تصوف وصوفی اورحضرت مخد وم اشرف جہانگیر سمنانی

صوفی 
حضرت عبد الرزاق نورالعین نے حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ سے درخواست کی کہ تصوف کے نا م کا اطلا ق اس کی کیفیت اور صوفی نام کا کس طرح آغاز ہوا اور اس کی تعریف کے سلسلہ میں کچھ ارشاد فرما ئیں ، حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ نے ارشاد فرما یا کہ (رسالہ) قشیریہ میں اس طرح ہے :
’’اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرما ئے، تم کو معلوم ہو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو حضرات بزرگ شمار ہو تے ہیں ان کو کو ئی نام نہیں دیا گیا یعنی وہ کسی علمی نام سے موسوم نہیں کیے گئے ، اس لئے رسول اکرم ﷺ کی محبت سے بڑھ کر کو ئی فضیلت نہیں تھی اس لئے ان اصحاب کو صحابہ کہا گیا (صحابہ افضل نام سے موسوم کیے گئے)اور ان کے بعد کے زمانہ والوں کا جنہوں نے صحابۂ کرام سے فیض صحبت حاصل کیا تھا ، ان کے لئے تابعین کانام رکھا گیا کہ ان کے لئے یہی سب سے بڑی اور بزرگ علا مت تھی ۔ ان کے بعد جو حضرات گزرے ان کو تبع تابعین سے موسوم کیا گیا ، اس کے بعد اپنے مراتب کے اعتبار سے مختلف طبقات میں بٹ گئے ۔ تبع تابعین کے بعد جو لوگ خواص شمار کیے جا تے تھے اوردینی امور میں کا فی اہتمام کر تے تھے، ان کو زاہدوں اور عابدوں کے نام سے موسوم کیا جا نے لگا ۔ان حضرات کے بعد بہت سی نئی نئی باتیں ظہور میں آ ئیں اور بہت سے مدعی پیدا ہو گئے اور گروہوں میں بٹ گئے اور ہر فریق یہ دعویٰ کر نے لگا کہ وہ زہّا د میں ہے ۔ پس اہل سنت والجماعت سے جو حضرات خواص تھے وہ ان سے الگ تھلگ ہو گئے، وہ اپنے اوقات اللہ کی یاد میں صرف کرتے تھے ، اپنے دلوں کی نگرانی کر تے تاکہ غفلت کی راہوں پر قدم نہ پڑے ، انہوں نے لفظ ’’تصوف ‘‘کو اپنے لئے مخصوص کر لیا ۔ اور یہ نام دوسری صدی ہجری سے قبل ہی مشہور ہو گیا۔ ‘‘(اور یہ خواص اہل سنت والجماعت صوفی کہلا نے لگے۔)
صوفی کا لقب
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ نے فرما یا کہ اس گروہ میں سب سے پہلے صوفی کے لقب سے جس بزرگ کو موسوم ملقب کیا گیا وہ ابوالہاشم صوفی ہیں ۔ آ پ سے پہلے جو بزرگ گزرے ہیں وہ اپنے زہد سے موصوف تھے اور توکل و عبادت اور طریق محبت میں مشہور و معروف تھے ۔ا ن میں سے کسی کو بھی صوفی نہیں کہا گیا، ان حضرات کو زاہد ، عابد ، متوکل کہا جا تا ہے ۔ حضرت سفیان ثوری قدس سرہٗ سے نقل فرما یا کہ وہ فرما تے تھے کہ اگر ابوالہاشم صوفی نہ ہوتے تو ہم ’’ریا‘‘ کی باریکیوں کو نہ سمجھ پا تے ، وہ یہ بھی فرما یا کر تے کہ جب تک ہم نے ابوالہاشم صوفی کو نہیں دیکھا تھا ہم کو معلوم نہیں تھا کہ صوفی کو ن ہو تا ہے ۔
پہلی خانقاہ
پہلی خانقاہ جو صوفیوں کے لئے بنا ئی گئی وہ شام کی ایک پہاڑی پر بنا ئی گئی تھی ۔ خانقاہ کی تعمیر کا سبب یہ ہوا کہ ایک عیسائی امیر شکار کے لئے گیا ہوا تھا ، راستہ میں اس نے دو افراد کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے سے ملے ،بغل گیر ہو ئے پھر اسی جگہ بیٹھ گئے اور کھانے پینے کا جو سامان ان کے پاس تھا ،ان دونوں نے نکا ل کر سامنے رکھا اور دونوں نے مل کر کھا یا ۔اس کے بعد وہ دونوں اپنے اپنے راستہ پر روانہ ہو گئے ۔ عیسائی امیر کو ان کا یہ طریقہ بہت پسند آیا ، ان میں سے ایک فر د کو بلا کر دریافت کیا کہ وہ دوسرا شخص کو ن تھا ؟ انہوں نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں ! کہا، تمہارا اس سے رشتہ کیا تھا ؟ انہوں نے کہاکہ کچھ بھی نہیں ۔ امیر نے کہا کہ وہ آیا کہاں سے تھا؟ تو انہوں نے کہا مجھے یہ بھی معلوم نہیں ۔ اس امیر نے کہا ،یہ محبت کیسی تھی جو تم نے آپس میں کی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا یہ دستور اور طریقہ ہے ۔ امیر نے کہا کہ تمہارے پاس کو ئی ایسی جگہ بھی ہے جہاں تم سب لو گ جمع ہو تے ہو ۔ درویش نے کہا نہیں ہمارے پاس کو ئی جگہ نہیں ۔ امیر نے کہا کہ اگر تم کہو تو میں تمہارے لئے جگہ کا انتظام کر دوں جہاں تم سب یکجا ہو سکو ۔ درویش نے کہا کہ آپ کو اختیار ہے ، پس حاکم نے شام میں رَملہ کے مقام پر ایک خانقاہ بنوادی ۔
صوفیہ کو صوفیہ کیوں کہا ں جا تا ہے ؟
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہنے شرح’’ تعرف ‘‘سے یہ قول نقل فرما یا کہ اس میں آ یا ہے کہ : جب پوچھا گیا کہ صوفیہ کو صوفیہ کیوں کہا جا تا ہے تو انہوں نے فرما یا کہ صوفی کو اس وجہ سے صوفی کہا جا تا ہے کہ ان کا ظاہر و باطن پا ک ہو تا ہے ،اس کا ہر باطنی راز اور ہر ظاہری اثر درست و راست ہو تا ہے ۔ یعنی ان کا ظاہر و باطن روشن ہو تا ہے ۔ باطن کی پاکیزگی یہ ہے کہ حق کے سوا ہر چیز سے انہوں نے اپنے باطن کو الگ کر لیا ہے (غیر حق سے باطن کو پاک کر لیا ہے )نہ غیر خدا سے امید رکھتے ہیں اور نہ غیر خدا سے کچھ سوال کر تے ہیں اور جو چیز ان کو حق تعالیٰ سے باز رکھے اور مشغول کر ے ،اس سے قطع تعلق کر تے ہیں اور آثار ظاہر کی پاکیزگی ہے کہ ان میں ریا نہیں ہوتا ، عجب و غرور سے پاک ہو تے ہیں اور غرض و طمع سے کو ئی تعلق نہیں ہو تا ۔ خدمت زیادہ کر تے ہیں ، اتنا ہی زیادہ اپنے آپ کو قصور وار سمجھتے ہیں ۔ بعض حضرات نے صوفی کی تعریف اس طرح کی ہے کہ صوفی وہ ہے جس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو بزرگی و کرامت کی نیست عطا کی گئی ہو ۔
حضرت عبدالعین نورالعین نے صوفی کی تعریف دریافت کی ، آپ نے حضرت معزسے نقل کیا کہ صوفی تو ’نیست‘ ہو تا ہے اور اگر’ ہست‘ ہے تو صو فی نہیں اور وہ یوں ہے کہ اس نے کہا حالانکہ وہ اس کی طاقت سے نہ تھا ،خبر نہیں کہ اس نے کہاں سے اور کس سے سنا تھا ۔ سبحا ن اللہ اس سے زیادہ عجیب امر کس نے دیکھا کہ جہاں میں نہیں ہے اور اگر ہے تو کسی لباس میں پوشیدہ ہے اور وہ کہتا ہے کہ وہ مع اس جسم کے میرے دل میں گم ہے اور دل وجان میں ہے اور وہ اس سے ہمیشہ زندہ ہے ۔
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ فرما تے تھے کہ کسی نے شیخ ابوالحسن خرقانی سے پوچھا کہ صوفی کون ہے ؟فرما یا صوفی سجادہ و مرقع سے صوفی نہیں ہو تا ، رسم و رواج سے صوفی نہیں ہوتا صوفی وہ ہے کہ نیست ہو بلکہ اس کا دن ایسا ہو کہ اس کو آفتاب کی حاجت نہ ہو ، رات ایسی ہو کہ چاند اور تاروں کی ضرورت نہ ہو، ایسا نیست ہو کہ اس کو ہستی کی حاجت نہ ہو ۔صوفی ہو نے کے لئے شرط ہے کہ رات دن حق تعالیٰ کی یاد میں بیدار ہو اور صوفی کی بیداری کے لئے شرط ہے کہ جب یادِ حق کر ے تو اس کا سر سے پا ؤں تک حق تعالیٰ کی یا د سے با خبر رہے نہ یہ کہ صرف لباس بدل ڈالے اور صوفی ہو جا ئے ۔
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ فرما تے تھے کہ حضرت شیخ عبدالرزاق کا شی کی خدمت میں یہ فقیر اور حضرت میر سید علی ہمدا نی اور مشائخ زمانہ کا ایک گروہ سب بیٹھے ہوئے تھے کہ تصوف کے معنیٰ اور اہل عرفان کی با ت نکلی ۔ مجلس شریف و محفل لطیف کے حاضرین سے ہر ایک نے القاءِ وقت اور اپنی رسائی کے موافق معانی تصوف وارباب تعریف کو بتکلف کلام درربار اور گو یا ئی گوہر نثار سے بیا ن فرما یا ۔ کسی نے کہا تصوف بالکل ادب ہے اور کسی نے کہا تصوف بالکل فضول کو ترک کر دینا ہے ۔ کسی نے کہاتصوف اب نام سے نہ کہ حقیقت اور پہلے حقیقت تھا نہ کہ نام ہی نام ۔ رویم سے تصوف کے بارے میں سوال کیا گیا تو کہا کہ صوفی وہ ہے کہ نہ کسی چیز کا ما لک ہونہ کسی کو مالک بنا ئے ۔یہ بھی کہا کہ تصوف کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرما یا کہ وہ بالکل ادب ہی ادب ہے ۔ جب سب بزرگوں نے باری باری معانی کے موتیوں کو رشتۂ بیان میں پِرو دیا، حضرت عبدالرزاق کا شی نے صاحب فتوحات سے نقل کیا کہ فر مایا ’’تصوف خلق کا حق سبحانہ وتعالیٰ میں گم ہو جا نا ہے، فر ما یا تصوف خار ج ہو نا ہے اور داخل ہو نا ہے یعنی تم سے نکلنا اور تم میں داخل ہو نا۔ ‘‘
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ نے شیخ عبدالرزاق کا شی سے پوچھا کہ حضرت شیخ اکبر نے صوفی کے بیان میں کیا فرما یا ہے ؟فرما یا صوفی وہ ہے جس کا نہ کو ئی نا م ہے نہ رسم ہے اور نہ وصف ہے اور اس کی نشا نیاں مٹ چکی ہیں ۔ فر ما یا صوفی وہ ہے جس میں کو ئی وصف قابل بیا ن نہیں پا یا جا تا اور نہ ان کا پہچا ننا خلق پر مشتبہ ہے ۔ فرما یا جس نے دنیا کو اہل دنیا کے لئے اور آخرت کو اس کے طالب کے لئے اور انانیت و غرور کو شیطانوں کے لئے چھوڑ دیا اور جہل کی تاریکی اور علم کی روشنی کے درمیان سے نکالا اور شرکِ خفی سے بچا اور ما سوا اللہ سے نظر ہٹا لیا تو اس کے باطن قلب نے جمال صدیقیت کے نور کو عرش پر حاصل کیا اور یہ پہلی صفت صوفی ہے ۔
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ نے فرما یا کہ بعض اکابر مشائخ نے تفصیلی طور پر اور بہت سے بزرگوں نے تاویل کے ساتھ معانی بیا ن فر ما ئے ہیں لیکن مجھے ان تمام تعریفوں میں حضرت سیدالطائفہ جنید بغدادی قدس سرہٗ کا مقالہ بہت پسند آ یا ہے ۔ انہوں نے ارشاد فر ما یا ہے : التصوف کلہ ادبٌ(تصوف تمام تر ادب ہے)اس لئے کہ تصوف کے تمام مجموعی معانی بلکہ ابتدا سے انتہا ء تک تصوف کا جو کچھ مقصود و مطلوب ہے اور جو کچھ اصحاب و ارباب تنبیہ کے لئے ہے وہ سب کچھ اس میں موجود ہے ۔ اس طائفہ علیہ کے اکثر احوال اور صوفیہ کرام کے مقامات موجود ہیں ۔ مثلاً اولاً اِس جملہ میں یا اِس تعریف میں وحدانیت کا اقرار ہے اور فردانیت کی اطلاع موجود ہے ۔ درویشوں کی خدمت کے تمام لوازم آداب میں داخل ہیں ۔ تمام عبادات و معاملات جیسے نماز ، روزہ اور اس طرح کے دوسرے امور سب کچھ ادب ہے ۔ سلوک میں جس قدر مختلف اذکار و اشغال ہیں اور جلسہ ہا ئے متنوعہ، مراقبہ ، مشاہدہ اور تمام دوسرے امور جو اِس گروہ کے لئے مخصوص ہیں وہ حقیقت میں ادب ہی میں داخل ہیں ۔
سبحان اللہ ، سبحان اللہ اس ادب سے بالا تر اور کون سا ادب ہو سکتا ہے کہ صوفی دوست کی عظمت و کبر یا ئی اور اس کی بزرگی کے ملاحظہ کے بعد’’ ہمہ اوست‘‘ کا نعرہ بلند کرتا ہے اور سالک کو مراقبہ وحدت اور کثرت میں مشاہدہ وجہ خاص سے فناء الفناء حاصل ہوتا ہے اور حقیقی بقاء البقاء سے مل جا تا ہے ۔
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ حضرت پیر ہروی قد س سرہٗ سے نقل فرما تے تھے کہ وہ کہتے ہیں ’’تصوف اور تصرف نہیں ہو تے ، تصوف اور تصرف جمع نہیں ہو تے اور دنیا کا افسوس کرنا اور اس کی قیمت رکھنا انسان کو تصوف کے دائرہ سے نکال دیتا ہے ، بالکل اس طرح جیسے خمیر سے با ل نکا ل لیتے ہیں ۔ صوفیوں کی نظر میں دنیا کی کو ئی قیمت نہیں ہے اور اس کے لئے وہ غمگین نہیں ہو تے ، اگر تم دنیا کو ایک لقمہ بنا کر صوفی کے منہ میں ڈال دو تو یہ اسراف نہیں بلکہ اسراف یہ ہے کہ اس کو حق تعالیٰ کی رضا جو ئی میں خرچ نہ کرو ۔ حق تعالیٰ تم سے ترک دنیا اس قدر نہیں چا ہتا جتنا کہ وہ دنیا کی دوستی اور محبت کو تمہارے دل سے مٹانا چاہتا ہے یعنی تم دنیا کی محبت کو ترک کردو! دنیا تو تمہارے لئے ایک مٹی کا ڈھیلا ہے اور تم کو اس سے غیرت ہے ۔
شیخ ابوالوفاء خوارزمی نے حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ سے دریا فت کیا کہ ان حضرات (فقراء)کو صوفی کس اعتبار سے کہا جا تا ہے ؟حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ نے ارشاد فرما یا کہ دو اعتبار سے ان کو صوفی کہا جا تا ہے :صفاء اسرار کی وجہ سے یا اِس لئے کہ وہ صف میں اول ہو تے ہیں ۔ باعتبار اِن دونوں معنیٰ کے صوفی ان کو سب نے کہا ہے۔ اکثر لوگ تو اس لحاظ سے ان کو صوفی کہتے ہیں کہ انہوں نے صوف کا لباس اختیار کر لیا ہے (صوف کے لباس پہنتے ہیں)اور صوف پیغمبروں( علیھم السلام ) کا لباس ہے۔
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ نے فرما یا کہ اصحاب تصوف کی نسبت صفا وارباب صفت سے نہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ صوفیوں کے اخلاق اصحاب صفہ سے لے گئے ہیں ۔ صفہ مدینہ منورہ میں اس جگہ کا نام ہے جس کو قبا کہا جا تا ہے ۔ مدینہ منورہ سے یہاں کا فاصلہ فرسنگ کا ہے ۔ وہ درویش جو رسولِ اکرم ﷺ کے اصحاب تھے ، یہاں رہتے تھے ۔ یہ حضرات دنیا اور اصحاب دنیا سے الگ تھلگ رہا کر تے تھے ۔
اصحاب صفہ اور صوفی
حدیث شریف میں ہے کہ ایک وقت ایسا بھی گذرا ہے کہ اصحاب صفہ جن کی تعداد چالیس افراد تھی، صرف ایک ایک خرما (کھجور)کھا کر وقت گزارا کرتے تھے اور ان کے پاس پہننے کے لئے بہت کم کپڑے تھے ، اکثر برہنہ رہتے تھے اور یہ حضرات خود کو ریت میں چھپا لیا کرتے تھے ۔جب نماز کا وقت آتا تو سب کے لئے صرف ایک جوڑے کپڑے تھے ۔ ایک فرد یہ کپڑے پہن کر نماز ادا کرتا ،باقی ریت سے جسم ڈھانکے رہتے ۔ یہ شخص جب نماز ادا کر لیتا تو یہ کپڑے دوسرا شخص پہن لیتا اور نماز ادا کرتا ، اس طرح یکے بعد دیگرے سب اسی ایک لباس سے نماز ادا کرتے ۔ مذہب تصوف کی اصل اسی سے ہے۔ یعنی دنیا سے اعراض کرنا ، مخلوق سے خصومت نہ کرنا، جو کچھ مل جا ئے اس پر قناعت کرنا اور جو ،نہ ملے اس کی طلب و جستجو نہ کرنا ، توکل پر زندگی بسر کرنا اور اختیار اللہ تعالیٰ کے حوالہ کرنا اور قضائے الٰہی پر راضی رہنا ۔ اہل وطن اور دوستوں سے الگ تھلگ رہنا ۔ یہ تمام صفتیں اہل صفہ کی تھیں اور بعینہٖ یہی تمام صفات اصحاب تصوف کی ہیں اور صوفیہ کا اصل طریقہ یہی تھا ۔ ابتدائے زمانہ سے یہ تمام صفات تبا ہ ہو گئیں جس طرح اور بہت سی خرابیاں دوسرے معاملات میں پیدا ہو ئیں ۔
اصل زہد میں طعن نہیں بلکہ طعن تو اس شخص کے بارے میں ہے جومذہب کے خلاف کرتا ہے ۔ مثلاً اگر کو ئی سودا گر خیا نت و بد دیا نتی کر تے تو اس سے اصل تجا رت پر حرف نہیں آ تا بلکہ قصور سارا تاجر کا ہے (نہ کہ تجا رت کا )یا کو ئی غازی میدانِ جنگ سے بھا گ جا ئے تو اس سے جہاد پر حرف نہیں آ تا ، کوئی عالم دنیا کا طلب گار بن جا ئے تو اصل شریعت تباہ نہیں ہو سکتی ، بادشاہ ظلم و ستم پر کمر باندھے تو بادشاہت کا قصور نہیں ۔ ہر زمانہ میں ہر گروہ ایک دوسرے کے لا ئق ہو اہے(بہر روزگارے ہر گروہے در خودیک بدیگر باشند)صوفیہ بھی اصل میں اسی طریقت کے حامل گزرے ہیں ۔
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ سے ایک عزیز نے دریافت کیا کہ صوفیوں کے لئے دست بد(زوال)کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرما یا کہ پیر ہروی فرما تے ہیں :حال محال اور کلام میں باطل اشارات۔

(حوالہ :لطائف اشرفی ،لطیفہ۴)

Delhi’s Sufi Sunni Islamic Clerics and Imams Get Together For “International Sufi Conference”

All India Ulama & Mashaikh Board organized an assembly of Delhi’s Imams, Islamic scholars and clerics at the headquarters of the Board

New Delhi, 23 Feb

20 March 2016

The preparations of “International Sufi Conference” which will be held in the Ramlila Maidan in Delhi, are in full swing. In this regard, Delhi’s Imams, Islamic scholars and clerics and teachers of the representative delegation of the AIUMB met the Founder and President Syed Mohammad Ashraf Kichhowchhawi. The meeting was organized today by All India Ulama and Mashaikh Board (AIUMB) in its headquarters in Delhi.

12049492_1238493652846622_5074328109956692041_n

This assembly was aimed at reviewing and revising the strategies and ongoing preparations of the “International Sufi Conference”. Both Islamic clerics and teachers developed an action plan to work faster and more accurately and efficiently for the inception of the 4-day World Sufi Forum, of which the last day will be a Declaration Day, entitled “International Sufi Conference”.

The board’s founder-president said that there are some baseless misunderstandings and allegations against the World Sufi Forum’s agenda that are being made publicly by some “ill-intentioned elements” with their “ulterior motives”. Though this has caused an unfavorable situation, however, he averred, it’s time we better pay heed to the future historical accomplishment of the conference. This will be the “befitting retort” to the ill-designed agenda and “flimsy rhetoric” of those anti-Sufism elements.

He added saying that in the wake of the World Sufi Forum, AIUMB will take up such measures that can alleviate the deteriorating intellectual situation of the Muslim community.  “For over a decade, the Indian Muslims too have been forcibly steeped in the same conventional thinking that breeds the grounds for victimhood narratives and conspiracy theories”. “We have to look within, introspect and learn from the mistakes that we have, consciously or unconsciously, done in the past. This is the only way we can get through this turbulent phase of the time”, he further said.

Speaking at this assembly, Syed Mehdi Mian Moini Chishti, the custodian of the holy shrine of Ajmer Sharif expressed his ideas on the contemporary relevance of the World Sufi Forum. He said: “This conference is the pressing need of the time. Sufis have been the main bearers of the social cohesion in the domain of religion. But it is deplorable that their religion today is being conflated in media with divisive acts and thought due to the handiworks of the extremist and religo-fascist elements.

Syed Alamgeer Ashraf (President, AIUMB Maharashtra) stressed to focus on the universal messages of Islam in both the Sufi conference and seminar as part of the World Sufi Forum. Other Ulama and Imams who came attend this meeting also expressed their views. They unanimously agreed to the desperate need to revive and rejuvenate the Sufi tradition to mitigate the rising tensions across the world.

Humanistic, Harmonious Sufi Teachings Can Resolve the Global Crisis Today: Syed Mohammad Ashraf Kichchowchchvi

Addressing a meeting held in preparation for the World Sufi Forum, planned for four days from 17 to 20 March in New Delhi, All India Ulama and Mashaikh Board President, Maulana Syed Mohammad Ashraf Kichchawchchvi said in Etawah:

“The concept of unity in diversity has been evolved by India’s Khanqahs, Sufi hospices and shrines the world over, most particularly in the Indian sub-continent. As the different harmonious Sufi orders and silsilas blossomed, a global recognition of the Indian composite culture gained momentum”.

These ideas were expressed by Maulana Syed Mohammad Ashraf Kichchawchchvi, who will be opening the World Sufi Forum on March 17, which will continue for four days in a succession.

The World Sufi Forum will present papers on the theme: “Sufism: Seeking to Resolve Global Crisis” during the next two days, 18th and 19th March, in different seminar halls allocated to both English-Arabic and Urdu writers as well as in separate sessions for both male and female scholars.   At least 100 articles will be read out in different sessions in separate conference halls.

March 20 will be the prime time for a huge gathering at Ramlila Maidan. For the Muslim organization, which is an apex body of Sufi Sunni Muslims in India, All India Ulama & Mashaikh Board, this event is going to be documented in history as a first gathering of its kind in India.

Maulana Syed Mohammad Ashraf Kichchawchchvi urged the peace-loving people of India to come in large numbers to attend the gathering at Ramlila Maidan. Talking to media persons, he explained that the international Sufi conference is going to be a significant step in the whole world, not only for Islamic scholars, Sufi masters, clerics, intellectuals, academicians, teachers and writers but also for all the common masses who will turn up to participate.

Haji Nuruddin Mansoori (President Anjuman Husainia) said that Hazrat Maulana Syed Mohammad Ashraf Kichchawchchvi is also concerned about promoting modern education along with religious education in the Muslim community. He has chalked out the grand plan of the World Sufi Forum after much of serious thought over the worsening condition of Muslims in India.

In this meeting, Haji Sarfaraz, Guddu Abbasi, Khursheed Bhai, Muhammad Rumi, Shakeel Ahmad and many more people were present. A substantial number of people are expected to participate as volunteers in the World Sufi Forum.

All India Ulama and Mashaikh Board Heightening The World Sufi Forum Preparations

New Delhi, 17 February (press release)

All India Ulama and Mashaikh Board has heightened World Sufi forum preparations in order to organize 4-day international Sufi event.

12752161_819638611481704_515356842_o12718266_1234046329958021_5660499969015523338_n

In this regard, a preparatory meeting, chaired by Maulana Syed Sibtain Haider, the National Vice President of the Board, was held at the headquarters of the All India Ulama and Mashaikh Board (AIUMB head office). The meeting was aimed to review the activities and preparations that have been made so far. It is noteworthy that Hazrat Syed Muhammad Ashraf Kichchawchchvi envisioned the inception of the WorldSufi Forum to stimulate revolutionary thinking and exchange of ideas on the promotion of peace and counter-extremism within a spiritual Islamic framework.

Maulana Syed Sibtain Haider said that we need to accelerate the work, as the days of world Sufi forum are approaching fast. However, he said, we must greatly consider complete peace, tranquility and brotherhood in all this process.

Syed Tanvir Hashmi, President Karnataka shared valuable inputs about the management of the Event. He shared his expertise about an event of this magnitude. As he has been a vital part of the AIUMB team who have successfully organised previous conferences of AIUMB. He also advised the organising team to take care of minute issues also.

Syed Hasan Jamee (National Secretary, AIUMB) said that the paper works of the seminar as well as the conference are in the final stage. He thanked and appreciated all his colleagues for the work they have done and encouraged to accomplish whatever is yet to be done. He also emphasized certain matters of concern that need to be paid greater attention at this juncture.

Maulana Syed Aalamgeer Ashraf, President AIUMB Maharashtra said that many works have been done for the successful accomplishment and influence of the World Sufi Forum on the local level.  Many new volunteers offered their services to ensure the grand success of World Sufi forum. Their details have been submitted to the local offices. The Central Office shall determine and prioritize the necessary voluntary services in different fields as suited to them.

Syed Farid Nizami (Vice-President of AIUMB Delhi Unit) commented on the situation in the capital, Delhi in this regard. He said that the capital of India including the entire nation is desperately waiting for the 20th March when the world fraternity of Sufi Mashaikh, scholars, leading ulama and imams will share an international Sufi stage comprising over 200 Ulama and Mashaikh in the Delhi’s Ram Lila Maidan.  Therefore, all the AIUMB members and volunteers in Delhi are actively engaged in preparing for the WSF event, he said.

Maulana Abdul Moid Azhari, the office secretary of the AIUMB, said that “it is our pleasure that we have been receiving prompt acceptance of our initiations that we extended to international Sufi delegates”.

He added saying: “The seminar will be attended by prolific writers, veteran journalists and well-renowned Islamic scholars and academicians who already consented to present their papers and articles on a variety to topics related to the main theme: “Sufism: Seeking to resolve the Global Crisis”. Both national and international scholars and writers have been invited to attend the seminar. He also said that the papers will be published in book form which will be brought out during the World Sufi forum.

In this preparatory meeting, Maulana Khushtar Noorani (Editor, Jam-e-Noor, Urdu monthly magazine), Ghulam Rasool Dehlvi, Mohammad Ahsan office in charge of the AIUMB Lucknow unit, Maulana Hasnain Ahsrafi, Mahfooz Khan, Talib Hussain Khan, Mohammad Hussain Raza Khan and other members of the AIUMB were present.

आतंकवाद के खात्मा के लिए उलेमा व मशाइख ने कमर कसी: AIUMB-Bihar.

20 मार्च को दिल्ली के “रामलिला मैदान” में आयोजित इन्टरनेशनल सूफी कांफ्रेंस मे भाग लेने का किया आहवान

गया-09 फरवरी – प्रेस विज्ञप्ति

इन्टरनेशनल सूफी कांफ्रेंस समय की अहम जरूरत है। क्योंकि सुफिया ए कराम की शिक्षा ने लाखों बेराह लोगों को सीधी राह पे लाने का काम किया है। हिन्दुस्तान के अन्दर सूफियों की मानवीय सेवाओं का इतिहास रहा है। ईस्लाम के शांति और भाईचारा की शिक्षा को सूफियों ने व्यवाहारिक तौर पर अपनी जिन्दगी में जगह दी, यही वजह है कि खानकाहें आज भी शांति और भाईचारा की प्रतीक के तौर पर देखी जाती है। बीती शताब्दी में सूफियों की शिक्षा को जिस तरह आम किया जाना चाहिए था वह नहीं हो सका। जिसकी बुनियाद पर समाज में बहुत सारी खराबिया पैदा हुईं जिसकी चपेट में आज पूरा विश्व नजर आता है। कहीं दहशतगर्दी है तो कहीं देश  और धर्म से बेजारी की फिकर। असहिष्णुता के वाकेयात आए दिन सामने आ रहे है। बुद्धिजिवियों का मानना है कि इन हालात का एक मात्र हल तसव्वुफ (सूफीमत) है। अगर बड़े पैमाने पर तसव्वुफ की सही सही शिक्षा को आम किया जाए और व्यवाहारिक तौर पर तसव्वुफ को अपनी जिन्दगी में जगह दी जाए तो इन सभी खामियों पर आसानी से लगाम लगाया जा सकता है। इन्ही बड़े मकासिद के अंतर्गत  आल इंडिया ओलमा व मशाईख बोर्ड अगामी 20 मार्च 2016 को रामलीला मैदान में इन्टरनेशनल सूफी कांफ्रेंस का आयोजन करने जा रहा  है। जिसमें लगभग 20 देशों से ओलेमा व मशाइख और बुद्धिजिवि सैकड़ों की संख्या में आने की संभावना है। जिसकी तैयारी पूरी उत्साह और लगन के साथ जारी है। बिहार राज्य से भी बड़ी संख्या में ओलेमा व मशाइख के अतिरक्ति बुद्धिजीवी, इस्लामी स्कालर्स और आम जनता की उपस्थिति होगी। तैयारी का जाएजा लेने के लिए आज 9 फरवरी को खानकाह मुनअमिया, रामसागर गया में आल इंडिया उलमा  व मशाइख बोर्ड (बिहार) की एक अहम बैठक हुई जिसकी अध्यक्षता बोर्ड के बिहार के अध्यक्ष मौलाना सैयद एैनुद्दीन चिश्ती ने की जिसमें उलमा व मशाइख ने सूफियों के मानवीय सेवाओं और उनके उपदेश के असरात पर बोलते हुए कहा कि सूफियों की राह पर चल कर और इसे आम करके ही आतंकवाद का खात्मा और समाजिक बुराईयों को बुनियाद से उखाड़ फेका जा सकता है। आज हर तरफ नफरत की बीज बोया  जा रहा  है इसलिए हमारे हिस्से में नफरत आ रही है जबकि सूफियों ने मुहब्बत और भाईचारा के पैगाम को आम किया है और मुहब्बत की तालीम दी है क्योंकि मुहब्बत से ही लोग उनके पास खिंचे आते थे और पत्थर को मोम बना देते थे। इसलिए आज सुफियों के इसी राह पर अमल करके अमन व शांति के बिखरते शिराज को बचाया जा सकता है। आल इंडिया उलमा व मशाइख बोर्ड सैयद मोहम्मद अशरफ किछोछवी के नेतृत्व में सुफियों की शिक्षा को फिर से बहाल करना चाहता है। उन्होने आतंकवाद की समाप्ति और सुफिइज्म को बढ़ावा देने की बड़े पैमाने पर अभियान चला रखा है।  इस अवसर पर बोर्ड के बिहार फोरम ने कांफ्रेंस की कामयाबी के विषय पर विस्तृत चर्चा की। जिसमें 20 मार्च को दिल्ली के रामलिला मैदान में होने वाले इन्टरनेशनल सूफी कांफ्रेंस की तैयारियों का जाएजा लेते हुए पूरे बिहार के प्रतिनिधियों के दिल्ली जाने, जागरूकता पैदा करने, व्यापक प्रचार प्रसार करने समेत इससे सम्बंधित तमाम समस्याओं पर विस्तार से चर्चा की गई तथा अधिक से अधिक संख्या में भाग लेने की अपील की गई।

5b500d99-b52c-4ac8-8d3c-03ee2f9802f3 0075287c-5d9f-48bc-9613-9c4eac3e0e2e 21cd4f99-9b09-43f1-8628-0488330c27d5 a2843bb9-4452-4f04-8eed-ab5e459e8735

इस अवसर पर बिहार फोरम के महासचिव सैयद मो॰ सबाहउद्दीन मुनअमी ने अपने स्वागत भाषण में कहा कि देश के मौजुदा हालात में सुफीमत की आवश्यकता बहुत ज्यादा बढ़ गई है जिसे पूरा हिन्दुस्तान महसूस कर रहा है। ऐसे हालात में ओलेमा व मशाईख बोर्ड ने जो बीड़ा उठाया है उसका समर्थन होना ही चाहिए। सैयद हुसैनुल हक शुहुदी ने कहा कि आज देश समेत पूरे विश्व में जिस खौफनाक दहशत का सामना है उसका हल सिर्फ तसव्वुफ में ही निहित है। बैठक में आल इंडिया उलमा व मशाइख बोर्ड के बिहार फोरम के उपाध्यक्ष मौलाना सैयद नुरूद्दीन असदक मिस्बाही ने कहा कि आतंकवाद के खात्मा के लिए ओलेमा व  मशाइख बोर्ड ने जो कदम उठाया है वो मुबारकबाद के काबिल है। उन्होने बोर्ड की नीतियों  पर विस्तृत चर्चा करते हुए  कॉनफ्रेन्स को कामयाब बनाने के लिए आम जनता से अपील की। अंत में बिहार फोरम के अध्यक्ष मौलाना सैयद एैनुद्दीन चिश्ती ने अपने अध्यक्षीय भाषण में कहा कि आज पूरा देश असहिष्णुता, आंतकवाद एवं नफरत की हवाओं में गिरफतार है जिससे देश  में खौफ का महोल पैदा होता जा रहा है। ऐसे स्थिति में मशाइख  व सूफिया की जिम्मेदारी बनती है कि वह अपनी खानकाहों से निकल कर देश के विकास , उन्नति और कौमी एकता के लिए बाहर आऐं।

World Sufi Forum will encourage the Indian Muslims to create an environment of peace and pluralism in India: Syed Mohammad Ashraf Kichhouchhwi

Muslim Scholars Brainstorm to Organize World Sufi Forum in the AIUMB Meeting held by the Markazi Julus-e-Chishtia, Nagpur

Nagpur, Feb 08 (AIUMB press release)

The essential and inherent message of Islam is peace and security and it is guaranteed, not only for the Muslims but also for all other adherents of faith traditions, including even those who follow none. Allah sent the Prophet Muhammad (peace be upon him) as “mercy” for all worlds. Therefore, it cannot be denied that there is zero tolerance for terrorism in Islam.

These opinions were expressed by Maulana Syed Mohammad Ashraf Kichhouchhwi, president and founder of All India Ulama & Mashaikh board (AIUMB). He was addressing Muslim Scholars Sufi leaders and the Islamic clerics in an AIUMB Meeting held by the Markazi Julus-e-Chishtia, in Nagpur.

It’s an unfortunate phase of the time in the today’s history that the terrorists are playing havoc across the world in the name of Islam, he said. “Whether it is in Syria, Iraq, Sudan, Saudi Arabia, Afghanistan, Pakistan, Bangladesh elsewhere in the Muslim world, the extremist jihadists have certainly caused major distractions and irreparable loss of human life and dignity”. “Heinous crimes and completely ungodly acts are being perpetrated in the name of God, which go completely against the true spirit and basic tenets of Islam. One such core ethic of Islam is that taking the life of a single innocent is a crime against all humanity (Quran 5:32)”, Maulana Syed Mohammad Ashraf Kichhouchhwi said.

Addressing this important meeting organized by the Markazi Julus-e-Chishtia, Nagpur, the founder and president of the AIUMB,  further Syed Mohammad Ashraf Kichhouchhwi said that this meeting was held in preparation for the World Sufi Forum on 17-20 March, which will include an international seminar and a grand-level public conference in Ram Lila Maidan onMarch 20.

Syed Mohammad Ashraf Kichhouchhwi further intimated that “This International Sufi Conference and the World Sufi Forum will bring together Indian Sufi scholars, imams, Ulama, Mashaikh and intellectuals with nearly 40 Islamic scholars, Ulama and Sufi Mashaikh  representing Bangladesh, Sri Lanka, Singapore, Malaysia, China, Turkey, Canada, Syria, Arabia, Africa, Australia, the United States of America, and the UK”. “Sufi Scholars from the prominent Islamic University, Al-Azhar Shareef, Oxford, Harvard, California and professors from the University of Cambridge and Canada will also be present. Thus, a mixed gathering of Ulama and scholars from the around the world will get tighter in an effort to discuss different aspects of the current situation and build a strong framework for the solutions”.

10402984_825444847564152_1410888271192057933_n97ea43a2-cc2c-4de7-8ee4-67ba2b6ecfbc

Maulana Syed Kichhouchhwi added that the World Sufi Forum will pave the ways for the Indian Muslims to contribute in creating an environment of peace and pluralism in India

0979ab0f-b4a6-410e-9f92-717825aeab05

Maulana Syed Alamgir Ashraf (provincial president of Maharashtra AIUMB) said that All India Ulama and Mashaikh board is against terrorism of all forms. He added saying that “the Board aspires to foster the universal Islamic values by spreading peace, brotherhood and unconditional love. Sufi Ulama at the board, he said, are striving to guide the life of Indian Muslims in the democratic structure of the country.

Speaking at the meeting, Haji Salim Ashrafi, Chairman the Markazi Julus-e-Chishtia Chhattisgarh appreciated the dedicated efforts and activism of the Board in preaching the values of peace and pluralism and eradicating the vices of violence and social distress. He said that there is no place for intolerance in Sufism.

12670334_825445344230769_233696720569605639_n12715342_825444850897485_3519345674914258834_n

At the very outset of the event, there was a beautiful traditional recitation of the Holy Quran and it ended with the Salat-o-Salam (recitation of peace and blessings on the Prophet PBUH). Among those who attended this meet were:

 

Sufi M K Christi (Gujarat Minority Commission Chairman), Syed Mu’az Ashraf, Grand Mufti of Maharashtra Mufti Abdul Qdeer Khan, Mr. Abdul Rasheed Qalandar, Maulana Nadeem Rizvi, the Siratun Nabi committee chairman Abdul Hasan Taji, Abdul Razzaq Taji,  Mr. Faisal Rangun Wala, Mr. Firoz Sheikh, Mr. Kamil Ansari, Haji Sohail Patel, Hanif Patel Ashrafi.  Besides them, many ulama, Mashaikh, Imams and intellectuals were also present in large numbers.

Sufi Precepts And Practices Can Combat Extremist Thoughts, Maulana Sajid Hussain Misbahi, All India Ulama & Mashaikh Board, Burdawan President

Press Release  3 Feb 2016

All India Ulama & Mashaikh Board

“The rising violence in the name of religion, radical and non-tolerant ideas can only be combated by the Sufi precepts and practices”, said Maulana Sajid Hussain Misbahi, President, All India Ulama & Mashaikh Board, Burdwan. Maulana said that the AIUMB is trying to spread the same peaceful Islamic message through various activities and humanitarian works inspired by Sufism.

Maulana Sajid Hussain Misbahi was addressing a mixed gathering of Muslim scholars, intellectuals and Ulama in a meet held in Madrasa Tahzeebul Islam, Sri Pur, Bardawan.

In his address, Maulana Misbahi conveyed to all the people that the World Sufi Forum is going to organize the International Sufi Conference under the aegis of All India Ulama & Mashaikh Board.

Speaking about the International Sufi Conference, he intimated that it will be held in the Ram Lila Maidan on 20th March, 2016 at 09:00 o’clock in the morning till 04:00 in the evening.

“This International Sufi Conference and the World Sufi Forum will bring Indian Sufi scholars, imams, Ulama, Mashaikh and intellectuals altogether with nearly 40 Islamic scholars, Ulama and Sufi Mashaikh  representing Bangladesh, Sri Lanka, Singapore, Malaysia, China, Turkey, Canada, Syria, Arabia, Africa, Australia, the United States of America, and the UK.

Sufi Scholars from the prominent Islamic University, Al-Azhar Shareef, Oxford, Harvard, California and professors from the University of Cambridge and Canada will also be present. Thus, a mixed gathering of Ulama and scholars from the around the world will get tighter in an effort to discuss different aspects of the current situation and build a strong framework for the solutions.

The meeting started with recitation of the Holy Quran and ended with the Salat-o-Salam (recitation of peace and blessings on the Prophet PBUH). Among those who attended this meet were Hafiz Sabir, Muhammad Saleem Ashrafi, Hafiz Tatheer, Shahid Ashraf, Muhammad Shahid, Ali Imam Ansari, Muhammad Shahabuddin, Muhammad Azharuddin, Ezaz Ansari.  Besides them, many others were also present in large numbers.