नफरत का कारोबार देश को बर्बाद कर देगा :सय्यद मोहम्मद अशरफ

31 जनवरी, नई दिल्ली
आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड के अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफी फ़ोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने कल दिल्ली में हुए गोलीकांड पर अपनी चिंता व्यक्त करते हुए कहा कि नफरत का कारोबार देश को बर्बाद कर देगा इसे फौरन रोका जाना चाहिए।
उन्होंने कहा कि जिस तरह देश के युवा भटक रहे हैं उससे देश को गंभीर खतरा है ,बेरोजगार और मायूस लोग घिनौनी सियासत का हथियार बन रहे हैं उनकी अपनी न कोई सोच है और न ही कोई विचारधारा ,अगर इस क्रम को समय रहते न तोड़ा गया तो हम सबको तबाही के खौफनाक मंज़र देखने पड़ सकते हैं। मोहब्बत की हवा अगर न चली तो नफरत के अलाव में देश जल जायेगा लिहाज़ा हम सब की साझा ज़िम्मेदारी है कि इसे हर हाल में रोका जाये।
हज़रत ने कहा यह कैसी तस्वीर है जिसमें हमलावर गोली चला रहा है और उसके पीछे पुलिस के लोग हाथ बांधे कुछ भयावह घट जाने के इंतजार में हैं, आखिर यह देश में कौनसी सोच पनप रही है जो अपने विचारो से असहमति जताने वालों को गोली मार देने की बात करती हो इसपर गंभीरता से विचार कर रोक लगाई जानी चाहिए।
उन्होंने लोगों से धैर्य और शांति बनाए रखने की अपील करते हुए कहा कि हर नफरत को सिर्फ मोहब्बत से हराया जा सकता है , हिंसा किसी भी समस्या का हल नहीं बल्कि स्वयं एक सबसे अधिक गंभीर समस्या है। हमें सूफिया के अमल से सीखते हुए इस नफरत को हराना होगा,और वह तरीका है नफरत किसी से नहीं, मोहब्बत सबके लिए।

Yunus Mohani

یوم جمہوریہ پرآل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کی صدارت و سرپرستی میں بچیوں نے دکھایا ہنر

جامعہ فاطمہ نسواں میں جشن یوم جمہوریہ کا انعقاد
خوریجی، نئی دہلی (پریس رلیز)
یوم جمہوریہ کا جشن ہر ہندوستانی کے لئے ایک قانونی، دستوری، ملکی اور سماجی تہوار ہے۔ یہ وہ موقعہ ہے جس دن ملک کے مخلتف مذاہب، برادریوں، زبانوں، تہذیبوں اور علاقوں کے پھولوں کو دستور ہند کے گملے میں سجا کر ایک گلدستہ بنایا گیا تھا۔ 26 جنوری 1950 کو یہ دستور نافذ کیا گیا جس نے ملک کے ہر باشندے کو برابری کا حق دیا۔ان خیالات کا اظہار خوریجی خاص میں لڑکیوں کے ادارہ جامعہ فاطمہ نسواں کے ناظم جناب عرفان صاحب نے کیا۔
طالبات سے خطاب کرتے ہوئے ماہنامہ کنزلایمان کے مدیر مولانا ظفر الدین برکاتی نے کہا کہ ماضی کے آزادی اور انقلاب کی تاریخ میں اگر چہ مردوں کے تذکروں کا غلبہ ہے لیکن وہاں بھی خواتین کا خاطر خواہ رول موجودہ ہے۔جھانسی کی رانی لکشمی بائی اور بیگم حضرت محل کے نام قابل ذکر ہیں۔ دستور ہند تیار کرنے کے لئے 249 ارکان پر مبنی دستور ساز کمیٹی نے 7رکنی ایک صدارتی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں ایک خاتون اعجاز رسول کا نام بھی ہے۔دستور ہند کے نفاذ کے وقت ہندوستانی پرچم کی تزئین کا کام بھی ایک خاتون سریا طیب نے کیا تھا۔کل جب اکیسویں صدی کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں سر فہرست نام ان خواتین کا ہوگا جنہوں نے شاہین باغ سے پورے ملک میں انقلاب کی شمع جلائی ہے۔
مولانا مختار اشرف نے اپنے خطاب کے دوران ماں کے قدموں کے نیچے جنت، بیوی کے حقوق، بہن کے فرائض اور بیٹی کی فضیلت پر قرآن آیات اور نبوی ارشادات کے حوالے سے روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ جس طرح اسلام کا دستور ہمارے لئے ضروری ہے اسی طرح ہمارے ملک کا دستور بھی ہمارے لئے واجب العمل ہے۔ کیونکہ اس پر عمل آوری کا حکم ہمیں ہمارا قرآن اور صاحب قرآن دیتے ہیں۔
نیا سویرا نیوز کے چیف ایڈیٹر عبد المعید ازہری نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ خدا نے انسان کو صرف عبادت کے لئے نہیں پیدا کیا کیونکہ عبادت کے لئے تو فرشتوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔اور عبادت صرف نما ز روزہ اور دیگر فرائض نہیں ہیں۔بلکہ ایک انسان کی زندگی کسی دوسرے کے لئے باعث تکلیف نہ ہو اور ہر فرد کی زندگی میں خدا کی مخلوق سے محبت اور اس کے لئے درد ہو یہ بھی عبادت اور خدا کی اس میں رضا بھی ہے۔ہر وہ علم جس سے خود کی ذات اور ارد گرد کے ماحولیات میں مثبت تبدیلی نہ آئے وہ سودمند نہیں ہے۔
پروگرام کے اخیرمیں آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ صدر دفتر کے ترجمان محمد حسین شیرانی نے دستور ہند کا پہلا صفحہ پڑھ کر اس کی حفاظت کا عزم و عہد لیا۔ بورڈ دہلی کے سکریٹری سید شاداب حسین رضوی نے شکریہ ادا کیا۔ پروگرام میں جامعہ فاطمہ نسواں کی طالبات شبانہ ناز،کہکشاں مزمل نے یوم جمہوریہ اور شہریت ترمیمی قانون پر تقریریں کیں، کنیز نوری،جنت الفردوس، سائمہ شاکر،اقرا عثمان،منتشا محسن، فرح اعجاز اور نعیمہ نیاز نے قومی ترانہ، گیت، نظم پیش کئے۔پروگرام میں محمد عظیم اشرف، منا بھائی، عبد القیوم، حافظ قمرالدین، حافظ سلیم الدین جامعہ کے اساتذہ، استانیہ، دیگر ذمہ داروں کے علاوہ جامعہ کی طالبات اور خوریجی علاقہ کی ذمہ دار خواتین موجود تھیں۔

Abdul Moid Azhari

देश भक्ति का सैलाब है मुल्क में, भारत का भविष्य सुनहरा : सय्यद मोहम्मद अशरफ

26 जनवरी, नई दिल्ली
आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड के अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफी फ़ोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने सभी देशवासियों को 71वां गणतंत्र दिवस की बधाई देते हुए कहा कि आज देश में देश भक्ति का सैलाब आया है जिसने दुनिया को संदेश दिया है कि भारत का भविष्य बहुत सुनहरा है।
उन्होंने लोगों को शिक्षा के लिए आंदोलन चलाने की बात कही, उन्होंने कहा कि सभी को इस ओर ध्यान देना है और लोगों को जिनके पास पैसे हैं, जो अपने बच्चों को पढ़ाने के अलावा दूसरे बच्चे की फीस जमा कर सकता है वह करे, जो दो बच्चों की फीस भर सकता है भरे और जो 4 बच्चे पढ़ा सकता है पढ़ाए क्योंकि मुल्क और समाज की तरक्की शिक्षा से ही होगी।
हज़रत ने कहा कि लोगों को हिंसा से अराजकता से बिल्कुल बचते हुए लोकतांत्रिक तरीके से अपनी बात रखनी चाहिए,हमें ख्याल रखना चाहिए कि किसी भी हालत में देश का नुक़सान न होने पाए, यह खुशी की बात है कि लोगों में जिस तरह का ज़ज़्बा अपने संविधान और देश के लिए देखा जा रहा है, जो बताता है कि मुल्क का भविष्य सुनहरा है और किसी भी विदेशी ताकत में यह ताकत नहीं है कि वह हमारे इस चमन को बांट पाए।
आज हर हाथ में तिरंगा है, हर ज़ुबान पर संविधान यह भारत की ताकत को दर्शाता है कि भले हज़ार असहमतियां हों लेकिन देश की बात आएगी हमारे तिरंगे के सम्मान की बात आएगी तो हम एकजुट हैं, सरकार और जनता के बीच खींचतान तो लोकतंत्र की खूबसूरती है लेकिन इसमें हिंसा का कोई स्थान नहीं है, सभी को गणतंत्र दिवस की बधाई और यह अपील भी कि इस चमन को आग से बचा कर रखना है ताकि यह फूल खूब खिले, खूब महके, वतन में हमेशा फसले बाहर रहे।

Yunus Mohani

اولاد آدم کو حضرت آدم کا بھولا ہوا سبق پڑھانا صوفی ازم کا اہم مقصد: شیخ اشرف آفند ی،جرمنی


جنوری19 ،2020) دوپہر ۲ بجے سے شام ۵ بجے تک غالب اکیڈمی بستی حضرت نظام الدین میں ”امن وامان کے قیام میں صوفیا کا کردار“ کے عنوان سے ایک خصوصی نشست کا اہتمام آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ کی جانب سے کیا گیا ۔
غالب اکیڈمی میں منعقدہ صوفی نشست سے خطاب کرتے ہوئے معروف انٹر نیشنل صوفی اسکالر شیخ اشرف آفندی (جرمنی)نے کہا کہ لوگ دنیا میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک صرف بلڈنگیں اور عمارتیں دیکھنے کے لیے سیاحت کرتے ہیں،جب کہ انھیں عمارتوں کی بجائے اچھے اور اعلیٰ اشخاص یعنی صوفیا اور بزرگان دین کی زیارت سفرکرنا چاہیے۔موصوف نے کہا کہ ہم دہلی صرف لال قلعہ،جامع مسجد اورقطب مینار دیکھنے نہیں آئے بلکہ یہاں جو صوفیا اور اہل اللہ آارام فرماہیں،ان کی زیارت کے لیے آئے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت آدم علیہ السام ہی دنیا کے سب سے پہلے انسان ہیں،اور دنیا کی پوری آبادی انھیں کی اولاد ہے۔اور حضرت آدم علیہ السلام صرف پہلے بشر ہی نہیں اس دنیامیں اللہ کے پہلے نبی بھی ہیں۔اسی طرح وہ اس دنیا کے پہلے مومن بھی ہیں۔آدم علیہ السلام جنت سے آئے،اور جنت ہی سے ایمان کا تحفہ بھی لے کر آئے۔ایمان ہمارے لیے حضرت آدم کا لایا ہوا قیمتی تحفہ ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر سید شمیم احمد منعمی، خانقاہ منعمیہ نے کہا کہ خانقاہوں نے کبھی بھی کسی کا مذہب اور نام یا ذات ویکھ کر کسی کی خدمت نہیں کی۔صوفیا کا مطمح نظر الخلق عیال اللہ کا ہو تا ہے۔وہ انسانی برادری کو ایک کنبہ اور ایک خاندان کی طرح مانتے ہیں۔ان کاا خلاق عام انسانوں سے بہت بلند ہو تا ہے۔ان کا نظریہ تخلقوا باخلاق اللہ کا اصول ہو تا ہے۔وہ اللہ کے اخلاق سے متصف ہوتے ہیں۔اللہ تعالی نے چاند وسورج اور زمین وآسمان بنائے، ہوااورپانی کو وجود بخشا،مگر اس کی افادیت کافر اور مومن کے اعتبا رسے نہیں رکھی،بلکہ اس سے ہر کوئی مستفید ہوتا ہے۔اسی طرح صوفی بھی اپنے فیض سے سارے جہان کو منور کرتا ہے۔سب ہی اس کے آستاں سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین، جے این یو نے کہاکہ صوفیا کا سلسلہ پوری دنیا میں پھیلا ہواہے۔اور ہر خطے میں اہل اللہ کے مزارات اور ن کے تہذیبی آّ ثار موجود ہیں۔حکومتیں اگر چاہیں تو ان سلاسل کے ذریعے اقوام عالم کو ایک دوسرے کے قریب کرسکتی ہیں۔فروغ تصوف اور احیائے تہذیب کے حوالے سے انھوں نے حکومت ہند کے ذریعے کی جانے والی کو بھی سراہا اور کہا کہ حکومت کوئی بھی اس کے مثبت رویے سے استفادے کے جو مواقع ہو ں انھیں گنو انا نہیں چاہیے۔
مولانامقبول احمد سالک مصباحی نے کہا کہ سرزمین ہند کی ولایت مطلقہ بارگاہ رسالت پناہی علیہ السلام سے حضرت خواجہ غریب نواز اجمیری رضی اللہ عنہ کوعطاہوئی ہے، خوجہ ہند شہنشاہ ہند ہیں، انھوں نے اپنی غیر معمولی روحانیت سے تعلیم اسلام سے لوگوں میں محبت اور بھائی چارہ پیدا کیا۔خواجہ غریب نواز کی حکمت وبصیرت اور ان کی فراست مومنانہ اہل ہند کے اشخاص اور داعیوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ان کے بتا ئے ہوئے راستے پر چل کر ہم نفرت وعداوت کی آندھیوں کو سرد کرسکتے ہیں۔

مولانا عبدالمعید ازہری اور مولانا غلام رسول دہلوی نے بھی اظہار خیال کیا، نظامت کے فرائض مولانا ظفرالدین برکاتی، چیف ایڈیٹرماہنامہ کزالایمان اور مولانامختار اشرف نے انجام دیئے۔سید شاداب حسین رضوی،رئیس اشرفی،عظیم اشرفی نے آنے والے تمام مہمانوں کاشکریہ ادا کیا۔آخر میں مہمانان کی گل پوشی کی گئی۔ جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے طلبہ واساتذہ،حافظ وقاری انصار احمد خطیب وامام برکاتیہ مسجد،حاجی،رفیع احمد صدر اعلی برکاتیہ مسجدکے علاوہ مختلف مساجد کے ذمہ داران اور مدارس کے اسا تذہ نے بھی شرکت کی۔

मुल्क के नवजवानो ने बता दिया है मुल्क का भविष्य सुनहरा – सय्यद अशरफ

15 जनवरी नई दिल्ली,
आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड के अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफी फ़ोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने कल दिल्ली के शाहीन बाग में चल रहे प्रदर्शन में शिरकत की उन्होंने इस मौके पर बामसेफ के अध्यक्ष वामण मेश्राम से मुलाक़ात भी की वह भी धरने को अपना समर्थन देने आए थे,धरना स्थल से लौटते समय उन्होंने प्रेस से कहा कि मुल्क की आवाम के दिल में मुल्क और संविधान को लेकर जो मोहब्बत है उसने यह बता दिया है कि मुल्क का भविष्य सुनहरा है।

हज़रत ने कहा कि जिस तरह लोगों ने मज़हब और जात पात का जाल तोड़ कर एकजुटता दिखाई है उसने मुल्क के दुश्मनों को सीधा संदेश दिया है कि भारत को कमजोर नहीं किया जा सकता किसी लम्हे के लिए लोगों को धोखा दे कर उन्हें वरगलाया जा सकता है लेकिन यह भाव हरगिज़ स्थाई नहीं रह सकता क्योंकि भारत की मिट्टी में गंगा जमुनी तहजीब बसती है,यहां ईद और दीवाली एक दूसरे को गले लगाकर ही पूरी होती है ,यह एकजुटता तोड़ने में दुश्मन टूट जाएगा मुल्क नहीं टूटने वाला है।

उन्होंने सरकार से इस मामले को गंभीरता से देखने और लोगों से संवाद स्थापित करने की सलाह देते हुए कहा कि मुल्क हट से नहीं संविधान से चलता है हमें और किसी भी प्रदर्शनकारी को किसी भी मजलूम को नागरिकता दिए जाने से कोई विरोध नहीं है ,लेकिन मजहबी कैद हरगिज़ सही नहीं है मजलूम कोई भी हो हमें उसके साथ खड़े होना होगा।
देश के युवाओं से संवाद स्थापित होना चाहिए ,उनकी समस्याओं को सुना जाना चाहिए और न्याय होना चाहिए ,जब पूरे देश में विरोध है तो पुनः विचार होना ,जेएनयू , ए एम यू,जामिया में छात्रों के साथ जो हिंसा हुई है उसकी सही जांच हो और दोषियों के खिलाफ सख्त कार्यवाही होनी चाहिए।हिंसा की कोई गुंजाइश नहीं है लोग इसका ख्याल रखें कि कोई बलवाई उनके बीच न घुसने पाए।

उन्होंने कहा कि यह धर्म विशेष का मामला नहीं है देश का है और सड़क पर किसी एक धर्म के लोग नहीं है बल्कि सभी भारत के लोग हैं इसका यही स्वरूप भारत की हकीकत है इसे समझा जाना चाहिए,छात्र और महिलाएं नेतृत्व कर रही हैं हम मुल्क के अच्छे भविष्य के लिए दुआ करते है।

Yunus Mohani

डर के माहौल में शिक्षा संभव नहीं और बिना शिक्षा विकास : सय्यद मोहम्मद अशरफ

जेएनयू केम्पस में नाक़ाबपोश गुंडों का हमला देश के भविष्य पर हमला
6 जनवरी मुम्बई,
आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड के अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफी फ़ोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने कल जवाहरलाल नेहरु विश्वविद्यालय के कैम्पस में हुई हिंसा की कड़ी निन्दा करते हुए कहा कि जो भी यूनिवर्सिटी कैम्पस में घुस कर इस तरह की हिंसा कर रहे थे फौरन उनकी गिरफ्तारी होनी चाहिए क्योंकि डर के माहौल में शिक्षा संभव नहीं है और शिक्षा के बिना विकास संभव नहीं।
हज़रत ने कहा कि यह वाकई हैरत में डालने वाली बात है कि इतने हथियारबंद लोग विश्विद्यालय में कैसे प्रवेश कर गये और लोकल सुरक्षा कर्मी उन्हें रोकते नहीं हैं, आखिर यह किस तरह का माहौल बन रहा है, अगर ऐसा ही चलता रहा तो लोग अपने बच्चों को कैसे पढ़ने के लिए भेजेंगे, इस तरह कैसे भारत पढ़ेगा और आगे बढ़ेगा।
उन्होंने कहा कि इस मामले में राजनीत नहीं होनी चाहिए यह भारत के भविष्य का सवाल है, सभी लोगों को एकजुट होकर इस तरह की घटनाओं को रोकने का प्रयास करना होगा यदि ऐसा नहीं हुआ तो देश का विकास बाधित होगा। जिन बच्चों को चोट आई है हम उनके जल्द स्वस्थ्य होने की दुआ करते हैं और छात्र छात्राओं को विश्वास दिलाना चाहते हैं कि देश के सभी अमन पसंद लोग आपके साथ खड़े हैं, आपको भयभीत होने की जरूरत नहीं है।
सभी विश्विद्यालयों के छात्र छात्राओं से हम यह अपील भी करते हैं कि किसी भी तरह की हिंसा का विरोध कीजिए और अगर आपके बीच कोई ऐसा करने की कोशिश करता है तो उसे रोक दीजिए, आप देश का भविष्य हैं और हम सब आपके साथ हैं। देश की कानून व्यवस्था पर भरोसा रखिए, मतभेद होना चाहिए मनभेद नहीं यही तरक्की की राह है, किसी के बहकावे में न आएँ न ही अफवाहों पर ध्यान दें।

यूनुस मोहानी

ननकाना साहिब गुरुद्वारे पर हमला नबी की तालीम के सख्त खिलाफ : सय्यद मोहम्मद अशरफ

4 जनवरी (2020)शनिवार,मुम्बई
आल इंडिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड के अध्यक्ष एवं वर्ल्ड सूफी फ़ोरम के चेयरमैन हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने ननकाना साहिब गुरुद्वारे को घेर कर पत्थरबाजी की घटना की निन्दा करते हुए कहा है कि यह काम नबी की तालीम के सख्त खिलाफ है,उन्होंने कहा कि जब पैगम्बर ए इस्लाम सल्लाल्लाहू अलैहि वसल्लम ने मदीना स्टेट बनाया तो वहां के अल्पसंख्यकों के अधिकार रखे और उनकी इबादतगाहों तथा उनकी जान माल की हिफ़ाज़त का वादा किया।
उन्होंने कहा, पाकिस्तान की सरकार इस मामले में फौरन दखल दे और हर कीमत पर ऐसा करने वालों के खिलाफ सख्त कार्यवाही की जाए तथा गुरुद्वारे की पवित्रता को बरकरार रखा जाए। चूंकि ननकाना साहिब में सिख भाइयों के प्रथम गुरु गुरु नानक देव जी का जन्म हुआ इसलिए इस जगह से उनकी अकीदत है,जिसका सम्मान किया जाना चाहिए।
हज़रत ने पाकिस्तान के लोगों से अपील करते हुए कहा कि नबी की तालीम पर अमल करें क्योंकि इस तरह अगर कोई करता है तो यह सीधा उस पैग़म्बरे अमन की तालीम की अव्हेलना है लिहाज़ा सब बाहर निकलकर सिख भाइयों की मदद के लिए आएँ।
उन्होंने कहा कि भारत का हर मुसलमान सिख भाइयों के साथ है और हम इस तरह के कृत्य को बर्दाश्त नहीं करते, इसकी कड़ी निन्दा करते हैं क्योंकि किसी को किसी की धार्मिक भावनाओं को आहत करने का अधिकार इस्लाम नहीं देता है, इस्लाम की तालीम हर जगह ज़ुल्म और ज़ालिम के खिलाफ मजलूम के साथ खड़े होना है।

By: यूनुस मोहानी