Seminar:Sufism and Humanity صوفی ازم اور انسانیت

dsc_6099 dsc_62314 December، 2016,Lucknow

آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کی طرف سے منعقد ‘‘صوفی ازم اور انسانیت ’’ سمینار اپنی نوعیت کا پہلا سمینار ہے جو ڈبتی ہوئی انسانیت کی کشتی کو بچانے کے لیے صوفی ازم کی تعلیمات اور ہدایات کو پیش کررہا ہے تاکہ موجودہ دورمیں صوفیاء کرام کی تعلیمات اور ان کے اعمال کی روشنی میں ایک انسان دوسرے انسان کو پہچان سکے اور عالمی بحران کا خاتمہ ہوسکے
ہم بورڈ کے سبھی اراکین کوسب سے پہلےمبارکبادی پیش کرتےہیں

ناظرین کرام! محسن انسانیت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے و ہ روشن پہلو جن کا زیادہ تر تعلق آپ کےاخلاق وکردار اور تزکیہ نفس وتصفیہ قلب سے ہے انہیں کو ہی احسان و سلوک اورتصوف و طریقت کہا جاتاہے اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جن کےاولین نمونہ اصحاب صفہ تھے ،جنہوں نے بہت سی دینوی چیزوں سےبےنیاز ہوکر مسجد نبوی کےایک مخصوص حصے میں مصروف عبادت و ریاضیت ہوکر اپنے شب و روز گزار نے کو ہی اپنا مطمح نظربنا لیا تھا یوں تو سبھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہر اعتبار سے سیرت نبوی کے پاکیزہ نفس وپاکیزہ قلب اور جامع شریعت و سنت تھے اور ہر شعبہ زندگی میں ان کی یہ ساری مصروفیات تھیں، جب کہ اصحاب صفہ ہر طرف سے یکسو ہو کر مسجدنبوی میں خلوت گزیں ہوگئےتھے تصوف وطریقت کا مقصوداصلی معرفت نفس کےساتھ معرفت الہٰی ہے، اوراس معرفت الہٰی خداشناسی اور خدا رسی کے لئےعلم کی شکل میں کتاب الہٰی اور عمل کی شکل میں ذات نبوی یہ دو ایسےنور ہیں جن کی رہنمائی میں ہی صراط مستقیم پرگامزن ہو کر خدا نےسبوحوقدوس کی بارگارہ تک رسائی ہوسکتی ہے اوراس کا قرب حاصل کیا جاسکتاہے۔

اسلامی تصوف کا امتیاز یہ ہے کہ یہ دنیامیں رہ کر دنیا سےبے نیازی کاحکم دیتا ہے اہل وعیال سے رشتہ اخوت ومحبت قائم رکھتے ہوئےان کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہےاسی طرح حاصل کرنے کی بطور خاص تاکید کرتا ہے او رکسب معاش و زق حلال واکل حلال وصدق مقال کی ہدایت دیتا ہے ان ساری صورتوں میں حکم الہٰی کی تکمیل اور رضائے الہٰی کی طلب اس کا اصل مقصد ہوتاہے،یہی وجہ ہے کہ اسلامی تصوف کے حاملین خلق خدا کے درمیان رہتے ہوئے بھی ان سےمستغنی اورا خلاق عالم کی طرف متوجہ او راس کے فضل و احسان کے طالب ہوتے ہیں ۔ جسم کے ظاہری اعمال کے متعلق قرآن و سنت سے ماخوذ گہرے علم کو اصطلاح میں ‘‘فقہ’’ کہتے ہیں اور دل کےباطنی اعمال کے متعلق قرآن و سنت سےماخوذ گہرے علم کو اصطلاح میں ‘‘تصوف’’ کہتے ہیں ۔ تصوف کے متعلق احادیث، کتاب الزھد، کتاب الرقاق، کتاب الاخلاق میں ان ابواب کے تحت ملتی ہیں : الکبر ، السواء الظن ، الظلم ، البخل، الحرص ، التحقیر و التکلف ، الحسد ، الریاء وغیرہ برے اخلاق ہیں ۔ اور الاخلاص ، الصداق ، الصبر، الشکر، الرضاء القناع ، حسن الخق ، الحیاء، التواضع الحلم ، الخوف ، الفراس وغیرہ اچھے اخلاق ہیں ۔

لیکن صوفیاءکی اصطلاح میں اس کے معنی ہیں : اپنے اندر کا تزکیہ اور تصفیہ کرنا،یعنی اپنےنفس کو نفسانی کدورتوں اور ذائل اخلاق سے پاک و صاف کرنا اور فضائل اخلاق سےمزین کرنا اور صوفیاء ایسے لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنےظاہر سے زیادہ اپنے اندر کے تزکیہ اور تصفیہ کی طرف توجہ دیتے ہیں اور دوسروں کو اسی کی دعوت دیتے ہیں اور لفظ صوفیاء ایسے لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اپنےاندر کے تزکیہ وتطہیر کی طرف توجہ دیتے ہیں اور اب یہ لفظ ایسے ہی لوگوں کے لیے لقب کی صورت اختیار کر چکا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں ایسے لوگوں کا اکثر لباس صوف یعنی اون ہی ہوتا تھا اس وجہ سے ان پر یہ نام پڑ گیا اگر چہ بعد میں ان کا یہ لباس نہ رہا اورحدیث شریف کی کتابوں میں ایک حدیث ‘‘حدیث جبرئیل’’ کے نا م سے مشہور ہے، اس میں ہے کہ ایک دن جبرئیل علیہ السلام انسانی شکل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ سوالات کیے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ : احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ : احسان یہ ہے کہ تم خدا کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر ایسی کیفیت نہ پیدا ہو کہ تم خدا کو دیکھ نہیں پارہے ہو تو کم سے کم یہ یقین کر لو کہ وہ دیکھ رہا ہے اور بندہ کےدل میں اسی احسان کی کیفیت پیدا کرنے کا صوفیاء کی زبان میں دوسرا نام تصوف یا سلوک ہے۔

تصوف دراصل بندہ کے دل میں یہی یقین اور اخلاص پیدا کرتا ہے۔تصوف مذہب سے الگ کوئی چیز نہیں، بلکہ مذہب کی روح ہے۔ جس طرح جسم روح کےبغیر مردہ لاش ہے، اسی طرح اللہ کی عبادت بغیر اخلاص کےبےقدر و قیمت ہے۔ تصوف بندہ کےدل میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی محبت پیدا کرتا ہے ۔ اور خدا کی محبت بندہ کو مجبور کرتی ہے کہ وہ خلق خدا کے ساتھ محبت کرے، کیونکہ صوفی کی نظر میں خلق خدا، خدا کا عیال ہے۔ اور کسی کےعیال کےساتھ بھلائی عیال دار کےساتھ بھلائی شمار ہوتی ہے خدا کی ذات کی محبت بندہ کوخدا کی نافرمانی سے روکتی ہے اور بندگانِ خدا کی محبت بندہ کو ان کے حقوق غصب کرنے سے روکتی ہے ۔ اس لیے صوفیاء حضرات کی زندگی حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پوری طرح ادا کرتے ہوئے گذرتی ہے۔ظاہر ہے کہ جو چیز انسان کو اللہ تعالیٰ کافرماں بردار بنائے اوراس کےبندوں کا خیر خواہ بنائے اس کی اہمیت سےانکار نہیں کیا جاسکتا لوگ عام طور پر جب صوفی ازم اور تصوف پر بات کرتےہیں توان کے پیش نظر کچھ صوفیاء اور بزرگ ہوتےہیں جو اپنی ذات میں بہت صالح ،خدا ترس اور متقی ہوتے ہیں، خالق کی یاد میں مشغول رہنےوالے اور مخلوق کےلیے سراسر رحمت صفت ان بزرگوں کے بارےمیں لوگ بالعموم محبت اور حسن ظن کا تعلق رکھتے ہیں تا ہم جب ہم علم تصوف کےبارےمیں کوئی گفتگو کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر یہ بزرگ نہیں ہوتے ،بلکہ تصوف کی وہ روایت ہوتی ہےجسے قرآن وسنت کی روشنی میں پرکھنابہر حال ہمارے ذمہ داری ہے۔

صوفی ازم انسان کا شعور ہر دور میں اس سوال کا جواب تلاش کرتا رہا ہے کہ اس کائنات اور اِس کےبنانے والے سے کیا تعلق ہے؟ اس سوال کا ایک مکمل جواب اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی دن سےاس شکل میں انسانوں کو دے دیاتھا کہ ان کے باپ اورپہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کوایک نبی بنا کر بھیجا گیا اور اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ اس رہنمائی کی یاد دہانی کےلیے ہر قوم اورہر زمانے میں نبی اور رسول آتے رہے ۔ اس رہنمائی میں اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور ان سے تعلق کی درست نوعیت کو بالکل کھول کر بیان کیا گیا تھا تا ہم وقت گزرنے کےساتھ ساتھ انسان انبیاء کرام علیہم السلام کی اس رہنمائی کو فراموش کرتا گیا فراموشی اور غفلت کی اس فضا میں انسان نےاپنے طور پر ان سوالات کی کھوج شروع کردی جن کےجواب کے لیے یہ رہنمائی عطا کی گئی اس کھوج کی ایک شکل فلسفیانہ افکار کی صورت میں ظاہر ہوئی ۔ ان فلسفیانہ افکار نے مختلف شکلیں اختیار کیں ان میں ایک شکل و ہ تھی جو مذہب سے بہت زیادہ متاثر تھی اور اس میں حقائق کی تلاش عقل کےبجائے باطن کی آواز اور وجدان کی بنیاد پرکی جاتی تھی ۔ عقل اور وحی کےبجائےباطنی تجربے،روحانیت اور وجدان کی بنیاد پر خدا سےتعلق کی یہ تحریک دنیا کے کم و بیش تمام مذاہب میں موجود رہی ہے۔ بعض مذاہب مثلاً بدھ مت کی بنیاد ہی داخلی تجربےاور وجدان پر مبنی اس عالمی تحریک پر رکھی گئی ہےجبکہ بعض مذاہب میں جن میں یہودیت اورمسیحیت جیسےابراہیمی مذاہب شامل ہیں اس کی ایک مستقل روایت موجود رہی ہے اسلام جب عرب سے نکل کر عجم پہنچا تو نومسلموں کےقبول اسلام کےساتھ ساتھ یہ عالمی روایت،مسلم معاشرے میں خاموشی سے سرائیت ہونےلگا تھا تواس وقت مشائخ عظام ،علماء کرام اور صوفیاء کرام اس روایت کو صوفی ازم یا تصوف میں داخل ہونےسےبچا یا اس تفصیل سے یہ بات واضح ہے کہ تصوف ایک اسلامی تصور ہے اور ایک عالمی تحریک ہےجو اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کےساتھ ساتھ پوری دنیا کے انسانوں کی بھلائی کےبارے میں مکمل طور کوشاں رہتی ہے اور اسلام کے ظہور کے بعد جب دیگر مذاہب کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد مسلمان ہوئی تو ان کےساتھ تصوف کی یہ تحریک مسلمانوں کا دائرہ کا ر وسیع ہوتا گیا اور مسلمانوں کے بڑےبڑے اہل علم اس سے متاثر ہوئے اوراسے قرآن و حدیث سے مزین کئے تاہم یہ بات اپنی جگہ مبنی بر حقیقت ہے کہ ائمہ اہل تصوف جب خالص علمی انداز میں اپنے نظریات بیان کرنا شروع کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوجاتاہے کہ ان نظریات کاتعلق اسلام سےمکمل طور پر ہے، صوفیاء حضرات اپنی تعلیمات میں سب سے زیادہ جس چیز پر زوردیتےہیں وہ عشق و محبت خداوندی ہے، کیونکہ محبت ہی ایک ایسی چیز ہے جو محب کو اپنے محبوب کی اطاعت پر مجبور کرتی ہے او راس کی نافرمانی سے روکتی ہے او رمحب کےدل میں محبوب کی رضا کی خاطر ہر مصیبت و تکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی قوت و صلاحیت پیدا کرتی ہے ، اور محبت ہی وہ چیز ہے جو محب کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ایسا عمل کرےجس سےمحبوب راضی ہو اور ہر اس عمل و کردار سےباز رہےجس سےمحبوب ناراض ہو، چنانچہ صوفیا حضرات اگر زاہد ،تقویٰ ،عبادت ،ریاضت او رمجاہدے کرتےہیں توان کا مقصد صرف اور صرف خدا کی رضا حاصل کرناہوتا ہے۔

وہ جنت کی لالچ یا جہنم کے خوف سے خدائی بندگی نہیں کرتے چنانچہ حضرت رابعہ بصریہ اپنی ایک دعا میں فرماتی ہیں : ‘‘ خدایا! اگر میں تیری بندگی جنت کےلیے کرتی ہوں تو مجھے اس سے محروم رکھنا ، اگر میں جہنم کے خوف سے تیری عبادت کرتی ہوں تومجھے اس میں جھونک دینا ،لیکن اگر میں تیری بندگی تجھے پانے کے لیے کرتی ہوں تو مجھے اپنےآپ سےمحروم نہ رکھنا’’ ( مقالات الاولیاء) شیخ شبلی تو یہاں تک فرماتے ہیں : ‘‘ الصوفی لایریٰ فی الدارین مع اللہ غیر اللہ ’’( کشف المحجواب) صوفی دونوں جہانوں میں اللہ تعالیٰ کی ہستی کےعلاوہ اور کسی چیز کو نہیں دیکھتا ’’۔امام ربانی فرماتے ہیں : ‘‘ مقر بین بارگاہ الہٰی یعنی صوفیاء حضرات اگر بہشت چاہتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ ان کا مقصد نفس کی لذت ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ خدا کی رضا کی جگہ ہے ،اگر وہ دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ اس میں رنج و الم ہے،بلکہ اس لیے کہ وہ خدا کےناراضگی کی جگہ ہے ، ورنہ ان کے لیے انعام و رنج و الم دونوں برابر ہیں ۔ ان کا اصل مقصود رضائے الہٰی ہے ، صوفیاء حضرات کےنزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےاسوۂ حسنہ کی پیروی کیے بغیر معرفتِ خداوندی اور نجات کا حصول نا ممکن ہے۔ چنانچہ امام ربانی شیخ احمد سر ہندی ایک مکتوب میں لکھتے ہیں : ‘‘ اس نعمت عظمیٰ یعنی معرفت خداوندی تک پہنچنا سید الا ولین والآخر ین کی اتباع سے وابستہ ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کیے بغیر فلاح و نجات نا ممکن ہے’’۔ محال است سعدی کی راہ صفارتواں رفت جز درپئے مصطفےٰ) شیخ احمد سرہندی : مکتوبات ،مکتوب78، ج اول ، ص 279 ( ‘‘اے سعدی ! یہ نا ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کیے بغیر خدا کی معرفت اور تصفیہ قلب حاصل ہوسکے ’’۔ یہی بات قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اس طرح ارشاد فرماتا ہے ۔ ترجمہ : آپ ان کو بتادیجئے کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، نتیجے میں اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت خود خدا کی اطاعت ہے ، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ترجمہ ‘‘ جس شخص نے خدا کے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی ۔’’

کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ بولتے ہیں وہ وحی الہٰی ہی ہوتا ہے ، چنانچہ ارشاد باری ہے ۔ ترجمہ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہشات سے نہیں بولتے ، وہ جو کچھ تمہیں دین کے بارے میں دے رہے ہیں وہ وحی الہٰی ہے ، جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے ۔’’ اس لیے ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا ترجمہ : ‘‘جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں رک جاؤ’’۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سےمعلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کا اس وقت تک ایمان کامل نہیں ہوسکتا وہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ ہر چیز سے زیادہ محبت نہ کرے اور اپنی ساری خواہشات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے تابع نہ بنا دے ۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ۔ تم میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے والدین اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب نہ رکھے ۔ ‘‘تم میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک ا س کی خواہشات میرے لائے ہوئے طریقے کے مطابق نہ ہوں’’ صوفیاء حضرات جتنے مجاہدے ، ریاضات او رعبادات کرتےہیں یا ان کا اپنے معتقدین کو درس دیتے ہیں  ان کا اصل مقصد نفس کا تزکیہ اور تطہیر ہے چنانچہ ایک صوفی بزرگ فرماتےہیں کہ اے دوست ! چاہے ایک حرف ‘‘الف’’ ہی پڑھ لو ، لیکن اپنے اندر کو پاک و صاف کرلو، اگر اندر کا یہ تزکیہ و تطہیر نہیں کرے تو زیادہ پڑھنے اور ورق گردانی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن و سنت کیا کہتے ہیں ؟

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک دعا نقل کی ہے۔ ترجمہ : اے ہمارے پروردگار ! میری اولاد میں سے ہی ایک رسول بھیج ، جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے اندر تزکیہ کرے ۔’’ ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے ظاہر ہے کہ کسی نبی کی بعثت تلاوت آیات اور تعلیم کتاب و حکمت کا اصل مقصد لوگوں کے اندر کا تزکیہ ہے ۔ غور کیا جائے تو واضح ہوگا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اصل مقصد تزکیہ ہی تھا کیونکہ تلاوتِ آیات و تعلیم کتاب و حکمت کا اصل مقصد تزکیہ ہی ہے، کیونکہ اگر تعلیم سے تزکیہ قلب وتطہیر فنس حاصل نہ ہوتو تعلیم وتعلم  ، درس تدریس سب فضول  ہے ایک او رمقام پر ارشاد باری ہے ۔ ترجمہ : بے شک وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور وہ ناکام و نامراد ہوگیا جس نے اپنے نفس کو مٹی آلود کردیا ’’۔ تصوف جن رذائل اخلاق سے اپنے اندر کو پاک کرنے کی تعلیم دیتا ہے ۔ وہ یہ ہیں ۔ بد نیتی ، ناشکری ، جھوٹ ، وعدہ خلافی، خیانت ، بد دیانتی ، غیبت و چغلی ، بہتان ،بدگوئی و بدگمانی ،خوشامد و چاپلوسی ، بخل و حرص ، ظلم ، فخر ، ریاو نمود و حرام خوری وغیرہ۔ او رجن چیزوں سے اپنے اندر کو سنوارنے کی تعلیم دیتا ہے، وہ یہ ہیں : اخلاص نیت، ورع وتقویٰ ، دیانت و امانت، عفت و عصمت ، رحم و کرم ، عدل و انصاف ،عفوو درگذر ، حلم و بردباری ، تواضع و خاکساری ، سخاوت و ایثار ، خوش کلامی و خودداری ، استقامت و استغنا وغیرہ جیسا کہ حضرت ابو القاسم قشیری کی کتاب رسالہ قشیر یہ اور شیخ علی ہجویری کی کتاب کشف المحجوب اور ابو نصر کی کتاب کتاب اللمع سے ظاہر ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن وسنت کا وبیشتر حصہ ان ہی رذائل اخلاق سے بچنے اور فضائل  اخلاق سے اپنے کو مزین کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور اگر صرف ارکان اربعہ چار اہم عبادات ، نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، و حج پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن و سنت نے ان کا مقصد ہی تزکیہ نفس و تطہیر قلب بتایا ہے۔

جس کا صوفیاء درس دیتے ہیں اور صوفیائے کر ام کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنے اور پرائے ، نیک اور بد، موافق اور مخالف سب کے ساتھ برداشت ، رواداری او ر حسن سلوک کا ریہ رکھتے ہیں او راپنے معتقدین کو بھی اسی چیز کا درس دیتےہیں، چنانچہ حضرت بصری کے بارے میں منقول ہے کہ : ‘‘ انہیں کچھ لوگوں نے بتایا کہ فلاں شخص آپ کی عیب جوئی کررہا ہے ،تو آپ نے بجائے اس پر غصہ کرنے یا انتقام لینے کے بطور تحفہ اس کو تازہ کھجوریں بھیج دیں ’’۔ جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور جاہلانہ رویے سے پیش آتے تھے اللہ تعالیٰ نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کوان  کے ساتھ نرمی کرنے، درگذر کرنے ، رواداری سے پیش آنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ۔ ترجمہ ‘‘ عفو و درگذر سے کام لو، اچھائی کا حکم دیتے رہو اور ان کی جاہلانہ باتوں سے رو گردانی کرتے رہو ’’۔ سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ : ‘‘قیامت کے بازار میں کوئی اسباب اس قدر قیمتی نہ ہوگا جس قدر دلوں کو راحت پہنچانا ’’۔ او ران حضرات کے ہاں خلق آزاری سے بڑھ کر کوئی جرم نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلق خدا کی خدمت پر ابھارنے کے لیے مختلف طریقوں سے ترغیب دیتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا : بیواؤں اور یتیموں کی مدد کرنے والا خدا کے ہاں ایسا ہے جیسے مجاھد فی سبیل اللہ او ریہ بھی فرمایا کہ اس کو وہ اجر ملے گا جو ساری رات جاگ کر عبادت کرتا ہو اور جو ہمیشہ روزے رکھتا ہو ۔’’ مذکورہ بحث سےاندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تصوف اور صوفیاء حضرات کی تعلیم دراصل قرآن و سنت کا نچوڑ او راس کی عملی صورت ہے اور انسانیت کے لیے ضامن ہے۔

 

داعش کی قتل و غارت گری اور ثقافتی تباہی خیزی پر

نئی دہلی 24جون (پریس ریلیز)
ہندوستان میں صوفی سنی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ نے شام اور عراق میں داعش کی قتل و غارت گری اور ثقافتی تباہی خیزی پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام اور اسکی تہذیب اور یادگاروں کے یہ دشمن اسلام کی تما م علامتوں کو مٹانے پر تلے ہیں اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہے اور کچھ اسلامی ممالک بھی اسلامی تاریخ کو آنے والی نسلوں کے سامنے افسانہ بنا نے کے اپنے ایجنڈے کی تکمیل ہوتے دیکھکر مطمئین ہے۔قدیم مقامات اور تاریخی ورثہ کاتحفظ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی ادارے اور محکمہ آثار قدیمہ سمیت قومی محکمے کرتے ہیں لیکن داعش ایک ایسی دہشت گرد تنظیم ہے جو طاقت کے بل پر اسلا می ممالک کے کچھ علاقوں پر قابض ہو کر بعض مملکتوں کے اسلامی آثار دشمن ایجنڈے کو تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔
آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈکے صدر اور بانی حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے آج یہاں ایک بیان میں کہا کہ بورڈ کو یہ جان کر گہرا صدمہ پہنچا ہے کہ داعش کے کرایہ کے سپاہیوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وارثین میں سے ایک محمد بن علی اور ایک بڑی مذہبی شخصیت نذرابوبہاؤالدین کے مزارات کوشام میں بم سے اڑا دیا ۔جہاں یہ لوگ صدر بشار الاسد کے خلاف بعض شہنشاہیتوں کی تیل اور گیس کی دولت سے درپردہ جنگ لڑ رہے ہیں ۔حضرت مولا نا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ شمالی اورمشرقی شام میں جن جن مقامات پر داعش کے دہشت گردوں نے قبضہ کیا ہے وہاں انہوں نے 100سے 200 سال پرانے کم از کم 50مزارات اور مقبروں کو تباہ کیا ہے ۔شام میں ایک صحابی رسول اور محب علی حضرت حجر بن عدی ،حضرت زینب بنت علی اور اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے جرنیل خالد بن ولید کے مزارات کی بے حرمتی اور تباہی کے جاری سلسلے میں یہ نئی تباہی خیزیاں ہوئی ہیں ۔ان لوگوں کی مشکل یہ ہے کہ یہ نہ صرف بزرگان دین ،صحابہ کرام ،اہل بیت اطہار کے دشمن ہیں بلکہ پیغمبروں کے مزارات کی بے حرمتی میں بھی پیچھے نہیں رہے ۔حضرت شیث علیہ السلام اور حضرت یونس علیہ السلام کے مزارات کو بم سے اڑا کر انہوں نے اپنی اسلام دشمنی کی پہچان پختہ کردی ہے۔
حضرت مولا نا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو مسلم ممالک میں حکومتوں کے خلاف بیرونی مالی اور عملی امداد سے سرگرم کرایہ کے سپاہیوں اور دہشت گردوں کی اسلام دشمنی کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی چاہئے کیونکہ وہ اسلامی آثار مٹانے کی ایک بڑی بین الاقوامی سازش کے تحت بے روک ٹوک اپنا کام انجام دے رہے ہیں ہندوستان کی مسلم آبادی میں 80فیصد سے زائد لوگ تعظیم اور زیارت پر عمل پیرا ہیں اور مقدس مقامات اسلامی آثار تاریخی یادگاروں اور مزارات اور مقبروں کے تحفظ کو اسلامی تہذیب کے تحفظ کی ترجیحی کڑی مانتے ہیں اسلئے رمضان کے مقدس مہینے میں اسلامی آثار کی اس بےحرمتی پر رنجیدہ ہیں ۔