उलमा मशाईख बोर्ड दिल्ली व अल अशरफ ट्रस्ट का रमज़ान में राशन बाँटने का सिलसिला जारी !

26 अप्रैल 2020, नई दिल्ली

आल इंडिया उलमा व मशाइख बोर्ड और अल अशरफ ट्रस्ट के तत्वाधान में ज़रूरतमन्द व असहाय लोगों तक मदद पहुंचाने का सिलसिला रमज़ान के मुबारक महीने में भी जारी है, बोर्ड के लोग हर जगह ज़रूरतमंदों तक राशन किट और दूसरी ज़रूरी सहायता पहुंचा रहे हैं।
बोर्ड दिल्ली शाखा के सेक्रेटरी सय्यद शादाब हुसैन रिज़वी अशरफी के नृतत्व में सय्यद सऊद अख्तर व उम्मे फातिमा अशरफ अन्य के साथ मिलकर दिल्ली में लॉक डाउन के पहले दिन से दिल्ली के कोने कोने में पहुँच कर हक़दार तक राशन पहुँचा रहे हैं, यह सिलसिला रमज़ान शरीफ में भी जारी है, पहले रोज़े बोर्ड दिल्ली शाखा ने लगभग 100 हक़दार घरों तक राशन पहुँचाया ताकि उन्हें रोज़े रखने में कोई परेशानी पेश न आए.

बोर्ड के राष्ट्रीय अध्यक्ष हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी की लोगों से हर जरूरतमंद शख्स की हर संभव मदद पहुंचाने की अपील के बाद से राष्ट्रीय स्तर पर यह काम किया जा रहा है।

बोर्ड ने सभी से अपील की है कि देशभर में लोग सिर्फ अपने घर के 100 मीटर के दायरे की ज़िम्मेदारी उठा लें तो पूरे देश में कहीं कोई भूख से नहीं मर सकता, इस तरह हम भूख के साथ कोरोना को हरा कर नई तारीख लिख सकते हैं कि जिस देश में इतनी बड़ी आबादी रहती हो वहां लाकडाउन के बावजूद भी लोगों ने यह बताया कि इंसानियत के जरिए हम बड़ी से बड़ी चुनौती को पार कर सकते हैं। नबी की तालीम यही है कि अगर तुम्हारा पड़ोसी भूखा है और तुम खाना खा रहे हो तो तुम हरगिज़ मोमिन नहीं हो सकते, देश के 30 करोड़ मुसलमान इस पर अमल कर देश के सभी भूखों का पेट भर दे इसके लिए उन्हें सिर्फ 2 लोगों के खाने का इंतजाम करना है।

نئی نسل کو بچانے کے لیےخاندان کی ہر بیٹی کو تعلیم یافتہ بنایا جائے : سید محمد اشرف

عرس اعلی حضرت اشرفی میاں کچھوچھہ شریف کے سالانہ پرگرام میں حضور اشرف ملت کا فرمان
ہر سال کی طرح امسال بھی عالم اسلام کی عظیم ہستی،مجدد سلسلہ اشرفیہ،اعلیٰ حضرت سیدمحمد علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی قدس سرہ کا سالانہ عرس پاک نہایت تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوا جس میں محفل عید میلاد النبی سے خطاب فرماتے ہوئے حضرت اشرف ملت نے کہا کہ اگر امت مسلمہ اپنی آنے والی نسلوں کو بچانا چاہتی ہے تو اسے اپنے گھر کی کم سے کم ایک بچی کو دینی تعلیم وتربیت سے آراستہ کرنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ بعض خلاف اولی مسائل کا سہا را لے کر خواتین کو مکمل طور پر معاشرتی دھارے سے کاٹ کر علاحدہ کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کو دینی مسائل سیکھنے کا موقع کم سے کم ملتا ہے۔اور ہر بچی مدرسہ میں جاکر تعلیم بھی حاصل نہیں کر سکتی ہے اس لیے صنف نازک کو ایساماحول فراہم کرنا ہی ہو گا جس سے وہ دین ومذہب کی سمجھ حاصل کرسکے۔مزارات پر عورتوں کی حاضری تمام فتا وی کے باوجود نہیں رک سکی، لہٰذا اب اس کو روکنے پر قوت صرف کرنے کی بجائے اسے بار آور بنا یا جائے،اوراعراس میں ان کی حاضری کوانھیں دین کی تعلیم وتر بیت سے جو ڑنے کا ایک حسین موقع بنا دیا جائے۔آخر مفتیان کرام عورتوں کے لیے نسواں اجتماعات منعقد کرہی رہے ہیں تو اجتماع کی نیت سے عرس میں جانا کیونکر ممنوع ہو سکتا ہے۔انھوں نے عورتوں کی فعال کا رکردگی کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کے ظالمانہ کالا قانون سی اے اے، این آر سی، اور این پی آر، کی مخالفت کا پرچم جس طبقے نے بلند کیاہے اور قوم وملت کی عزت وآبرو بچائی ہے،اور یہ نتیجہ ہے ان کے دنیا وی تعلیم سے جڑنے کا،اب اگروہی طبقہ دینی تعلیم سے بھی جڑ گیا تو اندازہ کرسکتے ہیں کہ کیسا عظیم الشاان انقلاب آسکتا ہے۔
پروگرام کا آغاز تلاوت کلا م پاک سے ہوا،اس کے بعد محمدثاقب سلمہ متعلم جامعہ اشرفیہ مختا رالعلوم ٹانڈہ اور دیگر مداحان رسالت نے نعت ومنقبت کا نذرانہ پیش کیا۔اس کے بعدمفکر اسلام حضرت مولانا حبیب الرحمن علوی مداری سدھارتھ نگری ایکزیکٹوممبر بورڈ نے اشرف ملت کی قائدانہ صلاحیت کے موضوع پر پرمغز خطاب فرمایا۔اور کہا کہ قائد کے بغٖیر بڑی سے بڑی فوج بھی ناکام ہو جاتی ہے۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر واحسان ہے کہ امت مسلمہ کا یہ مسئلہ حضرت اشرف ملت کے منظر عام پر آنے کے بعد حل ہو چکا ہے،قومی وملی مسائل پر اشرف ملت کی نگاہ بہت باریک ہے،اس لیے پوری قوم کو قائد تلاش کرنے کی بجائے ان کی قیادت پر متفق ہو جاناچاہیے۔اور آل انڈیا علما ومشائخ بور ڈ اس کے لیے سب سے موزوں پلیٹ فارم ہے۔جو پچھلی ایک دہائی سے قوم وملت کی ترجمانی کر رہاہے۔علامہ مداری نے کہا کہ جو لوگ بورڈ کی بے بنیادافوہوں کی وجہ سے مخالفت کررہے ہیں ان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے،اور قوم وملت کے سرمایے کو برباد ہو نے سے بچا ناچاہیے۔یہ ایک سنہرا موقع ہے اس سے فائد ہ اٹھا نا چاہیے۔
اس کے بعد امیرا لقلم حضرت علامہ ومولانا مفتی صوفی مقبول احمد سالک مصباحی بانی ومہتمم جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی،نئی دہلی نے اطاعت امیر کے موضوع پر شاندار خظاب فرمایا اور کہا کہ امت مسلمہ کے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف اطاعت امیر میں ہے۔۴۱سو سالوں سے امت مسلمہ جو انارکی وبے چینی اور افتراق وانتشار کا شکا رہے اس کی بنیا دی وجہ امیر کی عدم اطاعت ہے۔اگر روز اول سے ہی امیر وقت کی اطاعت کی گئی ہو تی تو نہ قتل عثمان غنی کا بلوہ پیش آتا اور نہ حضرت مولاعلی،حضرت امام حسن کی مظلومانہ شہادت پیش آتی۔اور نہ ہی آ نے والے وقت میں معرکہ کرب وبلا کا سانحہ پیش آتا،جس کا درد آج تک بھلایا نہ جاسکا۔مولانا سالک مصباحی نے کہا کہ آج بھی نہ عالم اسلام کا کوئی متفقہ قائد ہے اور نہ مسلمانان ہند کا ہی کوئی رہبر ورہنما ہے،شتر بے مہار کی طرح ہر قبیلہ اور مسلک جد اجد اراستے پر گامزن ہے۔جس کی وجہ سے پچھلے ستر سالوں میں مسلمان ستر بار اجتماعی قتل عام کا شکار ہو چکا ہے۔اورابھی حال میں دہلی میں ہونے والی تباہی کا درد ناک منظر سب کے سامنے ہے۔ مولانا مصباحی نے کہا کہ اب نہ کوئی نیا نبی آنے والا ہے اور نہ وحی الٰہی نازل ہونے والی ہے،اب ہمیں ہی کچھ کرنا ہوگا۔اور وقت بہت مختصر رہ گیا ہے،دشمن ہمارے صفایا کی پوری تیاری کرچکا ہے۔یکے بعد دیگرے سب کا نمبر آنے والاہے۔
مجاہد اسلام مولانا سید محمد عالم گیر اشرف اشرفی الجیلانی بانی سنی سینٹر ناگپورنے کہا کہ منافق اگر صحیح بات بھی کہے تو نہ سنا جائے جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہوا۔اور منافقین کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ منافقین سخت جھوٹے ہیں۔وجہ اس کی روح کلمہ سے منافقین کی ناواقفیت ہے۔اور روح کلمہ سے مراد ذات مصطفیٰ اور خاندان مصطفی ہے۔دور رسالت میں ذات مصطفٰی کے منکرین تھے اور اس کے بعد خاندان مصطفیٰ کے منکرین کی کثرت ہے۔اور یہ دونوں کے دونوں روح کلمہ سے ناواقف ہو نے کی وجہ سے مردود ومبغوض ہیں۔اور افسوس کہ آج بھی یہ دونوں ہمارے درمیان موجود ہیں۔اور ملت کے لیے ناسور ہیں۔مجاہد اسلام نے اس بات پر زور دیا کہ سادات کرام کی تعظیم وتوقیر کی تحریک کو آگے بڑھا یا جائے،اور سماج میں ان کے تئیں احترام وتکریم کے جذبات کو فروغ دیا جائے۔سادات اگرچہ کسی کی تعظیم وتوقیر کے محتاج نہیں ہیں مگر ان کی تعظیم وتوقیر سے مسلمانوں میں طاقت وقوت پیدا ہوتی ہے۔
عرس کا یہ پروگرام سہ روزہ تقریبات پر مشتمل رہا۔جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
۹/رجب المرجب،۱۴۴۱ھ مطابق ۵/مارچ ۰۲۰۲ ء بروز جمعرات ۴۲/واں عرس سرکار کلاں مخدوم المشائخ حضرت سید شاہ محمد مختا راشرف الاشرفی الجیلانی قدس سرہ العزیز
پروگرام: (۱)بعد نماز عصر: رسم پرچم کشائی وترانہ اشرفی،(۲)بعد نماز عشا: تقاریر علمائے کرام
۰۱/رجب المرجب،۱۴۴۱ھ مطابق ۶/مارچ ۰۲۰۲ ء بروز جمعہ۸/واں عرس شیخ اعظم محمد اظہا راشرف الاشرفی الجیلانی قدس سرہ العزیز بانی جامع اشرف وسجادہ نشین آستانہ عالیہ اشرفیہ حسنیہ سرکارکلاں درگاہ کچھوچھہ شریف و عرس عالم ربانی،ضلع امبیڈکر نگر،یو پی
پروگرام: (۱)بعد نمازفجر: قرآن خوانی،(۲)صبح ۹/بجے دن تا ۱/بجے دن: نعت ومنقبت ومحفل سماع،وقل شریف،(۳)بعد نماز عشا: تقاریر علمائے کرام
۱۱/رجب المرجب،۱۴۴۱ھ مطابق ۷/مارچ ۰۲۰۲ ء بروزہفتہ عرس اعلی حضرت شیخ لمشائخ سید شاہ ابو احمد المدعو محمد علی حسین الاشرفی الجیلانی،رضی اللہ تعالی عنہ
پروگرام: (۱)بعد نمازفجر: قرآن خوانی،(۲)صبح ۹/بجے دن تا ۱/بجے دن : نعت ومنقبت ومحفل سماع،وقل شریف مع فاتحہ ودعا (۳) بعد نماز ظہر: تقسیم لنگر
پروگرام کی سیادت وسرپرستی شیخ الہند حضور اشرف ملت ابوالنواز حضرت سید محمد اشرف الاشرفی الجیلانی،بانی وصدر آل انڈیا علما ومشائخ بور ڈ وچیر مین ورلڈ صوفی فورم،نئی دہلی نے فرمائی۔نظامت کے فرائض راقم السطورمحمد عرفان اشرفی خطیب وامام غوثیہ مسجد ڈالی گنج کراسنگ لکھنؤ نے انجام دی۔جب کہ نگرانی وترتیب کا فریضہ آل انڈیا علما ومشائخ بور ڈ کے قومی ترجمان امیر القلم مولانا مقبول احمد سالک مصباحی دہلوی نے انجام دیا۔پروگرام میں قرب وجوار کے عوام اہل سنت،سنی صوفی مسلمان،اورعلما ومشائخ کے علاوہ دورو دراز کے مریدین ومتوسلین اور علما ومشائخ نے بھی شرکت کی۔مولانا برکت حسین مصباحی پرنسپل،اور قاری مہتاب عالم استاذ جامعہ کاملیہ مفتاح العلوم،حافظ کاشف علی گو رکھپوری،قدیر جویلری کولھوئی بازار،مہراج گنج یوپی،مولانا مفتی تاج الدین اشرفی پرنسپل جامعہ اشرفیہ مختار العلوم ٹانڈہ،حضرت شیخ سرفراز احمد اشرفی خلیفہ حضور اشرف ملت (ہالینڈ)حضرت پیر محمد علی نقش بندی میرٹھ اورمولانا ابن علی اشرفی دوارکا (نئی دہلی) مولانا عظیم اشرف سنبھلی وغیرہ نے اپنی شرکت سے پروگرام کوکامیاب بنایا۔
جس دن خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکار کلاں میں عرس کا اختتام ہوتا ہے اسی دن خانقاہ شیخ اعظم سرکار کلاں میں عرس کا آغاز ہوتا ہے تاکہ کسی طرح کی تکرار اور مریدین کے لیے زحمت کا ذریعہ نہ بنے۔اور خانقاہ شیخ اعظم کا عرس بھی سہ روزہ ہوتا ہے،جیسا کہ اشتہار سے ظاہر ہے۔امسال آخری قل شریف میں خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکار کلاں کے صاحب سجادہ حضرت سید محمود اشرف اشرفی الجیلانی بھی رونق افروز ہوئے جس سے عرس اشرفی کا رنگ دوبالا ہوگیا۔اور دونوں برادران کو ایک جگہ ایک مجلس میں دیکھ کر زائرین اور خانوادہ کے افراد کے چہرے کھل اٹھے،۔حضور قائد ملت نے کرم نوازی فرماتے ہوئے آخری قل شریف میں دعا بھی فرمائی۔حضور قائد ملت کے ساتھ ساتھ آپ کے نور نظر ولی عہد،بھی جلوہ افروزرہے۔مزیدبرآں حضرت سید احسن میاں اشرفی جیلانی چیف ایڈیٹر مجلہ سرکارکلاں،حضور اشرف ملت کے برادر اصغر حضرت سید حماد اشرف اشرفی جیلانی،حضرت سید حسن میاں اشرفی جیلانی،حضرت سید راشد میاں اشرفی جیلانی حضرت سید عسکری میاں اشرفی جیلانی جانشین محدث اعظم،دامت برکاتہم وغیرہ کی آمد آمد نے پروگرام کو عرش نشین بناد یا۔
پروگرام کے اختتام پرتمام افراد خانہ، علماومشائخ، زائرین وحاضرین اور جامع اشرف کے تمام طلبہ واساتذہ کی لنگر عام سے ضیافت کی گئی۔اور یہ مبارک سلسلہ الحمد للہ تینوں دن جاری وساری رہتا ہے۔ ہر سال کی طرح امسال بھی ملک کے مختلف صوبوں اور علاقوں کے عقیدت منداں اور رضاکاران شریک ہوئے اورخانقاہ میں منعقد ہونے والی تمام تقریبات کو بحسن وخوبی انجام دیا۔خصوصیت کے ساتھ مختار العلوم کے طلبہ،اساتذہ،بہار وبنگال، راجستھان اور سنبھل ومراد آباد کے زائرین کی جان توڑ کوششیں بڑی قیمتی ہو تی ہیں۔اللہ تعالی ان تمام حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔اور بالخصوص غوث العالم،تارک السلطنت سلطان سید اشرف جہاں گیر سمنانی قدس رضی اللہ تعالی عنہ کے فیوض وبرکات سے مالامال فرمائے۔آمین

AIUMB की दिल्ली दंगों में तबाह लोगों के लिए रिलीफ की अपील ।


अस्सलामु अलैकुम ,
आप हज़रात बखूबी वाक़िफ़ हैं देश के हालात से और दिल्ली में जिस तरह की तबाही हुई उससे भी। कुछ नादान नफरत के नशे में चूर होकर कब इंसानियत के दुश्मन दरिंदे बन गए जिन्होंने बस्ती की बस्ती जला डाली, लोगों की जानें गईं , घर दुकान सब तबाह हो गए, लोग सड़कों पर आ गए। ऐसे में हम सब का दीनी और इंसानी फ़र्ज़ है कि हम इनकी मदद को आगे आएं और इनकी बिखरी ज़िंदगियों को समेटने का काम करें।
पैग़म्बरे इस्लाम हज़रत मुहम्मद मुस्तफा सल्लल्लाहू अलैहि वसल्लम के फरमान के मुताबिक़ मुसीबतज़दा लोगों की मदद बिना उनके धर्म और ज़ात पात को देखे इंसानियत की बुनियाद पर करनी है, सूफियों ने यही तरीक़ा अपनाया कि अपने अख़लाक़ से नफरतों की आग को ठंडा कर दिया, अब समय आ गया है, आपके आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड ने यह फैसला किया है कि हम सब मिलकर दिल्ली दंगों में उजड़े हुए लोगों को हर मुमकिन मदद पहुंचाएंगे ताकि उनकी ज़िंदगी पटरी पर आ सके।
इस अज़ीम कारे खैर में बोर्ड अपने सभी ज़िम्मेदारों से अपील करता है कि वे अपने अपने इलाकों में रिलीफ जमा करें और बोर्ड के ज़रिए दिए गए एकाउंट नंबर में इसे जमा करें ताकि लोगों को राहत पहुंचाई जा सके , जो फसाद में बर्बाद हुए हमारे भाई बहन हैं उनकी ज़िम्मेदारी हमारी है लिहाज़ा बढ़ चढ़ कर इस कारे खैर में हिस्सा लें।
अल्लाह हम सब के इस नेक अमल को अपने हबीब करीम जनाबे मुहम्मदुर रसूलुल्लाह सल्लल्लाहू अलैहि वसल्लम के सदक़े अपनी बारगाह में क़ुबूल फरमाए।
آمین یا رب العالمین. بجاہ سید المرسلین ﷺ
Account Details:
Bank : VIJAYA BANK, KALKAJI, DELHI
A/C : 606301011003687
Name : AL ASHRAF TRUST
Ifsc Code : VIJB0006065

आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड , दिल्ली

AIUMB Joint Secretary at 9th Annual International Conference on Tasawwuf/Sufism and World Peace.

Istanbul, Turkey: February 19th, 2020


First time India represented at the 9th Annual International Conference on Tasawwuf/Sufism and World Peace – Istanbul – Turkey.

Haji Syed Salman Chishty, Joint Secretary at All India Ulama & Mashaikh Board (An apex body of Sunni Sufi Muslims in India) represented 800 years old Sufi lineage of the Chishty Sufi Order from Ajmer Sharif and Indian Sub Continent at the Conference.

AIUMB Joint Secretary said He was Proud to raise our Indian Flag and represent All India Ulama & Mashaikh Board (An apex body of Sunni Sufi Muslims) India for the first time at the 9th annual International Summit on Sufism/Tasawwuf org by Intl Academy of Sufi Scholars in Turkey. Thanks to International Institute of Non Aligned Studies, Delhi for facilitating our presence at the summit.

Haji Syed Salman Chishty talked about importance of having Sufi Understanding of the hearts among the peace loving societies across the world and said that Sufism/Tasawwuf is primarily realized by the renditions of the hearts, not by analytics of the mind. Important to reflect on vibrations of the Heart to experience Spiritual longing n Belongings to the Divine Realm, In his remarks.
while He addressed the Round Table Discussion along with Sufi Scholars from over 50 countries mainly from Arab Middle Eastern, North African, Central and South Asia, USA, Balkans, European Union and Russian Federations.

Organised by “International Academy of Sufi Scholars and DarAsalaam Kulliasi”. Leading Islamic scholars, Spiritual leaders, Sufi personalities & diplomats from 50 countries & organisations have taken part.

Introducing AIUMB at the summit he said that All India Ulama & Mashaikh Board (AIUMB) has been established with the basic purpose of popularizing the message of peace of Islam and ensuring peace for the country and community and the humanity. AIUMB is striving to propagate Sunni Sufi culture globally .Mosques, Dargahs, Aastanas, and Khanqahs are such fountain heads of spirituality where worship of God is supplemented with worldly duties of propagating peace, amity, brotherhood and tolerance.

On the closing remarks Haji Syed Salman Chishty extended warm regards and thanks on behalf of India and extended the personal invitation to all Sufi Spiritual leaders to visit India and experience the rich spiritual and cultural heritage of India.

Concluding Prayers for World Peace was done collectively by all eminent Spiritual personalities.

By: Husain Sherani

ख्वाजा की नगरी में बरेली और देवबंद का गठबंधन :अब्दुल मोईद अज़हरी

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity
 

خواجہ کی نگری میں بریلی اور دیوبند کا اتحاد 
عبد المعید ازہری

ہندوستانی اسلام و تصوف کا مرکز ، خواجہ کی نگری اجمیر شریف اپنی روحانیت ، انسانیت ، ہمدردی و رواداری کے لئے جانی مانی اور پہچانی جاتی ہے ۔ یہ وہ در ہے جہاں سب کو پناہ ملتی ہے ۔لوگ اپنا گلہ شکوہ بھول کر آپسی میل جول کی مثالیں قائم کرتے ہیںْ۔ اتحاد و اتفاق کا عظیم گہوارہ اجمیر، امیر وغریب کے فرق کو مٹاکر انسانی رشتوں میں انسانی اقدار کی تعظیم و توقیر کا درس دیتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس در غریب نواز پر سبھی اپنی جبین عقیدت بڑی ہی نیاز مندی کے ساتھ جھکاتے ہیں۔بلا تفریق مذہب و ملت، ملک و بیرون ملک سے امن و محبت کی اس فضا کی زیارت کرنے آتے ہیں۔ یہاں کسی کو پھٹکاراور دھتکار نہیں ملتی ہے ۔ سبھی کو گلے لگایا جاتاہے ۔ جنہیں اس فکر و روایت سے محبت ہے انہیں بھی سینے سے لگایا جاتاہے اور جنہیں نفرت ہے ان کا بھی استقبال کیا جاتاہے ۔ غریب نواز کی غریب نوازی کا عملی نمونہ آج بھی اس چوکھٹ پر نظر آتاہے ۔ جہاں سب کو ایک نظر سے دیکھا جاتاہے ۔ مہمان نوازی ، تکریم و توقیر کی سیکڑوں مثالیں آج بھی در غریب نواز سے ملتی ہے ۔ انسانی دلوں سے منافرت کی بیماری کو محبت سے دور کیا جاتا ہے ۔
ایک بار پھر اسی نگر میں ایک ایسے اتحاد کی خبر آئی ہے جس کی باتیں کئی دہائیوں سے کی جارہی تھیں۔ ۱۳ نومبر کو جمیعۃ علماء ہند کے سالانہ اجلاس کے موقعہ پر دیوبند اور بریلی کے درمیان برسوں سے چل رہے تنازع اور اختلاف کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ دیوبند ی فکر کی نمائندگی مولانا محمود مدنی نے کی اور بریلوی مکتبہ فکر کی وکالت مولانا توقیر رضا خان بریلوی نے کی ۔ ان دونوں نے ہی مل کر ایک ایسے مسئلے و موقف کی حمایت و موافقت کر ڈالی جس کے لئے آج پوری امت مسلمہ پریشان ہے ۔یعنی تین طلاق کو غیر اسلامی قرار دے کر موجودہ حکومت کی مشکلوں کو آسان کر دیا ۔ جمیعۃ علماء کے اس سالانہ اجلاس میں تین بڑے کارنامے یا فریب ہوئے ۔ کارنامے اسلئے کہ جس مقصد کیلئے یہ اجلاس ہوا اور جس کے لئے اجمیر کا انتخاب ہو ا ،اس میں خاطر خواہ کامیابی نظر آرہی ہے ۔ فریب اسلئے کہ ان تینوں ہی کاموں سے امت مسلمہ کا کوئی تعلق نہیں بلکہ نقصان عظیم ہے۔اس اجلاس سے نکلنے ولاے نتیجے سوائے فریب ، ریاکاری اور سیاسی سوداگری کے کچھ نہیں ۔ تنخواہ دار مضمون نگار اس بات بڑا کارنامہ ضرور کہہ سکتے ہیں لیکن قوم مسلم کے ذ مہ دار اسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کر سکتے ۔ دونوں ہی مکتب فکر کے لوگوں کا ان معاملات میں اتفاق ممکن نظر نہیں آتا ۔
یہ تو سب جانتے ہیں کہ دیوبند اور جمیعۃ کا تعلق کس فکر سے ہے ۔ اس فکر کو پوری امت مسلمہ کے سامنے اجاگر کرنے کیلئے آل انڈیا علماء و مشائخ بوڈ نے اسی سال مارچ کے مہینے میں ایک بین الاقوامی صوفی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فار م پر لانے کی کوشش کی گئی ۔ اس میں کامیابی بھی ملی ۔ اس اتحاد کے ساتھ پوری دنیا میں اسلام کو بدنام کرنے والے(بنام) اسلامی افکار و نظریات(وہابیت/دہشت گردی) کی پرزور مذمت کی گئی ۔اس عظیم اتحاد کو پوری دنیامیں سراہا گیا لیکن ہندوستان کے دونوں مکتب فکر کے ان دونوں ہی نمائندوں نے اس کانفرنس کی جم کر مخالفت کی تھی ۔ اس مخالت سے انہوں نے اپنی فکراور منشاء لوگوں پر ظاہر کر دی تھی ۔ اس کانفرنس میں چونکہ تصوف اور صوفیاء کو مرکزی حیثیت میں رکھا گیا تھا اس لئے جمیعۃ نے ہندوستانی تصوف کے مرکز اجمیر کو اپنے اجلاس کے لئے منتخب کیا ۔تاکہ تصوف سے وابستگی کو ظاہر کر سکیں۔ پوری دنیا میں ان دونوں ہی فکروں کا وجود نہ کے برابر ہے ۔ ہندوستان میں بھی ان کے وجود و شناخت کو خطرہ لاحق ہو چکا تھا اسلئے دونوں نے اپنی عافیت اسی اتحاد میں سمجھی ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح پوری امت مسلمہ تین (سنی ،وہابی اور شیعہ)فکروں میں بٹی ہوئی ہے ۔ اس کے بعد تینوں میں بھی آپسی اختلافات ہیں۔ الگ مسلک اور مشرب میں منقسم ہیں۔ کبھی کبھی اختلاف کفر شرک تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔آج جس طرح وہابیت پوری دنیا میں سعودی وفاداری میں بے نقاب ہو چکی ہے اسی طرح بریلویت کے بارے میں انکشاف ہوچکا ہے کہ اس نام کا وجود ہندوستان ہی کے چند گوشوں تک محدود ہے ۔ اکثر اہل سنت و جماعت اپنے آپ کو بریلوی کہنا پسند نہیں کرتے ۔ یہاں تک کہ بریلویت جن نے منسوب ہے وہ خود بھی ان باتوں کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ہم بریلوی نہیں ۔ لیکن سیاست سے ہاتھوں بکی ہوئی چند زبانیں اور ان کو عوام میں جبرا رائج و مشہور کر کے دین کی تجارت کر نے والی غیرت و ایمان سے خالی کچھ تحریریں ان دونوں ہی ناموں کو زندہ کئے ہوئے ہیں ۔ سیاسی گلیاروں میں ان کا سودا ہورہا ہے ۔ مارچ کی کانفرنس کے بعد دونوں ہی کو لگا کہ اب وجود خطرے میں ہے اسلئے دونوں نے ہی پہلے تو مخالفت کی اسکے بعد اس کانفرنس کے جواب کیلئے اتحاد کا ناٹک کیا ۔ اس میں سیاسی جماعتوں کی دلچسپیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ پچھلی دہائیوں سے مسلمانوں کو ایک گجرات کے نام سے ڈرا کر اقتدار حاصل کرنے ولای کانگریس نے اپنے تما م تنخواہ داروں کو میدان میں اتار دیا ۔ کانفرنس کے دوران جنہوں نے قلمی دہشت گردی کا نمونہ پیش کیا ۔
جمیعۃ کے اس اجلاس میں دو ذاتی لوگوں کے اتحاد کو دو مکتب فکر کا اتحاد بتایا گیا ہے ۔ جس میں اردو صحافت نے اپنی(متعصب و فروخت) فکر واضح کرتے ہوئے نمک کا حق ادا کیا ۔پوری دیوبندی فکر کیا بریلوی مکتب فکر کے ساتھ اتحاد کرتی ہے ؟ کیا پوری وہابیت جمیعۃ اور محمود مدنی کو اپنا نمائندہ تسلیم کرتی ہے ؟ جب کہ جمیعۃ اس سے پہلے وہابیت سے توبہ کر کے صوفیا کا دامن پکڑنے کا اعلان کر چکی ہے ۔ اگر جمیعۃ صوفی ہو چکی ہے تو اتحاد کیسا ؟ اب تو دونوں بھائی بھائی ہیں ۔تو اتحاد کا رنگ دے کر فریب کیوں رچا گیا ؟اگر وہابی ہی ہیں تو تو صوفیت کا رنگ لگا کر فریب کاری کیوں کی گئی ؟ اب یہ اتحاد کیسا ہے ؟اگر یہ سیاسی اتحاد ہے تو اتحاد نہیں بلکہ سمجھوتہ ہے یعنی ایک دوسرے کے تعلق سے خیالات وہی پرانے ہیں بس سیاسی فائدے کیلئے دونوں ایک ہیں۔ تو ایسی کیا مجبوری ہے جس کیلئے سیاسی اتحاد کی ضرورت پڑ گئی ؟ کس جماعت کی حمایت اور کس پارٹی کی حمایت میں یہ اتحاد کیا گیا ؟ اگر آر ایس ایس اور بی جے پی کے خلاف یہ اتحاد ہے ۔ چونکہ اب ایسے حالات بنتے جارہے ہیں جس میں مسلمانوں اور دلتوں کو دن بہ دن پریشان کیا جا رہا ہے ۔ تو کیا ایسی صورت حال کانگریس کے زمانے میں نہیں آئی تھی؟ ایک وہ دور بھی تھا جب اٹل وہاری باجپائی وزیر اعظم تھے اورلا ل کرشن اڈوالی نائب وزیر اعظم تھے ۔ جس وقت پوٹا جیسا قانون نافذ کر مسلمانوں کو خوف زدہ اور ہراساں کیا گیا۔ بابری مسجد کی شہادت کا حادثہ پورے ملک اور اس جمہوریت پر ایک کالا دھبہ بن گیا تو کیا اس وقت کانگریس سے جڑی وہابی تنظیموں نے کانگریس کے خلاف کو اتحاد قائم کیا تھا ؟
اگر مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی وجہ سے اس اتحاد کی ضرورت ہے تو پھر اسی اسٹیج سے دوسرا بڑا فریب ’تین طلاق کو غیر اسلامی ‘ قرار دینے کا غیر اسلامی عمل کیوں کیا گیا ؟ آج ملک کے کونے کونے کا مسلمان روزانہ احتجاج کرتا ہے ۔ نشستیں قائم کرتا ہے ۔ اسلام اور شریعت کیلئے اپنے علماء کے ساتھ پوی جاں فشانی اور قربانی کے ساتھ کھڑا ہوتاہے ۔ لیکن یہ اتحاد ان تمام کروڑوں مسلمانوں کی قربانیوں کو چند روپیوں میں سیاست کے ہاتھوں بیچ دیتا ہے ۔ تین طلاق اور یکساں سول کوڈ کی لڑائی تو دونوں ہی فریق لڑ رہے ہیں۔ اس میں وہ لوگ بھی ساتھ دے رہے ہیں جو تین طلاق کو نہیں مانتے ۔ لیکن مذہبی آزادی میں دخل اندازای کے خلاف متحد ہیں۔ اسے تو اتحاد کہہ سکتے ہیں۔ لیکن مہینوں سے چلی آرہی مہم کا سودا بڑی بے باکی سے کر دیا ۔ اس پر مزید تماشہ یہ کہ دونوں ہی فریق کے ذمہ داران خاموش ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ، دیو بند اور اس فکر کی حامی تما م تنظیمیں اور ادارے اس پر خاموش ہیں۔ اسی طرح بریلوی مکتب فکر کا بھی پورا کنبہ خاموش ہے ۔ بین الاقوامی صوفی کانفرنس کی قلمی دہشت گردی سے انانیت اور تخریب پر مبنی مخالفت کو جہاد کا نام دینے والے نام نہاد قلم کار یٰس اختر مصباحی کے قلم کو بھی نیند آگئی یا پھر اپنے سیاسی اور دنیا دار آقاؤں کا اشارہ نہ ملنے کی وجہ سے زنگ لگ گئی ۔ فکری و سیاسی اشاروں پر مہم چلانے والے تحریر کے اس سوداگر کا بھی قلم اچانک ٹوٹ گیا ۔کل کی مخالفت کو دین کا نام دینے والے کا دین کیا آج بک گیا؟ پوری دنیائے سنیت پر اپنی مرکزیت تھوپنے والی پوری بریلویت خاموش ہے ۔ خاندان مذہبی اور سیاسی سوداگری کا شکار ہو گیا ۔
ایک کمرے میں دست بوسی اور قدم بوسی کی کی چاپلوسی کو عالمی صوفی مشن کہنے والے اشتیاق ایوبی اور ٹی وی پر زور زور سے چلاکر تہہ خانے میں صوفی کانفرنس کے خلاف میٹنگ کرنے والے مولانا انصار رضا بھی کسی خانہ میں کونہ بگوش حکم آقا کا انتظار کر رہے ہیں۔
شرک ، کفر اور بدعت کی کاروبار کرنے والی وہابیت بھی چپ ہے ۔اس کا بھی احساس دین و شریعت کسی مجبوری ، حکمت ، مصلحت کی نذر ہو گیا ۔ جمیعۃ کے اجلاس سے پہلے شور شرابہ کرنے والوں کو اچانک شانپ سونگھ گیا ۔آخر ایسا کیا ہوگیا کہ ہر طرف سناٹا سا چھا گیا ۔
اس وقت سنجیدہ اور اہل علم و دانش کی نظروں کا مرکز آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ ہے ۔ اس سنجیدہ معاملے پر اس بورڈ کی خاموشی بھی کئی سوال کھڑے کر رہی ہے ۔
پچھلے دس برسوں سے اپنی بے باکی اور حق گوئی کے لئے معترف و مقبول تنظیم بھی اس غیر معمولی مسئلے میں خاموش ہو تا الجھنیں اور بے چینیاں بڑھتی ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے عظیم اتحاد کی تاریخ رقم کرنے والی اس تنظیم سے ابھی امیدیں وابستہ ہیں ۔ امید یہی ہے کہ اس مسئلے میں بورڈ کے صدر و بانی سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کچھ لائحہ عمل ضرور تیار کر لیا ہوگا ۔ اجمیر میں ہونے والے اس اتحاد ، جمیعۃ کے صوفی شجرہ اور تین طلاق کے غیر اسلامی ہونے کے موقف پر دیو بندی اور بریلوی کے متحدہ اعلان پر اس بورڈ کے موقف کا انتظارہے ۔
*****

اجمیر میں جمعیت علمائے ہند کا اجلاس اور دیوبندی بریلوی اتحاد: دیکھئے اس بحر کی تہ سے اچھلتا کیا ہے!!! :غلام رسول دہلوی

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

آئیں:

پہلی چیز یہ کہ ہندوستانی مسلم کمیونٹی کے اندر فرقہ وارانہ تقسیم سے لڑنے کا مطالبہ کرنے والی تنظیم جمعیت علمائے ہند  ہے- اور دوسری چیز یہ ہے کہ دلت مسلم اتحاد کے لیے بھی آواز بلند کرنے والی تنظیم یہی ہے۔

کانفرنس میں مسلم کمیونٹی کو متاثر کرنے والے مذہبی اور سیاسی مسائل سے متعلق دیگر قرارداد بھی منظور کیے گئے۔ لیکن مذکورہ بالا دو ایجنڈوں کو نیشنل میڈیا کے اندر خوب مقبولیت اور ہمدردی بھی حاصل ہوئی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مقاصد اپنے آپ میں انتہائی اہم ہیں، لیکن جب باریک بینی کے ساتھ جانچ کی جاۓ تو جمعیت کے پاس ان مقاصد کو پورا کرنے کے لئے کوئی نظریاتی اور سیاسی دلیل ہے ہی نہیں۔

فرقہ وارانہ اتحاد کی مانگ ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ امت مسلمہ داخلی طور پر شیعہ اور سنی مذہبی تفرقوں کا شکار ہے۔ ان سب پر مستزاد دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث جیسی مسلکی تقسیمیں بھی ہیں۔ تاہم، یہ سب محض فروعی اختلافات نہیں ہیں، بلکہ برصغیر ہند میں ان کی نظریاتی جڑوں کی تاریخ تقریبا 150 سالہ پرانی ہے۔

غور طلب یہ ہے کہ ہندوستان میں امت مسلمہ کے اندر فرقہ بندی کی یہ روایت خود علماء دیوبند نے شروع کی ہے- انہوں نے اپنی مختلف مطبوعات اور خطبات کے ذریعے اپنے اس نظریہ کی اشاعت کی کہ ‘بریلوی عقائد’ کے حامل کامل مسلمان نہیں ہیں۔ ان کی دلیل کی بنیاد مزارات پر حاضری دینے کی سنی صوفی روایت پر ہے جسے کم از کم ہندوستانی کی سرزمین پر دیوبندی نظریہ سازوں نے ‘شرک و بدعت’ سے تعبیر کیا-انہوں نے مزارات پر حاضری کو اپنے اس دعوے کا “ثبوت” قرار دیا کہ بریلویوں پر ہندو اثر و رسوخ کا غلبہ ہے۔

تصوف کے گہرے فلسفہ کو بااثر دیوبندیوں نے قبر پرستی کا نام دے دیا۔ یہاں تک کہ ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان پیدائش اور موت کے موقع پر ادا کی جانے والی بظاہر غیر مضرت رساں روایتی رسومات کو بھی اسلامی ثقافت کے دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی؛ جو کہ اس عقیدے کی بنیاد پر ہر ہندوستانی رسوم و روایت کو مسترد کرنے کا ایک آسان ہتھکنڈہ ہے کہ عربی روایات ہندوستانی رسوم و روایات کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر اور ارفع و اعلیٰ ہیں۔

اب دیوبندیوں کی مرکزی سیاسی تنظیم جمعیت علماء ہند انہی بریلویوں کے ساتھ مشترکہ اقدار کا اشتراک کرنا چاہتی ہے جنہیں انہوں نے ماضی قریب میں ہی ناقص مسلمان قرار دیا تھا۔ اب دیکھئے اس بحر کی تہ سے اچھلتا کیا ہے!!!!!!!!

کیا آج مولوی توقیر رضا خان صاحب کی قیادت میں بریلوی حضرات یہ بھول جائیں گے کہ خود ان کے اپنے نظریہ سازوں نے ایک صدی قبل ان کے بارے میں کیا لکھا ہے؟ در حقیقت دونوں فرقوں کے درمیان خلاء کو پر کرنے میں ان کی حالیہ کوشش ایک فریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔

دیوبند کے ذاتی دورے کرکے کون سا جماعتی اتحاد ممکن ہو سکے گا؟ بہر حال یہ سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا یہ دونوں فرقے ایک دوسرے کے بارے میں اپنے فقہی و دینی و مسلکی موقف پر نظرثانی کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اور کیا وہ اپنے ان اکابر علماء کے خلاف جانے کے لیے تیار ہیں جنہوں نے ایک دوسرے کے خلاف کتابیں لکھی ہیں اور تقریریں کی ہیں؟

حاصل کلام یہ ہے کہ کیا کسی دیوبندی کے لیے مولوی اشرف علی تھانوی کے اس دعوی کو غلط قرار دینا ممکن ہو گا کہ بریلوی سچے مسلمان نہیں ہیں؟ اور کیا ایک بریلوی کھل کر یہ کہہ سکتا ہے کہ دیوبندیوں کے خلاف امام احمد رضا خان اور مولانا ارشد القادری کی تحریریں اب افادیت بخش نہیں رہیں اور ان کے فتاویٰ اور فیصلے غلط تھے؟؟؟؟؟؟

ایک پلیٹ فارم پر مجتمع ہونا اور دنیا کے سامنے یہ اعلان کرنا کہ ہندوستانی مسلم کمیونٹی متحد ہے، بظاہر ایک خوشگوار مظہر لگتا ہے۔ لیکن جیسا کہ انگریزی کا مشہور مقولہ ہے:

“Appearance is always deceptive”

دکھاوا ہمیشہ پر فریب ہوتا ہے- عوام کو اس طرح کے دھوکے میں ڈال کر قوم مسلم کو متحد کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟؟؟؟ اتحاد اس وقت یقینی ہوگا جب ایک دوسرے کے خلاف دونوں فرقے اپنی اپنی تاریخی اور نظریاتی غلطیوں کا اعلان کرکے نہ صرف بارگاہ ایزدی میں بلکہ عوام الناس کے سامنے بھی تائب ہوں۔

اور تاریخی  تجربے شاہد ہیں کہ ایسا کرنا نہایت مشکل ہوگا، کیوں کہ دیوبند اور بریلی کے اختلافات محض کچھ رسمی اختلافات نہیں ہیں۔ بلکہ ان کا تعلق ان بنیادی عقائد سے ہے جو ایک ایک سچے مسلمان کے لئے از حد اہم اور بنیادی ہیں۔ ان اختلافات کا تعلق خود پیغمبر اسلام کی ذات با برکات کی عظمت کی تفہیم کے ساتھ مربوط ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اختلافات کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی طور پر خود مسلمان ہونے کے طریقوں میں اختلافات ہیں- اس لیے کہ ہر مومن مسلمان اپنا ماڈل اور نمونہ حیات خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے۔ لہٰذا،امت مسلمہ کے ایک بڑے طبقے کو مشرک سمجھنے والے ان فرقوں کے لیے کیا یہ ممکن ہو گا کہ وہ متحد ہو جائیں اور اپنے ماضی اور حال کے اختلافات کو بھلا دیں؟

قطع نظر ان اختلافات کے یہ دونوں فرقے ادارہ جاتی تنظیم کی حیثیت بھی رکھتے ہیں- مطلب یہ کہ وہ مساجد اور مدارس کا ایک منظم نظام بھی چلاتے ہیں۔ لہٰذا، اگر وہ اپنے اختلافات کے بارے میں کچھ کرنے کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں سب سے پہلے اس کی شروعات مدارس سے کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ مدارس کے ذریعہ ہی ان بنیادی اختلافات کو طالب علموں اور عام مسلمانوں کے ذہنوں میں اتارا جاتا ہے۔ اس ضمن میں ان کتابوں کو درسیات اسلامی خارج کرنا وقت کا جبری تقاضا ہے جن میں سواد اعظم کو ایک گمراہ فرقہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

کیا بریلوی اور دیوبندی علماء کے لیے یہ ممکن ہو گا کہ وہ متحد ہو کر ایک ایسا اسلامی نصاب تیار کریں جو دیوبندیوں اور بریلویوں دونوں کے مدارس کے لئے عام ہو؟ جب تک دونوں کی فکر میں یہ بنیادی تبدیلی (Shift Paradigm) پیدا نہیں ہوگی، تب تک ان دونوں فرقوں کا قریب آنا صرف ایک دکھاوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

مضمون نگار نے معروف اسلامی ادارہ جامعہ امجدیہ رضویہ  (مئو، یوپی ) سے عالم و فاضل، الجامعۃ اسلامیہ، فیض آباد، یوپی سے قرآنیات میں تحقیق اور الازہر انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز بدایوں سے علوم الحدیث میں سرٹیفیکیٹ حاصل  کیا ہے۔ مزید برآں جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے  عربی (آنرس) میں گریجویشن، اور وہیں سے تقابل ادیان ومذاہب میں ایم. اے کرنے کے بعد اب وہیں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں-

वहाबियत: इस्लाम के प्रचार में सबसे बड़ी रुकावट :मौलाना सय्यद आले मुस्तफा क़ादरी अल जीलानी अली पाशा

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

13082719_10156845798420296_4837382278654201987_n

 وہابیت
اسلام کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ
مولانا سید آل مصطفی قادری الجیلانی علی پاشاہ
 
جانشین خانقاہ قادریہ موسویہ‘مدیر اعلیٰ ہفت روزہ خطیب دکن حیدرآباد‘صدرآل انڈیاعلماء ومشائخ بورڈتلنگانہ و اے پی

 
آج کی مادی دنیا کے تمام مسائل کا واحد حل اسلام ہے۔ اسلام بھولی اور بھٹکی ہوئی انسانیت کو منزل مقصود کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نجات و کامرانی سے ہمکنار کرتا ہے۔
کرۂ ارض پر بے شمار ادیان، ان گنت فلسفے اور ہزارہا باطل نظریات موجود ہیں‘ تاہم انسانوں پر یہ اللہ کا فضلِ خاص ہے کہ اس نے ان الدین عنداللّٰہ الاسلام ( سورہ آل عمران : 19)کے ذریعہ منزل کا پتہ عنایت فرمایا اور راہِ نجات کا تعین فرمادیا۔
آج سے چودہ سو برس قبل فخر آدم و بنی آدم ،رحمت عالم نورمجسم صلی اللہ علیہ و سلم نے جب گمراہ عقائد وافکار کے نرغہ میں گھری ہوئی انسانیت کو توحید و رسالت کی طرف بلایا تو لبیک کہنے میں نفوس قدسیہ نے تاخیر نہیں کی ۔
کاروانِ اسلام دیکھتے ہی دیکھتے بڑھنے لگا اور محض دو دہوں میں مدینہ منورہ کے نام سے ایک مستحکم اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آگیا۔ایک ایسی ریاست جس نے بڑی بڑی حکومتوں کو مرعوب کردیا، جس کی ہیبت سے نامور حکمراں و بادشاہ خوفزدہ ہوگئے، زمین کے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب صدائے توحید کی مستانہ صداؤں سے گونجنے لگے۔ اب اسلام اور کفر میں امتیاز قائم ہوگیا ،اجالے اور اندھیرے کے درمیان خط فاصل قائم کردیا گیا اور نور و ظلمت کی پہچان مشکل نہ رہی،اس مرحلے پر غیروں سے کوئی خوف نہیں رہا البتہ کچھ ایسے ’’غیر‘‘ تھے جو ’’اپنوں‘‘ کا بھیس بنائے ہوئے تھے۔اپنوں ہی کے درمیان تھے اور اپنوں ہی کی وضع قطع رکھتے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ بعض معاملات میں اپنوں سے بھی بڑھ کر نظر آتے تھے۔
کون ہیں یہ لوگ؟ ان کی پہچان کیا ہے؟ علامتیں کیا ہیں؟ تو آئیے قربان ہوجائیں نبی صادق و امین صلی اللہ علیہ و سلم پر کہ آپ نے ان گمراہوں کی قلعی کھول کر رکھدی اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرمادی۔
بخاری شریف ،جلد ثانی صفحہ 124 میں حدیث پاک ہے ۔
ترجمہ :حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک بار ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے اور آپ کچھ مال تقسیم فرمارہے تھے کہ ذوالخویصرہ آیا جو قبیلہ بنی تمیم سے تھا اور کہا یا رسول اللہ !عدل کیجئے۔حضرت نے فرمایا تیری خرابی ہو ! جب میں ہی عدل نہ کروں تو پھر کون کرے گا اور جب میں نے عدل نہ کیا تو تو محروم اور بے نصیب ہوگیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :یا رسول اللہ!حکم دیجیئے کہ اس کی گردن ماردوں ۔فرمایا: جانے دو عمر! اُس کے رفقاء ایسے لوگ ہیں کہ ان کی نماز اور روزوں کے مقابلے میں تم اپنی نماز اور روزوں کو حقیر سمجھوگے۔وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے گلے سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
مخبر صادق صلی اللہ علیہ و سلم کی پیشن گوئی کے بعد بھلا اس گمراہ اور بد عقیدہ گروہ کا وجود کیسے نہیں ہوتا۔
اسلام کی چودہ صدیاں گواہی دیں گی کہ وہابیت کا یہ فتنہ ہمیشہ سرگرم رہا اور اپنے گمراہ کن عقائد کے ساتھ اہل ایمان کی بیخ کنی میں مصروف رہا۔
تاریخ اسلام کی روشنی میں اس گمراہ جماعت کے احوال پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس جماعت سے وابستہ عناصر نے ہمیشہ اسلام کو کاری ضرب پہونچایا ہے۔
ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں اس فرق�ۂ ضالہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان الأعراب ھم أ سرع الناس الی الخراب وأنھم یحتاجون الی دعوۃ دینیۃ یستطیعون من خلالھا استحلال الدماء والأموال والأعراض و اسباغ الشرعیۃ علی ثور انھم و اعتداء اتھم۔
یہ اعراب ہلاکت و بربادی کی طرف سب سے تیزی سے بڑھتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی دینی تحریک کے ضرورت مند ہوتے ہیں،جو ان کے لئے خوں ریزی، لوٹ پاٹ اور عصمت دری کو حلال کردے اور ان کے ظلم و عذر کو شرعی جواز فراہم کرے۔
اس طبقہ نے امت میں خلفشار مچاررکھا تھا،قتل و غارت گری اس کا شیوہ تھا اور کشت و خون کا بازار گرم کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔امیرالمؤمنین مولائے کائنات حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی مخالفت میں اسی ٹولے نے اس قدرظلم ڈھائے کہ اللہ کی پناہ۔
’’ التنبیہ والرد‘‘میں محمد الملطی رقم طراز ہیں۔انھم کانو ایخرجون بسیوفھم فی الأسواق حین یجتمع الناس علی غفلۃ فینادون لاحکم الا اللّٰہ و یقتلون الناس بلا تمییز۔
جب بازاروں میں لوگ اکٹھا ہوتے تھے تو اچانک خارجی تلواروں کے ساتھ نکلتے تھے اور لا حکم الااللّٰہ کا نعرہ لگاتے تھے اور لوگوں کو بلا تمیز تہہ تیغ کرنے لگتے تھے۔
ظلم و تشدد کا یہ تسلسل داعش اور اس جیسی مکروہ تنظیموں کی جانب سے آج بھی برقرار ہے ۔
اقوامِ عالم اس بھیانک چہرہ کو دیکھ کر اسلام سے برگشتہ ہورہے ہیں۔ وہابیت کایہ چہرہ دراصل اسلام کی غلط تشریح و تعبیر کرکے دنیاکواسلام کے تئیں دہشت میں مبتلا کررہا ہے ۔اس لئے بلا خوف تردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہابیت اسلام کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
khateebedeccan@gmail.com

देवबंद के उलमा की घर वापसी : जमीअत उलमा ए हिन्द के अजमेर शरीफ प्रोग्राम के सन्दर्भ में मौलाना मोहम्मद तय्यब अलीमी

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 
علماء دیوبند کی گھر واپسی
جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس منعقدہ اجمیر شریف کے تناظر میں
مولانا محمد طیب علیمی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یو پی 
مسؤل الادارہ ماہنامہ المشاہد لکھنؤ
اس میں شبہ نہیں کہ تمام کلمہ گو فرقوں میں اہل سنت و جماعت سے وابستہ لوگ ہی اسلام کی اصل تعلیمات و عقائد اور معمولات پر ہمیشہ سے قائم رہے ہیں .رہی بات علماء دیوبند کی تو اگرچہ ان کے اکابر اور اساطین کا علمی و روحانی سلسلہ اہل سنت اور مشائخ چشت کے اجلہ صوفیاء کی طرف منسوب ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے مگر یہ بھی ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ یہ لوگ ایسے تبدیل ہوئے کہ خود اپنے شیخ طریقت اور پیشوا عالم ربانی حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب اور راستے سے منحرف ہوگئے ، یہاں تک کہ حضرت شیخ کو خود اپنے ان مریدین اور خلفا کے خلاف محاذ کھولنا پڑا۔
چنانچہ حضرت حاجی صاحب قبلہ رحمۃاللہ علیہ کی معرکہ آرا تصنیف “فیصلہ ہفت مسئلہ”اس کی بین دلیل ہے.
اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ ان حضرات نے حاجی صاحب کے بر خلاف اپنے نظریات و افکار کا قبلہ شاہ محمد اسماعیل دہلوی کی کتاب ” تقویت الایمان ” کو بنالیا. جبکہ یہی وہ کتاب ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ کر کے رکھ دیا ،اور اس کے باوجود خواص میں تو نہ کے برابر البتہ عوام میں علماء دیوبند نے اس کتاب کے نظریات کو عام سے عام تر کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا تھا۔
حالانکہ اس کتاب میں شرک کی ایسی بھٹی بنائی گئی تھی جس میں اہل سنت کے بہت سارے قدیم متواتر و متوارث معمولات و مراسم وغیرہ کو یک لخت جھونک دیا گیا، بطور خاص اولیاء و صالحین سے اکتساب فیض، ان سے وابستگی اور توسل، نذر و نیاز۔
اور اسی پر بس نہیں بلکہ علماء دیوبند نے اپنے طور پر بھی بہت کچھ گل کھلایا۔ چنانچہ ایسے ایسے تفردات و عجائب لیکر آئے جنہیں ہمارے باپ دادا نے بھی نہیں سنا تھا .تحذیر الناس حفظ الایمان براہین قاطعہ اور اس طرح کی دیگر کتب علماء دیوبند بہت ساری گستاخانہ اور تصوف شکن عبارتوں سے بھری پڑی ہیں ، جن پر بحث و مباحثہ مناظرہ اور رد و ابطال اور ان کی تاویل و توضیح کرنے کرانے میں تقریبا ڈیڑھ صدی کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔
ہاں یہ اور بات ہے کہ زیادہ دقیق اور اہم علمی و اعتقادی مسائل بطور خاص اہل علم کے درمیان دائر رہے۔ مگر نیاز ،فاتحہ ،عرس ،چادر اور اولیاء اللہ سے وابستگی کے معاملات عوام کے درمیان خوب پھیلائے گئے. نتیجتاً آج برصغیر میں حال یہ ہوگیا ہے کہ یہی نذر و نیاز جیسے رسوم ہی دیوبندی اور غیر دیوبندی کے درمیان نشانِ امتیاز سمجھے جاتے ہیں۔
اس دعوے کی تائید خود اس بات سے ہوتی ہے کہ ملک کے طول و عرض میں رہنے بسنے والے دیوبندی مکتب فکر کے لوگ محبین اولیاء اللہ کو “قبر پرست” جیسے قبیح لقب سے پکارا کرتے ہیں۔
ہر کسی کو اس کا اعتراف ہے کہ آج بالخصوص ہندوستان میں مسلمانوں کی قوت کمزور ہونے کا کلیدی سبب یہی سنی و دیوبندی تنازعہ ہے، جس کا خاتمہ نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر نہ تو اتحاد ممکن ہے اور نہ ہی مسلمانوں کی طاقت بحال ہوسکتی ہے ۔
لیکن حیرت ہے کہ اتحاد کی بات ایسے ماحول میں کی جارہی ہے جب کہ عالمی سطح پر وہابیت کو چاروں خانے بالکل چت کیا جارہا ہے اور اس کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔
ایسے وقت میں جمعیۃ علماء ہند کے لوگ تصوف کا لبادہ اوڑھ کر یکایک نمودار ہو رہے ہیں اور سر زمین ہند میں موجود “صوفی ازم “کے مرکز اجمیر شریف سے اپنے تعلقات قائم کرنے اور سرکار غریب رضی اللہ عنہ کی دہائی دینے میں لگے ہوئے ہیں۔
بہر حال اگر جمعیۃ کے اندر اخلاص کارفرما ہے اور کوئی سیاسی غرض مخفی نہیں تو یقیناًقدیم مذہب کی طرف رجوع لانا اہم اور قابل قدر اقدام ہے اور دیر آید درست آید کا مصداق ہے ۔
اس حوالے سے میڈیا میں جن باتوں کا اشتہار کیا جارہا ہے اور حضرت خواجہ غریب نواز کی نگری میں جمعیۃ علماء ہند کی حالیہ سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے اتحاد عام کی ایک امکانی صورت نظر آرہی ہے، جس کو عالم وجود میں لانا وقت کا بڑا تقاضہ ہے ۔
لیکن ان تمام امور کے پس منظر و پیش منظر پر عوامی ذہنوں میں درج ذیل تنقیح طلب سوالات اور مطالبات کھٹک رہے ہیں جن کا تشفی بخش جواب از حد ضروری ہے۔ کیونکہ وہی جوابات اتحاد کی شاہراہ متعین کریں گے۔
(1) جمعیۃ کے لوگوں کو سرکار غریب نواز اب تک کیوں نہیں یاد آئے تھے؟
(2) کیا آپ حضرات سلسلہ چشتیہ اور دیگر سلاسل سے رشتہ جتاکر”تقویت الایمان” سے اپنی برأت کا اظہارکررہے ہیں؟ حالانکہ اس کتاب کا رکھنا آپکے مذہب میں” عین ایمان” ہے۔
(3) کیا عقیدہ ختم نبوت کا دم بھر کر “تحذیر الناس” مؤلفہ مولانا محمد قاسم نانوتوی کو منسوخ کر رہے ہیں؟ جس کے مطابق حضور کے بعد بھی دوسرا نبی آسکتا ہے۔
(4) کیا آپ حضرات اپنے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے بالقصد سفر اجمیر کرنے اوردیر تک فاتحہ پڑھنے نیز مولانا یعقوب کے کسب فیض اور کشف ومراقبہ کرنے کا حوالہ دیکر سنیوں کے اوپر اپنے تھوپے ہوئے الزام ” قبر پرستی “کو اٹھانے کا اعلان کررہے ہیں ؟
(5) کیا آپ حضرات اتحاد امت کی خاطر اپنے اکابر کی منفرد اور خلاف جمہور آراء و نظریات کو ترک کرکے اہل سنت کے قدیم منہج پر آنے کا عہد کرتے ہیں؟
اگر ان سارے سوالات کی تنقیحات پر مشتمل ایک اعلامیہ جمعیۃ جاری کردیتی ہے تو بلا شبہ پورا برصغیر بیک آواز نعرہ اتحاد سے گونج اٹھے گا۔
لہذا جمعیۃ کے ذمہ دارن حضرات سے مخلصانہ اپیل ہے کہ اتحاد کی جو تحریک چلائی گئی ہے اس کو کامیاب کرنے کے لئے کانفرنس وغیرہ کرنے کے بجائے اپنا واضح اعلامیہ جملہ مسلمانان ہند کے نام جاری کروادیں ان شاء اللہ خاطر خواہ نتیجہ سامنے آجائے گا۔
کیونکہ اہل دیوبند اپنے بزرگوں کے جن غلط نظریات پر عرصۂ دراز سے قائم ہیں ان سے صحیح معنوں میں علیحدگی کے بغیر اتحاد نہیں ہو سکتا اور اگر علیحدگی کا اعلان ہوجاتا ہے تو پھر کسی بھی زحمت اور مغزماری کی ضرورت نہ پڑے گی ۔

मानवतावाद की कल्पना और सूफीमत : मुफ्ती मोहम्मद हबीबुर रहमान अल्वी मदारी

4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

تصور انسانیت پروری اور صوفی ازم 
مفتی محمد حبیب الرحمن علوی مداری 
ترجمان خانقاہ مداریہ مکن پور شریف 
وخادم افتاء جامعہ عزیزیہ اہلسنت ضیاء الاسلام دائرۃ الاشرف جھہراؤں ضلع سدھارتھ نگر
حضورسیدالرسل دانائے سبل سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ذات بابرکات ہی شریعت وطریقت معرفت وحقیقت کا مصدر ومنبع ہے۔اسی لئے جملہ متلاشیان رضائے الہی کے لئے بذریعۂ قرآن حکم رحمن ہوا۔’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ‘‘یعنی رسول گرامی وقارعلیہ السلام کی زندگی میں تمہارے لئے بہتر نمونۂ عمل ہے۔چنانچہ حاملین دین مصطفوی میں جس گروہ جماعت نے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی کامل اتباع کی آسان لفظوں میں ہم اس گروہ و جماعت کو صوفیائے کرام کا نام دے سکتے ہیں۔اس مقدس جماعت کے علاوہ روئے زمین پر میرے مطالعہ کی روشنی میں کوئی دوسری جماعت اس طرح سے وجود میں نہیں آئی کہ جس نے مکمل طور پر اتباع رسول گرامی وقار سے اپنے آپ کو مشرف وممتاز کیا ہو۔
مناسب لگتا ہے کہ اپنی بات کو اکابرین امت کے اقوال سے مبرہن کروں۔امام غزالی اپنی کتاب المنقزمن الظلال میں فرماتے ہیں:
’’مکمل یقین واعتماد کے ساتھ مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ صوفیاء کرام ہی اللہ کے راستے پر چلنے والے ہیں ان کی سیرت تمام سیرتوں سے بہتر ہے ۔ان کا طریقہ تمام طریقوں سے سیدھا ہے ان کا اخلاق تمام لوگوں کے اخلاق سے زیادہ پاک ہے بلکہ اگر تمام عقلاء کی عقل کو جمع کیا جائے اور تمام حکماء کی حکمت کو اکٹھا کیا جائے ،علماء کے علم کو یکجا کیا جائے تاکہ صوفیائے عظام کے طریقہ کے متبادل کوئی طریقہ تلاش کیا جا سکے۔جو ان سے بہتر ہو تو لم یجدوا الیہ سبیلا یعنی اس طرح ہو ہی نہیں سکتا ۔کیونکہ ان کی تمام حرکات وسکنات ظاہری ہوں یا باطنی نور نبوت سے منور ہیں اور پورہ کرۂ ارض پر نور نبوت کے علاوہ کوئی ایسا نور نہیں جس سے روشنی حاصل کی جا سکی۔‘‘
حضور سیدنا ذوالنون مصری فرماتے ہیں’’ھم قوم آثروااللہ عزو جل علی کل شئی ‘‘یعنی صوفیاء وہ ہیں جو ہر چیز سے زیادہ اللہ کی رضا کو ترجیح دیتے ہیں۔صوفیاء کرام کے تعلق سے حضرت شیخ شبلی فرماتے ہیں کہ ’’منقطع عن الخلق ومتصل بالحق‘‘یعنی صوفی مخلوق سے آزاد اور خدا سے مربوط ہوتا ہے۔
حضرت ابو علی قزوینی ارشادفرماتے ہیں کہ التصوف ھو الاخلاق المرضیۃ‘‘یعنی تصوف پسندیدہ اخلاق کے اختیار کرنے کا نام ہے۔
حضرت سیدنا ابوالحسن نوری فرماتے ہیں ’’التصوف ترک کل حظ للنفس‘‘یعنی تصوف تمام لذات انسانی کو ترک کردینے کا نام ہے۔
مذکورہ بالا اکابرین امت اساطین اسلام کے اقوال وارشادات کی روشنی میں اہل تصوف کے بابت ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جو شخصیت تمام اخلاق رذیلہ قبیحہ سے دور ہو کر لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ کو اپنا آئیڈیل بنا چکی ہو ’’قد افلح من تزکیٰ ‘‘کا مفہوم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں عملی طور پر داخل کر چکی ہو۔
حدیث رسول مقبول ’’الخلق عیال اللہ ‘‘کا صحیح مفہوم سمجھ کر اس کے رواج ونفاذ کا داعی بن گئی ہو ’’قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العٰلمین کے مفہوم ومقتضیٰ کو اپنی زندگی میں داخل کر چکی ہو ’’انک لعلیٰ خلق عظیم ‘‘کو صحیح طریقے سے سمجھ چکی ہو وہی مرد کامل صوفی ہے۔
صوفی قول رسول اتصفوا بصفات اللہ وتخلقواباخلاق اللہ کو ہر وقت پیش نگاہ رکھتا ہے۔
قرآن عظیم کی آیات مبارکہ کے جملہ مفاہیم و مطالب سے صوفی کو واقفیت وآگاہی ہوتی ہے ۔احادیث رسول کے تمام تقاضوں سے صوفی کو کلی طور پر آشنائی ہوتی ہے۔سیرت نبوی کا ہر پہلو ہمیشہ صوفیائے کرام کو مستحضر رہتا ہے۔یہی وجوہات ہیں کہ صوفی سب کو سمجھ لیتا ہے۔مگر صوفی کو سب نہیں سمجھ پاتے۔
دین بر حق کی توسیع وتبلیغ ایک صوفی جس احسن پیرائے سے کرتا ہے وہ دوسروں سے متوقع ہی نہیں ہو سکتی ۔یہی وجہ ہے کہ مذہب اسلام کی اشاعت میں سب سے زیادہ حصہ صوفیائے کرام کا رہا ہے۔اور آج بھی یہی جماعت صحیح معنوں میں تبلیغ وارشادکا کام باندازاحسن انجام دے رہی ہے۔جس کی زندہ مثال خود یہ بورڈ ہے۔جس کی سرپرستی حضور اشرف ملت اور دیگرمشائخ عظام فرمارہے ہیں۔
صوفیائے کرام نے پوری انسانی برادری کی تقسیم صرف دو خانوں میں فرمائی ہے۔
(۱) امت اجابت
(۲) امت دعوت
امت دعوت کے زمرے میں جتنی بھی اقوام اور اہل مذاہب آتے ہیں ان تک پیغام دین حنیف پہونچانا صوفیاء کا نصب العین رہا ہے اور یہ بالکل طے شدہ امر ہے کہ کسی بھی دعوت کی دائمی قبولیت فقط حسن اخلاق سے ہی متصور ہے۔بنا بریں صوفیائے اہل صفا انسانی برادری میں کسی بھی بھید بھاؤ کے قائل نہیں رہے۔اور بلا تفریق اپنا فیضان ہر مذہب وملت کے ماننے والوں میں تقسیم کیا اور آج بھی ان کا سلسلۂ فیض رسانی اسی شان و بان کے ساتھ ان کے مزارات مقدسہ سے بھی جاری و ساری ہے۔بزرگان دین کی خانقاہیں اس دور نفور میں بھی بلا تفریق مذاہب تمام قسم کے انسانوں کے لئے قبلۂ حاجات ہیں۔
الخلق عیال اللہ کے پیش نظر صوفیائے کرام کا موقف یہ ہے کہ تخلیق وتربیت فیض وعطا میں جس طرح اللہ تعالیٰ عاصی و مطیع کا فرق نہیں رکھتا تو تم بھی یہ فرق نہ رکھو ۔چنانچہ اس پہلو سے مذہب اسلام کی وہ شبیہہ سامنے آتی ہے کہ جس کی مخالفت کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا ہمارے اندازے کے مطابق اگر اس نقطۂ نظر سے عالمی پیمانے پر دعوت اسلام کو پیش کیا جائے تو دوسری قومیں غیر معمولی طور پر مذہب اسلام سے متاثر ہوں گی ۔صوفیاء کی دعوت کو بغور دیکھیں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ پہلے دلوں سے الحاد کو کھرچتے ہیں پھر شرک کو مٹاتے ہیں پھر کفر کا صفایا کرتے ہیں پھر کہیں جاکر احکام ظاہری کی دعوت دیتے ہیں اور پھر ایک دن وہ بھی آتا ہے کہ تمام باطنی کدورتوں کو صاف کر کے انسان کو ملکوتی صفات کا پیکر بنادیتے ہیں ۔اورمذکورہ تمام باتیں حضور شارع علیہ السلام کی مکی اور مدنی زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد اسوۂ نبوی میں بحرف جلی ہمیں بھی نظر آتی ہیں۔
آج جس شدت کے ساتھ دعوت وارشاد کا فقدان محسوس کیا جا رہا ہے اور نفرتیں عداوتیں سر چڑھتی جا رہی ہیں تو اس میں کہیں نا کہیں ہم سے بھی چوک ہو رہی ہے ۔ہم نے اسلام کی کشادگی کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے اور فتویٰ بازوں کے فتوؤں کو ہی کل اسلام سمجھ لیا ہے ۔حالانکہ اصل اسلام کا سر چشمہ ذات نبوی ہے اور اس ذات کامل نے ہمیں وہ اسلام پیش کیا ہے کہ جس میں ایک کتے کے ساتھ بھی حسن سلوک کو موجب رحمت ومغفرت بتایا گیا ہے۔حقوق انسانی کی جو تاکید مذہب اسلام نے کی ہے وہ اپنی مثال فقط آپ ہے۔نمونے کے طور پر آپ ملاحظہ کریں کہ مذہب اسلام نے غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کو ضروری قرار دیا ہے،چنانچہ اس ضمن میں یہ واقعہ کافی دلچسپ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر کے یہاں بکری ذبح ہوئی تو آپ نے گھر والوں میں سے ایک سے دریافت کیا کہ ہمارے فلاں یہودی پڑوسی کو اس میں سے کچھ بھیجا ہے؟اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جبرئیل مجھے پڑوس کے سلسلے میں اس قدر تاکید کرتے تھے کہ مجھے خیال ہوتا تھا کہ وہ اسے وارث نہ بنادیں۔(ابو داؤد،کتاب الادب ،باب فی حق الجوار )
حضرت سیدنا با یزیدبسطامی کے حوالے سے یہ واقعہ بھی منقول ہے کہ آپ کا ایک پڑوسی مجوسی تھا جس کے یہاں ایک چھوٹا سا شیر خواربچہ تھا ایک بار وہ سفر میں گیارات میں اندھیرے کی وجہ سے اس کا بچہ روتا تھا آپ روزآنہ اس کے گھر چراغ رکھ آتے جس کی روشنی میں بچہ کھیلتا رہتا ۔جب وہ مجوسی سفر سے گھر واپس آیا تو اس کی بیوی نے شیخ کا حسن سلوک بیان کیا مجوسی نے کہا افسوس شیخ کی روشنی میرے گھر آئے اور ہم تاریکی میں رہیں وہ مجوسی اسی وقت آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہو گیا۔(تذکرۃ الاولیاء شیخ فرید الدین عطار)
مذکورہ بالا واقعات سے مذہب اسلام میں انسانیت پروری و آدمیت نوازی کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔
ان واقعات سے ہٹکر ہم جب ہندوستان کی تمام درگاہوں کاجائزہ لیتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات بھی کھل کر آجاتی ہے کہ تمام خانقاہوں میں صوفیائے کرام نے مخلوق الہیہ کی پرورش کے لئے لنگر خانے قائم فرمائے اور اس میں بلا تفریق مذہب وملت ہر انسان کو کھانے کی ا جازت دی اورخانقاہوں میں برادران وطن کا خیال کرتے ہوئے گوشت اور مچھلی پکانے پر پابندی بھی عائد کر دی گئی تاکہ ہر مسلم و غیر مسلم بلا تکلف خانقاہ کے لنگر سے اپنی بھوک مٹا سکے۔
حضرات!آج پھر ضرورت ہے کہ صوفیائے کرام کے نقش قدم پر چل کرمذہب مقدس کی ترویج واشاعت کی جائے اور اسلام کے اندر پیدا کی گئی تنگیوں کا خاتمہ کرکے پھر اسکی صحیح وسعت سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔تاکہ امن وامان ،محبت ورواداری کی ماحول سازی میں بھر پور طریقے سے تعاون مل سکے۔

तसव्वुफ और आज के हालात व असरात: मुफ्ती सनाउल मुस्तफा मिस्बाही

 4th December,Lucknow,
Seminar: Sufism and Humanity

 

تصوف اور آج کے حالات واثرات 
مفتی ثناء المصطفیٰ مصباحی 
استاذ ومفتی دارالعلوم حنفیہ بیادگار امام احمدرضارنگ روڈ کلیان پور لکھنؤ یو پی
پانچویں صدی عیسوی دنیا کی تاریخ میں بد ترین زمانہ تھا ،انبیائے کرام کی تعلیمات مسخ ہو چکی تھیں انسانیت جاں بلب تھی،اشرف المخلوقات کی اس زبوں حالی کو دیکھ کر رحمت حق کا بحر رحمت موجزن ہوا تو دنیا کی اصلاح کے لئے مصلح اعظم کو مبعوث فرمایا اور آپ پروہ کتاب نازل فرمائی جو تمام علوم کا منبع و معدن ہے،اور جس سے بڑھ کر اخلاقی تعلیم دنیا کی کسی تعلیم میں نہیں خود ہادئی عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں۔اس کی تائید قرآن میں بھی ہے۔توحید اور حسن خلق ہی دو ایسی چیزیں ہیں جو تصوف کی روح رواں ہیں۔
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس دار فانی سے کوچ کر گئے تو اس وقت تقریباًتمام عرب حلقۂ بگوش اسلام ہو چکا تھا وہ عرب جہاں دختر کشی،قماربازی،شراب نوشی،استحصال بالجبروغیرہ بکثرت رائج تھے اسلام کے بعد امن،تہذیب،حسن اخلاق اور علم وعمل کا گہوارہ بن چکا تھااور ایک بڑی جماعت دنیا کی معلم اور راہبربننے کی قابل ہو چکی تھی۔یہ تھا وہ دورجہاں سے حقیقی تصوف کاآغازہوتا ہے۔
صحابۂ کرام کے دور میں تو اسلام عروج کی طرف گامزن تھا مگر خلفائے راشدین کے بعد جب اسلام تنزل کی طرف آنے لگا تو ہر وہ طبقہ جو اسلامی تعلیمات پر مکمل عمل پیرا تھا وہ جابر وظالم حکمرانوں کے ظلم وستم سے تنگ آکر باہر جنگلوں میں نکل آئے اور لوگ بھی آہستہ آہستہ جب اپنے احوال کی اصلاح کے لئے ان کے پاس جانے لگے تو وہاں خانقاہیں بننی شروع ہوگئیں اور اس طرح تصوف ایک باقاعدہ نظام بن گیا۔
تصوف کیاہے؟
منکرین تصوف کے لایعنی اعتراض سے صرف نظر کرتے ہوئے معروف صوفیائے کرام کی روشنی میں تصوف کی تعریف ملاحظہ کریں۔
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں’’ من عاش فی باطن رسول اللہ فھو صوفی ‘‘ترجمہ:جو باطن رسول اللہ پر زندگی بسر کرے وہ صوفی ہے۔
امام عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں ’’التصوف انما ھوزبدۃ عمل العبدباحکام الشریعۃ‘‘ترجمہ:تصوف بس احکام شرع پر بندے کا عملی خلاصہ ہے۔
امام محمد غزالی ارشادفرماتے ہیں۔’’التصوف عبارۃ عن تجرد القلب للہ تعالیٰ واستحقارما سویٰ اللہ وحاصلہ یرجع الی عمل القلب والجوارح ومھمافسدالعمل فات الاصل‘‘:ترجمہ تصوف اس کا نام ہے کہ دل خدا کے لئے خالی ہو اور ماسوی اللہ کو خاطر میں نہ لائے اس کا حاصل یہ ہے کہ قلب اور اعضا سے متعلق اعمال وافعال درست ہوں،جب عمل فاسد ہو گا تو اصل ہی فوت ہوجائے گی۔خلاصہ یہ ہے کہ تصوف نام احکام شریعت کی پابندی،حسن رواداری کا،انکساری وعاجزی کا،احترام انسانیت کا،آداب بارگاہ الوہیت و رسالت کا۔
تصوف و اہمیت:جوشخص مذہب کا پیروکار ہے مگر تصوف پر عامل نہیں اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے حلوائی کی دکان پر ساری عمر حلوہ بنایا اورخود کبھی نہ کھایا ۔انسان تصوف ہی کی بدولت خدا سے مکمل رابطہ پیدا کر سکتا ہے۔تصوف دل کی نگہبانی کا دوسرانام ہے کیوں کہ انسان بظاہر جسم اور نفس کا نام ہے مگر در حقیقت دل کا نام انسان ہے اور جب دل مسلمان نہ ہو سکا تو رکوع و سجدہ یا زباں سے خدا کا اقرار بے معنی ہے۔

تصوف کی حقیقت:حضرت ابوالحسن رحمۃ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں :’’لیس التصوف رسوما ولا علوماولکنہ اخلاق‘‘ترجمہ:رسم وعلم کا نام تصوف نہیں ہے بلکہ حسن اخلاق کا نام تصوف ہے۔یعنی تصوف ریاضت ومجاہدہ اور تعلیم سے حاصل نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ تصوف تو سراپا اخلاق ہے۔یہاں تک کہ اگر اس کے حکم اپنی ہستی میں جاری نہ کرو اور اس کے معاملات کو اپنے وجود میں نافذ نہ کرو اور اس کے انصاف کو اپنے اوپر استعمال نہ کرو تو ہرگز تصوف حاصل نہ ہوگا۔رسم واخلاق میں فرق یہ ہے کہ رسم تکلف ومحنت اور اسباب و ذرائع سے حاصل ہوتا ہے لیکن اخلاق بے تکلف ومحنت اور بغیر اسباب وذرائع کے باطن کے موافق ظاہر میں کئے جانے اور دعویٰ سے خالی ہونے کا نام ہے۔
تصوف کی ضرورت :یہ امر بدیہی ہے کہ ایک اچھا معاشرہ اچھے افراد ہی سے تشکیل پاتا ہے اگر افراد صالح کردار کے مالک ہوں،تقویٰ وصالحیت ان کے سرشت میں داخل ہوتو ایسے افراد کے اجتماع سے ایک صالح اور مثالی معاشرہ وجود میں آئے گااور اگر افراد کھوکھلے کردار کے مالک ہوں گے تو ان کی شخصیتیں ایثار وقربانی ،عاجزی و انکساری اور ہمت جرأت سے عاری ہوں گی توایسے افراد سے صالح اور کامیاب معاشرہ کبھی وجود میں نہیں آسکتا۔چوں کہ اسلام کا مقصدروئے زمین پر ایک صالح معاشرہ قائم کرنا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی منشاء بھی یہی ہے کہ اس کے محبوب رحمت عالم کی امت پر مشتمل جو معاشرہ معرض وجود میں آئے وہ صالحیت وتقویٰ کے زیور سے آراستہ ہو ۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے رفقاء اور غلاموں کی یہ صفات بیان فرمائی۔’’محمدرسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفاررحماء بینھم(الفتح )ترجمہ:محمد اللہ کے رسول ہیں اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں وہ کفار پر بڑے سخت ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے لئے رحم دل ہیں‘‘
دہشت گردی کے انسداد میں تصوف کا اہم کردار :اصل موضوع پر آنے سے پہلے آپ جہاد اور دہشت گردی میں فرق سمجھ لیجئے کہ جہاں ہر ملک و قوم کی ضرورت ہے۔بغیر جہاد کے نہ کوئی ملک محفوظ رہ سکتا ہے اور نہ کوئی قوم لیکن دہشت گردی یہ بالکل جہاد کے خلاف ہے کیوں کہ دہشت گرد شہر کے شہر اجاڑ دیتا ہے اور پوری قوم کو تباہ وبرباد کر دیتاہے۔مگر آج کچھ نا سمجھ حضرات اور عقل و فہم سے عاری لوگ اپنی کج فہمی و کم عقلی کی بناء پر دہشت گردی کو جہاد سمجھ کر اور کچھ فہم ودانش کے مالک حضرات اپنی عیاری ومکاری کی بنا پر دہشت گردی کو جہاد کا نام دے کر اس کی خوب تشہیر کر کے بھو لے بھالے مسلمانوں کو شامل کر رہے ہیں۔اور انہیں بدنام کر رہے ہیں۔ما قبل میں ہم نے ذکر کیا کہ تصوف حسن اخلاق ہی کا نام ہے اور صوفیائے کرام نے ہمیشہ اپنے حسن اخلاق ہی کی بنا پر لوگوں کو گرویدہ بنا لیااور انہیں مذہب اسلام کی طرف راغب کر لیا ۔آپ کوفتح مکہ کا واقعہ بتاتا ہوں کہ جب مکہ فتح ہوا اور مسلمان شان و شوکت کے ساتھ ان پر غالب ہوئے تو کفاربہت نالاں و پشیماں ہوئے کہ اب ہمارا جینادشوار ہو جائے گا او ہم چین وسکون کی نیند نہیں لے پائیں گے،اور یہ بات بھی فطرت کے عین مطابق ہے کہ کوئی بھی اپنے جانی دشمن کو معاف نہیں کرتالیکن اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ کسی پر ظلم وستم نہ ہوگا،سب کے ساتھ عدل وانصاف ہوگا۔اور سب کو شہری حقوق دئے جائیں گے۔پھر میں آپ کے ذہن کو واقعۂ کربلاکی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ جب حر نے حضرت امام حسین کو اپنے قبضہ میں رکھ کرایک جگہ رات کو پڑاؤڈالا تھاناگاہ یزیدی فوجیوں کے پاس پانی ختم ہو گیااور وہ لوگ شدت پیاس کی وجہ سے جاں بلب ہو گئے۔تو اس وقت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا اور اپنے رفقاء کا سارا پانی یزیدی فوجیوں کو دے دیا اور اس بات کی ذرہ برابر بھی پرواہ نہ کی اب ہم سب کا کیا ہوگا۔اصل تصوف اسی کا نام ہے کہ غیروں پر بھی رحم کھایا جائے اگر چہ وہ تمہاراجانی دشمن ہی کیوں نہ ہو۔
اخیر میں ہم صرف اتنا بتانا چاہتے ہیں کہ اگر پوری دنیائے اسلام میں صوفیت کا فروغ ہو جائے او ر تصوف کے اصل مفہوم سے لوگ واقف ہو جائیں تو لوگ اصل اسلام اور اسلام کی تعلیمات سے واقف ہوجائیں گے اور ہم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے صوفیائے کرام کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آج جو حقیقی اسلام پوری دنیا میں باقی ہے وہ انہیں کی محنت شاقہ ہی کا نتیجہ ہے ۔اللہ تعالی ہمیں صوفیوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
مآخذ ومراجع
۱۔ کشف المحجوب اردو
۲۔ کتاب اللمع فی التصوف اردو
۳۔ سلوک وتصوف کا عملی دستور
۴۔ کیمیائے سعادت
۵۔ اہل سنت کی آواز تصوف نمبر