علماء مشائخ بورڈ کے چینل پر حضرت ابو بکر صدیق کی یاد میں محفل کا انعقاد۔

گزشتہ روز 22 جمادی الاخریٰ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے یوم و صال کی مناسبت سے آل انڈیا علما، مشائخ بورڈ کی جانب سے آن لائن پروگرام کیا گیا، جس میں مولانا مختار اشرف نے منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا جب کہ پورنیہ بہار سے مولانا منظر محسن نے سیدنا ابوبکر صدیق کی پاکیزہ حیات اور بے مثال خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
پروگرام کے ہوسٹ مختار اشرف نے کہا کہ :
سیدنا صدیق اکبر کی پیدائش رسول اللہ ﷺ کی پیدائش سے دو سال چند ماہ بعد ہوئی تھی، آپ کا پیدائشی نام عبدالکعبہ تھا۔ اسلام قبول کرنے پر پیغمبر اسلام ﷺ نے آپ کا نام عبدالله رکھ دیا۔ حضرت صدیق اکبر نے مردوں میں سب سے پہلے مسلمان ہونے کا شرف پایا۔ جب آپ نے اسلام قبول کیا تھا اس وقت آپ کے پاس چالیس ہزار درہم یا دینار تھے، ہجرت سے قبل ہی 35 ہزار اسلام کی اشاعت کے لیے خرچ کر دیا تھا، پھر مدینہ پہنچنے کے بعد بھی آپ کا ہاتھ کھلا رہا یہاں تک کہ غزوہ تبوک کے موقع پر اپنا سب کچھ، اللہ و رسول کی رضا کی خاطر اللہ کی راہ میں قربان کر دیا جب دنیا سے رخصت ہوے تو وراثت میں کوئی درہم و دینار نہیں بچا تھا یہ تھا آپ کا جذبہ انفاق فی سبیل اللہ۔ مفتی منظر محسن صاحب نے کہا کہ
پیغمبر اسلام ﷺ نے سب سے پہلا امیر حج بھی انہیں ہی مقرر فرمایا، امام الانبیا کی موجودگی میں مسجد نبوی میں امت کی امامت کا شرف بھی آپ ہی کو عطا ہوا، #دو_مرتبہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کی اقتدا میں نماز بھی ادا فرمائی۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق کی چار پشتوں کو صحابی رسول ہونے کا شرف حاصل ہے آپ کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کو یہ فضیلت حاصل ہو۔
سیدنا ابو بکر صدیق شروع ہی سے سلیم الفطرت تھے، شراب نوشی اور بت پرستی سے عمر بھر محفوظ رہے۔ جس کی تصدیق رسول اللہ ﷺ اور جناب جبریل فرشتے نے کی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد آپ مسندِ خلافت کے لئے چنے گئے، مملکت اسلامیہ کی بنیاد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں پڑی کیوں کہ آپ نے نہ صرف لوگوں کے دلوں میں عقائد کو راسخ کیا بلکہ تبلیغی و جنگی وفود ملک کے مختلف حصوں میں بھی بھیجے۔ عقائد کے رسوخ و نفوذ کے لیے آپ نے جو نمایاں کارنامہ انجام دیا وہ فتنہ ارتداد کو کچلنے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ حکومت کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے جو کارنامہ آپ نے انجام دیا وہ یہ ہے کہ سرحدوں پر فوجیں بھیج کر دشمنوں پر اپنی حکومت کے داخلی استحکام کا رعب جمادیا۔ ان دونوں کارناموں میں آپ کو دوسرے خلفاء پر اولیت اور فوقیت حاصل ہے۔
خلافت کی بیعت لینے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے جو خطبہ پڑھا وہ اسلام کی اصل حقیقت کی تصویر کھینچ رہا ہے اور اس راز کو ظاہر کرتا ہے جس کے سبب سے اسلام نے اتنی تیزی کے ساتھ پوری روئے زمین پر اپنا سایہ پھیلا دیا ،وہ خطبہ یہ ہے:
’’ اے لوگو ! میں تمہارا امیر مقرر کیا گیا ہوں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ میں اس قابل نہیں تھا،میں تم سے بہتر نہیں ۔ اگر میں اچھا کام کروں تو میری مدد کرنا،میں پھر جاؤں تو سیدھا کرنا، سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے، تم میں سے جو کم زور ہے وہی میرے نزدیک طاقت ور ہے، یہاں تک کہ میں اُس کو اُس کا حق لے کر دوں، تم میں جو طاقت ور ہے وہی میرے نزدیک کم زور ہے یہاں تک کہ میں اس سے حق وصول نہ کر لوں، تم میں سے کسی کو جہاد ترک نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ جب بھی کوئی قوم جہاد کو چھوڑ دے گی اللہ تعالیٰ اس قوم کو ذلت میں مبتلا کردے گا ۔ جب تک میں اللہ اور اللہ کے رسول كى فرماں برداری کروں تو میری فرماں برداری کرنا ،اگر مجھ سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب ہو تو تم سے فرماں برداری کروانے کا مجھے کوئی حق نہیں۔ ‘‘
حضرت سیدنا صدیق اکبر کا یہ خطبہ ان کی متوازن شخصیت اور کردار کا آئینہ دار ہے اور دنیا بھر کے اُمرا و سلاطین، بالخصوص مسلم حکمراں و قائدین کے لیے اس خطبہ میں بڑا سبق ہے۔
بورڈ کے ترجمان مختار اشرف صاحب نے کہا کہ علماء مشائخ بورڈ کی جانب سے اشرف ملت کے زیر سایہ اصحاب و اہلبیت رسول کے مشن کو فروغ کا سلسلہ لگاتا ر جاری ہے۔

آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ کی کارکردگی کا جائزہ

حضور اشرف ملت کا دورہ ممبر ا،تھانے، مہاراشٹرا
ممبرا (مہاراشٹرا)2/فروری بروز منگل
معروف اسلامی اسکالر اور صوفی عالم دین نبیرہ حضورسرکارکلاں،شہزادہ حضورشیخ اعظم پیرطریقت،رہبر راہ شریعت، حضرت علامہ الحاج الشاہ سید محمد اشرف اشرفی جیلانی نعیمی کچھوچھوی دامت برکاتہم،حضورمظہر المشائخ حضرت سید مظہر الدین اشرف کی عیادت اور آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ کی کارکرکردگی کا جائزہ لینے ممبر اتشریف لائے،آپ کی آمد رات بارہ بجے کے قریب ہوئی۔اور ایک گھنٹے تک قیام رہا اس دوران آپ نے حضور مظہر المشائخ کی خیریت دریافت کی،اور ان کی جلد صحت ایبی کے لیے دعاکی۔حضرت نے حضور مظہر المشائخ کی ذات کو ممبر کے لیے فال نیک قرار دیااور کہا کہ ممبر میں فرزند مخدوم سمناں کی موجودگی ممبر اکی ترقی وخوش حالی کی ضمانت ہے۔مظہرالمشا ئخ کی خدمات سلسلہ اشرفیہ کے فروغ وترقی میں ناقابل انکار ہیں۔اس نشست میں بورڈ کے حوالے سے اہم گفت وشنید ہوئی۔اور بورڈ کو ترقی دینے اور اس کادائرہ کار وسیع رکنے کے ذرائع پر غور وخوض ہوا۔ممبرا کے متعد د علما ومشائخ اور نمائندہ حضرات موجود رہے۔ اس موقعے پر مفتی منظر حسن خان اشرفی گھاٹ کوپر،مولانا سید حسن اشرفی گووونڈی،قاری عمران احمد اشرفی ملنڈ بھی شریک مجلس رہے۔
حضور اشرف ملت نے مولانا قیصر امام اشرفی کو ممبر امیں بورڈ کا صدرنامزد فرمایا اور کہا کہ مولانا قیصر ممبرا کے حالات سے واقف ہیں،اور یہاں کے لوگوں سے ان کے رابطے بھی اچھے ہیں، ان کے زریعے ان سے انشاء اللہ بورڈ کی تعمیر وترقی کاکام ہوگا۔حضرت نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا قیصر امام اشرفی کاساتھ دیں۔مولانا قیصر امام اشرفی تقریبا دو دہائی سے ممبئی میں مقیم ہیں،اور ممبئی کی رگ رگ سے واقف ہیں،درالعلوم محمدیہ مین انھوں نے تعلیم حاصل کی،اور فراغت کے بعد مینارہ مسجد سے پانچ چھ سالوں تک جڑے رہے۔اس کے بعد ممبرا کا رخ کیا اور اس کے بعد سے اب تم ممبرامیں دعوت وتبلیغ،عملیات اور خدمت خلق کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔مولانا کا زیادہ وقت آج بھی ممبئی ہی میں گزرتا ہے،اور ہفتے میں دو دن کے لیے ممبرا میں بھی آتے ہیں۔ممبرا میں موصوف کا اپنا ذاتی مکان بھی ہے۔اور ایک دینی تربیت گاہ جامعہ اشرفیہ نصیریہ مدینۃ العلوم ایجوکیشن ٹرسٹ کے ڈائریکٹربھی ہیں۔حاضرین نے مولانا قیصر امام کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا اور کہاکہ بورڈ ان کی سربراہی میں ممبر میں خوب ترقی کرے گا۔
٭٭٭٭٭
ترتیب وپیش کش:
مقبول احمد سالک مصباحی

آل انڈیا علما و مشائخ بورڈشاخ پونے مہاراشٹرا کی اہم مشاورتی میٹینگ

علامہ فیض احمد اشرفی خطیب وامام جامع مسجد چنچوڑپونے کو اجازت وخلافت

نبیرہ حضورسرکارکلاں،
شہزادہ حضورشیخ اعظم پیرطریقت،رہبر راہ شریعت، حضرت علامہ الحاج الشاہ سید محمد اشرف اشرفی جیلانی نعیمی کچھوچھوی کی قیادت وسرپرستی میں آل انڈیا علما و مشائخ بورڈشاخ پونے مہاراشٹرا کی اہم مشاورتی میٹینگ اور آ پ کے مقدس ہاتھوں سے خانقاہ اشرفیہ شیخ اعظم سرکار کلاں کچھوچھہ شریف کا رسم سنگ بنیاد

اس موقع سے علماومشائخ اورائمہ مساجد پونہ کا اشرف ملت کی ذہانت وقیادت اور بورڈ کی ملکی وعالمی حیثیت وخدمات پرمکمل اعتماد کااظہار

پونے ممبئی کے بعد مہاراشٹرا کا سب سے ترقی یافتہ شہر ہے۔پونے کی معاشی وملی شراکت داری کے بغیر کوئی مذہبی وملی تنظیم وتحریک ترقی نہیں کر سکتی۔اشرف ملت

ہند وستان کی تاریخ کا وہ دن یقینا بڑ اہی مبارک اور انقلابی تھا جب نبیرہ حضورسرکارکلاں،جانشین حضورشیخ اعظم پیرطریقت،رہبر راہ شریعت، حضرت علامہ الحاج الشاہ سید محمد اشرف اشرفی جیلانی نعیمی کچھوچھوی نے 2005 ء میں آل انڈیا علما و مشائخ بورڈکو قائم فرمایا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انتہائی مختصر سے وقت میں بورڈ کی خدمات کادائرہ ملک کی سرحدوں سے نکل کر بیرون ممالک خصوصا عالم عربی مصر وشام اور عراق ولیبیاتک پھیل گیا۔جس بورڈ کی بنیاد 2005 میں رکھی گئی،اس کے بارے میں لوگوں کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی جلد ترقی کرکے اس مقام تک پہنچ جائے گا۔آ ج الحمد للہ! بورڈملک کے کم وبیش سترہ صوبوں میں کام کررہاہے مگر یہ سچ ہے کہ کچھ وجوہات کی وجہ سے مہاراشٹراکے خطے میں بورڈ کوجو اہمیت حاصل ہونی چاہیے تھی وہ نہ ہوسکی۔اس لیے حضور اشرف ملت کی دیرینہ آرزو تھی کہ مہاراشٹرامیں بورڈ کے کام کو آگے بڑھایاجائے۔اسی غرض سے حضرت اشرف ملت سید محمد اشرف اشرفی جیلانی نعیمی کچھوچھوی نے ممبئی کے بعد پونے کی طرف اپنی توجہ مبذول فرمائی،اوراہل پونہ کی دعوت پر ایک تاریخی دورہ فرمایاجو تقریبا ایک ہفتہ تک جاری رہا۔اس درمیان آپ نے پونے کے مختلف جلسوں اور کانفرنسوں میں خطابات فرمائے،یہ دورہ انتہائی کامیاب رہا،سیکڑوں افراد آپ کے دست حق پرست پر داخل سلسلہ ہوئے،اور توبہ ورجوع کی د ولت سے مالا مال ہوئے۔اور متعدد نامور اور بااثر علما وائمہ کو بار گاہ اشرف ملت سے اجازت وخلافت کا تمغہ بھی ملا۔

28/جنوری بروز جمعرات حضرت علامہ الحاج الشاہ سید محمد اشرف اشرفی جیلانی نعیمی کچھوچھوی دامت برکاتہم نے جامع مسجد چنچوڑپونے میں نماز مغرب کی امامت فرمائی۔نماز مغرب کے بعد آٹھ بجے تک تقریری سلسلہ جاری رہاجس میں مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کے علاوہ اہل محلہ،قرب وجوار،خصوصا چنچوڑ کی معروف سماجی وسیاسی اور اور دینی وتعلیمی شخصیات،ڈاکٹرس،انجینیرس،پروفیسرز،اساتذہ وطلبہ اور عامۃ المسلمین نے شرکت کر کے فیض وبرکت حاصل کیا۔اس مو قع سے حضور اشرف ملت نے چنچوڑ کے قدیمی اور سینیر امام وخطیب حضرت علامہ فیض احمد اشرفی خطیب وامام جامع مسجد چنچوڑ کوسلسلہ اشرفیہ نظامیہ چشتیہ کی اجازت وخلافت عطا فرمائی،جس پر حاضرین نے نعرہائے تکبیر ورسالت سے اپنی مسرت کا اظہار فرمایا۔مولانا فیض احمد اشرفی پونے کء انتہائی قابل اور ذہین اماموں میں سے ایک ہیں۔زمانہ دراز سے پونہ میں مقیم ہیں،پونے کے اند ر آپ کی شخصیت مرجع خلائق ہے۔عوام اہل سنت آپ کو بڑی قدر کی نگا ہ سے دیکھتے ہے۔اکثر جلسے اور جلوسوں میں آپ کی حاضری ہوتی ہے،جس پروگرام میں موجود ہوں تو کامیابی کی ضمانت بن جاتے ہیں۔آپ کے اصلاحی ودعوتی کارنامے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔آپ کا آبائی وطن ضلع مہراج گنج (گو رکھپور)یو پی ہے۔آ پ پچھلی دو دہائی سے چنچوڑ میں مقیم ہیں۔
پروگرام میں حاضرین کی تعداد تقریبا تین سو تھی جو کوڈ۔19،کو دیکھتے ہوئے ایک بڑی تعد اد تھی۔پونے شہر کی درجنوں علمی وادبی شخصیات کی موجود گی نے پروگرام میں چار چاند لگا دیا۔مولانا منصور احمداشرفی،حافظ وقاری نصیب اللہ،مولانا عرفان احمد اشرفی،مولانا عمران احمد اشرفی،مولانا ابر ار احمد رضوی،مولانا فیروز احمد عزیزی،قاری شمشاد احمد اشرفی،مولانا اشتیاق احمد رضوی،مولانا فضل حق قادری وغیرہ کا خلوص شامل حال رہا۔ اراکین انتظامیہ کمیٹی مسجد چنچوڑ میں سے محفوظ خان،عبد الجبار شیخ،یوسف پٹھان،سمیر خان،اعجااز ملا،انور پٹھان اعظم بھائی پان سرے،اور عبدالقدیر نعل بند وغیرہ نے بڑے ہی عقدت واحترام کے ساتھ حضرت کا والہانہ استقبال کیا اور تمام پروگرام میں پرونوں کی طرح حضرت اشرف ملت کے گر د منڈلاتے رہے۔

ترتیب وپیش کش :
مقبول احمد سالک مصباحی

آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ شاخ گوونڈی کے زیر اہتمام نوریہ غوثیہ مسجدگوونڈی میں حضرت فاطمہ زہرا کا یوم ولادت دھوم دھام سے منایاگیا

20/۔جمادی الثانیہ بروز بدھ 1442ھ،مطابق 3/فروری 2021ء آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ شاخ گوونڈی کے زیر اہتمام
نوریہ غوثیہ مسجدگوونڈی میں حضرت فاطمہ زہرا کا یوم ولادت دھوم دھام سے منایاگیا۔
معروف اسلامی اسکالر اور صوفی عالم دین نبیرہ حضورسرکارکلاں،جانشین حضورشیخ اعظم پیرطریقت،رہبر راہ شریعت، حضرت علامہ الحاج الشاہ سید محمد اشرف اشرفی جیلانی نعیمی کچھوچھوی دامت برکاتہمکاولہانہ خطاب،مجلس میں گوونڈی کے علما وائمہ اور عوام اہل سنت کاجم غفیر
اس موقع سے اشرف ملت نے حضور شیخ اعظم کی لکھی ہوئی اپنی پسندیدہ نعت پاک پیش فرمائی،جسے سامعیں نے خوب جھوم جھوم کر رکے سنا اور بار بار نعرہائے تکببیر ورسالت بلند کرتے رہے۔
جس کے ہاتھوں میں ہے ذوالفقار نبی
جس کے پہلو میں ہے شاہوار نبی
دختر مصطفیٰ جس کی دولھن نبی
جس کے بیٹوں سے نسل نبی ہے چلی
ہاں وہی ہاں وہی، ہاں علی وولی
نعرہ حیدری یاعلی یا علی
جس کے بارے میں فرمائیں پیارے نبی
جس کا مولیٰ ہوں میں اس کا مولیٰ علی
جس کی تلوار کی جگ میں شہرت ہوئی
جس کے بیٹوں سے رسم شجاعت چلی
ہاں وہی ہاں وہی،ہاں علی وولی
نعرہ حیدری یاعلی یا علی
میرے نانا بھی ہیں، میرے داتا بھی ہیں
سیدوں کے وہی جد اعلیٰ بھی ہیں
ان کے نانا بھی ان کے داتا بھی ہیں
میرے آقا بھی ہیں میرے مولیٰ بھی ہیں
نظمی وہ ہی صفی ورضی،و نجی
ہاں وہی ہاں وہی،ہاں علی وولی
نعرہ حیدری یاعلی یا علی
خاندان نبوت رسالت کی تعریف وتوصیف پر مشتمل کلام سن کر پورا مجمع سرشار وبیخود ہوگیا۔سارے سامعین کلام کو دہرا رہے تھے،یقینا کلام رسول جب فرزند رسول کی زبان سے ادا ہو تو اس کامزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔اور یہ سادات کچھوچھہ کی خصوصیت ہے کہ خطابت اور خوش گلوئی ان کو ورثے میں ملتی ہے۔حالانکہ حضور اشرف ملت کسی مدرسے کے باضابطہ فارغ التحصیل نہیں،اور نہ ہی مولویت کا ان کے اوپر لیبل لگا ہوا ہے،آپ کی تعلیم وتربیت بنیادی طور پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہوئی ہے،اور انجینیرکی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایک زمانے تک تجارت ومعیشت اور رئیل اسٹیٹ کے پیشے سے بھی جڑے رہے ہیں،البتہ حضور سرکار کلاں اورحضور شیخ اعظم کی صحبت اور ذاتی مطالعہ کاکمال ہے کہ اس وقت خطیب اعظم ہند کی طرح مذہبی اسٹیجوں پر گرج رہے ہیں۔اور بڑے بڑے نامی گرامی خطبا آپ کے فکر انگیز خطاب کے سامنے ٹکتے نظر نہیں آتے۔خطیب اگر خوش گلو بھی ہوتو سونے پر سہاگہ ہوجاتا ہے،اور دونوں کے ساتھ آل رسول ہواور اس کے ساتھ ساتھ وجاہت کا آئینہ بھی ہو تو سبحان للہ۔اور یہ ساری خوبیاں حضور اشرف ملت میں اللہ تعالیٰ نے جمع فرمادی ہیں۔
حضور اشرف ملت نے اپنے دلآویز خطاب میں سیدہ فاطمہ ہزرا رضی اللہ تعالی عنہا کی عظمت وفضیلت پر خاص گفتگو فرمائی،اور ان کی پاکیزہ سیرت کے اہم پہلؤوں کو اجاگر کیا۔اور کہا کہ امت مسلمہ کی تمام ماؤں اور بہنوں کے لیے حضرت فاطمہ زہرا کی سیرت ایک آئیڈیل اور نمونہ ہے۔انھوں نے کہ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی عظمت وفضیلت کے لیے یہ کافی ہے کہ آپ ہی کے ذریعے رسول پاک کی نسل پاک چلی۔حضرت نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ مغربی دنیا اسلام کی مقبولیت سے سخت خائف ہے اسی لیے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھ کنڈے اپناتی رہتی ہے،جس کی تازہ مثال حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پاکیزہ شخصیت پر فلم بنانا بھی ہے۔جس سے مسلمانوں میں سخت اضطراب پیدا ہوا۔حضرت نے کہا کہ ہم اس حرکت کی سخت مذمت کرتے ہیں۔
آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ فقط نام نہیں ہے بلکہ ایک تحریک ہے،یہ کسی حجرے میں لگے ہوئے سائن بورڈ کا نام نہیں ہے،اور نہ ہی لیٹر پیڈ والی تنظیم ہے،یہ جب سے قائم ہوئی،یہ تنظیم فعال ہے،اب تک کئی بڑے بڑے مسلم مہاپیچائت اور نیشنل وانٹرنیشنل کانفرنسز منعقد کی۔لکھنؤ میں جلوس محمد ی کاقیام واجرا میں اس کااہم رول ہے،میں نے عہد کی اتھا کہ جب تک جلوس نکل نہیں جاتا میں لکھنؤ سے باہر قدم نہیں نکالوں گا۔انتہائی مختصر وقت میں ملک کے ۷۱ صوبوں میں اس کی شاخیں قائم ہیں۔اور ہر شاخ کے ذریعے اس صوبے کے ملی ومی مسائل کو حکومت کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں۔
اشرف ملت نے قوم کیاصلاح کرتے ہوئے کہا کہ صرف مروجہ نعروں سے کام نہیں چلے گا،بلکہ نعرے کی روح تک پہنچنے کی کوشش کرنی ہوگی۔صرف آواز بلدن مت کرو بلکہ نعرہ کی حقیقت کو بھی سمجھو،نعرہ دراصل عقائد کا برملا اظہار ہے۔نعرہ تکبیر میں اللہ کی کبریائی ہے،نعرہ رسالت میں عظمت رسالت ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ نعرہ حیدری اہل بیت رسالت کے ساتھ ہماری وابستگی کا اظہار ہے۔اس کے بعد جتنے نعرے چاہو لگاؤ۔
حضرت افسوس کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی تمام اقوام میں مسلمان کمزور ہے،اور مسلمانوں میں اہل سنت سب سے زیادہ کمزور ہیں۔اور یہ سب اہل سنت کے داخلی انتشارتقسیم کا نتیجہ ہے۔جب قومیں انفرادیت کاشکار ہوجاتی ہیں تو ہر طرف سے آواز آتی ہے کہ کہاں سے پہلے کہاں سے پہلے،اور جب اجتماعیت کے ساتھ کام کرتی ہیں تو آواز آتی ہے یہاں سے پہلے یہاں پہلے۔

ترتیب وپیش کش:
گدائے اشرفی
مقبول احمد سالک مصباحی

ऑल इंडिया उलमा मशाइख बोर्ड जयपुर जिला के अध्यक्ष नियुक्त किए गए वाहिद यजदानी.

जयपुर 19 जनवरी. ऑल इंडिया उलमा मशाइख बोर्ड ने वाहिद यजदानी को जयपुर ज़िला का अध्यक्ष घोषित किया, बोर्ड के राष्ट्रीय अध्यक्ष हजरत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछोछवी के आदेश पर बोर्ड कार्यसमिति दिल्ली के समन्वयक हाफ़िज़ हुसैन शेरानी ने नियुक्त पत्र पेश किया.
वाहिद यजदानी ने कहा कि ऑल इंडिया ऊलमा व मशाईख बोर्ड मोहब्बत के पैग़ाम को आम करने वाला संगठन है, और सभी धर्मों का आदर करता है, श्री यजदानी को राजस्थान की कई दरगाहों के सज्जादा नशीन एवं कई संस्था, संगठन क्लब ने मुबारकबाद पेश की और माला पहनाकर स्वागत किया गया और कई जगह सम्मान किया गया. वाहिद यजदानी ने बताया कि ऊलमा मशाईख बोर्ड सूफी विचारधारा को बढ़ावा देने वाला संगठन है, बोर्ड की भारतवर्ष में कई शाखाएँ हैं जो सूफी संतों के पैग़ाम को बढ़ावा देने एंव अल्लाह, पैगंबर मोहम्मद मुस्तफा के बताए हुए रास्ते पर अमल करते हैं, श्री यजदानी ने बोर्ड के प्लेटफॉर्म पर चलने का संकल्प लिया.

اسمبلی آف گرین کونڈوا کے زیر اہتمام ”خانقاہ اشرفیہ پونہ“کا سنگ بنیاد

اشرف ملت حضرت سید محمد اشرف اشرفی جیلانی نعیمی کچھوچھو ی کاتاریخی د ورہ پونہ January 28,2021
اسمبلی آف گرین کونڈوا کے زیر اہتمام ”خانقاہ اشرفیہ پونہ“کا سنگ بنیاد رکھا گیا،اور آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ کی”چنچوڑ پمپری شاخ“کا قیام بھی عمل میں آیا۔

پونہ صوبہ مہاراشٹرا کی، ممبئی کے بعد دوسراصنعتی وتعلیمی مرکز ہے،فی الحا ل پونہ کا کل رقبہ 15,642کیلو میٹر ہے۔اور کل آبادی تقریبا 9,924,224ہے۔تعلیمی تناسب 87%ہے۔اس شہر میں کثرت سے مسلمان آباد ہیں،جگہ جگہ مساجد کے مینار ے دکھائی دیتے ہیں،قدیم پونہ سٹی اسلامی تہذیب وتمد ن کا عظیم مرکز ہے۔ملک کے کو نے کونے سے مسلمان کاروبار اورملازمت کے لیے پونہ کا رخ کرتے ہیں۔پونے میں بڑی بڑی کمپنیاں ہیں،پونہ پورے ملک میں تعلیمی ہب کے طور پر جا نا جاتا ہے۔لاکھوں طلبہ ملک کے کونے کونے سے کمپٹیشنز کی تیاری کے لیے یہاں آتے ہیں۔پونہ یونیورسٹی ملک کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے،پونہ میڈیکل کالج ایک معیاری میڈیل کالج ہے۔شہر کے اطراف میں کثرت سے رئیل اسٹیٹ کا کاروبار پھل پھول رہاہے۔پونہ ملک کے تیزرفتار ترقی یافتہ شہروں میں سے ایک ہے۔اس کی آب وہوا انتہائی صحت افزا ہے۔ٹمپریچرنہایت مناسب ہے،ممبئی سے ایک سو اسی کیلو میٹر کی دوری پر جانب مشرق واقع ہے۔مسلمان زیادہ تر بھنگار اور مزدوری کے کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں۔چنچوڑ پونہ شہر کا مغربی کنارہ ہے،اسی سے متصل کدل واڑی بھی آبا دہے جو مسلم اکثریتی کاروباری علاقہ ہے۔ممبئی کی طرح پونہ کامسلمان بھی مذہبی وملی لحاظ سے کافی بیدار اور ترقی پسند ہے،اسی لیے اس شہر کی جانب علما وائمہ بھی کافی توجہ دیتے ہیں۔
پونہ ایک زمانے سے روحانی طور پر کافی پیاسا تھا۔اور اس انتظا ر میں تھا کہ کوئی فرزند مخدوم سمناں آکرکے ان کی روحانی بے چینی کا مدا وا کرے۔بار ہا حضور اشرف ملت سے اس سلسلے میں پونہ کے اشرفی عقیدت مندوں کی جانب سے گز ارش کی گئی تھی کہ حضرت اشرف ملت کچھ وقت پونہ کو بھی عطا فرمائیں مگر حالات کی وجہ سے تاخیرہوتی رہی،بالآخر ماہ جنوری کے آخر میں پونہ والوں کی قسمت جاگ اٹھی اوراسمبلی آف گرین (ٹرسٹ) کی درخواست پرحضرت اشرف ملت نے وقت عطا فرمادیا۔پروگرام کے مطابق 27جنوری کی شب میں حضور اشرف ملت کی پونہ میں آمد ہوئی اور 28جنوری بروزجمعرات کی صبح /11بجے ہڑپ سر میں اسمبلی آف گرین ٹرسٹ کی جانب سے خانقاہ اشرفیہ شیخ اعظم سرکارکلاں کا سنگ بنیا د رکھا گیا،جس میں مسلمانان اہل سنت خصوصا سلسلہ اشرفیہ کے دیوانوں نے جو ش وخروش کے ساتھ حصہ لیا۔جوں ہی حضور اشرف ملت نے سنگ بنیاد رکھا،نعرہائے تکبیر ورسالت سے فضا گونج اٹھی۔حضرت نے سنگ بنیاد رکھنے کے بعد خانقاہ کی وسعت وترقی کے لیے دعا فرمائی۔ جمعہ کے دن ہڑپ سر ہی میں نماز جمعہ کی امامت فرمائی اورشاندار اصلاحی ودعوتی خطاب فرمایااور حالات حاضرہ کے حوالے سے مسلمانوں کی چشم کشائی فرمائی۔اور کہاکہ یہ وقت کواب غفلت میں سونے کانہیں جہد مسلسل اور دعی پیہم کا وقت ہے،جو قومیں سوتی ہیں انھیں زمانہ ہمیشہ کے لیے سلا دیتا ہے۔
جمعہ کی شام میں ”ہڑپ سر“ ہی میں سنگ بنیادسے منسوب جلسہ عام ہوا جس میں پونے کے مختلف علاقوں کے علما وائمہ اور عوام اہل سنت نے بھر پور حصہ لیا۔حضرت اشرف ملت کا ولولہ انگیز بیان ہوا،بیان کاموضوع تھا ”خانقاہوں کی تعمیر اوراصلاح سماج میں ان کا کرداراورہماری ذمہ د اریاں“یہ ایک انتہائی کامیاب جلسہ تھا،حضرت کے خطاب سے لوگوں کے دل ودماغ روشن ہوگئے،اور ہر شخص کی زبان پر حضرت کی دل نشین گفتگو کا چرچا تھا۔ اسمبلی آف گرین کونڈواپونے شہر کی ایک فعال فلاحی ورفاہی مسلم ٹرسٹ ہے جو بر ابر مسلمانوں کی فلاح وبہبود،تعلیم وتربیت اور دعوت وتبلیغ کا کام کاتر رہتا ہے۔خصوصا بزرگان دین کے ایام اور اعراس مبارکہ کو بڑے ہی اہتمام سے مناتا رہتا ہے۔اہم اسلامی مواقع جسیے ربیع الاول شریف،گیارہویں شریف،محرم الحرام شریف،جلوس غوثیہ وغیرہ کی مناسبت سے

جلسے جلوس اور قرآن خوانیاور اذکر واذکار کی محافل کاانعقاد کرتی رہتی ہے۔ خانقاہ کے سنگ بنیاد کاکام بھی اسی ٹرسٹ کی سربراہی میں عمل میں آیاہے۔
ہفتہ کے دن پونے کے مشہور بزرگ حضرت سبحان شاہ ولی رحمۃ اللہ علیہ کے آستانے پر حاضری ہوئی۔اسی آستانے پرایک چھوٹی سی مگر خوبصورت مسجد ہے جس میں بمشکل دس پندرہ لوگ ہی سماسکتے ہیں مگرالحمد للہ یہاں بھی سو سے زائد افراد فر ط عقیدت میں حضرت کی زیارت کی غرض حاضر ہوئے۔یہاں پر حضرت نے خلیفہ اول حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی عظمت وفضیلت کے موضوع پر زبرد ست خطاب فرمایا اور ہفتہ کی شام جامع مسجد چنچوڈ میں جلسہ عام ہوا جس میں مولانا فیض احمد اشرفی مہراجگنجوی اور مسجد کے اہم ذمہ دار جناب محفوظ خان اشرفی کواجازت وخلافت عطا فرمائی اور یہ پونہ کا آخری جلسہ تھا۔جس کی تفصیل الگ سے شایع ہوچکی ہے۔
حضور اشرف ملت کی ذات وہ ذات ہے جس نے دور جد ید میں تصوف اسلامی کااحیا کیا۔لوگوں میں تصوف کے تئیں بید اری پیدا فرمائی،لوگوں میں یہ احساس ہو اکہ تصوف ہی ہماری روح ہے،تصوف ہی اصلاح معاشرہ کا اہم عنصر ہے۔آ پ کی تقریر معمول کے مطابق انتہا ئی موثر اور عبرت انگیز ہوتی ہے،قرآنی وسنت سے استدلال آپ کا طرہ امتیا ز ہے،اپنی بات کو ہمیشہ منقولات کے ساتھ ساتھ معقولات اور تاواریخ وسیر سے مزین فرماتے ہیں،گفتگو فرماتے ہیں تو لگتاہے کہ پھول جھڑ رہے ہیں۔آپ کی تقاریر کا عام طور پر موضوع محبت الہی،خدمت خلق،تعلق مع اللہ،تو بہ وانابت،اور روز آخرت کی جزا وسز ہوا کرتی ہے۔اس موقع سے آپ نے جو سب سے اہم بات کہی وہ یہ تھی کہ نفرت کسی سے نہیں،محبت سب کے لیے۔آپ نے فرمایا کہ محبت ہی وہ جو ہر ہے جو دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے،صوفیا نے اسی جو ہر کو کام میں لاتے ہوئے سرزمین ہند میں لاکھوں لوگوں کو حلقہ بگوش اسلام کر دیا۔
حضور اشرف ملت کی انھیں خوبیوں کی وجہ سے پورا ملک اس انتظا ر میں ہوتا ہے کہ حضور اشرف ملت اپناقیمتی وقت عطا فرمادیں۔حضرت کی موجودگی کسی بھی کانفرنس کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔اور آپ کے دیگر تبلیغی دوروں کی طرح الحمد للہ پونہ کایہ سہ روزہ دورہ بھی بڑاہی مصروف اور متبرک رہا۔جہاں بھی گئے ہر طرف سے پروانوں کاہجوم اکٹھا ہو گیا،ہر آنے والا اپنی پریشانی،اپنی مسئلہ بیان کرتا،حضرت اپنی عادت کریمانہ کی بنیا د پر سب کی باتیں توجہ سے سماعت فرماتے۔اور ہر کسی کوتسلی واور دعائیں دیتے رہے۔دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہفتے کا وقت کسیے گزر گیا،پتہ ہی نہیں چلا۔سلسہ اشرفیہ کی توسیع واستحکام کا سلسلہ بھی جاری رہا۔مساجد میں مصلیان کی خواہش پرنمازوں کی امامت بھی فرمائی،بچوں کے سر پر دست شفقت بھی پھیر ا،تعویذات ونقوش بھی تقسیم فرمائے۔اور خانوادہ اشرفیہ کے تبرکات اور فیوض وبرکات کو کوب خواب لٹا یا۔
لیکن جیسا کہ ابتدا عرض کیا گیا کہ دورہ کا اصل مقصد اسمبلی گرین کونڈوا کے زیر اہتمام خانقاہ اشرفیہکا ہڑپ سر میں سنگ بنیاد اورآل انڈیا علما ومشائخ بورڈ کی تعمیر وتوسیع تھی اس لیے حضور اشرف ملت کی قیادت وسرپرستی میں اس کی”چنچوڑ پمپری شاخ“ کاقیام بھی عمل میں آیا۔اور ا س کو مزید مستحکم کر نے کے لیے اہم افراد سے رابطہ کیاگیا اور ان کی سرکردگی میں اہم مشاورتی میٹنگس بھی رکھی گئیں، جس میں شہر کے ملی وقومی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیااورپونہ میں بورڈ کی تعمیر وترقی کے اسباب وذرائع پر بھی غوروخوض کیا گیا۔شہر پونہ کے اہم علما وائمہ اور سرکردہ ارباب فکر وخرد اور باشعور افراد نے دل چشپی کے ساتھ اس نشست میں شر کت کیا اوراپنے مفید مشوروں سے نواز اور قوم وملت کی فلاح وبہبود کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے میں اپنا کردار اداکیا۔حضور اشرف ملت نے آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ پونے کی ذمہ د اری مولانا فیض احمد اشرفی خطیب واما م جامع مسجد چنچوڑکو عطا فرمائی۔
اس موقع سے علماومشائخ اورائمہ مساجد پونہ نے اشرف ملت کی ذہانت وقیادت اور بورڈ کی ملکی وعالمی حیثیت پرمکمل اعتماد کااظہار کیا اور کہاکہ حضور اشرف ملت کی ذات ایک عظیم نعمت خداوندی ہے۔اللہ تعالی جب کسی قوم سے خوش ہوتاہے تو اس کیا ندر حجور اشرف ملت جیسا نڈر لیڈر اور قائد بھیج دیتا ہے۔حضور اشرف ملت نے پونے کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ پونے کی معاشی وملی شراکت داری کے بغیر کوئی مذہبی وملی تنظیم وتحریک ترقی نہیں کر سکتی۔جس سے اہل پونہ نے اتفاق کیا۔
ہمدرد قوم وملت عالی جناب محفوظ خان ٹرسٹی جامع مسجد چنچوڑنے کہا کہ یوں تومتعدد صوبوں میں آل انڈیا علما ومشائخ کی برانچیز کام کر رہی ہیں۔مگر چونکہ شہر پونہ ممبئی کے بعد مہاراشٹرا کااہم معاشی اور مذہبی مرکز ہے اس لیے یہاں پر بورڈ کو فعال کرنا انتہائی ضروری ہے۔خلیفہ حضور اشرف ملت مولانافیض احمد مہراج گنجوی صاحب اشرفی خطیب وامام جامع مسجد چنچوڑ(پونے)نے کہا کہ موجود ہ دور تنظیم وتحریک اور اجتماعیت کا دور ہے۔تنظیم کے بغیر ہماری تما م تر کوششیں رائیگاں چلی جاتی ہیں۔اور جس نتیجہ کی ہم توقع رکھتے ہیں،وہ بر آمد نہیں ہوتا۔مولانا نے کہا کہ قوم وملت کی بد حالی کے لیے طبقہ علما ومشائخ ہی سب سے زیادہ ذمہ دار ہے۔اسے اپنی ذمہ د اریوں کا احساس کر نا ہوگا۔اور یہ طبقہ جتنا جلد اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے گا قوم وملت کے حق میں اتنا ہی بہتر ہوگا۔خانقاہ اشرفیہ پونے کے صدر مولانا عرفان اشرفی خلیفہ حضور اشرف ملت وصدر اعلیٰ اسمبلی آف گرین کونڈوا پونے نے کہا کہ یہاں کامسلمان جب کسی کام کو ٹھان لیتا ہے تو اسے کرکے ہی دم لیتاہے۔پونہ مہاراشٹراکی تمام تنظیموں کی توجہات کامرکزہے،اس لیے اس سے جد ارہ کر تنظیم کوچلایا نہیں جاسکتا۔خانقاہ اشرفیہ پونے کے نائب صدرمولانا عمران اشرفی خلیفہ اشرف ملت ونائب صدر اعلیٰ اسمبلی آف گرین کونڈوا پونے نے اہل مجلس کے مشوروں سے مکمل طور پر اتفاق کیا اور کہا کہ ہمیں دامے درمے قدمے سخنے بورڈ کو جلد سے جلد فعال کرنا ہے۔ اسی ایجنڈے کے تحت علمائے اہل سنت پونہ نے اپنے اپنے مفید مشوروں سے نواز کرحضرت کے دورے اور پروگراموں کو کامیاب کیا جس کے لیے بورڈ ان حضرات کامشکور ہے۔
یاد رہے اس سے قبل حضرت اشرف ملت کا 2017میں عرس سبحان شاہ ولی رحمۃ اللہ علیہ کے سالانہ عرس کے موقع پر پونہ کادورہ ہو چکا ہے۔اس موقع سے آپ نے حضرت عمران احمد اشرفی اور حضرت عرفان احمد اشرفی برادران کواجازت وخلافت عطا فرمائی تھی۔یہ دونوں برادران حضور اشرف ملت کے بے لوث سپاہی ہیں،اور برابر فیضان اشرفی سے اہل پونہ کو سیراب کرنے کا پروگرام بناتے رہتے ہیں۔مولانا عرفان اشرفی ایک فعال شخصیت کے مالک ہیں اور اسمبلی آف گرین کے صدر اعلیٰ بھی ہیں،اور آپ کے برادر اصغر مولانا عمران اشرفی صاحب نائب صدر ہیں۔اور اب جب کہ علامہ فیض احمد اشرفی جیسا بے باک اور طاقت ور عالم دین اور مبلغ حضرت کے دامن کرم سے جڑ چکا ہے تو امید قوی ہے کہ اب زیادہ رفتار کے ساتھ دعت وتبلیغ اور سلسلہ اشرفیہ کے فروغ واستحکام کا کام ہوگا۔اللہ تعالی ان کو دارین کی سعادتوں سے مالا مال فرمائے۔آمین
ترتیب وپیش کش:
گدائے اشرفی
مقبول احمد سالک مصباحی

नौजवानों के हाथों में देश का भविष्य सुनहरा : सय्यद मोहम्मद अशरफ

26 जनवरी, नई दिल्ली
इस बार कोरोना महामारी के कारण गणत्रंत्र दिवस बोर्ड के सोशल मीडिया प्लेटफार्म पर मनाया गया जिसमें बोर्ड एग्जीक्यूटिव सदस्य हज़रत सय्यद तनवीर हाश्मी, हज़रत सय्यद अम्मार अहमद नय्यर मियाँ, हज़रत सय्यद आलमगीर मियां, हज़रत सय्यद सलमान चिश्ती, हज़रत सय्यद फरीद अहमद निज़ामी के अलावा जनाब यूनुस मोहानी ने अवाम को संबोधित किया. प्रोग्राम का संचालन मुख़्तार अशरफ ने किया.
आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड के अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफी फ़ोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने सभी देशवासियों को 72 वां गणतंत्र दिवस की बधाई देते हुए कहा कि आज देश में देश भक्ति का सैलाब आया है जिसने दुनिया को संदेश दिया है कि भारत का भविष्य बहुत सुनहरा है।
उन्होंने लोगों को शिक्षा के लिए आंदोलन चलाने की बात कही, उन्होंने कहा कि सभी को इस ओर ध्यान देना है और लोगों को जिनके पास पैसे हैं, जो अपने बच्चों को पढ़ाने के अलावा दूसरे बच्चे की फीस जमा कर सकता है वह करे, जो दो बच्चों की फीस भर सकता है भरे और जो 4 बच्चे पढ़ा सकता है पढ़ाए क्योंकि मुल्क और समाज की तरक्की शिक्षा से ही होगी।
हज़रत ने कहा कि लोगों को हिंसा से अराजकता से बिल्कुल बचते हुए लोकतांत्रिक तरीके से अपनी बात रखनी चाहिए,हमें ख्याल रखना चाहिए कि किसी भी हालत में देश का नुक़सान न होने पाए, यह खुशी की बात है कि लोगों में जिस तरह का ज़ज़्बा अपने संविधान और देश के लिए देखा जा रहा है, जो बताता है कि मुल्क का भविष्य सुनहरा है और किसी भी विदेशी ताकत में यह ताकत नहीं है कि वह हमारे इस चमन को बांट पाए।
आज हर हाथ में तिरंगा है, हर ज़ुबान पर संविधान यह भारत की ताकत को दर्शाता है कि भले हज़ार असहमतियां हों लेकिन देश की बात आएगी हमारे तिरंगे के सम्मान की बात आएगी तो हम एकजुट हैं, सरकार और जनता के बीच खींचतान तो लोकतंत्र की खूबसूरती है लेकिन इसमें हिंसा का कोई स्थान नहीं है, सभी को गणतंत्र दिवस की बधाई और यह अपील भी कि इस चमन को आग से बचा कर रखना है ताकि यह फूल खूब खिले, खूब महके, वतन में हमेशा फसले बाहर रहे।

آل انڈیاعلماومشائخ بورڈ کے صدردفتر میں لائیو عرس حافظ ملت منایا گیا

آل انڈیاعلماومشائخ بورڈ کے قومی ترجمان مولانا مقبول احمد سالک مصباحی نے ایک سوال کے جواب میں حافظ ملت کے خاندانی پس منظر پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حافظ ملت کسی امیر کبیر اور علمی شہرت کے حامل گھرانے سے تعلقے نہیں رکھتے تھے، بلکہ ایک عام کسان گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، اس گھر کا کل سرمایہ اس کی دینداری اور تصلب فی السنیۃ تھا، آپ کا تعلق بھوجپور کی سرزمین سے تھا، آپ کے والدگرامی حضرت عبدالرحیم ایک شاندارحافظ وقاری تھے، جن کا مطالعہ اور علمی ذوق اتنابلندتھاکہ تھا آیت کاترجمہ پڑھنے پر آیت کی تلاوت کردیا کرتے تھے، دادا جان نے تفاؤلا آپ کانام شیخ عبدالعزیز محدث دہلوی کے نام پر عبدالعزیز رکھا اور بلاشبہ نام کی برکت حافظ ملت کی شکل میں ظاہر ہوئی۔
پروگرام کے میزبان اسلامی اسکالرعظیم اشرف سنبھلی کے سوال پردوسرے مہمان مولانارضی مصباحی نے کہا کہ حافظ ملت کا سب سے عظیم کارنامہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کی درسی خدمات ہے، مگر یہ بھی سچائی ہے کہ مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم سے لے کر دارالعلوم اشرفیہ تک کے مرحلے میں ایک ایک اینٹ پر اعلی حضرت اشرفی میاں کی قربانیاں اور دعائیں شامل حال ہیں، اشرفیہ کو اشرفیہ بنانے میں سلسلہ اشرفیہ اوراس کے مریدین کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، پروگرام کے میزبان اسلامی اسکالر مولانا عظیم اشرف نے اپنے تبصرے میں دعوت فکردیتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ اشرفیہ کی تعمیروترقی میں ہرحانقاہ اور حلقے شامل ہیں مگر ابتدائی چالیس سالوں میں سلسلہ اشرفیہ ہی نمایا ں مقام رکھتاہے، کیونکہ حافظ ملت اعلی حضرت اشرفی میاں کے ہی مرید وخلیفہ تھے، اس لیے اشرفی میاں نے اپنی اکثرتوانائی اپنے قیام کردہ ادارے کے لئے صرف کردی۔
آخر میں مولانا مقبول احمد سالک مصباحی نے الجامعۃ الاشرفیہ کے تعلیمی شہرت اور معیار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم کے معاملے میں اشرفیہ پورے ملک میں سرفہرست ہے، اس کے فارغین پورے عالم اسلام میں پھیلے ہوئے ہیں، اور قوم وملت کی قیادت ورہ نمائی کافریضہ انجام دے رہے ہیں، ایک محدود اندازے کے مطابق اس کے فضلا کی تعداد بیس ہزار سے زائد ہے، مولانا مصباحی نے کہا کہ اشرفیہ کسی ایک مشرب یا مکتب فکر کی جاگیر نہیں اسے اسلاف نے اپنے خون پسینے سے سجایااورسنورا ہے،خصوصا مکتب کے قیام سے لے کر دارالعلوم اشرفیہ تک کے مرحلے میں سلسلہ اشرفیہ کی قربانیاں بے مثال اور ناقابل انکار ہیں، جب یونیورسٹی کا مرحلہ ایاتو پھر پورا ملک شامل ہوگیا۔ آل انڈیاعلماومشائخ بورڈ کی جانب سے اہم شخصیات کے ایام وفات کے موقعے پر لائیو پروگرام کا انعقاد ہوتا رہتا ہے، اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی حافظ ملت کاعرس پاک بھی تھا، بورڈ کا مقصد تمام اکابرین کی خدمات سے نئی نسل کو روشناس کرانا ہے، ناظرین پورا پروگرام آل انڈیاعلماومشائخ بورڈ کے آفیشل یوٹیوب چینل و فیس بک پیج پر سن اور دیکھ سکتے ہیں، بورڈ کی جانب سے الجامعۃ الاشرفیہ کے لیے نیک خواہشات پیش خدمت ہیں، بورڈ کے صدر اشرف ملت حضرت سید محمد اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی دام ظلہ اشرفیہ کی تعمیروترقی کے لیے تن من دھن سے عہد بند ہیں
انڈیاعلماومشائخ بورڈ کے صدردفتر میں لائیو عرس حافظ ملت منایا گیا
آل انڈیاعلماومشائخ بورڈ کے قومی ترجمان مولانا مقبول احمد سالک مصباحی نے ایک سوال کے جواب میں حافظ ملت کے خاندانی پس منظر پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حافظ ملت کسی امیر کبیر اور علمی شہرت کے حامل گھرانے سے تعلقے نہیں رکھتے تھے، بلکہ ایک عام کسان گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، اس گھر کا کل سرمایہ اس کی دینداری اور تصلب فی السنیۃ تھا، آپ کا تعلق بھوجپور کی سرزمین سے تھا، آپ کے والدگرامی حضرت عبدالرحیم ایک شاندارحافظ وقاری تھے، جن کا مطالعہ اور علمی ذوق اتنابلندتھاکہ تھا آیت کاترجمہ پڑھنے پر آیت کی تلاوت کردیا کرتے تھے، دادا جان نے تفاؤلا آپ کانام شیخ عبدالعزیز محدث دہلوی کے نام پر عبدالعزیز رکھا اور بلاشبہ نام کی برکت حافظ ملت کی شکل میں ظاہر ہوئی۔
پروگرام کے میزبان اسلامی اسکالرعظیم اشرف سنبھلی کے سوال پردوسرے مہمان مولانارضی مصباحی نے کہا کہ حافظ ملت کا سب سے عظیم کارنامہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کی درسی خدمات ہے، مگر یہ بھی سچائی ہے کہ مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم سے لے کر دارالعلوم اشرفیہ تک کے مرحلے میں ایک ایک اینٹ پر اعلی حضرت اشرفی میاں کی قربانیاں اور دعائیں شامل حال ہیں، اشرفیہ کو اشرفیہ بنانے میں سلسلہ اشرفیہ اوراس کے مریدین کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، پروگرام کے میزبان اسلامی اسکالر مولانا عظیم اشرف نے اپنے تبصرے میں دعوت فکردیتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ اشرفیہ کی تعمیروترقی میں ہرحانقاہ اور حلقے شامل ہیں مگر ابتدائی چالیس سالوں میں سلسلہ اشرفیہ ہی نمایا ں مقام رکھتاہے، کیونکہ حافظ ملت اعلی حضرت اشرفی میاں کے ہی مرید وخلیفہ تھے، اس لیے اشرفی میاں نے اپنی اکثرتوانائی اپنے قیام کردہ ادارے کے لئے صرف کردی۔
آخر میں مولانا مقبول احمد سالک مصباحی نے الجامعۃ الاشرفیہ کے تعلیمی شہرت اور معیار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم کے معاملے میں اشرفیہ پورے ملک میں سرفہرست ہے، اس کے فارغین پورے عالم اسلام میں پھیلے ہوئے ہیں، اور قوم وملت کی قیادت ورہ نمائی کافریضہ انجام دے رہے ہیں، ایک محدود اندازے کے مطابق اس کے فضلا کی تعداد بیس ہزار سے زائد ہے، مولانا مصباحی نے کہا کہ اشرفیہ کسی ایک مشرب یا مکتب فکر کی جاگیر نہیں اسے اسلاف نے اپنے خون پسینے سے سجایااورسنورا ہے،خصوصا مکتب کے قیام سے لے کر دارالعلوم اشرفیہ تک کے مرحلے میں سلسلہ اشرفیہ کی قربانیاں بے مثال اور ناقابل انکار ہیں، جب یونیورسٹی کا مرحلہ ایاتو پھر پورا ملک شامل ہوگیا۔ آل انڈیاعلماومشائخ بورڈ کی جانب سے اہم شخصیات کے ایام وفات کے موقعے پر لائیو پروگرام کا انعقاد ہوتا رہتا ہے، اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی حافظ ملت کاعرس پاک بھی تھا، بورڈ کا مقصد تمام اکابرین کی خدمات سے نئی نسل کو روشناس کرانا ہے، ناظرین پورا پروگرام آل انڈیاعلماومشائخ بورڈ کے آفیشل یوٹیوب چینل و فیس بک پیج پر سن اور دیکھ سکتے ہیں، بورڈ کی جانب سے الجامعۃ الاشرفیہ کے لیے نیک خواہشات پیش خدمت ہیں، بورڈ کے صدر اشرف ملت حضرت سید محمد اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی دام ظلہ اشرفیہ کی تعمیروترقی کے لیے تن من دھن سے عہد بند ہیں