देश के वर्तमान आर्थिक संकट के मद्देनजर लखनऊ की सुन्नी सूफी कांफ्रेंस स्थगित बोर्ड की उच्चस्तरीय बैठक में यूपी यूनिट का सर्वसम्मत निर्णय

लखनऊ 26 नवंबर [प्रेस विज्ञप्ति]

ऑल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड ने 4 दिसंबर को लखनऊ में आयोजित होने वाली सुन्नी सूफी कांफ्रेंस को देश के मौजूदा हालात और आर्थिक परिवर्तन के मद्देनजर स्थगित करने का फैसला किया है।

जानकारी के अनुसार बोर्ड के अध्यक्ष और संस्थापक हजरत मौलाना सैयद मोहम्मद अशरफ किछौछवी ने यूपी प्रेस क्लब, लखनऊ में एक संवाददाता सम्मेलन में मीडिया के प्रतिनिधियों को संबोधित करते हुए कहा कि सूफी सम्मेलन परिस्थितियों के संदर्भ में स्थगित की गई है रद्द नहीं। मौलाना किछौछवी ने कहा कि सूफी कांफ्रेंस के आयोजन का उद्देश्य मानवता का सम्मान और सहिष्णुता को बढ़ावा देना  है। ऑल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड देश में शांति और व्यवस्था चाहता और देश के विकास में अपना रोल अदा करेगा और देश को सूफीवाद की शिक्षाओं द्वारा तरक्की और खुशहाल बनाएगा।

उन्होंने कहा कि आज देश की आबादी का एक बड़ा हिस्सा आर्थिक चलन में आये अचानक परिवर्तन के कारण परेशान है। इन विषम परिस्थितियों में सम्मेलन का आयोजन उचित नहीं है। यह एक ऐसा मुद्दा है जिसके समाधान के लिए सूफीवाद की शिक्षाओं का पालन करने वाले लोगों को बिना धर्म और जाति देखे हुए हज़रत ख्वाजा मोइनुद्दीन चिश्ती अजमेरी के तरीके पर अमल करते हुए अपनी सामर्थ्य के अनुसार परेशानहाल लोगों मदद करनी चाहिए, जिसे दवा की जरूरत है उसे दवाएं दें, भूखों को लंगर द्वारा  खाना खिलाएं। जिसकी जो ज़रूरत हो उसे पूरा करें यही सूफीवाद है और यही उसकी शिक्षा भी। बड़ी करेंसी नोटों पर प्रतिबंध एक संवेदनशील मुद्दा है। इसके द्वारा आतंकवाद और काला धन पर रोक लगाने में मदद मिलेगी मगर इस फैसले से पहले भारत सरकार को गरीबों की मदद के आवश्यक ठोस कदम उठाने चाहिए थे अगर ऐसा किया जाता तो शायद देश में ऐसे हालात पैदा न होते।

शाह अम्मार अहमद अहमदी ” नैयर मियां ” (अध्यक्ष यूपी एवं सज्जादा नशीन खानकाह हज़रत शैखुल आलम रुदौली शरीफ) ने बताया कि 4 दिसंबर 2016 को आम इजलास  नहीं होगा बल्कि देश भर से आए हुए बोर्ड के ज़िम्मेदारों की एक उच्च स्तरीय बैठक आयोजित होगी। ” सुफिज्म और इन्सनियत ” शीर्षक से 4 दिसंबर को विश्वरय्या सभागार, लखनऊ में सुबह 9 से 2 बजे दिन एक सेमिनार आयोजित होगा जिसमें उलेमा, मशाईख और इस्लामिक स्कॉलर इस विषय पर अपने लेख और विचार पेश करेंगे। इस अवसर पर बोर्ड द्वारा प्रस्ताव भी पेश किया जाएगा।

इस अवसर पर सय्यद  आले  मुस्तफा कादरी अली पाशा (अध्यक्ष तेलंगाना एवं आंध्र प्रदेश) ने भी प्रेस को संबोधित किया।

याद रहे कि ऑल इंडिया उलमा व मशाईख बोर्ड यूपी यूनिट  की एक बैठक गत दिनों 24 नवम्बर को बोर्ड के प्रांतीय कार्यालय, नज़र बाग, केंट रोड, लखनऊ में शाह अम्मार अहमद अहमदी” नैयर मियां ” (यूपी अध्यक्ष) की अध्यक्षता में आयोजित हुई थी उनके अलावा सैयद हम्माद अशरफ (यूपी महासचिव), सैयद सय्येदुल अनवर सय्येदी मियां (उपाध्यक्ष यूपी), हाफिज वकील अहमद (उपाध्यक्ष यूपी) और यूपी ईस्ट यूथ विंग के अध्यक्ष सैयद हसनैन बकाई ने मौजूदा स्थिति की भरपूर समीक्षा करते हुए बताया था कि इन विषम परिस्थितियों में कांफ्रेंस का आयोजन आम जनता के लिए परेशानी का सबब बन सकता  अतः कांफ्रेंस फिलहाल स्थगित कर दी जाए। बैठक के प्रतिभागियों ने बोर्ड के पदाधिकारियों कारियों के विचार से सहमती जताते हुए यह तय किया कि सूफी सुन्नी कांफ्रेंस के आयोजन की तिथि की घोषणा बाद में की जाएगी।

press-note-for-press-conference

آثارمٹانے والے عناصر آثار کی حفاظت کرنے والوں سے خوف زدہ ہیں مکہ معظمہ پر حملہ کے بعد سیاسی بیان بازی پر علماو مشائخ بورڈ کے صدر کا ردعمل

9 November 2016
آثارمٹانے والے عناصر آثار کی حفاظت کرنے والوں سے خوف زدہ ہیں۔ملہ معظمہ پر حملہ جس کسی نے بھی کیا ہو وہ مسلمان نہیں ۔ یہ انتہائی قابل مذمت حرکت تھی ۔ لیکن اس حملہ کی آڑ میں مسلکی اختلاف اٹھانے کی کوشش کے پیچھے صرف یہ خوف ہے کہ وسیلہ ، شفاعت ، تعظیم، یا توسل،استغاثہ اور زیارت پر عمل کرنے والے لوگ پوری دنیا میں ایک نہ ہو سکیں۔ان خیالات کا اظہار کل رات تریپورہ کے اگرتلہ سے دہلی واپسی کے بعد میڈیا کارکنوں سے بات کرتے ہوئے یہاں آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ کے صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہی۔
ان سے مکہ مکرمہ پر حالیہ حملہ ،یمن کی ایک تنظیم پر حکومت سعودی عرب کے الزام اور اسی طرح کے سوالات پوچھے گئے جن کے جواب میں سنی صوفی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ کے صدر اور بانی نے کہا کہ ایک انتہا پسند فکر نے پورے عالم اسلام میں اپنی برتری کی خاطر سماجی و سیاسی تحریک سے لے کر تشدد اور دہشت تک تمام ہتھکنڈوں کا استعمال کرنے کا طریقہ اپنا رکھا ہے اور تشدد و تباہی کی ہر واردات کے پیچھے ہاتھ اسی فکر کا ہے جس کی سرپرست سعودی عرب کی حکومت ہے۔انہوں نے شیعہ سنی اختلافات کو بڑھاوا دینے کی حالیہ وارداتوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ شیعہ سنی اختلاف کی بات ہی بے بنیاد ہے۔شیعوں کے ساتھ اختلاف سنیوں کا نہیں، وہابیوں کا ہے۔ شیعہ عید میلاد النبی میں جلوس محمدی نکالتے ہیں اور سنی عزا داری میں شریک ہیں۔یہاں مشترک چیز وسیلہ ہے لیکن وہابیوں کو حنفی اور جعفری ققہ کے ماننے والوں سے جوڑنے والی یہی مشترکہ کڑی غائب ہے۔۔ آثار کو قائم رکھنے اور اسلامی تہذیبی نشانیوں کو برقرار رکھنے کی مشترکہ خواہش سنیوں اور شیعوں دونوں میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہابیوں اور سلفیوں نے سارے اسلامی ممالک میں مستحکم معیشتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی ۔ وہ دیگر ممالک کے علاوہ تیونس میں، لیبیا میں، شام میں، عراق میں ، مالے میں اور اب یمن میں بھی کامیاب ہوئے ۔ صرف ایک ملک مصر ایسا ہے جس کے عوام نے تانا شاہی کے خلاف جدوجہد کے ذریعہ اخوان المسلمین کو اقتدار تک آ نے دیا مگر جیسے ہی اخوان کا سلفی ایجنڈا سامنے آیا عوامی ردعمل شروع کر دیا گیا۔ تحریر اسکوائر پر حسنی مبارک کا تختہ الٹنے کیلئے جتنی بڑی بھیڑ آئی تھی اور محمد مرسی کی حکومت سازی کا سبب بنی تھی اس سے دو گنی بھیڑ مرسی کے خلاف اسی مقام پر آئی اور اس نے لفیت کی نفی کا اعلان کرتے ہوئے مرسی کی کرسی چھین لی۔مصر نے پوری دنیا کو راہ دکھائی کہ اسے اپنا صوفی کردار سماجی تبدیلی اور سیاسی انقلاب کی قر بان پر بھینٹ نہیں چڑھانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ اس وقت اگر دنا کے مسلمانوں کے سامنے اسلامیں کی قیادت کیلئے سعودی عرب اور ایران میں سے کسی ایک کو چننے کا مرحلہ آیا تو 90 فیصد مسلمان ایران کی قیادت کا ساتھ دیں گے کیونکہ آثار کی حفاظت کرنے والے آثار مٹانے والوں سے تعداد میں اتنے ہی زیادہ ہے۔
انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان میں وہابی لابی کو اپنے بے نقاب ہونے کا اندازہ ہ گیا ہے اس لئے وہ لوگ اپنہ سو سال پرانی شناخت ترک کر کے حنفی اور چشتی پہچان کے حوالہ سے سامنے آ رہے ہیں۔ جن صوفیا کے مزارات پر حاضری کو شرک بدعت کہا جا رہا تھام کتابیؓ لکھی جا رہی تھیں، تحریکات چل رہی تھیں ان صوفیا سے منسوب ہو کر عوام اور حکام دونوں کو دھوکہ دینے کی یہ نئی کوشش بھی پہلے سے بے نقاب ہے۔ ہندوستانی مسلمان بخو ی جانتا اور سمجھتا ہے کہ کن حالات سے مجبور ہو کر ان لوگوں نے اجمیر شریف کا رخ کیا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں مولانا نے بھوپال جیل بریک اور انکاؤنٹر کی مذمت کی اور کہا کہ یہ انکاؤنٹر سپریم کورٹ کی نگرانی میں انکوائری کا جائز تقاضا کرتا ہے۔ ایسے واقعات کا تھم جانا لازمی ہے اور اگر ان پ سوالیہ نشان قائم ہو تو حکومت کو اس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے عداتی انکوائری کا ممطالبہ مان لینا چاہئے۔

جمیعتہ علمائے ہند کی قلابازی قابل مذمت حنفی اور چشتی کہلانے کے پیچھے عوام اور حکام کو دھوکا دینے کی نیت

[نئی دہلی 11 نومبر[ پریس ریلیز
whatsapp-image-2016-11-15-at-11-49-12-am
آل انڈیا علما و مشا خ بورڈ نے جمیعتہ علمائے ہند کی قلابازی پر ایک بار حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ اس تنظیم کے ایک صدی تک غیر مقلد ہونے اور صوفی روایتوں کو شرک و بدعت قرار دے کر صوفی روایتوں کی بے حرمتی کے بعد کس مجبوری نے اسے حنفی اور چشتی ہونے کا دعوی کرنے پر مجبور کیا۔
بورڈ ے صدر اور بانی سید محمد اشرف کچھوچھوی نے یہاں ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سوال کیا کہ جمیعتہ علمائے ہند کس سے دھوکا کر رہی ہے۔ اس عوام کے ساتھ جسے اپنی تحریروں، تقریروں، مقالوں اور کتابوں کے ذریعہ بھٹکاتے رہنے کے بعد اچانک قپنی فکر بدل کر مخمصہ میں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے یا حکام کو نوجوانوں میں شدت پسندانہ جذبات کیلئے وہابی/سلفی فکر کو ذمہ دار سمجھنیلگے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ بورڈ نے جب سے وہابیوں کو بے نقاب کیا ہے انہوں نے اپنا چولہ بدلنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ اب حنفی ار چشٹی ہونے کا ڈھونگ کر رہے ہیں جس کی حقیقت ہندوستانی مسلمانوں پر کھلی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجمیر اجلاس جمیعتہ علمائے ہند کی اپنی ابتک کی تاریخ کی نفی کی کوشش کی ہے۔ صوفی ازم سے اپنی وابستگی کا اعلان کرنے کے ساتھ جمیعتہ کو اپنے تمام سابقہ ’’ کارناموں ‘‘ سے تائب ہونا پڑے گا۔ راجستھان یونٹ کے سکریٹری اور جمیعتہ کے جنرل سکریٹری کا اچانک صوفی پریم کسی گہری چال کی شکل میں آیا ہے مگر ہمدوستانی مسلمان ان ہھکنڈوں سے بخوبی واقف ہے اور وہابیوں کے صوفی مکھوٹا سے گمراہ نہیں ہوگا۔
 

 

AIUMB Welcomes Action against Zakir Naek and IRF: Press Release

New Delhi 19 November

[press release]

All India Ulama &Mashaikh Board has welcomed the decision of filing FIR by NIA against Dr Zakir Naek and his NGO IRF and said that harsh steps are necessary to stop misuse of Islam for radicalizing Muslim Youth who otherwise prefer to remain away from any anti nation activity.

President and Founder of AIUMB Hazrat Maulana Syed Mohammad Ashraf Kichchawchchvi said in statement that Zakir Naek was destroying peace and harmony in the society and was also radicalizing youth in the name of preaching Islam and it went beyond doubts after Dhaka Holy Artisan Terror attack which was followed by confession of one of the attackers that he was impressed by the speeches of Zakir Naek.

He said that raids have resulted in seizure of banned currency notes in lakhs and gold besides incriminating documents and this also says that there was anything doubtful with IRF and its activities.

He welcomed the statement of one of the office bearers of IRF that whenever required Zakir Naik will be asked to report he will be available to security agencies for questioning.

President of AIUMB demanded that Zakir Naik must come clean on all the allegations that have formed the basis of FIR and raids against him and his NGO.

President of the board said that AIUMB has been protesting against misadventures of Zakir Naik since long but successive governments chose to ignore the man and his machinery which is causing damage to the thought process of Muslim youth within India and also beyond.

Hazrat Maulana further said that Indian Muslims have always flatly refused to be swayed by any propaganda and the society at large is trying to identify with saner people but such individuals like Zakir Naek and institutions lie his NGO are creating bad impressions of young minds on the name of Islamic preaching where they misinterpret Quran and the sayings of prophet PBUH.

AIUMB demands that harsher steps be taken against all such elements including Zakir Naik and IRF that are indulging in activities that attract legal actions, ban, raids and seizures.

Ban on Zakir Naik not the end; India needs vigilance to save Muslim youth:FirstPost

By

Nov 21, 2016 15:57 IST

The Indian government’s five-year ban on the supremacist Islamist preacher, Dr Zakir Naik seems to have gratified many people — Muslims and non-Muslims alike — who concern themselves with the pluralistic ethos of the country. But is the story over? How could this eventual ban bring an end to the process of fanatic indoctrination ushering in the age of Internet?

 “The story isn’t quite over yet,” says a Firstpost article. “Banning Naik’s Islamic Research Foundation (IRF) will not undo the messages he has preached to youth all these years… There is a need to keep a continuous vigil. Naik might be planning his next moves sitting in Dubai, where he is currently believed to be,” it adds.

The above remark is not difficult to understand, bearing in mind that many Muslim youth from Maharashtra left their home to join the Islamic State (IS) earlier this year, some of them allegedly inspired by Naik.

Peace TV owner Zakir Naik. CNN-News 18

Peace TV owner Zakir Naik. CNN-News 18

Only recently, an alleged operative of IS was arrested in Sikar district of Rajasthan. This IS sympathiser was involved in raising funds from India, Bangladesh and UAE, and transferring to the IS for the last two years through hawala, PTI had reported.

Here, it is quite pertinent to note that the alleged IS operative was in contact with other sympathisers of the global jihadist organisation via social networking sites. An MBA graduate, who was previously working as an assistant financial manager at a reputed firm in Dubai, he has a wife and children in Mumbai. But instead of caring for his family and earning a livelihood — the most essential duty in Islam — he joined “those who are fighting for a cause”, and is “completely remorseless” in supporting the IS!

There are two crucial points that emerge from this instance of fanatic indoctrination:

First, at a time when extremist preachers like Naik and his organisation, IRF are banned in India, it is equally important to unravel “the cause” which attracts Muslim youth to such indoctrination and join the IS.

Second, as it is clear from the above incident, Muslim youth in India are being indoctrinated through online and digital channels a lot more as compared to the offline activities of the extremist Islamist outfits. Thus, countering online fanaticism is more urgent a challenge before India than banning a radical organisation and a preacher for a few years. Though the latter too is a gigantic task to accomplish, it is no less lethal than the violent spade of terror that attacks through bomb blasts from Mumbai to Kolkata and Kashmir to Kanyakumari.

Coming back to the first point, the major “cause” which lures the youths to quit their education and career and join a global jihadist outfit like IS is the apocalyptic theory being misconstrued by the Islamist preachers today.

The apocalyptic worldview or millenarian thesis of the radical Islamist preachers is a large part of the attraction for Muslim youth even in India. As propagated by the IS ideologues, we are living in “end-time” (an era close to the doomsday). Therefore, the IS exhorts the Muslim youth to engage in the end-times battle, al-malhama, an Islamic synonym of the Christian theory of Armageddon which refers to the final war between human governments and God.

Though nearly all world religions have prophesies on the end-time, much of the violent political abuse of this concept is seen across the Muslim world. The very apocalyptic theory was an inspiration behind the ideologues of al-Qaeda as well. Much before Abu Bakr al-Baghdadi, Jordanian radical Islamist ideologue Abu Musab al-Zarqawi, Osama bin Laden and other radical Islamist mentors also talked about it but they did not give it primacy.

But for IS, the apocalyptic theory or millenarian thesis is central to its violent ideology. It believes itself to be one of the earliest armies to fight the end-time battle to defeat the governments of kuffar (infidels) and establish the puritanical Shari’ah in its global Islamic state. In order to achieve this long-term goal, the IS has actively engaged in the fulfillment of the pre-requisites of its self-imposed caliphate, such as the revival of pre-Islamic slavery in Arabia. The IS mouthpiece in English Dabiq has published an article which concludes that the revival of slavery before the Hour (doomsday) is imperative. The third article in this issue of Dabiq, entitled “The Revival of Slavery Before the Hour” clearly says: “Enslaving the families of the kuffar (infidels) and taking their women as concubines is a firmly established aspect of the Shari’ah that if one were to deny or mock, he would be denying or mocking the verses of the Koran and the narrations of the Prophet… and thereby apostatising from Islam”.

The anonymous author of this article who seems to be well-versed in the classical Islamic jurisprudence, further writes: “This large-scale enslavement of mushrik families is probably the first since the abandonment of this Shari’ah law. The only other known case – albeit much smaller – is that of the enslavement of Christian women and children in the Philippines and Nigeria by the mujāhidīn there. The enslaved Yazidi families are now sold by the Islamic State soldiers… .”

Image courtesy: Inside the Caliph

Representational image. Image courtesy: Inside the Caliph

This IS author justifies the enslavement of not only the kuffar and mushrikin (non-Muslims) but also the Muslim sects other than the Salafis who follow the 12th century puritanical Islamic scholar, Imam Ibn Taimiya. Addressing the question whether Yazidis (the members of an ancient Kurdish sect that borrows elements of Islam) are entitled to enslavement, as they are “deviant” and “apostate” Muslims, the author avers: “Yazidi women and children (are to be) divided according to the Shari’ah amongst the fighters of the Islamic State who participated in the Sinjar operations (in northern Iraq).”

In a foot-note, the author also takes up the question of whether the enslavement would be meted out to the different groups of the Shiites. The answer is as follows: “The enslavement of the apostate women belonging to apostate groups such as the rāfidah, nusayriyyah, durūz, and ismā’īliyyah is one that the fuqahā’ (Islamic jurists) differ over. The majority of the scholars say that their women are not to be enslaved and only ordered to repent because of the hadīth, ‘Kill whoever changes his religion,'” it says referring to Sahīh al-Bukhārī, one of the six hadith collections of Sunni Islam. “But some of the scholars including Shaykhul-Islām Ibn Taymiyyah and the Ahnāf (Hanafis) say they may be enslaved,” the author adds.

Notice the resemblance between the above remark of the IS ideologue in Dabiq and that of the star Salafist preacher in India, Naik answering a similar question in one of his public talks. Naik justified rather more heinous crime of slavery, “sex slavery” with his masterful misuse of the religious texts of Islam. In the same tone and tenor as that of the IS author, Naik justified sex slavery in 2010 in his public speech (check this video) on the question, “Is sex allowed with slave women in Islam.”

Similarly, Naik’s views on death penalty for those who are declared “apostates” have no conflict with what the IS author has pointed out. According to him, if somebody wanted to convert to any faith other than Islam, the capital punishment would be the most “humane punishment” for such a person. This video of his talk on “capital punishment for apostates” leaves no doubt in the complete replication of Naik’s theology to the inhuman ideology of IS and Taliban.

Thus, through his TV channel and in other so-called Islamic Da’wah programmes, Naik has preached precisely what IS ideologues have. Several articles in Firstpost have candidly exposed Naik as an Islamist supremacist who speaks of sex slaves, wanton killing of apostates and justifies the terror crimes as heinous as suicide bombing. At a time when the world’s progressive Islamic scholars are outraged at the pre-Islamic practice of keeping sex slaves that the IS has now revived, Naik has justified the vile custom.

Just as Dabiq misleads the ordinary English-speaking Muslims of the Middle East, the first Salafist television in India, Peace TV founded and conceived by Naik has misguided scores of English-speaking Indian Muslims who are either gullible or oblivious to the grave threat posed to the tolerant Indian Islam.

At a time when the IS is flogging the fiction of its pre-conceived apocalypse in its bid to revive the vile pre-Islamic custom of slavery and establish its own caliphate, Naik and many other self-styled preachers of Islam have helped the extremist cult expand in the Muslim community the world over. But merely banning the extremist indoctrinators is not sufficient enough to stem the tide. As clearly evidenced above, this extremist tribe is growing more rapidly in the virtual world. The online media is being increasingly used to spread the Islamist radicalism. Therefore, the government needs to provide digital literacy to the Indian youth and civil society organisations, religious scholars and media experts to counter the online indoctrination of the Muslim youth and rescue them from the extremist ideologies.

http://www.firstpost.com/india/ban-on-zakir-naik-not-the-end-india-needs-vigilance-to-save-muslim-youth-3116838.html