آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کے صوبائی دفتر،لکھنؤ میں اہم میٹنگ منعقد

لکھنؤ۔5نومبر پریس رلیز

آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کے صوبائی دفتر لکھنؤ میں سید حماداشرف کچھوچھوی (جنرل سکریٹری یوپی) کی صدارت میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں میرٹھ،رائے بریلی،سلطانپور،امیٹھی،بریلی ،سدھارتھ نگر سمیت یوپی کے مختلف اضلاع کے ذمہ داروں نے شرکت کی۔میٹنگ کاآغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔جمال اشرف اورتوفیق رضانے نعت ومنقبت کے نذرانے پیش کئے۔
میٹنگ کوخطاب کرتے ہوئے ہوئے مولانا اشتیاق احمدنے کہاکہ صوفیائے کرام نے ہمیشہ بلاتفریق مذہب وملت خدمت خلق اورآپسی بھائی چارہ کا درس دیاہے۔صوفیائے کرام کی انہی تعلیمات کوعام کرنا اورسنی صوفی مسلمانوں میں حب وطن اورآپسی بھائی چارہ کے جذبے کوبیدارکرنااوران کے حقوق کی حصولیابی کے لئے جدوجہد کرنا ہی بورڈ کانصب العین رہاہے۔
مولانا قیصر رضاعلوی نے دور حاضر کے اہم مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے ہمیشہ ملک اور سماج کے ترقی کی بات کر کے وطن سے محبت کی انوکھی مثال قائم کی ہے۔آج جبکہ قوم مسلم غیر ضروری مسائل میں الجھ کر اپنی ترقی پر توجہ مرکوز نہیں کر پارہی ہے ایسی حالت میں ضروری تھا کہ بورڈ صوفیائے کرام کی تعلیمات کے مطابق ان کی اصلاح کے لئے لائحہ عمل طے کرے اور معاشرے میں اخلاقی اور تعلیمی بیداری کی مہم بھی شروع کر ے۔
مولانامقبول احمدسالک مصباحی نے کہا کہ بورڈ کے بانی وصدر نے یہ عندیہ ظاہر کیا ہے کہ بورڈقوم مسلم کے موجودہ مسائل پرایک عظیم الشان سیمینار منعقدکریگا جس میں ملک بھر سے سجادگان،علماء کرام و دانشوران اپنے مقالات پیش کریں گے اور اظہار خیال کریں گے، جوکہ لائق تحسین ہے۔انہوں نے لوگوں سے بورڈ کے ساتھ کھڑے ہونے کی تلقین کی جس سے اہل سنت و جماعت کو تقویت مل سکے۔مولانا کی اس بات سے شرکاء نے اتفاق کیا اوراپنے پورے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
حافظ مبین احمدنے بورڈ کومضبوط کرنے کے لئے یوپی کے تقریباًسبھی اضلاع میں یونٹوں کے قیام اورممبرسازی پرزوردیا ۔
میٹنگ کوحضرت سید احمدشطاری،مولانا انواراحمدشیری،حافظ مبین احمد نے بھی خطاب کیا۔میٹنگ کے آخر میں آل رسول احمدآفس انچارج لکھنؤ نے شرکاء کاشکریہ اداکیا۔
میٹنگ کااختتام صلوٰۃ وسلام اور قاری محمداحمدبقائی صاحب کی ملک وملت کی خوشحالی کی دعاپرہوا۔میٹنگ میں مولان منعم رضا،اما م گل حسن،سید احسان علی،اعجاز خان،رمضان علی،اسعداشرفی،نگارعالم،محمدشبیرخان،متین احمد،محمداحسان اللہ کے علاوہ کثیرتعداد میں لوگ موجودرہے۔

مولانا نورالہدی مصباحی مخلص اور حق گو عالم دین تھے: اشتیاق احمد قادری

لکھنؤ۔۲نومبر

آل انڈیا علماء و مشایخ بورڈ لکھنو یونٹ کی جانب سے خلیفۂ حضوراشرف ملت، مولانا نورالہدی مصباحی بستوی کے انتقال پر تعزیتی نشست کا انعقاد بورڈ کے صوبائی دفتر نظر باغ میں سید حماد اشرف جنرل سیکرٹری AIUMB کی صدارت میں ہوا۔ پروگرام کاآغاز قاری علی احمد اشرفی نے تلاوت قرآن مجید سے کیا، حسیم و حسن صابری برادران نے نعت رسول کا نذرانہ پیش کیا۔ مولانا اشتیاق احمد قادری صدر AIUMB لکھنؤیونٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم صوم و صلوۃ کے نہایت پابند اور مثبت سوچ کے مالک تھے دین کی خدمت کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی اور خاصیت تھی وہ تھی حق گوئی جس کا اعتراف سبھی کو ہے۔ پوروانچل میں AIUMB کے ایک مضبوط سپاہی تھے اوربورڈ کے حوالے سے بہت ہی متحرک اور فعال تھے۔
مولانا آل رسول احمد نے کہا کہ مولانا مرحوم کوخدانے جن خوبیوں سے نوازا تھا ان میں سے ا یک یہ کہ وہ دلوں کو جیتنے اور انہیں اپنا بنانے کا ہنر جانتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں دینی وعصری علوم کے علاوہ ملی وسیاسی بصیرتوں سے بھی نواز اتھا۔مولانا موصوف حق گواورملت کادرد رکھتے تھے ان کی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ آئے مگر مولانا جو تھے وہی رہے ان میں کوئی تبدیلی نہ آئی وہ ہر کام اللہ ورسول کی رضا کے لئے کرتے تھے۔اس موقع پر قاری محمد صدیق قادری،محمداحسان اللہ، رمضان اشرفی ،مولانا ربانی فیضی ،مولانا منعم رضا فیضی ،حاجی عبد الواحد خان اور کثیر تعداد میں مدارس کے طلبہ موجود تھے۔

حسینیت نام ہے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا:سید محمداشرف کچھوچھوی

کلیرشریف۔ہریدوار۔2نومبر

حسینیت نام ہے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا۔امام حسین علیہ السلام نے ظلم کی علامت یزید کے خلاف اپنے چھ ماہ کے بیٹے حضرت علی اصغرسے لیکراپنے جوان بیٹے حضرت علی اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہما تک کوقربان کردیا اورآخر میں خود بھی جام شہادت نوش فرمایا لیکن ظلم کی حمایت نہیں کی۔ امام حسین علیہ السلام سے محبت کرنے والے ہردورمیں ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں اورمظلوموں کے زخموں پرمرہم لگانے کاکام کرتے رہے ہیں۔ ظلم کے خلاف صبروشکر کی تعلیم دنیا قیامت تک امام حسین علیہ السلام سے سیکھتی رہے گی۔ ان خیالات کااظہار حضرت مولانا سید محمداشرف کچھوچھوی بانی وصدر آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ نے سلیم پور کلیر شریف میں ایک جلسہ بنام تاجدار کربلا کانفرنس کوخطاب کرتے ہوئے کیا۔
حضرت نے مزید کہاکہ ظالم کتنابھی طاقتورکیوں نہ ہو اس کی شکست یقینی ہے لیکن اس سے ڈر کراس کی حمایت کرناخلاف اسلام ہے۔ظلم صرف کسی کومار دینا ہی نہیں ہے بلکہ کسی کے حقوق کی پامالی بھی ظلم ہے۔نفرت ظلم ہے اورمحبت اسے مٹانے کاہتھیار لہذا محبت پھیلائیے اورنفرتوں کاخاتمہ کیجئے۔حسین والوں کایہی پیغام ہے کہ محبت سب کے لئے اورنفرت کسی سے نہیں۔
جلسہ کاآغازقاری غلام مرسلین سنبھلی کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ جناب ذوالفقار و سید انس نے نعت ومنقبت کے نذرانے پیش کئے۔ جلسہ کی صدارت قاری عاصم صابری نے کی اورنظامت کے فرائض قاری عرفان اشرفی نے انجام دئے۔دہلی سے آئے مولانا اشتیاق القادری نے صوفیاء و اولیا کی تعلیمات و روش کو اپناکر اسی پر عمل پیرا ہونے اور اسے عام کرنے پر زور دیا وہیں قاری مشرف اشرفی سنبھلی نے واقعات کربلا پر روشنی ڈالی۔
جلسہ کااختتام صلوٰۃ وسلام اورملک میں امن و امان کی دعاپرہوا۔جلسہ میں د پیر طریقت سید حسنین سیکری شریف،حکیم سید واصف میاں سہارنپوری ،حافط مہتاب قادری،محمدرفیع کے علاوہ کثیر تعدادمیں عوام موجود رہے۔

آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ کی طرف سے طلبا کے روشن مستقبل کے لئے’’ کیریئر پلا ننگ‘‘ کا انعقاد

باسنی ،ناگور 25اکتوبر
آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ باسنی ناگور شاخ اور طلبہ ایسو سی ایشن باسنی، ناگور، راجستھان کے تحت گذشتہ روز طلبا میں تعلیمی بیداری پیدا کر نے کے لئے ’’کیر یئر پلا ننگ‘‘ کے نام سے دارالعلوم فیضان اشرف باسنی کے ہال میں پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام سے پہلے ٹرینروں نے شہر کے مختلف اسکولوں اور کا لجوں کا دورہ کیاجس میں طلبا کی تربیت سے متعلق بیانات ہو ئے اور اقلیتی سماج میں تعلیم کی اہمیت و ضرورت پر خصوصی توجہ دی ۔ پروگرام میں تعلیم کے تئیں بچے کا فی پر جوش نظر آئے ، اورٹرینروں کو احساس ہوا کہ انہیں رہنما ئی وگائیڈنس کی سخت ضرورت ہے۔
پروگرام میں باسنی کے مختلف اسکولوں و کا لجوں سے تقریباً سو سے زائد طلبا نے شرکت کی اور ملک کی مختلف کو چنگ سینٹرس اور یونیورسٹیوں سے دس ٹرینروں کے ذریعہ طلبا کی تربیت کی گئی ۔ پروگرام کو تین سیشن میں تقسیم کیا گیا جس کے پہلے سیشن میں آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ یوتھ باسنی کے صدر مولانا محمد حسین نے طلبا کو تعلیم میں آنے والی دشواریوں کا حل بتا تے ہو ئے ورکپ شاپ کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی ۔ دوسرے سیشن میں طلبا کے لئے ذہنی آزمائش کا امتحان رکھا گیا جس میں پہلا دوسرا اور تیسرامقام حاصل کر نے وا لے طالب علموں کو انعامات سے نوازا گیا ۔ تیسرے سیشن میں ٹرینروں کے ذریعہ اعلیٰ تعلیم کے لئے مختلف برا نچیز کو مد نظر رکھتے ہو ئے طلباکی کا ؤ نسلنگ کی گئی جس میں سائنس و با یو ٹیکنالو جی کے لئے ڈاکٹر محمد اسماعیل، سائنس و حساب کے لئے انجینئر محمد غلا م جیلا نی ، انجینئر محمد یا سین اور انجینئر محمد اسرار جامعہ ملیہ اسلامیہ، کا مرس کے لئے سی اے جناب محمد ارشد صاحب اور آرٹس کے لئے مولانا محمد حسین و جناب محمد اختر نے طلبا کی رہنما ئی کی ۔ آخر میں طالب علموں کے روشن مستقبل کے لئے تعلیمی سہو لیات فراہم کئے جا نے کو یقینی بنا نے کی ہر ممکن مدد کا عہد کر نے کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا ۔

वक़्फ़ बोर्ड और DDA का भ्रष्टाचार: अब्दुल मोईद अज़हरी

کی بڑھتی بدعنوانیاں DDA وقف بورڈ اور
عبدالمعید ازہری
آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ یوتھ جنرل سکریٹری
ہندوستان سمیت پوری دنیا جہاں کہیں بھی اسلامی حکومتیں ہیں یا مسلم قوم قدیم زمانے سے آباد ہیں، تقریبا ہر جگہ وقف جائداد کا تصور اور اس کے تئیں نظم و نسق کا نظام موجود ہے۔ اس زمرے میں ہندوستان وقف جائداد کے معاملے میں کئی مسلم ممالک کی اراضی اوقاف سے آگے ہے۔ وقف جائداد کی نگہداشت کے لئے الگ الگ ممالک میں الگ الگ نظام قائم ہیں۔ کہیں سیدھے حکومت کی زیر نگرانی میں ہے تو کہیں مسلم اوقاف کے زیر نظم ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی ان اوقاف کی جائدادوں کے لئے ایک بورڈ موجود ہے۔ جسے ہم وقف بورڈ کہتے ہیں۔ جس طرح سے حکومت کے دیگر ادارے ملک اور ملک کے باشندوں کی علمی،سیاسی ، سماجی اور اخلاقی تربیت و ترقی کے لئے قائم کئے گئے ہیں تاکہ اس ملک کا ہر باشندہ ذی شعور اور قابل و لائق اور فائق نکل کر ملک اور قوم کو ترقی سے ہم کنار کرے اور ایسا ہو بھی رہا ہے۔ اسی طرح سے وقف بورڈ کا قیام بھی اسی مقصد سے کیا گیا تھا۔ اس کی جائداد کا صحیح استعمال کر کے اقلیتی طبقے کی تعلیمی، معاشی اور سیاسی و سماجی زبوں حالی اور زوال پذیری پر قدغن لگایا جائے۔ اس کے صحیح استعمال سے نچلے طبقے کو بھی ترقی دے کر ملک کی تعمیر و ترقی کا برابر حصے دار بنایا جائے۔ تاکہ ملک کو ایک ساتھ مل کر ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں اول مقام دلا کر اس کے تئیں اپنی جان مال قربان کرنے والوں کو خراج پیش کیا جائے۔
وقف جائداد وہ جائداد ہیں جنہیں کار خیر اور ایصال ثواب کی نیت سے قوم کی خدمت کے لئے وقف کی گئی ہیں۔ صاحب حیثیت، زمیں دار اور اہل ثروت نے اپنے متعلقین اور لواحقین کے لئے ان کے ایصال ثوب کے لئے یا کار خیر کی نیب سے انہیں وقف کر دیا کہ اب اس جائداد کا استعمال امت کی بھلائی اور اس کی تعمیر و ترقی میں استعمال ہو۔ بنیادی طور پر وقف جائداد کا تصور یہیں سے وجود میں آیا۔ مذہب اسلام میں مرنے والے سے اس کی موت کے بعد بھی تعلق کا ایک اہی راستہ ہے۔ صدقہ جاریہ اور اس کے لئے ایصال ثواب کرنا۔ان جائداد، مال و دولت کو ضرورت مندوں پر خرچ کر کے اس کے صلہ میں مرحوم کے لئے دعائیں کرنا، ان کی مغفرت چاہنا۔یہ سلسلہ قدیم زمانے سے مسلمانوں میں رائج اور قائم و دائم ہے۔ اپنی اپنی حیثیت،نیت اور عقیدت و اردات کی بنیاد پر یہ کار خیر رواں دواں ہے۔جس کے نتیجے میں آج ملک بھر کی وقف جائداد کا اندازہ لگایا جائے تو اقلیت کے ساتھ ملک کے حالات بدلنے کے لئے کافی ہے۔ اس کے صحیح استعمال سے ایک اندازے کے مطابق محض دس برسوں میں قوم مسلم کے حالات یکسر بدل سکتے ہیں۔ان جائداد کے پیچھے ایک اور دلچسپ حقیقت اور سبق آموزنمائندہ اوراق پنہاں ہیں۔ جنہیں کم ہی کھولا جاتاہے۔ عام طور پر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ اکثر اوقاف کی جائداد ایسی جگہ ہیں جہاں کسی بزرگ کی کوئی قبر، مزار، درگاہ اور اسی سے وابستہ ایک مسجد ہے۔ وقت و حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ تعمیر و ترقی بھی انہدام و تنزلی بھی ہوتی رہی۔ کچھ جگہیں تو کافی نمایاں اور ترقی یافتہ ہو گئیں اور کچھ اتنی تاریکی میں چلی گئیں کہ آج و ہ موشیوں،غلیظ خانوں کی استعمال گاہ بن گئیں۔
بہر حال اس کے پیچھے کی دلچسپ تاریخ یہ ہے کہ ہندوستان جب اسلام آیا تو تصوف کے کردا ر میں آیا تھا۔ ایک درویش اپنی انسانی ہمدردی اور قومی ہم آہنگی کی تعلیم سے لوگوں کے لئے ہدایات کے راستے ہموار کرتا تھا۔ کسی جگہ بیٹھ کر وہ انسان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرتے ہوئے اپنی زندگی گزارتا تھا۔ لوگ ان کے اس عمل اور کردا ر سے متاثر ہو کر اس بزرگ کے مذہب کو قبول کر لیتے تھے۔ اس انسانی ہمدردی اور رواداری کے چلتے ان کے پاس لوگوں کا جم غفیر ہونے لگتا تھا۔ لوگ دور دراز سے سفر کر کے ان بزرگوں کے پاس کچھ دن گزارنے اور انسانی رواداری کی تعلیم سیکھنے آتے تھے۔ مہینوں کا قیام رہتا تھا۔اب مہینوں تک رکنے کے لئے ان کی خاطر قیام و طعام کا انتظام بھی ضروری تھا۔ تو اس کے لئے اہل ثروت نے سخاوت دکھائی اور اس وقت کے حاکموں نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس بزرگ کے مسکن کے قریب کی زمینوں کو اسی کار خیر کے لئے وقف کر دیا۔ اب اس میں کھیتی بھی ہوتی تھی۔ اور اسی کے غلے سے بھوکوں کو کھانا بھی کھلایا جاتا تھا۔اس طرح غریبوں اور مسکینوں کو ایک ایسا مرکز مل گیا جہاں سب کو کھانا ملتا تھا۔جہاں لوگوں کے ساتھ ہمدردی ان کے مذہب یا ذات کی بنیادپر نہیں بلکہ ان کی ضرورت کی بنیاد پر ان کے ساتھ معاملات کئے جاتے تھے۔
دہلی سمیت ملک کے الگ الگ حصوں میں خصوصا شہروں میں ان کی ترقی کے لئے قائم کردہ ایک ادارہ ہے جسے دہل میں DDA کہتے ہیں۔ دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی۔دہلی، پنجاب اور یو پر سمیت کئی ریاستوں کی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کاحال یہ ہے کہ اس نے اوقاف پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ وقف بورڈوں کی ملی جلی سازش سے یہ کام بڑی بے باکی اور مجرمانہ طریقے سے عمل میں آرہا ہے۔دہلی وقت بورڈ کے وقف جائداد کی بڑھتی سودے بازی نے کئی بڑے سوال کھڑے کر دئے ہیں۔ اس جائداد کا استعمال قوم کے لئے بہترین اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک کا قیام عمل میں آ سکتا تھا۔ صحت کی نگہداشت کے لئے نہ صرف بڑے اسپتال بلکہ میڈیکل کالج بھی قائم ہو سکتے تھے۔ جس سے پوری قوم مستفید ہوتی۔ لیکن اس کی غیر قانونی سودے بازی نے سیاسی لٹیروں کو بھی اس جانب متوجہ کرا دیا ہے کہ یہ بکنے والا ادارہ آپ کی بولی کا انتظار کر رہا ہے۔
وقف بورڈ کی یہ بے رخی کیوں ہے یہ سمجھ سے پرے ہے۔آیا انہیں بزرگوں کی روایت سے دلچسپی نہیں ہے۔ ان کے خدمت خلق کی روایت انہیں اچھی نہیں لگتی۔ درگاہ یا قبر و مزار اور ان کی تاریخ پسند نہیں۔ لہٰذا ایک گھنونہ کام اور سامنے آیا کہ مسجدوں کو مسمار کرنے کا کام شروع ہو گیا۔ چند برس قبل مہرولی کی غوثیہ مسجدسے شروع ہونے والا انہدام کا سلسلہ خسرو پارک کی مسجد اور لال مسجد تک ہوتا ہوا دہلی کی کئی اہم مساجد تل پہنچ چکا ہے۔ وقف بورڈ سامنے سا تماشہ دیکھ رہی ہے ۔اس جائداد کی حقدار قوم بھی خاموش ہے۔ جب اس کے سیاسی نااہل رہنما ہی اس کے سوداباز ہیں تو بے چاری قوم کر بھی کیا سکتی ہے۔اس وقف بورڈ میں عقیدہ اور مسلکی تصادم کا بھی بڑا رول ہے۔ عام طور پر اس جائداد کے نگراں ایسے لوگ منتخب ہوتے ہیں جنہیں اس صوفیوں اور بزرگوں کی روایات سے کسی بھی قسم ربط نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار خدمت خلق کے مثالی بزرگوں کی تاریخیں مسخ کر دی گئیں۔ ان کی روایات جلا دی گئیں۔یہ اپنی کوٹھیاں اور حویلیاں بناتے رہے۔ ابھی تک ایسے لوگ اس جائدا د کی نگہداشت کے لئے بورڈ کے ذمہ دار نہیں بنے جو صحیح معنوں میں اس کا جائز استعمال کر سکیں۔
جو بھی آیا ہے صرف مسمار اور کاروبار کیا ہے۔
حکومتوں کو اس طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صرف مسلم ادارہ یا اسی کے لئے مخصوص کوئی ادارہ اگر نہیں بنتا تو کم سے کم اس کا استعمال عام ہندوستانیوں کی فلاح بہبود کے لئے تو ہو سکتا ہے۔ تعلیمی اور طبی مراکز قائم کر لے ملک کی لا علمی اور عدم صحت کو تو کم از کم دور کیا جا سکتا ہے۔اس بورڈ اور اس کے ساتھ DDA کی بد عنوانی اورناجائز کاروبار کو روکنا ہوگا۔اس جائداد کا صحیح اور جائز استعمال کر کے ملک اور قوم کی ترقی کے کئی اہم اور بڑے مراحل طے کئے جا سکتے ہیں۔وقف بورڈ میں کسی ایسے کی تقرری پر فوری رو ک لگائی جانی چاہئے تو ان کی تاریخ اور تعلیم سے واقف نہیں اور اس روایت میں یقین نہیں رکھتا ۔ کیوں کہ اگر اس کی ذاتی عقیدت نہیں ہے تو اس کاروبار ہی کرے گا۔
*****
Abdul Moid Azhari (Amethi), Contact: 9582859385, Email: abdulmoid07@gmail.com

پھر سی غلامی کی راہ پر گامزن ملک: عبدالمعید ازہری

کل ہم انگریزوں کے غلام تھے ۔ آج ہماری غیر اخلاقی رواداری ، نفرت و تشدد، مذہب کے نام پر انتہا پسندی،بد عنوان سیاست اور مجبور اور کمزور قانون ہمیں غلامی کی زنجیریں پہنا رہا ہے ۔نفرت و تشدد کی اس آگ میں صرف اور صرف انسان جل رہا ہے ۔ انسانیت دم توڑ رہی ہے ۔مذہب اپنی کتابوں میں سسک رہا ہے ۔مذہبی رہنما اپنی عبادت گاہوں میں قید ہو گئے ہیں۔بد عنوان سیاست کا ننگا ناچ امن و آشتی ، اخوت و محبت کے چہرے پر تیزاب ڈال رہا ہے ۔اس تاریک راہ میں ہمیں امید ہے تو بس اتنی کہ ہر فرعون کے لئے کو ئی موسیٰ ضرور ہے اور ہر یزید کیلئے کو ئی حسین۔آج انہیں دونوں کرداروں کی ضرورت ہے ۔ہر یزید کا تخت پلٹے گا اور ہر فرعون غرقآب ہوگا کیونکہ ہر ظلم کی ایک حد ہے ،ہر زیادتی کی ایک سیما ہے۔ انسان کی فطرت اگر چہ صبر اور ضبط ہے لیکن اس کی بھی ایک مدت ہے ۔جیسے نیند کی ایک مدت ہے ۔اس سے زیادہ نہیں سو سکتا۔اگرکسی دوا کا سہارا لیا ہے، تو اس کا بھی ایک وقت ہے لیکن اس کے بعدبہر حال اسے بیدار ہونا ہے۔ یہ بھی ایک سچ ہے کہ انسان اگر حساب پر آ جائے تو حساب کا بھی حساب کتاب ہو جاتا ہے کیونکہ انسان اس بڑے حساب کرنے والے کا ایک مظہر ہے۔ اس انسان میں بھی اسی کا نور ہے۔تو انسان جب نیند یا بے ہوشی کے بعد بیدار ہوتا ہے، تو اس کی بیداری بھی عجیب ہوتی ہے۔یہ بیداری ایک تاریخ لکھتی ہے۔ وہ سارا حساب لیتی ہے۔ وہ دریا کو پیاسا اور سمندر کو بے سہارا کر دیتی ہے۔وہ تاریخ کی طرح ہے کہ اگرچہ خاموش ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بے حس ہے۔وہ اپنا پورا کام کرتی ہے۔جب وقت آتا ہے، تو آئینہ کی طرح سب کچھ سامنے رکھ دیتی ہے۔
انسان کی فطر ت جہاں ایک طرف محبت اور ہمدردی ہے وہیں دوسری طرف غصہ اور لڑائی بھی ہے۔ بسا اوقات ایک لکیر بھی کھنچ جاتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ لکیر زیادہ دیر تک نہیں رہتی۔ ایک دن مٹتی ہے ۔ گنگا جمنا کے بیچ کا فرق ختم ہوتا ہے ۔ پھر سمندر کی لہروں کی مانند ایک انقلابی موج اٹھتی ہے جو اپنی رفتار سے ساری برائیوں کو ختم کر دیتی ہے ۔
در اصل صبرو ضبط کا یہ وقفہ ایک موقعہ ہے۔غلطیوں کو آسانی سے ختم کرنے کے لئے کہ اگریہ غلطیاں انسانی فطرت کے تحت ہوئی ہیں تو ابھی ختم کر لو۔ ورنہ جب پانی سر سے اوپر ہوگا اور حساب پر بات آئیگی تو ایک انقلاب آئے گا ۔ اس کو برداشت کرنے کی سکت کسی بھی مجرم یا ظالم میں نہیں ہوگی ۔اسی لئے انسا ن صبر کرتا ہے۔ برداشت کرتا ہے لیکن کچھ لوگ اسے انسان کی کمزوری سمجھ بیٹھتے ہیں ۔
تو موقعہ ہے سمجھ جاؤ انسا ن کے صبر و تحمل ، ضبط و استقامت کا امتحان نہ لو ۔ اس کی باندھ ٹوٹی تو سنامی ہوگی اور اس کی رفتار کو پکڑ نہیں پاؤگے۔
((انسانیت سے بڑھ کر کوئی دھرم نہیں ہو سکتا۔دھرم خود مانو شدھی کرن کے لئے ہوتا ہے۔وہ ذاتی اور پرسنل ہوتا ہے ۔اگر کوئی دھرم یا مذہب مانو ہت کے خلاف ہے تو وہ دھرم نہیں ہو سکتا ۔ جو بھی دھرم کی آڑ میں انسانیت کے خلاف اور مانوتا کے وپریت سیاست کرے وہ سچا دھرم بھکت نہیں ہو سکتا۔ ایسی وچار دھارا رکھنے والا کبھی دیش کا نہیں ہو سکتا ۔ہمارا نہیں ہو سکتا۔))
ہندوستان کی تاریخ رہی ہے اس ملک نے ساری دنیا کو تہذیب اور کلچر سکھایا ہے۔ انسانی ہمدردی آپسی بھائی چارگی کا درس دیا ہے ۔ وطن عزیز کے قیمتی باشندوں نے پوری دنیا کو سکھایا کہ یہ دیکھو الگ نام ، الگ مذہب ، الگ دھرم ، الگ سماج، الگ ذات ،اور الگ برادری کے لوگ ایسے ایک ساتھ رہتے ہیں۔اور یہ روایت اب سے کچھ برس پہلے تک قائم تھی ۔لیکن اب اس میں بھید بھاؤ اور خلش کا گھن لگ گیا ہے ۔اس میل ملاپ اور ملک کی ترقی کی نیا میں نفرت اور بدعنوانی کا سوراخ ہو گیا ہے۔یہ اس ملک کی قابلیت پر سوال ہے ۔ اس کی رہنمائی پر سوال ہے ۔ جس ملک نے ایک سے ایک قد آور اور مثالی لیڈر اور رہنما پیدا کئے ہوں آج اسی ملک کی لیڈر شپ پر سوال ہے ۔ جس ملک کا مقام اس ملک میں بسنے والے ہر مذہب و ملت کی آپسی محبت اور بھائی چارگی کی بنیاد پر بلند سے بلند تر ہونا چاہئے تھا آج نیچے ہوتا جا رہا ہے۔آج اس ملک کی حفاظت کے ذمہ داروں اور اس کو چلانے والوں میں یہ احساس بھی نہ رہا کہ دیکھ سکیں کہ اس ملک کی کیا حالت ہو گئی ہے ۔روتا ہے یہ ملک اپنے پرستاروں پر کہ مجاہدین آزادی نے کم سے کم ایسے ملک کا سپنا تو نہیں دیکھا ہوگا ۔اس ملک کی ترقی اس کی قابلیت اور اہلیت پر ایک بڑا سوال کھڑا ہے ،حد تو یہ ہے کہ اب تو وہ نام جو کبھی عزت کی علامت تھے اب بدنام ہوکر گالی بن گئے ہیں ۔ نیتا ایک ایسا لفظ ہے جوبڑے فخر سے لیا جاتا تھا لیکن اب ایک طنز کی گالی بن کر رہ گیا ہے،ایک بڑا سوال ہے کہ ایسا کیا ہوا۔ اس ملک میں اور وہ کون سی ایسی نئی مصیبت آئی کہ ہم ا س میں ایسے پھنسے کہ نکلنے کے راستے بند ہو گئے اور ہم نے ملک کو اس حال میں پہونچا دیا ۔
اس بڑے سوال کا جواب آپ کو دینا ہے کیونکہ جن ذمہ داروں سے یہ سوال ہے اس میں آپ کا نام بھی شامل ہے اور تاریخ رہی ہے کہ آپ نے جواب دیا ہے۔ اور قرارا جواب دیا ہے ۔آج پھر اس ملک کو اس جواب کی ضرورت ہے۔آج ضرورت ہے۔آج یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ آخر ایک کسان جو اپنے خون کو پسینہ کی طرح بہاتا ہے۔پاؤں تلے کا پسینہ سر سے بہہ کر بنجر زمین کو گیلہ کرتا ہے۔ اتنی محنت کرنے کے بعد بھی وہ کسان بھوک سے خود کشی کر لیتا ہے۔جس ملک کی ترقی اس کے کسان اور اس کی محنت سے ہو آخر روہی بھکمری کا شکا ر کیوں ۔ظلم و زیادتی کے شکنجہ میں جکڑا ہوا کیوں ہے؟کوئی بھی اناج ہو، اس کو اس کی صحیح قیمت نہیں ملتی۔ حد تو یہ ہے کہ ایک طرف یہ کسان اپنی مجبوری اور بے چاری کی وجہ سے جب اناج بیچتا ہے، تو اس کو اس کی ضرورت پر قیمت نہیں ملتی۔ضرورت کے لئے اسے اپنا حق گوانا پڑتا ہے۔ اس کے بعد وہ اسی اناج کو اس سے دس گنا دام میں خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔پہلے وہ مجبور کیا جاتا ہے پھر اس کے بعد مظلوم کیا جاتا ہے ایسا کیوں ؟نعرہ ہے ملک ترقی کر رہا ہے ۔ ہاں ترقی ہو رہی ہے لیکن ترقی وہ کر رہا ہے جو پہلے سے ترقی یافتہ ہے اور رہا بے چارہ غریب تو غریب کا غریب رہا۔ اس کی غریبی میں ترقی ضرور ہوئی ہے۔ایک تو اس غریب اور کسان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا کوئی معقول انتظام نہیں اور اگر سواسکیموں کا اعلان کر کے ایک کام کیا بھی تو بڑی مشکل سے غریب تک پہونچتا ہے۔ اس تک پہونچتے پہونچتے وہ کسی ضرورت کی نہیں رہ پاتی۔ سرکاری غریبوں کی فہرست میں ایسے ایسے غریبوں کے نام ہیں جن کے گھر میں کئی غریب مزدوری کر کے اپنے پریوار چلاتے ہیں۔واہ رے ہندوستان کے ایسے غریب اور ایسی غریبی اور ایسے لوگوں کو غریب تسلیم کرنے والے غریب شناس!آج اگر دیکھا جائے تو راشن کارڈ ان کے نا م زیادہ بنے ہوتے ہیں جن کے گھر میں اناج اور تیل کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی جتنی اسی کے پڑوس میں رہنے والے ایک مزدور کو ہوتی ہے ۔
آخر میں عام آدمی ہی کیوں پستا ہے ؟کیا مظلوم ہونا اس کی غلطی یا اس کا جرم ہے؟یا پھر ایک عام آدمی ہونا ہی اس کی غلطی ہے۔ پھر تو پیدا ہونا ہی اس کی سب سے بڑی بھول ہے۔اگر ایسا نہیں تو پھر ایسا کیوں؟
ایک تو عام آدمی کے لئے کوئی سہولت نہیں اور اگر کسی طر ح سے کوئی انتظام کر دیا گیا تو اس تک پہونچنا مشکل اور اس تک کٹ چھٹ کر پہونچی بھی تو اسے اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ ایسا کیوں؟
ایک عام آدمی کو کیا چاہئے ؟انفرادی زندگی میں کھانے کے لئے سکون سے دو وقت کی روٹی ،بدن ڈھکنے کے لئے دو چند کپڑے اور سر ڈھکنے کے لئے ایک چھت۔ اور اجتماعی زندگی میں سبھی کو چاہئے انصاف اور اس کی حفاظت۔ جو ملک کا ذمہ دار اس ملک میں بسنے والوں کی حفاظت نہ کر سکے وہ کیا حکومت کرے گا اور کیا رہنمائی کرے گا ؟جن رہنماؤں کی فکر انسان کو قتل کر کے جانوروں کی حفاظت ہو ان سے انسانیت کی امیدکرنا خود کو دھوکہ دینے کے سواء کچھ نہیں۔
آج کل ہر سیاسی نیتا عام آدمی ہے۔ جو عام آدمی کی زندگی سے واقف نہیں۔ ان کی ضروریات کا اسے علم نہیں۔ وہ توشاید سارے گاؤ ں کے ناموں سے واقف نہ ہو۔ وہ جو ہوا میں اڑ کر آئے۔ ہوا میں باتیں کرے اور ہوا ہو جائے۔ پھر ضرورت پڑے تو پانچ سال بعد آئے ۔ ہوا بازی کرے اور پھر ہو جائے۔ وہ کیا عام انسا ن کے مسائل حل کرے گا۔اب ہمارے مسائل اس کے ہاتھ میں ہوں جو عام آدمی میں رہا ہو۔ اس کے درد کو محسوس کیا ہو۔عام آدمی میں بیٹھا ہو اور عام آدمی ہو۔
ایک عام آدمی کی عام طور پر روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ تین جگہ ضرورت پڑتی ہے اور وہ اس جگہ اپنے ضرور ت پوری کرنے جا تا ہے۔اگر آپس میں کوئی واد وواد ہوگیا تو اس کے حل کے لئے آدمی تھانہ پہنچتا ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ وہاں اسے انصاف ملے گا۔کیونکہ اس کو تھانہ کی ضرورت ہی اس لئے پڑی کہ اس کے ساتھ کچھ زیادتی ہوئی ہے اور جس نے کی اسکے ساتھ زیادتی ہے اس سے وہ ایسے عام طریقے سے نہیں نپٹ سکتا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شاید اسے تھانہ جانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ بہر حال وہ بڑی امید لیکر وہاں پہونچتا ہے۔ اس کے بعد اگر مسئلہ اور سنجیدہ ہوتا ہے تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔دوسری بڑی ضرورت اسپتال کی ہے اور یہ اتنی بڑی ضرورت ہے کہ ایک ضرورت مند انسان کے منہ سے ڈاکٹر کو بھگوان کا درجہ دیتے سنا گیاہے۔ اتنی زیادہ امید ہوتی ہے اور اس سے بھی زیاوہ ہو تا ہے بھروسہ۔اس کے بعد اسکول بجلی پانی وغیرہ۔ آج کے ترقیاتی دور میں ایک اور ضرورت اور امید کا راستہ ایک عام آدمی کو نظر آیاہے وہ ہے میڈیا ۔ جس کے ذریعہ وہ اپنی بات اور حق کی آواز دوسرے لوگوں کو پہونچا سکے، اسی وجہ سے اس کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ۔
اب ہمارے سامنے بڑا سوال یہ ہے کہ ایک عام انسا ن کے لئے تشکیل شدہ یہ سہولیات کس قدر کا م کر رہی ہیں یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ ہمیں ہر شعبہ اور اس کے نظام کو دیکھنا ہے۔ جیسا کہ پہلے یہ بات کہی جا چکی ہے کہ کچھ بھی مٹتا نہیں ہے۔ سب سامنے آتا ہے ۔ اب اسے دیکھنا اور طے کرنا ہے کہ اب اس ملک کی باگ ڈور کن ہاتھوں میں ہو۔عدل کے نام پر ظلم اور وکاس کے نام پر وناش کی سیاست کر نے والے ہاتھوں میں یا مجبوری کا بہانہ بناکر اس ظلم و زیادتی پر پردہ ڈالنے والوں کے کندھوں پر؟ یا پھرآج کے انسانوں کو ایسی مسیحائی نصیب ہوگی جو انسانیت کی طاقت دکھائے تو بڑے بڑے بت گر جائیں ۔ جو سیاست کے مہا رتھیوں کو سیاست کا پاٹھ پڑھائے ۔، مجبوری کا ڈھونگ رچ کر ذمہ داری سے بھاگ اس ملک کو کھوکھلہ کرنے والی سیاست کو لگام لگائے اور کچھ ہی دنوں میں وہ کر دکھائے جو جو پچھلی کئی دہائیوں میں نہیں ہوا تھا ۔
کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ ان تھانوں کہ حالت کیا اور کیوں ہے؟وقت و حالت کے کسی مارے ہوئے سے اس کی داستان سنئے۔
اب تو یہ عام قصہ یا لطیفہ بن گیا ہے کہ تھانہ میں تو جیسے کسی مظلوم کی رپورٹ درج نہیں ہوگی۔بلکہ الٹا وہ اس بات کا مجرم ہوگا کہ اس نے اپنے اس حق کا استعمال کیوں کیا ۔وہ جن پر ہم بھروسہ کرتے ہیں ۔جن کو ہماری حفاظت کے لئے بٹھایا گیا ہے۔ وہ کچھ تو خود ہی خوف زدہ ہیں اورکچھ دوسروں کو کئے رہتے ہیں ۔
عدالتوں کا بھی حال کچھ الگ نہیں ہے۔ ایک مظلوم کو انصاف ملتے ملتے اس کی عمر ختم ہو جاتی ہے۔ایک تو اس نے عدالت کا دروازہ ہی اس لئے کھٹکھٹایا کہ وہ اپنے مد مقابل سے سیدھے لڑ نہیں سکتا ۔ یہاں آکر اس نے انتظار کی ایک اور لڑائی مو ل لے لی۔
اسپتال بھی اپنی بے بسی پر رو رہے ہیں۔ وہ خود مریض ہو چکے ہیں۔ دوسروں کا علاج بھلا کیسے کرے گا؟
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری خلش اتنی نہ بڑھ جائے کہ اس کا اثر ہمارے ملک کی جمہوریت پر پڑنے لگے۔آج جو ماحول ہے یا جو لڑائی ہے وہ کسی مذہب کے خلاف کسی مذہب کی نہیں ہے،بلکہ ایک انسان دوسرے انسان کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہے ۔آج کی غیر انسانی سیاست اسے مذہب اور عقیدت کا نام دیکر اس میں نفرت تشدد کا تیل ڈال کر آگ کو اور بھڑکا رہے ہیں۔حالات نازک ہیں ۔ ہم پھر سے غلام ہوتے جارہے ہیں۔ اس غلامی سے آزادی کیلئے ہمیں پھر سے مل کر لڑنا ہوگا ۔ ورنہ یہ آگ دھیرے دھیرے پورے ملک کو جلاکر راکھ کر دیگی ۔آج ہماری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر مذہبی رہنماؤں کی ۔ جومذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بھی ہیں۔ جنہونے اپنے کلچر اور تہذیب سے پورے ہندوستان میں ایک چھاپ چھوڑی ہے۔ یہ ملک صوفی سنتوں کا ملک ہے۔ یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کی داستانیں صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں سنائی جاتی ہیں۔تو ایک بار ہمیں مل کر پھر بتانا ہے کہ یہ وہی ملک ہے اور وہ روایت آج بھی ہے۔ ہمیں اپنے وطن عزیز اور اس کی ہزاوں سال کی تہذیب جان کی طرح پیاری ہے۔ہم اس کی پاس داری ہر حال میں کریں گے۔ہم کسی بھی قیمت پر اس ملک کی امن و شانتی کی فضا میں نفرت کا زہر نہیں بھرنے دیں گے۔اور جو اس طرح کی کشش کرے گا وہ اس ملک کا وفا دار نہیں ہو سکتا اور اس ملک کا وفادار نہیں وہ ہمارا وفادار کب ہوگا۔
***
Abdul Moid Azhari (Amethi) Mob:09582859385 Email: abdulmoid07@gmail.com

نفرت پھیلانے والے ملک اور انسانیت کے دشمنوں سے ہوشیاررہنے کی ضرورت:سید محمد اشرف کچھوچھوی

نئی دہلی: آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے بانی اور صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے آج مہرولی شریف دہلی میں حضرت عاشق اللہ شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے عرس کے موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہصوفیاء کرام کا طریقہ محبت کا طریقہ ہے ،نفرتوں کی اس میں کوئی جگہ نہیں ہے، کوئی کسی بھی مذہب کا ہو کسی بھی فکر کا ہوصوفیا کے یہاں کوئی روک ٹوک نہیں ،بزرگوں کا طریقہ سب کو محبتوں سے نوازنارہاہے اور اسی طرح اسلام کیتبلیغ کی گئی ہے۔
حضرت نے کہا یہ دور بہت خطرناک ہے ،ہم سب کو ہوشیار رہنا ہوگا ،کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کا کوئی حق نہیں ہیہ،ندوستان سب کا ہے اور ہم سب کی ذمہ داری ہے اس کی حفاظت کرنا ،ملک میں امن کے قیام کی سب سے زیادہ ذمہ داری مسلمانوں کی ہے کیونکہ ہم وہ قوم ہیں جسے دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے، حق کیتبلیغ اور ظلم کی مخالفت کے لئے بھیجا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں جس طرح پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں فیس بک پر گستاخی کی گئی ،یہ ایک سازش کا حصہ ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ،محسن انسانیت کی شان میں گستاخی جہاں ناقابل برداشت عمل ہے یہ بات نفرتوں کے سوداگر جانتے ہیں اسی لئے اس طرح کا کام کیا جاتا ہے تاکہ مسلمان سڑکوں پر آئے اور تشدد پھیلائی جا سکے، وہی ہوا اور لوگوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا اور آگ زنی کی جس سے بدامنی پھیلی جو قابل مذمت ہے، تشددپھیلانے والا کوئی بھی ہو اسے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا، لوگوں کو قانون کا سہارا لینا چاہئے اور مجرم کو سزا دلوانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے نہ کی شہر کے امن کے لیے آگ لگائی جائے۔
حضرت نے کہا کہ ہر حال میں تشدد پر لگام لگائی جا ئے ،ہر قیمت پر اسے روکا جانا چاہئے، گستاخ رسول کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے ،اسے گرفتار بھی کر لیا گیا ہے،مسلمانوں کو صبر سے کام لینا ہوگااور کسی بھی طرح قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا ہے، یہ سازشوں کا دور ہے جس میں ہمیں بچ کے رہنا ہوگا۔
حضرت نے صاف کہا کہ آپ کو اکسانے کی کوشش کی جائے گی، انسانیت کی دشمن طاقتیں آپ کو غصہ دلانے کی کوشش کریں گی مگر آپ ملک کے آئین پر انحصار رکھیں اور قانون کا سہارا لیں، جتنا ممکن ہو سوشل میڈیا پر ہو رہی خرافات سے دور رہیں اور ان کی رپورٹ دیں، ملک ہمارا ہے اس کی حفاظت ہمیں کرنی ہوگی۔
اس موقعہ پر سینکڑوں عقیدت مند موجود رہے،صلوٰۃ و سلام کے بعد کل شریف ہوا اور ملک میں امن و امان اور ترقی کی دعا کی گئی۔

متعصب بھیڑ کے ذریعہ ہندوستان کا قتل: سید محمد اشرف کچھوچھوی

لکھنئو

آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے صدر و بانی حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے جھارکھنڈ کے رام گڑھ کے باجر ٹانڈ گائوں میں علیم الدین عرف اصغر علی کی بھیڑ کے ذریعہ گائے کے گوشت کے شک میں پیٹ پیٹ کر قتل کو ہندستان کا قتل بتایا ہے ۔
حضرت نے کہا کہ اس طرح کے حادثات روز ہو رہے ہیں جو سماج کو تقسیم کر رہےہیں۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہندوستان صرف زمین کے کسی حصے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ اس زمین پر رہنے والے ہمارے اس سماج کا نام ہے جو محبت و اخوت کے لئے مشہور ہے۔ اب اس میں نفرتوں کو جس طرح گھولا جا رہا ہے وہ ملک کے لئے بے حد خطرناک ہے ۔
حضرت نے کہا ایسا لگتا ہے کہ بھیڑ ملک کو برباد کرنے پر تلی ہے ۔ ایک طرف وزیر اعظم گجرات میں محبت کا سبق پڑھا رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف مذہب کے نام پر ایک ہندوستانی مقیم کو بھیڑ پیٹ پیٹ کر مار رہی ہوتی ہے ۔ اس وقت بھیڑ کا قانون چل رہا ہے جس میں بھیڑ اپنے حساب سے الزام لگاتی ہے اور پھر بنا ثبوت و گواہ کے ملزم بنا کر سزا بھی خود ہی دے دیتی ہے ۔
بے روزگار نوجوانوں کی ٹولی کو مذہبی تعصب کی افیم پلائی جا رہی ہے جو اس پیارے ہندوستان کے لئے خطرناک ہے اور اس سے زیادہ خطرناک ہے سرکاروں کا خاموش رہنا ۔ اگر خاموشی نہیں ٹوٹی تو یہ متعصب بھیڑ ہندوستان کا قتل کر دے گی۔
حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ ملک کے امن کی حفاظت کے لئے کی جا رہی ہر چھوٹی بڑی کوشش کا ہم استقبال کرتے ہیں اور ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں۔ آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ ملک میں امن و امان کے لئے اپنی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

حضرت نے اس پاگل بھیڑ کو کنٹرول کرنے کا حل بتاتے ہوئے کہا کہ اگر سرکار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرتی ہے تو یہ قتل و غارت کا خونی کھیل خود بخود ختم ہو جائے گا۔

ظلم کے خلاف خاموش رہے تو ملک کا نقصان: سید محمد اشرف

آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے صدر و بانی حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے جھارکھنڈ میں ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کو کچھ تعصب پسندوں کے ذریعہ لگاتار نشانہ بنائے جانے پر کہا ہے کہ اب سبھی امن پسند ہندوستانیوں کو متحد ہو کر نفرت کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی نہیں تو ہمارا ملک خطرے میں ہے ۔
حضرت نے کہا کہ جس طرح ٹرین میں ایک نوجوان کو بے رحمی سے قتل کیا گیا اور بھیڑ تماشائی بنی رہی،ایک بھی آواز ظلم کے خلاف نہیں اٹھی یہ خطرناک ہے، اس سے نفرت کو مزید ہوا ملتی ہے جب ظلم کے خلاف سب خاموش رہتے ہیں ۔
حضرت نے مزید کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سماج کو تقسیم ہونے سے روکے، گنگا جمنی تہذیب اگر ختم ہو تی ہے تو نقصان کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کا نہیں بلکہ ہندوستان کا نقصان ہے جس کی بھر پائی تقریبا نا ممکن ہوگی ۔
حضرت کچھوچھوی نے کہا کہ سماج میں جس طرح زہر گھولا جا رہا ہے، اس سے جہاں دہشت گردی اور نکسل وادی کو بل ملتا ہے تو وہیں ظلم کے خلاف ہماری لڑائی کمزور بھی ہوتی ہے لہذا ضروری ہیکہ لوگوں میں بھائی چارگی کو مزید تقویت بخشنے کے لئے قانون اور حکومت بھی کوشش کرے۔
ہندوستان ہم سب کا ہے، یہ زمین ہم سب کی ہے، اس کی حفاظت کی ذمہ داری ہم سب کی ہے۔ ہم کسی بھی صورت میں ملک کو بکھرنے نہیں دے سکتے ۔
حضرت نے کہا کہ جس طرح کے حالات بنے ہوئے ہیں، دلت بنام اگڑا کی لڑائی چل رہی ہے، مسلم، سکھ اور عیسائی تعصب پسندوں کے نشانے پر ہیں، ہندوتوا کے نام پر گھناؤنا کھیل کھیلنے والے ہندوتوا کو بھی نہیں سمجھتے، واسودیو کٹمبکم کی ذمین کو رن استھلی بنانے پر تلے کچھ بے روزگار بہکے ہوئے نوجوان ان بدمعاشوں کے بہکاوے میں ہیں جو غیر ملکی سازش کے تحت ملک توڑنے کا کام کر رہے ہیں ۔
حضرت نے تمام محبت پسندوں سے ظلم کے خلاف متحد ہو نے کی اپیل کی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر اس وقت خاموش رہے اور نفرت کے خلاف محبت کے گلاب لے کر نہیں نکلے تو بربادی کے ذمہ دار ہم سب ہوں گے ۔

امن خراب کرنے والے ہیں ملک کے غدار۔سید اشرف

جونپور(پریس ریلیز)آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ کے بانی وصدر حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی نے جونپور میں سیمینا ر ’’تصوف اور انسانیت ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح فضاؤں میں زہر گھولا جا رہا ہے وہ انسانیت کو تباہ کردیگا ،اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ محبت کو عام کیا جائے لوگ صبر کا دامن تھامے رہیں۔حضرت نے کہا کہ جس طرح متشدد بھیڑ لوگوں کو مار رہی ہے یہ ملک کے امن و سلامتی کے لئے بہت خطرناک بات ہے،اگر اب بھی امن پسند لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو ملک کو مزید خطرہ کی طرف بڑھ رہاہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ سماج کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ دیش کے دشمن ہیں وہ کسی حال میں دیش بھکت نہیں ہو سکتے۔حضرت کچھوچھوی نے کہا کہ تشدد کسی بھی چیز کا حل نہیں ہے اگر امن ختم ہو تا ہے تو تو ترقی رک جاتی ہے ،وہ لوگ جو امن کے دشمن ہیں وہ ملککی ترقی کے بھی دشمن ہیں ،لہذاحکومت کو ان پر سختی کرنا چاہئے۔اگر اس بھیڑ کو نہیں روکا گیا تو نقصان ہونا طے ہے۔انہوں نے لوگوں سے صوفیا کرام کے طریقے پر چلنے کی بات کہی جہاں ’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘کا پیغام ہے۔حضرت نے کہا کہ انسانوں کا قتل کرنے والے ملک کے غدار ہیں اور سبھی امن پسند ہندوستانیوں کی ذ مہ داری ہے ملک میں امن قائم رکھنے کے لئیانہیں روکیں۔آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ کوششیں کر رہاہے آپ اس مہم سے جڑیے اور ملک کے امن امان اور ترقی کے لئے اپنا کردارادا کیجئے۔ہندوستان ہم سب کا برابر ہے اور اس کے ہر دشمن سے حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔اس موقعے پر بڑی تعداد میں لوگ موجود رہے ۔سیمینار کے آخر میں صلاۃ و سلام کے بعد ملک میں امن و امان کے لئے دعا کی گئی۔