قرآنی آیات پر عدالت کافیصلہ دستور ہند اور مسلمانوں کے جذبات کاترجمان:سید محمد اشرف کچھوچھوی

اپریل14/،نئی دہلی(پریس ریلیز)
جیسا کہ توقع تھی سپریم کورٹ نے پیر کو اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کی رٹ پٹیشن کو مسترد کردیا ہے، جس میں اس نے مبینہ طور پر تمام تر تاریخی حقائق کو یکسر نظر انداز
کرتے ہوئے قرآن پاک سے کچھ آیات کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ آیات مبینہ طور پر غیر مسلموں کے خلاف تشدد کو فروغ دے رہی ہیں۔جو کہ ایک جھوٹ اور زہریلا پروپیگنڈا کے سوا کچھ نہ تھا۔دراصل وسیم بد بخت نے اپنے اس زہریلے اور گستاخانہ بیان سے اپنی کرپشن اور بد اعمالیوں سے جانچ ایجینسیوں کی توجہ ہٹانی تھی۔جس میں ناکام رہا۔اس کی جانچ کی فائل بھی کھل گئی ہے اور الحمد للہ!اس کی پی آئی ایل بھی سپریم کورٹ سے خارج ہوگئی۔
جسٹس آر ایف نریمن کی سربراہی والی بنچ نے رٹ پٹیشن کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بالکل بے وقوفانہ،غیر سنجیدہ پٹیشن ہے۔یہی نہیں عدالت نے درخواست دائر کرنے پر درخواست گزار پر50 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ جب معاملہ کو اٹھایا گیا تو جسٹس نریمن نے وکیل سے پوچھا کہ کیا وہ درخواست کو لے کر سنجیدہ ہیں؟ سینئر ایڈووکیٹ آر کے رائے زادہ،جو رضوی کی طرف سے وکیل ہیں، نے جواب دیا کہ وہ مدرسہ تعلیم کے ضوابط تک درخواست کو محدود رکھے ہوئے ہیں۔ اس نے کہا کہ بعض آیات کا لفظی ترجمہ غیرمسلموں کے خلاف تشدد کو فروغ دیتا ہے اور اس لیے انھیں پڑھانے سے بچوں کو یقین ہوسکتا ہے۔
وکیل نے کہا کہ میری تجویزیہ ہے کہ یہ پیغام غیر مسلموں کے خلاف تشدد کی وکالت کرتا ہے۔ بچوں کو معصوم عمر میں مدرسوں میں اسیر بنا کر رکھا جاتاہے۔ طلبہ کوایسی تعلیم نہیں دی جانی چاہیے اور ایسے نظریات کی مارکیٹنگ میں کوئی جگہ نہیں ہوسکتی۔ میں نے مرکزی حکومت کو کارروائی کے لیے لکھا ہے، لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔مرکزی حکومت اور مدرسہ بورڈ کو یہ یقینی کرنے کے لیے بلایا جا سکتا ہے کہ تشدد کی وکالت کرنے والی آیات کی لغوی تعلیم سے بچنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔حالانکہ بنچ اس معاملے پر غور کرنے کو تیار نہیں تھی اور اس درخواست کو‘’بالکل فضول، سطحی اور غیر سنجیدہ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور 50,000 روپے جرمانہ عائد کیا۔
ہم عدالت عالیہ کے شکر گزار ہیں کہ اس نے بر وقت صحیح اور آئینی قدم اٹھا تے ہوئے وسیم رضوی کی دائر کردہ پی آئی ایل کو خارج کردیا،جس سے آنے والے دورا کے ایک اہم فتنے کا سد باب ہوگیا۔رہ گئی بات وسیم رضوی کے وکیل کی دلیل کی تو اس میں کوئی دم خم نہیں،اس کے دلیلوں کو عادالت عالیہ نے یکسر مسترد کردیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ کامیابی کسی ایک فرد یاتنظیم کی نہیں ہے کہ بلکہ پورے ملک کے تمام محبین وطن اور فرزندان اسلام کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے،اس میں ہر مکتب فکر کے لوگوں نے کوشش کی،خاص کر وسیم رضوی جس فرقے سے ہو نے کادعویدار ہے اس نے بھی بڑھ چڑھ کر اس کے رد وابطال میں حصہ لیا۔آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ ہمیشہ ہی مسلم مسائل کو امن اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کر نے کی وکالت کرتا ہے۔الحمد للہ۔بورڈ کی اکثر شاخوں کی جانب سے اس کے خلاف احتجاج اور مظاہرہ ہوا،اور حسب قانون وانتظام میمورنڈم بھی جگہ جگہ پیش کیاگیا۔اور آئندہ بھی اس طرح کے مسائل میں اسی طرح کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔البتہ میں عدالت عالیہ سے درخواست کروں گا کہ صرف جرمانے سے وسیم رضوی کے جرم پر پردہ نہیں ڈالاجاسکتا۔اسے ہر حال میں گرفتا رکیا جائے اور اسے قرار واقعی سزادی جائے۔بورڈ کے تمام رضا کاران،ممبران،اور عوام اہل سنت کا شکریہ جنھوں نے میری آواز پر لبیک ک ہتے ہوئے،بورڈ کے بینر تلے اس ملعون ک؁ خلاف جمع ہو کر اپنے جذبہ ایمانی کاثبوت پیش کیا۔اللہ تعالی ہمیں اسی طرح استقامت اور پامردی سے ملت کے کاموں کو کرنے کی توفیق رفیق ؑطا فرمائے۔آمین

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین اعلی حضرت اشرفی ایوارڈ سے سرفراز

سپاس نامہ بخدمت
حضرت ڈاکٹر پروفیسر خواجہ اکرام الدین صاحب
جو اہر لال نہرو یو نیورسٹی،نئی دہلی
برائے شرکت علمی وتحقیقی سیمینار
بسلسلہ حیات وخدمات شیخ لمشائخ،سلطان الصوفیہ،ابو احمد اعلیحضرت محمد علی حسین اشرفی میاں،اشرفی جیلانی،کچھوچھوی قدس سرہ النورانی
بموقع عرس سرکار کلاں رضی المولی عنہ،منعقدہ ۹/رجب المرجب،۱۴۴۱ھ مطابق۲۲ فروری ۲۰۲۱ء
۵۲/واں عرس سرکار کلاں مخدوم المشائخ حضرت سید شاہ محمد مختا راشرف الاشرفی الجیلانی قدس سرہ العزیز
زیر قیادت: مجدد تعلیمات اشرفیہ،شیخ الہند،حضرت علامہ سید شاہ محمد اشرف اشرفی جیلانی،کچھوچھوی،دامت بر کاتہم القدسیہ
صدر آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ وچیر مین ورلڈ صوفی فورم،جوہری فارم،جامعہ نگر،اوکھلا،نئی دہلی۔۵۲
ہرسال کی طرح امسال بھی عرس سرکار کلاں مخدوم المشائخ حضرت سید شاہ محمد مختا راشرف الاشرفی الجیلانی قدس سرہ العزیز ۹/رجب المرجب،۲۴۴۱ھ مطابق ۲۲

فروری ۲۰۲۱ء ہونا قرار پایا ہے۔اس موقعہ سے فروغ تصوف کے کاز کو آگے بڑھا تے ہوئے صوفی تعلیمات واقدار کی نشر واشاعت کے لیے خصوصاسلسلہ اشرفیہ کے اکابرین کی دینی وعلمی خدمات اور ان کے صوفیا نہ افکار ونظریات سے ایک اہم علمی نشست کا انعقاد بعنوان”اعلی حضرت اشرفی،سیمینا ر“کرنے کاخانقاہ اشرفیہ شیخ اعظم سرکار کلاں کچھوچھہ شریف ضلع امبیڈ کر نگر یو پی نے کر نے کافیصلہ کیا۔جس میں ملک کے طو ل وعرض سے مدا رس اسلامیہ کے موقر اساتذہ اور عصری دانشگاہوں کے نامور محققین نے اپنی شرکت سے سیمینار کو اعزاز بخشا،جن میں ایک اہم نام محترم المقام عزت مآب عالی جناب ڈاکٹرخواجہ محمد اکرام الدین جے این یو (نئی دہلی) کا بھی ہے۔جس کے لیے خانقاہاشرفیہ شیخ اعظم سرکار کلاں کچھوچھہ شریف آپ کی ممنون کرم ہے۔اس موقعہ سے کچھ منتخب شرکا کو خانقاہ کی طرف سے توصیف نامہ اور اعزازی شیلد ڈپیش کی گئی۔
ڈاکٹر صاحب جہان علم وادب کا ایک چمکتا ہوا ستارہ ہیں۔ان کے کما حقہ تعارف کے لیے ایک دفتر درکار ہے۔مختصر یہ کہ پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین سینٹر آف انڈین لینگویجز، اسکول آف لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں اردو کے پروفیسر ہیں۔ اردو زبان و ادب کے خدما ت کے حوالے سے وہ بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں۔ ۲۳ کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی چند کتابوں کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ان کی اکثر کتابیں ہندستان اور بیرون ممالک یونیورسٹیز میں شامل نصاب ہیں۔ پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کوان کی علمی و ادبی کارکردگی کے عوض کئی ملکی اور بین الاقوامی اعزازات و انعامات مل چکے ہیں۔جن میں جاپان، ڈنمارک، جرمنی اور ترکی کے علاوہ ہندستان کے مختلف علمی وادبی اداروں کے نام شامل ہیں۔
پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین تین سال تک قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، وزرات برائے فروغ انسانی وسائل،حکومت ہند میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے۔ اپنے ڈائریکٹر شپ کے دوران انھوں نے قومی کونسل کی کارکردگیوں میں نئی اسکیموں کے نفاذ سے قابل قدر اضافہ کیا۔ انہی کی مدت کار میں کونسل سے بچوں کا ماہنامہ ”بچوں کی دنیا“ ا اجرا ہوا اور ”عالمی اردو کانفرنس“ کی بنیاد پڑی۔ انھوں نے اردو کو نئی ٹکنالوجی سے جوڑکر اردو کے فروغ کے امکانات کو وسیع کیا۔کئی اردو سوفٹ وئیر کو لانچ کیا ساتھ ہی ٹکنالوجی کو اردو سے ہم آہنگ کرنے کیسمت کئی اہم اقدامات کیے۔
اردو کے نئے امکانات کی تلاش میں و ہ مستقل سر گرم رہے ہیں اسی لیے کونسل کی مدت کار کے اختتام کے بعد بھی وہ اس سمت میں کام کرتے رہے۔دنیا بھر میں موجود اردو سیکھنے والوں کے لیے انھوں نے چندبرس قبل آن لائن ارود لرنگ) (www.onlineurdulearning.com کا پروگرام شروع کیاجسے دنیا بھر میں

مقبولیت حاصل ہوئی۔
پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین ورلڈ اردو ایسو سی ایشن کے چئیر مین ہیں جو ایک غیر سرکاری خود مختار ادارہ ہے۔اس ادارے کا مقصد دنیا کے مختلف گوشوں میں موجود اردو کے اساتذہ /ادیبوں / شاعروں / فکشن نگاروں /صحافیوں / طلبہ وطالبات اور قلم کاروں سے رابطہ و اشتراک اور باہمی تعاون، نئی نسل کے ادیبوں اور قلمکارو ں کی حوصلہ افزائی،اردو تدریس کے فروغ کے لیے ممکنہ وسائل کی فراہمی کی کوشش،اردو کے مہجری ادیبوں کی کتابوں کی اشاعت،اردو کی نئی کتابوں پرتبصرے اور اس کی رسائی کے امکانات کی تلاش اور مہجری ادیبوں پر مبنی انسائیکلو پیڈیا کی تیاری ہے۔
عالمی سطح پر جب کورونا کے وابئی مرض نے لوگوں کو گھروں میں مقید کردیا تو تقریباً زندگیاں مفلوج ہونے لگیں۔لوگوں کو ان حالات میں ذہنی پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ایسے حالات میں خواجہ اکرام نے ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے آن لائن سیمنار اور مذاکرے کے ساتھ ساتھ سب سے اہم پیش رفت یہ کی کہ انھو ں نے “مہجری اور غیر ملکی ادیبوں کا تعارفی سلسلہ ” شروع کیا جس کے تحت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اردو کے ادیبو ں سے لوگوں کو متعارف کرانا شروع کیا۔اردو کے آن لائن پروگراموں میں یہ اولیت کا درجہ رکھتا ہے، یہ ایک نئی پہل تھی جو کافی مقبول بھی ہوا اور لوگوں کو ذہنی غذا فراہم کی۔

گذشتہ دو دہائیوں سے www.khwajaekram.com ویب سائٹ جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس کے ذریعے دنیا بھر میں موجود اردو کے ادیبوں سے جڑے ہوئے۔ انھوں نے دنیا کے ان ممالک کا سفر بھی کیا ہے جہاں جہاں اردو کی بستیاں موجود ہیں۔پروفیسر خواجہ اکرام نے مہجری ادب پر خود بھی بہت کام کیا ہے اور اپنے کئی ریسرچ اسکالرس سے تحقیقی مقالے بھی لکھوائے ہیں۔
میں بہ حیثیت خانقاہ اشرفیہ شیخ اعظم سرکار کلاں کے بانی ومتولی کی حیثت سے ڈاکٹر صاحب کی مزید ترقی وخوش حالی کے لیے دعا گو ہوں۔اللہ تعالی ان کے علم وہنر سے ہندوستان اور قوم وملت کو خوب خوب فائد ہ پہنچائے۔آمین

Yati Narasimhanand hate speech creates communal divide, AIUMB calls for strict legal action

April 08,2021 New Delhi

All India Ulama and Mashaekh Board (AIUMB), an apex body of India’s Sunni Sufi Muslims have condemned the hate speech made by Yati Narasimhanand Saraswati, declaring him a ‘hate preacher disguised as sadhu sant’.

AIUMB Chhattisgarh branch has lodged a complaint against Narasimhanand Saraswati, saying that he’s trying to harm the syncretic culture and the peaceful Ganga-Jamani Tehzib of India. “He insulted Hazrat Muhammad ( pbuh), the benefactor of humanity and messenger of mercy for the whole world, and is making offensive remarks against his noble personality which is completely reprehensible”, the statement said. It should be noted that in Islam, religious leaders of any religion are respectable and to make insulting remarks against them, by using abusive words is haraam (strictly prohibited). Similarly, the person who hurt the feelings of millions of Muslims in India by abusing Prophet Muhammad (pbuh) should be considered a criminal and must be strictly dealt with as per the law of the land, it added.
Having stated the above, All India Ulama and Mashaekh Board Chattisgarh Unit led by Qari Mohammad Imran Ashrafi and General Secretary Noman Akram Hamid filed the report in Thana City Kotwali and requested the government and administration to take strict action against Narasimhanand and punish him.

In fact, the people of the organisation to which Narsinghanad is associated should also take action against him so that such people can be restrained, the AIUMB Chhattisgarh branch said.

It is a known fact that even before this incident, Yati Narasimhanand Saraswati has made inflammatory statements to disrupt social harmony and communal unity in the country. In one earlier incident, he insulated the Indian Ironmen and our former President Dr. A, P, J Abdul Kalam by calling him a ‘Pakistani agent’.

With such an absurd statement, this person has been defaming the respected national heroes of India, which we Indians cannot tolerate at all. Therefore, the administration should seriously and promptly rectify this gross violation of the law which is spewing venom and promoting communal disharmony. Then only the current anger in the Muslim community will end and such hate rhetoric can be curbed.

Source: ClickTV

Yati Narasimhanand hate speech creates communal divide, AIUMB calls for strict legal action

ऐआईयूएमबी छत्तीसगढ़ शाखा ने नरसिंहानन्द के खिलाफ शिकायत दर्ज करायी

रायपुर, 06,अप्रेल, 2021
ऑल इंडिया उलमा व मशाएख़ बोर्ड 36 गढ़ यूनिट
ने नरसिंहानंद सरस्वती साधू संत के भेष में छुपे हुए दंगाई
के खिलाफ थाना सिटी कोतवाली में शिकायत दर्ज की।
नरसिंहानंद सरस्वती हिन्दोस्तान की गंगा जमनी तहज़ीब को खंडित करने वाला नेता है जिसने अपने एक इंटरव्यू में पूरे संसार के लिए रहमत और इंसानियत के मुहसिन हज़रत मुहम्मद ﷺ की शान में गुस्ताख़ी की और आप की शख्सियत पर आपत्तिजनक टिप्पणी कर रहा है जो निंदनीय है यह भी स्पष्ट रहे कि इस्लाम धर्म में किसी भी धर्म के सम्मानित और धर्म गुरुओं को बुरा भला कहने से मना किया गया है, उसी धर्म के संस्थापक पैगम्बर ए इस्लाम के ख़िलाफ़ अपमानजनक शब्दो का इस्तेमाल कर उक्त व्यक्ति ने भारत के करोड़ो मुसलमानों की भावनाओं को ठेस पहुचाई है।
आज ऑल इंडिया उलमा व मशाएख़ बोर्ड 36 गढ़ यूनिट के उपाध्यक्ष क़ारी मोहम्मद इमरान अशरफ़ी एवं जनरल सेक्रेटरी नोमान अकरम हामिद की अगुआई में थाना सिटी कोतवाली में नामज़द रिपोर्ट कर शासन एवं प्रशासन से अनुरोध किया कि उक्त व्यक्ति के खिलाफ सख्त से सख्त कार्रवाई कर सज़ा दे और ये व्यक्ति जिस भी पार्टी से जुड़ा हुआ है उस पार्टी के लोग भी इस के खिलाफ ऐक्शन ले ताकि ऐसे लोगो पर लगाम लगे।
ज्ञात हो कि इससे पहले भी इसने सामाजिक समरसता और साम्प्रदायिक एकता को खंडित करने वाले बयान दिए हैं, कभी भूतपूर्व राष्ट्रपति डॉ.ए,पी,जे अब्दुल कलाम को पाकिस्तानी एजेंट बताकर भारतीय आयरनमेन का अपमान किया था।
अपने ऐसे बेतुके बयान से भारत के सम्मानित साधू संतो के समाज को भी ये व्यक्ति बदनाम कर रहा है जिसे हम कतई तौर पर बर्दाश्त नही कर सकते.
अतः प्रशासन इसपर गंभीरता पूर्वक अतिशीघ्र उचित करवाई करे ताकि समाज में उत्पन्न रोष का अंत हो और ऐसे बयानबाज़ों पर अंकुश भी लग सके

By: सलीम चिश्ती

पैग़म्बरे इस्लाम की शान में गुस्ताखी करने वाले मुल्क में फसाद फैलाना चाहते हैं : सय्यद मोहम्मद अशरफ

3 अप्रैल 2021, शनिवार, नई दिल्ली
पैग़म्बरे इस्लाम की शान में नरसिंहानंद नाम के विदेशी एजेंट द्वारा अशोभनीय टिप्पणी किए जाने पर सख्त गुस्से का इज़हार करते हुए आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड के राष्ट्रीय अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफ़ी फोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने कहा कि मुल्क में बड़े पैमाने पर दंगे भड़काने की साजिश की जा रही है, कोरोना वायरस के दुबारा बड़ रहे संक्रमण के बीच देश को अस्थिर करने की व्यापक साजिश रची जा रही है ,दुनिया जानती है कि नबी की शान में गुस्ताखी को किसी भी कीमत पर मुसलमान बर्दाश्त नहीं कर सकते और यह ऐसा मामला है जिसपर मुसलमान किसी मसलक में बंटे बिना एकजुट है लिहाज़ा देश में बड़े पैमाने पर दंगे करवाने का प्रयास किया जा रहा है।
उन्होंने कहा कि यह मामला बहुत गंभीर है, एक देश और इंसानियत के दुश्मन द्वारा पैग़म्बरे अमन के खिलाफ जिस तरह की अपमानजनक टिप्पणी की गई है ,जिससे मुसलमानों में शदीद गुस्सा है लगातार विदेशी ताकतों द्वारा प्रयास हो रहा है और इसी के चलते विद्या प्रकाशन प्राईवेट लिमिटेड द्वारा छापी गई कक्षा 4 में पढ़ाई जाने वाली किताब में पहले एक फर्जी खाका पैग़म्बरे इस्लाम का छापा गया और उसी समय नरसिंहानंद नामक वैचारिक आतंकवादी द्वारा ऐसी घिनौनी बात की गई जो साफ तौर से देश को सांप्रदायिक दंगों में झिकने की व्यापक साजिश दिखाई पड़ती है,जब देश के 5 राज्यों में चुनाव चल रहा है ऐसे में ऐसी घटना होना साफ इशारा करता है कि यह एक गहरी साजिश है।
सभ्य समाज में इसे किसी भी कीमत पर बर्दाश्त नहीं किया जा सकता ,किसी भी धर्म का चोला ओढ़ कर किसी दूसरे धर्म के खिलाफ जहर उगलने वाला व्यक्ति किसी भी कीमत पर धार्मिक नहीं हो सकता वह सिर्फ आतंकी ही हो सकता है और आतंकवादियों की समाज में कोई जगह नहीं है सरकार को इस व्यक्ति की तुरंत गिरफ्तार करना चाहिए और उससे कड़ी पूछताछ कर इस गहरी साजिश का पर्दाफाश करना चाहिए।
हज़रत ने कहा कि देश के मुसलमानों में गहरा गम और गुस्सा है हम सभी से शांति बनाए रखने की अपील करते हैं ताकि इन आतंकवादियों की साजिश कामयाब न होने पाए अपने गुस्से का इज़हार कानूनी तौर पर करें किसी भी कीमत पर कानून का उल्लंघन न करें ,पैगम्बर की शान में गुस्ताखी को किसी भी कीमत पर बर्दाश्त नहीं किया जा सकता और मुसलमान सबकुछ अपने नबी की शान के लिए लुटा सकता है हमारी जान आका की शान पर कुर्बान है लेकिन हमें ध्यान रहना चाहिए कि अगर हमने नबी की तालीम से मुंह मोड़ा तो हम भी गुस्ताखी करेंगे लिहाज़ा आतंक का मुक़ाबला कानून का सहारा लेकर किया जाना चाहिए,पैग़म्बरे अमन की तालीम है अमन कायम करना इसे हमें नहीं भूलना है और इन आतंकियों को जवाब देना है कि उस नबी के उम्मती है जिसने दुनिया को जन्नत बनाने का हुनर अपने अनुयायियों को सिखाया।
उन्होंने कहा कि सरकार तुरंत इस पर कार्यवाही करे,उन्होंने बताया कि आल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड व्यापक तौर से देशव्यापी मुहिम चलाएगा और जबतक इस आतंकी को गिरफ्तार नहीं किया जाता तबतक हैं खामोश नहीं बैठने वाले ,हमने देश के प्रधानमंत्री और गृहमंत्री सहित अल्पसंख्यक आयोग को शिकायत कर कार्यवाही की मांग की है और देश भर में एफआईआर कराई जा रही है,देश में किसी भी तरह माहौल खराब नहीं होना चाहिए अगर ऐसा होता है तो आतंकी विचार जीतेगा इस बात को खास ख्याल रखा जाना चाहिए।