مولانا نورالہدی مصباحی مخلص اور حق گو عالم دین تھے: اشتیاق احمد قادری

لکھنؤ۔۲نومبر

آل انڈیا علماء و مشایخ بورڈ لکھنو یونٹ کی جانب سے خلیفۂ حضوراشرف ملت، مولانا نورالہدی مصباحی بستوی کے انتقال پر تعزیتی نشست کا انعقاد بورڈ کے صوبائی دفتر نظر باغ میں سید حماد اشرف جنرل سیکرٹری AIUMB کی صدارت میں ہوا۔ پروگرام کاآغاز قاری علی احمد اشرفی نے تلاوت قرآن مجید سے کیا، حسیم و حسن صابری برادران نے نعت رسول کا نذرانہ پیش کیا۔ مولانا اشتیاق احمد قادری صدر AIUMB لکھنؤیونٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم صوم و صلوۃ کے نہایت پابند اور مثبت سوچ کے مالک تھے دین کی خدمت کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی اور خاصیت تھی وہ تھی حق گوئی جس کا اعتراف سبھی کو ہے۔ پوروانچل میں AIUMB کے ایک مضبوط سپاہی تھے اوربورڈ کے حوالے سے بہت ہی متحرک اور فعال تھے۔
مولانا آل رسول احمد نے کہا کہ مولانا مرحوم کوخدانے جن خوبیوں سے نوازا تھا ان میں سے ا یک یہ کہ وہ دلوں کو جیتنے اور انہیں اپنا بنانے کا ہنر جانتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں دینی وعصری علوم کے علاوہ ملی وسیاسی بصیرتوں سے بھی نواز اتھا۔مولانا موصوف حق گواورملت کادرد رکھتے تھے ان کی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ آئے مگر مولانا جو تھے وہی رہے ان میں کوئی تبدیلی نہ آئی وہ ہر کام اللہ ورسول کی رضا کے لئے کرتے تھے۔اس موقع پر قاری محمد صدیق قادری،محمداحسان اللہ، رمضان اشرفی ،مولانا ربانی فیضی ،مولانا منعم رضا فیضی ،حاجی عبد الواحد خان اور کثیر تعداد میں مدارس کے طلبہ موجود تھے۔

حسینیت نام ہے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا:سید محمداشرف کچھوچھوی

کلیرشریف۔ہریدوار۔2نومبر

حسینیت نام ہے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا۔امام حسین علیہ السلام نے ظلم کی علامت یزید کے خلاف اپنے چھ ماہ کے بیٹے حضرت علی اصغرسے لیکراپنے جوان بیٹے حضرت علی اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہما تک کوقربان کردیا اورآخر میں خود بھی جام شہادت نوش فرمایا لیکن ظلم کی حمایت نہیں کی۔ امام حسین علیہ السلام سے محبت کرنے والے ہردورمیں ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں اورمظلوموں کے زخموں پرمرہم لگانے کاکام کرتے رہے ہیں۔ ظلم کے خلاف صبروشکر کی تعلیم دنیا قیامت تک امام حسین علیہ السلام سے سیکھتی رہے گی۔ ان خیالات کااظہار حضرت مولانا سید محمداشرف کچھوچھوی بانی وصدر آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ نے سلیم پور کلیر شریف میں ایک جلسہ بنام تاجدار کربلا کانفرنس کوخطاب کرتے ہوئے کیا۔
حضرت نے مزید کہاکہ ظالم کتنابھی طاقتورکیوں نہ ہو اس کی شکست یقینی ہے لیکن اس سے ڈر کراس کی حمایت کرناخلاف اسلام ہے۔ظلم صرف کسی کومار دینا ہی نہیں ہے بلکہ کسی کے حقوق کی پامالی بھی ظلم ہے۔نفرت ظلم ہے اورمحبت اسے مٹانے کاہتھیار لہذا محبت پھیلائیے اورنفرتوں کاخاتمہ کیجئے۔حسین والوں کایہی پیغام ہے کہ محبت سب کے لئے اورنفرت کسی سے نہیں۔
جلسہ کاآغازقاری غلام مرسلین سنبھلی کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ جناب ذوالفقار و سید انس نے نعت ومنقبت کے نذرانے پیش کئے۔ جلسہ کی صدارت قاری عاصم صابری نے کی اورنظامت کے فرائض قاری عرفان اشرفی نے انجام دئے۔دہلی سے آئے مولانا اشتیاق القادری نے صوفیاء و اولیا کی تعلیمات و روش کو اپناکر اسی پر عمل پیرا ہونے اور اسے عام کرنے پر زور دیا وہیں قاری مشرف اشرفی سنبھلی نے واقعات کربلا پر روشنی ڈالی۔
جلسہ کااختتام صلوٰۃ وسلام اورملک میں امن و امان کی دعاپرہوا۔جلسہ میں د پیر طریقت سید حسنین سیکری شریف،حکیم سید واصف میاں سہارنپوری ،حافط مہتاب قادری،محمدرفیع کے علاوہ کثیر تعدادمیں عوام موجود رہے۔