ख्वाजा की नगरी में बरेली और देवबंद का गठबंधन :अब्दुल मोईद अज़हरी

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity
 

خواجہ کی نگری میں بریلی اور دیوبند کا اتحاد 
عبد المعید ازہری

ہندوستانی اسلام و تصوف کا مرکز ، خواجہ کی نگری اجمیر شریف اپنی روحانیت ، انسانیت ، ہمدردی و رواداری کے لئے جانی مانی اور پہچانی جاتی ہے ۔ یہ وہ در ہے جہاں سب کو پناہ ملتی ہے ۔لوگ اپنا گلہ شکوہ بھول کر آپسی میل جول کی مثالیں قائم کرتے ہیںْ۔ اتحاد و اتفاق کا عظیم گہوارہ اجمیر، امیر وغریب کے فرق کو مٹاکر انسانی رشتوں میں انسانی اقدار کی تعظیم و توقیر کا درس دیتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس در غریب نواز پر سبھی اپنی جبین عقیدت بڑی ہی نیاز مندی کے ساتھ جھکاتے ہیں۔بلا تفریق مذہب و ملت، ملک و بیرون ملک سے امن و محبت کی اس فضا کی زیارت کرنے آتے ہیں۔ یہاں کسی کو پھٹکاراور دھتکار نہیں ملتی ہے ۔ سبھی کو گلے لگایا جاتاہے ۔ جنہیں اس فکر و روایت سے محبت ہے انہیں بھی سینے سے لگایا جاتاہے اور جنہیں نفرت ہے ان کا بھی استقبال کیا جاتاہے ۔ غریب نواز کی غریب نوازی کا عملی نمونہ آج بھی اس چوکھٹ پر نظر آتاہے ۔ جہاں سب کو ایک نظر سے دیکھا جاتاہے ۔ مہمان نوازی ، تکریم و توقیر کی سیکڑوں مثالیں آج بھی در غریب نواز سے ملتی ہے ۔ انسانی دلوں سے منافرت کی بیماری کو محبت سے دور کیا جاتا ہے ۔
ایک بار پھر اسی نگر میں ایک ایسے اتحاد کی خبر آئی ہے جس کی باتیں کئی دہائیوں سے کی جارہی تھیں۔ ۱۳ نومبر کو جمیعۃ علماء ہند کے سالانہ اجلاس کے موقعہ پر دیوبند اور بریلی کے درمیان برسوں سے چل رہے تنازع اور اختلاف کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ دیوبند ی فکر کی نمائندگی مولانا محمود مدنی نے کی اور بریلوی مکتبہ فکر کی وکالت مولانا توقیر رضا خان بریلوی نے کی ۔ ان دونوں نے ہی مل کر ایک ایسے مسئلے و موقف کی حمایت و موافقت کر ڈالی جس کے لئے آج پوری امت مسلمہ پریشان ہے ۔یعنی تین طلاق کو غیر اسلامی قرار دے کر موجودہ حکومت کی مشکلوں کو آسان کر دیا ۔ جمیعۃ علماء کے اس سالانہ اجلاس میں تین بڑے کارنامے یا فریب ہوئے ۔ کارنامے اسلئے کہ جس مقصد کیلئے یہ اجلاس ہوا اور جس کے لئے اجمیر کا انتخاب ہو ا ،اس میں خاطر خواہ کامیابی نظر آرہی ہے ۔ فریب اسلئے کہ ان تینوں ہی کاموں سے امت مسلمہ کا کوئی تعلق نہیں بلکہ نقصان عظیم ہے۔اس اجلاس سے نکلنے ولاے نتیجے سوائے فریب ، ریاکاری اور سیاسی سوداگری کے کچھ نہیں ۔ تنخواہ دار مضمون نگار اس بات بڑا کارنامہ ضرور کہہ سکتے ہیں لیکن قوم مسلم کے ذ مہ دار اسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کر سکتے ۔ دونوں ہی مکتب فکر کے لوگوں کا ان معاملات میں اتفاق ممکن نظر نہیں آتا ۔
یہ تو سب جانتے ہیں کہ دیوبند اور جمیعۃ کا تعلق کس فکر سے ہے ۔ اس فکر کو پوری امت مسلمہ کے سامنے اجاگر کرنے کیلئے آل انڈیا علماء و مشائخ بوڈ نے اسی سال مارچ کے مہینے میں ایک بین الاقوامی صوفی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فار م پر لانے کی کوشش کی گئی ۔ اس میں کامیابی بھی ملی ۔ اس اتحاد کے ساتھ پوری دنیا میں اسلام کو بدنام کرنے والے(بنام) اسلامی افکار و نظریات(وہابیت/دہشت گردی) کی پرزور مذمت کی گئی ۔اس عظیم اتحاد کو پوری دنیامیں سراہا گیا لیکن ہندوستان کے دونوں مکتب فکر کے ان دونوں ہی نمائندوں نے اس کانفرنس کی جم کر مخالفت کی تھی ۔ اس مخالت سے انہوں نے اپنی فکراور منشاء لوگوں پر ظاہر کر دی تھی ۔ اس کانفرنس میں چونکہ تصوف اور صوفیاء کو مرکزی حیثیت میں رکھا گیا تھا اس لئے جمیعۃ نے ہندوستانی تصوف کے مرکز اجمیر کو اپنے اجلاس کے لئے منتخب کیا ۔تاکہ تصوف سے وابستگی کو ظاہر کر سکیں۔ پوری دنیا میں ان دونوں ہی فکروں کا وجود نہ کے برابر ہے ۔ ہندوستان میں بھی ان کے وجود و شناخت کو خطرہ لاحق ہو چکا تھا اسلئے دونوں نے اپنی عافیت اسی اتحاد میں سمجھی ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح پوری امت مسلمہ تین (سنی ،وہابی اور شیعہ)فکروں میں بٹی ہوئی ہے ۔ اس کے بعد تینوں میں بھی آپسی اختلافات ہیں۔ الگ مسلک اور مشرب میں منقسم ہیں۔ کبھی کبھی اختلاف کفر شرک تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔آج جس طرح وہابیت پوری دنیا میں سعودی وفاداری میں بے نقاب ہو چکی ہے اسی طرح بریلویت کے بارے میں انکشاف ہوچکا ہے کہ اس نام کا وجود ہندوستان ہی کے چند گوشوں تک محدود ہے ۔ اکثر اہل سنت و جماعت اپنے آپ کو بریلوی کہنا پسند نہیں کرتے ۔ یہاں تک کہ بریلویت جن نے منسوب ہے وہ خود بھی ان باتوں کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ہم بریلوی نہیں ۔ لیکن سیاست سے ہاتھوں بکی ہوئی چند زبانیں اور ان کو عوام میں جبرا رائج و مشہور کر کے دین کی تجارت کر نے والی غیرت و ایمان سے خالی کچھ تحریریں ان دونوں ہی ناموں کو زندہ کئے ہوئے ہیں ۔ سیاسی گلیاروں میں ان کا سودا ہورہا ہے ۔ مارچ کی کانفرنس کے بعد دونوں ہی کو لگا کہ اب وجود خطرے میں ہے اسلئے دونوں نے ہی پہلے تو مخالفت کی اسکے بعد اس کانفرنس کے جواب کیلئے اتحاد کا ناٹک کیا ۔ اس میں سیاسی جماعتوں کی دلچسپیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ پچھلی دہائیوں سے مسلمانوں کو ایک گجرات کے نام سے ڈرا کر اقتدار حاصل کرنے ولای کانگریس نے اپنے تما م تنخواہ داروں کو میدان میں اتار دیا ۔ کانفرنس کے دوران جنہوں نے قلمی دہشت گردی کا نمونہ پیش کیا ۔
جمیعۃ کے اس اجلاس میں دو ذاتی لوگوں کے اتحاد کو دو مکتب فکر کا اتحاد بتایا گیا ہے ۔ جس میں اردو صحافت نے اپنی(متعصب و فروخت) فکر واضح کرتے ہوئے نمک کا حق ادا کیا ۔پوری دیوبندی فکر کیا بریلوی مکتب فکر کے ساتھ اتحاد کرتی ہے ؟ کیا پوری وہابیت جمیعۃ اور محمود مدنی کو اپنا نمائندہ تسلیم کرتی ہے ؟ جب کہ جمیعۃ اس سے پہلے وہابیت سے توبہ کر کے صوفیا کا دامن پکڑنے کا اعلان کر چکی ہے ۔ اگر جمیعۃ صوفی ہو چکی ہے تو اتحاد کیسا ؟ اب تو دونوں بھائی بھائی ہیں ۔تو اتحاد کا رنگ دے کر فریب کیوں رچا گیا ؟اگر وہابی ہی ہیں تو تو صوفیت کا رنگ لگا کر فریب کاری کیوں کی گئی ؟ اب یہ اتحاد کیسا ہے ؟اگر یہ سیاسی اتحاد ہے تو اتحاد نہیں بلکہ سمجھوتہ ہے یعنی ایک دوسرے کے تعلق سے خیالات وہی پرانے ہیں بس سیاسی فائدے کیلئے دونوں ایک ہیں۔ تو ایسی کیا مجبوری ہے جس کیلئے سیاسی اتحاد کی ضرورت پڑ گئی ؟ کس جماعت کی حمایت اور کس پارٹی کی حمایت میں یہ اتحاد کیا گیا ؟ اگر آر ایس ایس اور بی جے پی کے خلاف یہ اتحاد ہے ۔ چونکہ اب ایسے حالات بنتے جارہے ہیں جس میں مسلمانوں اور دلتوں کو دن بہ دن پریشان کیا جا رہا ہے ۔ تو کیا ایسی صورت حال کانگریس کے زمانے میں نہیں آئی تھی؟ ایک وہ دور بھی تھا جب اٹل وہاری باجپائی وزیر اعظم تھے اورلا ل کرشن اڈوالی نائب وزیر اعظم تھے ۔ جس وقت پوٹا جیسا قانون نافذ کر مسلمانوں کو خوف زدہ اور ہراساں کیا گیا۔ بابری مسجد کی شہادت کا حادثہ پورے ملک اور اس جمہوریت پر ایک کالا دھبہ بن گیا تو کیا اس وقت کانگریس سے جڑی وہابی تنظیموں نے کانگریس کے خلاف کو اتحاد قائم کیا تھا ؟
اگر مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی وجہ سے اس اتحاد کی ضرورت ہے تو پھر اسی اسٹیج سے دوسرا بڑا فریب ’تین طلاق کو غیر اسلامی ‘ قرار دینے کا غیر اسلامی عمل کیوں کیا گیا ؟ آج ملک کے کونے کونے کا مسلمان روزانہ احتجاج کرتا ہے ۔ نشستیں قائم کرتا ہے ۔ اسلام اور شریعت کیلئے اپنے علماء کے ساتھ پوی جاں فشانی اور قربانی کے ساتھ کھڑا ہوتاہے ۔ لیکن یہ اتحاد ان تمام کروڑوں مسلمانوں کی قربانیوں کو چند روپیوں میں سیاست کے ہاتھوں بیچ دیتا ہے ۔ تین طلاق اور یکساں سول کوڈ کی لڑائی تو دونوں ہی فریق لڑ رہے ہیں۔ اس میں وہ لوگ بھی ساتھ دے رہے ہیں جو تین طلاق کو نہیں مانتے ۔ لیکن مذہبی آزادی میں دخل اندازای کے خلاف متحد ہیں۔ اسے تو اتحاد کہہ سکتے ہیں۔ لیکن مہینوں سے چلی آرہی مہم کا سودا بڑی بے باکی سے کر دیا ۔ اس پر مزید تماشہ یہ کہ دونوں ہی فریق کے ذمہ داران خاموش ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ، دیو بند اور اس فکر کی حامی تما م تنظیمیں اور ادارے اس پر خاموش ہیں۔ اسی طرح بریلوی مکتب فکر کا بھی پورا کنبہ خاموش ہے ۔ بین الاقوامی صوفی کانفرنس کی قلمی دہشت گردی سے انانیت اور تخریب پر مبنی مخالفت کو جہاد کا نام دینے والے نام نہاد قلم کار یٰس اختر مصباحی کے قلم کو بھی نیند آگئی یا پھر اپنے سیاسی اور دنیا دار آقاؤں کا اشارہ نہ ملنے کی وجہ سے زنگ لگ گئی ۔ فکری و سیاسی اشاروں پر مہم چلانے والے تحریر کے اس سوداگر کا بھی قلم اچانک ٹوٹ گیا ۔کل کی مخالفت کو دین کا نام دینے والے کا دین کیا آج بک گیا؟ پوری دنیائے سنیت پر اپنی مرکزیت تھوپنے والی پوری بریلویت خاموش ہے ۔ خاندان مذہبی اور سیاسی سوداگری کا شکار ہو گیا ۔
ایک کمرے میں دست بوسی اور قدم بوسی کی کی چاپلوسی کو عالمی صوفی مشن کہنے والے اشتیاق ایوبی اور ٹی وی پر زور زور سے چلاکر تہہ خانے میں صوفی کانفرنس کے خلاف میٹنگ کرنے والے مولانا انصار رضا بھی کسی خانہ میں کونہ بگوش حکم آقا کا انتظار کر رہے ہیں۔
شرک ، کفر اور بدعت کی کاروبار کرنے والی وہابیت بھی چپ ہے ۔اس کا بھی احساس دین و شریعت کسی مجبوری ، حکمت ، مصلحت کی نذر ہو گیا ۔ جمیعۃ کے اجلاس سے پہلے شور شرابہ کرنے والوں کو اچانک شانپ سونگھ گیا ۔آخر ایسا کیا ہوگیا کہ ہر طرف سناٹا سا چھا گیا ۔
اس وقت سنجیدہ اور اہل علم و دانش کی نظروں کا مرکز آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ ہے ۔ اس سنجیدہ معاملے پر اس بورڈ کی خاموشی بھی کئی سوال کھڑے کر رہی ہے ۔
پچھلے دس برسوں سے اپنی بے باکی اور حق گوئی کے لئے معترف و مقبول تنظیم بھی اس غیر معمولی مسئلے میں خاموش ہو تا الجھنیں اور بے چینیاں بڑھتی ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے عظیم اتحاد کی تاریخ رقم کرنے والی اس تنظیم سے ابھی امیدیں وابستہ ہیں ۔ امید یہی ہے کہ اس مسئلے میں بورڈ کے صدر و بانی سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کچھ لائحہ عمل ضرور تیار کر لیا ہوگا ۔ اجمیر میں ہونے والے اس اتحاد ، جمیعۃ کے صوفی شجرہ اور تین طلاق کے غیر اسلامی ہونے کے موقف پر دیو بندی اور بریلوی کے متحدہ اعلان پر اس بورڈ کے موقف کا انتظارہے ۔
*****

اجمیر میں جمعیت علمائے ہند کا اجلاس اور دیوبندی بریلوی اتحاد: دیکھئے اس بحر کی تہ سے اچھلتا کیا ہے!!! :غلام رسول دہلوی

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

آئیں:

پہلی چیز یہ کہ ہندوستانی مسلم کمیونٹی کے اندر فرقہ وارانہ تقسیم سے لڑنے کا مطالبہ کرنے والی تنظیم جمعیت علمائے ہند  ہے- اور دوسری چیز یہ ہے کہ دلت مسلم اتحاد کے لیے بھی آواز بلند کرنے والی تنظیم یہی ہے۔

کانفرنس میں مسلم کمیونٹی کو متاثر کرنے والے مذہبی اور سیاسی مسائل سے متعلق دیگر قرارداد بھی منظور کیے گئے۔ لیکن مذکورہ بالا دو ایجنڈوں کو نیشنل میڈیا کے اندر خوب مقبولیت اور ہمدردی بھی حاصل ہوئی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مقاصد اپنے آپ میں انتہائی اہم ہیں، لیکن جب باریک بینی کے ساتھ جانچ کی جاۓ تو جمعیت کے پاس ان مقاصد کو پورا کرنے کے لئے کوئی نظریاتی اور سیاسی دلیل ہے ہی نہیں۔

فرقہ وارانہ اتحاد کی مانگ ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ امت مسلمہ داخلی طور پر شیعہ اور سنی مذہبی تفرقوں کا شکار ہے۔ ان سب پر مستزاد دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث جیسی مسلکی تقسیمیں بھی ہیں۔ تاہم، یہ سب محض فروعی اختلافات نہیں ہیں، بلکہ برصغیر ہند میں ان کی نظریاتی جڑوں کی تاریخ تقریبا 150 سالہ پرانی ہے۔

غور طلب یہ ہے کہ ہندوستان میں امت مسلمہ کے اندر فرقہ بندی کی یہ روایت خود علماء دیوبند نے شروع کی ہے- انہوں نے اپنی مختلف مطبوعات اور خطبات کے ذریعے اپنے اس نظریہ کی اشاعت کی کہ ‘بریلوی عقائد’ کے حامل کامل مسلمان نہیں ہیں۔ ان کی دلیل کی بنیاد مزارات پر حاضری دینے کی سنی صوفی روایت پر ہے جسے کم از کم ہندوستانی کی سرزمین پر دیوبندی نظریہ سازوں نے ‘شرک و بدعت’ سے تعبیر کیا-انہوں نے مزارات پر حاضری کو اپنے اس دعوے کا “ثبوت” قرار دیا کہ بریلویوں پر ہندو اثر و رسوخ کا غلبہ ہے۔

تصوف کے گہرے فلسفہ کو بااثر دیوبندیوں نے قبر پرستی کا نام دے دیا۔ یہاں تک کہ ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان پیدائش اور موت کے موقع پر ادا کی جانے والی بظاہر غیر مضرت رساں روایتی رسومات کو بھی اسلامی ثقافت کے دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی؛ جو کہ اس عقیدے کی بنیاد پر ہر ہندوستانی رسوم و روایت کو مسترد کرنے کا ایک آسان ہتھکنڈہ ہے کہ عربی روایات ہندوستانی رسوم و روایات کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر اور ارفع و اعلیٰ ہیں۔

اب دیوبندیوں کی مرکزی سیاسی تنظیم جمعیت علماء ہند انہی بریلویوں کے ساتھ مشترکہ اقدار کا اشتراک کرنا چاہتی ہے جنہیں انہوں نے ماضی قریب میں ہی ناقص مسلمان قرار دیا تھا۔ اب دیکھئے اس بحر کی تہ سے اچھلتا کیا ہے!!!!!!!!

کیا آج مولوی توقیر رضا خان صاحب کی قیادت میں بریلوی حضرات یہ بھول جائیں گے کہ خود ان کے اپنے نظریہ سازوں نے ایک صدی قبل ان کے بارے میں کیا لکھا ہے؟ در حقیقت دونوں فرقوں کے درمیان خلاء کو پر کرنے میں ان کی حالیہ کوشش ایک فریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔

دیوبند کے ذاتی دورے کرکے کون سا جماعتی اتحاد ممکن ہو سکے گا؟ بہر حال یہ سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا یہ دونوں فرقے ایک دوسرے کے بارے میں اپنے فقہی و دینی و مسلکی موقف پر نظرثانی کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اور کیا وہ اپنے ان اکابر علماء کے خلاف جانے کے لیے تیار ہیں جنہوں نے ایک دوسرے کے خلاف کتابیں لکھی ہیں اور تقریریں کی ہیں؟

حاصل کلام یہ ہے کہ کیا کسی دیوبندی کے لیے مولوی اشرف علی تھانوی کے اس دعوی کو غلط قرار دینا ممکن ہو گا کہ بریلوی سچے مسلمان نہیں ہیں؟ اور کیا ایک بریلوی کھل کر یہ کہہ سکتا ہے کہ دیوبندیوں کے خلاف امام احمد رضا خان اور مولانا ارشد القادری کی تحریریں اب افادیت بخش نہیں رہیں اور ان کے فتاویٰ اور فیصلے غلط تھے؟؟؟؟؟؟

ایک پلیٹ فارم پر مجتمع ہونا اور دنیا کے سامنے یہ اعلان کرنا کہ ہندوستانی مسلم کمیونٹی متحد ہے، بظاہر ایک خوشگوار مظہر لگتا ہے۔ لیکن جیسا کہ انگریزی کا مشہور مقولہ ہے:

“Appearance is always deceptive”

دکھاوا ہمیشہ پر فریب ہوتا ہے- عوام کو اس طرح کے دھوکے میں ڈال کر قوم مسلم کو متحد کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟؟؟؟ اتحاد اس وقت یقینی ہوگا جب ایک دوسرے کے خلاف دونوں فرقے اپنی اپنی تاریخی اور نظریاتی غلطیوں کا اعلان کرکے نہ صرف بارگاہ ایزدی میں بلکہ عوام الناس کے سامنے بھی تائب ہوں۔

اور تاریخی  تجربے شاہد ہیں کہ ایسا کرنا نہایت مشکل ہوگا، کیوں کہ دیوبند اور بریلی کے اختلافات محض کچھ رسمی اختلافات نہیں ہیں۔ بلکہ ان کا تعلق ان بنیادی عقائد سے ہے جو ایک ایک سچے مسلمان کے لئے از حد اہم اور بنیادی ہیں۔ ان اختلافات کا تعلق خود پیغمبر اسلام کی ذات با برکات کی عظمت کی تفہیم کے ساتھ مربوط ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اختلافات کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی طور پر خود مسلمان ہونے کے طریقوں میں اختلافات ہیں- اس لیے کہ ہر مومن مسلمان اپنا ماڈل اور نمونہ حیات خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے۔ لہٰذا،امت مسلمہ کے ایک بڑے طبقے کو مشرک سمجھنے والے ان فرقوں کے لیے کیا یہ ممکن ہو گا کہ وہ متحد ہو جائیں اور اپنے ماضی اور حال کے اختلافات کو بھلا دیں؟

قطع نظر ان اختلافات کے یہ دونوں فرقے ادارہ جاتی تنظیم کی حیثیت بھی رکھتے ہیں- مطلب یہ کہ وہ مساجد اور مدارس کا ایک منظم نظام بھی چلاتے ہیں۔ لہٰذا، اگر وہ اپنے اختلافات کے بارے میں کچھ کرنے کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں سب سے پہلے اس کی شروعات مدارس سے کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ مدارس کے ذریعہ ہی ان بنیادی اختلافات کو طالب علموں اور عام مسلمانوں کے ذہنوں میں اتارا جاتا ہے۔ اس ضمن میں ان کتابوں کو درسیات اسلامی خارج کرنا وقت کا جبری تقاضا ہے جن میں سواد اعظم کو ایک گمراہ فرقہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

کیا بریلوی اور دیوبندی علماء کے لیے یہ ممکن ہو گا کہ وہ متحد ہو کر ایک ایسا اسلامی نصاب تیار کریں جو دیوبندیوں اور بریلویوں دونوں کے مدارس کے لئے عام ہو؟ جب تک دونوں کی فکر میں یہ بنیادی تبدیلی (Shift Paradigm) پیدا نہیں ہوگی، تب تک ان دونوں فرقوں کا قریب آنا صرف ایک دکھاوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

مضمون نگار نے معروف اسلامی ادارہ جامعہ امجدیہ رضویہ  (مئو، یوپی ) سے عالم و فاضل، الجامعۃ اسلامیہ، فیض آباد، یوپی سے قرآنیات میں تحقیق اور الازہر انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز بدایوں سے علوم الحدیث میں سرٹیفیکیٹ حاصل  کیا ہے۔ مزید برآں جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے  عربی (آنرس) میں گریجویشن، اور وہیں سے تقابل ادیان ومذاہب میں ایم. اے کرنے کے بعد اب وہیں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں-

वहाबियत: इस्लाम के प्रचार में सबसे बड़ी रुकावट :मौलाना सय्यद आले मुस्तफा क़ादरी अल जीलानी अली पाशा

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

13082719_10156845798420296_4837382278654201987_n

 وہابیت
اسلام کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ
مولانا سید آل مصطفی قادری الجیلانی علی پاشاہ
 
جانشین خانقاہ قادریہ موسویہ‘مدیر اعلیٰ ہفت روزہ خطیب دکن حیدرآباد‘صدرآل انڈیاعلماء ومشائخ بورڈتلنگانہ و اے پی

 
آج کی مادی دنیا کے تمام مسائل کا واحد حل اسلام ہے۔ اسلام بھولی اور بھٹکی ہوئی انسانیت کو منزل مقصود کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نجات و کامرانی سے ہمکنار کرتا ہے۔
کرۂ ارض پر بے شمار ادیان، ان گنت فلسفے اور ہزارہا باطل نظریات موجود ہیں‘ تاہم انسانوں پر یہ اللہ کا فضلِ خاص ہے کہ اس نے ان الدین عنداللّٰہ الاسلام ( سورہ آل عمران : 19)کے ذریعہ منزل کا پتہ عنایت فرمایا اور راہِ نجات کا تعین فرمادیا۔
آج سے چودہ سو برس قبل فخر آدم و بنی آدم ،رحمت عالم نورمجسم صلی اللہ علیہ و سلم نے جب گمراہ عقائد وافکار کے نرغہ میں گھری ہوئی انسانیت کو توحید و رسالت کی طرف بلایا تو لبیک کہنے میں نفوس قدسیہ نے تاخیر نہیں کی ۔
کاروانِ اسلام دیکھتے ہی دیکھتے بڑھنے لگا اور محض دو دہوں میں مدینہ منورہ کے نام سے ایک مستحکم اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آگیا۔ایک ایسی ریاست جس نے بڑی بڑی حکومتوں کو مرعوب کردیا، جس کی ہیبت سے نامور حکمراں و بادشاہ خوفزدہ ہوگئے، زمین کے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب صدائے توحید کی مستانہ صداؤں سے گونجنے لگے۔ اب اسلام اور کفر میں امتیاز قائم ہوگیا ،اجالے اور اندھیرے کے درمیان خط فاصل قائم کردیا گیا اور نور و ظلمت کی پہچان مشکل نہ رہی،اس مرحلے پر غیروں سے کوئی خوف نہیں رہا البتہ کچھ ایسے ’’غیر‘‘ تھے جو ’’اپنوں‘‘ کا بھیس بنائے ہوئے تھے۔اپنوں ہی کے درمیان تھے اور اپنوں ہی کی وضع قطع رکھتے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ بعض معاملات میں اپنوں سے بھی بڑھ کر نظر آتے تھے۔
کون ہیں یہ لوگ؟ ان کی پہچان کیا ہے؟ علامتیں کیا ہیں؟ تو آئیے قربان ہوجائیں نبی صادق و امین صلی اللہ علیہ و سلم پر کہ آپ نے ان گمراہوں کی قلعی کھول کر رکھدی اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرمادی۔
بخاری شریف ،جلد ثانی صفحہ 124 میں حدیث پاک ہے ۔
ترجمہ :حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک بار ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے اور آپ کچھ مال تقسیم فرمارہے تھے کہ ذوالخویصرہ آیا جو قبیلہ بنی تمیم سے تھا اور کہا یا رسول اللہ !عدل کیجئے۔حضرت نے فرمایا تیری خرابی ہو ! جب میں ہی عدل نہ کروں تو پھر کون کرے گا اور جب میں نے عدل نہ کیا تو تو محروم اور بے نصیب ہوگیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :یا رسول اللہ!حکم دیجیئے کہ اس کی گردن ماردوں ۔فرمایا: جانے دو عمر! اُس کے رفقاء ایسے لوگ ہیں کہ ان کی نماز اور روزوں کے مقابلے میں تم اپنی نماز اور روزوں کو حقیر سمجھوگے۔وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے گلے سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
مخبر صادق صلی اللہ علیہ و سلم کی پیشن گوئی کے بعد بھلا اس گمراہ اور بد عقیدہ گروہ کا وجود کیسے نہیں ہوتا۔
اسلام کی چودہ صدیاں گواہی دیں گی کہ وہابیت کا یہ فتنہ ہمیشہ سرگرم رہا اور اپنے گمراہ کن عقائد کے ساتھ اہل ایمان کی بیخ کنی میں مصروف رہا۔
تاریخ اسلام کی روشنی میں اس گمراہ جماعت کے احوال پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس جماعت سے وابستہ عناصر نے ہمیشہ اسلام کو کاری ضرب پہونچایا ہے۔
ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں اس فرق�ۂ ضالہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان الأعراب ھم أ سرع الناس الی الخراب وأنھم یحتاجون الی دعوۃ دینیۃ یستطیعون من خلالھا استحلال الدماء والأموال والأعراض و اسباغ الشرعیۃ علی ثور انھم و اعتداء اتھم۔
یہ اعراب ہلاکت و بربادی کی طرف سب سے تیزی سے بڑھتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی دینی تحریک کے ضرورت مند ہوتے ہیں،جو ان کے لئے خوں ریزی، لوٹ پاٹ اور عصمت دری کو حلال کردے اور ان کے ظلم و عذر کو شرعی جواز فراہم کرے۔
اس طبقہ نے امت میں خلفشار مچاررکھا تھا،قتل و غارت گری اس کا شیوہ تھا اور کشت و خون کا بازار گرم کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔امیرالمؤمنین مولائے کائنات حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی مخالفت میں اسی ٹولے نے اس قدرظلم ڈھائے کہ اللہ کی پناہ۔
’’ التنبیہ والرد‘‘میں محمد الملطی رقم طراز ہیں۔انھم کانو ایخرجون بسیوفھم فی الأسواق حین یجتمع الناس علی غفلۃ فینادون لاحکم الا اللّٰہ و یقتلون الناس بلا تمییز۔
جب بازاروں میں لوگ اکٹھا ہوتے تھے تو اچانک خارجی تلواروں کے ساتھ نکلتے تھے اور لا حکم الااللّٰہ کا نعرہ لگاتے تھے اور لوگوں کو بلا تمیز تہہ تیغ کرنے لگتے تھے۔
ظلم و تشدد کا یہ تسلسل داعش اور اس جیسی مکروہ تنظیموں کی جانب سے آج بھی برقرار ہے ۔
اقوامِ عالم اس بھیانک چہرہ کو دیکھ کر اسلام سے برگشتہ ہورہے ہیں۔ وہابیت کایہ چہرہ دراصل اسلام کی غلط تشریح و تعبیر کرکے دنیاکواسلام کے تئیں دہشت میں مبتلا کررہا ہے ۔اس لئے بلا خوف تردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہابیت اسلام کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
khateebedeccan@gmail.com

देवबंद के उलमा की घर वापसी : जमीअत उलमा ए हिन्द के अजमेर शरीफ प्रोग्राम के सन्दर्भ में मौलाना मोहम्मद तय्यब अलीमी

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 
علماء دیوبند کی گھر واپسی
جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس منعقدہ اجمیر شریف کے تناظر میں
مولانا محمد طیب علیمی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یو پی 
مسؤل الادارہ ماہنامہ المشاہد لکھنؤ
اس میں شبہ نہیں کہ تمام کلمہ گو فرقوں میں اہل سنت و جماعت سے وابستہ لوگ ہی اسلام کی اصل تعلیمات و عقائد اور معمولات پر ہمیشہ سے قائم رہے ہیں .رہی بات علماء دیوبند کی تو اگرچہ ان کے اکابر اور اساطین کا علمی و روحانی سلسلہ اہل سنت اور مشائخ چشت کے اجلہ صوفیاء کی طرف منسوب ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے مگر یہ بھی ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ یہ لوگ ایسے تبدیل ہوئے کہ خود اپنے شیخ طریقت اور پیشوا عالم ربانی حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب اور راستے سے منحرف ہوگئے ، یہاں تک کہ حضرت شیخ کو خود اپنے ان مریدین اور خلفا کے خلاف محاذ کھولنا پڑا۔
چنانچہ حضرت حاجی صاحب قبلہ رحمۃاللہ علیہ کی معرکہ آرا تصنیف “فیصلہ ہفت مسئلہ”اس کی بین دلیل ہے.
اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ ان حضرات نے حاجی صاحب کے بر خلاف اپنے نظریات و افکار کا قبلہ شاہ محمد اسماعیل دہلوی کی کتاب ” تقویت الایمان ” کو بنالیا. جبکہ یہی وہ کتاب ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ کر کے رکھ دیا ،اور اس کے باوجود خواص میں تو نہ کے برابر البتہ عوام میں علماء دیوبند نے اس کتاب کے نظریات کو عام سے عام تر کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا تھا۔
حالانکہ اس کتاب میں شرک کی ایسی بھٹی بنائی گئی تھی جس میں اہل سنت کے بہت سارے قدیم متواتر و متوارث معمولات و مراسم وغیرہ کو یک لخت جھونک دیا گیا، بطور خاص اولیاء و صالحین سے اکتساب فیض، ان سے وابستگی اور توسل، نذر و نیاز۔
اور اسی پر بس نہیں بلکہ علماء دیوبند نے اپنے طور پر بھی بہت کچھ گل کھلایا۔ چنانچہ ایسے ایسے تفردات و عجائب لیکر آئے جنہیں ہمارے باپ دادا نے بھی نہیں سنا تھا .تحذیر الناس حفظ الایمان براہین قاطعہ اور اس طرح کی دیگر کتب علماء دیوبند بہت ساری گستاخانہ اور تصوف شکن عبارتوں سے بھری پڑی ہیں ، جن پر بحث و مباحثہ مناظرہ اور رد و ابطال اور ان کی تاویل و توضیح کرنے کرانے میں تقریبا ڈیڑھ صدی کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔
ہاں یہ اور بات ہے کہ زیادہ دقیق اور اہم علمی و اعتقادی مسائل بطور خاص اہل علم کے درمیان دائر رہے۔ مگر نیاز ،فاتحہ ،عرس ،چادر اور اولیاء اللہ سے وابستگی کے معاملات عوام کے درمیان خوب پھیلائے گئے. نتیجتاً آج برصغیر میں حال یہ ہوگیا ہے کہ یہی نذر و نیاز جیسے رسوم ہی دیوبندی اور غیر دیوبندی کے درمیان نشانِ امتیاز سمجھے جاتے ہیں۔
اس دعوے کی تائید خود اس بات سے ہوتی ہے کہ ملک کے طول و عرض میں رہنے بسنے والے دیوبندی مکتب فکر کے لوگ محبین اولیاء اللہ کو “قبر پرست” جیسے قبیح لقب سے پکارا کرتے ہیں۔
ہر کسی کو اس کا اعتراف ہے کہ آج بالخصوص ہندوستان میں مسلمانوں کی قوت کمزور ہونے کا کلیدی سبب یہی سنی و دیوبندی تنازعہ ہے، جس کا خاتمہ نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر نہ تو اتحاد ممکن ہے اور نہ ہی مسلمانوں کی طاقت بحال ہوسکتی ہے ۔
لیکن حیرت ہے کہ اتحاد کی بات ایسے ماحول میں کی جارہی ہے جب کہ عالمی سطح پر وہابیت کو چاروں خانے بالکل چت کیا جارہا ہے اور اس کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔
ایسے وقت میں جمعیۃ علماء ہند کے لوگ تصوف کا لبادہ اوڑھ کر یکایک نمودار ہو رہے ہیں اور سر زمین ہند میں موجود “صوفی ازم “کے مرکز اجمیر شریف سے اپنے تعلقات قائم کرنے اور سرکار غریب رضی اللہ عنہ کی دہائی دینے میں لگے ہوئے ہیں۔
بہر حال اگر جمعیۃ کے اندر اخلاص کارفرما ہے اور کوئی سیاسی غرض مخفی نہیں تو یقیناًقدیم مذہب کی طرف رجوع لانا اہم اور قابل قدر اقدام ہے اور دیر آید درست آید کا مصداق ہے ۔
اس حوالے سے میڈیا میں جن باتوں کا اشتہار کیا جارہا ہے اور حضرت خواجہ غریب نواز کی نگری میں جمعیۃ علماء ہند کی حالیہ سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے اتحاد عام کی ایک امکانی صورت نظر آرہی ہے، جس کو عالم وجود میں لانا وقت کا بڑا تقاضہ ہے ۔
لیکن ان تمام امور کے پس منظر و پیش منظر پر عوامی ذہنوں میں درج ذیل تنقیح طلب سوالات اور مطالبات کھٹک رہے ہیں جن کا تشفی بخش جواب از حد ضروری ہے۔ کیونکہ وہی جوابات اتحاد کی شاہراہ متعین کریں گے۔
(1) جمعیۃ کے لوگوں کو سرکار غریب نواز اب تک کیوں نہیں یاد آئے تھے؟
(2) کیا آپ حضرات سلسلہ چشتیہ اور دیگر سلاسل سے رشتہ جتاکر”تقویت الایمان” سے اپنی برأت کا اظہارکررہے ہیں؟ حالانکہ اس کتاب کا رکھنا آپکے مذہب میں” عین ایمان” ہے۔
(3) کیا عقیدہ ختم نبوت کا دم بھر کر “تحذیر الناس” مؤلفہ مولانا محمد قاسم نانوتوی کو منسوخ کر رہے ہیں؟ جس کے مطابق حضور کے بعد بھی دوسرا نبی آسکتا ہے۔
(4) کیا آپ حضرات اپنے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے بالقصد سفر اجمیر کرنے اوردیر تک فاتحہ پڑھنے نیز مولانا یعقوب کے کسب فیض اور کشف ومراقبہ کرنے کا حوالہ دیکر سنیوں کے اوپر اپنے تھوپے ہوئے الزام ” قبر پرستی “کو اٹھانے کا اعلان کررہے ہیں ؟
(5) کیا آپ حضرات اتحاد امت کی خاطر اپنے اکابر کی منفرد اور خلاف جمہور آراء و نظریات کو ترک کرکے اہل سنت کے قدیم منہج پر آنے کا عہد کرتے ہیں؟
اگر ان سارے سوالات کی تنقیحات پر مشتمل ایک اعلامیہ جمعیۃ جاری کردیتی ہے تو بلا شبہ پورا برصغیر بیک آواز نعرہ اتحاد سے گونج اٹھے گا۔
لہذا جمعیۃ کے ذمہ دارن حضرات سے مخلصانہ اپیل ہے کہ اتحاد کی جو تحریک چلائی گئی ہے اس کو کامیاب کرنے کے لئے کانفرنس وغیرہ کرنے کے بجائے اپنا واضح اعلامیہ جملہ مسلمانان ہند کے نام جاری کروادیں ان شاء اللہ خاطر خواہ نتیجہ سامنے آجائے گا۔
کیونکہ اہل دیوبند اپنے بزرگوں کے جن غلط نظریات پر عرصۂ دراز سے قائم ہیں ان سے صحیح معنوں میں علیحدگی کے بغیر اتحاد نہیں ہو سکتا اور اگر علیحدگی کا اعلان ہوجاتا ہے تو پھر کسی بھی زحمت اور مغزماری کی ضرورت نہ پڑے گی ۔

मानवतावाद की कल्पना और सूफीमत : मुफ्ती मोहम्मद हबीबुर रहमान अल्वी मदारी

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

تصور انسانیت پروری اور صوفی ازم 
مفتی محمد حبیب الرحمن علوی مداری 
ترجمان خانقاہ مداریہ مکن پور شریف 
وخادم افتاء جامعہ عزیزیہ اہلسنت ضیاء الاسلام دائرۃ الاشرف جھہراؤں ضلع سدھارتھ نگر
حضورسیدالرسل دانائے سبل سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ذات بابرکات ہی شریعت وطریقت معرفت وحقیقت کا مصدر ومنبع ہے۔اسی لئے جملہ متلاشیان رضائے الہی کے لئے بذریعۂ قرآن حکم رحمن ہوا۔’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ‘‘یعنی رسول گرامی وقارعلیہ السلام کی زندگی میں تمہارے لئے بہتر نمونۂ عمل ہے۔چنانچہ حاملین دین مصطفوی میں جس گروہ جماعت نے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی کامل اتباع کی آسان لفظوں میں ہم اس گروہ و جماعت کو صوفیائے کرام کا نام دے سکتے ہیں۔اس مقدس جماعت کے علاوہ روئے زمین پر میرے مطالعہ کی روشنی میں کوئی دوسری جماعت اس طرح سے وجود میں نہیں آئی کہ جس نے مکمل طور پر اتباع رسول گرامی وقار سے اپنے آپ کو مشرف وممتاز کیا ہو۔
مناسب لگتا ہے کہ اپنی بات کو اکابرین امت کے اقوال سے مبرہن کروں۔امام غزالی اپنی کتاب المنقزمن الظلال میں فرماتے ہیں:
’’مکمل یقین واعتماد کے ساتھ مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ صوفیاء کرام ہی اللہ کے راستے پر چلنے والے ہیں ان کی سیرت تمام سیرتوں سے بہتر ہے ۔ان کا طریقہ تمام طریقوں سے سیدھا ہے ان کا اخلاق تمام لوگوں کے اخلاق سے زیادہ پاک ہے بلکہ اگر تمام عقلاء کی عقل کو جمع کیا جائے اور تمام حکماء کی حکمت کو اکٹھا کیا جائے ،علماء کے علم کو یکجا کیا جائے تاکہ صوفیائے عظام کے طریقہ کے متبادل کوئی طریقہ تلاش کیا جا سکے۔جو ان سے بہتر ہو تو لم یجدوا الیہ سبیلا یعنی اس طرح ہو ہی نہیں سکتا ۔کیونکہ ان کی تمام حرکات وسکنات ظاہری ہوں یا باطنی نور نبوت سے منور ہیں اور پورہ کرۂ ارض پر نور نبوت کے علاوہ کوئی ایسا نور نہیں جس سے روشنی حاصل کی جا سکی۔‘‘
حضور سیدنا ذوالنون مصری فرماتے ہیں’’ھم قوم آثروااللہ عزو جل علی کل شئی ‘‘یعنی صوفیاء وہ ہیں جو ہر چیز سے زیادہ اللہ کی رضا کو ترجیح دیتے ہیں۔صوفیاء کرام کے تعلق سے حضرت شیخ شبلی فرماتے ہیں کہ ’’منقطع عن الخلق ومتصل بالحق‘‘یعنی صوفی مخلوق سے آزاد اور خدا سے مربوط ہوتا ہے۔
حضرت ابو علی قزوینی ارشادفرماتے ہیں کہ التصوف ھو الاخلاق المرضیۃ‘‘یعنی تصوف پسندیدہ اخلاق کے اختیار کرنے کا نام ہے۔
حضرت سیدنا ابوالحسن نوری فرماتے ہیں ’’التصوف ترک کل حظ للنفس‘‘یعنی تصوف تمام لذات انسانی کو ترک کردینے کا نام ہے۔
مذکورہ بالا اکابرین امت اساطین اسلام کے اقوال وارشادات کی روشنی میں اہل تصوف کے بابت ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جو شخصیت تمام اخلاق رذیلہ قبیحہ سے دور ہو کر لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ کو اپنا آئیڈیل بنا چکی ہو ’’قد افلح من تزکیٰ ‘‘کا مفہوم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں عملی طور پر داخل کر چکی ہو۔
حدیث رسول مقبول ’’الخلق عیال اللہ ‘‘کا صحیح مفہوم سمجھ کر اس کے رواج ونفاذ کا داعی بن گئی ہو ’’قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العٰلمین کے مفہوم ومقتضیٰ کو اپنی زندگی میں داخل کر چکی ہو ’’انک لعلیٰ خلق عظیم ‘‘کو صحیح طریقے سے سمجھ چکی ہو وہی مرد کامل صوفی ہے۔
صوفی قول رسول اتصفوا بصفات اللہ وتخلقواباخلاق اللہ کو ہر وقت پیش نگاہ رکھتا ہے۔
قرآن عظیم کی آیات مبارکہ کے جملہ مفاہیم و مطالب سے صوفی کو واقفیت وآگاہی ہوتی ہے ۔احادیث رسول کے تمام تقاضوں سے صوفی کو کلی طور پر آشنائی ہوتی ہے۔سیرت نبوی کا ہر پہلو ہمیشہ صوفیائے کرام کو مستحضر رہتا ہے۔یہی وجوہات ہیں کہ صوفی سب کو سمجھ لیتا ہے۔مگر صوفی کو سب نہیں سمجھ پاتے۔
دین بر حق کی توسیع وتبلیغ ایک صوفی جس احسن پیرائے سے کرتا ہے وہ دوسروں سے متوقع ہی نہیں ہو سکتی ۔یہی وجہ ہے کہ مذہب اسلام کی اشاعت میں سب سے زیادہ حصہ صوفیائے کرام کا رہا ہے۔اور آج بھی یہی جماعت صحیح معنوں میں تبلیغ وارشادکا کام باندازاحسن انجام دے رہی ہے۔جس کی زندہ مثال خود یہ بورڈ ہے۔جس کی سرپرستی حضور اشرف ملت اور دیگرمشائخ عظام فرمارہے ہیں۔
صوفیائے کرام نے پوری انسانی برادری کی تقسیم صرف دو خانوں میں فرمائی ہے۔
(۱) امت اجابت
(۲) امت دعوت
امت دعوت کے زمرے میں جتنی بھی اقوام اور اہل مذاہب آتے ہیں ان تک پیغام دین حنیف پہونچانا صوفیاء کا نصب العین رہا ہے اور یہ بالکل طے شدہ امر ہے کہ کسی بھی دعوت کی دائمی قبولیت فقط حسن اخلاق سے ہی متصور ہے۔بنا بریں صوفیائے اہل صفا انسانی برادری میں کسی بھی بھید بھاؤ کے قائل نہیں رہے۔اور بلا تفریق اپنا فیضان ہر مذہب وملت کے ماننے والوں میں تقسیم کیا اور آج بھی ان کا سلسلۂ فیض رسانی اسی شان و بان کے ساتھ ان کے مزارات مقدسہ سے بھی جاری و ساری ہے۔بزرگان دین کی خانقاہیں اس دور نفور میں بھی بلا تفریق مذاہب تمام قسم کے انسانوں کے لئے قبلۂ حاجات ہیں۔
الخلق عیال اللہ کے پیش نظر صوفیائے کرام کا موقف یہ ہے کہ تخلیق وتربیت فیض وعطا میں جس طرح اللہ تعالیٰ عاصی و مطیع کا فرق نہیں رکھتا تو تم بھی یہ فرق نہ رکھو ۔چنانچہ اس پہلو سے مذہب اسلام کی وہ شبیہہ سامنے آتی ہے کہ جس کی مخالفت کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا ہمارے اندازے کے مطابق اگر اس نقطۂ نظر سے عالمی پیمانے پر دعوت اسلام کو پیش کیا جائے تو دوسری قومیں غیر معمولی طور پر مذہب اسلام سے متاثر ہوں گی ۔صوفیاء کی دعوت کو بغور دیکھیں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ پہلے دلوں سے الحاد کو کھرچتے ہیں پھر شرک کو مٹاتے ہیں پھر کفر کا صفایا کرتے ہیں پھر کہیں جاکر احکام ظاہری کی دعوت دیتے ہیں اور پھر ایک دن وہ بھی آتا ہے کہ تمام باطنی کدورتوں کو صاف کر کے انسان کو ملکوتی صفات کا پیکر بنادیتے ہیں ۔اورمذکورہ تمام باتیں حضور شارع علیہ السلام کی مکی اور مدنی زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد اسوۂ نبوی میں بحرف جلی ہمیں بھی نظر آتی ہیں۔
آج جس شدت کے ساتھ دعوت وارشاد کا فقدان محسوس کیا جا رہا ہے اور نفرتیں عداوتیں سر چڑھتی جا رہی ہیں تو اس میں کہیں نا کہیں ہم سے بھی چوک ہو رہی ہے ۔ہم نے اسلام کی کشادگی کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے اور فتویٰ بازوں کے فتوؤں کو ہی کل اسلام سمجھ لیا ہے ۔حالانکہ اصل اسلام کا سر چشمہ ذات نبوی ہے اور اس ذات کامل نے ہمیں وہ اسلام پیش کیا ہے کہ جس میں ایک کتے کے ساتھ بھی حسن سلوک کو موجب رحمت ومغفرت بتایا گیا ہے۔حقوق انسانی کی جو تاکید مذہب اسلام نے کی ہے وہ اپنی مثال فقط آپ ہے۔نمونے کے طور پر آپ ملاحظہ کریں کہ مذہب اسلام نے غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کو ضروری قرار دیا ہے،چنانچہ اس ضمن میں یہ واقعہ کافی دلچسپ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر کے یہاں بکری ذبح ہوئی تو آپ نے گھر والوں میں سے ایک سے دریافت کیا کہ ہمارے فلاں یہودی پڑوسی کو اس میں سے کچھ بھیجا ہے؟اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جبرئیل مجھے پڑوس کے سلسلے میں اس قدر تاکید کرتے تھے کہ مجھے خیال ہوتا تھا کہ وہ اسے وارث نہ بنادیں۔(ابو داؤد،کتاب الادب ،باب فی حق الجوار )
حضرت سیدنا با یزیدبسطامی کے حوالے سے یہ واقعہ بھی منقول ہے کہ آپ کا ایک پڑوسی مجوسی تھا جس کے یہاں ایک چھوٹا سا شیر خواربچہ تھا ایک بار وہ سفر میں گیارات میں اندھیرے کی وجہ سے اس کا بچہ روتا تھا آپ روزآنہ اس کے گھر چراغ رکھ آتے جس کی روشنی میں بچہ کھیلتا رہتا ۔جب وہ مجوسی سفر سے گھر واپس آیا تو اس کی بیوی نے شیخ کا حسن سلوک بیان کیا مجوسی نے کہا افسوس شیخ کی روشنی میرے گھر آئے اور ہم تاریکی میں رہیں وہ مجوسی اسی وقت آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہو گیا۔(تذکرۃ الاولیاء شیخ فرید الدین عطار)
مذکورہ بالا واقعات سے مذہب اسلام میں انسانیت پروری و آدمیت نوازی کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔
ان واقعات سے ہٹکر ہم جب ہندوستان کی تمام درگاہوں کاجائزہ لیتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات بھی کھل کر آجاتی ہے کہ تمام خانقاہوں میں صوفیائے کرام نے مخلوق الہیہ کی پرورش کے لئے لنگر خانے قائم فرمائے اور اس میں بلا تفریق مذہب وملت ہر انسان کو کھانے کی ا جازت دی اورخانقاہوں میں برادران وطن کا خیال کرتے ہوئے گوشت اور مچھلی پکانے پر پابندی بھی عائد کر دی گئی تاکہ ہر مسلم و غیر مسلم بلا تکلف خانقاہ کے لنگر سے اپنی بھوک مٹا سکے۔
حضرات!آج پھر ضرورت ہے کہ صوفیائے کرام کے نقش قدم پر چل کرمذہب مقدس کی ترویج واشاعت کی جائے اور اسلام کے اندر پیدا کی گئی تنگیوں کا خاتمہ کرکے پھر اسکی صحیح وسعت سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔تاکہ امن وامان ،محبت ورواداری کی ماحول سازی میں بھر پور طریقے سے تعاون مل سکے۔

तसव्वुफ और आज के हालात व असरात: मुफ्ती सनाउल मुस्तफा मिस्बाही

 4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

تصوف اور آج کے حالات واثرات 
مفتی ثناء المصطفیٰ مصباحی 
استاذ ومفتی دارالعلوم حنفیہ بیادگار امام احمدرضارنگ روڈ کلیان پور لکھنؤ یو پی
پانچویں صدی عیسوی دنیا کی تاریخ میں بد ترین زمانہ تھا ،انبیائے کرام کی تعلیمات مسخ ہو چکی تھیں انسانیت جاں بلب تھی،اشرف المخلوقات کی اس زبوں حالی کو دیکھ کر رحمت حق کا بحر رحمت موجزن ہوا تو دنیا کی اصلاح کے لئے مصلح اعظم کو مبعوث فرمایا اور آپ پروہ کتاب نازل فرمائی جو تمام علوم کا منبع و معدن ہے،اور جس سے بڑھ کر اخلاقی تعلیم دنیا کی کسی تعلیم میں نہیں خود ہادئی عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں۔اس کی تائید قرآن میں بھی ہے۔توحید اور حسن خلق ہی دو ایسی چیزیں ہیں جو تصوف کی روح رواں ہیں۔
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس دار فانی سے کوچ کر گئے تو اس وقت تقریباًتمام عرب حلقۂ بگوش اسلام ہو چکا تھا وہ عرب جہاں دختر کشی،قماربازی،شراب نوشی،استحصال بالجبروغیرہ بکثرت رائج تھے اسلام کے بعد امن،تہذیب،حسن اخلاق اور علم وعمل کا گہوارہ بن چکا تھااور ایک بڑی جماعت دنیا کی معلم اور راہبربننے کی قابل ہو چکی تھی۔یہ تھا وہ دورجہاں سے حقیقی تصوف کاآغازہوتا ہے۔
صحابۂ کرام کے دور میں تو اسلام عروج کی طرف گامزن تھا مگر خلفائے راشدین کے بعد جب اسلام تنزل کی طرف آنے لگا تو ہر وہ طبقہ جو اسلامی تعلیمات پر مکمل عمل پیرا تھا وہ جابر وظالم حکمرانوں کے ظلم وستم سے تنگ آکر باہر جنگلوں میں نکل آئے اور لوگ بھی آہستہ آہستہ جب اپنے احوال کی اصلاح کے لئے ان کے پاس جانے لگے تو وہاں خانقاہیں بننی شروع ہوگئیں اور اس طرح تصوف ایک باقاعدہ نظام بن گیا۔
تصوف کیاہے؟
منکرین تصوف کے لایعنی اعتراض سے صرف نظر کرتے ہوئے معروف صوفیائے کرام کی روشنی میں تصوف کی تعریف ملاحظہ کریں۔
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں’’ من عاش فی باطن رسول اللہ فھو صوفی ‘‘ترجمہ:جو باطن رسول اللہ پر زندگی بسر کرے وہ صوفی ہے۔
امام عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں ’’التصوف انما ھوزبدۃ عمل العبدباحکام الشریعۃ‘‘ترجمہ:تصوف بس احکام شرع پر بندے کا عملی خلاصہ ہے۔
امام محمد غزالی ارشادفرماتے ہیں۔’’التصوف عبارۃ عن تجرد القلب للہ تعالیٰ واستحقارما سویٰ اللہ وحاصلہ یرجع الی عمل القلب والجوارح ومھمافسدالعمل فات الاصل‘‘:ترجمہ تصوف اس کا نام ہے کہ دل خدا کے لئے خالی ہو اور ماسوی اللہ کو خاطر میں نہ لائے اس کا حاصل یہ ہے کہ قلب اور اعضا سے متعلق اعمال وافعال درست ہوں،جب عمل فاسد ہو گا تو اصل ہی فوت ہوجائے گی۔خلاصہ یہ ہے کہ تصوف نام احکام شریعت کی پابندی،حسن رواداری کا،انکساری وعاجزی کا،احترام انسانیت کا،آداب بارگاہ الوہیت و رسالت کا۔
تصوف و اہمیت:جوشخص مذہب کا پیروکار ہے مگر تصوف پر عامل نہیں اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے حلوائی کی دکان پر ساری عمر حلوہ بنایا اورخود کبھی نہ کھایا ۔انسان تصوف ہی کی بدولت خدا سے مکمل رابطہ پیدا کر سکتا ہے۔تصوف دل کی نگہبانی کا دوسرانام ہے کیوں کہ انسان بظاہر جسم اور نفس کا نام ہے مگر در حقیقت دل کا نام انسان ہے اور جب دل مسلمان نہ ہو سکا تو رکوع و سجدہ یا زباں سے خدا کا اقرار بے معنی ہے۔

تصوف کی حقیقت:حضرت ابوالحسن رحمۃ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں :’’لیس التصوف رسوما ولا علوماولکنہ اخلاق‘‘ترجمہ:رسم وعلم کا نام تصوف نہیں ہے بلکہ حسن اخلاق کا نام تصوف ہے۔یعنی تصوف ریاضت ومجاہدہ اور تعلیم سے حاصل نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ تصوف تو سراپا اخلاق ہے۔یہاں تک کہ اگر اس کے حکم اپنی ہستی میں جاری نہ کرو اور اس کے معاملات کو اپنے وجود میں نافذ نہ کرو اور اس کے انصاف کو اپنے اوپر استعمال نہ کرو تو ہرگز تصوف حاصل نہ ہوگا۔رسم واخلاق میں فرق یہ ہے کہ رسم تکلف ومحنت اور اسباب و ذرائع سے حاصل ہوتا ہے لیکن اخلاق بے تکلف ومحنت اور بغیر اسباب وذرائع کے باطن کے موافق ظاہر میں کئے جانے اور دعویٰ سے خالی ہونے کا نام ہے۔
تصوف کی ضرورت :یہ امر بدیہی ہے کہ ایک اچھا معاشرہ اچھے افراد ہی سے تشکیل پاتا ہے اگر افراد صالح کردار کے مالک ہوں،تقویٰ وصالحیت ان کے سرشت میں داخل ہوتو ایسے افراد کے اجتماع سے ایک صالح اور مثالی معاشرہ وجود میں آئے گااور اگر افراد کھوکھلے کردار کے مالک ہوں گے تو ان کی شخصیتیں ایثار وقربانی ،عاجزی و انکساری اور ہمت جرأت سے عاری ہوں گی توایسے افراد سے صالح اور کامیاب معاشرہ کبھی وجود میں نہیں آسکتا۔چوں کہ اسلام کا مقصدروئے زمین پر ایک صالح معاشرہ قائم کرنا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی منشاء بھی یہی ہے کہ اس کے محبوب رحمت عالم کی امت پر مشتمل جو معاشرہ معرض وجود میں آئے وہ صالحیت وتقویٰ کے زیور سے آراستہ ہو ۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے رفقاء اور غلاموں کی یہ صفات بیان فرمائی۔’’محمدرسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفاررحماء بینھم(الفتح )ترجمہ:محمد اللہ کے رسول ہیں اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں وہ کفار پر بڑے سخت ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے لئے رحم دل ہیں‘‘
دہشت گردی کے انسداد میں تصوف کا اہم کردار :اصل موضوع پر آنے سے پہلے آپ جہاد اور دہشت گردی میں فرق سمجھ لیجئے کہ جہاں ہر ملک و قوم کی ضرورت ہے۔بغیر جہاد کے نہ کوئی ملک محفوظ رہ سکتا ہے اور نہ کوئی قوم لیکن دہشت گردی یہ بالکل جہاد کے خلاف ہے کیوں کہ دہشت گرد شہر کے شہر اجاڑ دیتا ہے اور پوری قوم کو تباہ وبرباد کر دیتاہے۔مگر آج کچھ نا سمجھ حضرات اور عقل و فہم سے عاری لوگ اپنی کج فہمی و کم عقلی کی بناء پر دہشت گردی کو جہاد سمجھ کر اور کچھ فہم ودانش کے مالک حضرات اپنی عیاری ومکاری کی بنا پر دہشت گردی کو جہاد کا نام دے کر اس کی خوب تشہیر کر کے بھو لے بھالے مسلمانوں کو شامل کر رہے ہیں۔اور انہیں بدنام کر رہے ہیں۔ما قبل میں ہم نے ذکر کیا کہ تصوف حسن اخلاق ہی کا نام ہے اور صوفیائے کرام نے ہمیشہ اپنے حسن اخلاق ہی کی بنا پر لوگوں کو گرویدہ بنا لیااور انہیں مذہب اسلام کی طرف راغب کر لیا ۔آپ کوفتح مکہ کا واقعہ بتاتا ہوں کہ جب مکہ فتح ہوا اور مسلمان شان و شوکت کے ساتھ ان پر غالب ہوئے تو کفاربہت نالاں و پشیماں ہوئے کہ اب ہمارا جینادشوار ہو جائے گا او ہم چین وسکون کی نیند نہیں لے پائیں گے،اور یہ بات بھی فطرت کے عین مطابق ہے کہ کوئی بھی اپنے جانی دشمن کو معاف نہیں کرتالیکن اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ کسی پر ظلم وستم نہ ہوگا،سب کے ساتھ عدل وانصاف ہوگا۔اور سب کو شہری حقوق دئے جائیں گے۔پھر میں آپ کے ذہن کو واقعۂ کربلاکی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ جب حر نے حضرت امام حسین کو اپنے قبضہ میں رکھ کرایک جگہ رات کو پڑاؤڈالا تھاناگاہ یزیدی فوجیوں کے پاس پانی ختم ہو گیااور وہ لوگ شدت پیاس کی وجہ سے جاں بلب ہو گئے۔تو اس وقت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا اور اپنے رفقاء کا سارا پانی یزیدی فوجیوں کو دے دیا اور اس بات کی ذرہ برابر بھی پرواہ نہ کی اب ہم سب کا کیا ہوگا۔اصل تصوف اسی کا نام ہے کہ غیروں پر بھی رحم کھایا جائے اگر چہ وہ تمہاراجانی دشمن ہی کیوں نہ ہو۔
اخیر میں ہم صرف اتنا بتانا چاہتے ہیں کہ اگر پوری دنیائے اسلام میں صوفیت کا فروغ ہو جائے او ر تصوف کے اصل مفہوم سے لوگ واقف ہو جائیں تو لوگ اصل اسلام اور اسلام کی تعلیمات سے واقف ہوجائیں گے اور ہم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے صوفیائے کرام کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آج جو حقیقی اسلام پوری دنیا میں باقی ہے وہ انہیں کی محنت شاقہ ہی کا نتیجہ ہے ۔اللہ تعالی ہمیں صوفیوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
مآخذ ومراجع
۱۔ کشف المحجوب اردو
۲۔ کتاب اللمع فی التصوف اردو
۳۔ سلوک وتصوف کا عملی دستور
۴۔ کیمیائے سعادت
۵۔ اہل سنت کی آواز تصوف نمبر

तसव्वुफ और चिश्तियत के नाम पर धोखा : ग़यासुद्दीन अहमद आरिफ मिस्बाही

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

تصوف اور چشتیت کے نام پر دھوکہ
غیاث الدین احمد عارفؔ مصباحیؔ
 
جب سے دہلی کی سر زمین پر آل انڈیا علما مشائخ بورڈ نے صوفی کانفرنس کا انعقاد کیا اور اس کے ذریعہ پوری دنیا اور بالخصوص حکومت ہندکو یہ باورکرایاکہ دنیا میں فتنہ وفسادبرپا کرنے والے ،آتنک ودہشت پھیلانے والے ہم نہیں اور نہ ہی اسلام اس کی اجازت دیتا ہے بلکہ یہ دہشت گردی اسلام کا لیبل لگاکر وہابی جماعت اور ان سے وابستہ تنظیمیں انجام دے رہی ہیں ،تب سے ہندوستان ہی نہیں پاکستان میں بھی بسنے والے وہابی فکر کے حامل دیوبندی جماعت کے افراد خود کو سنی صوفی کہلانے اور باور کرانے کے لیے جی جان سے لگ گئے ہیں کیوں کہ صوفی کانفرنس کے بعد میڈیا کی زبان بھی بدل گئی پہلے “اسلامی آتنک واد کہا جاتا تھا اور اب وہابی آتنک واد کہا جانے لگا ہے۔آپ کو معلوم ہے کہ کل تک جو مزاروں پر جانے پر شرک وکفر کا فتویٰ لگاتے تھے آج مزاروں کے چکر لگارہے ہیں،صرف یہی نہیں بلکہ خود کو چشتی ،صوفی کہلانے کا ڈھونگ بھی رچ رہے ہیں تاکہ ان سے دہشت گردی کا لیبل ہٹ جائے لیکن یہ اس وقت تک ناممکن ہے جب تک وہ اپنے سابقہ عقائد،اعمال وکردار سے علی الاعلان توبہ ورجوع اور اپنے گُرو گھنٹالوں سے دست بردادر نہ ہوجائیں ۔
آئیے ہم ان کے چند فاسد عقائد پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں ،جس سے یہ واضح ہوجائے گا کہ یہ نہ حنفی ہیں نہ صوفی بلکہ حنفیت وصوفیت کے لبادہ میں وہابیت کی ترویج واشاعت کررہے ہیں ۔
آج جب دنیا نے یہ تسلیم کرلیا کہ خانقاہوں سے وابستہ افراد ہی اصل اہل سنت وجماعت ہیں تو ان کے پیٹ میں مروڑ ہونے لگی اور مزاروں ،خانقاہوں کا چکر لگانے لگے ۔ کل تک یہ کیا کہا کرتے تھے ؟ ذرا دیکھیں :
اِن کے بڑے عالم شاہ اسمٰعیل دہلوی صاحب کے نزدیک زیارت کے لیے دور درازملکوں سے سفر کرنا بدعت قبیحہ ، شعار کفر، اور باعث غضب الہی ہے اور عام مومنین کو اس سے عظیم نقصان پہنچتا ہے۔ صراط مستقیم میں لکھتے ہیں:
دور دراز کے ملکوں سے سفر کی بڑی بڑی مصیبتیں اٹھاکر ، اور رات دن کی تکلیفیں اور دُکھ جھیل کر اولیا ء اللہ کی قبروں کی زیارت کے واسطے آنا انہیں بدعات (قبیحہ ) میں سے ہے۔۔۔۔ اور یہ سفر ان کو شرک کے ظلمات ، اور اللہ تعالیٰ کے غضب کی وادی میں پہنچاتے ہیں۔
یعنی جناب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ:
زیارت کے واسطے سفر کرنا بدعت اور ناجائز ہے۔۔۔۔۔۔ سفر زیارت زائرین کو شرک کی تاریکی میں پہنچادیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زائرین اللہ عزوجل کے غضب کی وادی میں پہنچ جاتے ہیں۔۔۔۔۔عام مسلمانوں کو بڑا بھاری نقصان ہوتا ہے۔۔۔۔۔ ۔ یعنی شاہ صاحب کے نظریہ کے مطابق اولیاے کرام کی قبروں کی زیارت کرنے والوں کا دین باقی رہتا ہے نہ ایمان، کیوں کہ سفر کی وجہ سے یہ عمل مشرکانہ ہوجاتا ہے۔

کمالات اشرفیہ کے مُرَتِّب اِس کے صفحہ ۲۵۲پر اشرف علی تھانوی صاحب کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : ایک انگریز نے لکھا ہے کہ ہندوستان میں سب سے زیادہ حیرت انگیز بات میں نے یہ دیکھی کہ اجمیر میں ایک مردہ کو دیکھا کہ اجمیر میں پڑا ہوا سارے ہندوستان پر سلطنت کررہا ہے ۔
انگریز کا قول نقل کرنے بعد مرتب اپنے گُرو اشرف علی تھانوی کا قول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انھوں نے کہا :
واقعی خواجہ صاحب کے ساتھ لوگوں بالخصوص ریاست کے امراء کو بہت عقیدت ہے (اس پر) خواجہ عزیز الحسن نے عرض کیا کہ جب فائدہ ہوتا ہوگا تبھی تو عقیدت ہے (تھانوی صاحب نے) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جیسا حسن ظن ہوویسا ہی معاملہ فرماتے ہیں ۔اس طرح تو بت پرستوں کو بت پرستی میں بھی فائدہ ہوتا ہے ،یہ کوئی دلیل تھوڑا ہی ہے ۔ دلیل شریعت ہے۔
دیکھا آپ نے کل تک یہ خواجہ غریب نواز کے آستانے کا رشتہ بتوں سے جوڑتے تھے مگر آج یہ خود اسی بت پرستی پر کیوں مجبور ہیں ؑ ۔ع۔کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔
پہلے یہ مزاروں پر جانے والوں کوقبوری اور مشرک کہتے تھے ۔ دیکھیں ۔دیوبندی جماعت کے مشہور عالم مولوی منظور نعمانی صاحب ماہنامہ الفرقان لکھنو(جمادی الاولیٰ۱۳۷۲ ؁ھ) کے صفحہ ۳۰پر اپنے اداریہ میں لکھتے ہیں :
’’آپ مسلمان کہلانے والے قبوریوں اور تعزیہ پرستوں کو دیکھ لیجیے ۔شیطان نے ان مشرکانہ اعمال کو ان کے دلوں میں ایسا اُتار دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں قرآن وحدیث کی کوئی بات سننے کے روادار نہیں ۔ میں تو انھیں لوگوں کو دیکھ کر اگلی امتوں کے شرک کو سمجھتا ہوں اگر مسلمانوں میں یہ لوگ نہ ہوتے تو واقعہ یہ ہے کہ میرے لیے اگلی امتوں کے شرک کو سمجھنا بڑا مشکل ہوتا ‘‘
آئیے لگے ہاتھوں یہ بھی پڑھ لیجیے ۔۔۔ دارلعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر یہ فتویٰ موجود ہے ۔کسی شخص نے سوال کیا ہے کہ:
میں اجمیر شریف کی زیارت کو جانا چاہتا ہوں ۔کسی بزرگ کی درگاہ کی زیارت میں نیت کیا ہونی چاہیے ؟ کیا درگاہ پر پھول اور شیرینی چڑھانا جائز ہے؟
اس کے جواب میں دیوبند کے مفتی صاحب لکھتے ہیں : آپ کو اجمیر یا اس کے قریب کسی شہر میں کوئی کام ہو تو اس کی نیت سے سفر کریں ۔براہ راست کسی بزرگ کی قبر کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا جائز ہے مگر بہتر نہیں ہے۔کسی اور کام سے تشریف لے جائیں پھر اجمیر بھی چلے جائیں ۔ آگے لکھتے ہیں : قبر پر پھول چڑھانایا شیرینی یا چادر وغیرہ چڑھانا جائز نہیں ،یہ سب خرافات وبدعات میں سے ہے ۔شریعت اسلامیہ میں اس کی کوئی اصل نہیں ۔(سوال وجواب نمبر۸۴۷)
دارالعلوم دیوبند کی اسی سائٹ پر ایک سوال کیا گیا ہے کہ : کیا قبروں پر پھول چڑھانا بدعت ہے ؟ کچھ علما ء کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا سنت ہے ؟براہ کرم ،قرآن وسنت کے حوالے سے میرے شبہات دور فرمائیں ۔
جواب میں لکھا گیا ہے کہ : قبروں پر پھول چڑھانا نہ قرآن کی کسی آیت سے ثابت ہے نہ حضور ﷺسے ،نہ صحابہ سے اور نہ تابعین سے اس لیے یہ ناجائز وبدعت ہے ۔( سوال وجواب نمبر۱۴۱۸ )
دیکھا آپ نے یہ اِن کا عقیدۂ فاسدہ ،جسے ہم بیان کرتے ہیں تو ان کو بہت تکلیف ہوتی ہے اور اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ اس کے بعد بھی ہم پرالزام لگاتے ہیں کہ ہم انھیں وہابی کہتے ہیں ،جناب ہم نہیں کہتے بلکہ یہ آپ کا اپنا اقرار ہے ،آپ کا عمل ہے جیساکہ خود آپ کے عالم جنھیں آپ غوث کا درجہ دیتے ہیںیعنی رشید احمد گنگوہوی صاحب فتاویٰ رشیدیہ کی پہلی جلد میں ابن عبدالوہاب نجدی کی تعریف وتوصیف میں لکھتے ہیں :
محمد بن عبد الوہاب کے مقتدیوں کو وہابی کہتے ہیں ان کے عقائد عمدہ تھے ۔
اسی طرح اشرف السوانح کی پہلی جلد کے صفحہ ۴۵پر لکھا گیا ہے کہ: جب ان کے پاس کچھ عورتیں نیاز کے لیے مٹھائی لے کر آئیں تو انھوں نے کہا :
بھائی یہاں وہابی رہتے ہیں یہاں فاتحہ نیاز کے لیے کچھ مت لایا کرو۔
یہ تو محض نمونہ ہے اس طرح کے خرافات سے ان کی کتابیں ،سائٹیں ،شوشل گروپس بھرے پڑے ہیں ،مگر اصل سوال یہ ہے کہ مزارات پر حاضری کو دن رات شرک وبدعت کہنے والوں کے سامنے آخر کون سی مجبوری آن پڑی جو اَب خودہی مزاروں کے چکر کاٹنے لگے تو سُن لیں یہ اُن کی نئی چال ہے ،مکاری اور دھوکہ ہے،بھولے بھالے سنیوں کو اپنی جال میں پھنسانے کے لیے وہ پہلے بھی ایسا کرتے رہے ہیں ،آج بھی انھوں نے وہی کیا ہے ،موقع دیکھ کر اس سے دست بردار ہوجائیں گے اور جب پھر ضرورت پڑے گی صوفیت کا لبادہ اوڑھ کر یہی کام کریں گے ۔
ہم کہتے ہیں کہ اگر واقعی آپ نے تصوف کا راستہ اپنا لیا ہے اور آپ اصلاً حنفی صوفی ہیں تو کیوں نہیں اپنے سابقہ وموجودہ علماء کے عقائد سے توبہ ورجوع کا اعلان کردیتے ؟ اور اُن سے کھلے عام برأت کا اظہار کردیتے ؟ جب آپ یہ کہہ ہی رہے ہیں کہ بریلوی ہمارے بھائی ہیں ۔ تو آیئے ہم تو صوفیا کے افکار واعمال پر کاربند رہنے والے اہل سنت وجماعت ہیں ،ہمارا مشن ہی خلق خدا سے محبت اور ان کی خدمت ہے ،ہم امت میں اتحاد کے خواہاں ہیں مگر شرط وہی ہے کہ آپ کو گستاخانہ عقائد سے توبہ ورجوع کرنا ہی ہوگا ۔

सूफीमत और प्यार व सहिष्णुता का आँदोलन: सय्यद मोहम्मद ज़फर मुजीब मदारी ,वली अहद: खानकाह मदारिया मकनपुर शरीफ

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

صوفی ازم اور تحریک محبت ورواداری

ازقلم سید محمد ظفر مجیب مداری
ولیعہدخانقاہ مداریہ مکن پور شریف
تاریخ اس بات پر شاہد ہے ہے کہ دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے لیکر آج تک آپسی محبت وراداری کا پیغامبر وہ طبقہ رہاہے جس نے رسالت مآب علیہ السلام کے اقوال واحوال وافعال وخیال کی صحیح معرفت حاصل کی اور واضح رہے کہ یہ معرفت صرف عشق کامل سے حاصل ہوتی ہے اور اس کے لئے مشیت خود منتظم ہوتی ہے۔
ہر چند کہ دور رسول میں عام طورپر تصوف وصوفیت کا کوئی باقاعدہ شعبہ نہیں تھا لیکن تصوف ہر صحابی میں جھلکتا تھا اور بعض پر تو متصوفانہ رنگ خوب خوب چڑھا ہوا تھا۔جس کی تفصیل اکابرین امت نے اپنے ملفوظات ومکتوبات میں جا بجا پیش فرمائی ہے۔یاایھاالناس اتقوربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منھا زوجھا وبث منھما رجالا کثیرا ونساء ‘‘مذکورہ بالا آیت کریمہ ہر وقت صوفیانہ روش کے افراد کے پیش نظر ہوتی ہے ۔حدیث رسول’’خلق اللہ آدم علی سورۃ‘‘کے مفہوم ومعانی کی گہرائیوں تک صوفیاء کی پہونچ اپنے آپ میں بے مثال ہے۔صوفیاء رسالت مآب علیہ السلام کی حیات شریف کا ہر واقعہ و گوشہ چاہے وہ مکی زندگی کا ہو یا مدنی زندگی کا۔ابتدا کا ہو یا دور آخر کاتمام ادوار اور ہر گوشے پرنظررکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی صفت بندہ پروری وخلاقیت و رزاقیت پرنظر رکھتے ہیں ۔پیارے رسول کی شان رحمۃ اللعٰلمین ادائے رحمت نوازی صفت کرم فرمائی کو بنظر غائردیکھتے ہیں۔یہی تمام اسباب ہیں جنکی وجہ سے صوفی ہمیشہ امن وامان کا داعی ہوتا ہے۔محبت ورواداری کا محرک ہوتاہے۔آپسی بھائی چارہ مروت و حسن اخلاق کا پیغام عام کرتا رہتا ہے۔فیض رسانی نفع بخشی میں مسلم و غیر مسلم کا فرق نہیں کرتا سکھ اور عیسائی کے درمیان کچھ امتیاز نہیں کرتا وہ پوری مخلوق کو اللہ کا کنبہ ’’الخلق عیال اللہ‘‘سمجھ کرسب کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے۔
آج کے اس پرآشوب دور میں جبکہ انسان ہی انسانیت کے دشمن ہو چکے ہیں پر امن ملک و معاشرے نفرت کے منھ میں جھونکے جا رہے ہیں انسان کش تحریکیں اور تنظیمیں چل رہی ہیں بھائی بھائی کا دشمن ہوتا جا رہا ہے ،فرقہ وارانہ فسادات کے باعث بستیاں اجاڑی جا رہی ہیں،بے قصور افراد موت کے گھاٹ اتاردئے جا رہے ہیں ۔چنانچہ ایسے حالات میں اب شدیدضرورت ہے کہ صوفی ازم کو عام کر دیا جائے اور تمام صلح پسند طبائع کے لوگ آگے بڑھ کر صوفی ازم کو عام کرنے میں اپنا تعاون دیں۔کیونکہ دہشت گردی،آتنک واد فرقہ پرستی کا مؤثرعلاج صوفی ازم کے علاوہ اور کہیں نہیں ہے۔آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ قابل مبارک بادہے کہ جوسسکتی ہوئی انسانیت کا درد محسوس کرتے ہوئے انسانیت سوز دور میں صوفی ازم کو عام کرنے کی شاندار کوشش کر رہا ہے۔خانقاہ مداریہ مکن پور شریف کا ولیعہد ہونے کی حیثیت سے تمام وابستگان اہل سنت سے پرخلوص گزارش کرتا ہوں کہ حضرت اشرف ملت علامہ سید محمد اشرف کچھوچھوی مدظلہ العالی کے قدم بہ قدم چل کر اس تحریک کو کامیابیوں سے ہمکنار کریں بالخصوص سلسلۂ مداریہ کے تمام مشائخ عظام پیران کرام و علمائے عظام سے ملتجی ہوں کہ اس بورڈ کو ہر ممکن تعاون دینے کے لئے ہمیشہ تیار رہیں۔

सूफीमत और मानवता: मौलाना फय्याज़ अहमद मिस्बाही शरावस्ती

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity


صوفی ازم اور انسانیت 
مولانا فیاض احمد مصباحی شراوستی
آل انڈیاعلماء و مشائخ بورڈ کی طرف سے منعقد بنام “صوفی ازم اور انسانیت ” سیمنار اپنی نوعیت کا پہلا سیمنار ہے جو ڈوبتی ہوئی انسانیت کی کشتی کو بچانے کے لیے صوفی ازم کی تعلیمات اور ہدایات کو پیش کر رہا ہے تاکہ موجودہ دور میں صوفیاء کرام کی تعلیمات اور ان کے اعمال کی روشنی میں ایک انسان دوسرے انسان کو پہچان سکے اور عالمی بحران کا خاتمہ ہو سکے ہم بورڈ کے سبھی اراکین کو سب سے پہلے مبارکبادی پیش کرتے ہیں !
ناظرین کرام ! محسن انسانیت حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کے وہ روشن پہلو جن کا زیادہ تر تعلق آپ کے اخلاق و کر دار اور تزکیہ نفس و تصفیہ قلب سے ہے انہیں کو ہی احسان و سلوک اور تصوف و طریقت کہا جا تا ہے اور اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جن کے اولین نمونہ اصحاب صفہ تھے، جنہوں نے بہت سی دینوی چیزوں سے بے نیاز ہو کر مسجد نبوی کے ایک مخصوص حصے میں مصروف عبادت و ریاضت ہو کر اپنے شب و روزگزار نے کو ہی اپنامطمح نظر بنالیا تھا یوں تو سبھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہر اعتبار سے سیرت نبوی کے پاکیزہ نفس و پا کیزہ قلب اور جامع شریعت و سنت تھے، اور ہر شعبہ زندگی میں ان کی یہ ساری مصروفیات تھیں، جب کہ اصحاب صفہ ہر طرف سے یکسو ہو کر مسجد نبوی میں خلوت گزیں ہو گئے تھے تصوف و طریقت کا مقصود اصلی معرفت نفس کے ساتھ معرفت الٰہی ہے، اور اس معرفت الٰہی خدا شناسی اور خد ارسی کیلئے علم کی شکل میں کتاب الٰہی اور عمل کی شکل میں ذات نبوی یہ دو ایسے نور ہیں جن کی رہنمائی میں ہی صراط مستقیم پر گامزن ہوکر خدا ئے سبوح و قدوس کی بارگا ہ تک رسائی ہو سکتی ہے اور اس کا قرب حاصل کیا جاسکتاہے۔ اسلامی تصوف کا امتیاز یہ ہے کہ یہ دنیا میں رہ کر دنیا سے بے نیازی کا حکم دیتا ہے اہل و عیال سے رشتہ اخوت و محبت قائم رکھتے ہو ئے ان کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے اسی طرح علم حاصل کر نے کی بطور خاص تاکید کر تا ہے اور کسب معاش و وزق حلال و اکل حلال و صدق مقال کی ہدایت دیتا ہے ان ساری صورتوں میں حکم الٰہی کی تکمیل اور رضا ئے الٰہی کی طلب اس کا اصل مقصد ہو تا ہے، یہی و جہ ہے کہ اسلامی تصوف کے حاملین خلق خدا کے درمیان رہتے ہو ئے بھی ان سے مستغنی اور خلاق عالم کی طرف متوجہ اور اس کے فضل و احسان کے طالب ہو تے ہیں۔
جسم کے ظاہری اعمال کے متعلق قرآن وسنت سے ماخوذ گہرے علم کو اصطلاح میں’’فقہ‘‘ کہتے ہیں اور دل کے باطنی اعمال کے متعلق قرآن وسنت سے ماخوذ گہرے علم کو اصطلاح میں’’تصوف‘‘ کہتے ہیں۔تصوف کے متعلق احادیث، کتاب الزھد، کتاب الرقاق، کتاب الاخلاق میں ان ابواب کے تحت ملتی ہیں:الکبر، السوء الظن، الظلم، البخل، الحرص، التحقیر والتکلف، الحسد، الریاء وغیرہ برے اخلاق ہیں۔ اورالاخلاص، الصدق، الصبر، الشکر، الرضاء، القناع، حسن الخق، الحیاء ، التواضع ، الحلم، الخوف، الفراس وغیرہ اچھے اخلاق ہیں۔لیکن صوفیاء کی اصطلاح میں اس کے معنی ہیں: اپنے اندر کا تزکیہ اور تصفیہ کرنا، یعنی اپنے نفس کو نفسانی کدورتوں ا وررذائلِ اخلاق سے پاک وصاف کرنا اور فضائلِ اخلاق سے مزین کرنااور صوفیاء ایسے لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنے ظاہر سے زیادہ اپنے اندر کے تزکیہ اور تصفیہ کی طرف توجہ دیتے ہیں اور دوسروں کو اسی کی دعوت دیتے ہیں اور لفظ صوفیاء ایسے لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اپنے اندرکے تزکیہ وتطہیر کی طرف توجہ دیتے ہیں ور اب یہ لفظ ایسے ہی لوگوں کے لیے لقب کی صورت اختیار کر چکا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں ایسے لوگوں کا اکثر لباس صوف یعنی اون ہی ہوتا تھا اس وجہ سے ان پر یہ نام پڑ گیااگرچہ بعد میں ان کا یہ لباس نہ رہا اور حدیث شریف کی کتابوں میں ایک حدیث ’’حدیثِ جبرئیل‘‘ کے نام سے مشہور ہے،اس میں ہے کہ ایک دن جبریل علیہ السلام انسانی شکل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ سوالات کیے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ:احسان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ: احسان یہ ہے کہ تم خدا کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر ایسی کیفیت نہ پیدا ہو کہ تم خدا کو دیکھ نہیں پا رہے ہو تو کم سے کم یہ یقین کرلوکہ وہ دیکھ رہا ہے اور بندہ کے دل میں اسی احسان کی کیفیت پیدا کرنے کا صوفیاء کی زبان میں دوسرا نام تصوف یا سلوک ہے۔ تصوف در اصل بندہ کے دل میں یہی یقین اور اخلاص پیدا کرتا ہے۔ تصوف مذہب سے الگ کوئی چیز نہیں، بلکہ مذہب کی روح ہے۔ جس طرح جسم روح کے بغیر مردہ لاش ہے، اسی طرح اللہ کی عبادت بغیر اخلاص کے بے قدر وقیمت ہے۔ تصوف بندہ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی محبت پیدا کرتا ہے۔ اور خدا کی محبت بندہ کو مجبور کرتی ہے کہ وہ خلقِ خدا کے ساتھ محبت کرے، کیوں کہ صوفی کی نظر میں خلقِ خدا، خدا کا عیال ہے۔ اور کسی کے عیال کے ساتھ بھلائی عیال دار کے ساتھ بھلائی شمار ہوتی ہے خدا کی ذات کی محبت بندہ کو خدا کی نافرمانی سے روکتی ہے اور بندگانِ خدا کی محبت بندہ کو ان کے حقوق غصب کرنے سے روکتی ہے۔ اس لیے صوفیاء حضرات کی زندگی حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پوری طرح ادا کرتے ہوئے گذرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو چیز انسان کو اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بنائے اور اس کے بندوں کا خیرخواہ بنائے اسکی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لوگ عام طور پر جب صوفی ازم اور تصوف پربات کرتے ہیں تو ان کے پیش نظر کچھ صوفیاء اور بزرگ ہوتے ہیں جوا پنی ذات میں بہت صالح، خدا ترس اورمتقی ہوتے ہیں ،خالق کی یاد میں مشغول رہنے والے اور مخلوق کے لیے سراسر رحمت صفت ان بزرگوں کے بارے میں لوگ بالعموم محبت اور حسنِ ظن کا تعلق رکھتے ہیں تاہم جب ہم علم تصوف کے بارے میں کوئی گفتگو کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر یہ بزرگ نہیں ہوتے ، بلکہ تصوف کی وہ روایت ہوتی ہے جسے قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھنا بہرحال ہماری ذمہ داری ہے۔
صوفی ازم انسان کا شعور ہر دور میں اس سوال کا جواب تلاش کرتا رہا ہے کہ اِس کائنات اور اِس کے بنانے والے سے کیا تعلق ہے ؟ اس سوال کا ایک مکمل جواب اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی دن سے اس شکل میں انسانوں کو دے دیا تھا کہ ان کے باپ اور پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو ایک نبی بنا کر بھیجا گیا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس رہنمائی کی یاد دہانی کے لیے ہر قوم اور ہر زمانے میں نبی اور رسول آتے رہے۔ اس رہنمائی میں اللہ تعالیٰ کی ذات ، صفات اور ان سے تعلق کی درست نوعیت کو بالکل کھول کر بیان کیا گیا تھا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان انبیاء کرام علیہم السلام کی اس رہنمائی کو فراموش کرتا گیا فراموشی اور غفلت کی اس فضا میں انسان نے اپنے طور پر اْن سوالات کی کھوج شروع کر دی جن کے جواب کے لیے یہ رہنمائی عطا کی گئی اس کھوج کی ایک شکل فلسفیانہ افکار کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ ان فلسفیانہ افکار نے مختلف شکلیں اختیار کیں ان میں ایک شکل وہ تھی جو مذہب سے بہت زیادہ متاثر تھی اور اس میں حقائق کی تلاش عقل کے بجائے باطن کی آوازاور وجدان کی بنیاد پر کی جاتی تھی۔ عقل اور وحی کے بجائے باطنی تجربے ، روحانیت اور وجدان کی بنیاد پر خدا سے تعلق کی یہ تحریک دنیا کے کم و بیش تمام مذاہب میں موجود رہی ہے۔بعض مذاہب مثلاً بدھ مت کی بنیاد ہی داخلی تجربے اور وجدان پر مبنی اس عالمی تحریک پر رکھی گئی ہے جبکہ بعض مذاہب میں جن میں یہودیت اور مسیحیت جیسے ابراہیمی مذاہب شامل ہیں اس کی ایک مستقل روایت موجود رہی ہے اسلام جب عرب سے نکل کر عجم پہنچا تو نومسلموں کے قبول اسلام کے ساتھ ساتھ یہ عالمی روایت، مسلم معاشرے میں خاموشی سے سرائیت ہونے لگا تھا تواس وقت مشائخ عظام، علماء کرام اور صوفیاء کرام اس روایت کو صوفی ازم یا تصوف میں داخل ہونے سے بچایا اس تفصیل سے یہ بات واضح ہے کہ تصوف ایک اسلامی تصور ہے اور ایک عالمی تحریک ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے انسانوں کی بھلائی کے بارے میں مکمل طور کوشاں رہتی ہے اور اسلام کے ظہورکے بعد جب دیگر مذاہب کے لوگوں کی بہت بڑ ی تعداد مسلمان ہوئی تو ان کے ساتھ تصوف کی یہ تحریک مسلمانوں کا دائرہ کار وسیع تر ہوتا گیا اور مسلمانوں کے بڑ ے بڑ ے اہل علم اس سے متاثر ہوئے اوراسے قرآن و حدیث سے مزین کئے تاہم یہ بات اپنی جگہ مبنی بر حقیقت ہے کہ ائمہ اہل تصوف جب خالص علمی انداز میں اپنے نظریات بیان کرنا شروع کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ ان نظریات کا تعلق اسلام سے مکمل طور پر ہے ،صوفیاء حضرات اپنی تعلیمات میں سب سے زیادہ جس چیز پر زور دیتے ہیں وہ عشق ومحبتِ خداوندی ہے ،کیوں کہ محبت ہی ایک ایسی چیزہے جو محب کو اپنے محبوب کی اطاعت پر مجبور کرتی ہے اوراس کی نا فرمانی سے روکتی ہے اور محب کے دل میں محبوب کی رضا کی خاطر ہر مصیبت وتکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی قوت وصلاحیت پیدا کرتی ہے،اور محبت ہی وہ چیزہے جو محب کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ایسا عمل کرے جس سے محبوب راضی ہو اور ہر اس عمل وکردارسے باز رہے جس سے محبوب ناراض ہو ،چنانچہ صوفیا حضرات اگر زہد، تقویٰ،عبادت،ریاضت اور مجاہدے کرتے ہیں تو ان کا مقصد صرف اورصرف خداکی رضا حاصل کرنا ہوتا ہے۔وہ جنت کی لالچ یا جہنم کے خوف سے خدائی بندگی نہیں کرتے چنانچہ حضرت رابعہ بصریہ اپنی ایک دعا میں فرماتی ہیں:’’خدایا! اگر میں تیری بندگی جنت کے لیے کرتی ہوں تو مجھے اس سے محروم رکھنا ،اگر میں جہنم کے خوف سے تیری عبادت کرتی ہوں تو مجھے اس میں جھونک دینا ،لیکن اگر میں تیری بندگی تجھے پانے کے لیے کرتی ہوں تو مجھے اپنے آپ سے محروم نہ رکھنا ‘‘(مقالات الاولیاء )
شیخ شبلی تو یہاں تک فرماتے ہیں: ’’الصوفی لا یریٰ فی الدارین مع اللہ غیراللہ‘‘ ( کشف المحجوب) صوفی دونوں جہانوں میں اللہ تعالیٰ کی ہستی کے علاوہ اور کسی چیز کو نہیں دیکھتا۔ ‘‘امام ربانی فرماتے ہیں :’’ مقربین بارگاہ الہٰی یعنی صوفیاء حضرات اگر بہشت چاہتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ ان کا مقصد نفس کی لذت ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ خدا کی رضا کی جگہ ہے ، اگر وہ دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ اس میں رنج والم ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ خدا کے ناراضگی کی جگہ ہے ، ورنہ ان کے لیے انعام اور رنج والم دونوں برابر ہیں۔ ان کا اصل مقصود رضائے الہٰی ہے،
صوفیاء حضرات کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کیے بغیر معرفتِ خداوندی اور نجات کا حصول نا ممکن ہے۔ چنانچہ امام ربانی شیخ احمد سرہندی ایک مکتوب میں لکھتے ہیں : ’’اس نعمتِ عظمیٰ یعنی معرفت خداوندی تک پہنچنا سیدالاولین والآخرین کی اتباع سے وابستہ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کیے بغیر فلاح ونجات ناممکن ہے۔ ‘‘محال است سعدی کہ راہ صفاتواں رفت جز درپئے مصطفٰے) شیخ احمد سرہندی : مکتوبات ، مکتوب 78 ،ج اول ، ص279(’’اے سعدی!یہ ناممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کیے بغیر خداکی معرفت اور تصفیہ قلب حاصل ہو سکے ‘‘۔یہی بات قرآن مجید میں اللہ تعالی اس طرح ارشادفرماتاہے۔ ترجمہ:آپ ان کو بتادیجیے کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو ، نتیجے میں ا للہ تعالی تم سے محبت کرے گا اس لیے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت خود خدا کی اطاعت ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالی ٰ ہے۔ ترجمہ’’جس شخص نے خدا کے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی۔ ‘‘کیوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ بولتے ہیں وہ وحی الہٰی ہی ہوتا ہے ، چناں چہ ارشاد باری ہے۔ترجمہ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی خواہشات سے نہیں بولتے ، وہ جو کچھ تمہیں دین کے بارے میں دے رہے ہیں وہ وحی الہی ہے، جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘اس لیے ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا ترجمہ:جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں رک جاؤ۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کا اس وقت تک ایمان کامل ہی نہیں ہو سکتا وہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر چیزسے زیادہ محبت نہ کرے اور اپنی ساری خواہشات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے تابع نہ بنادے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔تم میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے والدین اولاد اورسب لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب نہ رکھے۔ ‘’’ تم میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہشات میرے لائے ہوئے طریقے کے مطابق نہ ہوں ‘‘صوفیاء حضرات جتنے مجاہدے، ریاضات اور عبادات کرتے ہیں یا ان کا اپنے معتقدین کو درس دیتے ہیں ان کا اصل مقصد نفس کا تزکیہ اور تطہیر ہے چنانچہ ایک صوفی بزرگ فرماتے ہیں کہ اے دوست! چاہے ایک حرف’’الف‘‘ ہی پڑھ لو، لیکن اپنے اندر کو پاک و صاف کرلو ، اگر اندر کا تزکیہ و تطہیر نہیں کرتے تو زیادہ پڑھنے اور ورق گردانی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن و سنت کیا کہتے ہیں ؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک دعا نقل کی ہے ۔ترجمہ: اے ہمارے پروردگار !میری اولاد میں ان میں سے ہی ایک رسول بھیج ، جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے اندر کا تزکیہ کرے۔ ‘‘ابراہیم علیہ ا لسلام کی دعا سے ظاہر ہے کہ کسی نبی کی بعثت تلاوت آیات اور تعلیم کتاب وحکمت کا اصل مقصد لوگوں کے اندر کا تزکیہ ہے۔ غور کیا جائے تو واضح ہوگا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اصل مقصد تزکیہ ہی تھا کیوں کہ تلاوتِ آیات و تعلیمِ کتاب وحکمت کا اصل مقصد تو تزکیہ ہی ہے، کیوں کہ اگر تعلیم سے تزکیہ قلب و تطہیر نفس حاصل نہ ہو تو تعلیم و تعلم ، درس و تدریس سب فضول ہے ایک اور مقام پر ارشاد باری ہے ۔ترجمہ’’بے شک وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور وہ ناکام ونا مراد ہو گیا جس نے اپنے نفس کو مٹی آلود کر دیا‘‘۔تصوف جن رذائلِ اخلاق سے اپنے اندر کو پاک کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔وہ یہ ہیں۔ بد نیتی ،نا شکری، جھوٹ ، وعدہ خلافی ، خیانت ، بد دیانتی ، غیبت وچغلی ، بہتان ، بد گوئی و بدگمانی ، خوشامد و چاپلوسی ، بخل و حرص ، ظلم ، فخر ، ریا و نمود و حرام خوری و غیرہ۔اور جن چیزوں سے اپنے اندر کوسنوارنے کی تعلیم دیتا ہے، وہ یہ ہیں:اخلاصِ نیت، و رع و تقویٰ ، دیانت وامانت ، عفت و عصمت ، رحم وکرم ، عدل و انصاف ، عفو ودرگذر ، حلم و بردباری ،تواضع و خاکساری ، سخاوت و ایثار، خوش کلامی وخودداری ، استقامت و استغنا وغیرہ جیساکہ حضرت ابو القاسم قشیری کی کتاب رسالہ قشیریہ اورشیخ علی ہجویری کی کتاب کشف المحجوب اور ابو نصر کی کتاب کتاب اللمع سے ظاہر ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن و سنت کا بیشترحصہ ان ہی رذائلِ اخلاق سے بچنے اور فضائلِ اخلاق سے اپنے
آپ کو مزین کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور اگر صرف ارکانِ اربعہ چار اہم عبادات ، نماز ، روزہ ،زکوٰۃ ، و حج پر غورکیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن وسنت نے ان کا مقصد ہی تزکیہ نفس و تطہیرِ قلب بتایا ہے۔۔جس کا صوفیا درس دیتے ہیں اور صوفیائے کرام کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ اپنے اور پرائے، نیک اور بد ، موافق اور مخالف سب کے ساتھ برداشت، رواداری اور حسن سلوک کا رویہ رکھتے ہیں اور اپنے معتقدین کو بھی اسی چیزکا درس دیتے ہیں، چنانچہ حضرت بصری کے بارے میں منقول ہے کہ : ’’ انہیں کچھ لوگوں نے بتایاکہ فلاں شخص آپ کی عیب جوئی کر رہا ہے ،تو آپ نے بجائے اس پر غصہ کرنے یا انتقام لینے کے بطور تحفہ اس کو تازہ کھجوریں بھیج دیں ‘‘۔
جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور جاہلانہ رویے سے پیش آتے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ نرمی کرنے ، درگذر کرنے ، رواداری سے پیش آنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ۔ترجمہ’’ عفو و درگذر سے کام لو ، اچھائی کا حکم دیتے رہو اور ان کی جاہلانہ باتوں سے روگردانی کرتے رہو۔ ‘‘۔
سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:’’قیامت کے بازار میں کوئی اسباب اس قدر قیمتی نہ ہوگا جس قدر دلوں کو راحت پہنچانا‘‘۔اور ان حضرات کے ہاں خلق آزاری سے بڑھ کر کوئی جرم نہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلقِ خدا کی خدمت پرابھارنے کے لیے مختلف طریقوں سے ترغیب دیتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا: بیواؤں اوریتیموں کی مدد کرنے والا خدا کے ہاں ایسا ہے جیسے مجاھد فی سبیل اللہ اور یہ بھی فرمایاکہ اس کو وہ اجر ملے گا جو ساری رات جاگ کر عبادت کرتا ہو اور جو ہمیشہ روزے رکھتا ہو۔‘‘مذکورہ بحث سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تصوف اور صوفیاء حضرات کی تعلیم در اصل قرآن و سنت کا نچوڑ اور اس کی عملی صورت ہے اور انسانیت کے لیے ضامن ہے.

रहमत तासव्वुफाना मिज़ाज रखती है :फरीदुद्दीन बस्तवी , अल जामियातुन निज़ामिया शकरोली, सनोली, महराज गंज, यूपी

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 رحمت تصوفانہ مزاج رکھتی ہے
فرید الدین بستوی
الجامعۃ النظامیہ شکرولی ،سنولی ،مہراج گنج یو پی
مذہب اسلام کی آمد سے قبل انسانیت جس جاں کنی کے عالم میں تھی وہ مورخ کی نوک قلم سے آج بھی تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ بچیوں کا زندہ درگور کیاجانا،اولاد م آدم کا غلامی کی بیڑیوں میں مقید ہونا،نسلا بعد نسل جنگوں کاچلنا،نوخیزبچیوں کوجبراً دریائے نیل کی آوارہ لہروں کے حوالے کرنا،بیواؤں کاستی ہونا،شمال سے لیکر جنوب تک شرق سے غرب تک ہرچہار جانب ظلم وجفا کابازارگرم تھا ۔قومی یکجہتی ،بھائی چارگی،اخوت ومحبت کادوردور تک نام ونشان نہ تھا ۔ایسے ماحول میں مذہب اسلام نے اپنی تصوفانہ تعلیمات کے ذریعہ کرۂ ارض پرایسا انقلاب بپاکیا کہ پوری دنیا اخوت ومحبت کاپیکر بن گئی۔ کلھم عیال اللہ کے سانچے میں ڈھل گئی۔ لافضیلۃ لعربی علی العجمی ولالعجمی علی العربی کا دستور مرتب ہوگیا۔بچیاں ذلت کے بجائے عظمت کامیناربن گئیں۔دریائے نیل کی رفتار پرہمیشگی کی مہر لگ گئی،غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئیں،بیوائیں چتاسے اٹھ کر شہنشاہی کاتاج زریں بن گئیں،انسانیت سوزی کا خاتمہ ہوگیا۔انسانیت سازی کی فضا ہموار ہوئی اورپوری دنیا میں اسلامی تصوفانہ تعلیمات سے آراستہ صوفیائے کرام نے انسانیت کی بکھری ہوئی زلفوں کوسرکی چوٹی کی مانند گوندھ دیا۔
۱؂ اسلام کی تصوفانہ تعلیمات پر جب ایک مؤرخ اپنا قلم اٹھا تا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصوفانہ زندگی اس کی نگاہوں کے سامنے ہو تی ہے ، میدان طائف کا وہ واقعہ جو رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیا جا سکتا ، پتھروں کو زندگی دینے والے مصطفی پر پتھروں کے دیش میں پتھروں کی بارش ہو رہی ہے ، جسم لہو لہان ہے ،پیر ہن چاک ہو رہے ہیں ، ملک جبال عرض کر رہا ہے ، پانی کا فرشتہ عرض کر رہا ہے ، ہواؤں پر قدرت رکھنے والا فرشتہ التجا کر رہا ہے : یا رسول اللہ اجازت دیں اس قوم کو تباہ کر دوں جو آپ کو لہو لہان کر رہی ہے ، جسم اطہر کو زخمی کر رہی ہے۔ارشادہوتاہے نہیں ،نہیں اے فرشتوں! ایسا نہ کرنا ، میں ایسی اجازت نہیں دے سکتا ، میں پوری دنیا کے لئے رحمت بن کر آیا ہوں ، رحمت تصوفانہ مزاج رکھتی ہے ، زخم تو کھاتی ہے ،زخم دیتی نہیں ۔اے فرشتوں! میں رب کی بارگاہ میں دعا گو ہوں’ ’اللھم اھد قومی فانھم لا یعلمون‘‘ اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے دے ، وہ تمہیں نہیں جا نتی ، تیرے رسول کو نہیں پہچانتی ، تیرے قرآن کو نہیں سمجھتی۔
۲؂ نبی کا یہ کردار پوری دنیا کے لئے انسانیت کا پیغام تھا ، صوفیائے کرام نے انہیں تعلیمات کی بدولت لوگوں کے دلوں میں شمع اسلام کو روشن کیا ۔
۱؂ نبی کا پیغام تشدد سے انحراف تھا ، ظلم و جفا سے دوری تھی ، قتل و غارت گری سے کنارہ کشی تھی ، وحدت انسانیت کی تعلیم تھی ، قومی یکجہتی کا درس تھا ۔
دین اسلام کی تبلیغ تصوفانہ کردار سے ہو ئی، تلواروں سے سرحدیں تو فتح ہو ئیں ، اسلحوں سے ملک زیر نگیں ہو ئے مگر دلوں کو فتح کرنے کا سلیقہ تصوف سے ملا ’’ اسلام کا فروغ بادشاہی ازم سے نہیں بلکہ صوفی ازم سے ہوا ‘‘ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں تو مٹ گئیں ، تلواروں کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا مگر دلوں کی حکمرانی آج بھی باقی ہے ، آج بھی خانقاہوں میںآرام فرمانے والے اصفیا ء دلوں پر حکومت کر رہے ہیں ۔ اور انسانیت نوازی کا پیغام دے رہے ہیں ، قومی یکجہتی کا نظام دے رہے ہیں ، بلا تفریق رنگ و نسل حاجت روائی کر رہے ہیں ۔
تصوف و تشدد دو متضاد چیزیں ہیں جہاں تصوف ہو گا وہاں تشدد نہیں اور جہاں تشدد ہوگا وہاں تصوف نہیں ہو سکتا ۔ آج مختلف ذرائع کے ذریعہ ایک متشدد قوم خود کو تصوف کا پیرو کار کہہ رہی ہے اور اپنے نام نہاد اکابرین کو حامئ تصوف بتا کر پیش کر رہی ہے ۔ اگر خطۂ نجد سے لے کر دیوبند تک ان کے متشددانہ کردار کی عکاسی کی جا ئے تو ان کے قول و فعل میں مشرق و مغرب کا بُعْد نظر آ ئے گا ۔
خطہ عرب میں سترہویں صدی سے لے کر آج تک ہو نے والی خونریزیاں نجدی تعلیمات کا نتیجہ ہیں اور وطن عزیز میں انگریزوں کے دور حکومت سے لے کر اب تک جو فسادات رونما ہو ئے بالواسطہ نجدی پیروکاروں کی وجہ سے ہو ئے ۔ جو قوم خانقاہوں کے خلاف کتابچے نکالتی رہی ہو، صوفیاء کے مزارات کو بت کدہ کہتی رہی ہو، مزارات پر جا نے والوں کو بت پرست کہتی رہی ہو، ان کا خانقاہوں سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا ، مزاروں سے کوئی واسطہ نہیں ہو سکتا ۔
دیوبندیت ایک موقع پرست تنظیم کا نام ہے ، خطۂ عرب سے لے کر ہند تک انگریزوں نے وہابی مشن کے ذریعہ اپنی حکومت کا سکہ بٹھا یا ۔ ملت واحدہ کو مختلف خانوں میں بانٹا ۔ محمد بن عبدالوہاب اور آل سعود کے ذریعہ سنت کے حامی ترکوں کے اقتدار کو ختم کیا اور چند نام نہاد عالموں کے ذریعہ محمد بن عبدالوہاب کی مشرکانہ ، کافرانہ ، گستاخانہ تعلیمات کو دیارِہند میں رواج دے کر ہندوستان سے مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ کیا اور مسلمانوں کی منظم تنظیم جو آزادئ ہند کے لئے کوشاں تھی ان کے درمیان انتشار کا بیج بو یا ، نتیجتاً خطۂ عرب میں ابن وہاب اور آ ل سعود کو ظاہری اقتدار ملا اور پس پست انگریزوں کا اقتدار جو کل بھی تھا اور آج بھی ہے اور ہندوستان میں دیوبندی جماعت جو ابن وہاب کی پیرو کار ہے وہ انگریزوں کی وظیفہ خوار ہو ئی ۔
آزادئ ہند کے بعد دیوبندی جماعت کے علماء نے کانگریسی حکمرانوں سے روابط قائم کئے ، ہندوستان کے مختلف خطوں میں کانگریس کے دور حکومت میں مسلم کش فسادات ہو تے رہے اور یہ موقع پرست تنظیم مسجدوں پر قبضہ کرتی رہی ،اوقاف پر قبضہ کرتی رہی ، اقلیتی امور پر اپنی اجارہ داری قائم کرتی رہی ، بچی تھیں خانقاہیں، ان پر بھی چند نام نہاد سیاسی رہنماؤں کے ذریعہ اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی فراق میں نظر آ رہی ہیں ۔
وقت کا تقاضہ ہے، احقا ق حق اور ابطال باطل ہو ، متشدد قوم کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو ، تشدد و تصوف کے فرق کو واضح کیا جا ئے ۔ وہابیت اور صوفیت کے درمیان خطۂ امتیاز کھینچا جا ئے۔