں سیدھے حکومت کی زیر نگرانی میں ہے تو کہیں مسلم اوقاف کے زیر نظم ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی ان اوقاف کی جائدادوں کے لئے ایک بورڈ موجود ہے۔ جسے ہم وقف بورڈ کہتے ہیں۔ جس طرح سے حکومت کے دیگر ادارے ملک اور ملک کے باشندوں کی علمی،سیاسی ، سماجی اور اخلاقی تربیت و ترقی کے لئے قائم کئے گئے ہیں تاکہ اس ملک کا ہر باشندہ ذی شعور اور قابل و لائق اور فائق نکل کر ملک اور قوم کو ترقی سے ہم کنار کرے اور ایسا ہو بھی رہا ہے۔ اسی طرح سے وقف بورڈ کا قیام بھی اسی مقصد سے کیا گیا تھا۔ اس کی جائداد کا صحیح استعمال کر کے اقلیتی طبقے کی تعلیمی، معاشی اور سیاسی و سماجی زبوں حالی اور زوال پذیری پر قدغن لگایا جائے۔ اس کے صحیح استعمال سے نچلے طبقے کو بھی ترقی دے کر ملک کی تعمیر و ترقی کا برابر حصے دار بنایا جائے۔ تاکہ ملک کو ایک ساتھ مل کر ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں اول مقام دلا کر اس کے تئیں اپنی جان مال قربان کرنے والوں کو خراج پیش کیا جائے۔
وقف جائداد وہ جائداد ہیں جنہیں کار خیر اور ایصال ثواب کی نیت سے قوم کی خدمت کے لئے وقف کی گئی ہیں۔ صاحب حیثیت، زمیں دار اور اہل ثروت نے اپنے متعلقین اور لواحقین کے لئے ان کے ایصال ثوب کے لئے یا کار خیر کی نیب سے انہیں وقف کر دیا کہ اب اس جائداد کا استعمال امت کی بھلائی اور اس کی تعمیر و ترقی میں استعمال ہو۔ بنیادی طور پر وقف جائداد کا تصور یہیں سے وجود میں آیا۔ مذہب اسلام میں مرنے والے سے اس کی موت کے بعد بھی تعلق کا ایک اہی راستہ ہے۔ صدقہ جاریہ اور اس کے لئے ایصال ثواب کرنا۔ان جائداد، مال و دولت کو ضرورت مندوں پر خرچ کر کے اس کے صلہ میں مرحوم کے لئے دعائیں کرنا، ان کی مغفرت چاہنا۔یہ سلسلہ قدیم زمانے سے مسلمانوں میں رائج اور قائم و دائم ہے۔ اپنی اپنی حیثیت،نیت اور عقیدت و اردات کی بنیاد پر یہ کار خیر رواں دواں ہے۔جس کے نتیجے میں آج ملک بھر کی وقف جائداد کا اندازہ لگایا جائے تو اقلیت کے ساتھ ملک کے حالات بدلنے کے لئے کافی ہے۔ اس کے صحیح استعمال سے ایک اندازے کے مطابق محض دس برسوں میں قوم مسلم کے حالات یکسر بدل سکتے ہیں۔ان جائداد کے پیچھے ایک اور دلچسپ حقیقت اور سبق آموزنمائندہ اوراق پنہاں ہیں۔ جنہیں کم ہی کھولا جاتاہے۔ عام طور پر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ اکثر اوقاف کی جائداد ایسی جگہ ہیں جہاں کسی بزرگ کی کوئی قبر، مزار، درگاہ اور اسی سے وابستہ ایک مسجد ہے۔ وقت و حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ تعمیر و ترقی بھی انہدام و تنزلی بھی ہوتی رہی۔ کچھ جگہیں تو کافی نمایاں اور ترقی یافتہ ہو گئیں اور کچھ اتنی تاریکی میں چلی گئیں کہ آج و ہ موشیوں،غلیظ خانوں کی استعمال گاہ بن گئیں۔
بہر حال اس کے پیچھے کی دلچسپ تاریخ یہ ہے کہ ہندوستان جب اسلام آیا تو تصوف کے کردا ر میں آیا تھا۔ ایک درویش اپنی انسانی ہمدردی اور قومی ہم آہنگی کی تعلیم سے لوگوں کے لئے ہدایات کے راستے ہموار کرتا تھا۔ کسی جگہ بیٹھ کر وہ انسان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرتے ہوئے اپنی زندگی گزارتا تھا۔ لوگ ان کے اس عمل اور کردا ر سے متاثر ہو کر اس بزرگ کے مذہب کو قبول کر لیتے تھے۔ اس انسانی ہمدردی اور رواداری کے چلتے ان کے پاس لوگوں کا جم غفیر ہونے لگتا تھا۔ لوگ دور دراز سے سفر کر کے ان بزرگوں کے پاس کچھ دن گزارنے اور انسانی رواداری کی تعلیم سیکھنے آتے تھے۔ مہینوں کا قیام رہتا تھا۔اب مہینوں تک رکنے کے لئے ان کی خاطر قیام و طعام کا انتظام بھی ضروری تھا۔ تو اس کے لئے اہل ثروت نے سخاوت دکھائی اور اس وقت کے حاکموں نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس بزرگ کے مسکن کے قریب کی زمینوں کو اسی کار خیر کے لئے وقف کر دیا۔ اب اس میں کھیتی بھی ہوتی تھی۔ اور اسی کے غلے سے بھوکوں کو کھانا بھی کھلایا جاتا تھا۔اس طرح غریبوں اور مسکینوں کو ایک ایسا مرکز مل گیا جہاں سب کو کھانا ملتا تھا۔جہاں لوگوں کے ساتھ ہمدردی ان کے مذہب یا ذات کی بنیادپر نہیں بلکہ ان کی ضرورت کی بنیاد پر ان کے ساتھ معاملات کئے جاتے تھے۔
دہلی سمیت ملک کے الگ الگ حصوں میں خصوصا شہروں میں ان کی ترقی کے لئے قائم کردہ ایک ادارہ ہے جسے دہل میں DDA کہتے ہیں۔ دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی۔دہلی، پنجاب اور یو پر سمیت کئی ریاستوں کی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کاحال یہ ہے کہ اس نے اوقاف پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ وقف بورڈوں کی ملی جلی سازش سے یہ کام بڑی بے باکی اور مجرمانہ طریقے سے عمل میں آرہا ہے۔دہلی وقت بورڈ کے وقف جائداد کی بڑھتی سودے بازی نے کئی بڑے سوال کھڑے کر دئے ہیں۔ اس جائداد کا استعمال قوم کے لئے بہترین اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک کا قیام عمل میں آ سکتا تھا۔ صحت کی نگہداشت کے لئے نہ صرف بڑے اسپتال بلکہ میڈیکل کالج بھی قائم ہو سکتے تھے۔ جس سے پوری قوم مستفید ہوتی۔ لیکن اس کی غیر قانونی سودے بازی نے سیاسی لٹیروں کو بھی اس جانب متوجہ کرا دیا ہے کہ یہ بکنے والا ادارہ آپ کی بولی کا انتظار کر رہا ہے۔
وقف بورڈ کی یہ بے رخی کیوں ہے یہ سمجھ سے پرے ہے۔آیا انہیں بزرگوں کی روایت سے دلچسپی نہیں ہے۔ ان کے خدمت خلق کی روایت انہیں اچھی نہیں لگتی۔ درگاہ یا قبر و مزار اور ان کی تاریخ پسند نہیں۔ لہٰذا ایک گھنونہ کام اور سامنے آیا کہ مسجدوں کو مسمار کرنے کا کام شروع ہو گیا۔ چند برس قبل مہرولی کی غوثیہ مسجدسے شروع ہونے والا انہدام کا سلسلہ خسرو پارک کی مسجد اور لال مسجد تک ہوتا ہوا دہلی کی کئی اہم مساجد تل پہنچ چکا ہے۔ وقف بورڈ سامنے سا تماشہ دیکھ رہی ہے ۔اس جائداد کی حقدار قوم بھی خاموش ہے۔ جب اس کے سیاسی نااہل رہنما ہی اس کے سوداباز ہیں تو بے چاری قوم کر بھی کیا سکتی ہے۔اس وقف بورڈ میں عقیدہ اور مسلکی تصادم کا بھی بڑا رول ہے۔ عام طور پر اس جائداد کے نگراں ایسے لوگ منتخب ہوتے ہیں جنہیں اس صوفیوں اور بزرگوں کی روایات سے کسی بھی قسم ربط نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار خدمت خلق کے مثالی بزرگوں کی تاریخیں مسخ کر دی گئیں۔ ان کی روایات جلا دی گئیں۔یہ اپنی کوٹھیاں اور حویلیاں بناتے رہے۔ ابھی تک ایسے لوگ اس جائدا د کی نگہداشت کے لئے بورڈ کے ذمہ دار نہیں بنے جو صحیح معنوں میں اس کا جائز استعمال کر سکیں۔
جو بھی آیا ہے صرف مسمار اور کاروبار کیا ہے۔
حکومتوں کو اس طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صرف مسلم ادارہ یا اسی کے لئے مخصوص کوئی ادارہ اگر نہیں بنتا تو کم سے کم اس کا استعمال عام ہندوستانیوں کی فلاح بہبود کے لئے تو ہو سکتا ہے۔ تعلیمی اور طبی مراکز قائم کر لے ملک کی لا علمی اور عدم صحت کو تو کم از کم دور کیا جا سکتا ہے۔اس بورڈ اور اس کے ساتھ DDA کی بد عنوانی اورناجائز کاروبار کو روکنا ہوگا۔اس جائداد کا صحیح اور جائز استعمال کر کے ملک اور قوم کی ترقی کے کئی اہم اور بڑے مراحل طے کئے جا سکتے ہیں۔وقف بورڈ میں کسی ایسے کی تقرری پر فوری رو ک لگائی جانی چاہئے تو ان کی تاریخ اور تعلیم سے واقف نہیں اور اس روایت میں یقین نہیں رکھتا ۔ کیوں کہ اگر اس کی ذاتی عقیدت نہیں ہے تو اس کاروبار ہی کرے گا۔
*****
Abdul Moid Azhari (Amethi), Contact: 9582859385, Email: abdulmoid07@gmail.com

پھر سی غلامی کی راہ پر گامزن ملک: عبدالمعید ازہری

کل ہم انگریزوں کے غلام تھے ۔ آج ہماری غیر اخلاقی رواداری ، نفرت و تشدد، مذہب کے نام پر انتہا پسندی،بد عنوان سیاست اور مجبور اور کمزور قانون ہمیں غلامی کی زنجیریں پہنا رہا ہے ۔نفرت و تشدد کی اس آگ میں صرف اور صرف انسان جل رہا ہے ۔ انسانیت دم توڑ رہی ہے ۔مذہب اپنی کتابوں میں سسک رہا ہے ۔مذہبی رہنما اپنی عبادت گاہوں میں قید ہو گئے ہیں۔بد عنوان سیاست کا ننگا ناچ امن و آشتی ، اخوت و محبت کے چہرے پر تیزاب ڈال رہا ہے ۔اس تاریک راہ میں ہمیں امید ہے تو بس اتنی کہ ہر فرعون کے لئے کو ئی موسیٰ ضرور ہے اور ہر یزید کیلئے کو ئی حسین۔آج انہیں دونوں کرداروں کی ضرورت ہے ۔ہر یزید کا تخت پلٹے گا اور ہر فرعون غرقآب ہوگا کیونکہ ہر ظلم کی ایک حد ہے ،ہر زیادتی کی ایک سیما ہے۔ انسان کی فطرت اگر چہ صبر اور ضبط ہے لیکن اس کی بھی ایک مدت ہے ۔جیسے نیند کی ایک مدت ہے ۔اس سے زیادہ نہیں سو سکتا۔اگرکسی دوا کا سہارا لیا ہے، تو اس کا بھی ایک وقت ہے لیکن اس کے بعدبہر حال اسے بیدار ہونا ہے۔ یہ بھی ایک سچ ہے کہ انسان اگر حساب پر آ جائے تو حساب کا بھی حساب کتاب ہو جاتا ہے کیونکہ انسان اس بڑے حساب کرنے والے کا ایک مظہر ہے۔ اس انسان میں بھی اسی کا نور ہے۔تو انسان جب نیند یا بے ہوشی کے بعد بیدار ہوتا ہے، تو اس کی بیداری بھی عجیب ہوتی ہے۔یہ بیداری ایک تاریخ لکھتی ہے۔ وہ سارا حساب لیتی ہے۔ وہ دریا کو پیاسا اور سمندر کو بے سہارا کر دیتی ہے۔وہ تاریخ کی طرح ہے کہ اگرچہ خاموش ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بے حس ہے۔وہ اپنا پورا کام کرتی ہے۔جب وقت آتا ہے، تو آئینہ کی طرح سب کچھ سامنے رکھ دیتی ہے۔
انسان کی فطر ت جہاں ایک طرف محبت اور ہمدردی ہے وہیں دوسری طرف غصہ اور لڑائی بھی ہے۔ بسا اوقات ایک لکیر بھی کھنچ جاتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ لکیر زیادہ دیر تک نہیں رہتی۔ ایک دن مٹتی ہے ۔ گنگا جمنا کے بیچ کا فرق ختم ہوتا ہے ۔ پھر سمندر کی لہروں کی مانند ایک انقلابی موج اٹھتی ہے جو اپنی رفتار سے ساری برائیوں کو ختم کر دیتی ہے ۔
در اصل صبرو ضبط کا یہ وقفہ ایک موقعہ ہے۔غلطیوں کو آسانی سے ختم کرنے کے لئے کہ اگریہ غلطیاں انسانی فطرت کے تحت ہوئی ہیں تو ابھی ختم کر لو۔ ورنہ جب پانی سر سے اوپر ہوگا اور حساب پر بات آئیگی تو ایک انقلاب آئے گا ۔ اس کو برداشت کرنے کی سکت کسی بھی مجرم یا ظالم میں نہیں ہوگی ۔اسی لئے انسا ن صبر کرتا ہے۔ برداشت کرتا ہے لیکن کچھ لوگ اسے انسان کی کمزوری سمجھ بیٹھتے ہیں ۔
تو موقعہ ہے سمجھ جاؤ انسا ن کے صبر و تحمل ، ضبط و استقامت کا امتحان نہ لو ۔ اس کی باندھ ٹوٹی تو سنامی ہوگی اور اس کی رفتار کو پکڑ نہیں پاؤگے۔
((انسانیت سے بڑھ کر کوئی دھرم نہیں ہو سکتا۔دھرم خود مانو شدھی کرن کے لئے ہوتا ہے۔وہ ذاتی اور پرسنل ہوتا ہے ۔اگر کوئی دھرم یا مذہب مانو ہت کے خلاف ہے تو وہ دھرم نہیں ہو سکتا ۔ جو بھی دھرم کی آڑ میں انسانیت کے خلاف اور مانوتا کے وپریت سیاست کرے وہ سچا دھرم بھکت نہیں ہو سکتا۔ ایسی وچار دھارا رکھنے والا کبھی دیش کا نہیں ہو سکتا ۔ہمارا نہیں ہو سکتا۔))
ہندوستان کی تاریخ رہی ہے اس ملک نے ساری دنیا کو تہذیب اور کلچر سکھایا ہے۔ انسانی ہمدردی آپسی بھائی چارگی کا درس دیا ہے ۔ وطن عزیز کے قیمتی باشندوں نے پوری دنیا کو سکھایا کہ یہ دیکھو الگ نام ، الگ مذہب ، الگ دھرم ، الگ سماج، الگ ذات ،اور الگ برادری کے لوگ ایسے ایک ساتھ رہتے ہیں۔اور یہ روایت اب سے کچھ برس پہلے تک قائم تھی ۔لیکن اب اس میں بھید بھاؤ اور خلش کا گھن لگ گیا ہے ۔اس میل ملاپ اور ملک کی ترقی کی نیا میں نفرت اور بدعنوانی کا سوراخ ہو گیا ہے۔یہ اس ملک کی قابلیت پر سوال ہے ۔ اس کی رہنمائی پر سوال ہے ۔ جس ملک نے ایک سے ایک قد آور اور مثالی لیڈر اور رہنما پیدا کئے ہوں آج اسی ملک کی لیڈر شپ پر سوال ہے ۔ جس ملک کا مقام اس ملک میں بسنے والے ہر مذہب و ملت کی آپسی محبت اور بھائی چارگی کی بنیاد پر بلند سے بلند تر ہونا چاہئے تھا آج نیچے ہوتا جا رہا ہے۔آج اس ملک کی حفاظت کے ذمہ داروں اور اس کو چلانے والوں میں یہ احساس بھی نہ رہا کہ دیکھ سکیں کہ اس ملک کی کیا حالت ہو گئی ہے ۔روتا ہے یہ ملک اپنے پرستاروں پر کہ مجاہدین آزادی نے کم سے کم ایسے ملک کا سپنا تو نہیں دیکھا ہوگا ۔اس ملک کی ترقی اس کی قابلیت اور اہلیت پر ایک بڑا سوال کھڑا ہے ،حد تو یہ ہے کہ اب تو وہ نام جو کبھی عزت کی علامت تھے اب بدنام ہوکر گالی بن گئے ہیں ۔ نیتا ایک ایسا لفظ ہے جوبڑے فخر سے لیا جاتا تھا لیکن اب ایک طنز کی گالی بن کر رہ گیا ہے،ایک بڑا سوال ہے کہ ایسا کیا ہوا۔ اس ملک میں اور وہ کون سی ایسی نئی مصیبت آئی کہ ہم ا س میں ایسے پھنسے کہ نکلنے کے راستے بند ہو گئے اور ہم نے ملک کو اس حال میں پہونچا دیا ۔
اس بڑے سوال کا جواب آپ کو دینا ہے کیونکہ جن ذمہ داروں سے یہ سوال ہے اس میں آپ کا نام بھی شامل ہے اور تاریخ رہی ہے کہ آپ نے جواب دیا ہے۔ اور قرارا جواب دیا ہے ۔آج پھر اس ملک کو اس جواب کی ضرورت ہے۔آج ضرورت ہے۔آج یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ آخر ایک کسان جو اپنے خون کو پسینہ کی طرح بہاتا ہے۔پاؤں تلے کا پسینہ سر سے بہہ کر بنجر زمین کو گیلہ کرتا ہے۔ اتنی محنت کرنے کے بعد بھی وہ کسان بھوک سے خود کشی کر لیتا ہے۔جس ملک کی ترقی اس کے کسان اور اس کی محنت سے ہو آخر روہی بھکمری کا شکا ر کیوں ۔ظلم و زیادتی کے شکنجہ میں جکڑا ہوا کیوں ہے؟کوئی بھی اناج ہو، اس کو اس کی صحیح قیمت نہیں ملتی۔ حد تو یہ ہے کہ ایک طرف یہ کسان اپنی مجبوری اور بے چاری کی وجہ سے جب اناج بیچتا ہے، تو اس کو اس کی ضرورت پر قیمت نہیں ملتی۔ضرورت کے لئے اسے اپنا حق گوانا پڑتا ہے۔ اس کے بعد وہ اسی اناج کو اس سے دس گنا دام میں خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔پہلے وہ مجبور کیا جاتا ہے پھر اس کے بعد مظلوم کیا جاتا ہے ایسا کیوں ؟نعرہ ہے ملک ترقی کر رہا ہے ۔ ہاں ترقی ہو رہی ہے لیکن ترقی وہ کر رہا ہے جو پہلے سے ترقی یافتہ ہے اور رہا بے چارہ غریب تو غریب کا غریب رہا۔ اس کی غریبی میں ترقی ضرور ہوئی ہے۔ایک تو اس غریب اور کسان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا کوئی معقول انتظام نہیں اور اگر سواسکیموں کا اعلان کر کے ایک کام کیا بھی تو بڑی مشکل سے غریب تک پہونچتا ہے۔ اس تک پہونچتے پہونچتے وہ کسی ضرورت کی نہیں رہ پاتی۔ سرکاری غریبوں کی فہرست میں ایسے ایسے غریبوں کے نام ہیں جن کے گھر میں کئی غریب مزدوری کر کے اپنے پریوار چلاتے ہیں۔واہ رے ہندوستان کے ایسے غریب اور ایسی غریبی اور ایسے لوگوں کو غریب تسلیم کرنے والے غریب شناس!آج اگر دیکھا جائے تو راشن کارڈ ان کے نا م زیادہ بنے ہوتے ہیں جن کے گھر میں اناج اور تیل کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی جتنی اسی کے پڑوس میں رہنے والے ایک مزدور کو ہوتی ہے ۔
آخر میں عام آدمی ہی کیوں پستا ہے ؟کیا مظلوم ہونا اس کی غلطی یا اس کا جرم ہے؟یا پھر ایک عام آدمی ہونا ہی اس کی غلطی ہے۔ پھر تو پیدا ہونا ہی اس کی سب سے بڑی بھول ہے۔اگر ایسا نہیں تو پھر ایسا کیوں؟
ایک تو عام آدمی کے لئے کوئی سہولت نہیں اور اگر کسی طر ح سے کوئی انتظام کر دیا گیا تو اس تک پہونچنا مشکل اور اس تک کٹ چھٹ کر پہونچی بھی تو اسے اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ ایسا کیوں؟
ایک عام آدمی کو کیا چاہئے ؟انفرادی زندگی میں کھانے کے لئے سکون سے دو وقت کی روٹی ،بدن ڈھکنے کے لئے دو چند کپڑے اور سر ڈھکنے کے لئے ایک چھت۔ اور اجتماعی زندگی میں سبھی کو چاہئے انصاف اور اس کی حفاظت۔ جو ملک کا ذمہ دار اس ملک میں بسنے والوں کی حفاظت نہ کر سکے وہ کیا حکومت کرے گا اور کیا رہنمائی کرے گا ؟جن رہنماؤں کی فکر انسان کو قتل کر کے جانوروں کی حفاظت ہو ان سے انسانیت کی امیدکرنا خود کو دھوکہ دینے کے سواء کچھ نہیں۔
آج کل ہر سیاسی نیتا عام آدمی ہے۔ جو عام آدمی کی زندگی سے واقف نہیں۔ ان کی ضروریات کا اسے علم نہیں۔ وہ توشاید سارے گاؤ ں کے ناموں سے واقف نہ ہو۔ وہ جو ہوا میں اڑ کر آئے۔ ہوا میں باتیں کرے اور ہوا ہو جائے۔ پھر ضرورت پڑے تو پانچ سال بعد آئے ۔ ہوا بازی کرے اور پھر ہو جائے۔ وہ کیا عام انسا ن کے مسائل حل کرے گا۔اب ہمارے مسائل اس کے ہاتھ میں ہوں جو عام آدمی میں رہا ہو۔ اس کے درد کو محسوس کیا ہو۔عام آدمی میں بیٹھا ہو اور عام آدمی ہو۔
ایک عام آدمی کی عام طور پر روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ تین جگہ ضرورت پڑتی ہے اور وہ اس جگہ اپنے ضرور ت پوری کرنے جا تا ہے۔اگر آپس میں کوئی واد وواد ہوگیا تو اس کے حل کے لئے آدمی تھانہ پہنچتا ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ وہاں اسے انصاف ملے گا۔کیونکہ اس کو تھانہ کی ضرورت ہی اس لئے پڑی کہ اس کے ساتھ کچھ زیادتی ہوئی ہے اور جس نے کی اسکے ساتھ زیادتی ہے اس سے وہ ایسے عام طریقے سے نہیں نپٹ سکتا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شاید اسے تھانہ جانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ بہر حال وہ بڑی امید لیکر وہاں پہونچتا ہے۔ اس کے بعد اگر مسئلہ اور سنجیدہ ہوتا ہے تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔دوسری بڑی ضرورت اسپتال کی ہے اور یہ اتنی بڑی ضرورت ہے کہ ایک ضرورت مند انسان کے منہ سے ڈاکٹر کو بھگوان کا درجہ دیتے سنا گیاہے۔ اتنی زیادہ امید ہوتی ہے اور اس سے بھی زیاوہ ہو تا ہے بھروسہ۔اس کے بعد اسکول بجلی پانی وغیرہ۔ آج کے ترقیاتی دور میں ایک اور ضرورت اور امید کا راستہ ایک عام آدمی کو نظر آیاہے وہ ہے میڈیا ۔ جس کے ذریعہ وہ اپنی بات اور حق کی آواز دوسرے لوگوں کو پہونچا سکے، اسی وجہ سے اس کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ۔
اب ہمارے سامنے بڑا سوال یہ ہے کہ ایک عام انسا ن کے لئے تشکیل شدہ یہ سہولیات کس قدر کا م کر رہی ہیں یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ ہمیں ہر شعبہ اور اس کے نظام کو دیکھنا ہے۔ جیسا کہ پہلے یہ بات کہی جا چکی ہے کہ کچھ بھی مٹتا نہیں ہے۔ سب سامنے آتا ہے ۔ اب اسے دیکھنا اور طے کرنا ہے کہ اب اس ملک کی باگ ڈور کن ہاتھوں میں ہو۔عدل کے نام پر ظلم اور وکاس کے نام پر وناش کی سیاست کر نے والے ہاتھوں میں یا مجبوری کا بہانہ بناکر اس ظلم و زیادتی پر پردہ ڈالنے والوں کے کندھوں پر؟ یا پھرآج کے انسانوں کو ایسی مسیحائی نصیب ہوگی جو انسانیت کی طاقت دکھائے تو بڑے بڑے بت گر جائیں ۔ جو سیاست کے مہا رتھیوں کو سیاست کا پاٹھ پڑھائے ۔، مجبوری کا ڈھونگ رچ کر ذمہ داری سے بھاگ اس ملک کو کھوکھلہ کرنے والی سیاست کو لگام لگائے اور کچھ ہی دنوں میں وہ کر دکھائے جو جو پچھلی کئی دہائیوں میں نہیں ہوا تھا ۔
کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ ان تھانوں کہ حالت کیا اور کیوں ہے؟وقت و حالت کے کسی مارے ہوئے سے اس کی داستان سنئے۔
اب تو یہ عام قصہ یا لطیفہ بن گیا ہے کہ تھانہ میں تو جیسے کسی مظلوم کی رپورٹ درج نہیں ہوگی۔بلکہ الٹا وہ اس بات کا مجرم ہوگا کہ اس نے اپنے اس حق کا استعمال کیوں کیا ۔وہ جن پر ہم بھروسہ کرتے ہیں ۔جن کو ہماری حفاظت کے لئے بٹھایا گیا ہے۔ وہ کچھ تو خود ہی خوف زدہ ہیں اورکچھ دوسروں کو کئے رہتے ہیں ۔
عدالتوں کا بھی حال کچھ الگ نہیں ہے۔ ایک مظلوم کو انصاف ملتے ملتے اس کی عمر ختم ہو جاتی ہے۔ایک تو اس نے عدالت کا دروازہ ہی اس لئے کھٹکھٹایا کہ وہ اپنے مد مقابل سے سیدھے لڑ نہیں سکتا ۔ یہاں آکر اس نے انتظار کی ایک اور لڑائی مو ل لے لی۔
اسپتال بھی اپنی بے بسی پر رو رہے ہیں۔ وہ خود مریض ہو چکے ہیں۔ دوسروں کا علاج بھلا کیسے کرے گا؟
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری خلش اتنی نہ بڑھ جائے کہ اس کا اثر ہمارے ملک کی جمہوریت پر پڑنے لگے۔آج جو ماحول ہے یا جو لڑائی ہے وہ کسی مذہب کے خلاف کسی مذہب کی نہیں ہے،بلکہ ایک انسان دوسرے انسان کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہے ۔آج کی غیر انسانی سیاست اسے مذہب اور عقیدت کا نام دیکر اس میں نفرت تشدد کا تیل ڈال کر آگ کو اور بھڑکا رہے ہیں۔حالات نازک ہیں ۔ ہم پھر سے غلام ہوتے جارہے ہیں۔ اس غلامی سے آزادی کیلئے ہمیں پھر سے مل کر لڑنا ہوگا ۔ ورنہ یہ آگ دھیرے دھیرے پورے ملک کو جلاکر راکھ کر دیگی ۔آج ہماری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر مذہبی رہنماؤں کی ۔ جومذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بھی ہیں۔ جنہونے اپنے کلچر اور تہذیب سے پورے ہندوستان میں ایک چھاپ چھوڑی ہے۔ یہ ملک صوفی سنتوں کا ملک ہے۔ یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کی داستانیں صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں سنائی جاتی ہیں۔تو ایک بار ہمیں مل کر پھر بتانا ہے کہ یہ وہی ملک ہے اور وہ روایت آج بھی ہے۔ ہمیں اپنے وطن عزیز اور اس کی ہزاوں سال کی تہذیب جان کی طرح پیاری ہے۔ہم اس کی پاس داری ہر حال میں کریں گے۔ہم کسی بھی قیمت پر اس ملک کی امن و شانتی کی فضا میں نفرت کا زہر نہیں بھرنے دیں گے۔اور جو اس طرح کی کشش کرے گا وہ اس ملک کا وفا دار نہیں ہو سکتا اور اس ملک کا وفادار نہیں وہ ہمارا وفادار کب ہوگا۔
***
Abdul Moid Azhari (Amethi) Mob:09582859385 Email: abdulmoid07@gmail.com

نفرت پھیلانے والے ملک اور انسانیت کے دشمنوں سے ہوشیاررہنے کی ضرورت:سید محمد اشرف کچھوچھوی

نئی دہلی: آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے بانی اور صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے آج مہرولی شریف دہلی میں حضرت عاشق اللہ شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے عرس کے موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہصوفیاء کرام کا طریقہ محبت کا طریقہ ہے ،نفرتوں کی اس میں کوئی جگہ نہیں ہے، کوئی کسی بھی مذہب کا ہو کسی بھی فکر کا ہوصوفیا کے یہاں کوئی روک ٹوک نہیں ،بزرگوں کا طریقہ سب کو محبتوں سے نوازنارہاہے اور اسی طرح اسلام کیتبلیغ کی گئی ہے۔
حضرت نے کہا یہ دور بہت خطرناک ہے ،ہم سب کو ہوشیار رہنا ہوگا ،کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کا کوئی حق نہیں ہیہ،ندوستان سب کا ہے اور ہم سب کی ذمہ داری ہے اس کی حفاظت کرنا ،ملک میں امن کے قیام کی سب سے زیادہ ذمہ داری مسلمانوں کی ہے کیونکہ ہم وہ قوم ہیں جسے دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے، حق کیتبلیغ اور ظلم کی مخالفت کے لئے بھیجا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں جس طرح پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں فیس بک پر گستاخی کی گئی ،یہ ایک سازش کا حصہ ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ،محسن انسانیت کی شان میں گستاخی جہاں ناقابل برداشت عمل ہے یہ بات نفرتوں کے سوداگر جانتے ہیں اسی لئے اس طرح کا کام کیا جاتا ہے تاکہ مسلمان سڑکوں پر آئے اور تشدد پھیلائی جا سکے، وہی ہوا اور لوگوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا اور آگ زنی کی جس سے بدامنی پھیلی جو قابل مذمت ہے، تشددپھیلانے والا کوئی بھی ہو اسے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا، لوگوں کو قانون کا سہارا لینا چاہئے اور مجرم کو سزا دلوانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے نہ کی شہر کے امن کے لیے آگ لگائی جائے۔
حضرت نے کہا کہ ہر حال میں تشدد پر لگام لگائی جا ئے ،ہر قیمت پر اسے روکا جانا چاہئے، گستاخ رسول کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے ،اسے گرفتار بھی کر لیا گیا ہے،مسلمانوں کو صبر سے کام لینا ہوگااور کسی بھی طرح قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا ہے، یہ سازشوں کا دور ہے جس میں ہمیں بچ کے رہنا ہوگا۔
حضرت نے صاف کہا کہ آپ کو اکسانے کی کوشش کی جائے گی، انسانیت کی دشمن طاقتیں آپ کو غصہ دلانے کی کوشش کریں گی مگر آپ ملک کے آئین پر انحصار رکھیں اور قانون کا سہارا لیں، جتنا ممکن ہو سوشل میڈیا پر ہو رہی خرافات سے دور رہیں اور ان کی رپورٹ دیں، ملک ہمارا ہے اس کی حفاظت ہمیں کرنی ہوگی۔
اس موقعہ پر سینکڑوں عقیدت مند موجود رہے،صلوٰۃ و سلام کے بعد کل شریف ہوا اور ملک میں امن و امان اور ترقی کی دعا کی گئی۔

متعصب بھیڑ کے ذریعہ ہندوستان کا قتل: سید محمد اشرف کچھوچھوی

لکھنئو

آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے صدر و بانی حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے جھارکھنڈ کے رام گڑھ کے باجر ٹانڈ گائوں میں علیم الدین عرف اصغر علی کی بھیڑ کے ذریعہ گائے کے گوشت کے شک میں پیٹ پیٹ کر قتل کو ہندستان کا قتل بتایا ہے ۔
حضرت نے کہا کہ اس طرح کے حادثات روز ہو رہے ہیں جو سماج کو تقسیم کر رہےہیں۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہندوستان صرف زمین کے کسی حصے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ اس زمین پر رہنے والے ہمارے اس سماج کا نام ہے جو محبت و اخوت کے لئے مشہور ہے۔ اب اس میں نفرتوں کو جس طرح گھولا جا رہا ہے وہ ملک کے لئے بے حد خطرناک ہے ۔
حضرت نے کہا ایسا لگتا ہے کہ بھیڑ ملک کو برباد کرنے پر تلی ہے ۔ ایک طرف وزیر اعظم گجرات میں محبت کا سبق پڑھا رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف مذہب کے نام پر ایک ہندوستانی مقیم کو بھیڑ پیٹ پیٹ کر مار رہی ہوتی ہے ۔ اس وقت بھیڑ کا قانون چل رہا ہے جس میں بھیڑ اپنے حساب سے الزام لگاتی ہے اور پھر بنا ثبوت و گواہ کے ملزم بنا کر سزا بھی خود ہی دے دیتی ہے ۔
بے روزگار نوجوانوں کی ٹولی کو مذہبی تعصب کی افیم پلائی جا رہی ہے جو اس پیارے ہندوستان کے لئے خطرناک ہے اور اس سے زیادہ خطرناک ہے سرکاروں کا خاموش رہنا ۔ اگر خاموشی نہیں ٹوٹی تو یہ متعصب بھیڑ ہندوستان کا قتل کر دے گی۔
حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ ملک کے امن کی حفاظت کے لئے کی جا رہی ہر چھوٹی بڑی کوشش کا ہم استقبال کرتے ہیں اور ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں۔ آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ ملک میں امن و امان کے لئے اپنی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

حضرت نے اس پاگل بھیڑ کو کنٹرول کرنے کا حل بتاتے ہوئے کہا کہ اگر سرکار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرتی ہے تو یہ قتل و غارت کا خونی کھیل خود بخود ختم ہو جائے گا۔

ظلم کے خلاف خاموش رہے تو ملک کا نقصان: سید محمد اشرف

آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے صدر و بانی حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے جھارکھنڈ میں ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کو کچھ تعصب پسندوں کے ذریعہ لگاتار نشانہ بنائے جانے پر کہا ہے کہ اب سبھی امن پسند ہندوستانیوں کو متحد ہو کر نفرت کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی نہیں تو ہمارا ملک خطرے میں ہے ۔
حضرت نے کہا کہ جس طرح ٹرین میں ایک نوجوان کو بے رحمی سے قتل کیا گیا اور بھیڑ تماشائی بنی رہی،ایک بھی آواز ظلم کے خلاف نہیں اٹھی یہ خطرناک ہے، اس سے نفرت کو مزید ہوا ملتی ہے جب ظلم کے خلاف سب خاموش رہتے ہیں ۔
حضرت نے مزید کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سماج کو تقسیم ہونے سے روکے، گنگا جمنی تہذیب اگر ختم ہو تی ہے تو نقصان کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کا نہیں بلکہ ہندوستان کا نقصان ہے جس کی بھر پائی تقریبا نا ممکن ہوگی ۔
حضرت کچھوچھوی نے کہا کہ سماج میں جس طرح زہر گھولا جا رہا ہے، اس سے جہاں دہشت گردی اور نکسل وادی کو بل ملتا ہے تو وہیں ظلم کے خلاف ہماری لڑائی کمزور بھی ہوتی ہے لہذا ضروری ہیکہ لوگوں میں بھائی چارگی کو مزید تقویت بخشنے کے لئے قانون اور حکومت بھی کوشش کرے۔
ہندوستان ہم سب کا ہے، یہ زمین ہم سب کی ہے، اس کی حفاظت کی ذمہ داری ہم سب کی ہے۔ ہم کسی بھی صورت میں ملک کو بکھرنے نہیں دے سکتے ۔
حضرت نے کہا کہ جس طرح کے حالات بنے ہوئے ہیں، دلت بنام اگڑا کی لڑائی چل رہی ہے، مسلم، سکھ اور عیسائی تعصب پسندوں کے نشانے پر ہیں، ہندوتوا کے نام پر گھناؤنا کھیل کھیلنے والے ہندوتوا کو بھی نہیں سمجھتے، واسودیو کٹمبکم کی ذمین کو رن استھلی بنانے پر تلے کچھ بے روزگار بہکے ہوئے نوجوان ان بدمعاشوں کے بہکاوے میں ہیں جو غیر ملکی سازش کے تحت ملک توڑنے کا کام کر رہے ہیں ۔
حضرت نے تمام محبت پسندوں سے ظلم کے خلاف متحد ہو نے کی اپیل کی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر اس وقت خاموش رہے اور نفرت کے خلاف محبت کے گلاب لے کر نہیں نکلے تو بربادی کے ذمہ دار ہم سب ہوں گے ۔

امن خراب کرنے والے ہیں ملک کے غدار۔سید اشرف

جونپور(پریس ریلیز)آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ کے بانی وصدر حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے جونپور میں سیمینا ر ’’تصوف اور انسانیت ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح فضاؤں میں زہر گھولا جا رہا ہے وہ انسانیت کو تباہ کردیگا ،اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ محبت کو عام کیا جائے لوگ صبر کا دامن تھامے رہیں۔حضرت نے کہا کہ جس طرح متشدد بھیڑ لوگوں کو مار رہی ہے یہ ملک کے امن و سلامتی کے لئے بہت خطرناک بات ہے،اگر اب بھی امن پسند لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو ملک کو مزید خطرہ کی طرف بڑھ رہاہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ سماج کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ دیش کے دشمن ہیں وہ کسی حال میں دیش بھکت نہیں ہو سکتے۔حضرت کچھوچھوی نے کہا کہ تشدد کسی بھی چیز کا حل نہیں ہے اگر امن ختم ہو تا ہے تو تو ترقی رک جاتی ہے ،وہ لوگ جو امن کے دشمن ہیں وہ ملککی ترقی کے بھی دشمن ہیں ،لہذاحکومت کو ان پر سختی کرنا چاہئے۔اگر اس بھیڑ کو نہیں روکا گیا تو نقصان ہونا طے ہے۔انہوں نے لوگوں سے صوفیا کرام کے طریقے پر چلنے کی بات کہی جہاں ’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘کا پیغام ہے۔حضرت نے کہا کہ انسانوں کا قتل کرنے والے ملک کے غدار ہیں اور سبھی امن پسند ہندوستانیوں کی ذ مہ داری ہے ملک میں امن قائم رکھنے کے لئیانہیں روکیں۔آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ کوششیں کر رہاہے آپ اس مہم سے جڑیے اور ملک کے امن امان اور ترقی کے لئے اپنا کردارادا کیجئے۔ہندوستان ہم سب کا برابر ہے اور اس کے ہر دشمن سے حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔اس موقعے پر بڑی تعداد میں لوگ موجود رہے ۔سیمینار کے آخر میں صلاۃ و سلام کے بعد ملک میں امن و امان کے لئے دعا کی گئی۔

Seminar:Sufism and Humanity صوفی ازم اور انسانیت

dsc_6099 dsc_62314 December، 2016,Lucknow

آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کی طرف سے منعقد ‘‘صوفی ازم اور انسانیت ’’ سمینار اپنی نوعیت کا پہلا سمینار ہے جو ڈبتی ہوئی انسانیت کی کشتی کو بچانے کے لیے صوفی ازم کی تعلیمات اور ہدایات کو پیش کررہا ہے تاکہ موجودہ دورمیں صوفیاء کرام کی تعلیمات اور ان کے اعمال کی روشنی میں ایک انسان دوسرے انسان کو پہچان سکے اور عالمی بحران کا خاتمہ ہوسکے
ہم بورڈ کے سبھی اراکین کوسب سے پہلےمبارکبادی پیش کرتےہیں

ناظرین کرام! محسن انسانیت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے و ہ روشن پہلو جن کا زیادہ تر تعلق آپ کےاخلاق وکردار اور تزکیہ نفس وتصفیہ قلب سے ہے انہیں کو ہی احسان و سلوک اورتصوف و طریقت کہا جاتاہے اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جن کےاولین نمونہ اصحاب صفہ تھے ،جنہوں نے بہت سی دینوی چیزوں سےبےنیاز ہوکر مسجد نبوی کےایک مخصوص حصے میں مصروف عبادت و ریاضیت ہوکر اپنے شب و روز گزار نے کو ہی اپنا مطمح نظربنا لیا تھا یوں تو سبھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہر اعتبار سے سیرت نبوی کے پاکیزہ نفس وپاکیزہ قلب اور جامع شریعت و سنت تھے اور ہر شعبہ زندگی میں ان کی یہ ساری مصروفیات تھیں، جب کہ اصحاب صفہ ہر طرف سے یکسو ہو کر مسجدنبوی میں خلوت گزیں ہوگئےتھے تصوف وطریقت کا مقصوداصلی معرفت نفس کےساتھ معرفت الہٰی ہے، اوراس معرفت الہٰی خداشناسی اور خدا رسی کے لئےعلم کی شکل میں کتاب الہٰی اور عمل کی شکل میں ذات نبوی یہ دو ایسےنور ہیں جن کی رہنمائی میں ہی صراط مستقیم پرگامزن ہو کر خدا نےسبوحوقدوس کی بارگارہ تک رسائی ہوسکتی ہے اوراس کا قرب حاصل کیا جاسکتاہے۔

اسلامی تصوف کا امتیاز یہ ہے کہ یہ دنیامیں رہ کر دنیا سےبے نیازی کاحکم دیتا ہے اہل وعیال سے رشتہ اخوت ومحبت قائم رکھتے ہوئےان کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہےاسی طرح حاصل کرنے کی بطور خاص تاکید کرتا ہے او رکسب معاش و زق حلال واکل حلال وصدق مقال کی ہدایت دیتا ہے ان ساری صورتوں میں حکم الہٰی کی تکمیل اور رضائے الہٰی کی طلب اس کا اصل مقصد ہوتاہے،یہی وجہ ہے کہ اسلامی تصوف کے حاملین خلق خدا کے درمیان رہتے ہوئے بھی ان سےمستغنی اورا خلاق عالم کی طرف متوجہ او راس کے فضل و احسان کے طالب ہوتے ہیں ۔ جسم کے ظاہری اعمال کے متعلق قرآن و سنت سے ماخوذ گہرے علم کو اصطلاح میں ‘‘فقہ’’ کہتے ہیں اور دل کےباطنی اعمال کے متعلق قرآن و سنت سےماخوذ گہرے علم کو اصطلاح میں ‘‘تصوف’’ کہتے ہیں ۔ تصوف کے متعلق احادیث، کتاب الزھد، کتاب الرقاق، کتاب الاخلاق میں ان ابواب کے تحت ملتی ہیں : الکبر ، السواء الظن ، الظلم ، البخل، الحرص ، التحقیر و التکلف ، الحسد ، الریاء وغیرہ برے اخلاق ہیں ۔ اور الاخلاص ، الصداق ، الصبر، الشکر، الرضاء القناع ، حسن الخق ، الحیاء، التواضع الحلم ، الخوف ، الفراس وغیرہ اچھے اخلاق ہیں ۔

لیکن صوفیاءکی اصطلاح میں اس کے معنی ہیں : اپنے اندر کا تزکیہ اور تصفیہ کرنا،یعنی اپنےنفس کو نفسانی کدورتوں اور ذائل اخلاق سے پاک و صاف کرنا اور فضائل اخلاق سےمزین کرنا اور صوفیاء ایسے لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنےظاہر سے زیادہ اپنے اندر کے تزکیہ اور تصفیہ کی طرف توجہ دیتے ہیں اور دوسروں کو اسی کی دعوت دیتے ہیں اور لفظ صوفیاء ایسے لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اپنےاندر کے تزکیہ وتطہیر کی طرف توجہ دیتے ہیں اور اب یہ لفظ ایسے ہی لوگوں کے لیے لقب کی صورت اختیار کر چکا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں ایسے لوگوں کا اکثر لباس صوف یعنی اون ہی ہوتا تھا اس وجہ سے ان پر یہ نام پڑ گیا اگر چہ بعد میں ان کا یہ لباس نہ رہا اورحدیث شریف کی کتابوں میں ایک حدیث ‘‘حدیث جبرئیل’’ کے نا م سے مشہور ہے، اس میں ہے کہ ایک دن جبرئیل علیہ السلام انسانی شکل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ سوالات کیے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ : احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ : احسان یہ ہے کہ تم خدا کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر ایسی کیفیت نہ پیدا ہو کہ تم خدا کو دیکھ نہیں پارہے ہو تو کم سے کم یہ یقین کر لو کہ وہ دیکھ رہا ہے اور بندہ کےدل میں اسی احسان کی کیفیت پیدا کرنے کا صوفیاء کی زبان میں دوسرا نام تصوف یا سلوک ہے۔

تصوف دراصل بندہ کے دل میں یہی یقین اور اخلاص پیدا کرتا ہے۔تصوف مذہب سے الگ کوئی چیز نہیں، بلکہ مذہب کی روح ہے۔ جس طرح جسم روح کےبغیر مردہ لاش ہے، اسی طرح اللہ کی عبادت بغیر اخلاص کےبےقدر و قیمت ہے۔ تصوف بندہ کےدل میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی محبت پیدا کرتا ہے ۔ اور خدا کی محبت بندہ کو مجبور کرتی ہے کہ وہ خلق خدا کے ساتھ محبت کرے، کیونکہ صوفی کی نظر میں خلق خدا، خدا کا عیال ہے۔ اور کسی کےعیال کےساتھ بھلائی عیال دار کےساتھ بھلائی شمار ہوتی ہے خدا کی ذات کی محبت بندہ کوخدا کی نافرمانی سے روکتی ہے اور بندگانِ خدا کی محبت بندہ کو ان کے حقوق غصب کرنے سے روکتی ہے ۔ اس لیے صوفیاء حضرات کی زندگی حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پوری طرح ادا کرتے ہوئے گذرتی ہے۔ظاہر ہے کہ جو چیز انسان کو اللہ تعالیٰ کافرماں بردار بنائے اوراس کےبندوں کا خیر خواہ بنائے اس کی اہمیت سےانکار نہیں کیا جاسکتا لوگ عام طور پر جب صوفی ازم اور تصوف پر بات کرتےہیں توان کے پیش نظر کچھ صوفیاء اور بزرگ ہوتےہیں جو اپنی ذات میں بہت صالح ،خدا ترس اور متقی ہوتے ہیں، خالق کی یاد میں مشغول رہنےوالے اور مخلوق کےلیے سراسر رحمت صفت ان بزرگوں کے بارےمیں لوگ بالعموم محبت اور حسن ظن کا تعلق رکھتے ہیں تا ہم جب ہم علم تصوف کےبارےمیں کوئی گفتگو کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر یہ بزرگ نہیں ہوتے ،بلکہ تصوف کی وہ روایت ہوتی ہےجسے قرآن وسنت کی روشنی میں پرکھنابہر حال ہمارے ذمہ داری ہے۔

صوفی ازم انسان کا شعور ہر دور میں اس سوال کا جواب تلاش کرتا رہا ہے کہ اس کائنات اور اِس کےبنانے والے سے کیا تعلق ہے؟ اس سوال کا ایک مکمل جواب اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی دن سےاس شکل میں انسانوں کو دے دیاتھا کہ ان کے باپ اورپہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کوایک نبی بنا کر بھیجا گیا اور اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ اس رہنمائی کی یاد دہانی کےلیے ہر قوم اورہر زمانے میں نبی اور رسول آتے رہے ۔ اس رہنمائی میں اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور ان سے تعلق کی درست نوعیت کو بالکل کھول کر بیان کیا گیا تھا تا ہم وقت گزرنے کےساتھ ساتھ انسان انبیاء کرام علیہم السلام کی اس رہنمائی کو فراموش کرتا گیا فراموشی اور غفلت کی اس فضا میں انسان نےاپنے طور پر ان سوالات کی کھوج شروع کردی جن کےجواب کے لیے یہ رہنمائی عطا کی گئی اس کھوج کی ایک شکل فلسفیانہ افکار کی صورت میں ظاہر ہوئی ۔ ان فلسفیانہ افکار نے مختلف شکلیں اختیار کیں ان میں ایک شکل و ہ تھی جو مذہب سے بہت زیادہ متاثر تھی اور اس میں حقائق کی تلاش عقل کےبجائے باطن کی آواز اور وجدان کی بنیاد پرکی جاتی تھی ۔ عقل اور وحی کےبجائےباطنی تجربے،روحانیت اور وجدان کی بنیاد پر خدا سےتعلق کی یہ تحریک دنیا کے کم و بیش تمام مذاہب میں موجود رہی ہے۔ بعض مذاہب مثلاً بدھ مت کی بنیاد ہی داخلی تجربےاور وجدان پر مبنی اس عالمی تحریک پر رکھی گئی ہےجبکہ بعض مذاہب میں جن میں یہودیت اورمسیحیت جیسےابراہیمی مذاہب شامل ہیں اس کی ایک مستقل روایت موجود رہی ہے اسلام جب عرب سے نکل کر عجم پہنچا تو نومسلموں کےقبول اسلام کےساتھ ساتھ یہ عالمی روایت،مسلم معاشرے میں خاموشی سے سرائیت ہونےلگا تھا تواس وقت مشائخ عظام ،علماء کرام اور صوفیاء کرام اس روایت کو صوفی ازم یا تصوف میں داخل ہونےسےبچا یا اس تفصیل سے یہ بات واضح ہے کہ تصوف ایک اسلامی تصور ہے اور ایک عالمی تحریک ہےجو اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کےساتھ ساتھ پوری دنیا کے انسانوں کی بھلائی کےبارے میں مکمل طور کوشاں رہتی ہے اور اسلام کے ظہور کے بعد جب دیگر مذاہب کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد مسلمان ہوئی تو ان کےساتھ تصوف کی یہ تحریک مسلمانوں کا دائرہ کا ر وسیع ہوتا گیا اور مسلمانوں کے بڑےبڑے اہل علم اس سے متاثر ہوئے اوراسے قرآن و حدیث سے مزین کئے تاہم یہ بات اپنی جگہ مبنی بر حقیقت ہے کہ ائمہ اہل تصوف جب خالص علمی انداز میں اپنے نظریات بیان کرنا شروع کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوجاتاہے کہ ان نظریات کاتعلق اسلام سےمکمل طور پر ہے، صوفیاء حضرات اپنی تعلیمات میں سب سے زیادہ جس چیز پر زوردیتےہیں وہ عشق و محبت خداوندی ہے، کیونکہ محبت ہی ایک ایسی چیز ہے جو محب کو اپنے محبوب کی اطاعت پر مجبور کرتی ہے او راس کی نافرمانی سے روکتی ہے او رمحب کےدل میں محبوب کی رضا کی خاطر ہر مصیبت و تکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی قوت و صلاحیت پیدا کرتی ہے ، اور محبت ہی وہ چیز ہے جو محب کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ایسا عمل کرےجس سےمحبوب راضی ہو اور ہر اس عمل و کردار سےباز رہےجس سےمحبوب ناراض ہو، چنانچہ صوفیا حضرات اگر زاہد ،تقویٰ ،عبادت ،ریاضت او رمجاہدے کرتےہیں توان کا مقصد صرف اور صرف خدا کی رضا حاصل کرناہوتا ہے۔

وہ جنت کی لالچ یا جہنم کے خوف سے خدائی بندگی نہیں کرتے چنانچہ حضرت رابعہ بصریہ اپنی ایک دعا میں فرماتی ہیں : ‘‘ خدایا! اگر میں تیری بندگی جنت کےلیے کرتی ہوں تو مجھے اس سے محروم رکھنا ، اگر میں جہنم کے خوف سے تیری عبادت کرتی ہوں تومجھے اس میں جھونک دینا ،لیکن اگر میں تیری بندگی تجھے پانے کے لیے کرتی ہوں تو مجھے اپنےآپ سےمحروم نہ رکھنا’’ ( مقالات الاولیاء) شیخ شبلی تو یہاں تک فرماتے ہیں : ‘‘ الصوفی لایریٰ فی الدارین مع اللہ غیر اللہ ’’( کشف المحجواب) صوفی دونوں جہانوں میں اللہ تعالیٰ کی ہستی کےعلاوہ اور کسی چیز کو نہیں دیکھتا ’’۔امام ربانی فرماتے ہیں : ‘‘ مقر بین بارگاہ الہٰی یعنی صوفیاء حضرات اگر بہشت چاہتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ ان کا مقصد نفس کی لذت ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ خدا کی رضا کی جگہ ہے ،اگر وہ دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ اس میں رنج و الم ہے،بلکہ اس لیے کہ وہ خدا کےناراضگی کی جگہ ہے ، ورنہ ان کے لیے انعام و رنج و الم دونوں برابر ہیں ۔ ان کا اصل مقصود رضائے الہٰی ہے ، صوفیاء حضرات کےنزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےاسوۂ حسنہ کی پیروی کیے بغیر معرفتِ خداوندی اور نجات کا حصول نا ممکن ہے۔ چنانچہ امام ربانی شیخ احمد سر ہندی ایک مکتوب میں لکھتے ہیں : ‘‘ اس نعمت عظمیٰ یعنی معرفت خداوندی تک پہنچنا سید الا ولین والآخر ین کی اتباع سے وابستہ ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کیے بغیر فلاح و نجات نا ممکن ہے’’۔ محال است سعدی کی راہ صفارتواں رفت جز درپئے مصطفےٰ) شیخ احمد سرہندی : مکتوبات ،مکتوب78، ج اول ، ص 279 ( ‘‘اے سعدی ! یہ نا ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کیے بغیر خدا کی معرفت اور تصفیہ قلب حاصل ہوسکے ’’۔ یہی بات قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اس طرح ارشاد فرماتا ہے ۔ ترجمہ : آپ ان کو بتادیجئے کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، نتیجے میں اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت خود خدا کی اطاعت ہے ، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ترجمہ ‘‘ جس شخص نے خدا کے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی ۔’’

کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ بولتے ہیں وہ وحی الہٰی ہی ہوتا ہے ، چنانچہ ارشاد باری ہے ۔ ترجمہ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہشات سے نہیں بولتے ، وہ جو کچھ تمہیں دین کے بارے میں دے رہے ہیں وہ وحی الہٰی ہے ، جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے ۔’’ اس لیے ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا ترجمہ : ‘‘جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں رک جاؤ’’۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سےمعلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کا اس وقت تک ایمان کامل نہیں ہوسکتا وہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ ہر چیز سے زیادہ محبت نہ کرے اور اپنی ساری خواہشات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے تابع نہ بنا دے ۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ۔ تم میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے والدین اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب نہ رکھے ۔ ‘‘تم میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک ا س کی خواہشات میرے لائے ہوئے طریقے کے مطابق نہ ہوں’’ صوفیاء حضرات جتنے مجاہدے ، ریاضات او رعبادات کرتےہیں یا ان کا اپنے معتقدین کو درس دیتے ہیں  ان کا اصل مقصد نفس کا تزکیہ اور تطہیر ہے چنانچہ ایک صوفی بزرگ فرماتےہیں کہ اے دوست ! چاہے ایک حرف ‘‘الف’’ ہی پڑھ لو ، لیکن اپنے اندر کو پاک و صاف کرلو، اگر اندر کا یہ تزکیہ و تطہیر نہیں کرے تو زیادہ پڑھنے اور ورق گردانی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن و سنت کیا کہتے ہیں ؟

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک دعا نقل کی ہے۔ ترجمہ : اے ہمارے پروردگار ! میری اولاد میں سے ہی ایک رسول بھیج ، جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے اندر تزکیہ کرے ۔’’ ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے ظاہر ہے کہ کسی نبی کی بعثت تلاوت آیات اور تعلیم کتاب و حکمت کا اصل مقصد لوگوں کے اندر کا تزکیہ ہے ۔ غور کیا جائے تو واضح ہوگا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اصل مقصد تزکیہ ہی تھا کیونکہ تلاوتِ آیات و تعلیم کتاب و حکمت کا اصل مقصد تزکیہ ہی ہے، کیونکہ اگر تعلیم سے تزکیہ قلب وتطہیر فنس حاصل نہ ہوتو تعلیم وتعلم  ، درس تدریس سب فضول  ہے ایک او رمقام پر ارشاد باری ہے ۔ ترجمہ : بے شک وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور وہ ناکام و نامراد ہوگیا جس نے اپنے نفس کو مٹی آلود کردیا ’’۔ تصوف جن رذائل اخلاق سے اپنے اندر کو پاک کرنے کی تعلیم دیتا ہے ۔ وہ یہ ہیں ۔ بد نیتی ، ناشکری ، جھوٹ ، وعدہ خلافی، خیانت ، بد دیانتی ، غیبت و چغلی ، بہتان ،بدگوئی و بدگمانی ،خوشامد و چاپلوسی ، بخل و حرص ، ظلم ، فخر ، ریاو نمود و حرام خوری وغیرہ۔ او رجن چیزوں سے اپنے اندر کو سنوارنے کی تعلیم دیتا ہے، وہ یہ ہیں : اخلاص نیت، ورع وتقویٰ ، دیانت و امانت، عفت و عصمت ، رحم و کرم ، عدل و انصاف ،عفوو درگذر ، حلم و بردباری ، تواضع و خاکساری ، سخاوت و ایثار ، خوش کلامی و خودداری ، استقامت و استغنا وغیرہ جیسا کہ حضرت ابو القاسم قشیری کی کتاب رسالہ قشیر یہ اور شیخ علی ہجویری کی کتاب کشف المحجوب اور ابو نصر کی کتاب کتاب اللمع سے ظاہر ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن وسنت کا وبیشتر حصہ ان ہی رذائل اخلاق سے بچنے اور فضائل  اخلاق سے اپنے کو مزین کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور اگر صرف ارکان اربعہ چار اہم عبادات ، نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، و حج پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن و سنت نے ان کا مقصد ہی تزکیہ نفس و تطہیر قلب بتایا ہے۔

جس کا صوفیاء درس دیتے ہیں اور صوفیائے کر ام کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنے اور پرائے ، نیک اور بد، موافق اور مخالف سب کے ساتھ برداشت ، رواداری او ر حسن سلوک کا ریہ رکھتے ہیں او راپنے معتقدین کو بھی اسی چیز کا درس دیتےہیں، چنانچہ حضرت بصری کے بارے میں منقول ہے کہ : ‘‘ انہیں کچھ لوگوں نے بتایا کہ فلاں شخص آپ کی عیب جوئی کررہا ہے ،تو آپ نے بجائے اس پر غصہ کرنے یا انتقام لینے کے بطور تحفہ اس کو تازہ کھجوریں بھیج دیں ’’۔ جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور جاہلانہ رویے سے پیش آتے تھے اللہ تعالیٰ نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کوان  کے ساتھ نرمی کرنے، درگذر کرنے ، رواداری سے پیش آنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ۔ ترجمہ ‘‘ عفو و درگذر سے کام لو، اچھائی کا حکم دیتے رہو اور ان کی جاہلانہ باتوں سے رو گردانی کرتے رہو ’’۔ سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ : ‘‘قیامت کے بازار میں کوئی اسباب اس قدر قیمتی نہ ہوگا جس قدر دلوں کو راحت پہنچانا ’’۔ او ران حضرات کے ہاں خلق آزاری سے بڑھ کر کوئی جرم نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلق خدا کی خدمت پر ابھارنے کے لیے مختلف طریقوں سے ترغیب دیتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا : بیواؤں اور یتیموں کی مدد کرنے والا خدا کے ہاں ایسا ہے جیسے مجاھد فی سبیل اللہ او ریہ بھی فرمایا کہ اس کو وہ اجر ملے گا جو ساری رات جاگ کر عبادت کرتا ہو اور جو ہمیشہ روزے رکھتا ہو ۔’’ مذکورہ بحث سےاندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تصوف اور صوفیاء حضرات کی تعلیم دراصل قرآن و سنت کا نچوڑ او راس کی عملی صورت ہے اور انسانیت کے لیے ضامن ہے۔

 

داعش کی قتل و غارت گری اور ثقافتی تباہی خیزی پر

نئی دہلی 24جون (پریس ریلیز)
ہندوستان میں صوفی سنی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ نے شام اور عراق میں داعش کی قتل و غارت گری اور ثقافتی تباہی خیزی پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام اور اسکی تہذیب اور یادگاروں کے یہ دشمن اسلام کی تما م علامتوں کو مٹانے پر تلے ہیں اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہے اور کچھ اسلامی ممالک بھی اسلامی تاریخ کو آنے والی نسلوں کے سامنے افسانہ بنا نے کے اپنے ایجنڈے کی تکمیل ہوتے دیکھکر مطمئین ہے۔قدیم مقامات اور تاریخی ورثہ کاتحفظ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی ادارے اور محکمہ آثار قدیمہ سمیت قومی محکمے کرتے ہیں لیکن داعش ایک ایسی دہشت گرد تنظیم ہے جو طاقت کے بل پر اسلا می ممالک کے کچھ علاقوں پر قابض ہو کر بعض مملکتوں کے اسلامی آثار دشمن ایجنڈے کو تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔
آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈکے صدر اور بانی حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے آج یہاں ایک بیان میں کہا کہ بورڈ کو یہ جان کر گہرا صدمہ پہنچا ہے کہ داعش کے کرایہ کے سپاہیوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وارثین میں سے ایک محمد بن علی اور ایک بڑی مذہبی شخصیت نذرابوبہاؤالدین کے مزارات کوشام میں بم سے اڑا دیا ۔جہاں یہ لوگ صدر بشار الاسد کے خلاف بعض شہنشاہیتوں کی تیل اور گیس کی دولت سے درپردہ جنگ لڑ رہے ہیں ۔حضرت مولا نا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ شمالی اورمشرقی شام میں جن جن مقامات پر داعش کے دہشت گردوں نے قبضہ کیا ہے وہاں انہوں نے 100سے 200 سال پرانے کم از کم 50مزارات اور مقبروں کو تباہ کیا ہے ۔شام میں ایک صحابی رسول اور محب علی حضرت حجر بن عدی ،حضرت زینب بنت علی اور اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے جرنیل خالد بن ولید کے مزارات کی بے حرمتی اور تباہی کے جاری سلسلے میں یہ نئی تباہی خیزیاں ہوئی ہیں ۔ان لوگوں کی مشکل یہ ہے کہ یہ نہ صرف بزرگان دین ،صحابہ کرام ،اہل بیت اطہار کے دشمن ہیں بلکہ پیغمبروں کے مزارات کی بے حرمتی میں بھی پیچھے نہیں رہے ۔حضرت شیث علیہ السلام اور حضرت یونس علیہ السلام کے مزارات کو بم سے اڑا کر انہوں نے اپنی اسلام دشمنی کی پہچان پختہ کردی ہے۔
حضرت مولا نا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو مسلم ممالک میں حکومتوں کے خلاف بیرونی مالی اور عملی امداد سے سرگرم کرایہ کے سپاہیوں اور دہشت گردوں کی اسلام دشمنی کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی چاہئے کیونکہ وہ اسلامی آثار مٹانے کی ایک بڑی بین الاقوامی سازش کے تحت بے روک ٹوک اپنا کام انجام دے رہے ہیں ہندوستان کی مسلم آبادی میں 80فیصد سے زائد لوگ تعظیم اور زیارت پر عمل پیرا ہیں اور مقدس مقامات اسلامی آثار تاریخی یادگاروں اور مزارات اور مقبروں کے تحفظ کو اسلامی تہذیب کے تحفظ کی ترجیحی کڑی مانتے ہیں اسلئے رمضان کے مقدس مہینے میں اسلامی آثار کی اس بےحرمتی پر رنجیدہ ہیں ۔