चिश्तिया सिलसिले की ख़िदमतों पर एक नज़र :सय्यद मोहम्मद सय्यदुल अनवार मदारी, सज्जादा नशीन मकनपुर शरीफ

 4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

خانوادۂ چشتیہ کی خدمات پر ایک نظر
سیدمحمدسیدالانوارمداری
سجادہ نشین مکن پورشریف

 

تصوف کے چودہ خانوادوں میں سے تصوف کا خانوادۂ چشتیہ بر صغیر پاک وہند کابہت مقبول و معروف سلسلہ ہے۔جو وسعت اور قبول عام اس سلسلہ کو کو نصیب ہوا وہ سب پر عیاں ہے۔شمال ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کے قیام سے لیکردور حاضر تک ہندوستانی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداداس خانوادۂ کی مختلف شاخوں سے وابستہ رہی ہے۔جس دور میں اس خانوادۂ کی مسندارشادپرحضرت خواجہ معین الدین چشتی ،حضرت قطب الدین بختیار کاکی ،حضرت فرید الدین مسعودگنج شکر،حضرت نظام الدین اولیاء اور حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی حضرت مخدوم سیداشرف جہانگیر،حضرت شاہ مینا جیسے مشائخ تصوف رونق افروز تھے۔اور اس گروہ کی مقبولیت اور اس کے اثرات کی ہمہ گیری اپنے کمال پر تھی خوش قسمتی سے اس دور کے بارے میں ہمارے پاس مستند تاریخی اور صوفی کا ماخذ کااچھا خاصہ ذخیرہ موجودہے۔
یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ چشتی صوفی مفکرین اور دانشوروں نے اس خانوادہ کے بنیادی مباحث اس کے دائر�ۂ کار اس کی مرکزی فکراور طریقۂ تعلیم واصول ومبادیات پرمستقل کتابیں تصنیف کی ہیں۔اور مسائل پربڑے عالمانہ انداز میں بھر پور روشنی ڈالی ہے۔اس طرح سے اس خانوادہ سے متعلق کسی گوشہ کو تشنہ نہیں چھوڑا۔خانوادہ چشت نے بر صغیر ہندو پاک میں اسلام کی توسیع و اشاعت کے لئے کتنی کوششیں کی ہیں وہ سب پر ظاہر ہیں ۔سلسلہ تصوف میں خانوادۂ چشتیہ کی خدمات جلیلہ کااگر ہم ذکر کریں تو بالخصوص اہل ہند کی رہنمائی اور پیشوائی میں اس کا اپنا ایک کردار ہے۔اس کی باقاعدہ بناعطائے رسول حضرت خواجہ معین الدین چشتی سے پڑی۔تزکیہ نفس اور طہارت قلوب اور اسلامی اعتدالی نظریہ خوب خوب واضح طور پرعملی جامہ اختیار کرکے بلا تفریق مذاہب اور رنگ ونسل تعلیمات دین اسلام کو عام کیااور اس گلشن اسلام کی خوب آبیاری کی۔آج بھی غیر منقسم ہندوستان کی یہ زمین اور یہاں کی تہذیب اس خانوادہ کی مرہون کرم ہے۔
یہ بات کسی کو سمجھانے اور بتانے کی ضرورت نہیں ہے جہاں ہمارے اصحاب سلسلۂ عالیہ مداریہ نے دعوت اسلام اورتبلیغ دین محمدیﷺفرماکرلوگوں کوکثرت سے اسلام میں داخل فرمایاوہیں اس خانوادۂ چشت کے مشائخ عظام نے باشندگان ہند کواسلامی تعلیمات اور اصول بندگی سے بھر پور آشنائی ہی نہیں بلکہ باضابطہ عظیم اور بزرگ علم کے ذریعہ اہل اسلام کووہ روشن و تابناک اور ہر خطرہ سے خالی رہگزر عطا کی۔جسے اصطلاحاًشرع مطہرہ نے صراط مستقیم سے تعبیر کیا ہے۔وہ بزرگ اور عظیم علم کوئی اور نہیں بلکہ وہ تصوف ہی ہے۔جس کا سہارا لیکرسبھی خانقاہوں نے تبلیغ اسلام فرمائی ۔چونکہ تصوف ہر قسم کی شدت سے دور ونفور رہنے کاپیغام دیتاہے۔اسی لئے بزرگان دین نے اس کا سہارا لیااور اس کے لئے بے شمارلوگوں کوداخل اسلام فرمایا۔
بصد افسوس کہنا پڑتا ہے کہ بعض ناعاقبت اندیش تفہیم دین خالص سے ناواقف اور عین اسلامی روح سے ناآگاہی کے سبب تصوف کو جانے کیا کیا نام دیکر بدنام کرتے ہیں۔آج جو بظاہرعصبیت سے خودکوموصوف کرکے سب سے بڑااپنے آپ کو توحید پرستی کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں۔ان کے پیشواؤں نے بھی تصوف کے اس خانوادہ چشتیہ کے حصول کا دعویٰ کرکے اور اپنے کو صوفی ظاہر کرکے عوام تک اپنے فرسودہ عقائدغیر مقلدانہ روش ونظریات کوبین المسلمین افتراق وانتشارپیدا کردینے والے خیالات کوبڑی خاموشی سے داخل کر دیا۔اور اس عظیم خانوادہ کانام بدنام کرنے میں اپنی پوری قوت صرف کی۔مگر جسے خدا رکھے اسے کون چکھے۔
الغرض!بزرگان دین کے کرم سے اور ان کی نگاہ فیض کایہ اثر ہے کہ آج بھی یہ خانوادہ عین اسلامی اور دینی راستہ پر چل کر لوگوں میں تبلیغ کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔تاریخ ماضی اس کی گواہ ہے۔اور کوشش احوال اور آج کی جدو جہد سے روشن اور واضح ہے ۔حالات حاضرہ میں سب سے بڑا عالمی خطرہ یہ ہے کہ اسلامی اصولوں کوشدت پسند عناصرجس نقطۂ نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اس سے ارباب اہل نظرواقف تو ہیں مگر کیا کریں اور کیانہ کریں کہ تشویس اور فکر میں ہیں۔
اس خانوادۂ عظیم اورسلسلہ عالیہ چشتیہ کے بزرگ شمع اشرفیہ ہاتھ میں لیکر خانوادۂ اشرفیہ کے چشم وچراغ نے اس درد کو محسوس کیا کہ ہم ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح رہنمائی نہیں ہو رہی ہے۔قوم بدحالی کا شکار ہے۔ہمارے نوجوان اور ذی اثربلکہ پوری قوم مسلم کے افراد پرطرح طرح کے الزامات عائد کرکے انہیں ستایا جا رہاہے۔امن و آشتی مفقود ہے۔
اور دائرۂ اسلام کو تنگ کیا جا رہا ہے۔قوم مسلم کو ذلیل و رسوا کرنے کی کوئی بھی صورت و شکل ہواسے اپناکراس کا استحصال کیا جا رہاہے۔دہشت گردی کا نام دیکراس قوم کا بے دریغ قتل عام ہو رہا ہے۔ایسے حالات میں ایسی تنظیم کی بنیاد رکھی ہے جو اسلاف کرام کی عطا کردہ و زمین ہے جسے خانقاہی نظام سمجھتے ہیں ۔اس کو عام کرنے کے لئے حضرت اشرف ملت نے تمام خانقاہوں کو آواز دی ہے۔سچ ہے سب کچھ بدل سکتا ہے مگر فطرت نہیں بدلتی حضرت خواجہ غریب نواز اورتارک السلطنت غوث العالم سید مخدوم اشرف جہانگیرسمنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روش و طریقہ جس کے خون میں شامل ہوجو مبلغین اسلام کا جانشین ہواسے یہ درد نہ ہوگاتو پھر اس کرب کوکون محسوس کرے گا۔اس خاندان و خانوادہ سے یہی امید تھی۔اور تمام خانقاہی حضرات کے دل کی خواہش آنجناب کے بدست پوری ہوتے دیکھ رہا ہوں ۔جو اس خانوادہ کی سابقہ روایات پرمبنی ہے۔قابل صد مبارکباد اور لائق تحسین کوشش اور سعی بلیغ ہے۔خاندان جعفریہ مداریہ نے جس ملک میں بڑی محنت و مشقت برداشت کرکے شجر اسلام کا پودا لگایا اور ہندوستانی قوم کومسلمان بنایا اور دولت ایمان و اسلام عطا کی اور جس قوم کی بھر پور اصلاح اس کی نشر واشاعت میں اس خانوادۂ چشتیہ نے اہم رول ادا کیا ہے۔ہم تمام وابستگان سلسلۂ عالیہ مداریہ اس خانوادہ کے داعی بے باک حضرت اشرف ملت قبلہ کے ساتھ ہیں ۔اور لوگوں سے اپیل و گزارش کرتے ہیں کہ اس عظیم خانواد�ۂ چشت کی خدمات کو آگے بڑھائیں اور سب قدم سے قدم ملاکرسب کو امن آشتی ہم آہنگی اور اسلامی روشن خیالی اور اسلام کے پاکیزہ نظام کو عام کریں ۔اوراپنی آواز کوساری دنیا میں پہونچائیں ۔تاکہ ساری دنیا کی سمجھ میں آجائے کہ اسلام دین فطرت ہے۔اور اسلام کیا چاہتا ہے؟

जमीअत उलमा का दावा सिर्फ एक प्रोपेगंडा : मौलाना अब्दुल वह्हाब क़ादरी मिस्बाही, जामिया अशरफिया मुबारकपुर

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

جمعیۃ علماء کا دعویٰ محض ایک پروپیگنڈہ
مولاناعبدالوہاب قادری مصباحی
جامعہ اشرفیہ مبارکپور
ہندوستان کی راجدھانی محبوب الہی کی نگری دہلی میں ’’ورلڈ صوفی فورم‘‘کے ذریعہ جب علمائے حق اور اسلاف کے جانشینوں نے دلائل حقہ و براہین قاطعہ سے اسلام وسنیت سے منحرف جماعتوں اسلاف بیزار تنظیموں اور دہشت گرد تحریکوں پر زور دار حملہ کیا ،ان کے عقائد و نظریات اور افکار وخیالات کو باطل و غلط قرار دیا ان کے طریقۂ کار کی پر زور مذمت کی اور دنیا کے سامنے ان کا اصلی چہرہ پیش کیا تو اس سے بدحواس ہو کر دیوبندی جماعت کی سب سے بڑی ٹھیکیدار تنظیم جمیعۃ علماء ہند نے اپنی عزت و آبرو بچانے اور اپنے متبعین کے درمیان پرانی عظمت کو بحال کرنے کے لئے صوفی سنی چشتی ہونے کا دعویٰ کیا اور۱۳؍نومبر2016کواپنا شجرہ ارادت شائع کرکے اور اجمیر شریف میں کانفرنس منعقد کرکے یہ اعلان کیا کہ ہمارا تعلق وہابیت اور سلفیت سے نہیں بلکہ سنیت اور خانقاہیت سے ہے۔
کتنی حیرت واستعجاب کی بات ہے کہ جمعےۃ علماء ایک طرف چشتی اور خانقاہی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے دوسری طرف طریقۂ اسلاف سے منحرف ،تصوف بیزار شخص مولوی رشید احمد گنگوہی سے اپنا رشتہ جوڑتی ہے جس کے اقوال بزرگان چشت اہل بہشت کے طریقۂ کار کے بالکل مخالف ہیں۔چنانچہ وہ اعراس کے تعلق سے کہتا ہے کہ کسی عرس اور مولود میں شریک ہونا درست نہیں اور کوئی سا عرس اور مولود درست نہیں۔(فتاویٰ رشیدیہ ص ۱۳۴)عرس کا التزام کرے یا نہ کرے بدعت اور نادرست ہے۔تعین تاریخ سے قبروں پر اجتماع کرنا گناہ ہے خواہ اور لغویات ہوں یا نہ ہوں۔(فتاویٰ رشیدیہ ص۱۳۴)
جمیعۃ علماء ہند کے چشتی ہونے کا دعویٰ اس وقت صحیح ہوتا جب وہ اپنا شجرۂ چشتیت مولوی رشید احمد گنگوہی کے ساتھ شائع نہ کرتے بلکہ اس کی ذات اور اس کے قبیح و شنیع اقوال کی پر زور مذمت کرتے اور ان سے بیزاری کا اعلان کرتے لیکن افسوس جمیعۃ علماء ہند نے ایسا کچھ بھی نہیں بلکہ مولوی رشید احمد گنگوہی کے جانشین ہونے کا اعلان کیا۔
قارئین!آپ غور کریں۔جب مولوی رشید کے مذہب کے مطابق اعراس کا التزام اورعرس میں شرکت بدعت و گناہ ہے تو پھر جمیعۃ علماء ہندمولوی رشید کی جانشین ہونے کے باوجود اجمیر شریف کے عرس میں بقول رشید احمدگنگوہی بدعتیوں کے بدعتی کام میں اعانت و مدد کیوں کرتی ہے۔تاریخ متعین کرکے اجمیر شریف میں کانفرنس کیوں کرتی ہے کیا مولوی رشید کے فتوے کی رو سے جمیعۃ علماء ہند بدعتی نہ ہوئی؟ اور بدعتیوں کی اعانت و مدد کرکے گناہ کاارتکاب نہ کیا؟کیا جمیعۃ مولوی رشید احمد کے اس فتوی کو نہیں جانتی ہے؟ضرور جانتی ہے پھر بھی اس طرح کے کام کرتی ہے تو اس کے اس عمل سے یہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس طرح کے امور انجام دینا محض سیدھے سادھے سنی مسلمانوں کو وہابیت کے دام فریب میں پھنسانا اور ان کے ایمان وآخرت کو برباد کرنا ہے۔حیف صد حیف نعوذ باللہ من ذلک ۔
جمیعۃ علماء ہند نے مولوی رشید احمد کو شیخ المشائخ الحاج امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ کا جانشین و خلیفہ بتایا ہے۔جانشین وخلیفہ اپنے پیرکا پیروکار اور ان کے فرامین وارشاد پرسختی سے عمل پیرا ہوتا ہے مگر مولوی رشید نے ان کے اقوال پر عمل کرنے کے بجائے ان کے عقائد و نظریات سے اختلاف ہی نہیں بلکہ ان کی فیصلہ کن کتاب’’ہفت مسئلہ‘‘کو نذر آتش بھی کر دیا ہے۔اس کا پورا واقعہ یہ ہے کہ سہارن پور اور اس کے اطراف وجوانب کے چند مولویوں نے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مجلس خیر کے تعلق سے چند دیوبندی مولویوں سے استفتا کیا اس کے جواب میں جناب گنگوہی صاحب نے لکھا کہ ’’ایسی مجلس ناجائز ہے اور اس میں شریک ہونا گناہ ہے اور خطاب جناب فخر عالم علیہ السلام کو کرنا اگر حاضر وناظر جان کر کرے کفر ہے ایسی مجلس میں جانا اور شریک ہوناناجائز ہے اور فاتحہ بھی خلاف سنت ہے یہ رسوم بھی کہ یہ سنت ہنود کی رسم ہے۔اس زمانہ میں یہ میلاد و فاتحہ کے خلاف پہلا فتویٰ تھا جو چار ورقی تھا اور ۱۳۰۲ ؁ھ میں مطبع ہاشمی میرٹھ سے شائع ہوا ۔پھر دوسرا فتویٰ مطبع ہاشمی میرٹھ ہی سے چھپا جو چوبیس صفحہ پر مشتمل تھا ان فتوؤں نے مسلمانوں میں کافی اختلاف وانتشار کا بیج بویا اور عوام اہل سنت کو طرح طرح کے شکوک وشبہات میں مبتلا کر دیا ان ہی اختلاف و انتشار کو دور کرنے کے لئے شیخ المشائخ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ کے خلیفہ صادق حضرت مولانا عبدالسمیع بے دل سہارنپوری علیہ الرحمہ نے انوار ساطعہ در بیان مولود وفاتحہ تصنیف فرمائی جب یہ کتاب چھپ کر منظر عام پر آئی مولوی رشید احمد تک پہونچی تو اس نے اس کے جواب میں البراہین القاطعہ علی ظلام الانوار الساطعہ المقلب بالدلائل والواضحۃ علی کراھۃ المروج من المولود الفاتحہ تحریر کی۔اس کتاب میں گنگوہی صاحب اس قدر آپے سے باہر ہو گئے کہ نہ صرف میلاد فاتحہ و عرس کو بدعت و ناجائز لکھا بلکہ ا نہیں کنیہاکے جنم ،ہندؤں کے سوانگ سے بھی تشبیہہ دے دی۔اور میلاد کرنے والے مسلمانوں کو کفار وہنودسے بدتر قرار دیا(براہین قاطعہ)بلکہ بد حواسی میں یہ بھی لکھ مارا کہ (۱)اللہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے۔براہین قاطعہ ص ۱۰۔
(۲)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام انسانوں کی طرح ایک بشر ہیں۔ایضاً(ص ۱۲)(۳)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم شیطان اور ملک الموت سے کہیں کم ہے شیطن اور ملک الموت کے علم کا وسیع ہونا نصوص قطعیہ اور دلائل یقینیہ سے ثابت ہے جب کہ فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت علم کا ثبوت کسی نص قطعی اور دلیل یقینی سے نہیں اس لئے آپ کے لئے وسیع علم ماننا شرک ہے۔ایضاً(ص۱۲۲)
(۴)سرکار کو اپنے خاتمہ کا حال معلوم نہیں اور انہیں دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں ۔ایضا(ص۱۲۱)
(۵)فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اردو علمائے مدرسہ دیوبند سے سیکھی۔ایضا (ص۶۳)معاذ اللہ
جب یہ اختلاف کافی حد تک بڑھ گیا تو اپنے خلفاء کے درمیان مسلکی اختلاف کی اطلاع پاکر ان کے تصفیہ کے لئے حاجی صاحب نے ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘نام سے ایک مختصر سی کتاب لکھی جو مولود شریف،فاتحہ،عرس وسماع،ندائے غیر اللہ،جماعت ثانیہ،امکان نظیر امکان کذب الہی جیسے مضامین پرمشتمل ہے جب یہ کتاب مولوی رشید احمد کے پاس پہنچی تو ا سنے اسے نذر آتش کر ا دیا چنانچہ خواجہ حسن نظامی کہتے ہیں ۔نذر آتش کرنے کی یہ خدمت میرے والد گرامی حضرت خواجہ علی حسن نظامی کے سپرد ہوئی جو اس وقت گنگوہ میں حضرت مولانا رشید احمد کے یہاں زیر تعلیم تھے ۔لیکن خواجہ صاحب نے جلانے سے پہلے اس کو پڑھا اور جب ان کو وہ کتاب اچھی معلوم ہوئی تو انہوں نے استاذ کے حکم کی تعمیل میں آدھی کتاب تو میں نے جلا دی اور�آدھی بچا کر رکھ لی ۔اس کے کچھ عرصہ بعد مولانا اشرف علی تھانوی مولانا گنگوہی سے ملنے آئے اور ان سے پوچھا کہ میں کچھ کتابیں تقسیم کرنے کے لئے آپ کے پاس بھیجی تھیں ان کا کیا ہوا ؟مولانا گنگوہی نے اس کا جواب ’’خاموشی‘‘سے دیا ۔لیکن کسی حاضر الوقت نے کہا کہ علی حسن (والدخواجہ حسن نظامی )کو حکم ہو اتھا کہ انہیں جلا دو ۔مولانا تھانوی نے میاں علی حسن سے پوچھا کہ کیا واقعی تم نے کتابیں جلا دیں؟انہوں نے جواب دیا کہ استاذ کا حکم ماننا ضروری تھا اس لئے میں نے آدھی کتابیں جلا دیں اور آدھی میرے پاس موجو دہیں۔حضرت خواجہ صاحب بیان کرتے تھے کہ مولانا تھانوی اس سے اتنے خوش ہوئے کہ آم کھا رہے تھے فوراًدو آم اٹھا کر مجھے انعام میں دے دئے ۔(ماہ نامہ منادی دہلی جلد ۳۹،شمارہ۱۲ص۲۲ بحوالہ تقدیس الوکیل )
قارئین!پوری تحریر پڑھنے کے بعد آپ خود فیصلہ کریں کہ جو شخص شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم و الوہیت میں توہین وگستاخی کرے ،اپنے پیرومرشد کی کتاب جلا دے تو وہ کیا سنی صوفی چشتی ہو سکتا ہے؟کیا وہ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ اور شیخ المشائخ کا جانشین ہو سکتا ہے۔نہیں ہر گز نہیں ۔تو پھر محمود مدنی اور مولوی عثمان منصوری پوری کے صوفی ،سنی ،چشتی ہونے کا دعویٰ کیسے صحیح و درست ہو سکتا ہے؟یہ تو ایک محض دھوکہ اور فریب ہے۔الامان والحفیظ۔

 

मानवता के अस्तित्व और रक्षा, और उसके हल का एक ज़रिआ तसव्वुफ और खानक़ाहों में है : नुरुल हुदा मिस्बाही, गोरखपुर सज्जादा नशीन खानकाह बरकातिया अज़ीज़िया गोरखपुर : प्रतिनिधि रोज़नामा राष्ट्रिय सहारा गोरखपुर

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

انسانیت کی بقا و تحفظ اوراس کے حل کا واحد ذریعہ تصوف اور خانقاہوں میں ہے
نورالہدیٰ مصباحی گورکھ پوری
سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ عزیزیہ آراضی چلبلوا، بھٹہٹ گورکھ پور
نمائندہ روزنامہ راشٹریہ سہارا گورکھ پور

اس ترقی یافتہ دور میں انسان علم و ہنر کے مراحل سے گزر کر خود کو تمام صلاحیتوں کاجامع سمجھنے لگا ہے۔ وہ اس فانی دنیا میں اس قدر مگن اور غرق ہے کہ اسے اپنی بے وقعتی کا بالکل احساس نہیں۔ حالانکہ اس کی حاصل کی ہوئی ترقی کا ہر ستون ہر لمحہ کمزور ہوکر اس کے ناقص علم کی بظاہر پر شکوہ عمارت کو ڈگمگاتا رہتا ہے۔ ترقی کی آڑ میں پوشیدہ تنزلی ، علم کے دھوکا میں جہل اور اختیارات کے فریب کی جڑ میں کمزوری اکثر وبیشتر اس ہلتی عمارت سے کسی ستون کو منہدم بھی کردیتے ہیں، جس کی بے شمار مثالیں ہمیں آئے دن ہر سطح اور ہر شعبہ میں نظر آتی ہیں۔
آج ٹکنالوجی کے جن مراحل کو ترقی کی شان سمجھا جارہا ہے، وہ کبھی نہ کبھی اپنی اصل ظاہر کرتے ہوئے انسان کے لیے رحمت کی جگہ زحمت بن جاتے ہیں۔ تمام عالم میدان حشر کا نمونہ بنتا جا رہا ہے، جہاں160ہر نفس اپنی ذات میں160گم اور مطلب و مفاد پرستی میں سراپا غرق ہورہا ہے، انسانیت ہر وقت ایک انجانے خوف اور ایٹمی جنگ کے مہلک اثرات سے لرزاں ہے۔اس کرب ناک دور میں کیا کوئی ایسی شئی ہے جو انسان کو اسے ذہنی اور قلبی سکون عطا کرسکتی ہے؟ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ اعتراف کرنا پڑیگا کہ جب بھی اس قسم کے ناگفتہ بہ حالات پیدا ہوئے ہیں، تو ہمیشہ تصوف اور حقیقی ارباب تصوف نے آگے بڑھ کر ان کا مقابلہ کیا ہے۔ تصوف ایسا علم ہے جس کے ذریعے نفوس کے تزکیہ ، اخلاق کی صفائی اور ظاہرو باطن کی تعمیر کے احوال کو جانا جاتا ہے، تاکہ ابدی خوش بختی حاصل ہوسکے۔
تصوف اسلام کا پہلا دور ان نفوس قدسیہ پر مشتمل ہے جنہیں صحابہ کہا جاتا ہے۔ اور جنھوں نے بارگاہ نبوی سے تطہیر قلب و تزکیہ نفس کے اصول و آداب سیکھے۔ ایثار و قربانی کے جذبۂ صادقہ سے حصہ خاص پایا، جو د و سخا کا اصول پایا۔ خوف و خشیت الٰہی سے قلب و جگر کو گرمانے والے طریقے سیکھے۔ نفس کے ساتھ جہاد اور اعمال و اخلاق حسنہ کی تعلیم حاصل کی۔ تصوف کے اندر زہد کو بڑا اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ صوفیائے کرام نے زہد و ورع کو تصوف کے شعبوں میں160بطور خاص ذکر فرمایا ہے۔ علما و اصفیا فرماتے ہیں کہ دل کو دینا کی خواہش و محبت سے خالی کرکے اسے اللہ کی محبت و معرفت سے آباد کرنے کا نام زہد ہے۔ زہد کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ انسان دنیا کو ناقابل اعتنا سمجھے۔ قرآن و احادیث میں جابجا دنیا کی محبت کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ علیہ دنیا کے بارے میں ایک حدیث نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے دنیا کو پسند کیا اس نے آخرت کا نقصان کیا۔ اور جس نے آخرت کو پسند کیا اس نے دنیا کا نقصان کیا تو اس چیز کو اختیار کرو، جس کا نفع پائدار اور دائمی ہے، اس کو چھوڑو جو صرف چند دن ہے۔
تصوف ابن آدم کی سرشت کا گراں قدر راز سربستہ ہے، جس کا حصول مادیت اور ظاہری چکا چوند کو شکست دینے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ وہ کوئی سائنس ،فلسفہ نہیں ہے جس کی تعبیریں اور مفہوم زمانہ کے نشیب و فراز کے ساتھ بدلتے رہیں۔ محسن انسانیت حضور اکرم کے عہد مبارک میں160بھی اس کی وہی تعریف تھی جو آج ہے، تصوف کا راستہ اختیار کرنے والے قرآن و سنت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ قرآن کریم میں160بے شمار واقعات نبیوں و رسولوں کے زہد و تقویٰ اور تسلیم و رضا کے ذریعہ قائم کردہ تصوف کے سلسلے کی نشا ند ہی کرتے ہیں، قرآن مجید نے خواتین کو بھی تصوف کے راستے کا راہی بنایا ہے۔ بے آب و گیاہ وادی میں حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی تنہائی میں160توکل کی دولت اور اس کی بدولت ایک ابدی چشمے کا پھوٹنا اور قیامت تک اس فیض باری کا جاری رہنا، انبیاے کرام علیہم السلام کی مقدس ذاتوں کے علاوہ بھی قرآن مجید نے تصوف کے سلسلے کو جاری رکھا۔ سورہ کہف میں160نماز والوں کا معاملہ۔ عہد نبوی کے بعد تصوف کا سلسلہ صحابہ کرام و تابعین و تبع تابعین کے ذریعہ آگے بڑھتا رہا۔ یہ سلسلہ ہر زمانہ میں160موجود رہا، اور موجود رہیگا۔ تصوف کا گہرا تعلق تفکر سے بھی ہے۔ قرآن مقدس جہاں ایک طرف ذکر و دعا کی ترغیب دیتا ہے وہیں160 اور فکر اور تدبر کی بھی ترغیت فراہم کرتا ہے۔ سنت نبوی کی سب سے پہلی مثال غار حرا میں ملتی ہے، جو اسلام کی سب سے پہلی خانقاہ تھی۔
دنیا آج بھی جس افراتفری ، شخصی بغض و عناد ، خود غرضی و مفاد پرستی اور ہر ممکنہ بد عملی کا شکار اور برائیوں میں گرفتار ہے اس میں160اگر اسے کوئی چیز درکار ہے تووہ ہے رحمت و عافیت۔آقا نے آنے والے زمانہ کے سلسلے میں160فرمایاتھا کہ عن قریب ایسے فتنے بپا ہوں گے جن میں160بیٹھنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا، چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ جو ان فتنوں کی طرف جھانکیگا وہ اس کی طرف آئیں گے۔ لہذا جو شخص بھی کوئی پناہ گاہ کے تصور کو ہی نمایاں نہیں160کرتا بلکہ خانقاہوں کا وجود صرف پناہ گاہ کی تصور کو ہی نمایاں نہیں کرتا بلکہ ٹھہرنے، قیام کرنے غور و فکر کرنے کی بھی ترغیب دیتا ہے۔ خانقاہی نظام میں خوش خلقی و تواضع۔ ایثار و قربانی کا مزاج بنتا ہے اخلاص و بے نفسی اور اخلاقی اقدار کو اپنی شخصیت کا لا ینفک حصہ بنانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، مقصد حیات سے ناواقف اس راز سے آگاہ ہوئے ہیں۔ اور خالق و مخلوق کے رشتے سے آشنا ہوتے ہیں۔ وہ ظاہر و باطن میں یکسانیت پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔ حضرات صوفیہ کے یہاں صبر و شکر اور ایثار کی جیسی مثالیں ملتی ہیں، ان کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر یہ بات طے ہوچکی ہے کہ صالح و صحت مند معاشرہ کی تشکیل و تعمیر۔ اور امن عالم، آپسی میل محبت کے لیے صوفیاے کرام ان کی تعلیمات و خدمات و افکار کی خصوصیت کیساتھ ترویج و اشاعت کی جائے۔ حدیث شریف میں ہے کہ تمام مخلوق اللہ تبارک و تعالیٰ کا کنبہ ہے۔ اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس مخلوق کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔ لہذا تصوف سے ہی تفریق و انتشار کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ تاریخ اس کی گواہ بھی ہے۔ حجر اسود نصب کرنے والا واقعہ اس کا واضح ثبوت پیش کرتا ہے۔ یہ واقعہ مراصل اسلام نیز تصوف کے روحانی پیغام کا علم بردار ہے۔ اگر ذرا سی حکمت عملی سے کام لیا جائے۔ تو اس واقعہ کی روشنی میں آج بھی بہت سے اختلافی مسائل کے حل نکل سکتے ہیں۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج کچھ لوگ تصوف اور چشتیت کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح عوام کو اپنے دام فریب میں پھنسانے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں160جو برسوں سے مزارات اور بزرگان دین پر طعن و تشنیع کی بوچھار کرتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ تصوف اور صوفی ازم کے نام پر پوری دنیا میں گھوم گھوم کر اپنی دوکان چمکانے والے نام نہادوں کو جب آل انڈیا علمامشایخ بورڈ کے قومی صدر پیر طریقت انٹرنیشل اسلامی اسکالر علامہ سید محمد اشرف کچھوچھوی نے بینقاب کرتے ہوئے جب ان اصل تعارف کرایا تو لوگ حیرت و استعجاب کے عالم میں پڑ گئے اور پھر ان لوگوں کے لیے لمبی چوڑی دنیا تنگ ہوتی ہوئی نظر آنے لگی۔ اپنا دائرہ سمٹتا ہوا دیکھ کر طرح طرح کے پلان بنائے جانے لگے۔ حضرت علامہ سید محمد اشرف کچھوچھوی نے راقم الحروف سے دوران گفتگو بتایا کہ آج بھی اگر خلوص و للہیت کے ساتھ سنت رسول کے آئینہ میں160کام کیا جائے۔ تو دین کا بڑا کام ہوسکتا ہے۔ تصوف اپنی ہمہ گیر اور افادیت کی وجہ سے آج مغربی دنیا کا بھی مقبول و محبوب موضوع بن چکا ہے۔ بر صغیر ہند و پاک سے زیادہ اہل مغرب اس کی اہمیت کو محسوس کرکے اپنی اپنی سطح پر اس کی اشاعت و ترویج میں کوشاں ہیں کیوں کہ ہر ایک کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ انسانیت کی بقا و سلامتی ہے۔ اور اس کے حل کا واحد ذریعہ تصوف اور خانقاہوں کا وجود ہے۔

 

मानवता के अस्तित्व में नैतिकता का किरदार, तसव्वुफ की शिक्षाओं के विशेष संदर्भ में डाक्टर सईद बिन मखाशिन सहेयक प्रोफेसर, अरबी विभाग मौलाना आज़ाद नेशनल उर्दू यूनिवर्सिटी

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

 

 

انسانیت کی بقا میں اخلاقیات کا کردار،تعلیمات تصوف کے خصوصی تناظر میں
ڈاکٹر سعید بن مخاشن
اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبہ عربی
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی

الحمد للہ الذی خلق الانسان وزینہ بمحاسن الاخلاق والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد المبعوث لتکمیل مکارم الاخلاق وعلی آلہ وصحبہ الذین اھتدوا بھدیہ الی معارج الاخلاق
انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ انسانیت نے سب سے پہلے اخلاقیات کا لفظ ،معنی اور مفہوم انبیاء کرام علیہم السلام کی افعال مقدسہ اور اقوال مبارکہ سے جانا،یہی وہ نفوس قدسیہ ہیں جنھوں نے انسانیت کواخلاقیات کے مزین لباس اور مرصع اکلیل سے زینت بخشی.اور اپنی قوموں کے سامنے بداخلاقی کے تیز وتندآندھیوں کے باوجود اخلاقیات کے چراغوں کو روشن کیاجس کے فیضان نور سے بد اخلاقیوں کی ظلمتیں رفتہ رفتہ کافور ہوتی گئیں اور انسانی افراد پر مشتمل ایک صالح معاشرہ کی تشکیل عمل میں آئی.
تعلیمات تصوف کا مرکز ومحورتزکیہ نفس اور اسکا عملی مظہر اخلاق کریمانہ ہے جوکہ انسانیت کی بقا کیلئے لازم وملزوم کا درجہ رکھتے ہیں ۔ درحقیقت تزکیہ نفس ہی سرورکائنات ﷺ کی بعثت کا مقصد ہے ۔اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم یتلو علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ(آل عمران:۱۶۴) بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایاکہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اسکی آیتیں تلاوت کرتے ہیں اور ان کا تزکیہ کرتے ہیں اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے ہے.
اس آیت میں تزکیہ کے ساتھ تلاوت آیات اور تعلیم کتاب وحکمت کا جو ذکر آیا ہے وہ تزکیہ کے وسائل اور ذرائع ہیں،جیساکہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی بعثت کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق۔مجھے اخلاق کریمانہ کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے۔
راہ ہدایت سے بھٹکی ہوئی انسانیت کو دوبارہ جادہ حق پر گامزن کرنے کیلئے انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کا سلسلہ حضوراحمد مجتبی محمد مصطفی علیہ التحیۃ والثناپر مکمل ہوگیا.اب جب کبھی مسلمانوں کے ایمانی حرارت میں اضمحلال ،دینی جذبہ میں پژمردگی ،اعمال میں کوتاہی اوراخلاقی اقدارمیں انحطاط طاری ہوتا ہے دنیا نظریں اٹھاکر ان نفوس عالیہ کے آمد کی منتظر رہتی ہے جو تمام عالم کو اخلاق کریمانہ کے بھولے ہوئے اسباق دوبارہ یاد دلا کر ان کے سروں پر عز وشرف کے تاج رکھتے ہے،جن کی ایک نظر عنایت سے دلوں کے حال بدل جاتے ہیں اورکیمیا اثر صحبت سے ایمانی حرارت پیدا ہوجاتی ہے،یہی وہ نفوس عالیہ ہیں جنھیں آپ اور ہم اولیاء اللہ اور صوفیاء کرام کے نام سے یاد کرتے ہیں، جن کے علم وفضل اور رشدوہدایت کا سورج دنیا کے ہر خطہ میں طلوع ہوتا ہے اور ان کی تعلیمات اور فرمودات کے انوار سے دنیا کے تمام علاقے منور اور فیضان سے تمام خطے عرصہ دراز سے سیراب ہوتے آرہے ہیں،جن کی صحبت با فیض دلوں میں اسلامی اوامر اور احکامات جاگزیں کردیتی ہیں او ران کی مجلس میں حاضر ہونے والاہر شخص اسلامی اخلاق وکردا ر کا عملی نمونہ بن کر انسانیت کی صلاح ،فلاح اور بقا کا ضامن بن جاتاہے.
تعریف:صوفیاء کرام کے تعلیمات ،فرمودات اور نگارشات کی روشنی میں اگر اخلاقیات کی تعریف او رارکان کا جائزہ لیا جائے تو اس بات میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا کہ آج کی سسکتی ہوئی انسانیت کیلئے تصوف اور تعلیمات ہی محفوظ پناہ گاہ ہے ،جہاں انسانیت نہ صرف اپنے وجود کی حفاظت کرسکتی ہے بلکہ اس کی ترقی اور عروج بھی اسکا مقدر بن جاتی ہے.
غرض وغایت:
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اخلاق کی غرض وغایت حصول سعادت قرار دیتے ہیں جو انسانیت کی بقا اور ترقی کیلئے لازم وملزول کی حیثیت رکھتی ہے،آپ ؒ رقم طراز ہیں:
’’یہ واضح رہے کہ انسان میں ایک بہت بڑا کمال ودیعت ہے، جس کا تقاضہ اس کی صورت نوعیہ کرتی ہے ۔یعنی انسان جس ہیئت وصورت کی وجہ سے انسان کہلاتا ہے اس کا تقاضہ ہے کہ ا س میں یہ ’’عظیم الشان کمال‘‘موجود ہو جس سے تمام مخلوق الہی محروم ہے اور اسی کا نام سعادت حقیقی ہے.(حجۃ اللہ البالغۃ ، بحث سعادت، ص ۵۰)
دین اسلام ’’خلق‘‘ ہی کا دوسرا نا م ہے۔اور تصوف کی حقیقت بھی ’’خلق‘‘کے علاوہ او رکچھ نہیں ہے۔حضرت محمد بن علی بن اما م حسین بن علی رضی اللہ عنھم فرماتے ہیں:’’التصوف خلق، فمن زاد علیک فی الخلق زاد علیک فی التصوف‘‘(حضرت سید علی بن عثمان ہجویری: کشف المحجوب، مترجم :غلام معین الدین نعیمی اشرفی،لاہور، دعا پبلی کیشنز، ۲۰۱۲،ص۵۵)تصوف اخلاق کریمانہ کا نام ہے پس جو شخص جس قدر اخلاق حسنہ کا مالک ہے اسی قدر تصوف میں بھی بلند درجہ کا حامل ہے .
حضرت مرتعشؓفرماتے ہیں:’’التصوف حسن الخلق‘‘تصوت اخلاق حمیدہ کا نام ہے۔(کشف المحجوب،ص۵۸)حضرت ابو علی قزوینی ؒ فرماتے ہیں:’’التصوف ھوالاخلاق الرضیۃ‘‘پسندیدہ اور محمودہ افعال واخلاق کا نام تصوف ہے(حوالہ سابق)
اسکے علاوہ خلق حسن کے بارہ میں علماء اخلاق کے مختلف اقوال پائے جاتے ہیں:
(۱)حسن خلق کی حقیقت، جودو کرم کی بہتات، ایذادہی سے پرہیز اور ایذاوتکالیف کی برداشت میں مضمر ہے.
(۲)حسن عمل پر ثبات، اور بد عملی سے پرہیز ، حسن اخلاق کا مصدر ہیں .
(۳)رذائل سے پاک اور فضائل سے مزین رہنے کا نام حسن خلق ہے۔
حسن اخلاق کے ارکان:
حسن اخلاق اور اخلاق فاضلہ کے چار ارکان ہیں:صبر، عفت، شجاعت اور عدل.(مدارج السالکین، ج۲ ص۱۷۶)
خلاقیات شریعت کی نظر میں:
اسلام ،جوساری انسانیت کیلئے ایک آفاقی اور عملی مذہب ہونے کے ساتھ ساتھ فطرت سلیمہ اور عقل کریم کے عین مطابق ہے،جس کے دینی او ردنیوی قوانین ہر گوشہ میں کامل و مکمل ہیں اسی طرح اس گوشہ اخلاقیات میں بھی ایک بے نظیر او بلندقانون کا پیغامبر ہے.اللہ کے رسول دﷺ نے اپنی بعثت کا سب سے بڑا مقصد ومرکز ’’اخلاق‘‘ کے’’عروج کامل‘‘ ہی کو بتا یا ہے۔انی بعثت لاتمم مکارم الاخلاق:میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ اخلاق کریمانہ کو ان کی آخری بلندیوں تک پہنچاؤں. اور قرآن عزیز نے آپ کے لئے سب سے بڑا شرف اسی کو قرار دیا ہے ۔انک لعلی خلق عظیم: بلاشبہ آپ عظیم الشان اخلاق کریمانہ کے حامل ہیں.
علاوہ ازیں اللہ کے رسول ﷺ نے نہ صرف حسن خلق کے فضائل بیان کئے ہیں بلکہ اس عظیم صفت سے متصف ہونے والے بندوں کے لئے خوشخبری بھی سنائی ہے:
قال رسول اللہ ﷺ خالق الناس بخلق حسن(ترمذی)لوگوں سے حسن اخلاق کا معاملہ کرو۔قال: ان من اخیرکم احسنکم خلقا(بخاری)آپﷺ نے فرمایا : تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جوحسن اخلاق کا مالک ہو۔عن ابی الدرداء ان النبی ﷺ قال ما من شیء اثقل فی میزان المؤمن یوم القیامۃ من خلق حسن ،وان اللہ لیبغض الفاحش البذی(ترمذی) نبی اکرمﷺ نے فرمایا مسلمان کے لئے قیامت کے روز میزان عدل میں خلق حسن سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہ ہوگی۔ او راللہ تعالی بدگو بد خلق کو سخت ناپسند کرتا ہے.
قال رسول اللہﷺ انی بعثت لاتمم مکارم الاخلاق(طبرانی)آپ ﷺ نے فرمایا :میر ی بعثت کا مقصد یہ ہی کہ میں محاسن اخلاق کی تکمیل کروں.
اس قدر مختصر الفاظ میں ایسی بلند حقیقت کا اظہار کیاگیا ہے کہ رہرو راہ طریقت اور صاحب خلق حسن کے لئے اس سے زیادہ بہتر راہنمائی ناممکن ہے اس لئے کہ ’’حسن خلق‘‘جبکہ ایسی حقیقت کانام ہے جو حقوق و فرائض کی صحیح نگہداشت کرتی ہے او رانہیں کے مقتضاء کے مطابق اعمال کی کفیل بنتی ہے تو جب کوئی شخص ان حقوق وفرائض کی ادا سے محروم یا قاصر رہے گا جو اس پر خدائے تعالی کی ذات سے متعلق ہیں اور اپنے اور خداکے درمیان مخلوق خدا کو لے آئیگا تو بلاشبہ وہ اس معاملہ میں’’حسن خلق ‘‘سے محروم یا قاصر سمجھا جائیگا.اسی طرح اگر وہ مخلوق خدا کے معاملات کے درمیان اپنے نفس کو آگے لے آیااو راس کو ترجیح دینے لگاتو پھروہ اس دوسرے معاملہ میں بھی ’’حسن خلق‘‘سے درماندہ اور عاجز نظر آئیگااور کسی طرح اس صفت عالیہ سے متصف نہ ہوسکے گا.(اخلاق اور فلسفہ اخلاق، ص ۵۳۰)
اخلاقیات اور انسانیت کی بقا:
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے انسانیت کی بقا ایک صالح معاشرہ پر موقوف ہے اور اسلام نے ہمیشہ ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کا حکم فرمایاہے او راسکی اساس تقوی او راخلاقیات پر قائم کی ہے،کیونکہ انسانیت کی بقا،منکرات اور رذائل سے پاک معاشرہ ہی میں پنہاں ہے ۔اسی لئے اسلام نے جہاں ظاہر ی آلودگیوں سے پاک رہنے کا حکم دیا ہے وہی باطنی آلائشوں سے بھی پاکی کی دعوت دی ہے ۔اور جب تک کوئی معاشرہ اخلاقیات کے زیور کو نہیں اپناتا اور برائی و منکر ات سے احترازنہیں کرتا تب تک ایک صالح معاشرہ کی تشکیل نہ صرف مشکل بلکہ محال ہوتی ہے ۔صالح معاشرہ کی تشکیل اور مکارم اخلاق کی تکمیل کا دراومدار رذائل غضبیہ و معایب شہویہ کو ترک کرنے اور فضائل کے اکتساب پر موقوف ہے ۔صوفیہ کی تعلیمات او ران کا کردار ظاہری و باطنی گناہوں کو چھوڑنے کا عملی پیام ہے ۔اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :وذروا ظاھر الاثم وباطنہ(سورۃ الانعام:۱۲۰)ظاہری و باطنی گناہوں کو چھوڑدو . ولا تقربوا الفواحش ماظھر منھا ومابطن(سورۃ الانعام:۱۵۱) ظاہری اور باطنی فحش کے قریب مت جاؤ۔کیونکہ اللہ تعالی نے بندوں کو ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے انعامات سے نوازا ہے ، ارشاد ربانی ہے : واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ(سورۃ لقمان:۲۰)اس نے تمہیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا ہے۔یہ ظاہری اور باطنی نعمتیں اس بات کا تقاضہ کرتی ہیں کہ انسان ظاہر کے ساتھ باطن کو، جسم کے ساتھ قلب و روح کو بھی مزکی او رمصفی بنائے ،تزکیہ نفس تمام ظاہری اور باطنی گوشوں سے بحث کرتاہے او راس کامنشا خوب سے خوب تر کی تلاش اور جستجوہے او ر جسے یہ حاصل ہوجائے وہی فلاح پاتاہے ،اللہ تعالی کافرمان ہے: قد افلح من تزکی وذکراسم ربہ فصلی(سورۃ الاعلی:۱۴،۱۵)کامیاب ہوگیا وہ شخص جسے تزکیہ حاصل ہوا اور اپنے رب کا نام لیااور نماز پڑھا۔دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: قد افلح من زکاھا وقد خاب من دساھا(سورۃ الشمس: ۹،۱۰) وہ شخص مراد کو پہنچا جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور وہ نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا.حضرات صوفیاء کرام کی مبارک زندگیوں کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہیکہ ان کی زندگی اور تعلیمات اور فرمودات ،دینی اوامر کی آئینہ دار، اسلامی تعلیمات کی علمبردار اور انسانیت کی صلاح اور فلاح کی ضامن ہوتی ہے

 

भारत देश में उम्मत की जुदाई पर एतिहासिक दस्तावेज़ : मोहम्मद मोहसिन निज़ामी,शैखुल हदीस जामिया बरकातीया हज़रत सूफी निज़ामुद्दीन, ज़िला संत कबीर नगर

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
نحمدہٗ ونصلی ونسلم علیٰ حبیبہٖ الکریم
دیارِ ہند میں افتراق امت پر تاریخی دستاویز
متلاشیان جادۂ مستقیم کے لیے حق وصداقت پر مبنی ایک سنجیدہ تحریر
محمدمحسن نظامی
شیخ الحدیث جامعہ برکاتیہ حضرت صوفی نظام الدین لہرولی بازارپوسٹ ہٹواضلع سنت کبیرنگر
چیف ایڈیٹرسہ ماہی پیام نظامی لہرولی بازار

سن توجہاں میں ہے تیرافسانہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہتی ہے خلق خداتجھ کو غائبانہ کیا

صحابی رسول عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشادفرمایا بے شک بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائیگی سارے فرقے جہنمی ہیں مگر ایک فرقہ توصحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ یہ فرقہ ناجیہ تہتر میں ایک کون ہے نبی غیب داں نے ارشاد فر مایا جس مذہب پر میں ہوں اورمیرے صحابہ ہیں ۔مسند امام احمد ابن حنبل اور سنن ابوداؤد کی روایت حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ و ہ جنتی فرقہ جماعت ہے ’ھی الجماعۃ ‘اس حدیث پاک کی روشنی میں دورِ صحابہ سے لے کر آج تک جوفرقہ ناجی اور جنتی ہے وہ اہل سنت وجماعت سے موسوم ہوتاہے ۔اس حدیث کے ذیل میں شیخ ابراہیم عزیز ی جامع صغیر کی شرح میں فرماتے ہیں کہ یہ پیشین گوئی ہمارے نبی ﷺ کا عظیم معجزہ ہے کہ آپ نے جس غیب کی خبر دی تھی ز مانے نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ان تہتر فرقوں میں بہتر گم راہ ہوئے اور ایک جادۂ حق پر قائم رہا وہ فرقہ ناجیہ اہل سنت وجماعت ہے۔
فرقہ ناجیہ اہل سنت وجماعت ہے
لفظ اہل سنت وجماعت کااستعمال صدراول میں ہی شروع ہوگیا تھا۔حضرت امام مسلم اپنی صحیح کے مقدمہ میں مشہور تابعی امام محمد بن سیرین سے باسناد خود ایک روایت کرتے ہیں کہ ترجمہ:’’پہلے اسناد کے تعلق سے تفتیش نہیں ہوتی تھی لیکن جب فتنہ برپاہوگیا تو روایت کرتے وقت کہتے ہمیں اپنے راویوں کے بارے میں بتاؤ اگر اہل سنت و جماعت سے دیکھتے تو قبول کرلیتے اوربدمذہب دیکھتے تو اس کی روایت قبول نہیں کرتے ‘‘(ترجمہ مقدمہ صحیح مسلم)
اب اس سلسلے میں مشائخ کرام اور علمائے کبار کے نظریات ملاحظہ فرمائیے:غوث الثقلین ،قطب الکونین،حضور غوث اعظم محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ تہتر فرقوں والی حدیث پاک نقل فرمانے کے بعد فرماتے ہیں ’فاماالفرقۃ الناجیۃ فھی اھل السنۃ والجماعۃ‘فرقہ ناجیہ اہل سنت وجماعت ہے ۔(غنیۃ الطالبین ؍حجۃ اللہ علی العالمین ص:۳۹۷)
حجۃ الاسلام امام محمد الغزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ہرشخص کوچاہئے کہ اعتقاداہل سنت کو اپنے دل میں جمائے کہ یہی اس کی سعادت کا تخم ہوگا۔(کیمیائے سعادت ص:۵۸)امام ابومنصور عبدالقاہر بن طاہر التیمی اس افتراق امت والی حدیث کے مطابق تہتر فرقوں کی تفصیل اور ان کے باطل عقائد رقم کرنے کے بعد فیصلہ کن انداز میں لکھتے ہیں(ترجمہ)پھر اس کے بعد افتراق امت کا ظہور ہوااور ہوتے ہوتے بہتر گم راہ فرقوں کی تعداد مکمل ہوگئی اور تہتر واں گروہ اہل سنت وجماعت ہے اور یہی جنتی فرقہ ہے (حجۃ اللہ علی العالمین ص:۳۹۷)
علامہ سید طحطاوی قدس سرہٗ فرماتے ہیں (ترجمہ)اے اسلامی بھائیو!تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اس جنتی گروہ کے نقش قدم پر چلو جسے اہل سنت وجماعت کہاجاتاہے (المنحۃ الوھبیہ)
حضرت سیدی عبدالعزیز دباغ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :(ترجمہ) اس بندے پر ولایت ومعرفت کادرواز ہ نہیں کھل سکتاجومسلک اہل سنت وجماعت پر نہ ہو۔ اور اللہ کاکوئی ولی عقائد اہل سنت کے خلاف نہیں (الابریز ص:۲۴)
سوادِ اعظم اہلِ سنت وجماعت کی پیروی لازمی ہے
رسول گرامی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا تم سوادِ اعظم کی پیروی کروجو اس سے جداہوا وہ جہنم میں گیا ،حضرت ملاعلی قاری علیہ الرحمہ شرح مشکوۃ میں لفظ سوادِ اعظم کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’السوادالاعظم یعبربہ عن الجماعۃ الکثیرہ والمراد ماعلیہ اکثر المسلمین ‘سواد اعظم بڑی جماعت سے عبارت ہے اس سے مراد اکثر مسلمانوں کا مسلک ہے ۔امام عبدالوہاب شعرانی قدس سرہٗ فرماتے ہیں (ترجمہ) سواد اعظم سے مراد اہل سنت وجماعت ہیں سواد اعظم صحیح معنی میں کون ہیں اس سلسلے میں اہل سنت کے عظیم المرتبت محدث امام المحدثین شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہٗ نے اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں بڑی عمدہ گفتگو کی ہے انھوں نے فرمایا کہ اس سے پہلے جتنی بھی اہم کتابیں تفسیر وفقہ ،حدیث اور کلام میں اکٹھا کرلی جائیں اور ان کی روشنی میں تحقیق کرکے نتیجہ نکالا جائے تو یہ اہل سنت ہی سواد اعظم ہیں اوریہی ’مااناعلیہ واصحابی ‘ کا مصداق ہیں تفسیر وحدیث فقہ وکلام کی صدیوں قدیم کتب سے یہی ثابت ہے ۔
مسلک اہل سنت وجماعت کی تیرہویں چودہویں صدی ہجری کی نمائندہ شخصیات
تیرہویں صدی ہجری کی نمائندہ شخصیات کی اجمالی فہرست:علامہ عبدالعلی فرنگی محلی(ولادت :۱۱۴۴/وصال۱۲۳۵)شاہ اجمل الہ آبادی (۱۱۶۰ھ/۱۲۳۶) شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (۱۱۵۹/۱۲۳۹)شاہ غلام علی نقشبدی دہلوی(۱۱۵۸ھ/۱۲۴۰ھ)شاہ ابوسعید مجددی رام پوری (۱۱۹۶ھ/۱۲۳۶ھ)شاہ آل احمد اچھے میاں برکاتی مارہروی (۱۱۶۰ھ/۱۲۶۲ھ)شاہ احمد سعید مجددی رام پوری (۱۲۱۷ھ/۱۲۷۷ھ)علامہ فضل حق خیرآبادی(۱۲۱۲ھ/۱۲۷۸) علامہ فضل رسول بدایونی (۱۲۱۳ھ/۱۲۸۹ھ) سیدشاہ آل رسول احمدی مارہروی وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
چودہویں صدی ہجری کی نمائندہ شخصیات
مولانا عبدالحی فرنگی محلی لکھنوی (۱۲۶۴ھ/۱۳۰۴) مفتی ارشاد حسین رام پوری (۱۲۴۸ھ/۱۳۱۱ھ) مولانا فضل الرحمن گنج مرادآبادی (۱۲۰۸ھ/۱۳۱۳ھ)مولانا غلام دستگیر قصوری لاہوری (۱۳۱۵ھ)مولانا عبدالقادربدایونی (۱۲۵۳ھ/۱۳۱۹ھ)مولانا ہدایت اللہ رام پوری ثم جونپوری (۱۳۲۶ھ) مولانا خیرالدین دہلوی (۱۳۲۶ھ) امام احمد رضا خان فاضل بریلوی (۱۲۷۲ھ/۱۳۴۰)شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی (۱۲۶۶ھ/۱۳۵۵ھ) شاہ مہر علی گولڑوی پنچابی (۱۲۷۴ھ/۱۳۵۶ھ)مولانا وصی احمد محدث سورتی (۱۳۳۴ھ)وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین ۔
مذکورہ بالاشخصیات تیرہویں وچودہویں صدی ہجری میں سوادِ اعظم مسلک اہل سنت وجماعت کی وہ علم وعمل عزیمت واستقامت کی وہ بلند بانگ ہستیاں ہیں جنھوں نے متواتر ومتوارِث معمولاتِ اہل سنت کی ترویج واشاعت فرمائی اور افکار باطلہ ونظریاتِ فاسدہ کی بیخ کنی فرمائی اور اسلام وسنت کے خلاف اٹھنے والی ہرتحریک کا قلع قمع فرمایا۔

برصغیر ہند اپنی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے انفرادی حیثیت کا حامل ملک ہے اس ملک کی گنگاجمنی تہذیب ضرب المثل ہے کثرت میں وحدت یہاں کی امتیازی شان ہے اس ملک میں ظہور اسلام سے لے کر تقریباً پانچ سو برس تک فرزندانِ اسلام عقیدۃً سنی حنفی تھے اور معمولات اہل سنت کے سختی سے پابندتھے بدعقیدگی کا تصور بھی نہ تھا یہ سب صوفیاء کرام اور داعیان اسلام کی مسیحا نفسی اور ان کے اخلاص عمل اور فکر کی پاکیزگی کی برکت تھی ۔
امام ربانی مجددالف ثانی شیخ احمد سرہندی قدس سرہٗ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں حنفی ہی حنفی تھے شافعی اور حنبلی مسلک کے لوگ تلاش کرنے میں بھی نہیں ملتے تھے ۔طوطئی ہند خواجہ امیرخسرو فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی کیا بات ہے یہاں کے دریاؤں اور سمندروں کی مچھلیاں بھی سنی ہیں۔ (رسالہ ردِّ روافض ص:۹)
مشہور غیرمقلد نواب صدیق حسن بھوپالی لکھتاہے کہ خلاصہ حال ہندوستان کے مسلمانوں کا یہ ہے کہ جب سے اسلام یہاں آیا ہے اس وقت سے آج تک یہ لوگ حنفی مذہب پر قائم رہے ہیں اور ہیں ۔(ترجمان وھابیہ ص:۱۰)
دوسری جگہ لکھتاہے کہ حنفیہ ہی سے یہ ملک بھراہے ان کا یہ بھی قول ہے کہ ہند کے مسلمان اکثر حنفی بعض شیعی اور کم تر اہل حدیث (ترجمان وہابیہ ص:۱۵)
ان حوالہ جات کی روشنی میں یہ مسئلہ مبرہن ہوجاتاہے کہ دیارِ ہند کا مسلمان سوادِ اعظم مسلک اہل سنت وجماعت کا پابند اور حنفی المسلک رہا اور سلف صالحین نے جس شاہراہ مستقیم پر گامزن فرمایا تھا اسی کو اپنے لیے حرز جان بنایا لیکن ۔
خیر قرون سے لے کر جمیع مسلمین سوادِ اعظم اہل سنت وجماعت کے معتقدات ومسلمات کے متبع وپیروکاررہے دورِ تبع تابعین کے بعد ائمہ مجتہدین کے مسلک کی پیروی کو مدارنجات سمجھ کر ائمہ اربعہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ ،سیدنا امام مالک ،سیدنا امام شافعی ،سیدنا امام احمد ابن حنبل رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تقلید کو ضروری قراردیا گیا اور جو ان چاروں مسلک سے باہر ہوا باطل پر ہے ،علامہ سید طحطاوی حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں ’وھذہ الطائفۃ الناجیۃ قداجتمعت الیوم فی مذاہب اربعۃ وہم الحنفیوں والمالکیون والشافعیون والحنبلیون رحہم اللہ تعالیٰ من کان خارجا عن ھذ ہ الاربعۃ فی ھذ الزمان فھوا من اھل البدعۃ والنار‘
ہر شخص اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ عالم اسلام کی سب سے بڑی جماعت مقلدین کی ہے اور ان مقلدین میں نوے فیصد حنفیوں کی تعداد رہی ہے اور آج بھی ہے اور جن لوگونے تقلید سے گلوخلاصی کرلی ان کی تعداد انتہائی قلیل ہے ،پھر بھی شیشے کے محل میں بیٹھ کر پہاڑ سے ٹکرانے کا ناپاک جذبہ ان کے سینوں میں اٹکھیلیاں لیتاہے ۔
سوادِ اعظم اہل سنت وجماعت سے ہٹ کر ماضی قریب کا ایک نوزائیدہ فرقہ وہابیہ نجدیہ کا ہے۔تیرہویں صدی ہجری کے آغاز میں سحرائے نجد سے ایک ایسی مذہبی تحریک نے جنم لیا جسے برطانوی استعمارکی سرپرستی وپشت پناہی حاصل تھی اس تحریک نے اپنے بڑھتے ہوئے اثرونفوذ کے ذریعہ متحارب قبائل نجد کو مجتمع کرکے ایک زبردست مذہبی وسیاسی اور عسکری طاقت وقوت پیداکرلی اور حجاز مقدس کی طرف اس کے قدم بڑھنے لگے آل شیخ اور آل سعود کی سازشوں اور متحدہ کوششوں سے ۱۹۳۵ ء میں حرمین طیبین پر اس کا غاصبانہ قبضہ ہوگیا اور بزور شمشیر اپنے مخصوص افکاروخیالات کو نظام حکومت میں داخل کرکے سرزمین حجاز اور پھر عالم اسلام کے لیے قیامت آشوب مشکل پیدا کردی ،علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ صرف وہی مسلمان ہیں اور جو ان کے عقائد سے اختلاف رکھتے ہیں وہ پکے مشرک ہیں ،اسی سبب سے انھوں نے اہل سنت وجماعت سے قتل وقتال کیا اور انھیں اور ان کے علما کے قتل کو جائز سمجھا اس تحریک کی بنیاد شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی نے (متولد۱۱۱۱ھ ) نے رکھی جو آج تک وہابی تحریک کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے۔
عالم اسلام کی یہ بڑی بدنصیبی تھی کہ شیخ نجدی نے سواداعظم اہل سنت وجماعت کے ساتھ ایک نیا محاذ قائم کرکے اسلام کی ایسی تعبیر وتشریح کرنے لگا جو بالکل اجنبی اور غیر مانوس تھی ،اور جزیرۃ العرب میں قتل وغارت گری کا بازار گرم کردیا ، علامہ شیخ احمد صاوی علیہ الرحمہ ایک آیت کریمہ کی تفسیر میں وہابیہ کو خوارِج میں شمار فرمایا ہے ،اور تفسیر جلالین کے حاشیہ میں ان پر نیست ونابود ہو نے کی دعافرمائی ہے (حاشیہ صاوی ص:۳۲۸)
ایسے ہی قاضی شوکانی یمنی کا بھی خیال ہے جو ان کا تابع فرمان نہ ہو وہ دائرہ اسلام سے خارِج ہے ،دیوبندیوں کے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند شیخ نجدی کے حالات تحریر کرنے کے بعد رقم طراز ہیں : الحاصل وہ ایک ظالم وباغی خونخوار فاسق شخص تھا اسی وجہ سے اہل عرب کو خصوصاً اس سے اور اس کے اتباع سے دلی بغض تھا اور ہے اور اس قدر ہے کہ اتنا قوم یہود سے نہ نصاری سے نہ مجوس سے نہ ہنود سے( الثہاب الثاقب ص:۴۲)
نیز یہ بھی تحریر کرتے ہیں کہ شیخ نجدی کا عقیدہ تھا کہ جملہ اہل عالم اور تمام مسلمانان دیار کافرومشرک ہیں اور ان سے قتل وقتال کرنا اور ان کے اموال کو ان سے چھین لینا حلال اور جائز بلکہ واجب ہے ۔(الثہاب الثاقب:۴۲)
محمد ابن عبدالوہاب نجدی نے اپنے باطل افکارونظریات کی ترویج واشاعت کے لیے بادۂ توحید کے متوالوں اور عشق رسول سے سرشارمسلمانوں سے قتل وغارت گری کا سلسلہ شروع کردیا جو شخص اس کا متبع ہوا اس کو مشرک کہتا ہے اور اس سے قتل وغارت گری کو جائز سمجھتاہے ،عرب کے مسلمان سواد اعظم اہل سنت وجماعت کے عقیدہ پر تھے اور اسلاف کی روایات کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھے انبیاء اولیاء سے توسل واستغاثہ کو جائز سمجھتے تھے اور صحابہ کرام کے قبوں کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور شعائر اللہ کی تعظیم کرتے تھے ،شیخ نجدی کے مسلک میں یہ ساری چیزیں غلط اور بدعت تھیں ،اس لیے اس کو مٹانے کے لیے اس نے فوجی طاقت اکٹھاکی اور سب سے پہلا معرکہ ریاض میں ہوا،جس میں کل چارہزار عرب موحدین مارے گئے اور اس کے قول کے مطابق مشرکین مارے گیے امیر الاحساء سے آل سعود کے تعاون سے شیخ نجدی نے جنگ کی احساء میں خون ریز وہلاکت کا بدترین مظاہرہ کیا احساء میں جس قدر مزارات پر گنبد بنے ہوئے تھے ان سب کو گرادیا اور مشاہد کے تمام آثار مٹادیا اسی سال سعود نے حضرت امام حسن حضرت طلحہ ودیگر صحابہ کرام کے مزارات کو منہدم کردیا اوراس سلسلہ میں بے شمار مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کیا ،پھر کربلائے معلی کی طرف چلا اور بھاری لشکر ساتھ لیا ، بلدحسین کے باشندوں پر حملہ کیا اکثر باشندوں کو گھروں اور بازاروں میں تہہ تیغ کیا امام حسین کے مزار پر انوار کے قبہ کو ڈھادیا اور سارامال ومتاع لوٹ لیا قبہ زمرد یاقوت اور جواہر سے آراستہ تھا سب کو لوٹ لیا تقریباً دوہزارباشندے اس جنگ میں مارے گیے ۔(تاریخ نجد وحجاز ص:۶۳؍۷۳)
دیارِ ہند میں اختلاف وافتراق کی شروعات کیسے ہوئی
مشہور نقش بندی عالم مولانا ابوالحسن زیدفاروقی دہلوی وصال ۱۹۹۳ء کی یہ تحریر کافی عبرت انگیز ہے حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کے زمانے سے آج تک ہندوستان کے مسلمان دوفرقوں میں بٹے رہے ،ایک اہل سنت وجماعت دوسرے شیعہ اب مولانا اسماعیل دہلوی کا ظہور ہواوہ شاہ ولی اللہ کے پوتے اور شاہ عبدالعزیز شاہ رفیع الدین شاہ عبدالقادر کے بھتیجے تھے ،ان کا میلان محمد بن عبدالوہاب نجدی کی طرف ہوااور نجدی کارسالہ ردالاشراک ان کی نظر سے گذر ااور اردو میں انھوں نے تقو یۃ الایمان لکھی اس کتاب سے مذہبی آزادخیالی کا دور شروع ہواکوئی غیر مقلد ہواکوئی وہابی بناکو ئی اہل حدیث کہلایا کسے نے اپنے کو سلفی کہا ائمہ مجتہدین کی جو منزلت اور احترام دل میں تھا وہ ختم ہوامعمولی نوشت وخواندکے افراد امام بننے لگے اور افسوس اس بات کا ہے کہ توحید کی حفاظت کے نام پر بارگاہ نبوت کی تعظیم واحترام میں تقصیر ات کا سلسلہ شر وع کردیا گیا ،یہ ساری قباحتیں ماہ ربیع الآخر ۱۲۴۰ھ ۱۸۵۲ء کے بعد سے ظاہر ہونی شروع ہوئیں (مولانا اسماعیل اور تقویۃ الایمان ص:۹ازمولانا زید دہلوی)
مشہور غیر مقلد عالم وحیدالزماں حیدرآبادی نے لکھا ہے کہ مولوی اسماعیل دہلوی نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں محمد بن عبدالوہاب نجدی کی پیروی کی ہے (ہدیۃ المہدی )
مشہور دیوبندی عالم احمد رضا قاسمی بجنوری لکھتے ہیں کہ افسوس کہ اس کتاب کی وجہ سے مسلمانان ہند وپاک جن کی تعداد بیس کرورڑ سے زیادہ ہے اور تقریباً نوے فیصد حنفی المسلک ہیں دوگروہ میں بٹ گیے ایسے اختلافات کی نظیر دنیا اسلام کے کسی بھی خطے میں ایک امام اورایک مسلک کے ماننے والوں میں موجود نہیں ہے ۔(انوارالباری ص:۱۰۷)
مولانا انورشاہ کشمیری لکھتے ہیں کہ ابن عبدالوہاب نجدی ایک بے وقوف کم علم شخص تھا ،کافرکہنے کے حکم میں جلد بازی کرتاتھا۔(فیض الباری ص:۱۷)
شیخ نجدی کے والد متوفی (۱۷۴۰ء ۱۱۵۳ھ ) نہایت صالح العقیدہ بزرگ مشہور عالم دین اور فقیہ تھے وہ شیخ نجدی کوتنقیص رسالت مآثر صحابہ اور تکفیر المسلمین جیسے گمراہ عقائد پر ہمیشہ سرزنش کرتے رہتے اسی طرح ان کے اساتذہ بھی اس کے تخریبی افکار پر اس کو ہمیشہ ملامت کرتے رہتے تھے۔
(تاریخ نجد وحجازص:۳۸)
مصنف تقویۃ الایمان کا اپنی کتاب کے بارے میں تأثر
مولوی اسماعیل دہلوی تقویۃ الایمان کے نتائج واثرات کے حوالے سے اپنے خیالات کااظہار یوں کرتے ہیں :میں نے یہ کتاب لکھی ہے اور میں جانتاہوں کہ اس میں بعض جگہ ذراتیز الفاظ آگیے ہیں ،اور بعض جگہ تشدد ہوگیا ہے ،شرک خفی کو شرک جلی لکھ دیا ہے ،اندیشہ ہے کہ اس کی اشاعت سے شورش ضرور ہوگی ، مگر توقع ہے کہ لڑبھڑ کر خودٹھیک ہوجائیں گے ۔(ارواح ثلثہ ص:۸۱)
ذرااپنے پہلو میں چھپے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ کر انصاف کو آواز دیجیے اور غور کیجیے کہ اس عبارت میں کتنے تیر ونشتر چھپے ہیں اور افتراق بین المسلمین کی کیسی فضا ہموار کی جارہی ہے ۔
اس عبارت پر شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کا یہ درد ناک نوٹ ملاحظہ فرمائے :مولوی اسماعیل دہلوی کی یہ توقع پوری ہوئی اس سے مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا قتال وخوں ریزی ہوئی اور اب تک ہورہی ہے مسلمانوں کا شیرازہ منتشر ہوگیا گھر گھر اختلاف پیداہوابھائی بھائی کا دشمن ہوگیا اور ہورہا ہے رہ گئی یہ توقع کہ ٹھیک ہوجائیں گے ایں خیال است محال است وجنوں ۔(سنی دیوبندی اختلافات کا منصفانہ جائزہ ص:۳۷)
مولانا یٰسین اختر مصباحی لکھتے ہیں کہ ڈھائی سو کتابوں کی لسٹ میری نظر سے گزرچکی ہے جو تقویۃ الایمان کے چھپتے ہی مختلف زبانوں میں مختلف علاقوں سے اس کی تردید میں لکھی گئی ہیں ۔مولانا منورالدین اور تمام علمائے دہلی سے جامع مسجد کا شہرۂ آفاق مناظرہ ہوا جس میں فریق مخالف مولوی اسماعیل دہلوی اور عبدالحی بڈھانوی تھے ان علاوہ ان کے ساتھ کوئی نہیں آیا ،بالآخر لاجواب ہوکر بھاگ گئے(مولانا ابوالکلام آزاد کی کہانی ص:۶)
اسماعیل دہلوی کی موت کے بعد وہابیت دوشاخوں میں بٹ گئی اور ان کے ماننے والے وہابی علما کا دوگروپ بن گیا مگر وہابیت کی پہلی شاخ غیر مقلدیت کو وہ قبول عام حاصل نہ ہواجو مقلد دیوبندیوں کو ہو ا،وہابیت کی دونوں شاخیں محمد بن عبدالوہاب نجدی اور اسماعیل دہلوی کو مانتی ہیں دونوں کے عقائد ایک جیسے ہیں ،دیوبندیوں کے قطب رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں :محمد بن عبدالوہاب نجدی کے مقتدیوں کو وہابی کہا جاتا ہے ان کے عقائد عمدہ تھے ان کے مقتدی اچھے ہیں مگر ہاں جو حد سے بڑھ گیے ان میں فساد آگیا ہے اور عقائد سب کے متفق ہیں ۔(فتاوی رشیدہ جلد ۱ص:۱۱۹)
براہین قاطعہ مصنفہ خلیل احمد انبیٹھوی جب شائع ہوئی تو مولانا غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمہ نے مولوی خلیل احمد انبیٹھوی سے تحریری مناظرہ کیا اور یہ مناظرہ بمقام بھاول پور نواب کی نگرانی میں شو ال ۱۳۰۶ھ میں ہوااس مناظرہ کے حکم اور فیصل والی ریاست بھاول پور کے پیر ومرشدشیخ المشائخ خواجہ غلام فرید چاچڑاں شریف تھے ،مناظرہ میں مولوی خلیل احمد اور ان کے معاونین کو شکست فاش ہوئی اور مناظر ہ کے فیصل نے یہ فیصلہ سنایا کہ انبیٹھوی صاحب مع اپنے معاونین کے وہابی اہل سنت سے خارج ہیں ۔شرم تم مگر نہیں آتی
آج کل دیوبندی علمااور عوام اپنے آپ کو اہل سنت وجماعت کے نام سے متعارف کراتے ہیں تاکہ توہین نبوت ورسالت اور تنقیص شان الوہیت پر مکروفریب کا پردہ ڈال دیا جائے اور عامۃ المسلمین کو باور کرادیا جائے کہ ہم تو اہل سنت وجماعت سے ہیں لیکن علمائے اہل سنت وجماعت نے اس عیاری وفریب کاری کے لبادے کے تارتار کو بکھیر دیا اور کہہ دیا۔
اس کے بعد مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کو ریاست بھاول پور سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا ۔(تقدیس الوکیل عن توہین الرشید والخلیل ص:۱تا۱۷)
یہ چند ضروری باتیں عامۃ المسلمین کے لیے تحریر کردی گئیں ہیں تاکہ اس کو پڑھ کر آنکھوں سے غفلت کے پردے ہٹاکر حق وصداقت کی منزل کو پاسکیں ۔

देवबंद के बदलते हुए उलमा से कुछ सवाल : डाक्टर अनवार अहमद ख़ान बग़दादी

 4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

بدلتے ہوئے علمائے دیوبند سے چند سوالات
ڈاکٹرانوار احمد خان بغدادی

آج کل بعض دیوبندی علما کے بارے میں یہ خبریں موصول ہورہی ہیں کہ وہ اجمیر معلی حضور شیخ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ کے مزار پر انوار پر نہ یہ کہ صرف حاضری کا شرف حاصل کر رہے ہیں بلکہ چادریں چڑھاکر اپنی صوفی اور چشتی ہونے کا ثبوت بھی فراہم کر رہے ہیں، جیسا کہ روزنامہ سہارا اور انقلاب کے صفحات گواہ ہیں۔
علمائے دیوبند کے موقف میں یہ تبدیلی یقیناًبہت اہم ہے، کیوں کہ ان کے اکابرین جس چیز کو شرکت وبدعت کہتے کہتے نہیں تھکتے تھے وہی چیزیں آج صرف جائز ہی نہ ہوئیں بلکہ علمائے دیوبند نے عملی جامہ پہنا کر یہ ثابت بھی کر دیا کہ حالات زمانہ کے ساتھ اب ہم بھی بدل رہے ہیں، اور بھلا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تصوف کے تعلق سے بین الاقوامی منظر نامہ بدل رہا ہو تو دوسری طرف دنیا سے وہابیت کی بساط لپیٹی جا رہی ہو ایسے وقت میں علمائے دیوبند نہ بدلیں؟! جب کہ بدلنا ہی ان کی تاریخ ہے، جیسا کہ ان کے بزرگوں کی تاریخ پر نظر ڈالنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس جماعت کے لوگ کسی صاف موقف سے محروم ہیں یہ کبھی تو تصوف کی راگ الاپتے ہیں، کبھی وہابیت کی دہائی دیتے ہیں، کبھی مزارات پر حاضری دیتے ہیں تو کبھی حاضری دینے والوں کو مشرک وگمراہ بتاتے ہیں۔ غرضیکہ جیسا دیس ویسا بھیس کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے نفاق کی راہ چل بیٹھے ہیں۔یہ لیجئے اک نظر ڈالئے ان کی تاریخ پر۔
اسماعیل دہلوی کے وہابی افکار ونظریات کے بطن سے دو جماعتیں پیدا ہوئیں، ایک جماعت تقلید سے آزاد دوسری جماعت تقلید پرست، پہلی جماعت غیر مقلد کہلاتی ہے اور دوسری جماعت دیوبندیوں کی ہے ، ان دونوں جماعتوں کا قدرے مشترک عام مسلمانوں کو مشرک وگمراہ ثابت کرنا ہے، مزارات کی حاضری بزرگوں سے عقیدت اور تعظیم ان دونوں کے ہی نزدیک شرک وگمرہی ٹھہرتی ہے۔علاوہ ازیں کچھ دیوبندی علما مختلف فیہ مسائل میں رائے زنی کرتے ہوئے ایسے اقوال کا ارتکاب کر گئے کہ ان کے قلم سے نہ ناموس رسالت محفوظ رہا، نہ ہی تصوف اور ارباب تصوف بزرگان دین کی عقیدت واحترام کا پاس وخیال باقی رہا۔
مگر جب امام اہل سنت مصلح قوم وملت مولانا شاہ احمد رضا خان قادری برکاتی علیہ الرحمہ نے ان کے افکار وخیالات کا محاسبہ کیا،‘‘المعتمد المستند ’’اور‘‘ حسام الحرمین’’ جیسی مدلل اور مسکت کتاب لکھ کر علمائے حرمین شریفین سے اس پر تصدیقات لئے اور ان کی وہابی کج فکری کو طشت از بام کیا تو دیوبندی بلبلا اٹھے، کہنے لگے کہ مولانا احمد رضا نے ہماری عبارتوں میں خرد برد کرکے غلط مطلب گڑھ لیا ہے، اور اپنے دفاع میں ان تمام عقائد کا اقرار کر گئے جو بعد میں ان کے لئے وبال جان بن گئے چنانچہ اس جماعت کے ایک سرخیل عالم مولانا خلیل احمد سہارنپوری (ت ۶۴۳۱ھ)نے‘‘المھند علی المفند ’’لکھ کر امام احمد رضا کی کتاب‘‘المعتمد المستند ’’اور‘‘حسام الحرمین’’ کا جواب دینے کی کوشش کی جس میں صوفیہ کے تمام عقائد کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا کہ: (ہم اور ہمارے مشائخ اور ہماری ساری جماعت بحمد اللہ فروعات میں مقلد ہیں،مقتدائے خلق حضرات امام ہمام امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے۔اور اصول واعتقادات میں پیرو ہیں، امام ابو الحسن اشعری اور امام ابو منصور ماتریدی رضی اللہ عنہما کے۔ اور طریقہائے صوفیہ میں ہم کو انتساب حاصل ہے، سلسلہ عالیہ حضرات نقشبندیہ اور طریقہ زکیہ مشائخ چشت اور سلسلہ بہیہ حضرات قادریہ اور طریقہ مرضیہ مشائخ سہروردیہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ)۔(دیکھئے:‘‘المھند علی المفند ’’، ص: ۱۳ و ۲۳)
مگر جب پاکستان کے ایک غیر مقلد عالم ڈاکٹر طالب الرحمن نے اسی‘‘المھند علی المفند’’اور ان کی دوسری کتابوں کو سامنے رکھ کر دیوبندیوں کے صوفیانہ عقائد کو ثابت کرتے ہوئے‘‘الدیوبندیہ ’’نام کی ایک کتاب لکھی جس میں یہ ثابت کیا کہ علمائے دیوبند کے عقائد وہابی ازم سے میل نہیں کھاتے بلکہ ان کے عقائد صوفیانہ ہیں، وہ تو تصور شیخ، فنا فی الشیخ، وحدۃ الوجود، قبور اولیاء سے فیض یابی، دلائل الخیرات اورقصیدہ بردہ پڑھنے کی تلقین، بزرگوں کی روحوں سے فریاد، بزرگوں کے تصرفات وغیرہ جیسے عقائد کے قائل ہیں اور یہ سب باتیں علمائے دیوبند کی اصل مراجع سے ثابت کیا۔(دیکھئے: خلیل احمد سہارنپوری کی کتاب‘‘المھند علی المفند’’ پر ڈاکٹر طالب الرحمن کا مقدمہ تحقیق، ص: ۷ تا ۲۱)۔
اس کتاب (‘‘الدیوبندیہ ’’)کے منظر عام پر آتے ہی دیوبندیوں میں کھلبلی مچ گئی، پیروں تلے زمیں کھسکتی دکھائی دینے لگی کیوں کہ اس کتاب نے جہاں دنیا بھر میں دیوبندیوں کی تضاد بیانی اور نفاق کو طشت از بام کر دیا، وہیں مرکز تبرعات مملکت سعودیہ عربیہ کے اندر دیوبندیوں کی نقاب کشائی کر کے اصل چہرہ بھی پیش کردیا۔ اس لئے اک بار پھر دیوبندیوں نے وہی عبارت دہرائی کہ علمائے دیوبند کی عبارتوں میں خرد برد کرکے غلط الزامات لگائے گئے ہیں یعنی دیوبند کے عقائد اہل تصوف سے میل نہیں کھاتے، بلکہ علمائے دیوبند کو نہ جانے کیوں اتنی تکلیف ہوئی کہ بقول ڈاکٹر طالب الرحمن ان لوگوں نے اپنے مسلک کی صفائی اور وہابی ہونے کے ثبوت میں دو کانفرنسیں کر ڈالیں، ایک پشاور پاکستان میں اور دوسری دہلی انڈیامیں، یہی نہیں بلکہ اس کتاب کے رد میں علمائے دیوبند نے دو کتابیں بھی تصنیف کیں۔ (دیکھئے: خلیل احمد سہارنپوری کی کتاب‘‘المھند علی المفند’’ پر ڈاکٹر طالب الرحمن کا مقدمہ تحقیق، ص: ۵)۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اکابر علمائے اہلسنت نے علمائے دیوبند کا محاسبہ کیا تو دیوبند چیخ پڑا اور دعوی کرنے لگا کہ ہم وہابی نہیں ہیں ہم تو قادری چشتی اہل تصوف ہیں اور جب غیر مقلدین نے ان کے اسی تعلق کو واضح کرتے ہوئے صوفی بدعتی کہا تو پھر چیخ اٹھے، کہنے لگے ہم صوفی نہیں ہیں، آج ایک بار پھرورلڈ صوفی فورم کے بعد جب وہابیت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے تب بزرگان دین خواجہ غریب نواز اور تصوف کی یاد ستانے لگی ہے، آخر کب تک علمائے دیوبند آنکھ مچولی کا یہ کھیل کھیلتے رہیں گے؟!!
حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ نے دیوبندیوں کی تضاد بیانیوں کی تفصیل لکھی تو اس جماعت کے سرخیل بے باک صحافی ماہنامہ تجلی کے مدیر مولانا عامر عثمانی صاحب نے پڑھکر برجستہ لکھا کہ: (ہمارے نزدیک جان چھڑانے کی ایک ہی راہ ہے یہ کہ یا تو‘‘تقویۃ الایمان’’اور‘‘فتاوی رشیدیہ ’’،‘‘فتاوی امدادیہ’’اور‘‘بہشتی زیور ’’اور‘‘حفظ الایمان ’’جیسی کتابوں کو چوراہے پر رکھ کر آگ دے دی جائے اور صاف اعلان کر دیا جائے کہ ان کے مندرجات قرآن وسنت کے خلاف ہیں اور ہم دیوبندیوں کے صحیح عقائد‘‘ارواح ثلاثہ ’’اور‘‘سوانح قاسمی’’اور‘‘اشرف السوانح ’’جیسی کتابوں سے معلوم کرنے چاہئے یا پھر ان موخر الذکر کتابوں کے بارے میں اعلان فرما یا جائے کہ یہ تو محض قصے کہانیوں کی کتابیں ہیں جو رطب ویابس سے بھری ہوئی ہیں اور ہمارے صحیح عقائد وہی ہیں جو اول الذکر کتابوں میں مندرج ہیں)۔ (دیکھئے: علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی کتاب زلزلہ، ص: ۳۲ و ۴۲)۔
اس تاریخ سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ دیوبندی علما فکری ارتباک اور عقائد میں تذبذب اور نفاق کے شکار ہیں، ایک ہی چیز کبھی ان کے نزدیک شرک قرار پاتی ہے تو کبھی وہی چیز باعث خیر وبرکت بن جاتی ہے۔ عام طور پر جو بات صحابہ، تابعین اور متقدمین بزرگان دین کی شان میں مبالغہ پر مبنی دکھائی دیتی ہے وہی بات ان کے مولویوں کی کرامتیں بن جاتی ہیں۔ دنیوی مفاد کے پیش نظر کبھی وہابی ازم کی راہ چل پڑتے ہیں تو کبھی دامن تصوف سے اپنی وابستگی دکھاکر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ان کا تذبذب،ارتباک اور نفاق صاف ظاہر ہونے لگتا ہے۔ اللہ تعالی ہدایت نصیب فرمائے۔ (آمین)
بہر حال خواجہ اجمیری غریب نواز علیہ الرحمہ کے مزار پر انوار پر حاضری دیکر علمائے دیوبند نے اک جرات مندانہ اقدام کیا ہے اپنے مسلک کی دیرینہ روایت کو توڑ کر اک تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے، اگر یہ تبدیلی سیاست سے پاک اور اخلاص پر مبنی ہے تو اس تبدیلی کو اس زمانے کی سب سے بڑی تبدیلی کہا جاسکتا ہے کیوں کہ تصور شیخ، بزرگوں سے عقیدت، مزارات اولیاء کا احترام، حاضری اور چادر وگاگروغیرہ ایسے سلگتے ہوئے مسائل تھے جن پر علمائے دیوبند اورعلمائے اہل سنت ایک صدی سے لڑ رہے ہیں، اس لئے آج ان مواقف میں تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ اب فاصلے سمٹ رہے ہیں۔اب اس سمٹتے ہوئے فاصلوں پر ہمیں سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے بے سود تبصروں سے گریز کرکے ہمیں اس وقت کا انتظار کرنا چاہئے جب علمائے دیوبند جرات واقدام کی مزید بلندیوں کو پار کرتے ہوئے قدیم علمائے دیوبند کے عقائد باطلہ مثلا امکان کذب الہی، خاتمیت مصطفی ﷺ کی افضلیت کا انکار، علم غیب مصطفی ﷺ کی جانوروں اور پاگلوں سے تشبیہ، وغیرہ جیسی خطرناک قسم کی عبارتوں میں بے جا تاویل وتصرف کی بجائے کم از کم مشتبہات امور سے پرہیز کرتے ہوئے ان باطل عقائد سے برات کا اعلان کرکے تاریخ ساز اقدام کریں گے۔
ہمیں امید ہے کہ اگر موجودہ علمائے دیوبند کے نعرہ چشتیت میں اخلاص ہو گا تو قدیم علمائے دیوبند کے مذکورہ بالا بے ہودہ قسم کے باطل عقائد سے برات کا اعلان ضرور کریں گے۔
دو رنگی چھوڑ دے اک رنگ ہوجا

سراسر موم یا پھر سنگ ہوج

सुनहरे बोल : हज़रत सय्यद मखदूम अशरफ जहाँगीर सिम्नानी रहमतुल्लाह तआला अलैहि

 4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

اقوال زریں 
تارک السلطنت حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ایمان و توحید کے بعد بندہ پر سب سے پہلے عقائد حقہ شریعہ کا جاننا فرض ہے۔
علم حاصل کرو کہ زاہد بے علم شیطان کا تابعدار ہوتاہے اور عابد بے فقہ کمہار کے گدھوں کی طرح ہے۔
علم ایک چمکتا ہو اآفتاب ہے اور تمام ہنر اس کی شعائیں ہیں۔
خدا کا دوست جاہل نہیں ہوتا۔
عالم بے عمل ایساہے جیسے بے قلعی کا آئینہ۔
عالم دین اورعالم دنیا میں فرق وہی ہے جو کھرے اورکھوٹے چاندی میں ہوتاہے۔
جاننا شریعت ہے ، جاننے کے مطابق عمل کرنا طریقت ہے اور دونوں کے مقصود ہوتو ان کا حاصل کرنا حقیقت ہے۔
جو شخص بے محل علمی گفتگو کرتا ہے تو اسکے کلام کے نور کا دو حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔
اگر کوئی جان لے کہ اب اسکی زندگی میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گئے تو چاہیئے کہ علم فقہ میں مشغول ہوجائے کیونکہ علوم دین سے ایک مسئلہ جان لینا ہزار رکعت سے افضل ہے۔
کسی کو حقارت سے نہ دیکھو اس لئے کہ بہت سے خداکے دوست اس میں چھپے رہتے ہیں۔
سلوک میں اگربارگاہ نبوی و سرکارمصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری واطاعت کے راستے سے کچھ بھی انحراف ہو تو منزل مقصود تک پہونچنا ممکن نہیں۔
بند وں کے دل میں اللہ کی محبت پیدا کرنا اور ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی دوستی میں مستغرق کرنا مشائخ طریقت کا کام ہے۔
پیر وہ ہونا چاہیئے کہ طالبان طریقت و سلوک کی ایک جماعت نے اس کی تربیت کی پناہ میں اور احباب اس کی درگاہ حمایت میں اپنے مقصود کو پہونچی ہو۔
ولی وہ ہے جس کا دل حق سبحانہ وتعالیٰ سے انس رکھیاور غیرحق سے متواحش اور گریزاں ہو۔
شرط ولی یہ ہے کہ گناہوں سے محفوظ ہو جس طرح نبی کی شرط یہ ہے کہ معصوم ہواور جس کسی پر بھی ازراہ شریعت اعتراض ہو پس وہ مغرور اور فریب خوردہ ہے ولی نہیں ہے۔
ہر بزرگ کی کوئی بات یاد کرلو اگریہ نہ ہوسکے تو ان کے نام ہی یاد کرلو کہ اس سے نفع پاؤگے۔
؂اگر علم کا چراغ ولی کے دل میں نہ ہو تو اسے شر کی خبر نہیں ہوسکتی اور وہ صحرائے ظلمت اور دشت کدورت میں مارا مارا پھرتا رہیگا۔
صالحین کا ذکر اورعارفین کا تذکرہ ایک نور ہیجو ہدایت طلب کرنے والوں پر ضوء4 فگن رہتاہے۔
شیخ طبیب حاذق اور تجربہ کارحکیم کی طرح ہے جو ہر مریض کا علاج اور اس کی دوا اس کے مزاج کے مطابق تجویز کرتاہے۔
جس شخص کا قدم شریعت میں جم جائے گا طریقت کا راستہ خودبخود کھل جائے گا اور جب شریعت کے ساتھ طریقت حاصل ہوجائے گی تو حقیقت کی تجلی خود بخود رونما ہوجائے گی۔
صوفی وہ ہے جو صفات الہیہ سے سوائے صفت وجوب (وجب الوجود) اور قدم موصوف ہو۔
اگر کسی صوفی کو دیکھو اور وہ تمہاری نظر میں نہ جچے تو اس کو ذلیل نہ سمجھوکہ یہ محرومی اورحجاب کی دلیل ہے۔
حسن خلق اس بلند پایہ گروہ یعنی صوفیہ کی خاص خصلت ہے جو انہیں ہی زیب دیتی ہے کہ یہ حق کے زیور اور کلام کے لباس سیروشن ہوتیہیں تمام اقوال وافعال میں صوفی کی نظر چونکہ حق تعالیٰ پر ہوتی ہے۔ اس لئے لازم آتاہے کہ وہ تمام مخلوق سے خوش اخلاق کا برتاؤ کرے۔ اگر شریعت کیمطابق کسی محل پر سختی درکارہے تو سختی کرے ، لیکن باطن کے مطابق اسی وقت اللہ سیمغفرت طلب کرے۔
شیخ کے لئے ضروری ہے کہ وہ مرید کے احوال سے واقف ہو ، ترک دنیا اور تنہائی کے علوم کا عالم ہو تاکہ اس کی خیر خواہی کرسکے اور مرید کو راہ راست دکھا سکے۔ اس کے حال کے مناسب اس کو اس راہ کے خطرات اور فسادات سے آگاہ کرسکے۔ اگر شیخ اس اوصاف مذکورہ سے متصف نہیں ہوگا تو اس کی پیروی کرنا کس طرح جائز ہوسکتاہے۔ اور ان سے کلاہ حاصل کرنا کس طرح روا ہوسکتا ہے۔
مرید کے لئے ایک شیخ کامل ضروری ہے جس کی اقتداء4 کی جائے کیونکہ وہ رفیق سفر ہے اور جا ن لو کہ اس امر کے لئے کسوٹی اور معیار ہے اور وہ قرآن و حدیث و اجماع امت با ایمان ہے تو جو معیار کے موافق ہوا اور کسوٹی سے کھرا اور آمیزش سے صاف نکلا تو وہ ٹھیک ہے اور جو اس کے خلاف ہوا وہ فاسد اور بے کار ہے۔
شیخ کو چاہئے کہ مرید کا بیکار اور غلط کاموں کا مواخدہ کرے۔ خواہ وہ کم ہویا ذیادہ۔ صغیر ہو یا کبیر۔ اس سلسلہ میں مواخذ ہ کو نظر انداز نہ کرے اور تساہل کو روزانہ رکھے۔
پاک غذا ایک بیج کی طرح ہے جو معدہ کی زمین میں بویا جاتا ہیاگر وہ بیج پاک اورحلال غداکا ہے تواس سے اعمال صالحہ کا درخت پیدا ہوگا اور اگر مشتبہ روزی کا بیج بویا گیا ہے تو اس خطرات فاسدہ اور عبادت میں کسائل پیدا ہوگی یعنی عبادت میں سستی اور دل میں وسوسے پیدا ہوں گے اور اگر حرام روزی ہے تو معصیت و نافرمانی کا درخت نشودنما پائے گا۔
مرید کو چاہیئے کہ اس کا مقصود ومراد اپنے پیر کے سوا کوئی نہ ہو اور سارا مقصد اس کا ، ذاتِ شیخ کے سوا کچھ نہ ہو کیو نکہ شیخ کی صورت میں حق تعالیٰ کی تجلیاں ہیاور جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے گمراہ کردے۔یہ اللہ تعالی ٰ کی شان ہے پیر بیچ میں سبب ہونے سے زیادہ کچھ نہیں ہے

अजमेर का गठबंधन: कहानी या हक़ीक़त : मौलाना सय्यद आलमगीर अशरफ

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

اجمیر کا اتحاد: فسانہ یا حقیقت
مولاناسیدعالمگیر اشرف
۱۳؍نومبر۲۰۱۶ ؁ء کو اجمیر میں جمیعۃ علماء ہند کی جانب سے ہونے والے ۳۳ ویں اجلاس میں جمیعہ کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی اور بریلی سے مولانا توقیر رضا خان کے ہاتھوں بڑے اتحاد کا اعلان کیا گیا۔ اس سے پہلے جمیعت اپنے آپ کو وہابیت سے الگ کر کے صوفیت کے رنگ میں رنگنے کی بات کہہ چکی ہے۔ اس اجلاس سے پہلے تیاری نشستوں میں سے ایک میں، جو راجستھان میں منعقد کی گئی تھی اس میں اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ وہ وہابی نہیں بلکہ صوفی ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے ہندوستانی صوفی بزرگ حضرت سید معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات و خدمات کا بھی اعتراف کیا گیا تھا۔ ہندوستانی مسلمانوں کے اسلام کا مرکز سرکار غریب نواز علیہ الرحمہ کا آستانہ بتایا گیا۔ اس کے ساتھ یہ بھی عہد کیا گیا کہ اس عظیم بزرگ کی خدمات کو سا ری دنیا میں نشر کرنے کی ضرورت ہے.۔ یہ بھی اعلان ہوا تھا کہ جمیعۃ کی جانب سے پہلی بار اپنے اجلاس میں خانقاہوں کے سجادگان، درگاہوں کے ذمہ داران اور آستانوں کے متولیان کو دعوت دی جائے گی اور پہلی بار نعتیہ کلام بھی جمیعۃ کے اجلاس میں شریک کیا جائے گا۔ اجلاس سے پہلے کے یہ اعلانات شاید اہل سنّت و جماعت کے قریب آنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں تھی۔ اس کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کو بھی یہ باور کرانا ہے کہ ابھی بھی مسلمانوں میں ہماری مقبولیت ہے اور ہم ہی ان کے سودا گر ہیں۔ کیونکہ جہاں ایک طرف بریلی اور دیوبند کا اتحاد ہوا وہیں دوسری طرف دونوں ہی کے سیاسی و مذہبی آقاؤں کو خوش رکھنے کی بھی سازش کی گئی۔ یعنی دو کشتی میں پیر رکھ کر منزل تک دوگنی رفتار میں پہنچنے کا خواب دیکھا گیا۔ جس کا شرمندہ تعبیر نہ ہونا فطری ہے۔ بریلی اور دیوبند کے اس اتحاد پر بے تحاشا خوشی کا اظہار کرنے کو جی چاہتا ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی خیال آتا ہے کہ یہ اتحاد کتنا دیر پا ہے یا کتنا مقبول ہے۔ خود پوری دنیائے وہابیت کیا اس جعلی اتحاد کو ہضم کر پائے گی؟ وہابی اکابرین کے ان افکار و نظریات کا کیا ہوگا جن کی بنیاد ہی صوفی اور تصوّف مخالف ہے. دنیائے اسلام کا پہلا وہ شخص جس نے اسلامی بنیادوں کو ذاتی مفاد، اقتدار کی ہوس، دولت و شہرت کی بھوک کے بدلے بیچ دیا. اسلام کی اس تعریف کو ہی بدل دیا جس کی بنیاد امن و محبّت، بھائی چارگی اور رواداری پر رکھی گئی۔ بنام مسلم اس پہلے دہشت گرد ابن عبد الوہاب نجدی نے ایک نئے اسلام کو متعارف کرایا جس کی بنیاد نفرت و تشدّد اور دہشت و وحشت پر رکھی گئی. اب ان دو مخالف فکروں کا اتحاد قوم مسلم پر کیا اثر ڈالے گا؟ بہ شمول ہندوستان پوری دنیا بالخصوص عرب ممالک اس اتحاد کو کس نظریے سے دیکھیں گے یہ ایک قابل غور پہلو ہوگا۔
اس اتحاد کو سیاسی ، سماجی، مذہبی یامعاشی کس اتحاد کا نام دیا جائے، تھوڑا مشکل کام ہے۔جمیعۃ علما ہند میں یقین رکھنے والے افراد و جماعت کیلئے بھی یہ ایک مشکل ترین مرحلہ ہے۔ اس فکر کو موجودہ شکل میں پیدا ہوئے ابھی ۲۰۰ سال ہی ہوئے ہونگے۔ ہندوستان میں اس کی آمد سو سے ڈیڑھ سو سال کی ہی ہے۔ اب ان برسوں میں جن مسلمانوں کو اس فکر کا شکار کیا گیا، اس کی بنیاد صوفی، تصوّف، خانقاہیں، درگاہیں اور امام بارگاہیں ہیں۔ مسلمانوں کو ان جگہوں سے دور کرنے کیلئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے گئے۔ تحریریں اور تقریریں وجود میں آئیں. آہستہ آہستہ پوری دنیا میں اسلام ہی کے ماننے والوں کے درمیان میں خود مسلمانوں ہی کے خلاف ایک نئی فکر پیدا کردی گئی۔ جس کا نام وہابیت ہے۔ آج جب فکر وہابیت پوری دنیا میں بدنام ہو چکی ہے تو اپنے اپنے دامن کو پاک صاف کرنے کیلئے اس اتحاد کو انجام دیا گیا۔
اب بڑی مشکل ان افراد و جماعت کیلئے ہے جنہوں نے اس نئی فکر کے ہاتھوں اپنی عقیدت کا سودا کر لیا ہے۔ ان کے لئے تو آگے خندق پیچھے کھائی جیسا معاملہ ہے۔ جن عقائد و نظریات سے توبہ و استغفار کرا کر اس نئے فرقہ میں شامل کیا گیا تھا۔ اب پھر سے اسی کی جانب لوٹایا جا رہا ہے۔ یا اس فکر کے حامل اکابرین اور ذمہ دار خود اسی عقیدے میں شمولیت کی بات کر رہے ہیں۔ اگر پھر سے صوفی خانقاہ اور درگاہ ہی پناہ گاہ ہے تو پھر اس کو شرک و بدعت کہہ کر اس کی مذمّت اور برائی کرنے کا عمل کس خانے میں ہوگا؟ اب وہ لوگ کہاں جائیں گے؟ اپنے آپ کو کس سے منسوب کریں گے؟ ہمیں ہمارے ہی بھائیوں سے الگ کر دیا گیا۔ہمیں اپنے ہی آباء و اجداد کو کافر مشرک کہنے پر مجبور کیا گیا۔ وہابی فکر و خیال کو اپنانے سے پہلے کی زندگی کو کفر کی زندگی اور سارے اعمال کو بے کار بلکہ گناہ میں بتایا گیا۔ اب پھر جنہوں نے ہمیں دعوت و ہدایت دینے کا ڈھونگ رچا تھا خود بھی وہی عمل کرتے نظر آ رہے ہیں تو ایسے لوگوں کو کیا کہا جائے؟ کیا اسے دینی خدمت کہا جا سکتا ہے؟ کیایہی دعوت و تبلیغ ہے؟ کم سے کم نبوی تبلیغ تو نہیں ہے.۔وہاں کفر و گمرہی کی ظلمت و تاریکی سے نکال کر معرفت و ہدایت کی روشنی عطا کی گئی تھی لیکن یہاں تو ایمان سے کفر کا سفر کرایا گیا ہے. نیکی سے بدی کا راستہ دکھایا گیا۔ ہدایت پر تھے، گمراہ کیا گیا ہے، وہ بھی دین اسلام کی دعوت و تبلیغ کے نام پر ایسا کیا گیا.۔جمیعۃ اور تمام اکابرین دیوبند و جملہ حاملین فکر وہابیت کیا اس بات کا کوئی جواب رکھتے ہیں؟ اس اتحاد سے سب سے زیادہ ان مسلمانو ں کو خوشی ہوگی جو کم سے کم روزانہ ایک دوسرے کی فکر و نظر کے خلاف احتجاج اور مظاہرے میں کھڑے ہونے سے نجات حاصل کر پائیں گے. تو کیا اب دونوں ہی مکتب فکر کے ذمہ داران اپنی ان تحریروں، تقریروں، عقائد و نظریات سے برأت کا اظہار کریں گے؟؟؟
اہل سنّت و جماعت سے اس وہابی فکر کا اختلاف عقیدہ و ایمان پر مبنی ہے. اہل سنت کی روایتوں سے بھی اختلاف ہے. “خدا جھوٹ بول سکتا ہے”، “پیغمبر اسلام کو پیٹھ پیچھے اور دیوار کے پیچھے کا علم نہیں”. ” دوران نماز نبی کا خیال آنے سے نماز نہیں ہوگی البتہ اگر کسی جانور کا خیال آ جائے تو نماز ہو جائے گی”، “ایک بندہ عبادت میں نبی سے آگے بڑھ سکتا ہے”، “نبی مر کر مٹی میں مل گئے”، “نبی ہم جیسے بشر ہیں” (معاذ اللہ) ان عقیدوں کے حامل وہابی افراد و جماعت و افراد کا اتحاد کسی بھی مسلمان کے ساتھ کیسے ہو سکتا ہے؟ مذہبی اتحاد تو ممکن نہیں البتہ سیاسی و سماجی اتحاد تو کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے پہلے وہ موقف طے کرنے ہونگے اور ہر مکتب فکر کو ایک ساتھ بٹھانا ہوگا.۔ہر گروپ اور گروہ کی نمائندگی ہو.۔اس کے بعد کسی بھی موقف کیلئے ایک لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
اب اس طرح کے عقائد و نظریات کے حاملین اگر اچانک سو سال پرانے افکار و خیالات سے زبانی دست برداری کا اعلان کر دیں تو فوری یقین غیر فطری ہے۔ سب سے پہلے پرانے عقائد سے توبہ لازمی ہے. یوں تو رب کریم سب کچھ جانتا ہے. وہ و دلوں میں چھپے ہوئے راز سے با خبر ہے۔ لیکن وہابی فکر نے ہمیشہ منافقانہ راستہ اختیار کیا ہے. جب بھی گرفت میں آئے ہیں اپنا نام اور اپنی پہچان تبدیل کر لی ہے۔ ایک نئی شناخت کے ساتھ امت مسلمہ کو دھوکہ دینے آ گئے ہیں اسلئے صرف زبانی جمع خرچ سے داغ دھلنے والے نہیں ہیں.۔اگر واقعی گھر واپسی کا ارادہ ہے تو مکمّل طریقے سے گھر واپسی کی جائے۔ اہل سنت اسلام مخالف عقائد سے دلی توبہ کر کے صوفی اور تصوّف کا دامن پکڑ لیا جائے۔ ان اکا برین کا بھی کلی بائیکاٹ کیا جائے جنہوں نے دین کے نام پر مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ ان تحریروں کو آگ لگادی جائے جس میں اسلام مخالف فکر موجود ہے۔ پوری دنیا میں اسلام کو بدنام کرنے والے دہشت گردوں کی فکروں کو بھی مل کر رد کیا جائے۔ کھلے دل سے اسلام میں یقین رکھا جائے۔
اجمیر میں ملنے والے ہاتھوں سے اگر واقعی میں اتحاد ہوتا ہے تو مجوزہ بالا تمام مشوروں پر عمل کیا جائے گا۔ تبھی اس اتحاد کا مطلب سمجھ میںآئے گا.۔ورنہ سوائے مذہبی، سیاسی و سماجی سودا گری اور ناٹک نوٹنکی کے اجلاس اور اتحاد کوئی معنی نہیں رکھتا۔

आल इंडिया उलमा व मशाईख़ बोर्ड, ज़रूरत और महत्व:मौलाना कैसर रज़ा अल्वी, हनफी, मदारी

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

प्रवक्ता: खानक़ाह मदारिया मकनपुर शरीफ और अध्यापक जामिया अज़ीज़िया अहले सुन्नत (ज़ियाउल इस्लाम झेहराऊँ, ज़िला सिद्धार्थ नगर, यूपी)

آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ ،ضرورت و اہمیت

مولانا محمد قیصر رضا علوی حنفی مداری ۔ترجمان خانقاہ مداریہ مکن پورشریف وخادم درس جامعہ عزیزیہ اہلسنت ضیاء الاسلام جھہراؤں،ضلع سدھارتھ نگر(یوپی
اہلسنت والجماعت سے تعلق رکھنے والا ہر ذی شعور فرد یہ بات جانتا ہے کہ آزادئ ملک و تقسیم وطن کے بعد اہلسنت کی مذہبی و سماجی وسیاسی قیادت ہر میدان میں کمزور ہو گئی اور ہر محاذ پر مخالفین اہلسنت مضبوط قائد کی شکل میں نظر آ ئے۔
جماعت ایک سے بڑھ کر ایک ذی علم و حکمت صاحب بصیرت شخصیات سے ہمیشہ مالا مال رہی ، مومنانہ فہم وفراست ، قائدانہ صلاحیت ولیاقت رکھنے والے افراد ہمیشہ جماعت کو میسر رہے ، باوجود اس کے جماعت کے اکابر اس سمت متوجہ نہیں ہو ئے ، اس پر ہم کو ئی تبصرہ نہیں کر یں گے ۔ البتہ اتنا ضرور کہیں گے کہ اس میں ان کی متقیانہ سوچ ہی سنگ راہ رہی ہوگی ۔ اب یہ الگ بات ہے کہ مذہبی و سماجی و سیاسی میدان کی قیادت تقویٰ کے ساتھ بھی ممکن ہے ۔ آزادئ ملک سے قبل اکابرین اہلسنت ہی ہر میدان میں قائد رہے ، جبکہ ان کا تقویٰ آج تک ضر ب المثل ہے ۔
ملک کی آزادی و تقسیم کا ری کے بعد قیادت کھو جا نے کی وجہ سے جماعت کو جن نقصانات سے دو چار ہونا پڑا ہے ان کی لسٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، بس اس قدر کہہ دینا ہی کافی ہے کہ ’’جو سب کچھ تھے وہ صرف کچھ ہو کر رہ گئے اور جو صرف کچھ تھے وہ سب کچھ ہو گئے ‘‘ ماضی قریب کے کچھ علماء اہل سنت نے اس جانب پیش قدمی کی ہمت کی بھی تو انہیں یہ کہہ کر دبا دیا گیا کہ میاں ! دینداری سماجی وسیا سی قیادت سے الگ چیز ہے ، یہ دونوں یکجا نہیں ہو سکتے ، اس طور سے وہ بعض حضرات بھی رک گئے اور مخالفین اہلسنت ہر مقام پر ٹانگیں پھیلا ئے بیٹھے رہے اور انہیں بڑھنے ،پنپنے کا مزید موقع فراہم ہو تا رہا ، درون ملک یہی بد مذہب علماء ہی مسلمانان ہند کے رہبر و پیشوا تسلیم کئے جا تے رہے اور بیرون ملک بھی ہندوستانی مسلمانوں کا رہبر و لیڈر انہیں کو تسلیم کر لیا گیا ۔ متذکرہ تمام حالات و معاملات سے واقفیت و آگاہی کے باوجود سواد اعظم اہلسنت وجماعت کے بڑے بڑے دینی اداروں کے اساتذہ واراکین اور عظیم و قدیم خانقاہوں کے صاحبان خرقہ و مسند نشین سب کے سب مہر بہ لب رہے ، کسی نے اس عظیم خسارے سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں نکالا ، سب اپنے آپ میں مست و مگن نظر آئے ، سال بھر میں اپنے معتقدوں کے جھرمٹ میں دس بیس جلسے جس نے کر لئے وہ یہ سمجھ بیٹھا کہ ہم نے ہر محاذ و مہم کو سرکر لیا اور پھر خوش فہمیوں کے انہیں بھول بھلیّوں میں زندگی کی صبح و شام گذرتی رہی اوراہل حق یعنی اہل سنت وجماعت نقصانات کے دہانے تک پہونچ گئے ۔ یہی حالات و معاملات تھے کہ :
۲۰۰۵ ؁ء کی ایک مسعود و مبارک ساعت میں خانقاہ اشرفیہ کچھوچھہ مقدسہ کے ایک بلند اقبال و بلند خیال ذی شعور و ذی وقار صاحب علم و حلم فہم مسلمانہ و فراست مومنانہ سے مزین قائدانہ صلاحیتوں سے بھر پور اخلاق واخلاص سے معمور ایک شہزادے نے اہلسنت کو مزید نقصانات سے بچانے اور ستر سالہ خسارے کی بھر پائی اور پھر ہر محاذ پر اہلسنت کی سربراہی وقیادت درج کرانے کی عرض سے ایک عظیم ترین انقلابی تحریک بنام ’’آل انڈیا علما ء ومشائخ بورڈ‘‘کی بنیاد رکھدی اور اس عظیم تحریک میں شرکت و شمولیت کا دعوت نامہ ہر سنی خانقاہ و درسگاہ و تنظیم کو بھیج دیا۔
اخلاص کی پاکیزگی ، اخلاق کی طہارت کی برکتوں سے ننانوے فیصد سنی خانقاہوں نے اس تحریک کو قبول کیا اور جو ق در جوق شامل ہو نے لگے اور پھر معاملہ یہ ہوا کہ
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ آتے ہی گئے اور کارواں بنتا گیا
اس عظیم ترین تحریک کا بانی ہونے کا شرف جسے حاصل ہوا وہ شہزادۂ فخر رسولاں ، لختِ دل مخدوم سمناں ، قائد ہند، اشرف ملت ، حضرت علامہ و مولانا الحاج پیر صوفی سید محمداشرفؔ الاشرفی الجیلانی مدظلہ العالی کی ذات با برکات ہے ۔
حضرت با برکت حضور اشرف ملت نے تحریک کی بنیاد رکھنے کے بعد پورے ملک کی سنی خانقاہوں و دینی درسگاہوں کا دورہ کیا اور ان کے ذمہ دار افراد سے ملاقات کی اور اپنے مقاصد و عزائم سے ان سب کو آگاہ فرمایا جسے سن کر اہل خانقاہ و مدارس کے دل خوشیوں سے جھوم اٹھے اور سب نے اس عظیم تحریک میں شامل ہونے کو اپنے لئے فخر و سعادت محسوس کی ۔ آج بحمدہٖ تعالیٰ تمام مشائخ طریقت و علمائے اہلسنت کے بے لوث تعاون کے سبب یہ تحریک ملک کی پندرہ ریاستوں میں اپنے بنیادی مقاصد کی حصولیابی کے لئے سر گرم عمل ہے ۔ نیز تین بیرون ممالک میں بھی اس کی شاخیں قائم ہو کر اس کے فلاحی خطوط پر کام کر رہی ہیں ۔
اس تحریک کے بنیادی مقاصد میں مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کی طر ف سے شروع کئے گئے ترقیاتی اور فلاحی پروگراموں ، پالیسیوں ، اور پیکجوں میں صوفی سنی مسلمانوں کو انکا جائز حصہ دلانے کے لئے اور ہندوستانی معاشرے کی سماجی واقتصادی و تعلیمی اور سیاسی زندگی میں ان کو انکا جائز مقام دلانے کے لئے کوششیں کرنا نیز تمام خانقاہوں ،درگاہوں ،مسجدوں ، مدرسوں کو محبت و رواداری ، رحم دلی اور روحانیت کے مراکز کے طور پر فروغ دینا ہے ، اس ضمن میں آ ل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ اپنے قیام سے لے کر اب تک اپنے مقاصد و عزائم کی تکمیل کے لئے مسلسل سر گرم عمل ہے جن کے تحت یوپی ، کرناٹک ، راجستھان ، گجرات ، بہار ،مغربی بنگال ، جھارکھنڈ، چھتیس گڈھ ،جموں و کشمیر اور اسی طرح ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں کئی اہم اجلاس کامیابی کے ساتھ منعقد ہو چکے ہیں ، نمایاں پروگراموں میں :
(۱) سنی کانفرنس مرادآباد ،۳؍ جنوری ۲۰۱۰ ؁ء
(۲) سنی کانفرنس بھاگل پور، ۱۶؍مئی ۲۰۱۰ ؁ء
(۳)مظاہرہ ،جنتر منتر دہلی ،۱۴؍ جنوری ۲۰۱۰ ؁ء
(۴) مسلم مہا پنچایت مرادآباد،۱۶؍ اکتوبر ۲۰۱۱ ؁ء
(۵)مسلم مہا پنچایت بیکانیرراجستھان، ۱۰؍ فروری ۲۰۱۳ ؁ء
(۶) سنی کانفرنس جگدیش پور امیٹھی، ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۴ ؁ء
خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔
آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ نے مذکورہ بالا پروگراموں کے بعد ایک انقلابی قدم اٹھایا اور ملک کی راجدھانی دہلی میں ورلڈ صوفی فورم کے نام سے ایک انتہائی کامیاب پروگرام کیا جو کہ ہندوستان کی تاریخ میں قطعی محتاج مثال ہے ’’ورلڈ صوفی فورم‘‘ یہ نام ہی انٹرنیشنل پیمانے پر اپنی وسیع منصوبہ بندی کو بتانے کے لئے کافی ہے ۔متذکرہ ورلڈ صوفی فورم کے پروگرامات کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:
افتتاحی تقریب ۱۷؍ مارچ ۲۰۱۶ ؁ء کو وگیان بھون میں منعقد ہوئی ،پھر ۱۸؍ اور ۱۹؍ مارچ ۲۰۱۶ ؁ء کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں انٹرنیشل سیمینار منعقد ہوا ۔ جبکہ آخری عوامی اجلاس بعنوان انٹرنیشنل صوفی کانفرنس دہلی کے مشہور رام لیلا میدان میں ہوا جس میں بے شمار افراد و اشخاص نے شرکت کی ۔
دانشوران قوم و ہمدرد ان اہلسنت : آپ بخوبی جانتے ہیں کہ اہلسنت وجماعت میں تحریکوں اور تنظیموں کی کمی نہیں ہے مگر ساتھ ہی ساتھ آپ تمام تحریکوں اور تنظیموں کی وسعتوں و ایجنڈوں وعزائم ومنصوبوں سے بھی واقف ہیں اور آپ کو یہ بھی معلوم ہیکہ جن عظیم مقاصد کے تحت آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کام کر رہا ہے وہ بالکل محتاج مثال ہے ، اپنے عزائم اور نکاتی منصوبوں کی بنیاد پر یہ تحریک تمام تنظیموں اور تحریکوں سے قطعی جدا گانہ نوعیت کی حامل ہے ۔ اور یہ بھی سچائی ہے کہ کسی بھی تحریک کے بانی و عہدیداران آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کے بانی و عہدیداران جیسی کھلی فکر کے حامل نہیں ہیں ، اس تحریک نے اب تک جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ بھی بالکل منفرد المثال ہیں اور یہ بھی سچا ئی ہے کہ اس تحریک سے تمام باطل افکار و نظریات کی حامل شخصیات و تحریکات خوفزدہ ہیں ، کیونکہ اس تحریک نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ فروغ دین اسلام و اشاعت سنیت و تحفظ اقدار انسانیت ،محبت و رواداری ، دعوت امن وامان جیسے بہتر و عمدہ اوصاف کا سب سے زیادہ حصہ اگر صحیح معنوں میں کسی مسلمان کے اندر دیکھنا ہے تو اس سلسلے میں سب پر فوقیت رکھنے والے وہ افراد ہیں جن کا تعلق خانقاہیت و درگا ہیت و صوفی ازم سے ہے اور یہی حضرات صحیح منعوں میں اہلسنت وجماعت ہیں ، وفاداران اہلسنت یہ بات بھی بخوبی جانتے ہیں کہ ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط کے بعد وہی لوگ بورڈ پر رہے جو فرنگی حکمرانوں کے چاپلوس اور پٹھو تھے ، فرنگیوں کے دور اقتدار میں جن خاندانوں کے افراد اپنی چاپلوسی کی بدولت مسلمانوں کے نام نہاد پیشوا بن گئے تھے ، بد قسمتی سے ان کا تسلسل پیشوائی اب تک باقی ہے اور یہ سارے لوگ ہر آ ئے دن اپنے نفرت کی کلہاڑی سے شجر اہلسنت کی شاخیں کاٹ کاٹ کر اشجار اہلسنت کو بے برگ کر دینے پر آمادہ ہیں ، ایسے تمام عناصر نہ تو اہلسنت کے لئے فائدہ بخش ہیں اور نہ ہی ملک کے لئے وفادار ، اسی لئے حضور اشرف ملت نے یہ انقلابی قدم اٹھا یا ہے تاکہ سوداگران ملت سے عامۃ المسلمین اور وطن عزیز کو نجا ت دلائی جا سکے ، موجودہ مذہبی و ملکی حالات تمام ہمدردان انسانیت واسلام و سنیت سے اس بات کے شدید متقاضی ہیں کہ ہر فرد اہلسنت پورے اخلاص کے ساتھ آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کی کامیابیوں کا حصہ بنے اور تحریک کی ہر فلاحی آواز پر لبیک کہے ۔ کیونکہ ۱۲،۱۳؍ نومبر ۲۰۱۶ ؁ء کو اجمیر معلی کی سر زمین پر دیوبندی جماعت کی جانب سے جو اجلاس عام منعقد ہوا وہ ببانگ دہل اعلان کر رہا ہے کہ سنی دنیا کی ہر شاہراہ پر ایمان لوٹنے والے ٹھگ انتہائی عیّارانہ شکل و شباہیت میں بیٹھ چکے ہیں اور عوام اہلسنت کی ایمانی پونجی پر مکمل طریقے سے ہاتھ صاف کرنا چاہتے ہیں ، اس ضمن میں ایک انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہیکہ ان ٹھگوں سے دو حاضر کے نام نہاد سنی رہنما بھی مل چکے ہیں جو کہ اتحا د واتفاق کے ذریعے فلاح مسلمین کے نام پر عوام اہلسنت کو وہابیت کے منہ میں جھونکنا چاہتے ہیں ، کیونکہ اجمیر شریف میں اجلاس عام کرنے والے دیوبندی ٹھگوں کے ان دلالوں کو منہ مانگی اجرت ملے گی ۔ اسی لئے اس طرح کے تمام سوداگر اس معاملے میں کامیابی کے لئے حیرت ناک طور پر سر گرم عمل ہیں ۔ راقم السطور بالکل صاف صاف لفظوں میں تمام محبان اہلسنت سے عرض کرنا چاہتا ہے کہ اب جماعت اہلسنت کے تمام علماء و دانشوران ہوش کے ناخن لیں اور سنیت کے دوستوں و دشمنوں کو پہچاننے کی کوشش کریں ، میری رائے کے مطابق اجمیر شریف میں دیوبندیوں کا اجلاس عام وابستگان اہلسنت کے لئے ایک عظیم حادثہ ہے اور اس حادثے سے آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کے تمام اراکین ہر ممکن ذرائع سے تحفظ سنیت کے لئے کوشاں ہیں ۔ گفتگو کے اس موڑ پر ہمدردان اہلسنت سے یہ گذارش ضرور کروں گا کہ آپ غور سے ان نام نہاد سنی مفتیوں و اداروں کوبھی دیکھیں جن کے طبعی فتاؤں کی مار سے ہر سنی خانقاہ و تنظیم کراہ رہی ہے ۔اجمیر شریف میں ہو نے والے اس عظیم سانحے کے بعد انکا ردّ عمل کیا رہا ؟ فتویٰ باز مفتیوں کے کتنے فتاوے دیوبندیوں اور ان کے دلالوں کے خلاف منظر عام پر آ ئے؟؟ انہوں نے ان کے خلاف کتنے جلسے اور پروگرامات منعقد کئے؟
لہٰذا اس صورت حال میں اب تمام اہلسنت آگے بڑھیں اور آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کو مضبوط کریں تاکہ بزرگان دین واولیائے کاملین کے ذریعہ پھیلائے ہو ئے مذہب و مسلک اور تمام مذہبی مقامات و آثار کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے ، کیونکہ جب بھی اس قسم کے نا گفتہ بہ حالات پیدا ہو ئے ہیں تو ارباب تصوف نے ہی آگے بڑھ کر انکا مقابلہ کیا ہے اور وہی آج بھی ہو گا

Seminar: “Sufism and Humanity” in Lucknow:4th December

4th December,Lucknow

The All India Ulama & Mashaikh Board, the apex body of the Sufi Sunni Muslims in India, held a national seminar:  “Sufism and Humanity”on 4th December in Vishweshvaraiyah Auditorium in Lucknow.

dsc_6231 dsc_6099

Sufi Sunni ulema and intellectuals with various backgrounds spelled-out their opinions on the current ongoings. Several Indian Sufi clerics, who run some of the largest Sunni Islamic seminaries in India, seemed worried about the growing phenomenon of pseudo-Sufism or “neo-Sufism” dressed in diametrically different political forms.

 

The national seminar on Sufism was held in the wake of the recently organised 33rd annual conference of the Jamat Ulama-e-Hind in the largest Sufi shrine in the country, Ajmer Dargah — perhaps for the first time in the Indian history. AIUMB averred that the Ajmer Dargah was dragged into a well-worked-out political campaign by Jamiat-Ulama-i-Hind (JUH), an avowed supporter of the Congress party. The key members of the JUH whose ideologues have clearly and categorically declared Sufism as “anti-Islamic”, chose to hold their 33rd annual conference in the prime Sufi Dargah in India, Ajmer Sharif in Rajasthan. “It was an out-and-out political attempt to woo the mainstream Indian Muslims anchored in age-old Sufi traditions”, said the various participants and speakers at the Sufi seminar in Lucknow.

 

It is noteworthy that the JUH had castigated the Sufi practitioners as “pseudo-Sufis” in the past. Therefore, the Sufi Ulema asked as to “how would the JUH like to brand itself now when it has held its 33rd largest annual conference in Ajmer using the prime Sufi shrine in India for its own political ends”?

 

The Lucknow Sufi seminar’s key participants — 30-40 Khankaah’s representatives present, 200 Ulema’s Attended and in total the auditorium was filled with 1000 person .They exhibited great zeal in strengthening the foundations of Sufism to combat all the forms of violent extremism. 15 Selected Papers were presented by Sufi Scholars.It was widely covered in the Newspapers,Specially Urdu. Few Papers gave special 4 pages in all the editions of there Newspapers.

 

Remarkably, while the Lucknow Sufi seminar stressed on composite nationalism (muttahida qaumiyat), inclusive democracy (jumhuriat) and pluralism (qaumi yakjehati) in its final-day declaration, the annual conclave of the JUH in Ajmer promoted the religionist and sectarian narratives.

 

Hazrat Maulana Syed Mohammad Ashraf, founder and president of AIUMB inaugurated the seminar and spoke at length about the misdeeds of Wahhabi/ Salafi elements that are tormenting social fabric in the country and  creating an atmosphere of  confrontation.

He also said that  AIUMB has succeeded in exposing all the Wahhabi/ Salafi elements in India and to such an extent that they are now in the process of recreating their  new identity card. He said that all of a sudden  in a long history of 100 years , Jamiate Ulema e Hind has woken up to claim Hanafi and Chishty tag to save its  reputation which has well been tainted by thier  proclaimations, practices and  presentations.

The books written by Wahhabis in these 10 decades bear testimony of their adherance to wahhaabi ideology and  their strong will to propagate the ideology through speeches, books , curriculum and teaching  and preaching.

Now they are at a loss to remain attached with the tag and want to misguide the people and the government by claiming  to be Sufis. Hazrat Khawaja Moinuddin Chishty was under attack for 100 years and now the great saint of all times has gathered the attention and respect of all those that took pride in hurting Dargah culture for decades.

The seminar was  organised at Vishweshwaraiah auditorium and was well attended function. people from all shades of life and far flung areas  from different parts of country came to attend the seminar. A memorandum was also shared with the administration on the same.

It was also stressed in the Lucknow conclave that Sufism belies all the notions which Salafism stands for. Traversing from Central Asia to the Indian subcontinent, Sufism incorporates harmonious local practices like music and qawwali which are rejected by the radicals in Islam.

Not long ago, in March 2016, World Sufi Forum was slated as the first-ever mega Sufi event of counter-extremism with more than 200 international dignitaries from 20 countries. Though seen as the first and last event as such, it, however, seems to have begun an unending onslaught on the particular ideology which the Sufi forum believes is a grave threat to the country’s pluralistic ethos.