اتباع شریعت میں ہی دارین کی فلاح وبہبود مضمر:سید محمداشرف کچھوچھوی

رائے پور۔4 نومبر پریس رلیز

اتباع شریعت میں ہی دارین کی فلاح وبہبود مضمر ہے اورراہ سنت جسے صراط مستقیم بھی کہا جاتا ہے یہ وہی راستہ ہے جو ہمیں اہل بیت اطہار، صحاب کرام اور اولیائے کاملین سے پہنچا ہے۔ روزہ،نماز حج زکوٰۃ اور اعمال صالحہ کی پابندی نجات وفلاح کی ضامن ہے ایک مسلمان کے پاس اتباع شریعت کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں۔ ان خیالات کااظہار شہزادۂ غوث الاعظم،نبیرہ حضور سرکار کلاں، حضرت علامہ سید محمد اشرف اشرفی کچھوچھوی بانی وصدر آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ نے قادریہ مسجد،موتی نگر ،رائے پورمیں ایک اجلاس کو خطاب فرماتے ہوئے کیا۔
مولانا کچھوچھوی نے عوام خواص اہل سنت کو اتباع سنت کی تعلیم دیتے ہوئے احکام شرعیہ کی تعمیل اور بجاآوری کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ معاملات میں احکام شرعیہ پاس داری بہت ضروری ہے اسی کے ساتھ مسلمانوں کی خیر خواہی اور ان کی ہرممکن امدادواعانت ہمارا فریضہ ہے ۔اللہ عروجل نے اپنے فضل جو اموال اور نعمتیں بخشی ہیں ان میں ہمارے اقرباء اور نادار مسلمانوں کا بھی حق ہے ان کے حقوق کا پاس داری بھی ہمارے فرائض میں داخل ہے ۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے مسجد کے آداب اور اس کی ضروریات کا لحاظ بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے ۔ دنیا کے نیک کام آخرت کی کھیتی ہیں ہیں پس ہمیں نہایت ہوشیاری سے اپنی کھیتی کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری نبھانا چاہئے۔ اجلاس کا اختتام صلاۃ وسلام اور ملک وملت کی خوشحالی کی دعا پرہوا۔
اجلاس کے بعد آپ مدرسہ گلشن فاطمہ میں تشریف لے گئے جہاں آپ درس گاہی نظم ونسق سے متعلق اپنی قیمتی آراء سے نواز ہوئے تعلیم کی ترویج وافادیت پر بھر پور روشنی ڈالی علاوہ ازیں انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کو اپنی دعاؤں سے نوازا۔ آپ نے فرمایا کہ تعلیم کے بغیر دینی اور دنیاوی دونوں ہی زندگیاں تاریک ہیں عبادات کے لئے تعلیم لازمی شے ہے جس کے بغیر کماحقہ حق عبادت ادا نہیں کیا جاسکتا ۔

آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کے صوبائی دفتر،لکھنؤ میں اہم میٹنگ منعقد

لکھنؤ۔5نومبر پریس رلیز

آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کے صوبائی دفتر لکھنؤ میں سید حماداشرف کچھوچھوی (جنرل سکریٹری یوپی) کی صدارت میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں میرٹھ،رائے بریلی،سلطانپور،امیٹھی،بریلی ،سدھارتھ نگر سمیت یوپی کے مختلف اضلاع کے ذمہ داروں نے شرکت کی۔میٹنگ کاآغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔جمال اشرف اورتوفیق رضانے نعت ومنقبت کے نذرانے پیش کئے۔
میٹنگ کوخطاب کرتے ہوئے ہوئے مولانا اشتیاق احمدنے کہاکہ صوفیائے کرام نے ہمیشہ بلاتفریق مذہب وملت خدمت خلق اورآپسی بھائی چارہ کا درس دیاہے۔صوفیائے کرام کی انہی تعلیمات کوعام کرنا اورسنی صوفی مسلمانوں میں حب وطن اورآپسی بھائی چارہ کے جذبے کوبیدارکرنااوران کے حقوق کی حصولیابی کے لئے جدوجہد کرنا ہی بورڈ کانصب العین رہاہے۔
مولانا قیصر رضاعلوی نے دور حاضر کے اہم مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے ہمیشہ ملک اور سماج کے ترقی کی بات کر کے وطن سے محبت کی انوکھی مثال قائم کی ہے۔آج جبکہ قوم مسلم غیر ضروری مسائل میں الجھ کر اپنی ترقی پر توجہ مرکوز نہیں کر پارہی ہے ایسی حالت میں ضروری تھا کہ بورڈ صوفیائے کرام کی تعلیمات کے مطابق ان کی اصلاح کے لئے لائحہ عمل طے کرے اور معاشرے میں اخلاقی اور تعلیمی بیداری کی مہم بھی شروع کر ے۔
مولانامقبول احمدسالک مصباحی نے کہا کہ بورڈ کے بانی وصدر نے یہ عندیہ ظاہر کیا ہے کہ بورڈقوم مسلم کے موجودہ مسائل پرایک عظیم الشان سیمینار منعقدکریگا جس میں ملک بھر سے سجادگان،علماء کرام و دانشوران اپنے مقالات پیش کریں گے اور اظہار خیال کریں گے، جوکہ لائق تحسین ہے۔انہوں نے لوگوں سے بورڈ کے ساتھ کھڑے ہونے کی تلقین کی جس سے اہل سنت و جماعت کو تقویت مل سکے۔مولانا کی اس بات سے شرکاء نے اتفاق کیا اوراپنے پورے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
حافظ مبین احمدنے بورڈ کومضبوط کرنے کے لئے یوپی کے تقریباًسبھی اضلاع میں یونٹوں کے قیام اورممبرسازی پرزوردیا ۔
میٹنگ کوحضرت سید احمدشطاری،مولانا انواراحمدشیری،حافظ مبین احمد نے بھی خطاب کیا۔میٹنگ کے آخر میں آل رسول احمدآفس انچارج لکھنؤ نے شرکاء کاشکریہ اداکیا۔
میٹنگ کااختتام صلوٰۃ وسلام اور قاری محمداحمدبقائی صاحب کی ملک وملت کی خوشحالی کی دعاپرہوا۔میٹنگ میں مولان منعم رضا،اما م گل حسن،سید احسان علی،اعجاز خان،رمضان علی،اسعداشرفی،نگارعالم،محمدشبیرخان،متین احمد،محمداحسان اللہ کے علاوہ کثیرتعداد میں لوگ موجودرہے۔

धर्म के नाम पर खून बहा है कभी अध्यात्म के नाम पर नहीं – सय्यद अशरफ

रायपुर/छत्तीसगढ़: 7नवंबर

धर्म के नाम पर खून बहा है लेकिन कभी अध्यात्म के नाम पर खून की एक बूंद भी नहीं बहती यह बात एक प्रेस कांफ्रेंस को संबोधित करते हुए ऑल इण्डिया उलमा व मशाइख़ बोर्ड के संस्थापक अध्यक्ष हज़रत सय्यद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने कही. उन्होंने कहा कि अध्यात्म में सबके लिए मोहब्बत है नफरत किसी से नहीं किए जाने का संदेश है। एक सवाल का जवाब देते हुए हज़रत ने कहा कि दुनिया आज धार्मिक उन्माद का घातक परिणाम झेल रही है ,हर तरफ खून की नदियां बह रही हैं ,चाहे वह अफगानिस्तान हो या पाकिस्तान कहीं तालिबान धर्म का चोला पहन कर खून बहा रहा है कहीं आई. एस .आई .एस.,भारत में भी कुछ सिरफिरे यही काम कर रहे हैं धर्म की गलत व्याख्या की जा रही है और लोगों को बहकाया जा रहा है।
उन्होंने कहा, सियासत में धार्मिक उन्माद एक घातक हथियार की तरह प्रयोग किया जा रहा है जिससे लोग मूल प्रश्नों से भटक कर धर्म के आधार पर फैसला कर ले रहे हैं ,जो हमारे लोकतंत्र के लिए बुरा संकेत है।लोगों को वोट का अर्थ समझने की आश्यकता है यह जिम्मेदारी मीडिया को निभानी होगी वोट जनमानस की राय है किसी व्यक्ति एवं विचारधारा के प्रति ।हम जिसे माफिया कहते है अगर उसका ही चुनाव करते हैं तो यह कैसी राय है जो काम बुलेट नहीं कर सकती वह काम बैलेट करता है हमें यह समझना होगा।
बोर्ड की राष्ट्रीय कार्यकारिणी के सदस्य हज़रत अम्मार अहमद अहमदी उर्फ नय्यर मियां ने कहा कि इस समय टेलीविजन पर जिस तरह के लोग बैठ कर डिबेट कर रहे हैं और स्वयं को इस्लामिक स्कालर कहलाते हैं उनमें से तो कुछ इस्लाम के संबंध में ज़रा भी नहीं जानते और कई बस पढ़े लिखे हैं जिससे भ्रम फैल रहा है।उन्होंने साफ कहा कि इस्लामिक कानून सार्वभौमिक है और व्यवाहरिक भी सही बात लोगों तक नहीं पहुंच रही है ।उन्होंने मीडिया से अपील करते हुए कहा कि मोहब्बत का संदेश आम कीजिए नफरतों को थाम दीजिये यही समय की पुकार है और यही धर्म भी ।अध्यात्म की शिक्षा है मोहब्बत सबके लिए नफरत किसी से नहीं।